Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30

بہت مشکلوں سے شاہنواز کی اجازت پر وہ آج ڈرائیور کے ساتھ دیا کے گھر اس کی مدر سے ملنے آئی تھی۔۔۔ نزہت آنٹی کے ساتھ بیٹھ کر وہ دیا کی ڈھیر ساری باتیں کرنے لگی معلوم ہی نہیں ہوا کتنی دیر گزر گئی دیا کی باتیں کرتے کرتے۔۔۔۔ اچانک ملازم نے آکر نزہت آنٹی کو انکے گیسٹ کی آمد کی خبر دی تب کومل نے گھڑی میں ٹائم دیکھا
“کافی ٹائم ہوگیا ہے آنٹی آپ مجھے اجازت دیں،، بہت اچھا لگا آج آپ سے مل کر”
کومل اپنا ہینڈ بیگ کندھے پر لٹکاتی ہوئی صوفے سے اٹھی
“مجھے بھی بہت خوشی ہوئی تم سے مل کر ایسے ہی کبھی کبھی آ جایا کرو میرے پاس”
نزہت نے کومل کو دیکھتے ہوئے کہا،، کومل اثبات میں سر ہلا کر خدا حافظ کرتی ہوئی گھر سے باہر نکل گئی
ابھی وہ اپنی کار میں بیٹھنے ہی لگی تھی جب گیٹ سے اندر کی طرف اسے عباس کی کار آتی دکھائی دی
“ارے آپ یہاں پر” عباس بھی کومل کو دیکھ چکا تھا مگر کومل کو دیکھ کر اس سے زیادہ خوشی، عباس کو اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر ہوئی جوکہ حیران کن کم خوشگوار زیادہ تھے۔۔۔ کس طرح وہ اپنی کار کو چھوڑ کر عباس کی کار کی طرف بڑھتی ہوئی آئی تھی عباس اس کو دیکھ کر مسکرایا
“شکر ہے تمہارے چہرے پر مجھے دیکھ کر مسکراہٹ آئی اور تم نے مجھے پہچان لیا کیسی ہو”
عباس جو اپنے گھر میں شفٹ ہونے کے بعد ایک ہی دن میں اُکتا چکا تھا شاید وہ روز آفس آنے کے بعد ایک اسی کے چہرے کو دیکھنے کا عادی ہوگیا تھا جو آج اسے نظر نہیں آیا تو اس کا دل اداس ہوا۔۔۔ اسی اداسی کے سبب وہ اپنی خالہ کے گھر ان سے ملنے آ گیا مگر یہاں کومل کی موجودگی میں اس کے دل اور دماغ پر خوشگوار اثر چھوڑا تھا
“پہچانتی کیوں نہیں بھلا آپ کو کیسے ہیں آپ”
شاید یہی وہ چہرہ جسے وہ آج صبح سے مس کر رہی تھی اور ایک بے کلی سی اداسی اپنے چاروں اطراف محسوس کر رہی تھی۔۔۔ جبھی اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھ کر اس کا دل خوشی سے کھل اٹھا تھا
“تھوڑی دیر پہلے اگر مجھ سے کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ کیسے ہو، تو میں یہی جواب دیتا اداس اور تنہا۔۔۔ پر اب میں بہت خوش ہوں تمہیں دیکھ کر”
عباس غور سے کومل کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا عباس کی بات سن کر بے ساختہ وہ اپنی پلکیں جھکا گئی اس طرح کومل کا پلکیں جھکانا عباس کو اس کا ایک انوکھا سا روپ لگا جسے وہ مہبوت سا اسے دیکھے گیا
“نزہت خالہ سے ملنے آئی تھی تم”
عباس کے اس طرح دیکھنے پر شاید وہ نروس ہو رہی تھی تبھی عباس نے اس سے دوسرا سوال پوچھا
“جی وہ میری فرینڈ کی مدر ہیں آپ جانتے ہیں نزہت آنٹی کو”
کومل عباس کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“آپ کی نزہت آنٹی میری مدر کی سگی بہن ہیں یعنی میری خالہ”
عباس غور سے کومل کو دیکھ کر بتانے لگا عباس کی بات سن کر کومل نے کنفیوز ہو کر اسے دیکھا
“یٰعنی آپ دیا کے کزن عباس ہیں”
کومل کو کچھ یاد آنے پر اس کا دل بجھا تھا ساتھ ہی اس کی مسکراہٹ بھی تھمی تھی جسے عباس فوراً محسوس کر گیا
“کومل مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے”
کومل کے سنجیدہ تاثرات دیکھتے ہوئے عباس اس سے بولا
“پھر کبھی سہی دیر ہورہی ہے مجھے گھر جانا ہے”
کومل عباس سے بےتاثر کہتی ہوئی اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگی
“کیا تم تھوڑی دیر کر میری بات نہیں سکتی”
عباس کی آواز پر کومل کے قدم رکے اور اس نے مڑ کر دیکھا
“نہیں”
وہ اداسی سے بولتی ہوئی اپنی کار کی طرف بڑھ گئی
****
اس وقت گھر پر اس کے سوا کوئی بھی موجود نہیں تھا کومل اپنی فرینڈ کے گھر گئی ہوئی تھی جبکہ وجیہہ اور نوین شاہنواز کے ساتھ اس کے دوست کے گھر گئی تھی
آج شاہنواز کے گھر پر موجودگی کی وجہ سے نوین صبح سے ہی اس کے کمرے میں نہیں آئی تھی۔۔۔ اور آزھاد تو نہ جانے اپنے دوستوں کے پاس سے رات میں کب آیا تھا اور صبح اسکے اٹھنے سے پہلے وہ آفس جا چکا تھا۔۔۔ البتہ دوپہر میں وہ اسے کال کرکے بتا چکا تھا کہ آج اسے اور آزھاد کو مکرم کی دی گئی پارٹی میں جانا ہے۔۔۔ مگر حنین کا آزھاد کی اس بات پر عمل کرنے کا کوئی موڈ نہیں تھا اس لیے وہ اپنے کمرے کا دروازہ بند کیے کافی دیر سے ناول پڑھنے میں گم تھی اتنے انہماک سے وہ اسٹوری پرھ رہی تھی کہ وقت گزرنے کا اسے اندازہ ہی نہیں ہوا
“ڈارلنگ ریڈی ہو تم”
حنین کے کمرے کا دروازہ کھول کر آزھاد کمرے کے اندر داخل ہوتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“تم آفس سے کب آئے”
حنین اسے دیکھ کر حیرت سے پوچھنے لگی وہ ڈریس اپ ہو کر مُکرم کی طرف جانے کے لئے تیار تھا۔۔۔ حنین نے سامنے دیوار پر لگی گھڑی میں ٹائم دیکھا تو نو بج رہے تھے
“یار آدھا گھنٹا ہوگیا مجھے آئے ہوئے دیر ہو رہی ہے چلو”
آزھاد ہاتھ پر بندھی ہوئی ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھتا ہوا بولا
“مگر میں تو ریڈی نہیں ہوں”
حنین نے ایک نظر اپنے ڈریس کو دیکھتے ہوئے آزھاد سے کہا۔۔۔ شام میں شاور لے کر اس نے کیجول سا نیوی بلو کلر کا ڈریس پہنا ہوا تھا
“میں نے تم سے کہا تھا ریڈی رہنا ہم دونوں کو وہاں جانا ہے ایک ساتھ”
آزھاد حنین کو ناراض نظروں سے دیکھتا ہوا بولا اور حنین کے پاس آیا
“میرا بلکل بھی موڈ نہیں ہورہا آزھاد پلیز تم چلے جاؤ”
حنین اس کا خراب موڈ دے کر لجاحت سے بولی۔۔۔ حنین کی بات سن کر آزھاد اس کے پاس آیا بیڈ پر ایک ہاتھ جما کر اس کی طرف جھکا
“تو پھر کیا موڈ ہو رہا ہے اس وقت گھر میں کوئی بھی موجود نہیں ہے موقع دیکھ کر لگا دیں چوکا”
آزھاد حنین کے قریب اپنا چہرہ لاکر اس سے سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“دور ہٹو اس وقت میں تمہاری کوئی بھی بےہودگی برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہو”
حنین نے ہاتھ میں موجود ناول اس کے سینے پر لگا کر اسے پیچھے ہٹایا
“کیوں نہیں برداشت کر سکتی، کہیں دال میں کچھ کالا تو نہیں۔۔ مطلب پرسنل والا مسئلہ۔۔۔ میں بالکل برداشت نہیں کروں گا”
آزھاد حنین کو گھورتا ہوا بولا اور اس کی بات سن کر حنین کا دل چاہا ہاتھ میں موجود یہ کتاب اس کے سر پر دے مارے
“بہت ہی کوئی بے شرم انسان ہو تم”
حنین اس کی بات پر جھینپ مٹاتی ہوئی بولی
“آج بے شرمی کا عملی مظاہرہ واپس آ کر دکھاؤں گا۔۔۔ ابھی تو مُکرم سے پرامس کرچکا ہوں آنے کا۔۔۔ اس لیے بغیر نخرے دکھائے فوراً تیار ہو جاؤ ٹوٹل دس منٹ ہیں تمہارے پاس”
آزھاد اس کے ہاتھ میں موجود ناول بیڈ پر اچھالتا ہوا وارڈروب کی طرف آیا اور اس کے لئے ڈریس منتخب کرنے لگا
“آزھاد پلیز”
آزھاد اپنا گفٹ کیا ہوا اور ریڈ کلر کا لونگ فراک اس کے پاس لایا تو حنین منت بھرے لہجے میں بولی
“خود پہنو گی یا میں پہناؤ”
حنین کا بنا ہوا منہ دیکھ کر وہ سیریس ہو کر نرمی سے پوچھنے لگا۔۔۔ حنین اسے کچھ کہے بغیر اس کے ہاتھ ڈریس لے کر ڈریسنگ روم میں چلی گئی
*****
“موڈ تو ٹھیک کرو یار اپنا ایسی شکل بنا کر کسی کی پارٹی میں آیا جاتا ہے”
پارٹی جو کسی ہوٹل میں ارینج کی گئی تھی تیز میوزک ڈانس فلور پر ناچتے تھرکتے لڑکے لڑکیاں،، ہر طرف ہاتھ میں ڈرنگ لیے اِدھر اُدھر گھومتے ویٹرز،، روشنیوں اور قہقہوں کا سیلاب حنین بیزار سی شکل بنائی سب کو دیکھ رہی تھی آزھاد کے ساتھ وہ کونے میں ایک صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ آزھاد اس کی بیزار سی بنی ہوئی شکل کو دیکھتا ہوا بولا
“جملہ ٹھیک کرو اپنا آیا نہیں زبردستی لایا جاتا ہے۔۔۔ بات نہیں کرو تم مجھ سے ہر وقت زبردستی کر کے اپنی چلاتے ہو، اتنی جلدی مچائی کہ میں موبائل بھی ساتھ لانا بھول گئی”
حنین آزھاد پر مزید بگڑتی ہوئی بولی
“اگر میں زبردستی کر کے اپنی چلاتا ناں تو اب تک تمہاری بہن کو خالہ بنا چکا ہوتا۔۔۔ ابھی تک اپنا دل مار کر شرافت دکھائی ہے میں نے مگر آج رات ایسا کچھ نہیں ہونے والا”
آزھاد گہری نگاہ سے حنین کو دیکھتا ہوا بولا
“تم یہاں شروع ہوگئے”
حنین اس کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی
“شروع تو میں اب بیڈروم میں جاکر ہی ہوگا۔۔ چوائس تمہاری ہے بیڈروم تمہارا ہو یا پھر میرا”
آزھاد نے اس کا تھاما ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر لگانا چاہا جو حنین نے فوراً کھینچ لیا
“آزھاد پلیز”
اس کی بےباکی پر حنین آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی
“سیریس یار کتنے نخرے دکھاتی ہو تم یہاں سب ہماری طرح ہسبنڈ وائف نہیں ہیں جو تمہیں ایک دوسرے سے اتنے کلوز نظر آرہے ہیں”
آزھاد نے برا مانتے ہوئے کہا وہاں موجود لڑکے لڑکیاں واقعی ایک دوسرے کو ہگ کر رہے تھے، گال چپکا چپکا کر سیلفیاں بھی لے رہے تھے کافی بے تکلفی سے ایک دوسرے کے ساتھ چپک کر بیٹھے تھے
“بڑے اچھے لگ رہے ہیں آوارہ ٹائپ بےغیرت لوگ، اگر تمہارا دل بھی کھلے عام انہی کی طرح بے حیائی کے لئے مچل رہا ہے تو یہی سے کوئی اپنے لئے چھچھوری ڈھونڈ لو”
حنین نراٹھے پن سے اس کو دیکھ کر کہنے لگی تو آزھاد حنین کو گھورنے لگا
“ہائے آزھاد۔۔۔ بےبی ہاؤ آر یو کتنے دنوں بعد تمہیں دیکھا ہے اور تم مجھے ہر دفعہ کی طرح پہلے سے زیادہ ہینڈسم لگ رہے ہو”
نشوا نہ جانے کہاں سے برآمد ہوئی اور آتے کے ساتھ ہی آزھاد کے ساتھ صوفے پر چپک کر بیٹھ گئی
“او ہائے نشوا کیسی ہو تم”
آزھاد نشوا کو دیکھ کر کھل اٹھا۔۔۔ حنین کو شدید ناگواری کا احساس جب ہوا جب نشوا اپنے گال سے آزھاد کا گال ٹچ کرتی ہوئی اس سے مل رہی تھی
“واؤ تم تو مزید ہینڈسم دکھنے کے ساتھ ساتھ خوش اخلاق بھی ہوگئے ہو آزھاد،، کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہی”
آزھاد نے پہلے کبھی نشوا کو لفٹ نہیں کروائی تھی مگر آج وہ اس سے مسکرا کر بات کر رہا تھا اور آزھاد کے اس انداز پر نشوا اس پر فدا ہی ہوگئی
“تم بالکل خواب نہیں دیکھ رہی نشوا میں تمہیں ابھی یقین دلا دیتا ہوں”
آزھاد نے بولنے کے ساتھ ہی زوردار چٹکی اس کے گال پر بھری جس سے وہ تڑپ اٹھی اور حنین آزھاد کی حرکت پر تپ اٹھی
“یو ناٹی بوائے”
نشوا اپنا سرخ گال سہلاتی ہوئی زبردستی مسکرا کر بولی
“ناٹی تو میں چند دنوں سے بہت زیادہ ہوگیا ہوں، تم اس سے پوچھ سکتی ہو”
دوسرے ہاتھ پر اپنے ساتھ بیٹھی ہوئی حنین کی کمر پر آزھاد زوردار چٹکی بھرتا ہوا نشوا سے بولا جس پر حنین خونخوار نظروں سے آزھاد کو دیکھنے لگی
“یہ کون ہے تعارف نہیں کرواؤ گے”
نشوا اب حنین کو دیکھتی ہوئی آزھاد سے پوچھنے لگی
“میں اسے کچھ خاص نہیں جانتی نشوا، ہماری تھوڑی دیر پہلے ہی ملاقات ہوئی ہے مگر یہ تم جیسی لڑکی سے ملنے کا خواہش مند تھا،، میرا مطلب ہے تمہاری جتنی خوبصورت لڑکی سے۔۔۔ پلیز اسے اپنے ساتھ یہاں سے لے جاؤ”
حنین مسکرا کر نشوا سے بولی تو آزھاد سنجیدگی سے حنین کو دیکھنے لگا
“چلو نشوا ڈانس فلور پر چلتے ہیں” اس نے حنین کو دیکھنے کے بعد نشوا کو مخاطب کیا جس پر حنین کا دل جل کر رہ گیا مگر وہ یہ بات اپنے چہرے سے بالکل بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اسے برا لگا آزھاد کہیں سچ میں اس چھچھوری منحوس لڑکی کے ساتھ چلا ہی نہ جائے
“نشوا بہت دھیان سے ڈانس کرنا یہ اتنا بیہودہ تو نہیں ہے مگر کیا ہے نہ کبھی کبھی بھول چوک میں ڈانس کے دوران اسکرٹ کھینچ لیتا ہے”
حنین نے چاہا کسی طرح نشوا یہاں سے دفع ہو جائے جبھی وہ نشوا کو ڈراتی ہوئی بولی
“واقعی۔۔۔ چلو آزھاد جلدی ڈانس فلور پر چلتے ہیں”
نشوا جلدی سے خوشی خوشی صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔۔ نشوا کی بات سن کر آزھاد حنین کو دیکھتا ہوا ہنسنے لگا اور حنین نے اپنے سامنے کھڑی اس ترسی ہوئی لڑکی پر لعنت بھیجی اب حنین صوفے پر بیٹھی دور سے آزھاد اور نشوا کو ڈانس فلور پر جاتا ہوا دیکھ رہی تھی
“ہائے بھابھی کیسے ہیں آپ، بہت بہت شکریہ آپ یہاں میرے بلانے پر آئی مجھے بہت خوشی ہوئی”
مُکرم حنین کے سامنے والے صوفے پر بیٹھتا ہوا حنین سے بولا جس کے جواب میں مروتاً حنین کو مسکرانا پڑا آزھاد دور سے حنین اور مُکرم کو بات کرتا ہوا دیکھ رہا تھا وہ ڈانس کے اسٹیپ کم لے رہا تھا اس کا دماغ اور نظر ان دونوں کی طرف تھی جبکہ نشوا بار بار اسے کنسنٹریٹ کرنے کو کہہ رہی تھی
“میں آپ سے اس دن فارم ہاوس والی حرکت کو لے کر بہت شرمندہ ہو،، بہت چاہا آپ سے سوری کرو مگر کبھی موقع نہیں ملا اس دن میں اور فصیح بالکل ہوش میں نہیں تھے اور دوسرا ہمیں معلوم بھی نہیں تھا کہ آپ اور آزھاد۔۔ خیر چھوڑیں اس بات کو میں معافی چاہتا ہوں آپ سے اس دن کے رویہ کی”
مُکرم اسے فارم ہاؤس والی بات یاد دلاتا ہوا معافی مانگنے لگا
“تم مجھے واقعی شرمندہ لگ رہے ہو اس لیے معافی قبول کی جا سکتی ہے” حنین کو ایسا بولنا پڑا وہ تو آزھاد کے دوستوں سے ایسی کوئی توقع ہی نہیں رکھتی تھی کہ وہ دونوں اپنے کئے پر نادم بھی ہو۔۔۔ مگر سامنے بیٹھے ہوئے مکُرم نے حنین سے جب معافی مانگی تو حنین اسے معاف کرتی ہوئی بولی
“تھینک یو سو مچ”
مُکرم مسکراتا ہوا بولا
“آزھاد کی کافی دوستی لگتی ہے نشوا سے”
حنین اب آزھاد اور نشوا کو ڈانس فلور پر ڈانس کرتا ہوا دیکھنے لگی۔۔۔ جو تھوڑی دیر پہلے اسی کو دیکھ رہا تھا مگر اب حنین کے دیکھنے پر وہ نشوا کے ساتھ کپل ڈانس کرنے لگا
“ہاہاہا نشوا یہ فصیح کی ایکس گرل فرینڈ ہے۔۔۔ آزھاد تو اسے گھاس بھی نہیں ڈالتا پہلے مجھے بھی حیرت ہو رہی تھی ان دونوں کو ڈانس فلور پر دیکھ کر مگر اب سمجھ میں آیا وہ یقیناً آپ کو دکھانے کے لیے ایسا کر رہا ہے”
مُکرم مسکراتا ہوا حنین سے بولا جس پر حنین نے برا سا منہ بنایا
“ایسی شکل بنائے گی تو وہ اور زیادہ آپ کو جلائے گا۔۔۔ فل اگنور کریں اور انجوائے کریں۔۔۔ فصیح کی کال آگئی ہو سے بات کر کے آتا ہوں”
مُکرم نے ویٹر کو اشارے سے بلایا اور حنین کے سامنے جوس کا گلاس رکھا اور فصیح کی کال ریسیو کرنے کے لیے اٹھ گیا۔۔۔ حنین واقعی اسے اگنور کے جوس پینے لگی
“ایکسکیوزمی کیا میں اس کاؤچ پر بیٹھ سکتا ہوں”
ابھی حنین وہاں سے جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ ایک لڑکے کی آواز سنائی دی۔۔۔ سامنے ایک خوش لڑکا کھڑا اسمائل دیتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“یہ کاؤچ میں اپنے گھر سے نہیں لے کر آئی ہوں آپ بیٹھ سکتے ہیں”
حنین نے خوبصورت سی اسمائل دے کر اس لڑکے کو جواب دیا
“میرا نام عماد ہے”
عماد نے حنین کی طرف مالانے کے لیے ہاتھ بڑھا کر اپنا نام بھی بتایا
“حنین”
حنین ہاتھ ملاتی ہوئی اسے اپنا نام بتانے لگی
آزھاد جو وقفے وقفے سے حنین کو دیکھ رہا تھا وہ ماتھے پر شکن لائے نشوا کی کمر سے ہاتھ ہٹا کر اسٹریٹ کھڑا ہوکر حنین کو دیکھنے لگا
“کیا ہوگیا آزھاد تم بالکل کونسنٹریٹ نہیں کر رہے اسٹپپس پر”
نشوا نے بولتے ہوئے آزھاد کا ہاتھ تھامنا چاہا جسے آزھاد نے بری طرح سے جھٹکا
“اوقات میں رہو اپنی”
وہ بگڑے ہوئے تیور کے ساتھ نہ جانے کونسا غصہ نشوا پر نکال کر ڈانس فلور سے اترا۔۔۔ اب اس کا رخ حنین کی طرف تھا جو بڑا مسکرا مسکرا کر معلوم نہیں کس لڑکے سے باتیں کر رہی تھی
“ابے یار کہاں گم ہے تو آج کل،، یاروں کو چھوڑ کر رنگینیوں میں کھویا ہوا ہے”
اس سے پہلے وہ حنین کے پاس پہنچتا مُکرم اسے راستے میں مل گیا جو اس کا راستہ روکتا ہوا بولا
“وہ چھوڑو یہ بتاؤ تم ہنی سے کیا باتیں کر رہے تھے”
آزھاد سنجیدگی سے مُکرم سے پوچھنے لگا جس پر مُکرم کے چہرے پر خباثت والی مسکراہٹ آئی
“جیلس ہو رہا ہے یا شک کر رہا ہے سالے” مُکرم ہنستا ہوا آزھاد سے پوچھنے لگا
“بری طرح جیلس ہو رہا ہوں اب بتا”
آزھاد نے ایک بار پھر پوچھا مُکرم ہنستے ہوئے اسے اپنے اور حنین کے درمیان کی بات بتانے لگا
“یہ فصیح کہاں رہ گیا ہے آیا نہیں ابھی تک”
آزھاد بات مُکرم سے کر رہا تھا مگر اس کی نظریں حنین آور عماد پر ٹکی ہوئی تھی
“معذرت کا فون آیا تھا اپنی حسینہ کے ساتھ اپنی شام حسین کر رہا ہے”
15 دن پہلے فصیح ایک نئی نیویلی ماڈل کے عشق میں بری طرح گرفتار ہوچکا تھا۔۔۔ اور کل رات اس نے مُکرم اور آزھاد کی موجودگی میں اسے کورٹ میرج کی تھی
“اچھا سن میں ہنی کو لے کر نکل رہا ہوں بعد میں کسی اور دن ملنے کا پروگرام بنا لیتے ہیں”
آزھار مُکرم کو بولتا ہوا حنین کے پاس آیا
______________
“آپ نے مجھے بتایا بھی نہیں شاہنواز وہاں ڈنر پر۔۔۔ یہاں گھر آکر آپ مجھے میرے پوچھنے پر بتا رہے ہیں کہ آزھاد ہنی کو اپنے ساتھ اپنے دوست کی پارٹی میں لے گیا ہے”
نوین جب شاہنواز اور وجیہہ کے ساتھ گھر پہنچی اور حنین کو گھر میں موجود نہ پایا تو اس کا موڈ اچھا خاصہ خراب ہوگیا
“تو اس میں ایسی کون سی خاص بات ہے جو میں اسپیشلی تمہیں بتاؤ۔۔۔ اگر آزھاد اپنی بیوی کو اپنے دوست کی پارٹی میں یا کہیں بھی باہر لے کر گیا ہو۔۔۔ تو اس میں کونسی انوکھی بات ہے جس کا اعلان کرنا ضروری ہے”
نوین کے اس طرح بولنے پر شاہنواز سنجیدگی سے بولا
“آپ کو ہنی سے میری اٹیچمنٹ کا اندازہ ہے شاہنواز۔۔۔ میں اسے کہیں بھی اتنا لیٹ نائٹ باہر نہیں بھیجتی”
نوین شاہنواز کو دیکھتی ہوئی اب ارام سے سمجھانے لگی
“نوین تمہاری بہن اکیلی نہیں گئی ہے وہ اپنے شوہر کے ساتھ گئی ہے۔۔۔ یہ بات اپنی ذہن نشیں کر لو کہ اب تمہاری بہن شادی شدہ ہے اس کے ہر معاملے میں اب تمہارا عمل دخل نہیں چلے گا۔۔۔ اس بات کو ریلائس کرو اور خود بھی سکون سے رہو ان دونوں کو بھی سکون سے رہنے دو”
شاہنواز صوفے سے اٹھ کر نوین کو سمجھاتا ہوا بولا
“میری بہن کی شادی زبردستی ہوئی ہے شاہنواز وہ اس رشتے پر راضی نہیں تھی اب آپ اپنے بیٹے کی سائیڈ لے کر زبردستی میری بہن کو اس کی زندگی میں شامل کر رہے ہیں”
نوین شاہنواز کے سامنے کھڑی ہوکر اسے جواب دینے لگی
“مجھے کہیں سے نہیں لگتا کہ حنین آزھاد کے ساتھ ناخوش ہے یا اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی۔۔۔ البتہ تمہیں آزھاد اور حنین کے رشتے سے کوئی پرخاش ہے یہ اب مجھے محسوس ہوتا ہے۔۔۔ دیکھو نوین تم اپنا دل اور دماغ ان دونوں کے رشتے کی طرف سے صاف کرلو اور انکے رشتے کو ایکسپٹ کرلو۔۔ نہیں تو اس طرح تم اپنا اور میرا رشتہ بھی خراب کرو گی”
شاہنواز اسے بولتا ہوا کمرے سے جانے لگا
“آپ کہاں جا رہے ہیں میں نے آپ سے کل کہا تھا کہ آپ دو دن میرے پاس رہے گے”
شاہنواز کو کمرے سے نکلتا دیکھ کر نوین سمجھ گئی کہ وہ یقیناً وجیہہ کے پاس جا رہا ہوگا تبھی وہ شاہنواز کو یاد دلانے لگی
“مجھے وجیہہ کی یہ عادت بہت پسند ہے کہ وہ۔۔ جاھل عورتوں کی طرح بلاوجہ کی بحث نہیں کرتیں کسی بھی بات کے پیچھے نہیں پڑتی ہیں۔۔۔ اور اگر کوئی بھی مسئلہ درپیش آئے تو وہ بہت سوفٹلی اس کا حل تلاش کرتی ہیں،، تم یہاں ریسٹ کرو میں وجیہہ کے پاس ہوں”
شاہنواز بولتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *