Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12
صبح سویرے عباس آفس کے لیے اپنی انیکسی سے باہر نکلا اس کی نظر کومل پر پڑی جو اپنے کمرے کی کھڑکی میں خاموش کھڑی تھی عباس کچھ سوچتا ہوا اپنے کار کی طرف جانے کی بجائے گھر کے اندر داخل ہوا
“کیا بات ہے آج کومی بےبی کافی چپ چپ ہے”
عباس کومل کے کمرے میں داخل ہوتا ہوا اس سے مخاطب ہوا کومل نے ایک نظر عباس کو دیکھا اس کی آنکھوں میں شناسائی کی کوئی رمق نہیں تھی بلکہ اجنبی تاثر لیے وہ عباس کو دیکھ کر واپس کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی
“کیا ارادہ ہے شام میں کومی بےبی نے عباس کے ساتھ فٹ بال کھیلنی ہے یا پھر کارٹون مووی دیکھنا ہے کیوکہ کومی بےبی کا فرینڈ اس کے لیے بہت سیڈیز لے کر آیا ہے” عباس کومل کے پاس آتا ہوں اسے بتانے لگا
“کون ہو تم”
کومل اسے اجنبی نگاہ سے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی تو عباس کو حیرت کا جھٹکا لگا
“میں عباس”
عباس نے اسے دیکھ کر حیرت سے کہا
“کون عباس میں تو میں نہیں جانتی” کومل عباس کو گھورتی ہوئی بولی وہ اس وقت کسی چھوٹے بچے کی طرح ری ایکٹ کرنے کی بجائے بالکل نارمل لڑکی لگ رہی تھی
“عباس کومی بےبی کا فرینڈ”
عباس حیرت سے اس کو اپنا آپ یاد دلانے لگا
“اس نے بھی تو کہا تھا کہ وہ میرا فرینڈ ہے پھر اس نے میرے ساتھ کیا کیا۔۔۔ تم بھی اپنے آپ کو فرینڈ کہہ رہے ہو وہی کرنا چاہتے ہوں دوبارہ،، جو اس دن اس نے کیا تھا”
کومل عباس کو دیکھتی ہوئی بولی اچانک اس کی آنکھوں میں عباس کو دیکھ کر خوف طاری ہونے لگا اب وہ عباس کو دیکھ کر ڈرتی ہوئی پیچھے ہٹنے لگی
“کومل یہاں دیکھو پہچانو مجھے میں عباس ہوں تمہارا دوست تمہیں کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا”
عباس اس کے پاس آتا ہوا بولا
“میری پاس مت آنا۔۔۔ بچاؤ مجھے پلیز کوئی تو ہیلپ کرو میری اس سے”
کومل دیوانہ وار اسے دیکھ کر چیخنے لگی اور عباس کو دھکا دے کر کمرے سے بھاگنے لگی مگر اس سے پہلے وہ کمرے سے باہر نکلتی آزھاد کمرے میں آن پہنچا
“پلیز میری ہیلپ کرو مجھے اس سے بچالو”
کومل ڈرتی ہوئی آزھاد کو دیکھ کر بولی
__________
“پلیز میری ہیلپ کرو مجھے اس سے بچا لو”
کومل ڈرتی ہوئی آزھاد کو دیکھ کر بولی
آزھاد نے عباس کی طرف دیکھا تو اس کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی، ناجانے اب آزھاد کیا سمجھ بیٹھے کہ وہ اس کی بہن کے ساتھ کیا کر رہا تھا
“کومل وہ عباس ہے تمہارا فرینڈ اس سے مت ڈرو”
آزھاد کومل کو دونوں بازوں سے تھام کر اسے سمجھانے لگا۔۔۔ عباس کو تھوڑا اطمینان ہوا مگر وہ ابھی بھی ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہا تھا
“جھوٹ بول رہے ہو تم، ملے ہوئے ہوں اس کے ساتھ،، اس دن بھی تو دو لوگ تھے تم دونوں ہی مل کر مجھے”
کومل چیختی ہوئی اس سے پہلے اپنا جملہ مکمل کرتی
“کومل بس کرو آزھاد ہوں میں تمہارا بھائی،، ہوش میں آؤ”
آزھاد تیز آواز میں اس کو دونوں بازوں کو جھنجوڑتا ہوا بولا
“کوئی میری مدد کرو پلیز مجھے بچا لو ان دونوں سے”
آزھاد کومل کو تھامتا ہوا بیڈ پر لے جانے لگا
جبکہ وہ آزھاد کے ہاتھوں سے نکلنے کی پوری کوشش کر رہی تھی اور زور زور سے چیخ کر رو رہی تھی، عباس ایک کونے میں سن کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ آزھاد اب کومل کو کندھوں سے پکڑ کر بیڈ پر لٹا رہا تھا مگر کومل اب بھی بے قابو ہو کر زور زور سے چیخ رہی تھی اپنے کندھے پر آزھاد کے ہاتھوں کو ناخنوں سے نوچ کر ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی
“ڈیوائیڈر کی سیکنڈ ڈراز سے جلدی سے میڈیسن باکس نکالو”
آزھاد نے گم سم کھڑے عباس کو دیکھ کر کہا وہ سر ہلاتا ہوں جلدی سے میڈیسن باکس نکال کر لایا
کومل زور زور چیخ کر بیڈ پر اپنی ایڑھیاں رگڑ رہی تھی جبکہ گھر میں موجود ملازم کمرے سے باہر ہی کھڑے تھے اس وقت کسی کو بھی کمرے کے اندر آنے کی اجازت نہیں تھی سوائے کوثر کہ، کوثر ناجانے اتنی دیر سے کہاں غائب تھی وہ فوراً ناجانے کہاں سے بھاگتی ہوئی روم کے اندر آئی اور جلدی سے سرنج نکال کر انجکشن میں بھرنے لگی۔۔۔
عباس نے آگے بڑھ کر کومل کے پاؤں پکڑنے چاہیے کیوکہ وہ اپنا پورا زور لگا کر اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی آزھاد نے اس کو مشکل سے ہی قابو کیا ہوا تھا
“نہیں عباس اس کے پاؤں مت پکڑنا وہ اور زیادہ بےقابو ہو جائے گی”
آزھاد عباس کا ارادہ بھانپ کر فوراً بولا عباس پیچھے ہو کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ اب کوثر کومل کو انجکشن لگا رہی تھی
شاید کومل کا ماضی بہت بھیانک تھا عباس کو ایک دم دیا یاد آگئی وہ اب نم آنکھوں سے کومل کو دیکھ رہا تھا جس کے وجود میں اب حرکت ہونا بند ہو گئی تھی۔۔ شاید یہ انجیکشن کا کمال تھا۔۔۔ آزھاد کومل پر کمفرٹر ڈالتا ہوں عباس کے پاس آیا
“آو میرے روم میں چلتے ہیں، تین سے چار گھنٹے بعد کومل نارمل ہو جائے گی”
آزھاد بولتا ہوا کومل کے کمرے سے باہر نکل گیا عباس بھی اس کے پیچھے آزھاد کے کمرے میں پہنچا
عباس کو اس وقت آفس جانا تھا مگر اب وہ آفس کو بھول کر آزھاد کے کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھا اور مسلسل کومل کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔ آزھاد اسے سوچوں میں گم چھوڑ کر اپنا ڈریس لیتا ہوا چینج کرنے چلا گیا کیوکہ اسے بھی آفس نکلنا تھا
“کومل کے بارے میں سوچ رہے ہو تم ابھی تک”
آزھاد چینج کرکے واپس روم میں آیا تو سوچوں میں گم عباس سے پوچھنے لگا
عباس خاموشی سے آزھاد کی طرف دیکھنے لگا اس میں اب کی بار ہمت نہیں تھی کہ وہ آزھاد سے پوچھتا آخر کومل کو کیا ہوا ہے آج وہ خود بہت کچھ سمجھ چکا تھا
“ایک دن تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کومل کے ساتھ کیا ہوا ہے”
آزھاد اسے خاموش دیکھ کر دوبارہ بولا اور ساتھ ہی اپنے شوز پہننے لگا
“جب تک مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا مگر آج کومل کا بی ہیویر دیکھ کر اور اس کی باتیں سن کر اندازہ ہو رہا ہے۔۔۔ یہ دنیا بہت بے رحم، سنگدل اور بے حس درندہ صفت لوگوں سے بھری ہے مجھے بہت دکھ ہو رہا ہے آزھاد کومل کے بارے میں جان کر”
عباس کے چہرے سے دکھ صاف چھلک رہا تھا عباس کی بات سن کر آزھاد نے چونک کر اسے دیکھا
“کبھی کبھی ویسا نہیں ہوتا عباس جیسا ہم سوچ رہے ہوتے ہیں حقیقت اس کے برعکس بھی ہوتی ہے”
ریسٹ واچ کلائی پر باندھتا ہوا آزھاد عباس سے بولا تو عباس اس کی بات سن کر کنفیوز ہو کر اسکو دیکھنے لگا
“شاید تم بھی آفس کے لئے نکل رہے تھے، میں بھی آفس کے لیے لیٹ ہو رہا ہوں شام میں ملتے ہیں”
آزھاد کے بولنے پر عباس اقرار میں سر ہلاتا ہوا اس کے روم سے نکل گیا
****
کالج سے اب سارے اسٹوڈنٹ کا رش چھٹ گیا تھا۔۔۔ وہ پچھلے دو دن سے اس وقت کالج اف ہونے کے ٹائم پر آتا اور گاڑی میں بیٹھ کر حنین کا انتظار کرتا۔۔۔ آج تیسرا دن تھا حنین کو نہ دیکھے ہوئے بے بسی اب غصے میں ڈھلنے لگی کیوکہ وہ اس کی کال بھی نہیں اٹھا رہی تھی نہ کالج آرہی تھی۔۔۔
آج آزھاد واپس آفس جانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا بلکہ نوین کے فلیٹ میں جاکر حنین سے ملنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ بیشک نوین گھر پر موجود ہو وہ اس سے ڈرتا نہیں تھا
وہ حنین سے ملنا چاہتا تھا، اس سے بات کرنا چاہتا تھا، دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔آزھاد نے اپنی کار نوین کے فلیٹ کی طرف موڑی
****
“چھوڑیں آپی کن چکروں میں پڑ گئی ہیں ڈاکٹر نے آپ کو ریسٹ کا بولا ہے۔۔۔ جائے یہ پیزا میں بیک کر لیتی ہو”
حنین کچن میں آئی تو نوین کو پزا کا سامان پھیلائے مصروف انداز میں دیکھ کر بولی
حنین کو نوین کے ہاتھ کا پزا بےحد پسند تھا اکثر وہ چھٹی والے دن نوین سے فرمائش کرکے پیزا بنواتی مگر اس وقت نوین کی کنڈیشن کو دیکھ کر اسے کچن سے جانے کا کہنے لگی
“تمہیں پسند ہے نا میرے ہاتھ کا پیزا اس لیے بنا رہی ہو۔۔۔ معلوم نہیں واپس پنڈی سے تمہارا کتنے دنوں بعد آنا ہو”
نوین اداسی سے مسکراتی ہوئی بولی اور بکھرا ہوا سامان سمٹنے لگی۔۔۔ اگر اسے آزھاد کا خطرہ نہیں ہوتا تو وہ اپنی بہن کو اپنے سے کبھی بھی دور نہیں کرتی
“اگر اتنی ہی اداسی ہورہی ہے تو پھر بھیج کیوں رہی ہیں مجھے، آپی میں آپ کی بات کا احترام کرتے ہوئے پنڈی تو جا رہی ہو مگر اس کے بدلے میں ایک بات آپ کو بھی میری ماننا پڑے گی” حنین نوین کی جانب دیکھتی ہوئی کہنے لگی
“اور وہ کیا بات ہے” نوین دونوں ہاتھ سینے سے باندھتے ہوئے حنین کی طرف دیکھ کر پوچھنے لگی
“میں پرسوں پنڈی نہیں جارہی بلکہ آپ کے ریسپشن کے بعد جاؤں گی اور آپ میری اس بات سے بالکل انکار نہیں کریں گی۔۔۔ میری ایک ہی بہن ہے میں اس کی خوشی میں شریک ہوئے بغیر میں ہرگز نہیں جانے والی”
حنین سیریس ہو کر بولی تھی تو نوین مسکرا دی
کل رات میں ہی اسے شاہنواز نے اپنے اور وجیہہ سے ہونے والی گفتگو کے متعلق بتایا تھا۔۔۔ اب وہ چار دن بعد ایک بڑے پیمانے پر دعوت رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا جس میں دوست احباب اور قریبی رشتے کی موجودگی میں وہ اپنے اور نوین کے رشتے کو منظر عام پر لاسکے اور اسی دن وہ نوین کو اپنے ساتھ اپنے گھر لانے کا ارادہ رکھتا تھا نوین اس بات کو لے کر کل رات سے بہت زیادہ خوش تھی
“چھوٹی تم شروع سے ہی ایموشنل ڈائیلاگز بول کر مجھ سے اپنی ہر بات منگواتی ہو، یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے”
نوین اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی کہنے لگی جبکہ اندر سے کہیں وہ بھی یہی چاہتی تھی کہ اس کے اسپیشل ڈے پر اس کی بہن بھی اس کے سامنے موجود ہو
“ایموشنل ڈائیلاگز نہ بولو تو آپ نے ماننا بھی کب ہے۔۔۔ خیر آج شام میں بھی آپ کے ساتھ شاپنگ پر جارہی ہوں تاکہ اپنے لئے ریسیپشن پارٹی کا اچھا سا ڈریس لے سکو”
حنین اسمائل دیتی ہوئی بولی جس پر نوین مسکرا دی
آج شام نوین اپنے لئے ایونٹ کے حساب سے ڈریس لینے کا ارادہ رکھتی تھی شاہنواز نے خود تو آنے کا منع کردیا تھا البتہ ایک بھاری اماؤنٹ اس کے اکاؤنٹ میں ضرور ٹرانسفر کروا دی تھی تاکہ وہ اچھی طرح اپنی شاپنگ کرلے۔۔۔ ابھی وہ دونوں کچن میں باتوں میں مصروف تھی تب ڈور بیل بجی
“میڈ آگئی میں دروازہ کھول کر آتی ہوں”
نوین حنین کو بولتی ہوئی کچن سے نکلی گئی جبکہ حنین پیزا کی ٹرے اوون میں رکھنے لگی
****
“تم۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر داخل ہونے کی” نوین نے جیسے ہی زرا سا دروازہ کھولا اچانک آنے والا پورا دروازہ کھول کر فلیٹ کے اندر داخل ہوا پہلے تو نوین پریشان ہوئی مگر پھر آزھاد کی حرکت دیکھ کر وہ غصے سے اس کے پیچھے آتی ہوئی بولی
“ہنی کو بلاؤ مجھے اس سے بات کرنی ہے۔۔۔ ہنی”
آزھاد نوین کی بات کو اگنور کرتا ہوا سنجیدگی سے بولا اور ساتھ ہی حنین کے بیڈ روم کی سمت دیکھ کر اس کا نام بھی پکارا
“تم”
حنین جو کہ کچن میں موجود تھی آزھاد کی آواز سن کر کچن سے نکل کر آئی حیرت سے اسے دیکھتی ہوئی بولی
آزھاد نے پیچھے مڑ کے کچن کے دروازے پر حنین کو دیکھا اس کے چہرے پر چھائی بیزاری ختم ہوئی آنکھوں میں نرم تاثر ابھرا۔۔۔ وہ اپنے سامنے کھڑی حنین کو دیکھ رہا تھا اور نوین حیرت زدہ ہو کر آزھاد کو دیکھ رہی تھی جبکہ حنین بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی
“ہنی تمہیں اس دن میری بات سننی چاہئے تھی وہاں سے اس طرح نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔ مجھے تم سے بات کرنی ہے”
آزھاد اب بھی حنین کو دیکھ کر نرم لہجے میں بولا
“ہنی فوراً اپنے کمرے میں جاؤ” نوین آزھاد کے لہجے اس کا انداز پر تشوی زدہ ہوکر حنین کو کہنے لگی
آزھاد نے ناگواری سے نوین کی طرف دیکھا نوین بھی اسے ناگوار نظروں سے ہی دیکھ رہی تھی
“ہنی رکو میری بات سنو”
حنین کو اپنے کمرے میں جاتا ہوا دیکھ کر آزھاد ایک بار پھر بولا مگر اسے غصہ تب آیا جب حنین نے اپنے کمرے میں جاکر دروازہ بند کر لیا وہ غصے میں لب بھینچ کر بند دروازے کو دیکھنے لگا جبکہ دوسری طرف نوین کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی
“مل لیے ہنی سے، کرلی اس سے بات،، ہوگئی تسلی،، اب فوراً میری فلیٹ سے نکلو یہ تمہارا آفس ہرگز نہیں ہے یہ میرا فلیٹ ہے اور میرے فلیٹ میں کوئی بھی منہ اٹھا کر چلا آئے یہ بات مجھے قطعی پسند نہیں اس لیے آئندہ خیال رکھنا”
نوین صوفے پر بیٹھی ہوئی بہت مغرور انداز میں بولنے لگی
“تم اور تمہاری بہن دونوں ہی بہت ضدی ہیں۔۔۔ عقل مند لوگ وہ ہوتے ہیں جو سامنے والے کو دیکھ کر ضد کریں اب تم دونوں ہی اپنی اپنی ضد کا انجام بھگتو گی۔۔۔ تمہیں تو میں اچھی طرح بتاؤں گا ہی لیکن اب تمہاری بہن سے بھی اچھی طرح نمٹو گا”
آزھاد صوفے پر بیٹھی ہوئی نوین کو دیکھ کر بولا اس وقت یہ لڑکی اسے دنیا کی سب سے زہر لڑکی لگی مگر اس وقت اسے حنین پر بھی غصہ آیا تھا
“آزھاد چار دن کی بات ہے، چار دن کے بعد تو تم روز ہی مجھے دیکھو گے آفٹر آل چار دن بعد میں تمہارے گھر جو آ رہی ہو، پھر کون کسی نمٹتا ہے یہ بھی آگے جاکر دیکھ لیں گے۔۔۔ کیا ہوا میری بات سمجھ میں نہیں آرہی،، کنفیوژن ہو رہی ہے پلیز جاؤ،، جاکر اپنی مما سے پوچھو تمہارے گھر پر کیا قیامت گزر چکی ہے تم ابھی تک لاعلم ہو۔۔۔ یقین مانو اس وقت تمہیں وجیہہ کے پاس ہونا چاہیے اس کے آنسو پوچھنے کے لئے”
نوین اس کو دیکھ کر ہمدردانہ رویہ اختیار کرتی ہوئی بولی
آزھاد خاموشی سے نوین کو دیکھتا رہا اس کی باتیں آزھاد کا دماغ کھولا رہی تھی وہ آفس کی بجائے اپنے گھر جانے کے لیے نکل گیا
****
“یعنیٰ ڈیڈ نے نوین سے شادی کرلی ہے۔۔۔ جبھی وہ گھر آنے کی بات اتنی بے خوفی اور اتنے کونفیڈنس سے بول رہی ہے اگر ایسی بات ہے تو میں اسے اپنے گھر میں ٹکنے نہیں دوں گا بلکہ میں اسے ڈیڈ کی زندگی سے بھی نکال دور پھینک دو گا۔۔۔ نوین مرزا میں تمہیں بخشوں گا نہیں۔۔ اب تم سہی معنوں میں پچھتاوگی”
آزھاد ڈرائیونگ کرتا ہوا مسلسل سوچ رہا تھا اب اسے شاہنواز کے پاس جانا تھا اس سے سوالات کرنے تھے
____________
“کوثر کومل کی طبیعت کیسی ہے اب”
عباس شام میں آفس سے گھر آیا تختو کومل کی طبیعت پوچھنے اس کی طرف چلا گیا
“صبح سے تو کافی بہتر ہیں کومی بےبی، اب پہچان بھی رہی ہیں۔۔۔ پر صبح سے ہی خاموش ہیں کسی سے بات نہیں کر رہی”
کوثر عباس کو کومل کی کنڈیشن بتانے لگی
“چلیں کوئی بات نہیں کومی بےبی کو میں دیکھ لیتا ہوں آخر کیوں ان کی بیٹری لو ہے صبح سے”
عباس کوثر سے بولتا ہوا کومل کے روم میں آیا وہ اپنے بیڈ پر ٹیڈی گود میں لیے بیٹھی تھی
“تو کومی بےبی ٹیڈی کے ساتھ بیٹھی ہیں، اس ٹیڈی سے اپنے فرینڈ کو نہیں ملواؤں گی کومی”
عباس کومل کے پاس آیا اس کی آنکھوں میں اپنے لیے شناسائی کی جھلک دیکھ کر بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھ گیا
“یہ کسی سے نہیں ملتا، نہ کسی سے بات کرتا ہے صرف کومی کے سارے سیکریٹز سنتا ہے کیوکہ اس کے کان بہت بڑے ہیں، کسی دوسرے سے وہ سیکرٹ شیئر نہیں کرتا کیوکہ اس کے پاس زبان نہیں ہے۔۔۔۔ یہ ٹیڈی نہیں ہے کومی کا بہت اچھا فرینڈ ہے”
عباس نے نوٹ کیا وہ آج معمول سے ہٹ کر کافی سیریس تھی
“عباس اس ٹیڈی سے زیادہ اچھا فرینڈ ثابت ہوسکتا ہے بےشک اس کے کان بڑے نہیں ہیں مگر وہ کومی کے سارے سیکریٹ آسانی سے نہ صرف سن سکتا ہے بلکہ زبان ہوتے ہوئے بھی وہ کبھی کومی کے سیکرٹ کسی سے شئیر نہیں کر سکتا۔۔۔ کیوکہ عباس کومی کا بہت اچھا فرینڈ ہے”
عباس کومل کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا
“پھر کومی جو بات عباس سے کہے گی عباس وہ مانے گا”
کومل عباس کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“عباس کومی بےبی کی ہر بات مانے گا”
عباس کو کومل کا چہرہ دیکھ کر اس پر بہت ترس آیا۔۔۔ اس کا دل بہلانے کی خاطر وہ بولا
“اس ٹیڈی کا شولڈر بہت چھوٹا ہے کومی اس پر اپنا سر نہیں رکھ سکتی کیا کومی عباس کے شولڈر پر اپنا سر رکھ کے تھوڑا سا رو لے”
کومل گود میں موجود ٹیڈی کو پھینک کر اچانک عباس کے قریب آئی اور اس کے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگی۔۔۔ عباس اس کی حرکت پر تھوڑا سا پریشان ہوا اسے سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا کرے مگر عباس نے اس کو رونے سے منع نہیں کیا، نہ پیچھے ہٹایا۔۔۔ وہ خاموش ویسے ہی بیٹھا رہا اور کومل کو رونے دیا
“دل ہی دل میں کیا کیا سوچتا رہتا ہے یہ چھوٹا بےبی”
جب کومل نے رونا بند کیا اور اس کے کندھے پر سر ہٹایا تو عباس اپنی انگلی کے پوروں سے اس کے گال سے آنسو صاف کرتا ہوا پوچھنے لگا عباس اسے اس وقت کسی چھوٹی بچی کی طرح ٹریٹ کرنے لگا
“کومی کا دل چاہ رہا ہے وہ اس گھر سے دور چلی جائے کومی کو یہاں سے لے چلو پلیز”
عباس کومل کی انوکھی سی فرمائش پر اسے خاموشی سے دیکھتا رہا
“اوکے اب رونا نہیں میں آنٹی سے پرمیشن لے کر آتا ہوں پھر کومی اور اس کا فرینڈ آج بہت سارا گھومے گیں پھریں گیں مگر ایک وعدہ کرو مجھ سے کبھی بھی کومی عباس سے یہ نہیں کہے گی کون عباس، کومی کسی عباس کو نہیں جانتی،، معلوم ہے صبح جب کومی نے عباس کو نہیں پہچانا تو عباس کو بہت دکھ ہوا تھا”
کومل عباس کی بات سن کر اسے ایسے دیکھنے لگی جیسے اسے عباس کی بات سمجھ میں نہیں آئی ہو۔۔۔ عباس سمجھ گیا وہ آج صبح والا قصہ ذہن سے فراموش کر بیٹھی ہے۔۔۔ عباس واقعی وجیہہ کے پاس کومل کو اپنے ساتھ لے جانے کی پرمیشن لینے چلا گیا
****
“کیوں کی آپ نے اس گھٹیا لڑکی سے شادی”
آزھاد شاہنواز کے بیڈروم کا دروازہ کھول کر اندر آتا ہوا زور سے ڈھاڑا
“یہ کون سا طریقہ ہے باپ سے بات کرنے کا، نوین کا نام تمیز سے لو”
شاہنواز جو بیڈ پر بیٹھا ہوا وجیہہ کا ہاتھ تھامے اسے کچھ بات کر رہا تھا اچانک آزھاد کے اس طرح آنے اور چیخنے پر خود بھی برہم ہوا
“جو آپ نے طریقہ کار اپنایا ہے اس پر اسی طریقے سے بات کرنا بنتا ہے۔۔۔ آپ کے ساتھ رشتہ جوڑ کر وہ میری ماں نہیں بن سکتی نہ ہی وہ کبھی میری ماں کی جگہ لے سکتی ہے جو میں اس کا نام تمیز سے لو۔۔۔ کیوں کیا آپ نے مما کے ساتھ ایسا،، کیوں کیا آپ نے کومل اور میرے ساتھ ایسا۔۔۔ جواب دیں آپ مجھے”
آزھاد پہلے سے زیادہ زور سے اونچی آواز میں چیخا
“ہوتے کون ہو تم مجھ سے جواب طلب کرنے والے۔۔۔ تم مجھ سے پیدا ہو،، میں تم سے پیدا نہیں۔۔۔ جو یہاں کھڑے ہوکر مجھ سے جواب طلب کرنے آئے ہو۔۔۔۔ جو بھی جواب دینا ہے میں اِسے دو گا کوئی بھی بات پوچھنے کا حق وجیہہ رکھتی ہے۔۔۔ تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ تم اس وقت میرے کمرے سے چلے جاؤ”
شاہنواز وجیہہ کے پاس سے اٹھ کر آزھاد کے مقابل آکر کھڑا ہوتا ہوا بولا
“یہ تو کنفرم ہے ڈیڈ وہ عورت یہاں اس گھر میں نہیں آئے گی،، آپ اسے لے کر خود بھی کہیں اور چلے جائیں جیسے آپ کو ہماری پروا نہیں ایسی زندگی میں اب ہمیں بھی آپ کی ضرورت نہیں ہے”
آزھاد شاہنواز کو دیکھتا ہوا بولا ضبط اور غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی کیوکہ سامنے اس کا باپ کھڑا تھا، آزھاد اس پر چیخ کر غصہ کر کے ہی تو اپنے دل کا غبار نکال سکتا تھا
“نوین آج سے چار دن بعد اسی گھر میں آئے گی اور یہی رہے گی، یہ گھر جتنا تمہارا ہے اتنا ہی میں بھی مالک ہوں اس گھر کا”
شاہنواز اپنے جوان بیٹے کو جتاتا ہوا بولا جو قد میں اونچا نکل کر شاید خود کو شاہنواز کا باپ سمجھ رہا تھا
“ٹھیک ہے پھر آپ کو اپنا یہ گھر اور نئی بیوی مبارک ہو،،، میں یا میری ماں تو اس گھر میں نہیں رہے گے اب”
آزھاد شاہنواز کو بولتا ہوں وجیہہ کو دیکھنے لگا جو کافی دیر سے خاموشی سے دونوں باپ بیٹے کو دیکھ رہی تھی.
جاری ہے
