Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07

آج ایک بہت بڑا پروجیکٹ شاہنواز کی کمپنی کو ملا تھا جس کی خوشی میں اس نے شہر کے مشہور ہوٹل میں پارٹی رکھی تھی سارے بڑے بڑے بزنس مین اور دوسری کمپنی کے مالک اس پارٹی میں مدعو تھے
آج کے دن پارٹی کے لئے نوین نے خاص اپنے لئے ڈریس بنوایا تھا اور وہ مسلسل شاہنواز کے ساتھ اس کے دوست احباب اور مختلف لوگوں سے مل رہی تھی جبکہ حنین ایک کونے کی ٹیبل پر بیٹھی مسلسل نوین کو دیکھ رہی تھی
نوین نے اسے اپنے ساتھ چلنے سے منع بھی کیا تھا کیوکہ یہ ایک بزنس پارٹی تھی نوین کو معلوم تھا وہ یہاں آکر بور ہوجاتی مگر وہ نوین سے ضد کر کے یہاں پر آئی تھی
کیونکہ آج کالج آف ہونے سے آدھے گھنٹے پہلے ہی وہ کالج سے نکل آئی تھی تاکہ آزھاد کا اس کا سامنا نہ ہوسکے یہاں بھی وہ نوین کے ساتھ اسی وجہ سے آئی تھی کہ کہیں آزھاد اسے کالج میں موجود نہ پاکر آج دوبارہ گھر پر آئے تو اسے حنین نہ ملے
مگر یہاں پر موجود سب لوگوں کو چہرے پر آرٹیفیشل مسکراہٹ سجائے ایک دوسرے سے باتیں کرتے دیکھ کر وہ واقعی بور ہو رہی تھی اس لیے چیئر سے اٹھ کر بھیڑ سے نکلتی ہوئی ہوٹل کے اس جگہ پر چلی گئی جہاں کوئی موجود نہیں تھا
یہ ہوٹل کی بیک سائڈ تھی،، ہر تھوڑی دیر بعد کوئی ایک آدھ ویٹر ہی وہاں سے گزرتا۔۔۔ قریب ہی بڑے سے سوئمنگ پول کے پاس حنین بیٹھ گئی
نوین کے باس اسے بہت اچھے لگے وہ حنین سے بہت شفقت سے ملے تھے اسے ایسے ہی ڈیسنٹ لوگ پسند تھے اور ایک وہ تھا آزھاد۔۔۔ ایک دم سے اس کی سوچوں کا رخ آزھاد کی طرف گیا جس کا امپریشن حنین پر پہلی ملاقات سے ہی اچھا نہیں پڑا تھا تھوڑی بہت انسانیت اس نے دوسری ملاقات میں دکھائی بھی تو آخر میں کیا کیا۔۔۔
لڑکیوں سے کیسے عزت سے بات کی جاتی ہے شاید یہ بات اس کو چھو کر بھی نہیں گزری تھی یا پھر وہ تھا ہی بے باک اور بدتمیز قسم کا
جو بھی تھا حنین کو اس کا یوں بیڈروم میں آنا ذرا پسند نہیں آیا وہ یہ ساری باتیں نوین کو کیسے بتا سکتی تھی نوین چاہے اس کے کتنے ہی نخرے کیوں نہ اٹھا لے یا کتنی ضد پوری کر لے مگر کسی کسی معاملے میں وہ حنین کے ساتھ کافی سخت ہوجاتی تھی
حنین سوئمنگ پول پر دائرے کی شکل میں بنے ٹائیلز پر بیٹھی ہوئی اپنی سوچوں میں مگن تھی
*****
“تم یہاں کیا کر رہے ہو شاہنواز کی نظر اپنی طرف آتے ہوئے آزھاد پر پڑی جو بلیک ڈنر سوٹ میں مبلوس چلتا ہوا اسی کے پاس آرہا تھا اس کے قریب آتے ہی شاہنواز نے اس سے پوچھا
“آپ کی جاسوسی ڈیڈ”
جتنی سنجیدگی سے شاہنواز نے سوال کیا تھا اتنی ہی سنجیدگی سے آزھاد نے جواب دیا آزھاد کی بات سن کر شاہنواز کے چہرے کے زاویے بگڑے تو آزھاد شاہنواز کے تاثرات دیکھ کر مسکرانے لگا
“ریلیکس جوک تھا، میں نے سوچا کل سے تو آفس جوائن کرنا ہی ہے کیو ناں آج اس پارٹی میں بھی شرکت کرلی جائے تاکہ آپ اپنے بیٹے کا تعارف دوسرے لوگوں سے بھی کروا دیں”
آزھاد اب نارمل انداز میں شاہنواز سے بولا تو شاہنواز اسے اپنے ساتھ لے کر پارٹی میں موجود دیگر افراد سے ملوانے لگا
“خورشید صاحب (مینیجر)کو تو تم جانتے ہو باقی سارے آفس کے ورکرز کا تم سے کل ہی تعارف ہو جائے گا جب تم آفس جوائن کرو گے ہاں تمہیں نوین سے ملواتا ہوں”
سب سے تعارف کروانے کے بعد اب شاہنواز نے ویٹر سے، آفس کی کالیکس کے ساتھ بیٹھی ہوئی نوین کو بلانے کے لیے کہا پھر شاہنواز کا کوئی دوست آگیا تو شاہنواز آزھاد کو اس سے ملوانے لگا
“سر آپ نے بلایا”
نوین کی آواز پر شاہنواز کے ساتھ ساتھ آزھاد نے بھی پلٹ کر نوین کو دیکھا
“ہاں نوین میں نے تمہیں آزھاد سے ملنے کے لئے بلایا ہے یہ ہے میرا بیٹا آزھاد اور یہ کل سے ہی آفس جوائن کرے گا اور آزھاد یہ ہیں مس نوین مرزا آفس کی سب سے اہم اور محنتی ورکر ہونے کے ساتھ ساتھ میں پرسنل سیکرٹری”
شانواز ان دونوں سے ایک دوسرے کا تعارف کرا رہا تھا جبکہ وہ دونوں پلک جھپکائے بناء خاموشی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔
نوین آزھاد کو پہلی نظر میں ہی پہچان گئی تھی یہ وہی بدتمیز لڑکا تک جو حنین کو اس دن تنگ کر رہا تھا اور خود نوین سے بھی بدتمیزی سے مخاطب ہوا تھا
دوسری طرف آزھاد ناصرف نوین کو پہچانا بلکہ اسے اچھا خاصا دھچکا بھی نوین کی شکل کو دیکھ کر لگا تھا اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ حنین کی بہن اس کے ڈیڈ کی پرسنل سیکرٹری ہوسکتی ہے
“کیا تم دونوں پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہو”
شاہنواز ان دونوں کی خاموشی کا نوٹس لیا وہ دونوں ہی خاموشی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے
“نہیں اتنا خاص نہیں جانتے ایک بار سرسری سی ملاقات ہوئی تھی،، ویل آپ سے مل کر خوشی ہوئی مسٹر آزھاد شاہ”
نوین نے ناچاہتے ہوئے بھی اخلاقیات نبھاتے ہوئے زبردستی کا مسکرا کر کہا اور ساتھ ہی ہاتھ ملانے کے لئے آگے ہاتھ بڑھایا (جو کہ بزنس پارٹیز میں عام بات تھی)
“مگر مجھے کوئی خاص خوشی نہیں ہوئی تم سے مل کر”
آزھاد اس کے اپنی طرف بڑھے ہوئے ہاتھ کو اگنور کرتا ہوا اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے نوین کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا جس پر نوین کی مسکراہٹ غائب ہونے کے ساتھ ساتھ شاہنواز کے چہرے پر بھی سنجیدگی آگئی
“یہ کیا بدتمیزی ہے آزھاد”
نوین نے اپنا بڑھا ہوا ہاتھ نیچے کیا تو شاہنواز ناگواری سے آزھاد کو دیکھتا ہوا بولا
“بدتمیزی کیسی ڈیڈ جو میں نے اس کے بارے میں فیل کیا وہی اسکو بولا”
آزھاد شاہنواز کو بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا
“تم فیل مت کرنا تھوڑی لاپروا ٹائپ کی نیچر ہے آزھاد کی”
آزھاد کے جانے کے بعد شاہنواز نوین کو دیکھتا ہوا بولا
