Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16
رک کیوں گئی آو نا “
آزھاد نے پیچھے مڑ کر حنین کو مخاطب کیا وہ خود تو آفس جانے کے لیے فل ڈریس اپ نظر آرہا تھا مگر حنین کو اپنا حلیہ اس وقت عجیب مضائقہ خیز لگ رہا تھا
اس نے کل رات والا نوین کا وائٹ کُرتا اور ٹراؤزر پہنا ہوا تھا کُرتا کافی ڈھیلا اور گھٹنوں سے اونچا تھا بال برش کرکے اس نے چٹیا کی شیپ میں بل دے کر ایسے ہی چھوڑ دیئے تھے اور اس کے پیروں میں آزھاد کی سلیپرز موجود تھی کیونکہ اس کی اپنی ہیلز شاید نوین کے روم میں تھی۔۔۔
ناشتے کی ٹیبل پر اس وقت آزھاد کے پیرنٹس کے ساتھ نوین بھی موجود تھی۔۔ وہ اس وقت تھوڑی نروس ہو رہی تھی مگر آزھاد کے بولنے پر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر آئی اور آہستہ آواز میں سلام کیا
“آو ہنی یہاں بیٹھو” نوین نے آزھاد کے ساتھ حنین کو آتے دیکھا تو اسے اپنے پاس کرسی پر بیٹھنے کے لیے کہا حنین کے لیے ویسے بھی سب اجنبی تھے وہ نوین کے پاس ہی بیٹھنا چاہتی تھی اس لئے اس کے پاس جانے لگی
“ہنی یہاں آ کر بیٹھو”
آزھاد کی آواز پر حنین کے ساتھ باقی سب آزھاد کی طرف دیکھنے لگے
“میں آپی کے ساتھ زیادہ کمفر”
حنین نے شاہنواز اور وجیہہ کی موجودگی کا لحاظ کرتے ہوئے آزھاد کو آہستہ آواز میں بولنا چاہا
“یہاں بیٹھو”
آزھاد اپنی بات پر زور دیتا ہوا بولا اس کی آنکھوں کو دیکھ کر حنین اسی کے پاس رکھی ہوئی چیئر پر بیٹھ گئی۔۔ نوین کو سخت زہر لگا تھا اس وقت آزھاد کا اس کی بہن پر قبضہ جمانہ
“یہ کوئی طریقہ نہیں ہے بات کرنے کا، اگر وہ اپنی بہن کے پاس بیٹھنا چاہتی ہے۔۔۔ بیوی وہ تب بھی تمہاری رہتی بیٹا۔۔۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو ایشوز نہیں بنانا چاہیے آئندہ خیال رکھنا”
وجیہہ آرام سے آزھاد کو سمجھانے لگی
“اوکے مما آئندہ خیال رکھوں گا یہ بتائیں آپ کی طبیعت کیسی ہے”
آزھاد نے جتنے پیار سے اور تابعداری سے وجیہہ سے بات کی نوین اور حنین دونوں نے چونک کر دیکھا
“ٹھیک ہے میری طبیعت چلو ناشتہ اسٹارٹ کرو”
وجیہہ آزھاد کو کہتی ہوئی اس کے برابر میں بیٹھی حنین کو بھی دیکھنے لگی
“اوہو کل رات تعارف تو رہ ہی گیا تھا۔۔۔ مما یہ ہے حنین آپ کی بہو، مسز آزھاد۔۔۔ دکھنے میں یہ کیوٹ ہے مگر اس کے اندر بہت ایٹیٹیوڈ ہے۔۔۔ سب کے سامنے یہ خاموش رہتی ہے مگر اکیلے میں اس کی زبان قینچی کی طرح چلتی ہے”
آزھاد ہلکی سی اسمائل کے ساتھ حنین کو دیکھتا ہوا کہنے لگا تو حنین نے اسے گھورا۔۔۔ یہ منظر دیکھ کر جہاں وجیہہ اور شاہنواز کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔ وہی نوین غصے میں حنین دیکھنے لگی
“اور ہنی ڈیئر یہ ہے میری جنت۔۔۔ اس گھر کی اصلی مالکن پلس کوئن۔۔۔ کیو ڈیڈ صحیح بولا ناں میں نے”
آزھاد حنین سے وجیہہ کا تعارف کرواتا ہوا شاہنواز پوچھنے لگا
“اس میں کوئی شک نہیں ہے وجیہہ واقعی اس گھر کی ملکہ ہے”
شاہنواز وجیہہ کے ٹیبل پر رکھے ہوئے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔۔۔
وجیہہ شاہنواز کو دیکھ رہی تھی اور اس کے چہرے پر وجیہہ کو دیکھ کر مسکراہٹ تھی آزھاد ان دونوں کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔۔۔ جبکہ نوین کا چہرہ اتر گیا اور اپنی بہن کو دیکھ کر حنین کا بھی مگر اسے وجیہہ بہت اچھی لگی پروقار سی شخصیت رکھنے والی دھیمے لہجے میں بات کرنے والی
نوین بے دلی سے اپنے پاس رکھی پلیٹ سے سینڈوچ اٹھانے لگی۔۔۔ مگر ابھی اس کا ہاتھ فضا میں ہی تھا کہ اسکے سامنے سے سینڈوچ والی پلیٹ آذھاد اٹھا چکا تھا
“لے مما سینڈ وچ کھائیں”
آزھاد وجیہہ کی پلیٹ میں سینڈوچ رکھتا ہوا بولا۔۔۔۔
آزھاد کی حرکت پر نوین کا خون کھولا تھا۔۔۔ وہ اس کی کمزوری جان چکی تھی سامنے بیٹھی ہوئی اس کی ماں۔۔۔ اب اسے آزھاد کی کمزوری کو اپنے قابو میں کرنا تھا،،، تبھی تو وہ آزھاد سے اپنی کمزوری (یعنیٰ حنین) واپس لے سکتی ہے جس کے بل بوتے پر وہ کل سے ہی آ کڑ رہا تھا
“ایسے کیوں بیٹھی ہو ناشتہ کرو”
اسے شاہنواز کی آواز آئی۔۔۔ ساتھ ہی نوین کی گود میں رکھا ہوا ہاتھ شاہنواز نے اپنے ہاتھ میں تھاما جس پر شاہنواز اور نوین نے ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھا
“اسلام علیکم”
ٹیبل پر موجود سب افراد ناشتہ کر رہے تھے عباس کی آواز پر سب نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔ عباس نے دو نئے چہرے دیکھے تو وہ کنفیوس ہوا
“وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہو آؤ ناشتہ کرو ہمارے ساتھ”
وجیہہ نے عباس کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا
“وجیہہ خیال کیا کریں فیملی بیٹھی ہے”
شاہنواز نے بے حد آہستگی سے وجیہہ کو بولا تھا شاہنواز کوئی یوں ہر ایرے غیرے کو فری کرنا اچھا نہیں لگتا تھا
“وہ بھی فیملی کی طرح ہے ڈیڈ۔۔۔ عباس آو یار پرسوں سے تو ملاقات ہی نہیں ہوئی تم سے”
آزھاد نے بھی بے حد آہستگی سے شاہنواز کو کہتے ہوئے باآواز عباس کو بلایا جو شاید نوین اور حنین کو دیکھ کر جھجھک رہا تھا
“نہیں بس میں کومل کے بارے میں پوچھنے آیا تھا، شام میں چکر لگاؤں گا”
عباس آزھاد کو جواب دیتا ہوا بولا
“اچھا ہمارے گھر کے نئے افراد سے تو ملتے جاؤ۔۔۔ یہ ہیں مسسز شاہ نواز ڈیڈ کی دوسری وائف۔ ۔۔ اور یہ ہیں مسسز آزھاد یعنی میری وائف”
آزھاد نے نوین اور حنین کا عباس سے تعارف کروایا مگر وہ خاموش بیٹھی ہوئی وجیہہ کو دیکھنے لگا۔۔۔ جو پھیکے سے انداز میں اسے دیکھ کر اسمائل دے رہی تھی عباس مسکرا بھی نہیں سکا
“اوکے شام میں ملتے ہیں۔۔۔ ابھی چلتا ہوں”
عباس کو وہاں رکنا مناسب نہیں لگا ویسے بھی وہ شاہنواز کی موجودگی میں کم ہی آتا تھا کیوکہ اسے محسوس ہوتا تھا آزھاد کے ڈیڈ اسے پسند نہیں کرتے تھے یا پھر وہ ہر ایک سے فری نہیں ہوتے تھے
“کومی کم بےبی بھائی کے پاس آو” آزھاد کومل کو دیکھتا ہوا بلانے لگا ٹیبل پر سب کی توجہ کومل کے کمرے کی طرف گئی جو کمرے کے دروازے سے سر نکالے سب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ آزھاد کے بولانے پر جھٹ اس نے سر اندر کرکے دروازہ بند کرلیا شاید نوین اور حنین دونوں کے نئے چہرے دیکھ کر وہ چھپ گئی تھی۔۔۔ آزھاد اپنی کرسی سے اٹھ کر کومل کے روم میں چلا گیا
“کیا میں کومل سے جا کر مل سکتی ہو”
وجیہہ نے سر اٹھا کر دیکھا نوین اس سے مخاطب تھی۔۔ شاہنواز نے بھی چونک کر نوین کو دیکھا
“میرے دونوں بچے میرے برعکس تھوڑی ریزرو نیچر کے ہیں جلدی کسی سے گھلتے ملتے نہیں ٹائم لگتا ہے انہیں۔۔۔ تم کوشش کر کے دیکھ سکتی ہو”
وجیہہ نے نوین کو دیکھ کر جواب دیا جس پر نوین اسے دیکھ کر مسکرائی
“دونوں ہی پاگل بچے ہیں”
نوین دل ہی دل میں بولتی ہوئی کومل کے کمرے میں چلی گئی
****
کومی کو بھائی نے بلایا، بھائی کے پاس کیوں نہیں آئی کومی”
آزھاد اپنے سامنے بیڈ پر بیٹھی ہوئی کومل کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“صبح صبح کون آ گیا ہے بھائی کومی کسی کو نہیں جانتی”
کومل پنک کلر کے نائٹ ڈریس میں دو پونیاں باندھے حیرت کا اظہار کرتی ہوئی آزھاد کو بولنے لگی
“ہیلو کومل کیسی ہو پہچانا تم نے مجھے”
آزھاد اس سے پہلے کومل کو حنین کے بارے میں بتاتا، نوین کومل کے کمرے میں آتی ہوئی کومل کو مخاطب کر کے بولی آزھاد نے مڑ کر ناگوار نظروں سے نوین کو دیکھا
“نہیں آنٹی کومل نے آپ کو نہیں پہچانا” کومل نوین کو اپنی بات کا یقین دلانے لگی
“ارے آنٹی نہیں ہوں میں تمہاری نئی والی مما ہو”
نوین مسکراتی ہوئی فرینک انداز میں کومل کو بتانے لگی نوین کی بات سن کر آزھاد کے ماتھے پر شکن پڑی
“نئی مما وہ کیا ہوتی ہے مما تو ایک ہوتی ہے کومی کے پاس اس کی مما ہے۔۔۔ آپ آنٹی ہو مما نہیں”
کومل کے ذہن نے جیسے نوین کی بات کو ایکسیپٹ نہیں کیا وہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی
“کسی کسی کی دو مما بھی ہوتی ہیں ڈارلنگ، جب پہلی مما پرانی ہو جاتی ہیں تو ڈیڈ پھر دوسری مما لے آتے ہیں۔۔۔ آپ کی ڈیڈ بھی مجھے کل رات آپ کی نئی مما بنا کر اس گھر میں لے کر آئے ہیں۔۔۔ اب میں “ہمیشہ” اس گھر میں رہوں گی”
وہ کومل کو فرینک انداز میں سمجھانے لگی۔۔۔ اس نے لفظ ہمیشہ پر زور دے کر آزھاد کی طرف مسکرا کر دیکھا تھا۔۔۔ آزھاد خار بھری نظروں سے نوین دیکھتا ہوا اس کی بکواس سن رہا تھا
“اور وہ جو وائٹ کپڑوں میں بھائی کے پاس پری بیٹھی تھی وہ بھی کومی گھر پر رہے گی” کومل اب نوین سے یقیناً حنین کے بارے میں پوچھ رہی تھی اس سے پہلے نوین کچھ بولتی آزھاد بول اٹھا
“وہ پری نہیں ہے کومی۔۔۔ وہ ٹوائے ہے،، بھائی کا ٹوائے۔۔۔ بھائی اسے کل رات ہی اپنے ساتھ لے کر آیا ہے اب وہ ٹوائے ہمیشہ کومی کے بھائی کے پاس رہے گا۔۔۔ اس کے بیڈروم میں۔۔۔ تاکہ جب جب کومی کا بھائی بور ہو، وہ اس ٹوائے سے کھیل کر اپنا دل بہلائے اور خوب انجوائے کرے”
آزھاد سیریس ہوکر کومل کو بتانے لگا جس پر کومل بچوں کی طرح تالیاں بجاتی ہوئی ہنسی۔۔ آزھاد نے ایک نظر نوین کے چہرے پر چھائے غضبناک تاثرات پر ڈالی اور مسکراتا ہوا نفی میں سر ہلانے لگا
اب وہ آفس جانے کا ارادہ رکھتا تھا کومل کے کمرے سے نکلنے لگا اس کی نظر حنین پر پڑی۔۔۔ جو اسے بہت ملامت بھری نگاہ سے دیکھ رہی تھی اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر آزھاد کو اندازہ ہوگیا کہ وہ آزھاد کی باتیں سن چکی ہے
“کومل تمہارے متعلق پوچھ رہی تھی تو۔ ۔۔”
آزھاد نے اسے بتانا چاہا مگر وہ آزھاد کی بات مکمل ہوئے بغیر وہاں سے چلی گئی
“ہنی بات سنو میری”
آزھاد اسے پکارتا ہوا اس کے پیچھے اپنے بیڈ روم کے اندر داخل ہوا
“یار بات تو پوری سن لیا کرو تم کھبی میری”
آزھاد حنین کا ہاتھ پکڑ کر اس سے بولا
“تفریح کا سامان ہے میری زات تمہارے لیے،، مجھ سے کھیلنے کے لئے، دل بہلانے کے لئے اپنے کمرے میں لائے ہو تم مجھے۔۔۔ کیا ہو میں ٹوائے”
آزھاد کا ہاتھ جھٹک کر وہ روتی ہوئی آزھاد سے پوچھنے لگی
“نہیں جان ہو تم میری”
اس کے الفاظوں سے حنین کا دل دکھا تھا آزھاد نے بولتے ہوئے اسے سینے سے لگانا چاہا حنین نے اس کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے اسے پیچھے دھکیلا
“نہیں آزھاد تم ابھی سوچ نہیں بول رہے ہو،، سچ تم نے وہاں بولا اپنی بہن اور میری بہن کے سامنے”
حنین اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی آزھاد کو دیکھ کر کہنے لگی
“اپنی بہن کی باتیں نہیں سنی تم نے، کیا ال فعل میری مما کے بارے میں بول رہی تھی وہ، اس کا لہجہ انداز نہیں نظر آتا تمہیں”
آزھاد اب سنجیدگی سے حنین سے پوچھنے لگا
“تو تم کہاں کوئی موقع چھوڑتے ہو تم تو بھرپور انداز میں ان سے بدلہ لیتے ہو کھبی ادھار رکھا تم نے کسی بات کا”
حنین واش روم جانے لگی
“ادھار رکھنا مجھے بچپن سے نہیں آتا۔۔۔۔ جو بھی اسے بول کر آرہا ہو ویسا بدلہ لینے کے لیے بولا میں نے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تمہیں”
آزھاد نے بگڑتے ہوئے کہا
“لو بدلہ آپی سے اور ایسی ہی میری ذات کو نشانہ بنا بنا کے بدلے لو مگر جب میرا دل دکھے تو میرے پاس مت آنا آئندہ”
حنین بولتی ہوئی دوبارہ واش روم جانے کے لئے مڑی آزھاد نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کا رخ اپنی طرف کیا
“آئندہ ایسا نہیں ہوگا اب موڈ ٹھیک کرو اپنا، آفس کے لیے لیٹ ہو رہا ہوں میں”
آزھاد اپنے انداز میں نرمی لاتا ہوا بولا
“تمہیں کیا لگ رہا ہے تمہاری باتوں کا روگ لگا کر میں مزید رو گی پاگل سمجھا ہوا ہے۔۔۔ ارے خوشی خوشی جاو اپنے آفس۔۔۔ سب کے سامنے تو میں ناشتہ بھی ڈھنگ سے نہیں کر سکی نہ ہی کل رات کو کچھ کھایا یہاں کمرے میں بیٹھ کر پیٹ بھر کر ناشتہ کرو گی۔ ۔۔ اور پھر کوئی مووی دیکھو گی”
حنین اس کو گھورتی ہوئی دوبارہ واش روم جانے لگی۔۔ ایک بار دوبارہ آزھاد نے اس کا ہاتھ پکڑا
“اچھا بتاؤ بار بار واشروم کیوں جا رہی ہو”
اب آزھاد کی آنکھوں میں شرارت واضح تھی
“واشروم میں کیوں جایا جاتا ہے تمہیں نہیں معلوم”
حنین تپ کر آزھاد سے پوچھنے لگی
“بھرپور ناشتہ کرنے سے پہلے پیٹ میں ناشتے کی جگہ بنانے کے لیے رائٹ”
آزھاد نے چٹکی بجا کر شہادت کی انگلی سے اس کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ حنین غصے میں کوئی چیز ڈھونڈنے لگی جو وہ اس کے سر پر مار سکے مگر اسے پہلے ہی آزھاد کمرے سے باہر نکل گیا
_____________
“اول درجے کا کمینہ اور گھٹیا انسان ہے یہ شخص اور تم کیا بھیگی بلی بن کر اس کی باتیں مان رہی تھی۔۔۔ کیا ضرورت تھی اس ذلیل انسان کے پاس بیٹھ کر ناشتہ کرنے کی”
شاہنواز اور آزھاد کے آفس جانے کے بعد نوین آزھاد کے کمرے میں آکر حنین پر بگڑتی ہوئی بولی
“اس کی بات نہیں مانتی تو اور کیا کرتی کچھ بعید ہے اس سے۔۔۔ نہ جانے وہ سب کے سامنے کیا کر دے، آپ نے کل سے لے کر اب تک دیکھا نہیں کیا کر چکا ہے وہ”
حنین نوین کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی اس بات پر نوین نے بہت غور سے حنین کو دیکھا اور چلتی ہوئی حنین کے پاس آئی اور بیڈ پر اس کے سامنے پاس بیٹھی
“کل رات کچھ کیا اس نے تمہارے ساتھ”
نوین مشکوک نظروں سے اس کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی تو حنین ایک دم گڑبڑا گئی
“میرا مطلب ہے زبردستی نکاح کرنا، سب کے سامنے نکاح کا اعلان کرنا، اپنے پیرنٹس کے سامنے مجھے روم میں لے کر جانا۔۔۔ گھر میں لاکر اتنا ہنگامہ کرنا کیا یہ سب کم ہے”
حنین ایک ایک کر کے سارے منظر نوین کو یاد کروانے لگی
“وہ سب ٹھیک ہے مگر جو میں پوچھ رہی ہوں وہ بتاؤ اور صرف سچ سچ بتاؤ کیا کچھ کیا اس نے تمہارے ساتھ”
نوین دوبارہ اپنی بات دہراتی ہوئی انتہائی سنجیدگی سے بولی
“آپی آپ غلط سمجھ رہی ہیں، ایسا کچھ بھی نہیں کیا اس نے”
حنین کو آزھاد کا جنگلی پن والا مظاہرہ یاد آیا اور پھر جب وہ واقعی ڈیسنٹ طریقے سے۔۔۔ مگر حنین دونوں باتیں گول کرتی ہوئی ایل۔ای۔ڈی کی تاریک اسکرین کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔ نوین نے اس کا منہ پکڑ کر چہرے کا رخ دوبارہ اپنی طرف کیا
“ایسا کچھ ہونا بھی نہیں چاہیے ہنی،، یہ بات میری ذہن نشین کرلو کوئی ضرورت نہیں ہے اسے فری کرنے کی یا اپنے قریب آنے دینے کی۔۔۔ میں آج ہی کوئی تدبیر نکالو گی کم از کم تمہیں اس کے بیڈروم سے تو نکال سکو۔۔۔ اور بہت جلد اسے تمہاری لائف سے دور پھینک گی مگر تب تک تم نے اس سے خود کو بچائے رکھنا ہے اگر وہ زبردستی کرنے کی کوشش کرے تو چیخ چیخ کر یا پھر اس کے منہ پر تھپڑ مار کر اسے اس کی اوقات یاد دلا دینا”
نوین سیریس انداز میں اسے ایک ایک بات سمجھا رہی تھی، حنین اپنا سر جھکائے اس کی ساری باتیں سن رہی تھی اور سوچ رہی تھی وہ آزھاد کو اس کی اوقات کیسے یاد دلائے گی وہ جو دوسروں کو اوقات میں رکھتا تھا۔۔۔ اتنا بڑا دیو کی طرح، منٹ بھر نہیں لگاتا تھا وہ اس کو قابو کرکے بے بس کرنے میں مگر وہ یہ سب باتیں نوین کو بول کر اس کی مزید باتیں نہیں سن سکتی تھی
