Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18
رات میں سونے سے پہلے وہ حنین کے کمرے میں جا کر اچھی طرح اطمینان کر کے،، اس کو کمرے کا دروازہ لاک کرنے کا کہہ کر اپنے روم میں آئی تھی۔۔۔
آج شاہنواز وجیہہ کے روم میں موجود تھا نوین بیڈ پر لیٹی ہوئی کافی دیر تک دیوار پر نصب ایل ای ڈی میں کوئی ٹاک شو دیکھنے میں مصروف تھی کافی دیر اسکرین پر نظریں ٹکائے اب اس کی آنکھیں دکھنے لگی تھی تو وہ سونے کے لئے لیٹ گئی
رات کا نہ جانے کون سا پہر کا تھا جب اسے اپنے کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا مگر نیند کا غلبہ اتنا شدید تھا کہ آنکھیں نہیں کھل پارہی تھی دروازہ تو وہ اپنے ہاتھ سے لاک کر کے سوئی تھی اس لئے اپنے دماغ کو نیند میں ہی مطمئن کرنے لگی اور پاؤں سے لے کر سر تک اڑھے گئے کمفرٹر میں لیٹی رہی چند سیکنڈ گزرے تو دروازہ بند کرنے کی آواز پر وہ چونکی اسے لگا جیسے کوئی کمرے سے باہر نکلا ہو۔۔۔
اسے اپنے کمفرٹر میں بھی کسی کی موجودگی کا احساس ہونے لگا عجیب سی گھد بھد کو وہم سمجھ کے ہرگز نہیں جھٹک سکتی تھی ٹرٹر کی آواز کے ساتھ جیسے کمفرٹر میں کوئی چیز اچھل رہی ہو نوین کی آنکھ کھل گئی اور ذہن مکمل طور پر بیدار ہوچکا تھا
وہ کوئی ایک چیز نہیں تھی دو سے بھی زائد تعداد میں تھی اپنے بالوں میں عجیب سی سنسناہٹ کا احساس ہوا مکمل اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ صرف اپنے بالوں میں ہاتھ لگا کر چیک کر سکتی تھی کہ وہ کیا چیز ہے مگر اتنے میں اچھل کر کوئی چیز اس کے پیٹ پر آ بیٹھی
“آآآآآ”
دلخراش چیخیں مارنے کے ساتھ نوین نے کمفرٹر اتار کر دور پھینکا اور اب وہ زور زور سے چیختی ہوئی فرش پر ننگے پاؤں اچھل رہی تھی اور خوف کے مارے اپنے بالوں کو تو کبھی اپنے کپڑے جھاڑ رہی تھی
“نوین۔۔۔۔ نوین کیا ہوا”
اس کے روم سے آتی چیخوں کی آواز سے پورا گھر ہی بےددار ہو چکا تھا
شاہنواز بھاگتا ہوا اس کے روم میں آیا اور کمرے کی لائٹ کھولی اب وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے شاہنواز کو دیکھ کر اس کے گلے سے لگ گئی وہ باقاعدہ زور زور سے رونے لگی
“آپی۔۔۔ آپی کیا ہوگیا ہے آپ کو، بتائے نا پلیز”
آگے پیچھے حنین آزھاد اور سب سے آخر میں وئیل چیئر پر وجیہہ نوین کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔ نوین کو روتا ہوا دیکھ کر حنین کو بھی رونا آنے لگا
“نوین کچھ بتاؤں گی یا پھر یوں ہی کھڑی روتی رہو گی” شاہنواز اسے الگ کرتا ہوا جھنجلا کر پوچھنے لگا
“شاہنواز وہ میرے روم میں یہاں بیڈ پر مینڈک تھے”
نوین اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی
“کیا مینڈک۔۔۔۔ کہاں سے آگئے روم میں مینڈک۔۔۔ تم نے ضرور کوئی خواب دیکھا ہوگا”
شاہنواز اسے دیکھتا ہوا سمجھانے لگا کیوکہ ابھی بھی اس کے چہرے پر خوف کی کیفیت طاری تھی
“ڈرامے”
آزھاد ہنستا ہوا بڑبڑا کر واپس اپنے روم میں جانے لگا
“یہ۔۔۔ شاہنواز یہ آیا تھا میرے روم میں اور اس نے میرے کمفرٹر کے اندر ڈالیں ہیں مینڈک۔۔۔ وہ بھی کوئی چار سے پانچ”
نوین آزھاد کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرکے شاہنواز کو بتانے لگی
“او ہیلو،، طبیعت سیٹ ہے تمہاری،، اگر مجھے کچھ ڈالنا ہوتا تمہارے اوپر تو مینڈک کی بجائے سانپ کا اپشن زیادہ بیسٹ تھا اور چار پانچ ہرگز نہیں۔۔۔ اتنا زہر تو تم میں پہلے سے موجود ہے بیس سے پچیس سانپ چھوڑتا میں تمہارے اوپر۔۔۔ اپنی حد میں رہو اور الزام تراشی سے گریز کرو”
آزھاد سنجیدگی سے جھڑکتا ہوا بولا
“وہ دیکھیں شاہبواز ڈیوائڈر کے نیچے مینڈک۔۔۔ میں سچ بول رہی ہوں”
ایک بڑے سائز کا مینڈک کودتا ہوا ڈیوائیڈر کے نیچے سے برآمد ہوا اور جمپ لگاتا ہوا ڈری سہمی حنین کی طرف آنے لگا
“آآآآ”
آپ کی بار چیخنے کی باری حنین کی تھی وہ گلا پھاڑ کر چیختی ہوئی آزھاد کے گلے سے جا لگی
“مجھے اس مینڈک سے بچالو پلیز”
حنین باقاعدہ آزھاد کا کولر پکڑ کر اپنی ایڑیاں اوپر آٹھاتی ہوئی اونچا ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ جیسے آزھاد اس کے ڈر کو خاطر میں لاتے ہوئے ابھی اسے گود میں اٹھا کر مینڈک سے بچالے گا
آزھاد نے ایک نظر وجیہہ کو دیکھا جو جھینپ مٹانے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی پھر اس نے حیرت زدہ شکل اپنے باپ کی دیکھی جو اسکے سینے میں چھپی حنین کو حیرت سے دیکھ رہا تھا اور پھر نوین پر اس کی نظر گئی جو غصے میں اپنی بہن کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی
“دماغ خراب تو نہیں ہوگیا ہے تمہارا پیچھے ہٹو بیوقوف لڑکی روم سے باہر نکل گیا وہ”
آزھاد نے اپنے گلے سے حنین کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے اسے جھڑک کر کہا۔۔۔ آزھاد کو غصہ بھی آیا کل تو اس کے ساتھ اس کے کمرے میں تو رہنے سے انکار کردیا اور اس وقت اس کے ماں باپ کے سامنے چپکے ہی جاری تھی
“اس مینڈک کا اچھا خاصا بڑا سائز تھا ناں اسلیئے ڈر گئی”
اب حنین نوین کا غصہ والا چہرہ دیکھ کر آزھاد اور اسے اپنے ڈرنے کی وضاحت دینے لگی
“تمہارے سائز سے تو چھوٹا ہے نا۔۔۔۔ میں بتا رہا ہو یہ دونوں بہنیں پاگل ہے۔۔۔ آدھی رات کو اپنے پاگل پن سے پورے گھر کو جگا کے رکھ دیا ہے”
آزھاد غصے میں کہتا ہوا ان دونوں کو گھورنے لگا
“اپنا غصہ دکھا کر اصل بات کو مت دباؤ بلکہ مجھے یہ بتاؤ کہ یہ مینڈک کہاں سے لائے ہو اور کیا مقصد تھا اس فضول سی حرکت کا”
شاہنواز آزھاد کو دیکھتا ہوا بولا وہ اپنے بیٹے کی ساری کارستانی خوب جانتا تھا آخر کو وہ اس کا باپ تھا
“ڈیڈ یہ میری حرکت نہیں ہے اس نے خود ڈرامہ کیا ہے آپ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے”
آزھاد صاف مُکر کر الٹا نوین پر الزام لگانے لگا اور نوین اس کے جھوٹ پر کھول کر رہ گئی
“شاہنواز میں نے کل لان میں کیڑوں کی دوا ڈلوائی تھی صابرہ سے کہہ کر۔۔۔۔ یہ مینڈک وہی سے آگئے ہوں گے”
وجیہہ شاہنواز کا غصے والا چہرہ دیکھ کر اسے بتانے لگی
“آپ شروع سے ہی ایسا کرتی آئی ہیں وجیہہ، اس کی ہر حرکتوں پر پردہ ڈال کر اس کو انتہا درجے کا بدتمیز بنا دیا ہے آپ نے”
شاہنواز اب وجیہہ کے اوپر بگڑتا ہوا بولا
“جاؤ تم حنین کے روم میں سو جاؤ آج”
اب شاہنواز نوین کو دیکھ کر بولا
“نہیں شاہنواز تم یہی نوین کے پاس رک جاؤ، وہ اس وقت ڈری ہوئی ہے میں بالکل ٹھیک ہوں”
وجیہہ کے بولنے پر آزھاد نے گھور کر وجیہہ کو دیکھا
“گھورنے کی ضرورت نہیں ہے، فوراً میرے کمرے میں آؤ”
وجیہہ آزھاد کو بولتی ہوئی وئیل چیئر چلا کر اپنے روم میں چلی گئی
“حنین جاؤ آپ بھی جا کر سو جاؤ اپنے روم میں”
شاہنواز حنین کو دیکھتا ہوا بولا اور آزھاد وجیہہ کے کمرے میں جانے لگا جبکہ نوین اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بیڈ پر بیٹھ گئی
“وہ میں پوچھ رہی تھی مینڈک میرے روم میں تو نہیں آئے گے نہ”
حنین بے چارگی سے شاہنواز کو دیکھ کر پوچھنے لگی جس پر اسے ہنسی آگئی۔۔۔ آزھاد نے بھی مڑ کر ایک نظر حنین کو دیکھا اور کمرے سے نکل گیا
“ایسا کچھ نہیں ہوگا آرام سے جا کر سو جاؤ”
شاہنواز حنین کو دیکھتا ہوا بولا حنین کمرے سے باہر نکل گئی شاہنواز نے کمرے کا دروازہ بند کیا
مگر وہاں حنین کے کمرے کے پاس آزھاد کھڑا ہوا تھا حنین کو دیکھ کر وہ چلتا ہوا حنین کے پاس آیا
“ہمارے گھر کے لان میں صرف مینڈک ہی نہیں ہیں بلکے بڑے بڑے (centipede) بھی موجود ہیں”
آزھاد سنجیدگی سے مگر ڈرانے والے انداز میں حنین کو دیکھ کر بولا
“(Centipede)”
حنین خوف سے تھوک نگلتے ہوئے پوچھنے لگی
“ہاں (centipede) جو کہ بالکل میری طرح جسم سے چپک جاتے ہیں ایسے”
آزھاد نے اچانک اسے پکڑ کر زور سے اپنے بازوؤں میں جکڑتے ہوئے کہا۔۔۔ حنین اس سے اپنا آپ چھڑا کر ایسے دور ہوئی جیسے کہ وہ خود کوئی (centipede) ہو وہ اب خوفزدہ نگاہوں سے آزھاد کو دیکھنے لگی
“تم مجھے ڈرا رہے ہو”
حنین ڈرنے کے ساتھ غصہ کرتی ہوئی بولی
“ڈرا نہیں رہا بالکل سچ کہہ رہا ہوں میں تو صرف ایک پپی لے کر دور ہو جاتا ہوں ایسے”
آزھاد نے حنین کا منہ زور سے پکڑ کر گال پر زوردار کِس لینے کے بعد جھٹکے سے اسے چھوڑا۔۔۔ وہ سامنے دیوار سے جا لگی اور خوف سے آنکھیں کھولے آزھاد کو دیکھنے لگی۔۔۔ آزھاد اس کے قریب آیا دیوار کے دونوں سائڈ پر اپنے ہاتھ رکھ کر حنین کے فرار ہونے کا راستہ بند کیا
“مگر (centipede) وہ ہرگز پیچھے نہیں ہٹتے جب تک وہ انسان کو بائٹ نہ کریں ایسے”
آزھاد حنین کے چہرے پر جھک کر اس کے دوسرے گال پر بائٹ کیا
“آزھاد”
حنین اسے پیچھے ہٹا کر اپنا گال سہلاتی ابھی بھی خوفزہ ہوکر آزھاد کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ آزھاد نے اسے خود سے قریب کرکے دوبارہ اپنے حصار میں لیا اور اپنا چہرہ حنین کے قریب کیا
“یقین مانو (centipede) بہت خطرناک ہوتے ہیں جب تک وہ اپنی ساری ٹانگیں جسم میں گاڑھ کر انسان کے جسم میں اپنا زہر نہ بھردیں وہ بالکل پیچھے نہیں ہٹتے مگر میں تمہارے لئے ان سے بھی زیادہ خطرناک ہو،، اس لیے آج اپنے کمرے کا دروازہ اچھی طرح لاک کر کے سونا اگر میں رات میں تمہارے کمرے میں آکر تم سے چپک گیا ناں تو یقین جانو،،، عزت تو جائے گی ہی جائے گی۔۔۔۔ مگر تمہاری جان پر بن آئے گی۔۔ پناہ مانگو گی مجھ سے تب بھی نہیں بخشو گا”
آزھاد مدھم آواز میں سرگوشی کرتا ہوا بولا وہ حنین کی نارمل اسپیڈ سے تیز ہوتی ہارٹ بیٹ بااسانی محسوس کر سکتا تھا
“آزھاد پلیز چھوڑو نا مجھے”
حنین نے ڈرتے ہوئے اس کی باہوں کا حصار توڑنا چاہا
“جب میں نے کل تم سے کہا تھا کمرے میں چلو تو کیوں نہیں مانی میری بات جواب دو”
وہ حنین کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسائے اس کا چہرہ اونچا کرکے پوچھنے لگا۔۔۔ انداز میں سنجیدگی کے ساتھ غصہ بھی شامل تھا
“مار ڈالو،، تم اور آپی دونوں مل کر مجھے مار ڈالو”
حنین کو اس کی شدت اور اب غصہ دیکھ کر رونا آنے لگا
“ماروں گا نہیں تمہاری نس نس میں اپنا پیار اتارو گا۔۔۔ لیکن تمہاری آپی کا علاج کرنے کے بعد”
آزھاد اپنی سانسوں کے ذریعے حنین کے سانسوں میں اپنا پیار، اسکے اندر اتارنے لگا
اس نے ابھی بھی حنین کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسائی ہوئی تھی جبکہ دوسرہ بازو اس کی کمر کے گرد مضبوطی سے باندھا ہوا تھا حنین نے اسکی شڑٹ مضبوطی سے پکڑی ہوئی تھی مگر اب اس کا ضبط جواب دے چکا تھا آزھاد کا انداز دیکھ کر اس کی آنکھوں سے پانی آنے لگا جب اپنے ہی ہونٹوں سے رستے خون کا ذائقہ منہ میں گُھلتا محسوس ہونے لگا تب آزھاد نے اسکے ہونٹو کی جان بخشی۔۔۔
ً”مجھ سے دوری برتنے کی یہ چھوٹی سی سزا تو بنتی ہے۔۔۔ اب جب تک تم مجھے خود اپنے بیڈروم میں نہیں بلاو گی میں دیکھو گا تک نہیں تمہاری طرف”
اپنے ہونٹوں سے خون صاف کرنے کے بعد وہ حنین سے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
****
“کیو کی یہ حرکت تم نے نوین کے ساتھ”
آزھاد وجیہہ کے روم میں آیا تو وجیہہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی اس کا انتظار کر رہی تھی اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
“آپ کو بھی یہی لگتا ہے کہ یہ حرکت میں نے کی ہے”
آزھاد سنجیدگی سے وجیہہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“مجھے پورا یقین ہے آزھاد ایسا تم ہی نے کیا ہے”
وجیہہ اسے گھورتی ہوئی بولی
جس پر وہ سنجیدہ تاثرات کے ساتھ وجیہہ کے پاس بیڈ پر آیا اور اس کے برابر میں لیٹ گیا اب وہ چہرے پر مسکراہٹ لائے اسے دیکھ رہا تھا اس کی مسکراہٹ صاف اس کے کارنامے کی نشاندہی کر رہی تھی۔۔۔ وجیہہ نے اس کی کال پر چپت رسید کی
“شرم کرو آزھاد کسی لڑکی کے ساتھ ایسا مذاق نہیں کرتے ہیں بہت بری بات ہوتی ہے”
وجیہہ اب اسے دیکھتی ہوئی سمجھانے لگے
“میرا اس کے ساتھ مذاق پہلے دن سے ہی نہیں ہے یہ تو یوں سمجھ لیں میں نے ایک چھوٹا موٹا بدلہ لیا ہے”
آزھاد نے مزے سے کہتے ہوئے وجیہہ کا ہاتھ اپنے سر پر رکھا
“کیسا بدلہ”
وجیہہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہوئی پوچھنے لگی
“آپ کو آپ کے بیڈروم میں تنہا کر کے مجھے میرے بیڈ روم نے تنہا کر کے وہ خود اپنے بیڈروم میں مزے سے سو رہی تھی چڑیل”
آزھاد ماتھے پر شکن لائے وجیہہ کو دیکھتا ہوا کہنے لگا
“بری بات آزھاد ایسے کسی کو نہیں کہتے۔۔۔ ویسے مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے یہ بدلہ نہیں غصہ ہے اور یہ کارروائی صرف اپنی تنہائی کا غصہ نکالنے کے لیے لی گئی ہے”
وجیہہ مشکوک نظروں سے آزھاد کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“کیا ہوگیا ہے مما آپکو”
وہ اپنی چوری پکڑے جانے پر الٹا وجیہہ کو گھورنے لگا۔۔۔کل سے نوین کو چہکتا ہوا دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا حنین کو اس کے کمرے سے نکالنے میں اسی کا ہاتھ ہے
“مجھے کل تک محسوس ہورہا تھا یہ نکاح صرف انتقام لینے کے لیے کیا گیا ہے مگر میں ایسا غلط سوچ رہی تھی یعنی تمہیں اچھی لگتی ہے نوین کی بہن”
وجیہہ آزھاد کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“ایسی تو کوئی بات نہیں ہے”
آزھاد وجیہہ سے نظریں چراتا ہوا بولا
“ایسی بات نہیں ہے مگر کہتے تو اسے بڑے پیار سے ہو “ہنی”
اب کی بار وجیہہ کے بولنے پر آزھاد مسکرایا
“مجھے شروع میں معلوم نہیں تو وہ نوین کی بہن ہے” آزھاد وجیہہ کو دیکھتا ہوا آپ سنجیدگی سے اسے بتانے لگا۔۔۔ جس پر وجیہہ نے ہلکا مسکرا کر اپنا سر جھٹکا
“آپ کو کیسی لگی ہنی میرا مطلب ہے دیکھنے میں نیچر وائز”
آزھاد وجیہہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“نیچر کا دو دن میں معلوم نہیں ہوسکتا دیکھنے میں کافی خوبصورت ہے بس ہائٹ تھوڑی سی چھوٹی ہے”
وجیہہ نے آخری بات شرارت میں بولی تھی جس پر آزھاد ہنسا۔۔۔
“چھوڑیں اب ہائٹ کا کیا کرنا ہے کونسا ہمیں اس سے اپنے گھر کے پنکھے صاف کروانے ہیں”
آزھاد کی بات سن کر وجیہہ ہنس دی۔۔۔ آزھاد کی پسندیدگی کے بارے میں جاننے کے بعد وجیہہ نوین کی کل کی باتوں پر کنفیوز ہونے لگی
“حنین بھی تمہیں پسند کرتی ہے”
وجیہہ نے آزھاد کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“مجھے نہیں معلوم اس کی فیلینگز میرے بارے میں کیا ہیں”
وہ واقعی نہیں جانتا تھا کہ حنین کے دل میں اس کے لیے فیلنگز موجود بھی ہیں یا پھر وہ ہی حنین کو پاگلوں کی طرح چاہنے لگا ہے
“اگر تم حنین کو پسند بھی کرتے ہو تو تم نے اسے اپنی زندگی میں زبردستی شامل کیا ہے۔۔۔ یہ کوئی اچھا طریقہ تو نہیں ہے نا۔۔۔ غلطی تم نے کی ہے اب تھوڑا سا ٹائم بھی دو اسے۔۔ جب تک اس کا دل صاف نہیں ہو جائے تب تک”
وجیہہ کی بات سن کر آزھاد نے خاموش نگاہ وجیہہ پر ڈالی
“ایک اور بات بھی میری بالکل سیریس ہوکر سنو آذھاد۔۔۔ آج جو تم نے کیا وہ کوئی اچھی بات نہیں ہے بیٹا۔۔۔ بے شک تمہیں نوین اچھی نہیں لگتی مگر تمہیں اس کی کنڈیشن دیکھنی چاہیے۔۔۔ میں نہیں چاہوں گی آئندہ کوئی ایسی بات ہو جس سے شاہنواز کا دل تم سے خراب ہو آئندہ تم کوئی بھی الٹی سیدھی حرکت نہیں کروگے”
وجیہہ بہت طریقے سے اسے سمجھانے لگی
“اوکے اب مجھے سونے دیں اور آپ بھی لیٹ جائیں” آزھاد اس کی ساری نصیحتیں سنتا ہوا بولا
“شرافت سے جا کر اپنے بیڈ روم میں لیٹو مجھے رات بھر تمہاری لاتے اور مُکے کھانے کا کوئی شوق نہیں ہے”
وجیہہ بیڈ پر لیٹتی ہوئی بولی آزھاد اسے گھورتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا
________
دس دن گزر گئے تھے حنین کو اس کے بیڈ روم سے رخصت ہوئے، اس دن کے بعد سے آزھاد نے حنین سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی وہ اس کی طرف دیکھتا تھا اور یہ بات حنین کو شدت سے محسوس ہورہی تھی
وجیہہ آگر حنین سے کوئی بھی بات کرتی یا پھر حنین وجیہہ کے ساتھ گفتگو میں حصہ لیتی تو نوین اسے فوراً کسی نہ کسی بہانے سے کام کا کہہ کر کمرے سے رخصت کر دیتی ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے حنین کا دل بہت اداس رہنے لگا۔۔۔ حنین کو معلوم تھا اس کی بہن کو آذھاد کے گھر والوں سے اس کا فرینک ہونا پسند نہیں تھا اس لئے کومل کو بھی بس وہ مسکرا کر دور سے دیکھتی مگر اس کے پاس جا کر کوئی بات نہیں کرتی
دوسری طرف نوین دس دن سے مسلسل آزھاد کی حرکتیں اور بےہودگیاں خاموشی سے بغیر کسی کو کچھ کہہ برداشت کر رہی تھی۔۔۔ اکثر شام کے وقت نوین کے باتھ لینے کے ٹائم پر یا تو گرم پانی کی لائن بند ہو جاتی۔۔۔ نلکوں میں صرف ٹھنڈا پانی آرہا ہوتا تھا یا پھر گرم پانی اور تین دن پہلے اتنے شدید گرم پانی سے اسکی کمر بھی جل چکی تھی۔۔۔
اکثر رات کے وقت جب شاہنواز وجیہہ کے بیڈروم میں ہوتا،، آدھی رات کو اسے اپنے کمرے میں کسی کے چلنے کی آواز آتی یا پھر کسی بچے کے یا بلی کے رونے کی۔۔۔۔ وہ ڈرپوک ہرگز نہیں تھی جانتی تھی یہ سب کچھ اسے ڈرانے کے لیے کیا جا رہا ہے اس لیے وہ صبح اٹھ کر کسی پر کچھ بھی ظاہر نہیں کرتی بالکل نارمل رہتی۔۔۔ کبھی روم میں سے اس کا موبائل غائب ہوتا ہے تو کبھی موبائل کا چارجر اور وہ دونوں چیزیں ہی بیڈ روم کے ڈسٹبن میں سے برآمد ہوتی
اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ سب زلالت آزھاد اپنے ٹف شیڈول کی وجہ سے کس وقت کرتا ہے یا پھر کس سے کرواتا ہے۔۔۔ وہ جوابی کارروائی بہت اچھے طریقے سے دینا جانتی تھی مگر خاموش صرف حنین کی وجہ سے تھی۔۔۔ وہ حنین کو یہاں سے رخصت کرنے کے بعد ہی آزھاد کو اچھی طرح مزہ چکھانے کا ارادہ رکھتی تھی
مگر اس دوران ہی اس نے وجیہہ سے کافی حد تک اچھی دوستی کرلی تھی ساتھ ہی کومل سے بھی کبھی کبھی بات چیت کر لیتی۔۔ یہاں تک کہ عباس سے بھی اس کی سرسری ہی سہی سلام دعا ہوگئی تھی
جیسے آزھاد اسے یا حنین کو مخاطب کیے بنا اپنے گھر والوں سے نارمل رویہ رکھے ہوئے تھا ویسے ہی نوین بھی سب کے ساتھ،، اس کو مخاطب کیے بنا دوسرے سب سے نارمل رویہ رکھی ہوئی تھی۔۔۔ اسے صرف سکون اس بات کا تھا کہ وہ حنین کو تنگ نہیں کرتا تھا
وہ شاہنواز کو اعتماد میں لے کر چند مہینوں کے لیے حنین کو پنڈی بھجوانے کا ارادہ رکھتی تھی
****
“یہ تمہارا کل کا ٹکٹ ہے ہنی اسے سنبھال کر رکھو۔۔۔ کل دس بجے کی تمہاری پنڈی کی فلائٹ ہے”
نوین حنین کے روم میں آتی ہوئی اسے ٹکٹ تھما کر بولی حنین نے ایک نظر ٹکٹ پر ڈالی اور بجھے دل کے ساتھ ٹکٹ لے کر سائیڈ ٹیبل پر رکھنے لگی
“ایسے کیسے یہاں پر رکھ رہی ہو، سنبھال کر رکھو اسے بلکہ چھپا کر رکھو۔۔۔ آزھاد کو بالکل بھنک نہیں پڑنی چاہیے اس بات کی”
نوین اس کے لاپرواہ انداز پر اسے ڈوپٹتے ہوئی بولی تو حنین نے ٹکٹ اٹھا کر وارڈروب میں رکھے اپنے بیگ میں رکھ دیا
“کون سا آزھاد میرے روم میں آتا ہے آپی یا پھر مجھ سے بات چیت کرتا ہے وہ تو میری طرف دیکھتا ہی نہیں اب۔۔۔ جو اسے بھنک پڑے گی” حنین کا یہ سب بولتے ہوئے خود ہی دل اداس ہونے لگا
“اس کا تمہارے روم میں نہ آنا، تمہاری طرف نہ دیکھنا اور بات چیت نہیں کرنا۔۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے مہینہ ڈیڑھ مہینہ پنڈی میں رہ لو۔۔۔ وہ تمہاری جانے کے بعد تمہیں ڈھونڈے گا غصہ کرے گا تھوڑی بہت اپنی نیچر کے مطابق اوقات بھی دکھائے گا مگر تمہارے نہ ملنے پر وہ تھک ہار کے بیٹھ جائے گا۔۔۔ اس کے بعد جب اسے تمہاری طرف سے خلع کا نوٹس ملے گا تو شدید ردعمل کے طور پر اس پر سائن بھی کردے شاید سدا کا جذباتی بھی تو ہے۔۔۔ اس کے بعد میں تمہیں لندن بھجوا دوں گی اپنی اسٹیڈیز تم وہی کنٹینیو کرنا”
نوین کی پلاننگ سن کر حنین کو شدت سے رونے کا دل چاہا تھا وہ خاموشی سے سب کچھ سنتی رہی
“اوہو اب یوں منہ لٹکا کر اداس مت ہو ہنی، میں مہینے بات ہی تمہارے پاس چکر لگاؤں گی میری جان، ڈنر کا ٹائم ہوگیا ہے چلو اب”
نوین حنین کو پیار سے گلے لگاتی ہوئی اس کے کمرے سے نکل گئی حنین بھی سست قدم اٹھاتی نوین کے پیچھے چل دی.
جاری ہے