“اٹس اوکے میرے خیال میں اب مجھے بھی چلنا چاہیے”
نوین شاہ نواز کی طرف دیکھکر مسکراتی ہوئی بولی مگر اسے پہلے کے مقابلے میں آج آزھاد پر اور بھی زیادہ غصہ آیا
“اتنی جلدی کیوں” شاہنواز نوین کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“ہنی بور ہو رہی ہوگی شاہنواز”
نوین اب بات شاہنواز سے کر رہی تھی مگر اس کی آنکھیں چاروں طرف حنین کو ڈھونڈ رہی تھی
“اوکے چلی جانا پانچ منٹ کے لیے میرے ساتھ آکر مسٹر رحمان سے مل لو وہ پوچھ رہے تھے تمہارا”
شاہنواز نوین کو دیکھتا ہوا بولا تو نوین کو اس کے ساتھ چلنا پڑا مگر اس کا دماغ آزھاد کو یہاں دیکھ کر اب حنین میں اٹک گیا تھا
****
“اگر ہنی کی بہن ڈیڈ کی پرسنل سیکریٹری ہے تو ڈیڈ اور ہنی کی بہن کے اسکینڈل کی خبریں آجکل موو کر رہی ہیں۔۔۔۔ مطلب ڈیڈ کا افیر ہنی کی بہن کے ساتھ۔۔۔”
کچھ تھا جو آزھاد کو بہت ہی زیادہ برا لگا تھا وہ دو پیک چڑھا کر وہاں سے نکل کر پول والی سائیڈ پر آیا جہاں پہلے سے حنین موجود تھی
وہ جو پول کے قریب بیٹھی ہوئی اپنی سوچوں میں گم تھی کسی کو اپنے قریب آتا دیکھ کر سوچو کے بھنور سے نکلی چمکتے ہوئے شوز پر نظر پڑنے کے بعد حنین نے سر اٹھا کر اپنے سامنے کھڑے آزھاد کو دیکھا
“تم یہاں پر بھی پہنچ گئے”
حنین کھڑی ہو کر حیرت سے اس کو دیکھتی ہوئی بولی آخر وہ کوئی انسان تھا یا پھر کوئی جن، جو ہر جگہ اس کے پیچھے چلا آتا تھا
“یہ میرا گمان ہے یا واقعی تو میرے سامنے ہو”
آزھاد نے دو بار زور سے اپنی آنکھیں جھپکائی شاید آج دو پیک میں ہی اس کو چڑھ گئی تھی تبھی تو اسے اپنے سامنے حنین کھڑی نظر آ رہی تھی اس وقت وہ اپنے ڈیڈ اور نوین کو بالکل فراموش کر چکا تھا
“میرے سامنے زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ہے، تم میرا پیچھا کرتے کرتے یہاں تک آئے ہو آخر کیوں کر رہے ہو تم مجھے تنگ”
حنین چڑ کر اس سے پوچھنے لگی
“اب میں اپنا پرابلم سمجھ گیا ہوں،، میں نے تمہارا پیچھا نہیں کیا بلکہ تمہیں بہت زیادہ مس کیا کیوکہ نہ ہی تم آج کالج آئی اور نہ ہی اپنے گھر پر موجود تھی۔۔۔ لیکن دیکھ لو میرے سچے دل سے یاد کرنے پر تم آج بھی میرے سامنے موجود ہو”
آزھاد حنین کو دیکھتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اس کا ہاتھ تھاما تاکہ اسے چھو کر محسوس کر سکے کہ وہ واقعی اس کے سامنے کھڑی ہے
“مطلب تم آج دوبارہ میرے فلیٹ میں آئے تھے اور کالج بھی۔۔۔ اس طرح میرے پیچھے اپنا ٹائم ویسٹ کر کے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا”
حنین اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ کیے نوٹس کیے بغیر آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی جس پر آزھاد اس کو دیکھ کر مسکرایا
“آزھاد ٹائم ویسٹ کرنے والوں میں سے نہیں ہے ڈارلنگ،، اسے جو شے پسند آجائے وہ اس پر اپنی مہر لگا کر اسے حاصل کر لیتا ہے”
آزھاد حنین کا تھاما ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں کی طرف لے جاتا ہوا بولا تو حنین ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ کھینچا آزھاد کو حنین کی حرکت کچھ خاص پسند نہیں آئی جبھی اس نے قریب آکر حنین کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو حائل کیے اور خود سے حنین کو نزدیک کیا
“آج تمہارہ چہرہ دیکھ کر تو میں یہ بھول ہی گیا کہ تم کس کی بہن ہو،، مگر میں چاہتا ہو تم یہاں سے جاکر اپنی بہن کو بتاو کہ آزھاد چیز کیا ہے”
آزھاد بولتا ہوا حنین کے چہرے پر جھکنے لگا
“آزھاد چھوڑو مجھے یہ تم کیا کر رہے ہو”
حنین اس کی گرفت میں مچلتی ہوئی اپنے دونوں ہاتھوں سے آزھاد کو پیچھے ہٹانے لگی اس کے منہ سے آتی ہوئی بدبو سے حنین کا دل متلانے لگا
“بہت حٖفاظت کرنی پڑے گی اب تمہاری بہن کو تمہاری”
آزھاد اپنے ہونٹ حنین کے ہونٹوں کے نزدیک لایا
“آزھاد پلیز”
وہ اپنا چہرے کا رخ دوسری سائیڈ کرکے احتجاجاً چیخی۔۔۔
آزھاد نے اپنا ایک ہاتھ اس کی کمر سے ہٹا کر اس کا چہرہ تھاما تھا، ، حنین نے پوری طاقت لگا کر اسے دھوکا دیا۔۔ ایک لمحے لگا تھا اسے آزھاد کے حصار سے نکلے ہوئے مگر دوسرے ہی لمحے حنین کا چکنے ٹائل سے پاؤں سلیپ کیا اور اب وہ پول کے اندر تھی
___________
عباس دو گھنٹے پہلے کسی کام سے گھر سے باہر نکلا تھا،، ابھی وہ کار پارک کرکے آنیکسی کی طرف بڑھنے لگا تو اسے کوثر دکھائی دی جو کہ کافی پریشان دکھائی دے رہی تھی
“سب خیریت ہے کوثر آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں اس وقت”
عباس نے پریشان حال کوثر سے پوچھا
“آدھا گھنٹہ گزر گیا ہے کومل بےبی کا کچھ معلوم نہیں کہاں ہیں۔۔۔۔ یہ امجد (گارڈ) تھوڑی دیر دروازہ کھلا چھوڑ کر باہر نکل گیا تھا واپس آیا تو گیٹ کھلا ہوا تھا۔۔۔ کومل بےبی کو ہم سب مل کر پورے گھر میں تلاش کر چکے ہیں۔۔ ابھی فضل اور امجد باہر نکلے ہیں ان کو ڈھونڈنے کے لیے”
کوثر نے پریشان ہوکر ساری صورتحال عباس کو بتائی
“او گاڈ ایک تو یہ لڑکی بھی نا،، آنٹی اور آزھاد تو کافی پریشان ہوں گیں”
عباس کو وجیہہ اور آزھاد کا خیال آیا تبھی وہ کوثر کی جانب دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“شاہ نواز سر اور آزھاد سر تو گھر پر موجود نہیں ہے وجیہہ میڈم کو ابھی ہم سب نے نہیں بتایا وہ پریشان ہوگیں تو ان کی طبیعت بگڑے گئی لیکن اب سوچ رہی ہوں،، آزھاد سر کو کال کرکے بتادو”
کوثر پریشانی سے عباس کو بولنے لگی
“اس کی ضرورت نہیں پڑے گی کوثر پیچھے مڑ کر اوپر کی طرف دیکھیں اپنی کومی بےبی کے کارنامے وہ کہاں پر پہنچی ہوئی ہیں”
عباس جو کہ کوثر کی بات سن رہا تھا اچانک اس کی نظر گھر کی چھت پر پڑی وہاں اسے کومل کھڑی نظر آئی
“خدا کا شکر ہے کومل بےبی مل گئی،، کال سے ہی ان کا موڈ خراب ہے میں ابھی انہیں بہلا کر نیچے لاتی ہوں”
کوثر شکر ادا کرتی وہاں سے جانے لگی
“آپ رکیں کوثر، کومل کو میں نیچے لے کر آ جاتا ہوں۔۔۔ فضل اور امجد دونوں کو کال کرکے فوراً بلائیں یوں مین گیٹ کھلا چھوڑنا چھوڑنا مناسب نہیں ہے اور آپ آنٹی کے پاس جائیں”
عباس کوثر کو بولتا ہوا گھر کی چھت پر جانے لگا
****
“کیا کر رہی ہو تم یہاں پر اکیلی”
عباس چھت پر پہنچ کر کومل سے پوچھنے لگا جو کہ چھت کی دیوار پر کونیہاں ٹکائے نیچے دیکھ رہی تھی عباس کی آواز پر اچانک مڑی
“تمہیں کیوں بتاؤں تم فرینڈ تھوڑی ہو ڈانٹا تھا تم نے کومی بےبی کو”
کومل کل والی بات یاد کر کے عباس سے ناراض ہوتی ہوئی بولی
“اور تم نے کیا کیا تھا کل صبح کافی گرا کر دیا کی تصویر خراب کردی تمہیں معلوم ہے وہ ایک ہی تصویر تھی اس کی میرے پاس”
عباس اسے اس کا کارنامہ یاد دلانے لگا مگر وہ اب اس کی بات سن کر بالکل خاموش ہوگئی
“دیا کی تصویر خراب کردی اس کو نقصان پہنچا دیا کومی نے”
عباس کو سمجھ نہیں آیا وہ آہستہ آہستہ کیا بڑبڑا رہی ہے مگر اچانک اس کے اوسان خطا ہوئے جب ایک دم اس نے کومل چھت کی دیوار کے اوپر چڑھتے ہوئے دیکھا
“یہ کیا کر رہی ہو کومل، دیوار سے نیچے اتر فوراً”
عباس نے بھاگ کر کومل کے پاس آنا چاہا
“وہی رک جاؤ ورنہ کومی نیچے گود جائے گی”
کومل کسی ضدی اور ناراض بچے کی طرح عباس کو دھمکی دینے لگی، وہی عباس کے قدموں کو بریک لگے وہ کومل سے چھ سے سات قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا اسے ڈر تھا کہیں اسکے اگے قدم بھی آگے بڑھانے پر کومل واقعی اپنی بات پر عمل نہ کرلے
“نیچے کودنے سے تمہیں چوٹ لگے گی درد ہوگا اور خون نکلے گا۔۔۔ ہو سکتا ہے تمہاری یہ ٹانگیں بھی ٹوٹ جائے اور ہاتھ بھی،، پھر تم کبھی بھی فٹبال نہیں کھیل سکوں گی۔۔۔ اب اپنے فرینڈ کی بات مانو اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دو”
عباس نے اس کو چھت سے گرنے کے نتائج بتانے کے بعد اپنا ہاتھ آگے بڑھایا
“مگر تم کومی کے فرینڈ نہیں ہو تم دیا کہ فرینڈ ہو”
کومل عباس کو دیکھ کر اداسی سے بولی
“غلط عباس صرف اور صرف کومی کا فرینڈ ہے اور کسی کا بھی نہیں”
عباس نے ابھی بھی اس کی طرف ہاتھ بڑھائے رکھا تھا اب وہ آئستہ آئستہ اسکی طرف قدم بڑھا رہا تھا
“پھر کومی اور عباس فٹ بال کھیلیں۔۔۔ مزا آئے گا۔ ۔۔۔ آآآ”
کومل کو بات کرتے کرتے دھیان نہیں رہا کیسے اس کا پاؤں سلپ ہوا اور وہ چھت سے نیچے گری
دوسری طرف عباس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی وہ تیزی سے دیوار کی طرف بھاگتا ہوا آیا مگر تب تک کومل گر چکی تھی
****
“بچاؤ”
سوئمنگ پول اس کی ہائیٹ سے کافی زیادہ گہرا تھا دوسرا حنین کو سوئمنگ بھی نہیں آتی تھی حنین ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے چلانے لگی
“ہنی”
آزھاد جو ایک دم حنین کے پول میں گرنے سے بوکھلا گیا تھا اس کو ڈوبتا ہوا دیکھ کر اپنا کوٹ اتارتا ہوا خود بھی حنین کو بچانے کی غرض سے پول میں کودا اور جب وہ حنین کو پول سے باہر نکال کر لایا تو حنین کی آنکھیں بند تھی وہ بےہوش تھی۔۔۔۔ آزھاد نے اس کو پاس رکھی ریلیکسنگ چیئر پر لٹایا
“ایکسیوز می سر اینی پروبلم”
وہاں سے گزرتا ہوا ویٹر آزھاد کے پاس آ کر پوچھنے لگا
“ارینج ٹاول کوئیکلی”
آزھاد ویٹر کو بولتا ہوا حنین کا لونگ اسکرٹ گھٹنوں سے نیچے کرنے لگا،، سردی کافی زیادہ تھی اور پول کا پانی بہت ٹھنڈا تھا،، آزھاد نے اپنا کوٹ اٹھا کر حنین کے اوپر ڈالا
“ہنی آنکھیں کھولو پلیز، میں کچھ نہیں کررہا صرف تمہیں تنگ کر رہا تھا”
اب آزھاد حنین کے گال تھپتپاتا ہوا اسے اپنی بات کا یقین دلانے لگا۔۔۔ حنین ویسے ہی آنکھیں بند کئے لیٹی تھی۔۔۔ آزھاد نے دوبارہ اس کے گال تھپتپانے کے ساتھ ہلکا سا پیٹ دبایا تو حنین نے کھانستے ہوئے آنکھیں کھولیں۔۔۔ حنین اب آزھاد کو دیکھ رہی تھی اور آزھاد نے آنکھیں بند کرکے شکر ادا کیا
“کیا جان لینے کا ارادہ تھا میری”
آزھاد حنین کے گال پر اپنی انگلیوں سے پھیرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“کیا ہو رہا ہے یہاں پر”
نوین حنین کو ڈھونڈتی ہوئی وہی آگئی مگر وہاں کا منظر دیکھ کر وہ حیرانگی سے پوچھنے لگی
حنین پول کے پاس رکھی چیئر پر لیٹی ہوئی تھی جبکہ آزھاد اسی چیئر پر ایک سائیڈ پر حنین کے بالکل قریب بیٹھا ہوا تھا اور ان دونوں کے ہی لباس بھیگے ہوئے تھے
“آپی آئی سوئیر میں نے کچھ نہیں کیا وہ میں سوئمنگ پول میں”
نوین کی آواز پر آزھاد اور حنین دونوں نے نوین کو دیکھا۔۔۔ حنین بجلی کی رفتار سے چیئر کی دوسری سائیڈ سے اٹھی اور جلدی سے اپنی صفائی دینے لگی اتنے میں ویٹر ٹاول لے کر آیا
“یہ لیجئے سر”
ویٹر آزھاد کو ٹاول دینے لگا مگر نوین نے جھپٹ کر اس سے ٹاول لیا حنین کے پاس آکر آزھاد کا کوٹ حنین کے اوپر سے تقریباً کھینچ کر آزھاد کی طرف اچھالا جسے آزھاد نے کیچ کیا
“اسی سائیڈ کا گیٹ اوپن کروائے”
نوین ویٹر سے بولتی ہوئی ٹاول حنین کے گرد لپیٹنے لگی
“یہ کیز پکڑو اور یہی سے جا کر کار میں بیٹھ جاؤ میں آتی ہوں”
نوین حنین کو کار کی کیز تھما کر گیٹ کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی
حنین نے ڈر کے مارے ایک نظر بھی آزھاد کو دیکھے بنا نوین سے کار کی کیز لی اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔ حنین کو جاتا ہوا دیکھ کر آزھاد بھی اپنا کوٹ ہاتھ میں تھامے وہاں سے جانے لگا
“تم رکو”
نوین کی آواز پر آزھاد رکا اور پلٹ کر نوین کو دیکھنے لگا اس کے چہرے پر اس وقت بلا کی سنجیدگی تھی۔۔۔ نوین آزھاد کو دیکھتی ہوئی چل کر اس کے پاس آئی
“میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا میری بہن سے دور رہو،، میں اب بھی تمہیں کہہ رہی ہو تم ہنی سے دور رہو”
وہ آزھاد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے خود بھی سنجیدگی سے آزھاد کو دیکھ کر گویا ہوئی
“مجھے یہ بات پہلے معلوم نہیں تھی ڈیڈ کی سیکرٹری تم ہو بلکہ یہ بات مجھے آج معلوم ہوئی ہے لہذا میں نے پہلے تو تمہیں نہیں کہا مگر آج میں تم سے آج کہہ رہا ہوں اور آخری دفعہ کہہ رہا ہوں میرے باپ سے دور رہو”
آزھاذ نوین کو اسی کے انداز میں بولا مگر آخری جملے پر اس نے باقاعدہ آنکھیں دکھاتے ہوئے ایک ایک لفظ پر زور دیا تھا
جس پر نوین کے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ آئی۔۔۔ اس کی مسکراہٹ صاف ظاہر کر رہی تھی کہ وہ اپنے سامنے کھڑے شخص کی یا اسکی بات کی رتی برابر پروا نہیں کرتی یہ بات آزھاد کو سُلگا گئی
“آزھاد تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ یہ بات ایک بار اپنے ڈیڈ سے بھی کہہ کے دیکھو، دیکھتے ہیں تمہارے ڈیڈ تمہاری اس بات پر کتنا عمل کرتے ہیں کیوکہ میں تو تمہاری بات پر ہرگز عمل نہیں کرنے والی”
نوین اب بھی مسکراتی ہوئی آزھاد کو کہنے لگی جیسے اس نے تھوڑی دیر پہلے، اپنی ہونے والی انسلٹ کا آزھاد سے بدلہ لیا ہو۔۔۔ اب وہ اپنے آپ کو کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی
“ڈیڈ میری بات پر عمل کریں گے انہیں میری بات پر عمل کرنا پڑے گا اور عمل تو تم بھی میری بات پر کرو گی نوین مرزا ورنہ اس کا خمیازہ تمہیں اپنی بہن کی صورت بھکدنا پڑے گا کافی خوبصورت ہے تمہاری بہن کسی تازہ کلی کی طرح، اس کے اندرونی بیرونی ہر پرسنل معاملات کی خبر رکھتا ہوں میں۔۔۔ اگر تم نے مجھے مزید اپنی اوقات دکھائی ناں تو وقت ضائع کئے بغیر چٹکی میں مسل کر رکھ دوں گا میں تمہاری بہن کو”
آزھاد اس کے چہرے کے سامنے ہاتھ لا کر چٹکی بجاتا ہوا بولا۔۔۔ اب کی بار نوین کے فیس ایکسپریشن دیکھ کر مسکرانے کی باری آزھاد کی تھی
“پہلے میں تمہیں صرف ایک بدتمیز انسان سمجھتی تھی لیکن آج معلوم ہوا تم ایک گھٹیا انسان بھی ہو”
آزھاد کو بولنے کے ساتھ نوین نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بند کی تاکہ آزھاد کے منہ پر وہ خود کو تھپڑ لگانے سے باز رکھ سکے۔۔۔۔ آزھاد اس کے چہرے پر غصے کے تاثرات کے ساتھ اس کے ہاتھ کی بند مٹھی دیکھنے لگا
“کیا ہوا مجھے مارنے کا دل چاہ رہا ہے ایسا سوچنا بھی مت کیوکہ میں صرف بدتمیز اور گھٹیا انسان ہی نہیں بہت خطرناک انسان بھی ہوں”
آزھاد آنکھیں دکھا کر نوین کو دیکھتا ہوا اپنی بات ازبر کروا کر وہاں سے جاتے جاتے پلٹا
“بچا کر اور بہت زیادہ چھپا کر رکھنا اپنی بہن کو مجھ سے، لوگ مجھے یوں ہی بدتمیز نہیں کہتے، بہت زیادہ ہمت چاہیے میری بدتمیزوں کو برداشت کرنے کے لیے”
آزھاد نوین کو بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ ۔۔ جبکہ اس کے لفظ نوین نے برداشت نہیں ہو رہے تھے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *