Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24
آزھاد صرف ایک منٹ میری بات سنو”
حنین نوین کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر آزھاد سے اپنا بازو چھڑاتی ہوئی بولی
“ہنی اب ایک لفظ نہیں بولنا”
آزھاد اسے آنکھیں دکھاتا ہوا سخت لہجے میں بولا اور حنین کا بازو پکڑ کر کمرے سے باہر نکلنے لگا نوین جوکہ آزھاد کو غصے میں دیکھ رہی تھی ایک دم چلتی ہوئی اسکے سامنے آئی اور آزھاد کا گریبان پکڑا
“جب تک میں اس گھر میں موجود ہوں میری بہن تمھارے بیڈ روم میں ہرگز نہیں جائے گی”
نوین آزھاد کا گریبان پکڑتی ہوئی آنکھیں دکھا کر بولی۔۔۔ آزھاد اس کے بولے گئے لفظوں کو تو خاطر میں ہی نہیں لاتا تھا غصہ اسے نوین کے گریبان پکڑنے پر آیا۔۔۔ اس نے حنین کا بازو چھوڑ کر نوین کا ہاتھ پکڑا
“کیا سوچ کر تم نے میرا گریبان پکڑا جواب دو”
آزھاد غصے میں نوین کا ہاتھ پکڑ کر زور سے چیخا۔۔ مگر وہ ڈھٹائی سے اسے مسکرا کر دیکھ رہی تھی،، یہ مسکراہٹ آزھاد کے غصے کو مزید ہوا دے گئی
آزھاد کے چیخنے پر وجیہہ ویل چیئر چلاتی ہوئی ہال میں آئی ملازم بھی ہال میں آکر تماشہ دیکھنے لگے
“آزھاد آپی کو چھوڑ دو پلیز”
حنین کا دل بری طرح دھڑک رہا وہ آزھاد سے منت کرتی ہوئی بولی
“آج میں تمہیں تمہاری اوقات دکھاؤ گا”
آزھاد نوین کا ہاتھ کھینچتا ہوا اسے اسٹور روم کی طرف لے جانے لگا
“آزھاد رک جاؤ میں کہہ رہی ہوں چھوڑو نوین کا ہاتھ”
وجیہہ ویل چیئر پر بیٹھی ہوئی تیز آواز میں بولی
ملازموں میں اتنی جرت نہیں تھی کہ کوئی بھی سامنے آتا، حنین روتی ہوئی آزھاد کا بار بار پکارتی اس کے پیچھے آرہی تھی جبکہ نوین آزھاد سے اپنی کلائی چھڑانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی مگر آزھاد کسی کی بھی بات سنے بغیر نوین کو اسٹور روم کے اندر لے گیا
“آآآآ”
اسٹور کے فرش پر گرنے سے نوین کے منہ سے دلخراش چیخ نکلی وہی آزھاد غصے کی بجائے حیرت سے آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگا
“آپی”
حنین جو کہ ان دونوں کے پیچھے آرہی تھی اسٹور روم کے دروازے پر آزھاد کو دھکا دیتی ہوئی بھاگ کر نیچے فرش پر گری نوین کے پاس پہنچی
“آپی۔۔۔ آپی کیا ہوا آپ کو”
نوین اپنے پیٹ کو پکڑے تڑپ رہی تھی حنین روتی ہوئی اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
آزھاد ابھی بھی حیرت زدہ کھڑا نوین کو دیکھ رہا تھا کیونکہ وہ نوین کو اسٹور روم میں بند کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ شدید غصے میں بھی اسے نوین کی کنڈیشن یاد تھی اس نے اسٹور میں نوین کو لا کر صرف اس کا ہاتھ چھوڑا تھا۔۔۔ نہ ہی اسے جھٹکا تھا نہ ہی اس نے دھکا دیا تھا وہ دروازہ بند کرنے کے لیے مڑا تو نوین فرش پر گری تکلیف سے چیخ رہی تھی
_____________
آج صبح سے ہی اس کی طبیعت میں اداسی کی سی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔۔۔ شاید آج دیا کا برتھڈے تھا اس لیے۔۔۔ مگر یہ دن منانے کے لیے دیا دنیا میں موجود نہیں تھی۔۔۔ آج آفس میں بھی وہ خاموش ہی رہا آفس سے واپسی پر گھر جانے کا دل نہیں چاہا تو اس نے کار دیا کے گھر کی طرف موڑ لی
“ارے عباس اچھا ہوا تم آگئے آج میرے پاس، کیسے ہو بیٹا”
عباس کی خالا (دیا کی امی) عباس کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی بولی
“میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں۔۔۔ خالو گھر میں موجود ہیں”
عباس صوفے پر ان کے برابر میں بیٹھتا ہوا انکے شوہر کا پوچھنے لگا۔۔۔۔ عباس کو محسوس ہوتا جیسے ان کے شوہر عباس کو کچھ خاص پسند نہیں کرتے اس لیے وہ کم ہی اپنی خالہ سے ملنے آتا
“نہیں تمہارے خالو اپنے دوست کے ہاں گئے ہیں۔۔ ثاقب اور عاقب دونوں ہی اپنے اپنے بیوی بچوں کو لے کر باہر نکلے ہیں۔،۔ میں ہی گھر پر اکیلی موجود ہو”
انہوں نے شوہر کے ساتھ ساتھ اپنے دونوں بیٹوں کے بارے میں بھی بتا دیا اور خاموش ہوگئی
“دیا کو مس کر رہی ہیں آپ”
عباس ان کو خاموش دیکھ کر پوچھنے لگا انکے چہرے پر اداسی اور زیادہ رقم ہوگئی
“نئی بات تھوڑی ہے وہ تو ہر روز یاد آتی ہے۔۔۔ ہاں آج کچھ زیادہ ہی خیال آرہا ہے اس کا۔۔۔ بائیس سال پہلے آج ہی کے دن تو میری گود میں آئی تھی،،، تمہارے خالو اور میں بہت خوش تھے۔۔ دیا کی پیدائش پر۔۔۔ وہ تو اپنا غم بھلانے کے لئے کسی دوست کے ہاں چلے جاتے ہیں مگر میں دیا سے ہی باتیں کرکے اپنا وقت گزار لیتی ہو”
انہوں نے صوفے پر رکھا اپنا ٹیب عباس کی طرف بڑھایا جس میں دیا کی تصویر موجود تھی عباس دیا کی تصویر دیکھنے لگا
ایک کے بعد دوسری پھر تیسری چوتھی وہ دیا کی ساری تصویریں دیکھنے لگا جو اس نے مختلف انداز میں کھنچوائی تھی یا خود کھینچی تھی ایک تصویر پر اس کی نظر پڑی تو اس کی آنکھیں حیرت اور بے یقینی سے کھلی رہ گئیق
“کومل”
بے ساختہ عباس کے منہ سے نکلا دیا کے ساتھ مسکراتی ہوئی دوسری لڑکی وہ کومل ہی تو تھی
“تم جانتے ہو کومل کو یہی تو وہ دیا کی دوست تھی جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے میری دیا کو اجڑتے ہوئے دیکھا تھا بعد میں معلوم ہوا تھا بہت گہرا صدمہ لیا تھا اس بچی نے”
عباس بے یقینی سے اپنی خالہ کو دیکھتا ہوا ان کی باتیں سن رہا تھا وہ اور بھی کچھ کہہ رہی تھی شاید مگر اب وہ اٹھ کر وہاں سے چلا گیا
عباس کو آج بھی وہ دن یاد جب روتی ہوئی اس کی خالہ نے اسے فون پر دیا کی ڈیتھ کے بارے میں بتایا تھا کیسے پھٹے ہوئے کپڑوں میں اسکی ڈیڈ باڈی کو لایا گیا تھا۔۔۔ اخبار کے فرنٹ پیج پر یہ خبر زینت بنی تھی
“کہہ یونیورسٹی کی طلبہ کو اس کی کلاس کے دو لڑکوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا”
عباس کو کومل کا زور زور سے چیخنا چلانا اور رونا یاد آنے لگا پھر آزھاد کی بات بھی
“کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے عباس کہ جو ہم سوچ رہے ہو حقیقت اس کے برعکس ہو”
یعنی کومل جو بھی ایکٹ کرتی تھی وہ سب اس نے دیا کے ساتھ ہوتا ہوا دیکھا تھا۔۔۔ عباس نے کار کو بریک لگایا اسے لگا کے شاید وہ ابھی کار ڈرائیونگ نہیں کر پائے گا
*****
“آرام سے آپی آرام سے لیٹے بالکل”
حنین نوین کو بیڈ پر لٹاتی ہوئی بولی تھوڑی دیر پہلے ہی نوین کو ہسپتال سے گھر لے کر آئے تھے کل سے ہی وہ نوین کی کسی بچے کی طرح کیئر کر رہی تھی
“حنین تم بھی اپنے کمرے میں جا کر تھوڑے سی دیر ریسٹ کر لو کل سے ہی نوین کے ساتھ ہاسپٹل میں موجود ہو”
شاہنواز حنین کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔
نوین کا مسکیرج ہوچکا تھا، گھر میں سب کو اس بات کا دکھ تھا۔۔۔ کل نوین کی حالت بگڑی تو نوین کی ضد پر حنین ڈرائیور کے ساتھ اس کو اس کی سہیلی، ڈاکٹر شہلا کے پاس لے گئی جہاں الٹراساؤنڈ اور ٹیسٹ کرنے کے بعد یہ بتایا گیا کہ زور سے فرش پر گرنے کے باعث بےبی کی ہارٹ بیٹ بند ہوگئی ہے۔۔۔ جس کی وجہ سے ابارشن کرنا پڑا۔۔۔ یہ خبر شاہنواز کے لیے بہت بری خبر تھی کل سے ہی گھر کا ماحول میں عجیب افسردگی چھائی ہوئی تھی
“کیسی طبیعت ہے اب تمہاری نوین، میں تمہارا درد سمجھ سکتی ہوں تم پریشان مت ہونا اللہ تمہیں جلد دوبارہ خوشی دے گا”
حنین کے روم سے جانے کے بعد وجیہہ اس کے اور شانواز کے روم میں آئی۔۔۔ اپنی ویل چیئر نوین کے سامنے بیڈ کے پاس روکتی ہوئی بولی
“آپ میرا درد نہیں سمجھ سکتی وجیہہ، میں نے اپنا بچہ دنیا میں آنے سے پہلے کھو دیا،، اللہ آپ کے دونوں بچوں کو سلامت رکھے میں اس وقت جس تکلیف سے گزر رہی ہو اس کا کوئی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا”
نوین کے کہنے پر شاہنواز اسے بیڈ پر بٹھا چکا تھا وہ اسی کا ہاتھ تھامے بیٹھا ہوا تھا۔۔ نوین کی بات سن کر وجیہہ بھی افسردہ ہوگئی
“نوین تمہاری بھی غلطی ہے جب ایمرجنسی ہوتی تو قریب ہاسپٹل میں جایا جاتا ہے، یوں ضد نہیں کی جاتی کہ مجھے میری دوست کے پاس لے کر جاؤ،، گھر سے قریب کتنے اچھے اور بڑے ہسپتال وجود تھے۔۔۔۔ جہاں فوری طور پر ٹریٹمنٹ دیا جاتا۔۔۔ تو یوں آج ہمہیں پچھتانا نہیں پڑتا”
شاہنواز نرمی سے نوین کو اس کی غلطی کا احساس دلانے لگا
“یہ بھی میری غلطی ہے شاہنواز،، اس سارے قصے میں کس کی غلطی ہے یہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔۔۔ بات اچھے اور بڑے ہسپتال کی نہیں ہوتی نہ ہی بروقت ٹریٹمنٹ کی۔۔۔ بس میری بچے کی قسمت میں قتل ہونا لکھا تھا وہ بھی اپنے بھائی کے ہاتھوں”
نوین تلخی سے بولی تو شاہنواز خاموش ہوگیا جبکہ وجیہہ نظریں چرانے لگی۔۔۔
وجیہہ اور شاہنواز دونوں ہی آزھاد سے بے حد خفا تھے نہ ہی اس کی بات سن رہے تھے نہ ہی اس سے بات کر رہے تھے
“آزھاد اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہے نوین، اس نے بالکل ایسا نہیں سوچا تھا”
صاف محسوس ہورہا تھا وجیہہ اپنی طرف سے بات بناکر آزھاد کی صفائی دے رہی ہے
“وجیہہ آپ مجھے اس کی طرف سے ایکسپلینیشن مت دیں،، وہ کتنا شرمندہ ہے اس کا اندازہ مجھے ہوچکا ہے ایک بھی دفعہ جو آیا ہوں مجھ سے معافی مانگنے مگر میں آپ کو یا کسی دوسرے کو بلیم نہیں کر رہی جو سچ ہے وہ یہ ہے کہ آزھاد نے میرا بہت بڑا نقصان کیا ہے”
پلکیں جھپک کر وہ اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرتی ہوئی بولی تو شاہنواز اور وجیہہ دونوں ہی خاموش ہوگئے
“اچھا بتاؤ کیا کھانے کا موڈ ہو رہا ہے کیا بنواؤں تمہارے لئے کک سے”
وجیہہ بات بدلتی ہوئی نوین سے پوچھنے لگی
“ابھی تو کوئی لائٹ سی ہی چیز لو گی ڈاکٹر کے ڈائٹ چارٹ کے مطابق۔۔۔ آپ حنین کو میرے پاس بھیج دیں۔۔۔ میں ریسٹ کرنا چاہتی ہوں وہ بھی تھکی ہوئی ہے یہاں میرے پاس ہی ریسٹ کرلے گی”
نوین کو ابھی بھی آزھاد کی طرف سے خطرہ تھا اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ حنین اپنے کمرے میں اکیلی رہے۔۔۔ نوین کی بات پر وجیہہ سرہلا کر روم سے باہر نکل گئی اور شاہنواز اٹھ کر روم کا دروازہ بند کرتا ہوا نوین کے پاس آکر بیٹھا
****
حنین اپنے روم میں آکر شاور لینے چلی گئی وہ کل سے ہی ہاسپٹل میں نوین کے ساتھ موجود تھی۔۔۔ نوین کی حالت پر نہ صرف اس کا دل دکھا تھا بلکہ اسے آزھاد کی وجہ سے شرمندگی بھی ہوئی تھی اور اب اسے آزھاد پر غصہ بھی آنے لگا۔۔۔ آزھاد اس کی بہن کے ساتھ اس حد تک برا کر سکتا ہے حنین کو آزھاد سے ایسی امید ہرگز نہیں تھی حنین ٹاول سے بال خوش کرتی ہوئی باہر نکلی تو آزھاد کو اپنے کمرے میں موجود پایا شاید وہ اسی وقت آفس سے گھر آیا تھا
“کیسی ہو”
وہ حنین کے پاس آکر اس سے پوچھنے لگا کل والے واقعے کے بعد سے ان دونوں کا آمنا سامنا ہوا تھا
“خیریت تو تمہیں اس کی پوچھنی چاہیے جس کا تم نے نقصان کیا ہے”
حنین آزھاد کو دیکھ کر طنز کرتی ہوئی بولی کیونکہ اس نے نوین کا نقصان کر کے اس کا بھی دل دکھایا تھا
“مما اور ڈیڈ کی طرح تمہیں بھی یہی لگ رہا ہے کہ میں غلط ہوں”
آزھاد اس کو طنز بھرا لہجہ نظر انداز کرتا ہوا پوچھنے لگا
“تم ابھی بھی اپنی غلطی نہیں مانو گے آزھاد جانے انجانے میں ہی سہی مگر تم سے نقصان ہوا ہے۔۔۔ تمہیں ایک پل کے لئے ذرا بھی خیال نہیں آیا آپی کی کنڈیشن کا” حنین افسوس سے اس کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“میں نے اسے پُش نہیں کیا تھا،،، میں سچ بول رہا ہوں اتنی بڑی بات بالکل جھوٹ نہیں بولوں گا۔۔۔ اس کے ساتھ جو بھی کچھ ہوا ہے اس کی قصور وار وہ خود ہے بہت بڑی گیم پلانر ہے تمہاری بہن، صرف مجھے میرے ماں باپ اور تمہاری نظروں میں گرانے کے لیے وہ اس حد تک گر گئی ہے اس نے اپنا بچہ گرا دیا یا پھر یہ کہ اسے یہ بچہ چاہیے ہی نہیں تھا اس وجہ سے اسی وجہ سے اس نے ایک تیر سے دو شکار کیے”
آزھاد کو یہی بات سمجھ میں آئی تھی اور یہی حقیقت اس نے شاہنواز اور وجیہہ کو بھی بتانے کی کوشش کی تھی مگر اس کی بات سمجھنے کی بجائے وہ دونوں الٹا اسی پر برہم ہوگئے تھے اب وہ حقیقت حنین کو بتا رہا تھا
“آزھاد تمہیں معلوم ہے تم میری بہن کے بارے میں کیا بول رہے ہو۔۔۔ کیا الزام لگا رہے ہو تم آپی پر،، کوئی بھی عورت اتنی گری ہوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ خود اپنے بچے کو نقصان پہنچائے۔۔۔ مجھے تمہاری سوچ پر افسوس ہو رہا ہے،،، حیرت ہورہی ہے مجھے آپی سے تمہاری اس قدر نفرت کو دیکھ کر۔۔۔ کہ تم اپنا کیا دھرا الٹا میری بہن کے اوپر تھوپ کر اسے قصوروار ٹھہرا رہے ہو۔۔۔ شرم آنی چاہیے تمہیں”
حنین غصے میں سخت لہجہ اختیار کرتی ہوئی بولی اور اپنی آنکھیں صاف کرنے لگی تب آزھاد نے اس کے قریب آ کر اس کے دونوں بازو تھامے
“آج مجھے بھی افسوس ہو رہا ہے یہ دیکھ کر کہ تمہارے دل میں میرے لئے کتنی محبت ہے، کتنا یقین کرتی ہو تم میرا۔۔۔ تمہاری بہن بدلے کی آگ میں بالکل اندھی ہوچکی ہے وہ ایک گھٹیا لڑکی ہے اور بہت جلد اس کی اصلیت تمہارے اور ڈیڈ کے سامنے لے کر آؤں گا”
آزھاد نے حنین کو بولتے ہوئے جھٹکے سے اس کے بازو چھوڑے
“ٹھیک ہے جو تمہیں کرنا ہے تم کرو مگر جب تک کے لیے مجھے اپنی شکل مت دکھاؤ،، کل تم ہی نے کہا تھا نہ کہ تمہیں اچھا نہیں لگے گا کہ میں تمہاری وجہ سے ہرٹ ہو یا پھر مجھے کوئی تکلیف پہنچے مگر آج تم اپنی باتوں سے مجھے ہرٹ کر رہے ہو تکلیف دے رہے ہو۔۔۔ یہاں سے چلے جاؤ پلیز”
حنین کا مزید دل دکھنے لگا وہ روتی ہوئی بولی آزھاد ایک سنجیدہ نظر اس روتے ہوئے چہرے پر ڈال کر اس کے کمرے سے باہر نکل گیا
****
آزھاد غصے میں حنین کے کمرے سے نکلا، ارادہ اس کا اپنے کمرے میں جانے کا تھا مگر اس نے شاہنواز کو نوین کے کمرے سے وجیہہ کے روم میں جاتا دیکھا تو نوین کے روم میں آیا وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ آزھاد کو دیکھ کر تکیہ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی
“کیسا فیل کر رہے ہو آزھاد رونا تو نہیں آ رہا تمہیں” وہ مسکراتی ہوئی آزھاد سے پوچھنے لگی
“میں نے یہی فیل کیا ہے نوین کہ تم میری سوچ سے بھی زیادہ نیچ اور گھٹیا لڑکی ہو۔۔۔ اپنی وقتی جیت پر زیادہ خوش مت ہو۔۔۔ تم جانتی نہیں ہو تم نے کس سے ٹکر لے کر بےوقوفی کی ہے۔ ۔۔ بہت جلد تمہارا یہ مکرہ چہرہ ڈیڈ اور تمہاری بہن کے سامنے لاو گا۔۔۔۔ رو گی تو تم وہ بھی آنسووں سے”
آزھاد نوین کو بولتا ہوا کمرے سے نکل گیا اور نوین مسکرا کر سر نفی میں ہلاتی ہوئی بیڈ پر لیٹ گئی
_____________
“آپ کب سو کر اٹھی آپی مجھے اٹھا لیا ہوتا”
نوین نے کل رات کو شاہنواز کو وجیہہ کے پاس بھیج کر حنین کو ضد کر کے اپنے پاس کمرے میں سلایا تھا
“تم کافی گہری نیند سو رہی تھی تھک گئی ہوگی ناں۔۔۔ میں نے پریشان جو کر دیا تمہیں”
نوین کو ایک دم اپنی چھوٹی بہن پر ڈھیر سارا پیار آیا وہ اس کا گال تھپتھپاتی ہوئی بولی
“کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ، کوئی پریشان نہیں کیا آپ نے،، پریشان کیا ہوتا تو وہ پریشانی اس تکلیف کے آگے کوئی معنی نہیں رکھتی جو تکلیف آپ نے اٹھائی”
حنین بیڈ سے اٹھ کر بیٹھی اور نوین کو دیکھتی ہوئی بولی تو نوین افسردہ ہو گئی
“تم نے دیکھا ہنی کتنا جانور صفت انسان ہے یہ آزھاد، میں تمہیں جبھی اس جنگلی سے اس کی شر سے بچانا چاہتی ہوں۔۔۔۔ مجھ سے نفرت کی انتہا دیکھی، اس انسان نے اپنے ہی باپ کی خوشی کا خیال نہیں کیا اور کیسے میرے اور شاہنواز کے بچے کو”
نوین نے افسردگی سے بولتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کی
“آپی وہ عمل اس سے جان بوجھ کر نہیں ہوا تھا غصے میں انسان کیا کچھ کر جاتا ہے اسے معلوم نہیں ہوتا۔۔۔ آپ پلیز آزھاد کو معاف کردیں”
حنین نے چھوٹی سی کوشش کی تھی کہ وہ نوین کا دل آزھاد کی طرف سے صاف کر سکے نوین نے حنین کی بات سن کر اپنی آنکھیں کھولی
“تمھیں اس سے اتنی ہمدردی کیوں ہو رہی ہے ہنی،، اس کا میرے ساتھ سلوک دیکھ کر تم چاہ رہی ہو کہ میں اسے معاف کردو،، میری بات غور سے سنو تمہارے دل میں اس کے لیے یہ نرم گوشہ پیدا ہونا،، بہت غلط علامت ہے میں ہرگز نہیں چاہؤ گی کہ وہ ساری زندگی تمہارے گلے کا طوق بن کر رہے۔۔۔ میری کنڈیشنر اسٹیبل ہوجائے تو فوری اسٹیپ لوگی تمہارے لیے اور آزھاد کو تمہاری طرف سے خلع کا نوٹس بھجوا کر یہ معاملہ یہی رفع دفع کرو گی۔۔۔ تمہیں اس کے لیے ایگری ہونا پڑے گا اگر تم اپنی بہن سے محبت کرتی ہو تو”
نوین اب آنکھوں میں سختی لائے حنین کو کہنے لگی کیوکہ حنین کی آنکھیں جو کہنا چاہ رہی تھی نوین چاہ کر بھی وہ بات نہیں سننا چاہتی تھی اور نوین کو اندازہ تھا حنین ڈر کے مارے اپنے منہ سے کچھ نہیں بولے گی
“آپی میں نے ہمیشہ آپ کی بات مانی ہے جو آپ نے چاہا ویسے ہی کیا، میں نے ہمیشہ کوشش کی میری بات سے آپ کا دل نہ دکھے کیوکہ مجھے معلوم ہے آپ نے ہی مجھے پالا ہے مگر پلیز آپی آپ مجھے آزھاد سے الگ مت کریں اس نے بے شک مجھ سے زبردستی نکاح کیا ہے مگر میں اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں میں جانتی ہو،، وہ آپ کو پسند نہیں ہے مگر آپ مجھ سے تو محبت کرتی ہیں نہ تو پھر میری خوشی کی خاطر آپ اسے مجھ سے جدا مت کریں۔۔۔ اس کے بدلے میں آپ جو کہے گیں میں وہ مانو گی بلکہ ہمیشہ آپ کی ہر بات مانو گی پلیز آپی اس کا اور میرا رشتہ قائم رہنے دیں”
حنین بیشک آزھاد سے خفا تھی آزھاد کے عمل سے اس کا دل دکھا تھا، اس کا ہی نہیں سب کا مگر وہ اس سے اپنا رشتہ پھر بھی نہیں توڑ سکتی تھی نوین کی آنکھوں میں تنبہی اور لہجے میں سختی دیکھ کر بھی اس نے ہمت نہیں ہاری بلکہ آج اس نے نوین کے سامنے آزھاد کے لیے اپنی فیلنگز شیئر کردی۔۔۔ دوسری طرف اب نوین خاموشی سے حنین کو روتا ہوا دیکھ رہی تھی وہ اس کی آنکھوں میں آزھاد کے لیے محبت تو پرسوں ہی دیکھ چکی تھی مگر نوین کو نہ جانے کیوں علم تھا حنین کبھی بھی ڈر کر اپنی محبت کا اقرار اس کے سامنے ہرگز نہیں کرے گی کیونکہ وہ جانتی بھی کے نوین آزھاد کو ناپسند کرتی ہے مگر آج یہاں وہ غلط ثابت ہوئی تھی۔۔۔۔ اس کی چھوٹی بہن آزھاد کے لیے اس کے سامنے رو رہی تھی
(تو تم یہاں بازی لے گئے آزھاد۔۔۔ مگر اپنی ہار تو نوین مرزا بھی تسلیم نہیں کرے گی”
نوین نے تلخی سے سوچتے ہوئے اپنا سر جھٹکا
“اگر تم ایک گھٹیا انسان کے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو پھر میں کیا کر سکتی ہو مگر اس کے بدلے میں تمھیں میری ایک شرط ماننی پڑے گی”
نوین چہرے پر پتھریلے تاثرات لاتی ہوئی بولی تو حنین رونا بند کرکے نوین کو دیکھنے لگی جیسے اس کی شرط جاننا چاہ رہی ہو
“اور وہ شرط یہ ہے کہ تم دو سال تک آزھاد کو اس کا شرعی حق نہیں دوں گی۔۔۔ مطلب صاف ہے اگر وہ بہت زیادہ کلوز ہونا چاہے تب تمہیں اسے منع کرنا گا اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا یا آزھاد نے تم سے زبردستی کی اور تم نے اسے نہیں روکا تو پھر میں جو کہوں گی تمہیں وہ ماننا پڑے گا”
نوین بہت آرام سے حنین کو اپنی شرط بتانے لگی اور حنین سکتے کی کیفیت میں اپنی بہن کو دیکھنے لگی
“یہ کیسی شرط ہے آپی یہ کیسے ممکن ہے وہ شوہر ہے میرا اگر آزھاد خود”
حنین نے حیرت زدہ ہوکر نوین کے آگے بولنا چاہا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا
“یہ اگر مگر نہیں کرو میرے سامنے،، ابھی تم نے خود ہی بولا ہے کے بدلے میں، میں جو چاہوں گی تم وہ مانو گی۔ ۔۔ تمہیں مجھ سے کتنی محبت ہے ہنی، اتنی محبت تو ہوگی کہ تم میری اس بات کا احترام کرو اب دیکھنا یہ ہے کہ جس کے لیے تم میرے سامنے اتنے آنسو بہا رہی ہو وہ تمہاری اس خواہش کا کتنا احترام کرتا ہے۔۔۔ ایک ہی کام کے لیے تو شادی نہیں کی نہ اس نے، ،، اب تم اپنے کمرے میں چلی جاو۔۔۔۔ میں تھوڑی دیر اکیلی ریسٹ کرنا چاہتی ہوں”
نوین نے بیڈ پر لیٹ کر کمفرٹر منہ تک اوڑھ لیا اور حنین خاموش بیٹھی اس کی شرط کے بارے میں سوچنے لگی
****
کل حنین سے ملاقات کے بعد وہ اپنے فلیٹ میں آگیا تھا۔۔۔ رات بھی گھر پہنچنے کی بجائے یہی رکا۔۔۔ ابھی وہ آفس سے واپسی پر بھی یہی اپنے فلیٹ میں آیا تھا
اس وقت وہ ٹیرس میں کھڑا سگریٹ پینے میں مگن تھا۔۔۔ اسے کل سے ہی بار بار نوین کا مسکراتا ہوا مکروہ چہرہ یار آ رہا تھا جو کل سے ہی اس کے غصے کی وجہ بنا ہوا تھا
“کوئی عورت اتنا کیسے گر سکتی ہے کہ کسی دوسرے سے انتقام لینے کے لیے اپنے ہی بچے کو۔۔۔”
آزھاد سگریٹ پیتا ہوا سوچنے لگا
“ایک نمبر کی مکار اور جھوٹی عورت سب کے سامنے یہ ظاہر کر گئی کہ میں نے اسے دھکا دیا ہے”
آزھاد نے سگریٹ پیتے ہوئے تلخی سے سوچتے ہوئے اپنا سر جھٹکا اچانک ایک خیال اس کے دماغ میں آیا
“جھوٹی اور مکار تو وہ ہے ہی یہ بھی تو ہو سکتا ہے اس نے پریگنینسی کا ہی جھوٹ بولا ہو آخر وہ کیوں ہنی کو بار بار اصرار کر رہی تھی کہ اسے اپنی فرینڈ کے پاس ہی جانا ہے یا پھر واقعی وہ پریگنٹ ہو ابھی بچہ نہیں چاہتی ہوں ایسا کرکے اس نے سب کی نظروں میں مجھے بھی گرا دیا اور اپنا مطلب بھی پورا کرلیا۔۔۔ آخر کوئی تو وجہ ہو گی جو وہ اپنی سہیلی کے پاس جانے کا اصرار کر رہی تھی یہ تو معلوم کرنا ہی پڑے گا”
آزھاد نے سوچتے ہوئے سگریٹ کا ٹکڑا پھینکا اور پاکٹ سے موبائل نکال کر نمبر ڈائل کرنے لگا
“واجد ایک ماہ پہلے تم نے ڈیڈ اور نوین کو کس میٹرنٹی ہوم میں جاتا ہوا دیکھا تھا کونسی ڈاکٹر ہوتی ہے وہاں پر”
واجد کے جواب پر آزھاد نے غصے سے دانت پیسے لازمی دال میں کچھ کالا تھا
“سنو نوین مرزا کے بارے میں مجھے ایک ایک ڈیٹیل چاہئے یہاں آفس سے پہلے اس نے اور کہاں پر جاب کی ہے اس کے دوست احباب ملنے ملانے والے کالج اسکول فرینڈز سب کے بارے میں مجھے معلومات دو”
آزھاد نے واجد سے بات مکمل کرکے اپنا سیل فون پاکٹ میں رکھا اور روم میں آکر کار کی کیز اٹھاتا ہوا فلیٹ سے باہر نکل گیا۔
جاری ہے