“اب یوں بےوقوفوں کی طرح سر جھکا مت بیٹھو میرے سامنے اور دھیان سے میری پوری بات سنو۔۔۔ آزھاد سمیت اس کے گھر والوں سے فرینگ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، نہ ہی مستقبل میں تمہیں اس گھر میں رہنا ہے،، نہ ہی کسی سے کوئی رشتے داری رکھنی ہے۔۔۔ اس لیے دئیے طریقے سے سب سے بات کرو اور یہاں اپنا وہ وقت گزارو۔۔۔ میں ایسا کرتی ہوں ڈرائیور کے ساتھ فلیٹ جاکر تمہارے کپڑے لے آتی ہوں۔۔۔ پھر شاہنواز کو اعتماد میں لے کر چند دنوں بعد تمہارا دوبارہ پنڈی کا ٹکٹ کرواتی ہو مگر یہ بات اب بھی کسی کو معلوم نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ ہنی جو میں تمہیں کہہ رہی ہوں وہ تمہیں سمجھ میں آرہا ہے”
حنین کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر نوین آخری بات ذرا سختی سے پوچھنے لگی
“اب ماموں کے پاس پنڈی جانے کا کیا جواز بنتا ہے آپ مجھے جس سے بچانا چاہتی تھی وہ تو مجھے اپنے نکاح میں لے چکا ہے۔۔۔ مامی کی نیچر کا معلوم نہیں ہے آپ کو، وہ دو دن کے بعد ساری مہمان نوازی بھلا کر ڈائریکٹ جانے کا پروگرام پوچھتی ہیں”
حنین بیچارگی سے نوین کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔ جس پر نوین نے دانت پیس کر اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی
“بیوقوف… اسی گھٹیا انسان سے بچانے کے لئے تو تمہیں پنڈی بھیج رہی ہوں اب تو وہ تمہارا شوہر بن گیا ہے اور بھی زیادہ بچ کر اور محتاط ہو کر رہنا ہوگا اس سے۔۔۔ سامنے ہی وہ کتنی بےہودگی سے ہر بات کر جاتا ہے مجھے تو حیرت ہورہی ہے جو تم کہہ رہی ہوں کہ کچھ نہیں کیا۔۔۔ ممانی کو جھیلنا اس آزھاد کو جھیلنے سے لاکھ درجے بہتر ہے۔۔ اب تو تمہیں پنڈی بھیج کر ہی میری ٹینشن ختم ہوگی”
نوین اس کو بولتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور حنین کو اب کی بار پنڈی جانے کا سن کر الجھن ہی ہونے لگی
****
شام کا ٹائم تھا وجیہہ لان میں بیٹھی سویٹر بُن رہی تھی۔۔۔ کومل تھوڑی دیر پہلے لان میں ہی فٹ بال کھیل رہی تھی،، اب لان میں فٹ بال تو موجود تھی مگر کومل نہ جانے کہا غائب تھی۔۔۔ سویٹر بنتے ہوئے وجیہہ کی گود سے اون جوکہ گولے کی شکل میں رکھی تھی اچانک نیچے گرا جسے اٹھانے کے لئے وہ وئیل چیئر سے جھکنے ہی لگی۔۔۔۔ تب نوین اس کے پاس آئی اور اون کا گولا اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا
“اگر آپ برا نہیں مانیں تو کیا میں آپ کے پاس بیٹھ سکتی ہوں”
نوین وجیہہ کو دیکھتے ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“تم اس گھر میں آگئی ہوں۔۔ اس گھر کے ایک فرد کی حیثیت سے، تمہارا جہاں دل چاہے تم بیٹھ سکتی ہو”
وجیہہ نے اس کے ہاتھ سے اون کا گولا لے کر اسے جواب دیا تو نوین اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی
“کل رات کو شاہنواز کو تمہارے پاس ہونا چاہیے تھا شاید تم اس کا انتظار کر رہی ہوں گی”
وجیہہ اپنے عمر سے کافی چھوٹی سوتن کو دیکھتی ہوئی اس سے کہنے لگی
“آپ غلط سمجھ رہی ہیں میں آپ سے کوئی شکوہ شکایت ہرگز کرنے نہیں آئی ہوں آپ کے پاس۔۔۔ رہی بات شاہنواز کی اگر وہ آپ کے پاس موجود تھے تو شاہنواز پر مجھ سے پہلے حق آپ ہی کا ہے کیوکہ آپ پہلی بیوی ہیں ان کی، پہلے ان کی زندگی میں آئی ہیں۔۔۔ وجیہہ پلیز اگر آپکے دل میں کوئی بدگمانی ہے تو اسے نکال دیں کہ میں شاہنواز کو یہاں آپ سے چھیننے کے لئے آئی ہوں میں بھی ایک عورت ہو آپ کے لیے کبھی برا نہیں چاہو گی۔۔۔ شاہنواز نے مجھے آپ کی نیچر کے بارے میں بتایا کیا آپ بہت کائنڈ ہارڈ اور صاف دل کی مالک ہیں۔۔۔ وجیہہ میں آپ سے کسی ٹپیکل سوتن جیسا رشتہ نہیں رکھنا چاہتی اگر ہم دو بہنوں کی طرح نہیں مگر اچھی دوست بن کر تو رہ سکتے ہیں”
نوین وجیہہ کو دیکھ کر بول رہی تھی اور وجیہہ بہت غور سے اس کی بات سنی رہی
“کل رات گھر میں جو بھی کچھ ہوا وہ میرے لیے کافی تکلیف کا باعث تھا میں بہت ٹھنڈا مزاج رکھتی ہو نوین اور گھر میں بھی امن رکھنا پسند کرتی ہوں۔۔۔ یہ چیخ و پکار شورشرابا مجھے خاص پسند نہیں۔۔۔ مجھے معلوم ہے کل جو بھی کچھ ہوا اس میں قصور آزھاد کا نکلتا ہے۔۔۔ اس کے انتہائی قدم سے ہی شاہنواز کو غصہ آیا مگر اب جو بھی ہو چکا ہے ہم سب کو ایکسیپٹ کرلینا چاہیے۔۔۔ میں آزھاد کو بھی سمجھاؤ گی اور پلیز تم بھی کوشش کرنا کہ گھر کی فضا میں امن قائم رہے”
نوین نے وجیہہ کی باتوں سے اندازہ لگایا وہ بہت آسان اور سیدھی عورت ہے اس کی بات سن کر نوین مسکرائی
“میں آپ کی بات سے اتفاق کرتی ہوں جی آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں ہم دونوں کو ہی کوشش کرنی چاہیے کہ گھر کے ماحول میں امن قائم رہے۔۔۔ بس ایک چھوٹی سی گزارش ہے آپ سے بلکہ آپ اسے میری درخواست سمجھ لیں دیکھیے وجیہہ آزھاد نے حنین سے زبردستی نکاح کیا ہے، حنین بالکل ایگری نہیں تھی خوش ہونا تو بہت دور کی بات ہے۔۔۔ وہ آزھاد کے ساتھ اپنی پوری لائف نہیں گزار سکتی،، بچپن سے ہی بہت سینسیٹو ہے۔۔۔۔ وجیہہ ہنی میری بہن نہیں میری بیٹی کی طرح ہے میں بارہ سال کی تھی جب ہماری امی کا انتقال ہوا یوں سمجھ لیں کہ میں نے اسے پالا ہے۔۔۔ آپ بھی ایک بیٹی کی ماں ہیں اور میری فیلنگز بہت آسانی سے سمجھ سکتی ہیں۔۔۔ وہ کل رات کو آزھاد کے رویہ سے کافی ڈسٹرب ہے، دیکھیں ناں اسکی ذرا سی سختی برداشت نہیں کر پائی اور بے ہوش ہوگئی۔۔۔ وہ ابھی بھی کافی ڈری سہمی ہوئی ہے۔۔ آپ پلیز آزھاد سے کہے وہ حنین کو اس رشتے سے آزاد کر دے مجھے معلوم ہے آزھاد آپ کی بات کبھی بھی نہیں ٹالے گا”
نوین بہت پریشان ہوکر کہ بہت منت کرکے وجیہہ سے بول رہی تھی اور وجیہہ حیرت زدہ ہوکر اسے دیکھ رہی تھی.
جاری ہے
