Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35

“آپ کون ہیں کس سے ملنا ہے آپ کو” نوین اس وقت آزھاد کے فلیٹ کے دروازے پر موجود تھی ڈور بیل بجانے پر فلیٹ کے اندر سے ایک ماڈرن سی لڑکی برآمد ہوئی اور نوین سے پوچھنے لگی
“فصیح سے ملنا ہے کیا وہ اس وقت گھر پر موجود ہے” نوین اپنا تعارف کروائے بغیر اس سے فصیح کے بارے میں پوچھنے لگی جس پر اس لڑکی نے پورا دروازہ کھول کر اسے اندر بلایا اور لیونگ روم میں بیٹھنے کے لیے کہا
“مسسز شاہنواز کیسی ہیں آپ۔۔۔ آپ ہی کا انتظار کر رہا تھا میں مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا آپ اتنی جلدی آئے گیں،، کہیے کیا لینا پسند کریں گی آپ کافی یا ڈرنک”
تھوڑی دیر میں فصیح لیونگ روم کے اندر آیا اور چہکتا ہوا حِق میزبانی کے فرائض انجام دیتا ہوا نوین سے پوچھنے لگا
“میرے خیال میں تکلفات میں پڑے بغیر کام کی بات کر لینی چاہیے۔۔ فصیح یقین کرو کام کی بات میں صرف میرا ہی نہیں تمہارا بھی فائدہ ہوگا،،، لیکن کام اگر تم بہت محتاط طریقے سے ایمانداری کے ساتھ کرو گے تب”
نوین صوفے پر براجمان ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھ کر بولی
“بات اگر میرے فائدے کی ہے مسز شاہنواز تو آپ یقین رکھیے میں ایک کُتے سے بھی زیادہ وفادار ثابت ہوگا،، اب اصل موضوع پر آئیے”
فصیح نوین کو دیکھتا ہوا کہنے لگا تو نوین نے اپنے بیگ سے ایک چھوٹی سی شیشی نکالی اور ٹیبل پر رکھی فصیح سوالیہ نظروں سے نوین کو دیکھنے لگا
“سِلو پوائزن ہے یہ مگر اتنا بھی سِلو نہیں شراب کو یہ مزید زہریلا بنا دیتا ہے۔۔۔ اگر تم یہ آزھاد کی ڈرنگ میں ملا دو تو آزھاد کے جس فلیٹ میں تم رہ رہے ہو یہ فلیٹ تمہارا ہو سکتا ہے بلکہ آفس میں، میں تمہیں شاہنواز سے کہہ کر اچھی پوسٹ پر رکھوا سکتی ہو۔۔۔ اپنے دوستوں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی تو کیا تمہیں اپنے باپ کے آگے بھی ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔ کام مکمل ہونے کے بعد پیمنٹ تمہارے اکاؤنٹ میں جمع کروا دی جائے گی اور یہ تمہارے کام کی ہے ایڈوانس پیمنٹ”
نوین نوٹوں کا بنڈل ٹیبل پر اچھالتی ہوئی بولی اس کے بعد اس نے فصیح کو دیکھا جو کہ خباثت سے مسکراتے ہوئے شیشی اور پیسے دونوں اٹھا رہا تھا
“آپ کے سوتیلے بیٹے پر ویسے بھی میرے بہت سے حساب نکلتے ہیں چلو ایسے ہی سہی حساب کتاب برابر ہوجائے گا،، آپ کا یہ کام پرسوں ہو جائے گا تگڑی رقم تیار رکھیے گا”
فصیح سنجیدگی سے نوین کو دیکھتا ہوا بولا
“کیا میں پوچھ سکتا ہوں اس دشمنی کی خاص وجہ”
فصیح نوین کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“نہیں”
نوین نے سنجیدگی سے مختصر جواب دیا
“جیسے آپ خوش مسسز شاہنواز، ویسے ہم بھی خوش”
فصیح مسکراتا ہوا نوین سے بولا
****
“مما ہنی کہاں ہے”
آزھاد آفس سے گھر آیا حنین کو کمرے میں موجود نہ پاکر وجیہہ سے پوچھنے اس کے روم میں آگیا
“کومل اور حنین دونوں یہی قریب مال تک گئی ہیں فضل کے ساتھ،، تم جلدی آگئی آج آفس سے”
وجیہہ آزھاد کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“جی آج کچھ خاص کام نہیں تھا ڈیڈ بھی تھوڑی دیر میں آ جائے گے۔۔۔ آپ بتائیں کیا کر رہی تھی ہے”
آزھاد صوفے پر بیٹھی ہوئی وجیہہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“کچھ خاص نہیں سلمہ کی کال آئی تھی تھوڑی دیر پہلے، اسی سے باتیں کر رہی تھی کافی منگواؤں تمہارے لیے ہا لنچ کرو گے”
وجیہہ آزھاد سے پوچھنے لگی
“آپ رہنے دیں کافی کا میں خود صابرہ سے کہہ دیتا ہوں” آزھاد وجیہہ کو بولتا ہوا اس کے روم سے چلا گیا اور صابرہ سے کافی کا بول کر اپنے روم میں آکر ڈریس چینج کرکے حنین کا انتظار کرنے لگا
ایک گھنٹہ بعد جب کمرے کا دروازہ کھلا تو آزھاد کی آنکھ کھلی شاید کافی پی کر اس کی آنکھ لگ گئی تھی حنین دونوں ہاتھوں میں شاپر تھامے کمرے کے اندر داخل ہوئی
“آج آفس سے جلدی آگئے تم”
حنین سارے شاپرز صوفے پر رکھی ہوئی آزھاد سے پوچھنے لگی
“تم کہاں گھوم کر آ رہی ہو”
آزھاد اس کی بات کو نظرانداز کرکے حنین کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“کومل کا پروگرام بنا تو اس نے مجھے بھی اپنے ساتھ لے لیا یہ دیکھو تمہارے اور اپنے لیے کیا کیا لیا ہے”
حنین کو آزھاد کا موڈ ٹھیک نہیں لگا وہ اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے شاپنگ بینگز اٹھاکر اس کو اپنی اور اس کی چیزیں دکھانے لگی
“کس سے اجازت لے کر گئی تھی تم”
آزھاد کی بات سن کر حنین کے قدم رکے وہ مڑ کر آزھاد کو دیکھنے لگی جو ماتھے پر شکن لائے حنین سے پوچھ رہا تھا
“آنٹی کی اجازت پر ہی گئی تھی کومل کے ساتھ”
حنین آزھاد کو دیکھتی ہوئی سیریز ہوکر بتانے لگی
“میں تمہیں بیوقوف نظر آرہا ہوں جو گھر آنے کے بعد تمہارا ویٹ کر رہا ہو اور تم پچھلے تین گھنٹے سے سیروتفریح میں مگن، شوہر کا کچھ احساس ہے تمہیں یا نہیں”
آزھاد بیڈ سے اٹھتا ہوا بگڑے موڈ کے ساتھ حنین کو بولنے لگا
“تین گھنٹے کہاں سے لگے آزھاد، دو گھنٹے کے اندر واپسی ہوگئی ہماری اور تم تو آفس سے واپس چھے بجے آتے ہو ابھی تو صرف پانچ بجے ہیں اگر تم نے مجھے بتا دیا ہوتا کہ آفس سے جلدی آؤ گے تو میں نہیں جاتی کومل کے ساتھ، اب بلاوجہ غصہ مت کرو میرے اوپر”
حنین آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی وہ اس وقت بالکل نوین کی طرح ری ایکٹ کر رہا تھا۔۔۔ یا پھر ہر کسی کو اس کے اوپر روعب جمانے کی عادت تھی اس کا اپنا دل بُجھنے لگا
“یعنی تمہارا مطلب ہے میرے آفس جانے کے بعد، تم میری بغیر اجازت کہیں بھی گھومو پھرو اور میں تم سے کوئی سوال نہ پوچھو”
آزھاد حنین کے سامنے آ کر اسے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“اوکے اب آئندہ خیال رکھوں گی غصہ چھوڑو بس” حنین اب کی بار نرمی سے اس کو دیکھتی ہوئی بولی وہ اب ماتھے پر شکنوں کا جال سجائے حنین کے بالوں کو چھو کر دیکھ رہا تھا
“لینتھ چھوٹی کروائی ہے تم نے بالوں کی”
وہ مزید خراب موڈ کے ساتھ حنین کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“بالکل معمولی سی بہت رف ہوگئے تھے بال”
حنین نے اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا
“کس کی پرمیشن سے”
آزھاد اسے آنکھیں دکھاتا ہوا زور سے بولا۔۔۔ وہ جو اتنے دنوں سے اس کی محبت کی عادی ہوگئی تھی آزھاد کے اس انداز اور لہجے پر لبالب اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے
“اب رونا آرہا ہے تمہیں، یہاں دیکھو میری طرف”
وہ جو سر جھکا کر رو رہی تھی۔۔۔ آزھاد اسکو روتا ہوا دیکھ کر اب آرام سے بولا
“اتنی سینسیٹو ہے میری جان ذرا سا غصہ بھی برداشت نہیں،،، اچھا یہاں تو دیکھو یار میں مذاق کر رہا تھا سیریلی،، ایسے ہی ذرا شوہر ہونے کا روعب جھاڑ رہا تھا
وہ حنین کا چہرہ اوپر کر کے اسکی آنکھوں سے آنسو صاف کرتا ہوا پیار سے بولا۔۔۔
ہنی نے اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا حنین غصے میں بے شمار مُکے اس کے سینے پر جڑ دیئے۔۔ آزھاد نے ہنستے ہوئے حنین کو اونچا اٹھایا گول گھماتے ہوئے اسے بیڈ پر لے کر گرا
“تم بہت بدتمیز ہو” آزھاد کو اب مسکراتا ہوا دیکھ کر حنین شکوہ کرتی ہوئی بولی
“تم یہ بات مجھے کل رات کو بھی بتا چکی ہوں جب میں نے بھرپور بدتمیزی کا مظاہرہ کیا تھا”
وہ حنین کے لبوں کو اپنے ہونٹوں سے نرمی سے چھونے کے بعد اب گردن پر جُھکا
“کل رات واقعی بھرپور بدتمیزی ہو چکی ہے اب شرافت سے پیچھے ہٹ جاؤ”
وہ آزھاد کے سینے پر ہاتھ رکھتی ہوئی اسے پیچھے ہٹانے لگی
“شرافت سے تو میں کوئی کام کرتا ہی نہیں ہو ڈارلنگ۔۔۔ اب پیچھے جبھی ہٹو گا جب کل رات والی بدتمیزی کا پارٹ ٹو نہ دکھادو”
آزھاد اپنی شرٹ اتارنے کے لیے اٹھ کر بیٹھا
“کوئی ضرورت نہیں ہے، تمہاری یہ بے وقت کی بدتمیزی مجھے بےحد ڈسٹرب کرتی ہے”
حنین بھی اٹھتی ہوئی بولی مگر وہ اس کی کمر میں بازو حائل کرکے اسے دوبارہ لٹا چکا تھا اور خود اس پر جھک چکا تھا
ُپرامس آج رات کو ڈسٹرب نہیں کرو گا بس تم مجھے ابھی ڈسٹرب نہیں کرو”
وہ حنین کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنساتا ہوا اپنے اور اس کے ہاتھ تکیے پر رکھتا ہوا بولا
“اب یہ مت بولنا کہ آج رات کو تمہیں اپنے ان فضول دوستوں کے پاس جانا ہے”
حنین اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی کیوکہ آج صبح ہی آفس جانے کے ٹائم پر وہ فصیح کو کال پر اپنے آنے کا منع کر رہا تھا اور فصیح شاید اس سے ملنے کا بار بار بول رہا تھا
“یار فصیح بہت اصرار کر رہا تھا۔۔۔ مُکرم سے بھی پروگرام سیٹ ہوگیا ہے صرف دو گھنٹے میں واپسی کر لوں گا”
حنین کا بگڑا ہوا موڈ دیکھ کر وہ اپنے ہونٹ اس کے گال کے قریب لاتا ہوا نرمی سے بولا۔۔۔ ہونٹوں کو گال پر رکھنے کے بعد اب وہ حنین کی شہہ رگ کو چوم رہا تھا
“دو گھنٹے تم کہہ رہے ہو، چار گھنٹے لگاؤ گے۔۔۔ میری بلا سے پوری رات رہو اپنے دوستوں کے پاس”
حنین اس سے ناراض ہوتی ہوئی بولی تو آزھاد سر اٹھا کر اس کو دیکھتا ہوا گھورنے لگا
“اب تم اس طرح کروں گی میرے ساتھ”
آزھاد ناراض ہوتا ہوا اسے بولا تو حنین خاموش ہوگئی مگر اسے یقین تھا تھوڑی دیر میں وہ اپنا موڈ فریش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا بھی موڈ فرش کردے گا
*****
“ڈیڈ مما اگر آپ دونوں بزی نہیں ہے تو مجھے آپ دونوں سے کچھ ضروری بات کرنا تھی”
رات کے ڈنر کے بعد نوین کے علاوہ جب سب سیٹنگ روم میں موجود تھے آزھاد شاہنواز اور وجیہہ سے بولا
“سب خیریت ہے کیا ضروری بات کرنی ہے”
شاہنواز آزھاد کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“جی سب خیریت ہے مجھے کومل کے متعلق آپ دونوں سے ضروری بات کرنا تھی”
آزھاد شاہنواز کو دیکھتا ہوا بولا تو کومل سمجھ گئی کہ آزھاد کیا بات کرنے والا ہے اس لئے وہ اٹھ کر نامحسوس طریقے سے وہاں سے چلی گئی۔۔۔ کومل کو جاتا دیکھ کر حنین اٹھنے لگی مگر آزھاد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بٹھا دیا
“بولو کیا کہنا چاہتے ہو کوئی خاص بات ہے”
اب کی بار وجیہہ آزھاد سے بولی
“مما ڈیڈ میں کومل کے رشتے کے متعلق آپ دونوں سے بات کرنا چاہتا ہوں، اس دن ڈیڈ نے مُکرم کا نام لیا تھا، صحیح ہے وہ میرا دوست ہے مگر میں کومل کے لئے رشتے کے اعتبار سے اچھا انسان چاہوں گا اور میری نظر میں مُکرم سے بہتر عباس ہے۔۔۔ ڈیڈ وہ کومل کے لیے ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہے”
آزھاد نے اپنی بات شاہنواز کے سامنے رکھ کر شاہنواز اور وجیہہ کو باری باری دیکھا
“کہاں سے پرفیکٹ ہے وہ پانچ سے نو جاب کرنے والا، خود لائف اسٹیبل نہیں اس کی کومل کی ضروریات کہاں سے پورا کرے گا”
شاہنواز کو جیسے آزھاد کی بات کچھ خاص پسند نہیں آئی جبکہ وجیہہ خاموش رہی
“ڈیڈ میں جانتا ہوں پیسہ آج کل کے دور کی بڑی ضرورت ہے اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مگر میں مُکرم کی بھی نیچر اور عادتوں سے واقف ہوں اور عباس کی نیچر اور عادتوں سے بھی واقف ہو بلکہ عباس تو یہاں دو مہینے رہا ہے آپ نے خود اس کو اچھی طرح جج کیا ہوگا وہ ایک شریف لڑکا ہے اور رہی بات سیٹل ہونے کی،، اس نے بہت اچھی علاقے میں اپنا ذاتی گھر بنوایا ہے اس کی جاب کوئی گزارے لائق نہیں وہ اچھا خاصا کمات ہے۔۔ سب سے امپورٹنٹ بات کومل کو خوش رکھنے کی اور مجھے پورا یقین ہے کومل اس کے ساتھ خوش رہے گی”
آزھاد عباس کی خوبیاں بیان کرتا ہوا مزید بولتا اگر وجیہہ بیچ میں نہ بولتی
“یہ بات تو آزھاد صحیح کہہ رہا ہے مجھے وہ بچہ شروع دن سے ہی اچھا لگا مہذب اور تمیزدار”
وجیہہ کے کہنے پر شاہنواز نے گھور کر وجیہہ کو دیکھا
“وجیہہ اب آپ مت شروع ہوجائیں اپنے بیٹے کی سائڈ لینا” شاہنواز سر جھٹکتا ہوا سوچ میں پڑ گیا
“میں آزھاد کی سائڈ نہیں لے رہی ہو شاہنواز مُکرم اور عباس میں سے اپنی بیٹی کے لیے چوس کر رہی ہو مجھے لگ رہا ہے عباس کومل کے لیے بیسٹ چوائس ہے”
وجیہہ شاہنواز کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کرتی ہوئی بولی
“عباس کے ساتھ کومل کا رشتہ جوڑنے میں کومل کی خود کتنی مرضی شامل ہے” شاہنواز دوبارہ آزھاد سے مخاطب ہوا
“ڈیڈ مجھے کومل کا اندازہ ہے وہ آپ کی مرضی کو پہلے ویلیو دے گی مگر پلیز ایک بار آپ ہمارے اسٹیٹس سے ہٹ کر عباس کے بارے میں سوچیں آپ کو اس میں کوئی بھی برائی نہیں لگے گی”
آزھاد شاہنواز کو بولتا ہوا صوفے سے اٹھا
“اونچا اسٹیٹس ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے ہم منہ اٹھا کر اپنی بیٹی کا رشتہ لے کر جائیں عباس سے کہو جو طریقے کار ہوتا ہے اس کے مطابق وہ اپنے کسی بزرگ کو لے کر ہمارے گھر آئے باقاعدی ہماری بیٹی کا رشتہ مانگنے پھر دیکھ لیں گے اور سوچ لیں گے کہ آگے کیا کرنا ہے”
شاہنواز کی بات سن کر آزھاد اور وجیہہ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے
“جی ڈیڈ میں عباس کو سمجھا دو گا وہ ایسا ہی کرے گا۔۔۔۔ اوکے اب آپ ریسٹ کریں،، ہنی روم میں آکر میری بلیک جیکٹ ڈھونڈ کر دو مل نہیں رہی مجھے”
آزھاد شاہنواز کے بولنے کے بعد حنین سے مخاطب ہوا جو کہ سارے عرصہ خاموشی سے ساری گفتگو سن رہی تھی، مگر آزھاد کا اپنے دوستوں کے ساتھ پروگرام پر شاید وہ ناخوش تھی اور آزھاد اسے منانے کے بعد گھر سے نکلنا چاہتا تھا جبھی روم میں بلا رہا تھا
“تمہاری جیکٹ ڈریسنگ روم میں ہینگ کی تھی میں نے”
حنین کا جواب سن کر آزھاد اس کو گھور کر دیکھنے لگا حنین اس کی نظروں کو مکمل نظر انداز کرکے اب وجیہہ سے بات کر رہی تھی
“کہاں جا رہے ہو تم”
شاہنواز آزھاد کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو آزھاد نے فوراً حنین کے اوپر سے اپنی نظر ہٹائی
“ڈیڈ فصیح اور مُکرم کے ساتھ پروگرام بن گیا ہے تو۔۔۔”
آزھاد نے بات ادھوری چھوڑی
“شادی شدہ ہو گئے ہو تم، اب یہ فضول کے خرافات اور دوستیاں چھوڑ کر اپنی بیوی اور گھر پر دھیان دو”
شاہنواز نے آزھاد کو دیکھ کر اسے سمجھانا ضروری سمجھا
“جی ڈیڈ یہ لاسٹ ٹائم”
اپنی عادت کے برخلاف وہ شریفانہ لہجے میں بول کر شاہنواز اور وجیہہ کو بائے کہتا ہوا جبکہ حنین کو گھورتا ہوا روم سے باہر نکلا
روم کے باہر کومل کو کھڑا پایا یقیناً وہ وہاں پر کھڑی ہوکر اندر ہونے والی ساری گفتگو سن رہی تھی
“تھینک یو بھائی”
کومل آزھاد کے گلے لگتی ہوئی بولی تو آزھاد مسکرا کر اس کا چہرہ تھپتھپاتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا
****
اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے شاہنواز کے موبائل پر ڈاکٹر مرتضیٰ کی کال آئی۔۔۔ ڈاکٹر مرتضیٰ نہ صرف شاہنواز کا فیملی ڈاکٹر تھا بلکہ اس کا دوست بھی تھا یوں رات کو مرتضٰی کی کال آنے پر شاہنواز کو حیرت ہوئی نوین اس کے برابر میں ہی لیٹی تھی۔۔۔ شاہنواز نے بیڈ پر لیٹے کال ریسیو کی
“کیا۔۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو تم مرتضیٰ” شاہنواز مرتضیٰ کی بات سن کر جھٹکے سے اٹھ بیٹھا اور نوین شاہنواز کو دیکھ کر اٹھ گئی بیڈ سے اٹھ کر لائٹ ان کرتی ہوئی وہ شاہنواز کو دیکھنے لگی جس کے چہرہ پر گھبراہٹ کے تاثرات رونما تھے
“شاہنواز کیا ہوا ہے آپ کو، کس کی کال تھی”
نوین شاہنواز کے پاس آ کر اس سے پوچھنے لگی
“نوین آزھاد میرا بیٹا”
شاہنواز سے آگے بولا ہی نہیں گیا۔۔۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا نوین نے جلدی سے سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے گلاس میں پانی نکالا
“شانواز پانی پیئے تھوڑا سا”
وہ شاہنواز کے برابر میں بیٹھ کر اسے اپنے ہاتھ سے پانی پلانے لگی شاہنواز دو گھونٹ پانی پی کر کھڑا ہوگیا
“آپ کہاں جا رہے ہیں شاہنواز، مجھے کچھ تو بتائیں تو”
وہ کمرے سے باہر نکلنے لگا تو نوین اس کے سامنے آکر اسے بازو سے پکڑتی ہوئی پوچھنے لگی
“نوین آزھاد کی اس وقت کافی کریٹیکل کنڈیشن ہے معلوم نہیں اس نے جو ڈرنگ کی تھی وہ ایکسپائری تھی یا پھر اس ملاوٹ ذدہ۔۔ آزھاد کیا جانک بگڑتی ہوئی حالت دیکھ کر مُکرم اور فصیح اسکو ہاسپٹل لے گئے ہیں۔۔۔ مرتضی بتا رہا ہے اس وقت اسکی کنڈیشن بالکل ٹھیک نہیں ہے مجھے جانا ہوگا اس کے پاس”
شاہنواز غائب دماغی میں نوین کو بتا رہا تھا اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پسینے صاف چمکتے ہوئے نظر آرہے تھے
“اچھا آپ میری بات سنیں میں ڈرائیور کو بولتی ہوں وہ ہم دونوں کو ہاسپٹل لے کر چلا جائے گا، آپ کی کنڈیشن اس وقت ایسی نہیں کہ ہے کہ آپ ڈرائیو کر سکے۔۔۔ یہاں بیٹھے شاہنواز گھبرائے نہیں ہم دونوں ابھی تھوڑی دیر نہ ہاسپٹل چلتے ہیں” نوین شاہنواز کو بازو سے تھام کر صوفے پر بٹھانے لگی وہ اس وقت نوین کو بالکل بوڑھا سا وجود لگا جو اپنے جوان بیٹے کے لیے پریشان دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ نوین روم سے باہر نکلی تاکہ ڈرائیور کو کار نکالنے کا بول سکے
“تم یہاں کیا کر رہی ہو”
حنین کو ہال میں موجود دیکھکر نوین اس سے پوچھنے لگی
“آزھاد کا ویٹ کر رہی تھی وہ کہہ رہا تھا جلدی آجائے گا۔۔۔ آپ کہاں جارہی ہیں اس وقت”
حنین نوین کا باہر جاتا دیکھ کر پوچھنے لگی
“ڈرائیور کو کار نکالنے کا کہنے، آزھاد نے ڈرنگ لی تھی جوکہ ایکسپائری تھی اس کی کنڈیشن اس وقت ٹھیک نہیں ہے تم اپنے روم میں جا کر ریسٹ کرو میں ہاسپٹل پہنچ کر تمہیں فون پر باقی کی صورتحال بتا دوں گی”
نوین سب کچھ جتنے نارمل انداز میں اسے بتا رہی تھی حنین اس کی بات سن کر بے یقینی سے اسے دیکھے جا رہی تھی
“آپی آزھاد ٹھیک تو ہے ناں،،، آج جبھی میرا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ گھر سے دور جائے”
حنین بولتی ہوئی رونے لگی آزھاد نے پرامس کیا تھا کہ وہ کبھی بھی ڈرنگ نہیں کرے گا۔۔ ۔ مگر وہ اس وقت پرامس توڑنے سے زیادہ اس کی حالت کے لیے دکھی تھی
“ہنی میں نے تمہیں اس لیے نہیں بتایا ہے کہ تم رونے لگ جاؤ۔۔ اب میں تمہیں سنبمالو یا شاہنواز کو چلو جاؤ اپنے روم میں۔۔۔ پہنچادیا گیا ہے اسپتال تو لازمی بچ ہی جائے گا”
نوین بے زاری سے بولتی ہوئی ڈرائیور کو بلانے اس کی کوٹچ کی طرف گئی
****
شاہنواز اور نوین کے ساتھ حنین نے بھی اسپتال جانے کی ضد کری تو اس کو روتا ہوا دیکھ کر نوین کو اسے بھی اپنے ساتھ لانا پڑا وہ تینوں اس وقت اسپتال کے اندر موجود تھے۔۔۔ تب انہیں ویٹنگ روم میں مُکرم اور فصیح دکھے
“کیا ہوگیا آزھاد کو اچانک، وہ گھر سے بالکل ٹھیک نکلا تھا شاہنواز مُکرم کو دیکھتا ہوا مخاطب ہوا جبکہ فصیح روتی ہوئی حنین کے بعد اب نوین کو دیکھ رہا تھا جو اسے دیکھے بغیر مُکرم کی بات کا انتظار کر رہی تھی
“انکل مجھے خود سمجھ میں نہیں آرہا اچانک ڈرنگ کرنے کے بعد اس کا دل گھبرانے لگا وہ تکلیف سے کراہنے لگا جب اس کی نوز سے بلیڈنگ شروع ہوئی تو ہم اسے یہاں لے کر آگئے”
مُکرم تھوڑا ہچکچا کر شرمندہ سا شاہنواز کو بتانے لگا۔۔۔ شاہنواز اس وقت کیسے اپنے قدموں پر کھڑا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا جبکہ حنین مُکرم کی بات سن کر روئے جارہی تھی
“شاہنواز آپ پریشان مت ہوں ٹھیک ہو جائے گا آزھاد” شاہنواز کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے نوین کو اسے دلاسہ دینا پڑا اب مُکرم شاہنواز کو چئیر پر بٹھا رہا تھا جبکہ نوین حنین کو چپ کروانے لگی
“بھابی کو تو کچھ نہیں بتایا تم نے، ان کی حالت بگڑتی اس لیے میں نے تمہیں کال پر بھی منع کیا تھا”
تھوڑی دیر بعد مرتضیٰ شاہنواز کے پاس آگیا اور اس سے پوچھنے لگا
“وجیہہ اور کومل کو کچھ بھی نہیں معلوم ہے مرتضیٰ۔ ۔۔ مجھے اس وقت صرف آزھاد کی کنڈیشن بتاؤ۔۔۔۔ بس اتنا بتا دو اس کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے نا”
شاہنواز کسی انجان خدشے کے تحت ڈرتا ہوا مرتضٰی سے پوچھنے لگا۔۔۔ مرتضٰی نے ایک نظر نوین کے چہرے پر ڈالی پھر روتی ہوئی حنین کو دیکھا
“شاہنواز آزھاد نے جو ڈرنگ پی تھی اس میں پوائزن ملایا گیا تھا جوکہ اب اس کے بلڈ میں پوری طرح شامل ہوگیا ہے ہم کوشش کر رہے ہیں باقی جو اوپر والے کی رضا ہو”
مرتضٰی کی بات سن کر جیسے شاہنواز کرسی پر ڈھے سا گیا حنین کی بھی حالت ایسی ہی تھی جیسے وہ سکتے میں آگئی ہو۔۔۔
نوین اور مُکرم ہی ان دونوں کو سنبھال رہے تھے مگر نوین کے موبائل پر بار بار فصیح کا میسج آ رہا تھا جو اسے سیکنڈ فلور کے روم ٹو زیرو سیون میں آنے کا کہہ رہا تھا
“تم شاہنواز اور ہنی کے پاس موجود ہو میں زرا کار سے اپنی شال لے آؤ
نوین مُکرم سے بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی مگر اس کا رخ ہاسپٹل سے باہر گاڑی کی طرف نہیں بلکہ لفٹ کی طرف تھا اب وہ فصیح سے ملنے کے لیے سیکنڈ فلور پر جانے لگی…
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *