Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01
“کتنی بار بولا ہے آپکو، میرا انتظار مت کیا کریں ناشتہ کر لیا کریں”
شاہنواز نے بیزاری سے وجیہہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور کرسی گھسیٹ کر ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا وجیہہ وہیل چیئر پر موجود،۔۔۔ ناشتے کی ٹیبل پر اسی کا انتظار کر رہی تھی
“لے دے کر ایک یہی وقت تو ہوتا ہے کہ جب تم بزی نہیں ہوتے اور ہم دونوں ایک ساتھ ناشتے کے بہانے کچھ پل بات کر لیتے ہیں”
وجیہہ نے اپنے شوہر کو دیکھ کر کہا جس کی عمر اس وقت 47 سال کے لگ بھگ ہوتے ہوۓ بھی وہ اپنی عمر سے کم لگتا تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ بڑھتی ہوئی عمر نے اس کی پرسنلٹی میں اور زیادہ نکھار پیدا کر دیا تھا
“وجیہہ آپ مجھے بزی ہونے کے طعنے دیں گیں۔۔۔ جبکہ اس کی ذمہ داری بھی آپ خود ہی ہیں،، نہ آپ اپنے لاڈلے بیٹے کو اپنی تنہائی کا رونا رو کر یہاں پاکستان بلاتی نی وہ صدا کا جذباتی انسان امریکہ میں سیٹل سب کچھ وائنڈاپ کر کے یہاں آتا۔۔۔ نہ مجھے اپنے بزنس کو مزید ٹائم دینا پڑتا”
شاہنواز اب وجیہہ سے ناراض ہوتا ہوا بولا کیونکہ آزھاد کو پاکستان آئے ہوئے چار ماہ ہو چکے تھے مگر یہاں آ کر اس نے ابھی تک اپنی کمپنی میں ایک قدم تک نہیں رکھا تھا
“میں اب اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرنے لگی ہوں شاہنواز”
وجیہہ نے آزھاد کو پاکستان واپس بلانے کی وجہ بتائی مگر وہ یہ شکوہ نہیں کرسکی کہ شاہنواز خود اب وجیہہ کو پہلے کی طرف ٹائم نہیں دیتا تھا، نہ بات کرتا تھا۔۔۔ شادی کے 27 سالوں میں اس نے اپنے آپ کو معذور محسوس نہیں کیا تھا مگر اب وجیہہ کو اپنی معذوری کِھلنے لگی تھی بچپن سے ہی اس کی ایک ٹانگ نقص تھا جو کہ کافی علاج کے باوجود ٹھیک نہیں ہوا تھا
“تو پھر آپ مجھے بتائیں کیا علاج کروں میں آپ کے اکیلے پن کا،، اتنا پھیلا ہوا بزنس۔۔۔ خود بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپ کے پاس بیٹھ جاو۔۔۔۔ وجیہہ پلیز اب ہمارے بچے جوان ہو چکے ہیں آپ اپنی عمر دیکھیں اور کچھ میچورٹی کا ثبوت دیں”
شاہنواز ادھورا ناشتہ چھوڑ کر ٹیبل سے اٹھ گیا جبکہ وجیہہ آنکھوں میں نمی لیے ہلکا سا مسکرائی
ایک وقت وہ تھا جب شاہنواز نے بیس سال کی عمر میں اپنی والدہ کی سخت مخالفت کے باوجود اپنے سے پانچ سال عمر میں بڑی معذور تایا زاد سے شادی کرنے کی ضد کی،، لوگوں کے حیرت کرنے کے باوجود اس نے نہ صرف بردباری سے اپنے اس رشتے کو نبھایا بلکہ وجیہہ کا بہت اچھے طریقے سے خیال بھی رکھا شادی کے ایک سال بعد ہی آزھاد پیدا ہوا اور اس کے پانچ سال بعد کومل
محبت کرنے والے شوہر کے بعد جب وجیہہ کی زندگی میں اس کے بچے آئے تو وہ خود کو خوش نصیب تصور کرنے لگی وہ معذور ہونے کے باوجود زندگی میں خوش اور مطمئن تھی۔۔۔ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ باپ کی جائیداد کی وہ اکیلی وارث تھی۔۔۔ شاہنواز بھی حیثیت میں اس سے کم تر ہرگز نہیں تھا بلکہ وجیہہ کے ہم پلہ ہی تھا۔۔۔ مزید محنت اور جدوجہد سے ترقی کی مناظل طے کر کے وہ اس مقام پر پہنچا تھا کہ اس نے اپنا آپ منوا لیا تھا۔۔۔
مگر ایک سال پہلے وجیہہ کی زندگی نے عجیب پلٹا کھایا تھا۔۔۔ اپنی اکلوتی بیٹی کو یوں بے گانوں سی حالت میں دیکھ کر وجیہہ اندر ہی اندر گُھلتی رہتی۔۔۔ کومل کو اس حالت میں دیکھ کر آزھاد نے تب بھی پاکستان آنے کی کوشش کی تھی مگر تب شاہنواز نے اسے سختی سے منع کردیا تھا۔۔۔ کیوکہ امریکہ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ہوٹل مینجمنٹ کا کورس کرکے وہی ایک ہوٹل کھولنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ مگر 4 ماہ پہلے وجیہہ فون پر آزھاد سے بات کرتی ہوئی کافی روئی۔۔۔ اس کے ایک ہفتے بعد ہی آزھاد شاہنواز کو بتائے بغیر سب کچھ چھوڑ چھاڑ پاکستان واپس آ گیا تھا
****
“واو واٹ آ پریزنٹ سرپرائز واقعی حنین تم میری برتھ ڈے پارٹی میں آگئی ہو۔۔۔ تمہیں تمہاری سسٹر سے اجازت مل گئی مجھے یقین نہیں آرہا”
بریرہ نے ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے حنین سے کہا کیوکہ حنین بہت کم ہی کالج فرینڈز کے کسی انویٹیشن کو ایکسیپٹ کرتی تھی۔۔ وجہ صرف اور صرف اس کی بہن تھی جو اس کو کہیں آنے جانے کی پرمیشن نہیں دیتی تھی
“اجازت کیسے نہیں ملتی بھوک ہڑتال کرکے خوب رونا ڈالا تھا۔۔۔ منتیں کرنے سے تو آپی بلکل نہیں ماننے والی تھیں”
حنین بریرہ کو برتھڈے پریزنٹ تھماتے ہوئے بتانے لگی۔۔۔ پارٹی ڈریس ویئر کرنے کی بجائے۔۔۔ وہ کیجول کیپری اور ڈارک پرپل کلر کے ٹاپ میں بریرہ کی برتھ ڈے اٹینڈ کرنے آئی تھی۔۔۔ زیادہ بننا سنورنا اور میک اپ کرنا بھی نوین اسے الاؤ نہیں کرتی تھی۔۔۔ کیوکہ عام حلیہ میں بھی اس کا حسن یہ ہنر رکھتا تھا آرام سے سب کی توجہ اپنی طرف مندمل کر سکے
“اف تمہاری سسٹر کا بھی سمجھ نہیں آتا یار۔۔۔ آخر اتنی سختی میں کیوں رکھا ہوا ہے انہوں نے تمہیں اور تم بھی تو اپنی سسٹر سے کتنا ڈرتی ہوں”
بریرہ حنین کو داخلی راستے سے اندر کی طرف لے جاتی ہوئی بولی۔۔۔ بریرہ نے اپنی برتھ ڈے ایک مشہور ہوٹل میں ارینج کروائی تھی۔۔۔ پورا ہوٹل تو نہیں ہوٹل کا ایک حصے میں پارٹی ارینج کی گئی تھی
“بریرہ میں ڈرتی نہیں ہوں اپنی بہن سے بلکہ پیار کرتی ہو انہیں اور دیکھا جائے تو ایک طرح سے انہوں نے ہی مجھے پالا ہے مما کے ساتھ گزرا ہوا وقت مجھے یاد بھی نہیں ہے۔۔۔ آپی خود بھی آٹھ سال کی تھی جب مما ہم دونوں کو چھوڑ کر چلی گئی تھی اور رہی بات سختی کرنے کی تو وہ جو بھی کچھ کرتی ہیں آئی تھنیک میرے ہی خیال سے کرتی ہیں۔۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے مگر عادت ہوگئی تو اتنا برا نہیں لگتا”
حنین بریرہ کو بتاتے ہوئے مسکرانے لگی۔۔ مگر اس کی مسکراہٹ میں بھی اداسی کا عنصر شامل تھا شاید اپنی ماں کے ذکر پر
“افہو اب تم اداس مت ہوجانا پلیز۔۔۔ روما اور شارق کونے والی ٹیبل پر بیٹھے تمہارا ویٹ کر رہے ہیں”
بریرہ نے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا
ویسے تو نوین نے حنین کو لڑکوں سے دوستی الاؤ نہیں کی تھی مگر شارق اس کی پوری کلاس میں ایک ایسا اسٹوڈنٹ تھا جو کہ پڑھاکو اور نہایت شریف قسم کا لڑکا تھا۔۔۔ اس لیے وہ نوین کی پرمیشن پر وہ اس سے بات چیت کر لیتی یا پڑھائی میں ہیلپ لے لیتی
****
“میرا نمبر نشوا کو کیوں دیا تم نے فصیح۔۔۔ ویسے ہی اسکی شکل دیکھ کر کوفت ہوتی ہے اور آج صبح سے وہ مجھے کال کر کے بےزار کر رہی ہے”
ہوٹل میں موجود وہ تینوں ٹیبل کے گرد رکھی کرسیوں پر براجمان تھے تبھی آزھاد کے موبائل پر نشوا کی کال آنے لگی جسے کاٹتا ہوا وہ فصیح پوچھنے لگا
“تو تُو نے کب سے لڑکیوں کا لحاظ کرنا شروع کردیا نشوا کو بھی سنا دے جیسے پچھلے دنوں علینہ کو سنائی تھی”
مُکرم آزھاد کا تپا ہوا چہرہ دیکھ کر اس سے کہنے لگا
“میں لحاظ اُس نشوا کا نہیں کر رہا بلکہ اِس فصیح کا کر رہا ہوں۔۔۔۔ جس کی وہ فرینڈ ہے۔۔۔ اور علینہ کی تو بات ہی نہیں کر۔۔۔ بلاوجہ اس کا چپکنا زہر لگتا ہے مجھے”
آزھاد سر جھٹکتا ہوا کہنے لگا اور ساتھ ہی ٹیبل پر رکھے سگریٹ کے پیکٹ سے سگریٹ نکال کر اسموکنگ کرنے لگا
“نشوا نے خود مجھ سے تیرا نمبر مانگا تھا وہ تجھ سے فرینڈشپ کرنے میں انٹرسٹڈ لگی تبھی میں نے تیرا نمبر دیا”
فصیح انرجی ڈرینگ پیتا ہوا آزھاد کو بتانے لگا
“کم از کم مجھ سے تو پوچھنا چاہیے تھا کہ میں انٹرسٹڈ ہو کہ نہیں اس سے فرینڈ شپ کرنے میں”
آزھاد سگریٹ کا دھواں اڑاتا ہوا فصیح کو دیکھ کر کہنے لگا
“تو تُو لڑکیوں میں انٹرسٹڈ کیوں نہیں ہے میرے بھائی،، کہیں امریکا جا کر تیرا ذائقہ تو نہیں بدل گیا۔۔۔ مطلب،، ماں کا لاڈلا بگڑ گیا”
مُکرم کے ہانکنے پر جہاں فصیح نے قہقہ مار کر ہنسا وہی آزھاد نے بھی ہنستے ہوئے ٹیبل پر رکھی سگریٹ کا ڈبہ کھینچ کر مُکرم کو کھینچ کے مارا
“بکو نہیں زیادہ، تم لوگوں کی طرح کا نیچر نہیں ہے میرا،، جو ہر لڑکی پر بلاوجہ مر مٹو۔۔۔ ایک کیلیبر ہے میرا یوں ہر لڑکی کو لفٹ کروانا مجھے پسند نہیں”
6 فٹ کی ہائٹ پر چہرے کے سنجیدہ نقوش اس کی شخصیت کو منفرد ہی نہیں مغرور بھی بناتے تھے
“اور تیرا کیلیبر اس لڑکی کے بارے میں کیا کہتا ہے وہاں جو وہاں پرپل کلر کے ٹاپ میں کھڑی ہے”
مُکرم نے دور کھڑی حنین کی طرف اشارہ کیا جو کہ تیز میوزک کی وجہ سے باہر کی سائڈ آکر نوین کی کال اٹینڈ کر رہی تھی
“ہائیٹ چھوٹی ہے” آزھاد اس کی پانچ فٹ دو انچ ہائٹ کو دیکھ کر، سرسری سی نظر اس پر ڈالتا ہوا بولا اور نظروں کا زاویہ دوسری سمت کر لیا مگر کچھ تھا جو وہ دوبارہ حنین کو دیکھنے پر مجبور ہوا شاید اس کے چہرے کے حسین نقوش، یا پھر اس کی مسکراہٹ جوکہ ایک سیکنڈ کے لئے وہاں دوسری ٹیبل پر موجود دو سالہ بچے کو دیکھ کر آئی تھی یا پھر اس کی آنکھیں۔۔۔ فصیح مُکرم اور آزھاد تینوں ہی حنین کا جائزہ لینے میں مصروف تھے جو کہ اپنے موبائل کو کان پر لگائے نوین سے بات کر رہی تھی
“تیرا کیلیبر تو جو بھی کہے،،، میرا کیلیبر تو یہ کہتا ہے کہ پہلی فرصت میں اس کا سیل نمبر لینے کی ٹرائی کرنا چائیے”
فصیح حنین کو دیکھتا ہوا اٹھنے لگا
“زیادہ جذباتی نہ بن چپ کر کے بیٹھ جا، پچھلی بار کا وہ مُکّا بھول گیا جو سلمان کی شادی میں کسی حسینہ کو چھیڑنے پر اسکے منگیتر نے تیرے منہ پر رسید کیا تھا”
مُکرم نے فصیح کو ایک ماہ پہلے ہونے والی بےعزتی یاد کروائی جس پر فصیح خاموش ہوکر دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا جبکہ مُکرم اور آزھاد دونوں ہنسنے لگے
“زیادہ دانت نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ میں نے کم از کم سلمان کی شادی میں اس حسینہ سے بات کرنے کی ٹرائی تو ماری تھی۔۔۔ اگر تجھ میں ہمت ہے آزھاد اس حسینہ سے تو نمبر لے کر دکھا مان جاو گا”
فصیح آزھاد کو چیلنج کرتا ہوا بولا
“چھوڑ یار بچی لگ رہی ہے”
آزھاد دوبارہ حنین کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔ کیوکہ دکھنے میں ہی وہ اسکول یا کالج کی اسٹوڈنٹ لگ رہی تھی
“خیر یہ بچی تو کہیں سے نہیں ہے۔۔۔ یہ بول تجھ میں گڈز نہیں”
فصیح آزھاد کو بولتا ہوا مُکرم کو آنکھ مارنے لگا۔۔۔ فصیح کی بات سن کر آزھاد دونوں آئی برو اونچی کر کے اسے دیکھتا ہوا کرسی سے اٹھا
****
حنین جوکہ نوین سے موبائل پر بات کرکے واپس بریرہ کی برتھڈے والے پورشن میں جارہی تھی تاکہ اسے بائے بول دے کیوکہ نوین راستے میں ہی تھی وہ حنین کو لینے آرہی تھی
“ہیلو”
حنین کو اپنے پیچھے سے کسی لڑکے کی آواز سنائی دی۔۔۔ بھلا اس یہاں کون پکارے گا یہ سوچ کر حنین بغیر مڑے مزید آگے قدم بڑھانے لگی
“ہنی میں تم سے بات کر رہا ہو”
آزھاد دوبارہ حنین سے مخاطب ہوا اور حنین اپنے نک نیم پر چونک مڑی اب وہ حیرت سے آزھاد کو دیکھنے لگی
__________
“کون ہیں آپ میرا نام کیسے جانتے ہیں”
حنین کے لیے یہ چہرہ اجنبی تھا اور اجنبی لوگوں سے وہ بات نہیں کرتی تھی مگر سامنے کھڑے اس اجنبی نے اسے اس کے نام سے پکارا تھا
“تم نے مجھے نہیں پہچانا میں آزھاد” آزھاد نے نام تو کوئی بھی نہیں پھر یہ لڑکی کیسے کہ گئی کہ وہ اسکا نام جانتا تھا۔۔۔ یقیناً اس کے ہنی کہنے پر اس لڑکی نے ایسا کہا ہوگا۔۔ جبھی آزھاد نے اس سے جان پہچان نکالنے کا سوچا
“آزھاد کون،، سوری میں نے آپ کو نہیں پہچانا”
حنین کو واقعی یاد نہیں آیا وہ کون تھا اس لیے وہ جانے کے لیے مڑی
“ہنی ڈیئر میں تمہاری سسٹر کا فرینڈ ہو آزھاد”
آزھاد اس کو جاتا ہوا دیکھ کر جو منہ میں آیا بول گیا۔۔۔ حنین دوبارہ رکی
“آو آپی کے فرینڈ ہیں آپ”
حنین اسمائل دے کر بولی یقیناً وہ نوین کے آفس کا کالیک ہوگا جبھی وہ اس کا نام جانتا تھا اور ریفرنس بھی دیا حنین کی مسکراہٹ آزھاد غور سے دیکھنے لگا، وہ اچھی خاصی خوبصورت تھی
“اب پہچانا مجھے اور سناؤ کیسی ہو اسٹیڈیز کیسی چل رہی ہو”
آزھاد دل ہی دل میں ہنستا ہوا اپنا کونفیڈنس برقرار رکھتا ہوا حنین سے باتیں کرنے لگا
“میں ٹھیک ہوں،، ایگزیمز ابھی ختم ہوئے ہیں آپ یہاں کیسے”
حنین اس کی پہلی بات کا جواب دیے بغیر اس سے مسکرا کر بات کرنے لگی کیوکہ وہ اب بھی نہیں پہچان پا رہی تھی کہ وہ نوین کا کونسا آفس کولیک ہے
“ہاں میں اپنے فرینڈز کے ساتھ آیا تھا۔۔۔ ہنی مجھے تمہارا نمبر چاہیے تھا تم سے کچھ بات کرنا تھی”
آزھاد نے ایک نظر دور بیٹھے فصیح اور مُکرم پر ڈالی اور دوبارہ حنین سے مخاطب ہوا
“میرا نمبر مگر میرا نمبر آپ کو کیوں چاہیے”
حنین تھوڑی حیرت ذدہ ہونے کے ساتھ کنفیوز ہوکر پوچھنے لگی
“بتایا تو ہے ابھی کچھ بات کرنی تھی۔۔ ضروری بات، یوں سمجھ لو کچھ سیکرٹ بتانا ہے تمہیں”
آزھاد اس کو سنجیدگی سے دیکھتا ہوا بولا
“ضروری بات بتانی تھی، سیکرٹ۔۔۔ مجھے تو آپکی کچھ بات ہی نہیں سمجھ میں آ رہی۔۔۔ ایک منٹ کہیں آپ کو کچھ زنیرہ آپی کے بارے میں تو نہیں بتانا مجھے”
حنین پہلے کنفیوز ہوئی پھر کچھ سوچ کر ایک دم چونک کر بولی
“اف کورس یار اسی کے بارے میں ہی تو شیئر کرنا ہے۔۔۔ اور یہ بہت امپورٹنڈ بات ہے تمہاری بہن کی جس کا تمہیں علم ہونا چاہے”
آزھاد سمجھ گیا تھا کہ زنیرہ اس کی بہن کا نام ہے اور اب وہ آسانی سے نمبر دے دے گی
“مسٹر آزھاد اگر میری بہن کا نام زنیرہ ہوتا تو میں تب بھی آپ کو اپنا موبائل نمبر نہیں دیتی”
حنین آزھاد کو دیکھتی ہوئی سیریس انداز میں بولی۔۔۔
اس کی بات سن کر آزھاد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔ مطلب وہ لڑکی اتنی سیدھی بھی نہیں تھی
حنین اپنے سامنے کھڑے اس بدتمیز انسان کو دیکھنے لگی جو اب شرمندہ ہونے کی بجائے مسکرا رہا تھا۔۔۔ حنین واپس جانے کے لیے مڑی
“اوکے نمبر نہیں دو اپنا مگر ایک بات تو سنتی جاؤ”
آزھاد حنین کو جاتا دیکھ کر اچانک اسکا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا۔۔۔ حنین آزھاد کے یوں اچانک ہاتھ پکڑنے پر حیرانگی سے مڑی تھی مگر اس سے پہلے وہ اسے کچھ بولتی
“ہاتھ چھوڑو اس کا”
آزھاد کو ایک نسوانی آواز اپنی پشت سے سنائی دی اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک 26 سالہ لڑکی دونوں ہاتھ باندھے سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ حنین نوین کو دیکھ کر دل ہی دل میں شکر ادا کرنے لگی
“کیوں تمہیں کیا پرابلم ہو رہی ہے باڈی گارڈ ہو اس کی”
آزھاد اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“میں بہن ہوں اس کی اب تم بتاؤ کہ تم کون ہو”
نوین نے آگے بڑھ کر حنین کا ہاتھ آزھاد کے ہاتھ سے آزاد کروایا اب وہ آزھاد کے سامنے کھڑی اس سے پوچھنے لگی
“تمہاری بہن کا بوائے فرینڈ”
صرف ایک لمحے کیلئے وہ چونکا تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی ہنی کی بہن ہے مگر دوسرے ہی لمحے وہ کانفیڈینس سے نوین کو بولا۔۔۔ جبکہ آزھاد کی بات پر حنین آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی
“یہ کیا بول رہے ہو تم، دماغ تو خراب نہیں ہو گیا تمہارا۔۔۔ میں تو جانتی تک نہیں ہوں اسے کون ہے یہ”
حنین فوراً آپ سے تم پر آگئی تھی اور غصے میں آزھاد کی طرف دیکھتی ہوئی بولی یقیناً وہ اپنی بہن سے ڈر گئی تھی جبھی وہ نوین کو دیکھتی اپنی صفائی بھی دے رہی تھی
“ریلیکس ہنی گھبرا کیوں رہی ہو آخر کبھی نہ کبھی تو تمہاری آپی کو معلوم ہونا ہی تھا ہم دونوں کے بارے میں”
حنین نے صدمے سے آزھاد کو دیکھا اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی مگر آنکھوں میں صاف شرارت ناچ رہی تھی۔۔۔ یقیناً وہ کوئی بہت بڑا کمینہ تھا جو نمبر نہ ملنے پر الٹا اسے پھنسا رہا تھا
“ہنی باہر جاکر کار میں بیٹھو”
نوین آزھاد کو دیکھتی ہوئی حنین سے مخاطب ہوئی آزھاد اب بھی بنا خوف کے نوین کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ حنین نوین کی ایک آواز پر وہاں سے چلی گئی
“آئندہ میری بہن سے بات کرنے کی یا پھر اس سے فری ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ اگر تم مجھے اس کے آس پاس بھی بھٹکتے ہوئے نظر آئے تو”
نوین اسے غصے میں دیکھتی وارن کرنے لگی
“تو؟؟؟۔۔۔”
جتنے غصے میں نوین آزھاد کو دیکھ کر بولی تھی اتنی ہی سنجیدگی سے آزھاد پینٹ کی پاکٹ میں دونوں ہاتھ ڈال کر نوین سے پوچھنے لگا
“تو میں تمہارا وہ حشر کروں گی کہ تم خود کو آئینے میں پہچان نہیں پاؤ گے”
نوین اپنے سامنے کھڑے کسی امیر زادے کی بگڑی ہوئی اولاد کو دھمکاتے ہوئے کہا
“آپی جی آپ کی اس دھمکی کو میں نے چیلنج سمجھ کر ایکسپٹ کیا ہے۔۔۔ اب آگے آگے دیکھے ہوتا ہے کیا”
آزھاد مسکراہٹ اچھالتا ہوا نوین کے غصے کو مزید ہوا دے کر وہاں سے چلا گیا
“بدتمیز”
نوین دل ہی دل میں آزھاد کو بولتی ہوٹل سے باہر نکل گئی
****
“یار کیا ضرورت تھی اس بچاری کو پھسانے کی۔۔۔ دیکھا نہیں اس کی بہن کیسے خونخوار نظروں سے تجھے گھور رہی تھی۔۔۔ اب ناجانے وہ اس حسینہ کا گھر جاکر کیا حال کرے گی”
فصیح اور مُکرم جوکہ نوین کے آنے پر تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہوکر ان کی ساری گفتگو سن رہے تھے۔۔۔ فصیح حنین پر ترس کھاتا ہوا بولا جس پر آزھاد ہنسنے لگا
“بہت اچھا ہوگا جو اس کی بہن گھر جاکر اس کی اچھی سی کلاس لے۔۔۔ زیادہ ہی اسمارٹ بن رہی تھی میرے سامنے”
آزھاد ٹیبل سے اپنا سگریٹ اور لائٹر پاکٹ میں رکھتا ہوا بولا
“بہت ہی ظالم ہے یار تُو تو اور وہ جو تو نے اس کی بہن کا چیلنج ایکسپٹ کیا ہے اس کا کیا کرنا ہے اب”
اب کی بار مُکرم آزھاد کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جس پر آزھاد مسکرایا
“تم دونوں تو کافی سیریس ہوگئے ہو چلو چلتے ہیں”
آزھاد کار کی کیچین اچھالتا ہوا ان دونوں کو کہہ کر باہر نکل گیا
****
“کون تھا وہ لڑکا اور کب سے جانتی ہوں اسے”
نوین گھر کے اندر داخل ہونے کے ساتھ حنین سے سختی سے پوچھنے لگی
“آپی قسم لے لیں میں اس کو نہیں جانتی وہ سب کچھ جھوٹ بول رہا تھا” حنین نوین کے سخت تیور دیکھتی ہوئی اسے اپنی صفائی دینے لگی
“تم اس کو نہیں جانتی اور وہ تمہارا نک نیم بھی جانتا ہے۔۔ سچ سچ بتاؤ ہنی مجھے”
نوین حنین کا ہاتھ سختی سے پکڑ کر اسے صوفے پر بٹھاتی ہوئی بولی
“آئی سوئیر میں سچ کہہ رہی ہوں اسے میرا نام کیسے پتہ ہے مجھے نہیں معلوم”
نوین کے اس طرح پوچھ گچھ کرنے پر اب حنین کو رونا ہی آنے لگا
“میرے سامنے وہ اپنے آپ کو تمہارا بوائے فرینڈ کہہ رہا ہے۔۔۔ اور تم قسم کھا رہی ہو کہ تمہیں کچھ نہیں معلوم”
نوین کو غصہ آیا تو وہ حنین پر مزید چیختی ہوئی بولی
“ایسا اس نے اس لیے بولا کیوکہ میں نے اپنا سیل نمبر دینے سے انکار کردیا تھا”
حنین نے شوز اتار کر اپنے دونوں پاؤں صوفے پر رکھے اور اب سر گھٹنے پر ٹکا کر رونے لگی
“تو وہاں پر اس سے کھڑے ہوکر باتیں کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔۔۔ تمہارے اس طرح رونے سے میں نرم ہرگز نہیں پڑنے والی۔۔۔ جانتی نہیں ہو تم آج کل کے لڑکوں کو کتنے بے ہودہ اور بدتمیز ہوتے ہیں۔۔۔ اور اس لڑکے کی آنکھوں میں تو شرم نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔۔۔ آئندہ اگر میں نے تمہیں اس لڑکے کے ساتھ دوبارہ دیکھا تو نہ صرف تمہاری پڑھائی ختم ہوگی۔ ۔۔ بلکہ جلد از جلد کسی سے بھی تمہاری شادی کر دوں گی”
نوین اس کو مزید سناتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی
اور حنین گھٹنوں میں سر رکھ کر رونے لگی۔۔۔ چند مہینے پہلے اس کا انسٹیٹوٹ جانا بھی نوین نے اسلیے بند کیا تھا وہاں سے کوئی لڑکا اسکا پیچھا کرتے گھر آگیا تھا مگر اس لڑکے کی قسمت اچھی نہیں تھی جو وہ نوین کے ہاتھ لگ گیا اور نوین نے اس لڑکے کی جوتوں سے وہ درگت بنائی کہ دوبارہ کبھی وہ انکے فلیٹ کے آس پاس بھی نہیں بھٹکا۔ ۔۔۔ مگر حنین کا انسٹیٹیوٹ جانا بند ہوگیا کیوکہ احتیاط اچھی چیز ہوتی ہے
حنین کے بچپن میں ہی اسکی ماں کی ڈیتھ ہوچکی تھی۔۔۔ نوین خود بھی اس وقت زیادہ بڑی نہیں تھی،،، مگر ننھی سی حنین کو اسی نے پالا تھا۔۔۔ اور چار سال پہلے فیروز مرزا (باپ) کا بھی انتقال ہو چکا تھا اس لیے حنین کے لیے نوین ہی اس کی ماں اور باپ تھے.
جاری ہے
