Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32
آزھاد واپس حنین کے پاس آیا۔۔۔ تو حنین کمفرٹر اوڑھے ابھی بھی بے خبر سو رہی تھی۔۔۔ حنین کا چہرہ دیکھ کر آزھاد کا موڈ خودبخود خوشگوار ہوگیا۔۔۔ وہ بیڈ پر گرنے والے انداز میں حنین کے اوپر جھکا۔۔۔ حنین جو اس کی شدتوں کو سہہ کر تھوڑی دیر پہلے سوئی تھی اچانک اپنے اوپر بھاری بھرکم وجود گرنے سے ہڑبڑا اٹھی۔۔ وہ پوری آنکھیں کھولے آزھاد کو دیکھ رہی تھی جو اس کو حیران پریشان سا دیکھ کر مسکرا رہا تھا
“ہنی میری جان تم نے تو مجھے ایک رات میں ہی بہت رومینٹک کردیا۔۔۔ کیوں ہو تم اتنی پیاری”
آزھاد بولتا ہوا حنین کے چہرے پر جھکنے لگا حنین نے اپنے دونوں ہاتھ کمفرٹر سے باہر نکال کر اسے پیچھے کیا
“پیچھے ہٹو،، تم رومینٹک نہیں ایک نمبر کے چھچھورے اور بے شرم انسان ہو۔۔۔ رات سے ڈرائے جارہے ہو سونے بھی نہیں دے رہے، دو گھنٹے پہلے ہی اٹھا دیا مجھے”
جاگنے کے بعد وہ ساری شرم بھلائے آزھاد کو آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی
“اِس بے شرم انسان سے جتنا ہوسکا اُس نے بےشرمی والا کام تمیز کے دائرے میں کیا۔۔۔ اب اس سے زیادہ مجھ سے شرافت کی توقع مت رکھنا”
آزھاد بولتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھکا۔۔۔ وہ شاید اس کے ہونٹوں کو بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا تبھی حنین نے اسے پیچھے دھکیلا
“پیچھے ہٹو آزھاد،، مجھے سخت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔۔ تم جب سے چپکے جارہے ہو ابھی دوبارہ تم نے کوئی بیہودہ حرکت کی تو میں دوسرے کمرے میں چلی جاؤں گی”
وہ اٹھ کر بیٹھا تو حنین بھی بیڈ پر بیٹھ گئی اور کمفرٹر کو اچھی طرح اپنے کندھوں پر ڈالا
“ڈارلنگ میں تھوڑی دیر بعد اپنے ہاتھوں سے تمہارے لیے ناشتہ بناؤں گا مگر اس سے پہلے تمہیں میری بھوک کا علاج کرنا ہوگا”
آزھاد پیار سے بہلاتا ہوا کہنے لگا
“تمہاری بھوک کا علاج کیا مطلب ہے تمہارا”
حنین اس کی بات سن کر گھبراتے ہوئے کمفرٹر کو مزید اپنی طرف کھینچ کر لپیٹا
“مطلب صاف ہے ون مور ٹائم”
آزھاد معنیٰ خیزی سے بولتا ہوا کمفرٹر کو کھینچنے لگا
“آزھاد نہیں پلیز بےشرمی سے باز آ جاؤ تم واقعی بہت چھچھورے ہو”
حنین ڈرتی ہوئی کمفرٹر کو اپنی طرف کھینچنے لگی
“چھچھور پن کی قسط نمبر 2 وہ بھی دل دہلانے والے انداز میں”
آزھاد ایک جھٹکے سے پورا کمفرٹر اس کے اوپر سے کھینچ کر دور پھینک چکا تھا۔۔۔ اور حنین کو لٹاتا ہوا اس پر جھکا۔۔۔ حنین کو پکا یقین ہو گیا کہ وہ اب اپنے آپ کو نہیں بچا سکتی
*****
اپنے دماغ کو ریلیکس کرتی ہوئی وہ بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔ اب اسے آزھاد سے پہلے اپنی بہن سے پوچھنا تھا کہ جو کچھ اس نے دیکھا یا جو کچھ وہ سمجھ رہی ہے اس بات میں کتنی سچائی ہے۔۔۔۔ تھوڑی دیر یونہی لیٹے رہنے کے بعد وہ شاور لے کر ڈریس چینج کرتی ہوئی اپنے روم سے باہر نکلی۔۔۔
“بریک فاسٹ کیوں نہیں بنا ابھی تک” جب وہ ڈائننگ ہال کے اندر آئی تو خالی ٹیبل کو دیکھ کر صابرہ سے پوچھنے لگی
“شاہنواز سر اور وجیہہ میڈم تھوڑا لیٹ ناشتہ کریں گے کومل میم ابھی سو کر نہیں اٹھی ہیں۔۔۔ اگر آپ بریک فاسٹ کرنا چاہتی ہیں تو میں آزھاد سر سے پرمیشن لے لیتی ہوں”
صابرہ نوین کو دیکھتی ہوئی بولنے لگی
“میرے بریک فاسٹ کرنے کے تم اس سے پرمیشن لو گی” نوین صابرہ کو آنکھیں دکھاتی ہوئی پوچھنے لگی
“نو میم میرا وہ مطلب ہرگز نہیں تھا دراصل آج آزھاد سر خود کچن میں موجود ہیں اور کچن کے اندر کسی کو بھی آنے کی پرمیشن نہیں ہے اس لیے میں نے بولا اگر آپ کو بریک فاسٹ کرنا ہے تو پھر میں ان سے پرمیشن لے کے آپ کا بریک فاسٹ تیار کر دیتی ہوں”
صابرہ تحمل سے نوین کو اپنی بات سمجھانے لگی
“کیا کر رہے ہیں تمہارے آزھاد سر کچن میں”
نوین سینے پر ہاتھ باندھ کر صابرہ سے پوچھنے لگی
“شاید آج وہ خود حنین میم کے لیے بریک فاسٹ اپنے ہاتھوں سے تیار کر رہے ہیں”
صابرہ نوین کے تیور دیکھ کر ہچکچاتی ہوئی اسے بتانے لگی
“ہنی کہاں پر ہے” نوین ضبط کرتی ہوئی اس سے دوسرا سوال کرنے لگی
“جی وہ بھی آزھاد سر کے ساتھ کچن میں ہی موجود ہیں ان کی ہیلپ کروا رہی ہیں”
صابرہ کی بات سن کر نوین نے کچن کا رخ کیا
****
کچن کے اندر سے آتی ہوئی حنین کی ہنسنے کی آوازوں پر نوین کے قدم کچن سے باہر ہی تھم گئے کچن میں کھلتی ہوئی کھڑکی جو کہ اس وقت بند تھی چٹخنی سے آہستہ سے کھولتی ہوئی نوین کھڑکی کی جھری سے اندر کا منظر دیکھنے لگی
آزھاد آپرن باندھے انڈا پھینٹتے ہوئے مصروف انداز میں آملیٹ کے تمام لوازمات انڈے میں ڈال رہا تھا جبکہ حنین اسی کے پاس کھڑی ہوئی تھی اس کے ہاتھ میں فروٹ ٹِن موجود تھا۔۔۔ جس میں سے وہ فارک مدد سے پائن ایپل کا ٹکڑا نکال کر اپنے منہ میں رکھ رہی تھی اور آزھاد جھک کر اس کے منہ سے آدھا ٹکڑا خود کھا رہا۔۔۔ نوین کے ماتھے پر ناگوار شکنیں ابھری
اب کی بار حنین نے ٹن میں سے فارک کی مدد سے چیری نکالی اور اس سے پہلے آزھاد وہ بھی حنین کے منہ سے لے کر کھاتا حنین چیری خود کھا چکی تھی اب حنین مسکراتی ہوئی آزھاد کو آنکھ مار کر دیکھ رہی تھی
آزھاد نے گھور کر اس کے ہاتھ سے ٹن لے کر شیلف پر رکھا اس سے پہلے حنین اس کے تیور دیکھ کر فرار ہونے کی کوشش کرتی وہ حنین کو گود میں اٹھا کر شیلف پر لٹا چکا تھا
حنین ہنستے ہوئے بار بار آزھاد کو سوری کر کے اسے پیچھے ہٹا رہی تھی مگر وہ پورا حنین کے اوپر جھک کر چیری کھانے کی ضد کر رہا تھا۔۔۔ نوین کو ان دونوں کی یہ بے ہودگی بالکل پسند نہیں آئی
خاص کر آزھاد کی آنکھوں سے چھلکتی ہوئی شرارت کی بجائے محبت دیکھ کر وہ جل اٹھی۔۔۔ اس انسان کو وہ خوش ہرگز نہیں دیکھ سکتی تھی نوین کا دل چاہا وہ اس انسان کے چہرے سے مسکراہٹ نوچ کر پھینک دے اس سے ہر خوشی چھین لے۔۔۔ اپنی جلن کے احساس میں اسے حنین کے چہرے پر چھائے حسین رنگ بھی نظر نہیں آئے وہ واپس اپنے بیڈروم میں چلی آئی
****
“تو تیار ہو گیا آخر کار بریک فاسٹ” سب لوگ ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے تب نوین شاہنواز کے پیغام پر ڈائننگ ہال میں آئی
“سب کا ہی آج لیٹ اٹھنا ہوا ہے۔۔۔ تم اگر جلدی اٹھ گئی تھی تو ناشتہ کر لیتی” شاہنواز نوین کو دیکھتا ہوا بولا
“میرا بھی لیٹ اٹھنا ہوا ہے شاہنواز مگر آدھے گھنٹے پہلے سرونٹس کو پرمیشن نہیں تھی کہ کچن میں آنے کی۔۔۔ اس لئے مجھے بھوکا رہنا پڑا”
نوین کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے شاہنواز کو کہنے لگی پھر اس نے ایک نظر حنین کو دیکھا۔۔۔ آزھاد تو لاتعلق بنا ناشتہ کر رہا تھا مگر اسے ہنسی ناجانے کس بات پر آرہی جبکہ حنین تھوڑا سا نوین کی بات کو محسوس کرکے اسے دیکھنے لگی
“آج دراصل یہ ہوا ہے کہ آزھاد نے حنین کے لیے جبکہ حنین نے وجیہہ کے لئے اور میری پرنسز نے میرے لئے ناشتہ بنایا ہے”
شاہنواز اپنے پاس بیٹھی کومل کے گلے میں ہاتھ ڈال کر مسکراتا ہوا نوین کو بتانے لگا۔۔۔ شاہنواز کی بات سن کر سب کے چہرے پر مسکراہٹ تھی صرف نوین طنزیہ مسکرائی
“آپی یہ چیز سینڈو میں نے بنائے ہیں ٹیسٹ کریں”
نوین کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر حنین اس کی طرف پلیٹ بڑھاتی ہوئی بولی نوین نے کاٹ دار نظر حنین پر ڈالی اور فروٹ باسکٹ میں سے سیب اٹھا کر کھانے لگی، سب ہی نے نوین کی یہ حرکت نوٹ کی تھی
“مما میری بیوی نے چیز سینڈوچ اسپیشلی آپ کے لئے بنائے ہیں۔۔۔۔ کم ازکم دوسرا سینڈوچ بھی تو لیں، تب ہی تو اسکو پاسنگ مارکس دے سکے گیں “
آزھاد حنین کے ہاتھ سے پلیٹ لیتا ہوا ایک اور سینڈوچ وجیہہ کی پلیٹ میں رکھنے لگا تو حنین ہلکا سا مسکرائی
“تم اگر مجھے سینڈ وچ نہیں دیتے تو میں خود لے لیتی یہ پاسنگ مارکس والا نہیں ہے میں اس پر حنین کو فل مارکس دیتی ہوں”
وجیہہ حنین کو دیکھ کر مسکرائی تو حنین کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئی
“وجیہہ آپ اتنی کنجوس کسی زمانے میں نہیں رہی ہیں ہماری بہو نے فرسٹ ٹائم اپنے ہاتھ سے آپ کے لئے کچھ بنایا ہے،، آپ اسے صرف خالی نمبرز دے کر ٹرخا رہی ہیں”
اب کی بار شاہنواز نے بھی گفتگو میں حصہ لیا اور حنین کو سالی کی جگہ بہو بولنے پر نوین نے اسے خار بھری نظر اس پر ڈالی
“شاہنواز میں اتنی کنجوس کسی زمانے میں نہیں رہی ہو چچی جان (شاہنواز کی امی) نے جو سیٹ مجھے منہ دکھائی میں دیا تھا میں ابھی وہ حنین کو دینے والی ہو”
وجیہہ مسکراتی ہوئی شاہنواز کو بتانے لگی جبکہ آزھاد جھک کر حنین کے کان میں مسکرا کر کچھ سرگوشی کر رہا تھا جس حنین بھی سر جھکا کر مسکرائی۔۔۔ کومل مسکرا کر اپنے بھائی اور بھابھی کو دیکھ رہی تھی جبکہ نوین کو اپنا وہاں پر بیٹھنا ہی بےمعنیٰ لگا
“ماں جی والا سارا زیور تو ہے ہی آزھاد کی بیوی کا۔۔۔ میرے خیال میں ہم دونوں کو اپنی طرف سے حنین کو کوئی گفٹ دینا چاہیے”
شاہنواز نے وجیہہ کو دیکھ کر بولا تو وجیہہ اس کی بات پر اتفاق کرنے لگی
“اور آزھاد کو کیا گفٹ ملے گا جو اتنی پیاری بہو آپ دونوں کے لیے لے کر آیا ہے”
اب کی بار شاہنواز اور وجیہہ کی باتوں میں حصہ لیتا ہوا آزھاد ان دونوں کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔ حنین مستقل اپنے ذکر پر مسکرائے جارہی تھی جبکہ نوین اب سب سے لاتعلق بنی ہوئی اپنا ناشتہ کر رہی تھی
“تمہیں تمہارا گفٹ آج سے تین دن بعد ملے گا ابھی شرافت سے آفس جانے کی تیاری پکڑو”
شاہنواز کی بات سن کر نوین کے علاوہ سب مسکرانے لگے۔۔۔ حنین کو دو دن پہلے ہی وجیہہ سے معلوم ہوا تھا کہ آزھاد کی برتھڈے آنے والی ہے اور اس دن شاہنواز بڑے پیمانے پر ایک پارٹی ارینج کرنے کا ارادہ رکھتا ہے
“حنین تم بزی تو نہیں ہو ابھی میری فرینڈ گھر پر آنے والی ہے انہیں بہت شوق ہے آزھاد کی وائف دیکھنے کا”
وجیہہ اب حنین کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“میں بالکل فری ہو آنٹی بلکہ تھوڑی دیر میں چینج بھی کر لیتی ہوں”
حنین وجیہہ کی بات کا جواب دیتی ہوئی اپنی پلیٹ سے آزھاد کا بنایا ہوا چیز املیٹ کا نوالہ کھانے لگی مگر آزھاد نے حنین کے ہاتھ پکڑ کر وہ نیولا خود کھا لیا
“اسے کہتے ہیں گھر میں جگہ بنانے کے بعد سب کے دلوں میں جگہ بنانا،، ڈیڈ یہ گڈز میری مما بھی موجود ہیں اور شکر ہے میری بیوی کے اندر بھی موجود ہیں ہر کسی میں ایسی کوالٹی نہیں پائی جاتی”
آزھاد شاہنواز کو کہنے کے بعد محبت لٹاتی ہوئی نظروں سے حنین کو دیکھ رہا تھا نوین اپنی چیئر کھسکا کر اٹھی اور کسی سے کچھ کہیں بغیر اپنے روم میں چلی گئی
“میں نے تو ایک نارمل بات کی ہے”
شاہنواز کے گھورنے پر آزھاد کندھے اچکا کر اس سے بولا
“تمہارا دوست مُکرم کیسا ہے آزھاد”
شاہنواز آزھاد کی بات کو نظرانداز کرتا ہوا مُکرم کے بارے میں اس سے پوچھنے لگا
“بہت اچھا، کیوں خیریت آپ کو کیسے یاد آگئی اس کی”
آزھاد چائے کا سپ لیتا ہوا شاہنواز سے پوچھنے لگا
“ہماری کومل کے لئے کیسا رہے گا وہ۔۔۔ مطلب میں چاہتا ہوں ان دونوں کے رشتے کی بات آگے بڑھے”
شاہنواز کی بات سن کر سب حیرت سے شاہنواز کی شکل دیکھنے لگے اور کومل جو اتنی دیر سے خاموشی سے اپنا ناشتہ کر رہی تھی شاہنواز کی بات سن کر اسے لگا وہ ابھی سب کھایا ہوا اگل دے گی۔۔۔۔ وہ آزھاد کا جواب سنے بغیر اپنی چیئر سے اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی
“اس کا خیال کیسے آگیا آپ کو،، کیا آپ کو مُکرم کی ہیبٹز نہیں معلوم”
آزھاد کو شاہنواز کی بات سن کر حیرت ہوئی تھی۔۔۔ شاہنواز مُکرم کی شراب پینے کی عادت سے باخبر تھا پھر بھلا وہ کومل کیلئے مُکرم کے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتا تھا
“فرینڈز میں آپس میں انڈرسٹینڈنگ ہی جبھی ہوتی ہے جب ان کی ہیبٹز سیم ہو۔۔۔ تمہاری بھی وہی ہیبٹ ہے جو اس کی ہے۔۔۔ اور یہ ہماری کلاس میں ایک نارمل بات ہے اس کے علاوہ بتاؤ وہ کومل کے ساتھ سویٹیبل ہے یا نہیں”
شاہنواز آزھاد کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“اس کے علاوہ تو وہ ایک اچھا انسان ہے”
آزھاد شاہنواز کو دیکھتا ہوا بولا مگر حنین حیرت سے آزھاد کو دیکھنے لگی
“ٹھیک ہے پھر اس کی فیملی کو کسی دن ڈنر پر بلا لیتے ہیں”
شاہنواز چیئر سے اٹھتا ہوا بولا
“شاہنواز اتنی جلدی کس بات کی ہے آخر، ابھی تو کومل ٹھیک ہوئی ہے”
وجیہہ حیرت سے شاہنواز کو دیکھتی ہوئی بولی
“جلدی کی کیا بات ہے وجیہہ چند ماہ بعد وہ 23 سال کی ہوجائے گی۔۔۔ اور ابھی تو صرف بات کر رہے ہیں ہم شادی وغیرہ کا تو ایک سال بعد ہی سوچیں گے”
شاہنواز وجیہہ کو بولتا ہوا نوین کے کمرے میں اس کے پاس گیا۔۔۔ اسے لگا جیسے نوین کا موڈ ٹھیک نہیں۔۔ آفس جانے سے پہلے وہ اس کو منانا چاہتا تھا
“اوکے مما میں بھی نکلتا ہوں شام میں ملاقات ہوگی”
آزھاد اٹھ کر وجیہہ سے ملتا ہوا حنین کو باہر جانے کا اشارہ کر کے خود کومل کے کمرے میں چلا گیا
****
“کیا سوچ رہی ہے میری پیاری سی بہن یہاں کھڑی ہوئی”
آزھاد کومل کے کمرے میں آیا تو اسے کھڑکی کے پاس کھڑا دیکھا وہ چلتا ہوا کومل کے قریب آیا اور اسے دیکھ کر پوچھنے لگا
“بھائی آپ نے ڈیڈ کو کیا جواب دیا”
کومل آزھاد کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“کیا تم ابھی تک اس اسید کے بارے میں سوچ رہی ہو”
آزھاد کومل کے چہرے پر اداسی دیکھتا ہوا اس سے سوال کرنے لگا
“کیا میں آپ کو اتنی بیوقوف لگتی ہو”
کومل الٹا آزھاد سے پوچھنے لگی تو آزھاد نے اس کا چہرہ تھاما
“تو پھر بالکل پریشان مت ہو۔۔۔ مُکرم اچھا لڑکا ہے،، انوسینٹ تو اس کو بالکل نہیں کہو گا۔۔۔ مگر دل کا برا نہیں ہے وہ تمہیں خوش رکھے گا”
آزھاد اس کے گال تھپتھپا کر کمرے سے چلا گیا
کومل آنکھوں میں نمی لئے آزھاد کو جاتا ہوا دیکھنے لگی وہ اس سے اپنے اداس ہونے کی وجہ بھی نہیں بیان کر پائی
****
تھوڑی دیر پہلے اسے معلوم ہوا تھا کہ وجیہہ کی دوستیں واپس چلی گئی تھی،۔۔ نوین کا خراب موڈ دیکھ کر شاہنواز نہیں آفس جانے سے پہلے اسے شام میں تیار رہنے کا بولا تھا وہ نوین کے ساتھ باہر ڈنر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔ نوین صابرہ سے حنین کو اپنے کمرے میں بلوایا تھا
وہ شاہنواز کے ساتھ ڈنر پر جانے سے پہلے اپنی چھوٹی بہن کی اچھی طرح خبر لینے کا ارادہ رکھتی تھی، جس نے اپنے پر نکال لئے تھے اور وہ خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی
“آپی آپ نے مجھے بلایا”
نوین وارڈروب سے اپنے لئے ڈریس نکال رہی تھی تاکہ اسے پریس کر کے شاہنواز کے آنے سے پہلے ریڈی ہو سکے تب حنین اس کے کمرے میں آئی
“کہاں آوارہ گردیاں کرتی پھر رہی ہو کل سے”
نوین اسٹیل کے موٹے اور بڑے سائز کے ہینگر سے اپنا ڈریس نکال کر بیڈ پر رکھتی ہوئی حنین کے پاس آ کر پوچھنے لگی
“آزھاد کے فرینڈ کی طرف پارٹی تھی۔۔۔ وہی آزھاد کے ساتھ گئی تھی”
حنین اس کا طنز بھرا لہجہ نظر انداز کرکے نرمی سے نوین کو بتانے لگی
“اور پارٹی سے واپس آکر تم نے آزھاد کو اپنے بیڈ روم میں سونے کی دعوت دی”
نوین ہینگر کو دیکھتی ہوئی حنین سے پوچھنے لگی
“آپ یہ کیسی لینگویج یوز کر رہی ہیں وہ شوہر ہے میرا”
حنین اس کے جملے پر شرمندہ ہوئی تھی نوین سے شکوہ کرتی ہوئی بولی
“تو دے دیا تم نے اسے شوہر ہونے کہا حق، نچھاور کر دیا اپنا آپ اس پر۔۔۔ میرے منع کرنے کے باوجود”
نوین حنین کو غصے میں دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“آپ بہت زیادہ زیادتی کررہی آپی میرے ساتھ، اگر میں آپ کو کچھ نہیں بولتی خاموش رہتی ہو تو اس کا یہ مطلب صرف یہ ہے کہ میں آپ کی عزت کرتی ہوں۔۔ مگر اب آپ میرے ساتھ ناجائز کچھ بھی نہیں کر سکتی،، ہاں دیا ہے اسے اس کا حق کیوکہ شوہر ہے وہ میرا، میں اس کو اسکے حق محروم رکھ کر آخر کیوں اسکی اور خدا کی ناراضگی اپنے سر لو”
حنین ناراض ہوتی نوین سے بولی تب نوین نے زوردار تپھڑ اس کے گال پر جڑ دیا
“آپی”
حنین گال پر ہاتھ رکھ کر صدمے سے اسے دیکھنے لگی
“جس بہن نے تمہیں پالا بڑا کیا اس بہن کی ناراضگی کی پروا نہیں ہے”
نوین نے بولتے ہوئے اسے زور زور سے ہینگر سے مارنا شروع کردیا
“اس سے مت مارے مجھے ایک ہی بار میرا گلا دبا کر مجھ سے اپنی پرورش کا حساب لے لیں”
حنین روتی ہوئی بولی تو نوین کے مارنے میں اور شدت آگئی
“زبان چلائے گی میرے آگے، میرے دشمن کو خوش کرے گی۔ ۔۔ کیو لگی ہے تجھ میں اتنی آگ جواب دے مجھے”
نوین کا غصہ پاگل پن کی حدوں کو چھونے لگا اور حنین روتی ہوئی دیوار سے لگی ہوئی تھی وہ اپنا چہرہ زخمی ہونے کے ڈر سے چھپائے ہوئی تھی اور نوین ہینگر سے پاگلوں کی طرح حنین کے بازووں اور کمر پر مارے جا رہی تھی
“دفع ہوجاو میرے کمرے سے اب دیکھنا کیا کرتی ہو میں اس کے ساتھ اور تم جیسی احسان فراموش بہن کے ساتھ بھی”
نوین جب اسکو مار مار کر تھک گئی تب حنین کو دروازے کی طرف دھکا دیتی ہوئی بولی
________
حنین روتی ہوئی اپنے بیڈ روم میں آئی اور بھاگتی ہوئی واش روم میں جاکر، واش روم کا دروازہ لاک کر کے واش بیسن کے آگے کھڑے ہو کر رونے لگی۔۔۔ نوین نے آج پر پہلی دفعہ ہاتھ نہیں اٹھایا تھا اس سے اگر کوئی بہت بڑی غلطی ہو جاتی تو وہ اکثر اسے سزا دیتی مگر آج اس نے جس بے دردی سے حنین کو ہینگر مارے تھے اس سے پہلے کبھی بھی اس نے حنین کے ساتھ ایسا وحشیانہ سلوک نہیں کیا تھا، نوین کا رویہ اور اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کو یاد کرکے حنین کو ایک بار پھر رونا آیا
“ہنی کہاں ہو یار”
مشکل سے چند منٹ ہی گزرے تھے تب اسے آزھاد کی آواز آئی۔۔۔ وہ آفس سے گھر آ چکا تھا اور حنین کو پکارتا ہوا کمرے میں آیا
“واش روم میں ہوں آزھاد رکو آتی ہوں” حنین اپنی آواز کو نارمل کرکے ٹیب کھولنے لگی
“کتنا واشروم جاتی ہوں یار، دو منٹ میں باہر نکلو ورنہ میں آرہا ہوں اندر”
حنین کو آزھاد کی آواز سنائی دی وہ منہ پر پانی کے چھینٹے ڈال کر ٹاؤل سے چہرہ صاف کرتی ہوئی واش روم سے باہر نکلی
“ہنی ڈارلنگ جلدی سے ریڈی ہو جاؤ بہت ہی رومانٹک مووی کے ٹکٹ لایا ہوں پہلے دیکھیں گے اور پھر بیڈروم میں آنے کے بعد اسی طرح۔۔۔”
آزھاد بولتا ہوا حنین کے پاس آیا مگر حنین کا چہرہ دیکھ کر اس کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے
“کیا ہوا”
اب وہ حنین کی سرخ آنکھیں اور سرخ گال دیکھ کر پوچھنے لگا
“کچھ بھی نہیں، ٹکٹ دکھاؤ نام کیا ہے مووی ہے”
حنین زبردستی کا مسکراتی ہوئی اس کے ہاتھ سے ٹکٹ لینے لگی تبھی آزھاد نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا
“ہنی کیا ہوا ہے، تم روئی کیوں ہو اور یہ چہرے پر کیا ہوا ہے”
آزھاد غور سے حنین کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“تھوڑی دیر پہلے کلینزنگ کی تھی شاید اسی کا ری ایکشن ہو گیا ہو”
حنین نے بات بنانے کی کوشش کی اسے بات کا بتنگڑ بنانے سے یہی بہتر لگا۔۔۔ مگر آزھاد کو اس کی بات سن کر کوئی خاص تسلی نہیں ہوئی تبھی وہ روم سے باہر جانے لگا
“آزھاد رکو کہاں جا رہے ہو”
حنین اس کے تیور دیکھ کر اسے روکتی ہوئی پوچھنے لگی
“گھر کے تمام فرد اور ایک ایک ملازم کو یہاں بلا کر اس سے پوچھنے کے لئے کہ یہاں پر میرے آنے سے پہلے کیا ہوا ہے”
آزھاد بالکل سنجیدہ ہو کر حنین کو دیکھتا ہوا کہنے لگا
“کیوں بلاوجہ میں بات بڑھا رہے ہو آزھاد”
حنین کو اس کے تیور دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ وہ اب خاموش نہیں بیٹھے گا اسے ایک بار پھر اسے رونا آنے لگا
“بات اب تم بڑھا رہی ہوں ہنی حقیقت بتاؤ مجھے، کیوں روئی ہو تم اور کیا ہوا ہے تمہارے چہرے پر”
آزھاد اس کے دونوں بازوؤں کو زور سے پکڑ کر پوچھنے لگا
جس پر حنین زور زور سے رونے لگی مگر اس کے رونے کا انداز مختلف تھا۔۔ آزھاد کو محسوس ہوا جیسے حنین اس کے بازو پکڑنے پر تکلیف سے روئی ہے وہ حنین کو کچھ بھی بولے بغیر اس کے سویٹر کے بٹن کھولنے لگا
“کیا کر رہے ہو”
حنین رونا بھول کر پریشان ہوتی پوچھنے لگی
“خاموش کھڑی رہو” آزھاد نے اس کو بولتے ہوئے سویٹر اتارا اس کے بازو پر لال نشان موجود تھے وہ حنین کی شرٹ شولڈر سے نیچے کرکے دیکھنے لگا حنین اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی۔ ۔ شولڈرز پر نشان دیکھ کر آزھاد نے حنین کا رخ پیچھے موڑا شولڈر سے نیچے اس کی سفید جِلد سرخ ہو رہی تھی۔۔۔۔ آزھاد کو غصہ آنے لگا
“کس نے کیا ہے یہ، ہنی فوراً بتاؤ مجھے”
وہ حنین کا رخ اپنی طرف کر کے حنین سے پوچھنے لگا۔۔ وہ چاہ کر بھی اپنے غصے کو ضبط نہیں کر پا رہا تھا
“آ۔۔۔ آپی”
حنین روتی ہوئی اس کے سینے سے لگ کر بولی۔۔۔ نوین کی اس حرکت پر آزھاد کا خون کھول کر رہ گیا تھا وہ حنین کو تھام کر اس کی شرٹ شولڈر سے اوپر کرکے اسے بیڈ پر بٹھاتا ہوا کمرے سے باہر جانے لگا
“آزھاد رکو پلیز، تم کہاں جا رہے ہو”
آزھاد کے خطرناک تیور دیکھ کر حنین اس کو روکتی ہوئی پوچھنے لگی
“یہی روم میں بیٹھو ہوں میں آ رہا ہوں تھوڑی دیر میں، جب تک میں واپس نہ آؤ روم سے باہر نہیں نکلنا”
آزھاد حنین کو صوفے پر بٹھا کر روم کا دروازہ بند کرکے باہر چلا گیا.
جاری ہے
