Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10
میں کہتی ہوں بکواس بند کرو اپنی،، کس نے بھرے ہیں تمہارے کان میں پوچھتی ہوں کس نے تمہارے ذہن میں میرے خلاف زہر انڈیلا ہے نام بتاؤں مجھے اس کا”
اب کی بار نوین پہلے سے بھی زیادہ زور سے چیخی تھی ساتھ ہی وہ کرسی کسکا کر حنین کے سامنے آئی اور سختی سے اس کا بازو جھنجوڑا تبھی حنین نے اسکا دوسرا ہاتھ اٹھا کر اپنے سر پر رکھا
“میری قسم کھا کر بولیں آپی، جو کچھ میں نے بولا ہے اس میں کوئی سچائی نہیں ہے آگے سے میں آپ کو ایک لفظ نہیں بولوں گی”
حنین آنکھوں میں نمی لیے نوین سے پوچھنے لگی نوین نے غصے میں گھور کر اپنا ہاتھ اس کے سر سے ہٹایا
“آزھاد سے کانٹیکٹ ہے تمہارا کس حد تک بڑھایا ہوا ہے تم نے اس سے اپنا ریلیشن،، مجھے بالکل سچ بتانا ہنی”
یہ تو طے تھا حنین کو جو بھی کچھ بھنک پڑی تھی وہ آزھاد سے ہی پڑی ہوگی کیونکہ آج کل اسی نے قسم کھائی ہوئی تھی نوین کا جینا حرام کرنے کی
“جس طرح کا تعلق آپ کا اس کے فادر کے ساتھ ہے میرا اس سے نہیں ہے مگر آج میری آنکھوں سے اس نے پردہ ہٹایا اور مجھے بتایا کہ میری بہن کتنی گری ہوئی اور ہلکے کردار کی مالک ہے”
حنین روتی ہوئی بولی مگر نوین کے پڑنے والے ہاتھ نے حنین کو آگے کچھ بھی بولنے سے روک دیا
حنین بے یقینی سے اپنے گال پر ہاتھ رکھے نوین کو دیکھنے لگی جو ابھی بھی ہو غضب ناک نظروں سے اس کو گھورنے میں مصروف تھی
“کمرے میں جاؤ اپنے”
نوین آنکھیں دکھاتی ہوں یہ حنین سے بولی
حنین ابھی بھی اپنی بہن کو دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں کوئی پشیمانی کوئی شرمندگی حنین کو نظر نہیں آئی حنین کا دل مزید خراب ہوا
“جاؤ”
اب کی بار نوین گلا پھاڑ کر چیخی تو حنین خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی
“آزھاد چھوڑو گی نہیں میں تمہیں”
نوین دل میں بولتی ہوئی اپنے بیڈروم میں آگئی اور موبائل اٹھا کر شاہنواز کو کال ملانے لگی
_________
“اوکے میں اس سے پوچھتا ہوں مگر تم ٹینشن نہیں لو ڈاکٹر نے تمہیں ٹینشن فری رہنے کے لیے کہا ہے”
شاہنواز نے نوین کی ساری بات سن کر اسے تحمل سے سمجھاتے ہوئے کہا شاہنواز نے محسوس کیا اس وقت نوین کافی غصے میں تھی
“میں ٹینشن نہیں لو شاہنواز اس سچویشن میں کہ جب میری چھوٹی بہن جسے میں نے پالا ہے جو میرے سامنے اپنی زبان نہیں کھولتی، آج میرے سامنے کھڑے ہو کر مجھ سے میرے اور آپ کے تعلقات کا پوچھ رہی ہے۔۔۔ شاہنواز آزھاد نے اس کو نہ جانے کیا کچھ بولا ہے یہاں تک کہ آپ کے بیٹے نے مجھے میری بہن کی نظروں میں یہ کہہ کر گرا دیا کہ میں اپنا بےبی ایبارٹ کروا کر آ رہی ہو اور آپ کہہ رہے ہیں کہ میں خوش رہو” نوین اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے مسلسل کمرے کے چکر کاٹتی ہوئی شاہنواز کو باتیں سنا رہی تھی
“میں نے تم سے کہا ہے ناں نوین، میں اس سے جاکر پوچھتا ہوں اب ریلیکس ہو جاؤ اور سونے کی کوشش کرو کل آفس کے بعد میں تمہارے پاس آؤں گا پھر ہم دونوں مل کر حنین کے لئے کچھ ڈسائڈ کرتے ہیں”
شاہنواز بہت مشکلوں سے اسے ٹھنڈا کرتا ہوا کال رکھ چکا تھا۔۔۔ لمبا سانس کھینچ کر وہ ٹیرس سے اپنے روم میں آیا جہاں وجیہہ بیڈ پر سو رہی تھی ایک نظر اس پر ڈال کر وہ کمرے سے نکلا اور آزھاد کے روم میں پہنچا
“کہاں سے آرہے ہو تم”
راکنگ چیئر پر بیٹھا آزھاد اسموکنگ کررہا تھا شاہنواز نے اس سے سوال کیا
“کومل کے روم میں تھا ابھی تھوڑی دیر پہلے سوئی ہے وہ”
آزھاد شاہنواز کو دیکھ کر پاس رکھی ایش ٹرے میں سگریٹ مسلتا ہوا بولا
“میں ابھی کی بات نہیں کر رہا ہوں اور آفس کے بعد کہاں گئے تھے تم”
شاہنواز نے سنجیدہ تاثرات کے ساتھ آزھاد سے پوچھنے لگا
“میں نے آپ سے پوچھا آپ آفس میں لنچ بریک کے بعد کہاں مصروف تھے یا کیا کچھ کرتے پھر رہے تھے”
وہ شاہنواز کے روبرو آ کر بولا
“تم میرے باپ نہیں ہو، میں تمہارا باپ ہوں، کیوں ملنے گئے تم حنین سے اور کیا بولا ہے تم نے اسے” شاہنواز اب آزھاد کو غصے میں دیکھ کر سخت لہجے میں پوچھنے لگا
“سچائی بتائی ہے میں نے اسے، اصلیت بتائی ہے اس کی بہن کی۔۔۔ یہی بتایا ہے کہ تمہاری بہن میرے باپ کی کیپٹ (kept) ہے”
آزھاد نے بے خوفی سے شاہنواز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
“آزھاد”
شاہنواز زور سے چیخا اور اسکا ہاتھ فضا میں بلند ہوا آزھاد اب بھی شاہنواز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اسے دیکھ رہا تھا
“آپ کو کیا لگتا ہے مجھے خبر نہیں ہے آپ کی حرکتوں کی، آج آپ جو عظیم کام کرنے اس تھرڈ کلاس لڑکی کو لے کر میٹرنٹی ہوم گئے تھے شرم آرہی ہے مجھے آپ کو اپنا باپ کہتے ہوئے۔۔۔ میں صرف خاموش ہو تو اپنی ماں کی وجہ سے،، آپ کے کرتوت ان کے سامنے لاکر میں مما کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ اب جبکہ بات آپ کے اور میرے درمیان کُھل گئی ہے تو آپ اسے میری درخواست سمجھے آرڈر، دھمکی، وارننگ یہ جو چاہے سمجھیں۔۔۔ آپ کو اپنے تعلقات نوین مرزا سے ختم کرنے ہوں گے”
آزھاد اب سنجیدگی سے شاہنواز کو دیکھتا ہوا بولا
“نہیں تو کیا کر لو گے تم”
شاہنواز جو کافی دیر سے خاموش کھڑا اس کی باتیں سن رہا تھا اپنے بیٹے سے پوچھنے لگا
“سمپل ڈیڈ میں اسے جان سے مار دوں گا”
آزھاد نے بہت آرام سے یہ جملہ بولا تھا مگر دروازے پر وجیہہ کو دیکھ کر اس نے اب کچھ بھی بولنے سے اپنے آپ کو باز رکھا
وجیہہ وئیل چیئر پر بیٹھی دونوں باپ بیٹوں کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ آزھاد کے دروازے کی طرف دیکھنے پر شاہنواز نے مڑ کر دیکھا تو وجیہہ کو دروازے پر دیکھ کر ایک پل کے لیے وہ اس سے نظریں چرا گیا آزھاد چلتا ہوا وجیہہ کے پاس آیا
“آپ پریشان مت ہو مما سب ٹھیک ہو جائے گا میں سب ٹھیک کردوں گا”
آزھاد ویئل چیئر کے سامنے بیٹھ کر وجیہہ کا ہاتھ تھامتا ہوا بولا تو وہ مسکرا دی
“سو جاؤ کافی رات ہوچکی ہے”
وجیہہ دوسرے ہاتھ سے آزھاد کے بال پر ہاتھ پھیرتی ہوئی اس سے کہنے لگی اور بہت ساری نمی آنکھوں کی بجائے اپنے ہی اندر اتاری
آزھاد نے وجیہہ کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا اور اٹھ کر ویئل چیئر چلاتا ہوا اس کے کمرے میں لے جانے لگا
“میں خود لیٹ جاؤں گی آزھاد، اب جاؤ تم اپنے روم میں”
آزھاد نے وجیہہ کو سہارا دینا چاہا تاکہ وہ اسے بیڈ پر لٹا دے تو وجیہہ منع کرتی ہوئی آزھاد کو بولی اور مسکرا کر اسے اپنی آنکھوں سے یقین دلایا
آزھاد اپنے روم میں جانے لگا تبھی شاہنواز اپنے روم میں داخل ہوا آزھاد شاہنواز پر ایک نظر ڈال کر وہاں سے نکل گیا وجیہہ نے ویئل چیئر سے کھڑے ہونے کی کوشش کی تو شاہنواز میں آگے بڑھ کر اسے تھامنا چاہا
“مجھے سہارا مت دو شاہنواز اب اس کی ضرورت نہیں” وجیہہ نے شاہنواز کو بولا اب وہ خود ویئل چیئر سے اپنا ایک پاؤں زمین پر جما کر سائیڈ ٹیبل کا کونہ پکڑتی ہوئی خود بیڈ پر لیٹنے کی کوشش کرنے لگی شاہنواز خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا پھر بولا
“وجیہہ میں آپ کو بتانا چاہتا تھا کہ” شاہنواز نے ہمت جمع کرکے بولنا چاہا
“تمہیں بھی اب سونا چاہیے شاہنواز رات کافی ہو گئی ہے”
وجیہہ کی بات سن کر شاہنواز خاموشی سے لائٹ بند کرکے بیڈ کی دوسرے سائیڈ پر لیٹ گیا
“نام کیا ہے اس کا” شاہنواز کو اندھیرے میں وجیہہ کی آواز سنائی دی اس نے وجیہہ کی طرف دیکھا تو وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹی تھی
“نوین”
شاہنواز نے وجیہہ کو جواب دیا اسے لگا وجیہہ کچھ اور بھی پوچھے گی مگر اب وجیہہ کی طرف سے مکمل خاموشی تھی
*****
حنین کالج سے واپس آئی تو نوین گھر پر ہی موجود تھی اور اپنے کمرے میں موبائل پر کسی سے محو گفتگو تھی نہ اس نے حنین کے کالج سے واپس آنے کا نوٹس لیا حنین کے سلام کا جواب بھی سر ہلا کر دیا
صبح جب حنین کالج کے لئے تیار ہو رہی تھی تب اس نے حنین سے اس کا موبائل مانگا تھا اور
موبائل اپنے پاس رکھتی ہوئی اسے سختی سے منع کیا تھا کہ وہ آزھاد سے نہیں ملے گی
حنین اپنے لئے کھانا ٹرے میں رکھ کر اپنے بیڈروم میں آگئی اور دوپہر کا کھانا کھانے لگی تب نوین اس کے روم میں آئی اور وارڈروب سے حنین کے لیے ڈریس نکالنے لگی
“شام میں میرے آفس کے کلیک خورشید صاحب اپنی مسز اور بیٹے کے ساتھ ہمارے گھر ڈنر پر آرہے ہیں۔۔۔ رافع اچھا لڑکا ہے کافی شریف ہے اور مہذب اور تمیزدار بھی،،، میں چاہتی ہوں تم اسے ایز اے گیسٹ اسے اچھی طرح کمپنی دو”
نوین اس کا ڈریس بیڈ پر رکھتی ہوئی بولی اور واپس اپنے کمرے میں چلی گئی
حنین نے باقی کا کھانا بے دلی سے کھا کر ایک ناگوار نظر ڈریس پر ڈالی اور سونے کے لئے لیٹ گئی
****
آج دوپہر اسکی آفس کے ورکرز کے ساتھ میٹنگ تھی۔۔۔۔ خورشید صاحب کو آج جلدی جانا تھا اس لیے وہ شام میں ہی آفس سے ہالف لیف پر چلے گئے تھے خورشید صاحب سے ہی آزھاد کو یہ خبر ملی تھی کہ نوین مرزا جاب چھوڑ چکی ہے اس خبر پر آزھاد کو حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی وہ سوچ رہا تھا کہ شاید حقیقت کھولنے کی بعد ڈیڈ اپنے کیے ہوئے فعل پر شرمندہ ہیں یا پھر جو بھی بات ہو وہ تھوڑا ریلیکس ہوا
مگر کل رات سے اسے بار بار حنین کی یاد آ رہی تھی کل اس نے یقیناً حنین کو ہرٹ کیا تھا یہی سوچ کر وہ شرمندہ تھا۔۔۔وہ صبح سے ہی وقفے وقفے سے حنین کا نمبر ٹرائی کر رہا تھا مگر اس کا نمبر صبح سے مسلسل آف تھا
نہ جانے کیوں اسے لگ رہا تھا جیسے کوئی نیا باپ کھل چکا ہے ان چند دنوں سے حنین کو سوچنا دنیا کا سب سے اچھا کام لگتا تھا،، اس حقیقت کے بعد بھی کہ حنین کی بہن سے اس کے ڈیڈ کا افیئر ہے اس بات کو سوچ کر اسے غصہ آجاتا اور وہ اپنے آپ کو بہت بےبس محسوس کرتا مگر جب حنین کا چہرہ آنکھوں کے پردے کے سامنے لہراتا تو وہ اسے سوچنے سے خود کو روک نہیں پاتا
کل وہ کیا کرنے والا تھا حنین کے ساتھ اگر وہ انتقاماً حنین کے ساتھ کچھ غلط کر دیتا تو شاید عمر بھر کے لیے نہ صرف حنین سے بلکہ خود سے بھی نظریں نہیں ملا پاتا۔۔۔ اس وقت شام کے سات بج چکے تھے اب اسے گھر کے لئے نکلنا تھا تب ہی اس کے روم کا دروازہ کھلا
“کہاں غائب ہوگیا یار تو”
مکرم روم میں آنے کے ساتھ آزھاد کو دیکھتے ہوئے پوچھا فصیح بھی اس کے ساتھ ہی موجود تھا
“غائب کہاں ہونا ہے آفس جوائن کیا ہے تو بزی ہوگیا ہو۔۔۔ تم دونوں سناؤ کیا پروگرام ہے تم دونوں کا آج”
آزھاد باری باری اُن دونوں سے ملتا ہوا پوچھنے لگا
“ہمارا جو بھی پروگرام ہو تیرے بنا ادھورہ ہے۔۔۔ چل آج کسی اچھے سے ہوٹل میں ڈنر کرتے ہیں”
فصیح آزھاد کو دیکھتا ہوا بولا
“آج موڈ نہیں ہے یار پھر کبھی سہی”
آزھاد کا واقعی اس وقت گھر جانے کا ارادہ تھا تبھی وہ فصیح کو انکار کرتا ہوا بولا
“معلوم ہے مجھے، تو اس دن والی بات کو لے کر مجھ سے ابھی تک ناراض ہے”
فصیح نے برا سا منہ بنا کر آزھاد کو دیکھتے ہوئے کہا
“پاگل ہوگیا ہے تو وہ دوست ہے ہمارا ہم سے ناراض نہیں ہو سکتا۔۔ چل یار آزھاد کہیں اچھی سی جگہ ڈنر کرتے ہیں کافی دن ہوگئے ہیں۔۔۔ اس بے وقوف کا شکوہ بھی دور ہو جائے گا”
اب کی بار مُکرم آزھاد کو دیکھتا ہوا بولا
“فارمل ڈریسنگ کی ہوئی ہے یار عجیب لگے گا”
وہ دونوں کو جینز شرٹ اور جیکٹ میں مبلوس دیکھ کر بولا
“نخرے مت دکھا فل ہیرو لگ رہا ہے چل اٹھ جا”
فصیح اس کو دیکھتا ہوا بولا مُکرم بھی کھڑا ہوا تو آزھاد کو بھی ان دونوں کے ساتھ جانا پڑا
****
آدھا گھنٹہ گزر گیا تھا اسے رافع کے ساتھ اس ہوٹل میں آئے ہوئے۔۔۔ اسے اپنی آپی کی منطق ہی نہیں سمجھ میں آئی تھی،، جب اس نے رافع کی فیملی کو گھر پر ڈنر کے لئے انوائٹ کیا تھا تو بھلا یہ شوشہ کیوں چھوڑا کہ تم دونوں باہر جاکر ڈنر کر آو
نوین کے ایسا بولنے پر جہاں حنین نے الجھ کر اپنی بہن کو دیکھا تھا اس سے زیادہ کنفیوژن ہوکر رفع نے اپنی مدر کو دیکھا جو کہ نوین کی ہی ہم خیال تھی
انہوں نے کہا کہ بڑوں کی محفل میں آپ دونوں بچے بور ہوجاو گے اس لئے باہر جاکر انجوائے کرو
رافع واقعی ایک فرمابردار بیٹا تھا جو “جی ممی” کہہ کر حنین کو گھر سے آدھے گھنٹے کی ڈرائیو پر موجود ایک ہوٹل میں لے آیا مگر یہاں لانے کے بعد وہ حنین سے زیادہ کنفیوز دکھائی دے رہا تھا
اردگرد ٹیبل پر سب کپلز ہی موجود تھے دھیمے سروں میں میوزک بج رہا تھا کوئی نہ کوئی کپل اپنے پارٹنر کے لیے کسی گانے کی فرمائش کر دیتا تو پھر وہ گانا گنگنایا جاتا حنین کافی بیزار ہو رہی تھی
رافع اس سے پانچ منٹ بعد کوئی نہ کوئی سوال پوچھ لیتا ہے جس کا حنین سرسری انداز میں جواب دے دیتی۔۔۔ رافع دوبارہ منرا بوتل سے گلاس میں پانی نکال کر پیتا کبھی اپنے گلاسس ٹھیک کرنے لگ جاتا حنین نے نوٹ کیا وہ فرمابردار لڑکا کافی شرمیلا اور کم گو بھی ہے
“رافع میرے خیال میں اب ہمیں واپس جانا چاہیے سب ویٹ کر رہے ہوں گے ہمارا”
حنین نے نرمی سے رافع کو دیکھ کر کہا کہیں وہ ہرٹ نہ ہو جائے اس کی بات سن کر۔۔۔ مگر وہ بھی کیا کرتی وہ اسے اتنی ہی دیر برداشت کر سکتی تھی
“جی بالکل میں کافی دیر سے آپ کو یہی بات کہنا چاہ رہا ہوں”
رافع حنین کو دیکھتا ہوا فوراً بولا
“نیکسٹ سونگ جو آپ کے سامنے پیش خدمت ہے وہ ایک سونگ ہی نہیں بلکہ کسی کے احساسات کی ترجمانی ہے۔۔۔ یہ نوجوان اپنے دل کی بات اس سونگ کے ذریعے اس محفل کی اس خوبصورت لڑکی کو بتانا چاہتا ہے جس پر وہ اپنا دل ہار بیٹھا ہے”
انائنسمینٹ کے بعد تالیاں بجی۔۔۔ حنین جو واپس گھر جانے کے لیے چیئر سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اچانک لائٹز بند ہوگئیں۔۔۔ اسپاٹ لائٹ دائرے کی شکل میں حنین پر پڑی تو وہ ایک دم گھبرا گئی
___________
اسپاٹ لائٹ کا بنا دائرہ حنین کے اوپر سے دوبارہ اسٹیج پر آیا جہاں اسے آزھاد گلے میں گٹار ڈالے، کھڑا نظر آیا،، حنین نے حیرت سے اسکو دیکھا۔۔۔ گٹار کے تاروں کو انگلیوں سے چھیڑتا ہوا اس نے نظر اٹھا کر حنین کو دیکھا دونوں کی نظریں ملی لائٹز بھی ان ہوچکی تھی
Dil mang raha hai mohlat
Tere sath dharknay ki…
Tere naam se jeene ki
Tere naam se marnay ki….
Tere sang chalo har dam
Ban kar k parchaai….
Ek bar ijaazat de
Mujhe tujh main dhalnay ki….
Daikha hai jab se tum ko
Main ne yeh jana hai…
Meri khuwish k sehar main bas tera thikana hai….
Main bhool gaya khud ko bhi
Bus yaad raha ab touu.,…
Aa teri hatili pe is dil ko main rakh doo…
Dil bol raha hai hasrat
Har had se guzarnay ki….
Tere naam se jeene ki tere naam se marnay ki…
آزھاد انکھیں بند کیے ایک جذب کے عالم میں گانا گا رہا تھا۔۔۔ حنین کو لگا گانا گاتے ہوئے وہ وہاں موجود نہیں تھا کہیں اپنی ہی خیالوں کی دنیا میں گم تھا کیوکہ مرکزِ نگاہ حنین بھی تھی اس لیے اسے واپس چیئر پر بیٹھنا پڑا تھا مگر جیسے ہی گانا ختم ہوا اور تالیوں کی آواز گونجی وہ رافع کو کچھ کہے بنا وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔۔۔ آزھاد نے حنین کو وہاں سے جاتا دیکھ کر گٹار وہی موجود دوسرے لڑکے کو پکڑا کر خود بھی اسٹیج سے اترتا ہوا اس کے پیچھے چلا گیا
“ہنی رکو میری بات تو سنو یار”
ہوٹل سے باہر نکلتا ہوا آزھاد حنین کے پیچھے آیا اور اسے پکارا
“آخر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ، میں جہاں جاتی ہوں تم وہی میرے پیچھے آن دھمکتے ہو”
حنین رک کر اپنے دونوں ہاتھ سینے سے باندھے آزھاد کو سنجیدگی سے دیکھ کر کہنے لگی
“اب تو مجھے خود بھی محسوس ہوتا ہے بلکہ پورا یقین ہے میں جب تمہیں دل سے اور بہت شدت سے یاد کروں گا، تمہیں اپنے سامنے موجود پاؤں گا”
آزھاد حنین کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا اس وقت اسے حنین کو اپنے سامنے دیکھ کر کتنی خوشی ہو رہی تھی، حنین بنا کچھ بولے اسے گھورتی ہوئی دوبارہ مڑی
“ہنی اچھا میری بات تو سنتی جاو”
آزھاد اس کا ہاتھ پکڑتا ہؤا بولا
“ہاتھ چھوڑو میرا اور آئندہ مجھے چھونے کی ضرورت نہیں ہے”
حنین اس سے اپنا ہاتھ چھڑاتی ہوئی بولی انتہائی درجے کا بدتمیز انسان تھا وہ، صرف اسکی آواز اچھی تھی وہ الگ بات تھی
“یعنی تمہیں میرے چھونے سے سم تھنگ سم تھنگ فیل ہونے لگا ہے”
وہ شرارتی انداز میں حنین کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا، سم تھنگ سم تھنگ والی بیماری تمہیں ہی ہوسکتی ہے۔۔۔ اگر مجھے سم تھنگ سم تھنگ ہوا تو وہ تم سے ہرگز نہیں ہوگا”
حنین اس کی خوش فہمی دور کرتی ہوئی بولی
تھوڑی دیر پہلے ہی فصیح اور مُکرم کے ساتھ وہ ڈنر کرنے کے لئے اسی ہوٹل میں آیا تھا جہاں اسکی کی نظر حنین پر پڑی تھی وہ کسی لڑکے کے ساتھ وہاں پر پہلے سے موجود تھی آزھاد الجھن بھری نظروں سے اس لڑکے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ نہ جانے کس خیال کے تحت سامنے اسٹیج پر ایک لڑکے کو بلاکر اس نے اناونسمنٹ کروائی تھی
“ہنی کہاں جارہی ہیں آپ”
ابھی وہ دونوں بات ہی کر رہے تھے رافع ان کے پاس آیا اور حنین سے بولا
“کون ہو تم”
حنین کے کچھ بولنے سے پہلے آزھاد اسے کڑے تیوروں سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“میرا فرینڈ ہے یہ، تمہیں کوئی پرابلم ہے”
رافع کہ کچھ بولنے سے پہلے حنین جھٹ سے بولی تو آزھاد نے حنین کو گھورا
“میں تم سے نہیں اس سے پوچھ رہا ہوں تم خاموش رہو”
آزھاد حنین کو بولتا ہوا دوبارہ رافع کی طرف مڑا رافع اپنی عینک ٹھیک کرنے لگا
“میرا نام رافع ہے میں ایم بی بی ایس کے لاسٹ ایئر کا اسٹوڈنٹ ہوں۔۔۔ ہنی جی سے یہ میری فرسٹ میٹنگ ہے۔۔ ان کی سسٹر اور اپنی ممی کے کہنے پر میں انہیں یہاں لایا تھا۔۔۔ آپ کی تعریف”
رافع اپنا گلہ کھنگھارتا ہوا اپنا مکمل تعارف کروانے کے بعد آزھاد سے پوچھنے لگا
“سب سے پہلی بات تو میں تمہیں یہ بتا دو کہ اس کا نام ہنی نہیں حنین ہے۔۔۔۔ ہنی اسے پیار سے صرف میں یا پھر اس کی بہن بول سکتی ہے، تم آئندہ کیلئے خیال رکھنا۔۔۔ کچھ باتیں بہت چھوٹی ہوتی ہیں مگر مجھے بری لگ جاتی ہیں۔۔۔ ویسے میرا نام آزھاد ہے اور میری اصل تعریف یہ ہے کہ میں ہنی کا بوائے فرینڈ ہوں”
آزھاد نے رافع کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیتے ہوئے اسے جتا کر کہا.
جاری ہے
