Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29

جس دن میرا میٹرک کا پیپر تھا اس دن تمہیں تیز بخار تھا تب تمہیں بابا نہیں صرف اپنی آپی چاہیے تھی۔۔۔ ساری رات میں ایک ہاتھ میں کتاب لیے تمہارے سرہانے بیٹھی رہی
اور جب ہمارے بابا کی ڈیتھ ہوئی تب 21 سال میری عمر تھی، مجھے ماں کے ساتھ ساتھ ایک باپ بھی بننا پڑا۔۔۔ جب برابر والی فوزیہ بھابی مجھے آگے کہتی کہ حنین بہت پیاری ہے یہ جوان ہوکر بہت خوبصورت نکلے گی، تب میری رات کی نیند تمہاری فکروں میں اڑ جاتی
رات کو دو دو بار اٹھ کر دروازے کا لاک چیک کرتی اور یہ بھی اطمینان کرتی کہ جو ڈنڈہ میں نے بیڈ کے نیچے چھپا کر رکھا ہے وہی موجود ہے کہ نہیں۔۔۔ اپنی عزت سے پہلے تمہاری حفاظت کرنے کا خیال آتا مجھے
تمہیں وہ دن یاد ہے جس دن تم نے مجھے آکر بتایا تھا کہ کل لاسٹ ڈیٹ ہے تمہاری فیس جمع کروانے کی اس وقت تک میری سیلری سے اتنے پیسے نہیں بچے تھے کہ میں تمہیں فیس جمع کروانے کے پیسے دیتی، ہمارے محلے میں مجھے کوئی بھی ادھار دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔۔۔ تمہیں معلوم ہے اس دن وہ پیسے میں نے حمید انکل سے ادھار لیے تھے”
حنین آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے اپنے پرانے محلے کی حمید انکل کو یاد کرنے لگی جس کی غلیظ نظروں سے بچی سے لے کر بوڑھی عورت تک محفوظ نہیں تھی
“ادھار کے پیسے دیتے ہوئے اس نے معلوم ہے مجھے کہا چھونے کی کوشش کی”
نوین کے جملے پر حنین تڑپ اٹھی
“آپی پلیز”
اب حنین اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی
“بالکل اسی طرح روئی تھی میں اس دن گھر آکر۔۔۔ کیوکہ چاہ کر بھی میں اس خبیث آدمی کا منہ نہیں توڑ پائی ورنہ وہ اپنے دئیے ہوئے پیسے مجھ سے چھین لیتا اور تمہاری فیس جمع نہیں ہوپاتی”
نوین حنین کو دیکھتی ہوئی بتانے لگی
“جب تم نائنتھ کلاس میں آئی، تب فوزیہ بھابھی نے مجھے تمہارے لیے ایک رشتہ بتایا۔۔۔ نو سے پانچ بجے تک کی جاب کرنے والا ایک مڈل کلاس شریف لڑکا، عزت دار گھرانہ اور چھوٹی فیملی۔۔۔ تمہاری وہاں شادی کروانے کے بعد پھر میں آرام سے اپنے لیے کچھ سوچ سکتی تھی۔۔۔ مگر اپنی اتنی پیاری سی خوبصورت بہن کسی کو ایسے ہی تھوڑی دے سکتی تھی میں، اس کے لئے تو مجھے کوئی شہزادہ چاہیے تھا مگر شہزادے سے پہلے ایک شیطان کی آمد ہماری زندگی میں ہوگئی اور اس نے بڑی ہوشیاری سے مجھ سے میری بہن کو چھین لیا اور اب میری بہن بھی اس شیطان کے ساتھ رہنا چاہتی ہے”
نوین زہر خوانندہ لہجے میں بولی
“آپی پلیز آپ آزھاد کی طرف سے اپنا دل صاف کرلیں وہ شوہر ہے میرا، میں اس سے بہت”
حنین نے روتے ہوئے بولنا چاہا
“آگے کچھ نہیں بولنا ہنی جو تم بولنا چاہتی ہوں وہ میں ہرگز نہیں سننا چاہتی۔۔۔ نفرت ہے مجھے اس بد تمیز اور گھٹیا انسان سے،، اگر تم نے اس سے رشتہ بنایا یا تم نے اسے اپنے ساتھ کچھ بھی کرنے دیا تو پھر مجھ سے اپنا رشتہ ختم کر دینا”
نوین حنین کو بولتی ہوئی اس کے کمرے سے چلی گئی اور حنین ایک بار پھر اپنا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رو دی
______________
شام کو جب شاہنواز آفس سے گھر واپس آیا تو وجیہہ سے ملنے کے بعد وہ نوین کے روم میں آیا۔۔۔ وہ اس وقت اپنے روم میں ہی موجود تھی۔۔ صوفے پر بیٹھی ہوئی فائلر سے اپنے ناخن تراش رہی تھی
“یہ بھی ٹھیک ہے پہلے خود ہی جھوٹ بولو دھوکہ بازی سے کام لو اور جب آدمی غصہ کرے تو الٹا سلیپنگ پلس کھا کر اسے وارن کرو کے آپ کو غصہ کرنا تو دور کی بات ناراض ہونے کا حق بھی نہیں رکھتے۔۔۔ اس طرح ایموشنلی بلیک میل کرنے کے بعد پھر نخرے بھی خود دکھاؤ”
شاہنواز صوفے پر نوین کے برابر میں بیٹھتا ہوا اس سے بولا
“میں نخرے نہیں دکھا رہی ہوں شاہنواز میں آپ سے اور وجیہہ سے واقعی شرمندہ ہوں،، پریگنینسی کا جھوٹ میں نے صرف آپ کی زندگی میں شامل ہونے کے لئے بولا تھا اس کے علاوہ میرا اور کوئی مقصد نہیں تھا اور رہی بات آزھاد کے اوپر الزام لگانے کی آپ اس معاملے میں مت پڑیں آپ کے بیٹے نے پہلے دن سے ہی مجھے بہت زیادہ تکلیف دی ہے جب سے اس نے ہنی سے نکاح کیا ہے میں مسلسل اذیت میں مبتلا ہوں”
نوین شاہنواز کو دیکھتی ہوئے بولی
“کیسے نہیں پڑو نوین آزھاد کے معاملے میں وہ بیٹا ہے میرا اور تمھاری ساری باتوں میں سے مجھے سب سے زیادہ غصہ بھی اسی عمل پر آیا کہ تم نے اس پر جھوٹا الزام لگایا۔۔۔۔ تم اپنی اس غلطی کو ایکسیٹ کرو،،، خیر میں بات کو زیادہ بڑھانا نہیں چاہتا جو ہوگیا سو ہوگیا لیکن اب آگے سے ایسی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ جس سے دلوں میں رنجشیں جنم لیں”
شاہنواز صلح جو انداز می نوین کا ہاتھ تھام کر بولا
“ایم سوری میں آپ سے واقعی شرمندہ ہوں شاہنواز”
نوین شاہنواز کے کندھے پر سر رکھتی ہوئی بولی
“بہت زیادہ فضول حرکت کی تھی تم نے سلیپنگ پلس کھا کر آئندہ ایسی کوئی فضول حرکت نہیں ہونی چاہیے”
شانواز نوین کے گرد اپنا ہاتھ حائل کرتا ہوا بولا
“اوکے آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کروں گی مگر آپ کو آج رات اور کل کی رات میرے پاس میرے بیڈروم میں رکنا ہے”
نوین شاہنواز کے کندھے سے سر اٹھا کر اس سے فرمائش کرنے لگی جس پر شاہنواز اپنی مسکراہٹ چھپا کر اسے آنکھیں دکھانے لگا
“آنکھیں دکھانے کی نہیں ہورہی جناب، پچھلی چار راتوں سے آپ وجیہہ کے پاس ہیں۔۔۔ اور اب دو دن تک تو میں آپ کو اس بیڈروم سے بالکل نہیں جانے دو گی”
نوین اترا کر شاہنواز کو دیکھتے ہوئے بولی
“زبردستی ہے کیا”
شاہنواز نوین کو دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“بالکل صحیح سمجھے کچھ ایسا ہی ہے”
نوین اپنی بات بول کر خود مسکرائی اور ساتھ میں شاہنواز بھی
*****
نوین کی بات سن کر اس کا دوپہر سے دل اداس تھا وہ رات کے کھانے پر بلاوے کے باوجود وہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی جس کا نوٹس سب نے لیا۔۔۔ ویسے تو آزھاد کا کوئی ارادہ نہیں تھا آفس سے گھر آنے کے بعد اسے منانے کا مگر اس کو کھانے کی ٹیبل پر موجود نہ پاکر اسے اپنا ارادہ بدلنا پڑا
کھانے کی ٹیبل پر نوین بھی موجود تھی جیسے وہ ہمیشہ کی طرح اگنور کرتا ہوا خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا۔۔۔ اس نے نوٹ کیا شاہنواز کھانے کے دوران وجیہہ کے ساتھ ساتھ نوین سے بھی ہلکی پھلکی گفتگو کر رہا تھا، یعنی نوین اپنی بہن اور شوہر کی ہمدردی سمیٹنے میں کامیاب ہو چکی تھی اور شاہنواز بھی اس سے ناراضگی ختم کر چکا تھا
مگر کچھ بھی ہو جائے وہ کتنے ہی ڈرامے کرلے آزھاد کی نظر میں اس کی ویلیو پہلے جیسے ہی رہتی اور اب وجیہہ بھی اس سے کوئی خاص بات نہیں کر رہی تھی۔۔۔ کھانے سے فارغ ہو کر آزھاد نے ٹشو سے اپنا منہ صاف کیا اور ٹشو کو بال بنا کر جان بوجھ کر اس رُخ پر اچھالا جو سیدھا نوین کی پلیٹ میں جا گرا
نوین نے اس کی گھٹیا حرکت پر خار بھری نظروں سے آزھاد کو دیکھا مگر وہ اس کی نظروں کی پرواہ کیے بنا کرسی چھوڑ کر اٹھ چکا تھا، اب وہ شاہنواز کو دیکھ رہی تھی جو کھانے کے ساتھ موبائل پر کسی سے محو گفتگو تھا۔۔۔ نوین نے اس پر لعنت بھیج کر پلیٹ پیچھے کھسکائی دوسری پلیٹ میں اپنے لیے کھانا نکالنے لگی وجیہہ کھانے سے فارغ ہو کر پہلے ہی اٹھ چکی تھی جبکے آزھاد کی حرکت صرف کومل نے دیکھی تھی مگر وہ خاموشی سے سر جُھکا کر کسی سے کچھ کہے بنا اپنا کھانا کھانے لگی
“صابرہ ٹرالی میں کھانا رکھ کر ہنی کے روم میں لے آؤ” آزھاد کچن میں آکر صابرہ سے کہتا ہوا اور خود حنین کے روم میں جانے لگا
“سر پانچ منٹ پہلے ہی وجیہہ میڈم کے کہنے پر میں حنین میم کے روم میں کھانا پہنچا کر آئی ہوں”
صابرہ کی بات سن کر اسے حیرت ہوئی تھی مگر یہ حیرت خوشگوار تھی
“گڈ ساس بہو میں تعلقات اچھے ہوگئے” آزھاد نے دل ہی دل میں سوچتا ہوا حنین کے کمرے کا رخ کیا کمرے میں پہلے سے وجیہہ موجود تھی جسے دیکھ کر آزھاد چونکا
“ایسا کیا کیا ہے آزھاد تم نے، جو یہ اس طرح رو رہی ہے”
آزھاد کو حنین کے کمرے میں آتا دیکھ کر وجیہہ آزھاد سے پوچھنے لگی۔۔۔ آزھاد سمجھ گیا آج صبح حنین کے آفس جانے کا وجیہہ کو بھی علم تھا
“پرامس مما میں نے کچھ نہیں کیا،، بس اس سے ایک کام بولا تھا جو کہ کوئی اتنا مشکل نہیں تھا پھر بھی اس نے نہیں کیا اور گھر آکے رونا شروع کردیا”
آزھاد بیڈ سے تھوڑی دور ویل چیئر پر بیٹھی وجیہہ کو جواب دیتا ہوا خود حنین کے پاس بیڈ پر آکر بیٹھ گیا حنین کی آنکھیں کافی سرخ ہو رہی تھی جوکہ اس کے رونے کی نشاندہی کر رہی تھی۔۔۔ اس نے صبح والا ریڈ ٹاپ ہی پہنا ہوا تھا۔۔۔۔ ناجانے وہ اس کی صبح والی بات کو کتنا سیریس لے چکی تھی یا پھر کوئی اور بات تھی
“آخر ایسا کیا کام بول دیا تم نے جو یہ اتنا رونے لگی” وجیہہ حنین کی سرخ آنکھیں دیکھ کر آزھاد سے حیرت سے پوچھنے لگی۔۔۔ جس پر آزھاد نے حنین کو دیکھا اور حنین اس سے نظریں چرا گئی
“کچھ نہیں مما میں نے تو بس اس سے سیدھا سیدھا یہ بولا تھا کہ”
وہ ناجانے وجیہہ کو کیا بتانے لگا تھا حنین نے ایک دم بات کاٹی
“آنٹی میں آزھاد کی وجہ سے نہیں رو رہی تھی ویسے ہی میرے سر میں درد ہو رہا تھا”
حنین کے بے ساختہ بولنے پر آزھاد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔ ویسے بھی حنین کو نوین کی باتوں پر رونا آیا تھا
“وہ بات تو ٹھیک ہے ہنی مگر وہ کام تو مما کو بتاؤ جو میں نے تم سے بولا تھا۔۔۔ ورنہ مما بھی ساری رات سوچتی رہے گیں آخر میں نے تمہیں ایسا کیا کام بول دیا تھا”
کتنے معصوم انداز میں وہ حنین کو بولتا ہوا اسے پھنسا چکا تھا اور حنین ہونقوں کی طرح اس کی شکل دیکھ رہی تھی۔۔۔ اور اب وہ آنکھوں میں شرارت بھرے حنین کو دیکھ رہا تھا
“نہ ہی میں ساری رات کو سوچو گی اور نہ ہی مجھے کچھ سننا ہے۔۔۔ تم اسے زیادہ پریشان مت کیا کرو۔۔۔ بہت معصوم بچی ہے یہ ویسے بھی اسے آفس جانے کا مشورہ میں نے ہی دیا تھا”
وجیہہ نے بھی بال دھوپ میں سفید نہیں کیے تھے وہ اپنے بیٹے کی آنکھوں میں شرارت اور حنین کر جھینپنا نوٹ کر چکی تھی اس لیے بات کو رفع دفع کرتی ہوئی بولی
“اوہو تو اس معصوم بچی کو آفس بھیج کر آپ نے پھنسایا تھا”
آزھاد سائیڈ پر رکھی ٹرالی میں سے فرائڈ رائس کی پلیٹ اٹھا کر لایا تو حنین اس کو گھور کر جبکہ وجیہہ اپنے مسکراہٹ چھپاکر آزھاد کو دیکھنے لگی
“چلو اب کھانا کھا لو آج سے تمہیں کبھی کوئی کام کا نہیں بولوں گا بلکہ خود سے کر لیا کروں گا”
آزھاد بہت سنجیدگی سے بولتا ہوا اسپون میں چاول بھر کر حنین کو کھلانے لگا۔۔۔ حنین بلش کر کے وجیہہ کو دیکھنے لگی تو وہ مسکرا کر ان کے روم سے نکل گئی
“واقعی تم اتنی سینسٹیو ہو کہ میرے معصوم سے مطالبے پر گھر آکر رونے لگ گئی”
وجیہہ کے جانے کے بعد آزھاد حنین کو دوسرا نوالا کھلاتا ہوا پوچھنے لگا
“اسے معصوم مطالبہ نہیں بلکہ ناجائز مطالبہ کہتے ہیں”
حنین آزھاد کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی
“چلو وہ میرا ناجائز مطالبہ تھا جسے تم نے نہیں مانا ٹھیک ہے۔۔۔ کیا تم اپنی بہن کے ناجائز مطالبات مان کر میرے ساتھ جائز کر رہی ہو”
آزھاد حنین کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے پوچھنے لگا یعنی وہ صبح اس سے جو بھی کچھ بول رہا تھا وہ صرف اسے احساس دلانے کے لیے بول رہا تھا
“وہ میری بہن ہے میں اسے نہیں چھوڑ سکتی نہ تمہیں چھوڑ سکتی ہو۔۔۔ مگر تم دونوں کو ہی میرا احساس نہیں ہے”
چاولوں سے بھرا ہوا چمچا وہ پیچھے کرتی ہوئی بولی
“اسے احساس کرنا ہی کہتے ہیں جو مجھے تم سے زیادہ دیر تک ناراض نہیں ہونے دیتا۔۔۔ خیر چھوڑو تم بھی نہیں سمجھو گی”
آزھاد اسے ایک اور نیوالا کھلاتا ہوا بولا
پانی پینا مجھے ہیں”
اچانک ہچکی آنے پر وہ بولتی ہوئی پانی پینے کے لئے اٹھنے لگی مگر آزھاد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بٹھا دیا اور خود ٹرالی سے پانی کا گلاس لے کر اس کے پاس آیا
“جیسے جیسے دن بڑھتے جا رہے ہیں اب پیاس میری بھی شدید ہوتی جارہی ہے۔۔۔ کل میں اپنا ہر جائز مطالبہ پورا کرنے کا حق رکھتا ہوں”
آزھاد نے جتانے والے انداز میں بولنے کے ساتھ ایک اور نیوالا حنین کے منہ میں ڈالا۔۔۔ آج آزھاد کا کیا پلان تھا حنین اس کو دیکھتی ہوئی سوچنے لگی
“تھوڑی دیر پہلے فصیح کی کال آئی تھی معلوم نہیں کیا مسئلہ ہوا ہے اس کے ساتھ،،، فوراً مجھے اور مُکرم کو بلایا ہے”
آزھاد حنین کی سوچ پڑھتا ہوا اسے بتانے لگا
“ایک تو تم اپنے ان فضول دوستوں سے دوستی ختم نہیں کر سکتے نا۔۔۔ ایک آنکھ نہیں بھاتے مجھے یہ تمہارے گھٹیا دوست”
فصیح اور مُکرم کا ذکر سن کے حنین کا موڈ ہی خراب ہونے لگا جس طرح آزھاد مسکرایا
“گھٹیا نہیں ایک نمبر کے کمینے ہیں دونوں مگر دوست ہیں یار۔۔۔ معلوم نہیں کیا مسلہ ہوگیا ہے اس کے ساتھ۔۔۔ ویسے تم میرے دوستوں سے جیلیسی کی وجہ یہ تو نہیں یٰعنی تم چاہ رہی ہو یہ ریڈ ٹاپ آج میں خود سے اتارو”
حنین کے منہ میں چاول بھرتا ہوا وہ بے باکی سے بولا جس طرح حنین کو پھندہ لگتے لگتے بچا
“کتنا فضول بولتے ہو تم”
حنین آنکھیں دکھاتی ہوئی آزھاد سے بولی
“نہ ہی تم فضول بولنے دیتی ہو نہ ہی تو فضول کرنے دیتی ہو۔۔۔ پھر اچھا ہی ہے نہ کہ میں اپنے دوستوں کے پاس چلا جاؤ”
آزھاد شکوہ کرتا ہوا حنین سے بولا
“ہنی ڈنر کیوں نہیں کیا تم۔۔۔۔
نوین حنین کو بولتی ہوئی اس کے کمرے میں آنے لگی اس کے قدم اور زبان دونوں آزھاد کو دیکھ کر رک گئے۔۔۔ اور سامنے کا منظر دیکھ کر تو اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے
“منہ کھولو یار ابھی تک کتنے پیار سے میرے ہاتھوں سے کھا رہی تھی”
آزھاد نوین کو مکمل نظر انداز کرتا ہوا حنین کو دیکھ کر بولا
اب حنین ہر بار آزھاد کو بھی ناراض نہیں کر سکتی تھی اس لیے اس نے ذرا سا منہ کھولا اور آزھاد نے چاولوں سے بھرا چمچہ اس کے منہ میں ڈالا نوین خار کھانے والی نظروں سے ان دونوں کو دیکھنے لگی
چاول کا ایک ذرّہ حنین کے ہونٹ کے نیچے چپکا ہوا تھا جسے ہٹانے کے لیے اس نے اپنا ہاتھ اپنی تھوڑی کی طرف بڑھانا چاہا جسے آزھاد نے پکڑ کر چاول کا زرہ اپنے ہونٹوں سے ہٹایا۔۔۔ حنین کو آزھاد سے اتنی بے باکی کی توقع ہرگز نہیں تھی وہ اس کی حرکت پر وہ دھنگ رہ گئی جبکہ نوین کا اس منظر کو دیکھ کر پارہ ہائی ہونے لگا
“واؤ یہ تو آج کی بنی پوڈنگ سے بھی زیادہ میٹھا لگا مجھے”
آزھاد مسکرا کر نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔۔۔ حنین آزھاد کی حرکت پر شرمندہ ہونے لگی
“یہ کیا واہیات حرکت ہے”
نوین ناگواری سے آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی
“یہ واہیات حرکت اسپیشلی میں نے تمہیں دکھانے کے لئے ہی کی ہے تاکہ تم یہاں سے شرما کر چلی جاؤ مگر میں بھول گیا تھا کہ تم ایک خالص ڈھیٹ ہڈی کی بنی ہوئی شے ہو،، پوری فلم دیکھنے کے بعد بھی تو یہی پر ٹکے رہنا ہے”
حنین کو کھانا کھلانے کے بعد اسے فصیح کے پاس جانا تھا اور وہ اس وقت نوین کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا اس لئے چڑ کر بولنے کے ساتھ وہ چاولوں کی پلیٹ بھی واپس رکھ چکا تھا کیوکہ اسے اندازہ تھا اب حنین کی بھوک بھی فوت ہو چکی ہوگی
“ہنی میں جارہی ہوں تم سے بعد میں بات کروں گی”
وہ آزھاد کی بات کا کوئی جواب دیئے بغیر حنین کو بولتی ہوئی جانے لگی
“بعد میں یا رات میں ہمیں ڈسٹرب کرنے کی ضرورت نہیں ہے،، تم اپنے روم میں جاکر سکون سے مرو تاکہ ہم سکھ کا سانس لے کر جی سکے”
آزھاد خود بھی خار بھری نظروں سے نوین کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ اسے اب خود بھی اچھی طرح اندازہ ہو چکا تھا۔۔۔ جب تک نوین ان دونوں کے بیچ سے نہیں نکلے گی ان دونوں کا ریلیشن اسی طرح رہے گا۔۔۔ شاید اب وہ خود بھی نہیں چاہتا کہ نوین ہر تھوڑی دیر بعد حنین کے پاس موجود ہو
“یہ کیا طریقہ ہے آزھاد بات کرنے کا آج پھر تمہارا موڈ ہو رہا ہے لڑنے کا”
شاہنواز نوین کو ڈھونڈتا ہوا حنین کے کمرے میں آیا تو وہ آزھاد کی بات سن چکا تھا
“ڈیڈ آج آپ پوری ایمانداری سے یہ بات بتائیے گا کہ اس گھر میں یہ کون سا اصول ہے کہ گھر کا ایک مرد جب چاہے اپنی دونوں بیویوں میں سے کسی کی بھی روم میں چلا جائے جبکہ اسی گھر میں دوسرے مرد کے لیے اس کے اور اس کی وائف کے لیے کوئی پرائیوسی نام کی چیز ہی نہیں”
آزھاد شاہنواز کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔۔ نوین اب بالکل خاموش ہوگئی اور حنین نظریں جھکا گئی
“تو کس نے تمہاری اور تمہاری وائف کی پرائیویسی کو ڈسٹرب کیا ہے”
شاہنواز آزھاد کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جس پر آزھاد طنزیہ ہنسا
“اس نے۔۔۔ اس نے ڈسٹرب کیا ہوا ہے ہماری پرائیویسی کو ہماری لائف کو اور آئندہ یہ بات میں منہ سے نہیں بتاؤں گا بلکہ ہنی کو لے کر امریکا شفٹ ہو جاؤں گا”
آزھاد اپنی انگلی سے نوین کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اس کا انداز وارننگ دینے والا تھا
“زیادہ ہائپر ہونے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے۔۔۔ اور نوین تمہیں بھی خیال کرنا چاہیے وہ دونوں میرڈ کپل ہیں۔۔ یوں کسی کے روم میں ہر وقت آ جانا مناسب نہیں ہے۔۔۔ اپنے روم میں چلو”
شاہنواز آزھاد کے بعد نوین کو دیکھتا ہوا بولا
“اپنا دھیان رکھنا” شاہنواز کے جانے کے بعد نوین حنین کو دیکھتی ہوئی بولی حنین اس کے لفظوں میں چھپا ہوا مفہوم اچھی طرح سمجھ گئی تھی نوین کے جانے کے بعد حنین اپنا سر تھام کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔ تو آزھاد روم کا دروازہ بند کر کے حنین کے پاس آیا
“ریلکس ڈارلنگ تمہاری آپی صرف جیلس ہوتی ہے تم سے کیونکہ میرے ڈیڈ میرے جتنے رومینٹک ہرگز نہیں ہوں گے اس کی ساتھ”
آزھاد کی فضول گوئی پر حنین سر اٹھا کر آزھاد کو دیکھنے لگی وہ مسکراتا ہوا حنین کو دیکھتا ہوا اس کو کمر سے تھام کر بیڈ سے اٹھانے لگا
“کوشش کروں گا جلدی آ جاؤ کیا تم میرا ویٹ کرو گی”
آزھاد حنین کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“بالکل بھی ویٹ نہیں کروں گی میں تمہارا”
حنین آنکھیں سکیڑ کر آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی اس کے انداز پر آزھاد کو ہنسی آئی
“مائی لائف مائی بیوٹیفل وائف”
آزھاد اس کے ہونٹوں کو فوکس کرتا ہوا بولا اب وہ جھگ کر اپنے ہونٹ حنین کے ہونٹوں پر رکھ چکا تھا۔۔ وہ بےخود سا ہوکر اپنے ہونٹوں سے اسکے ہونٹوں پر محبت کی چھاپ چھوڑے دے رہا تھا حنین نے سختی سے اس کی شرٹ کو تب پکڑا جب اس نے آزھاد کے ہاتھوں کا لمس ٹاپ کے اندر اپنی کمر پر محسوس کیے۔۔۔ اس سے پہلے وہ مزید کوئی اپنا کارنامہ دکھاتا حنین ایک جھٹکے سے اسے پیچھے کر چکی تھی
“جاؤ تمہارے فرینڈز ویٹ کر رہے ہوگے”
حنین بلش کرتی ہوئی بولی۔۔ وہ اس کے چہرے پر سُرخی دیکھ کر مزید اسے تنگ کیے بنا کمرے سے نکل چکا تھا کیوکہ حنین کی سانسوں کی خوشبو اپنے اندر اتارتے ہوئے مسلسل اس کے موبائل پر مُکرم کی کال آرہی تھی
****
“نوین جاؤ ڈریس چینج کر کے آؤ”
نوین اپنے روم میں آئی تو شاہنواز پہلے سے روم میں موجود تھا اسے دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا
وہ اس کا مطلب اور طلب سمجھ چکی تھی اس لیے ڈریسنگ روم میں جاکر نائٹی پہن کر روم میں آئی اور اپنے بالوں کو برش کرتی ہوئی اپنے اوپر پرفیوم چھڑکنے لگی۔۔ اب وہ بیڈ پر خاموشی سے لیٹ گئی۔۔۔ شاہنواز اپنے گاؤن کی ڈوریاں کھولتا ہوا اس کے قریب آیا
“میں اس وقت ریلکس ہونا چاہتا ہوں اس کے لیے تمہیں بھی اپنا مائینڈ ریلیکس کرنا پڑے گا۔۔۔ ایک بات میری اچھی طرح سمجھ لو نوین،، حنین تمہاری بہن ہونے کے ساتھ ساتھ میرے بیٹے کی بیوی بھی ہے گھر میں اگر کوئی بھی ٹینشن والی بات ہو جس کی وجہ تم بنو تو اب میں ہرگز برداشت نہیں کرو گا۔۔۔ لہذا انہیں ان کی لائف جینے دو اور خود بھی سکون سے رہو”
شاہنواز بولتا ہوا اس پر جھکا اور اپنی ضرورت پوری کرنے لگا جبکہ نوین کا دماغ صرف اور صرف حنین اور آزھاد کی طرف اٹکا ہوا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *