Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31
چلو چلتے ہیں”
آزھاد عماد کو سرے سے نظرانداز کرتا ہوا حنین کے پاس آکر اس سے بولا
“آپ کون”
حنین جوکہ خوبصورت سی اسمائل دے کر عماد سے باتوں میں مصروف تھی آزھاد کو دیکھ کر اجنبیت برتتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ جس پر آزھاد نے سیریس انداز آبرو اچکا کر اسے دیکھا
“یہاں محفل میں ہی بتاؤ سب کے سامنے کون ہوں میں”
آزھاد نے جس انداز میں حنین سے بولا واضح تھا وہ اس سے اپنا رشتہ منہ سے بول کر ہرگز نہیں بتائے گا
“اے برو کیا ہوا یار کون ہو آپ”
عماد نے بیچ میں مداخلت کرتے ہوئے آزھاد سے پوچھا
“بالکل خاموشی سے بیٹھے رہو اور اب بیچ میں بالکل مت بولنا”
آزھاد عماد کی طرف مڑتا ہوا اسے وارن کرنے لگا
“فوراً اٹھو”
اب آزھاد نے حنین کو آرڈر دینے والے انداز میں کہا
“مسلئہ کیا ہوتا ہے تمہارے جیسے مردوں کے ساتھ، اگر ایک لڑکی تم سے بات کرنے میں یا فرینڈ شپ کرنے میں انٹرسٹڈ نہیں ہے تو یوں اس کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہو۔۔۔ عماد ابھی میں تمہیں بتا رہی تھی نا جس کے بارے میں، یہ وہی ہے جو کافی دیر سے مجھے تنگ کر رہا ہے”
حنین آزھاد کو باتیں سناتی ہوئی اب عماد کو بتانے لگی
اس کی ایکٹنگ دیکھ کر آزھاد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی وہ یقیناً نشوا کو اس کے ساتھ دے کر بری طرح جیلس ہوئی تھی
“لِسن برو ایک منٹ ذرا سائیڈ پہ آؤ گے” اب عماد صوفے سے اٹھ کر آزھاد کو مخاطب کرتا ہوا بولا تو آزھاد اس کے پیچھے چل دیا
“دیکھو یار میری بات آرام سے سنو وہ مجھ سے سیٹ ہوچکی ہے۔۔۔ تم اپنے لیے کوئی دوسری ڈھونڈ لو”
عماد آزھاد کو ایک کونے میں لے جاکر بہت طریقے سے بولا تھا اور آزھاد نے اس کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیا اور مسکرا کر اسے دیکھا
“شادی کے ایک ماہ بعد بھی میں اسے ابھی تک سیٹ نہیں کر پایا ہو اور تو نے اسے پندرہ منٹ میں سیٹ کر لیا۔۔۔ چوزے وہ بیوی ہے میری، تیری شکل دیکھتے ہوئے وہ تجھے اُلو بنا کر مجھے جلا رہی ہے… چل شاباش خاموشی سے اپنا راستہ ناپ اور کوئی دوسری سیٹ کر”
آزھاد اس کے گال پھپتھپاتا ہوا آرام سے بولا اور واپس جانے کے لئے مڑا تب عماد اس نے اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا جس سے آزھاد کو روکنا پڑا
“کیا ثبوت ہے کہ تم اس کے شوہر ہو”
عماد کو اچھی خاصی سیٹ ہوئی لڑکی ہاتھ سے جانے کا قلق تھا اس لیے وہ آزھاد سے ثبوت مانگنے لگا
“ثبوت چاہیے”
آزھاد سنجیدگی سے عماد کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
****
“چلو اٹھو اب”
آزھاد حنین کے پاس آتا ہوا اس سے بولا
“عماد کہا ہے”
حنین کی نگاہیں آزھاد کے پیچھے عماد کو ڈھونڈنے لگی
“اب کی بار میں چلنے کا بولوں گا نہیں،، بلکہ بھرے مجمے میں جو کرو گا اس کی قصور وار صرف تم ہوگی پھر مجھے بے شرمی اور بےہودگی کے طعنے مت دینا”
آزھاد سنجیدہ ہوتا ہوا اسے دھمکانے لگا۔۔۔ تو حنین احسان کرنے والے انداز میں اٹھ کر آزھاد کو وہی چھوڑے ہوٹل سے باہر نکلنے لگی۔۔۔ آزھاد اپنی جیکٹ کی پاکٹ کی دونوں ہاتھ ڈالے اسکے پیچھے چلنے لگا۔۔۔۔ تب حنین نے ایکزٹ کے رستے عماد کو بھی باہر نکلتے دیکھا وہ ٹشو کی مدد سے اپنے گال اور ہونٹ کا خون چھپائے خود بھی وہاں سے رخصت ہو رہا تھا
“خون نکال دیا بیچارے کا”
حنین اس کی حالت پر افسوس کرتی ہوئی بولی
“ثبوت مانگ رہا تھا مجھ سے تمہارا شوہر ہونے کا۔۔۔ اس سے اتنی ہمدردی نہیں کرو ڈارلنگ اب صرف اپنے بارے میں سوچو کیونکہ گھر جا کر ثبوت تو میں تمہیں بھی دینے والا ہوں شوہر ہونے کا”
آزھاد جو حنین کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا اس کی بات سن کر حنین کو سنجیدگی سے بولا۔۔۔ حنین خاموشی سے آزھاد کو دیکھنے لگی اب وہ حنین کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے ہوٹل سے لےکر باہر نکلنے لگا
ہوٹل سے باہر نکل کر سرد ہوا کا جھونکا حنین کے بدن سے ٹکرایا اس نے ریڈ کلر کی ہالف سلیو لونگ فراک پہنی ہوئی تھی اپنی جرسی اور موبائل آزھاد کی جلدی جلدی کرنے پر وہ ساتھ لانا بھول گئ تھی۔۔۔ اور اب یہ ٹھٹھرا دینے والی ہوا اس کے جسم میں گھس رہی تھی
آزھاد کو اس کی حالت دیکھ کر اپنی جیکٹ اتار کر حنین کے شولڈر پر ڈالنی پڑی۔۔۔ جس پر حنین چہرہ اونچا کر کے اسے نرم نگاہوں سے دیکھنے لگی۔۔۔ حنین کے دیکھنے کے انداز پر آزھاد کو اس پر پیار آیا جس کا وہ ثبوت دیتا ہوا حنین کے اوپر جھکنے لگا۔۔ حنین ایک دم پیچھے ہوئی
“یہ پبلک پلیس ہے تم پٹو گے مجھ سے”
حنین اس کی اس عادت پر اکثر جھینپ جاتی۔۔۔ نہ وہ کسی آئے گا گئے کا لحاظ کرتا نہ اس کی بہن کا، نہ اپنے دوستوں کا۔۔۔ معلوم نہیں اپنے پیرنٹس کے سامنے وہ کیسے شرافت کا مظاہرہ کرلیتا تھا
“شوہر ہوں تمہارا تھوڑی عزت سے بات کر لیا کرو”
آزھاد اس کو دیکھ کر جتانے والے انداز میں بولا۔۔ باتیں کرتے کرتے وہ دونوں اب پارکنگ ایریا میں آ چکے تھے
“عزت سے تو تمہیں مجھ سے بھی مخاطب ہونا چاہیے۔۔ بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اور رشتہ بنتا ہے تمہارا اور میرا، خالہ ہو میں تمہاری”
حنین نے مزے سے بولتے ہوئے اس کا اور اپنا ایک اور رشتہ بتایا۔۔۔ کیوکہ نوین اسکی اسٹیپ مدر تھی اور وہ نوین کی بہن
“شٹ اپ ہنی”
آزھاد ناگواری سے بولا جسے وہ اس کی بات سن کر اچھا خاصہ بدمزہ ہوا تھا۔۔۔ مگر حنین اس کے فیس ایکسپریشنز کو دیکھ کر ایسے مسکرائی جیسے اس نے خود اپنی بات کو انجوائے کیا۔۔۔ آج سردی کی شدت کافی تھی کار کے قریب پہنچ کر حنین اپنی ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑتے ہوئے۔۔۔ آزھاد کے سامنے آئی اور اپنے دونوں ہاتھ آزھاد کے گالوں پر رکھ کر اسے گرمائش پہنچائی کیوکہ وہ اسے اس کی جیکٹ ہرگز نہیں دینے والی تھی
“ڈارلنگ اتنی سی گرمائش سے تمہارے شوہر کا کچھ بھی نہیں ہونے والا”
وہ حنین کی اس حرکت پر مسکراتا ہوا اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر بولا۔۔۔ تو حنین اس کو گھورتی ہوئی کار کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی
“بندی تھوڑا سا فری کیا ہو جائے تم تو بس لمٹ ہی کراس کر دیا کرو”
آزھاد کے کار میں بیٹھنے پر حنین اس کو گھورتی ہوئی بولی
“یہاں تو صرف باتوں سے ہی لمٹ کراس ہو سکتی ہے۔۔ تمہاری اس سردی کا علاج میں بیڈ روم میں جاکر کرو گا”
آزھاد کار اسٹارٹ کرتا ہوا بولا۔۔۔
حنین کو اندازہ ہوگیا وہ جو آج بار بار اسے جتا رہا تھا گھر پہنچ کر حنین کی ایک نہیں چلنے والی۔۔۔ اسے نوین کی باتیں یاد آنے لگی،،، آخر وہ دو سال تک کیسے آزھاد کو اس کے جائز حق سے محروم رکھ سکتی تھی۔۔۔ وہ آزھاد کی ناراضگی بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی، اور نوین کی شرط کا اسے بتا کر، آزھاد کا دل نوین سے مزید بدگمان بھی نہیں کر سکتی تھی
“کیا سوچنے لگ گئی”
حنین اپنی سوچوں سے نکل کر آزھاد کو دیکھنے لگی جوکہ ڈرائیونگ کررہا تھا
“سوچ رہی ہوں آج تم نشوا کے ساتھ بڑے کمفرٹیبل لگ رہے تھے”
حنین اپنی سوچوں کو جھٹک کر آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔ حنین کی بات سن کر آزھاد مسکرایا۔۔۔ اور حنین کا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگایا
“ڈارلنگ زیادہ مت سوچوں اس بات کو تمہاری جیسی بات کسی دوسری میں نہیں ہوسکتی”
آزھاد معنٰی خیزی سے اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا
حنین سر جھٹک کر ونڈوں سے باہر دیکھنے لگی
“ویسے میں بھی دور سے دیکھ رہا تھا کافی چہک چہک کر باتیں ہو رہی تھی اس عماد سے”
اب آزھاد ڈرائیونگ کرتا ہوا اس پر چوٹ کرنے لگا جس پر حنین نے اپنی مسکراہٹ چھپائی اور بالکل اسی کے اسٹائل میں بولی
“ڈارلنگ زیادہ مت سوچو اس بات کو تمہاری جیسی بات کسی دوسرے میں نہیں ہوسکتی”
آزھاد نے حنین کو دیکھا وہ اسی کو دیکھ رہی تھی پھر وہ دونوں ہنس پڑے
****
ایک بھرپور شام ساتھ گزارنے کے بعد وہ دونوں گھر لوٹے مُکرم کی پارٹی کے بعد آزھاد حنین کو ڈنر کروانے لے گیا تھا اور پھر لونگ ڈرائیو پر
جس میں حنین، سارا وقت آزھاد کی کسی نہ کسی بات پر بلش کرتی، کبھی اس کو گھورتی، تو کبھی مسکرا دیتی یا اس کو تنگ کرنے لگتی۔۔۔ ایسے ہی سارے راستے آزھاد حنین کی باتوں پر کبھی بے باک جملے بولتا، کبھی جوابی کارروائی کرتا اور ساتھ ہی اس کے شرمانے اور غصہ کرنے پر انجوائے کرتا
جب راستے میں آزھاد کار میں پٹرول بھروا رہا تھا تب حنین کی آنکھ لگ گئی رات بھی کافی ہوچکی تھی۔۔۔ ان دونوں کو گھر پہنچتے پہنچتے رات کے ڈھائی بج چکے تھے۔ ۔۔ آزھاد نے گھر کے پاس کار روکی تو حنین کی آنکھ کھلی۔۔۔ آزھاد نے حنین کی سائڈ کا دروازہ کھولا اور حنین کے اترنے سے پہلے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا
“آزھاد نیچے اتارو مجھے، گھر میں سب لوگ موجود ہوں گے”
حنین آزھاد کو گھورتی ہوئی بولی
“گھر میں بے شک سب لوگ ہو گے مگر کوئی ہمارے استقبال کے لیے جاگ نہیں رہا ہوگا بلکہ سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں سو چکے ہوں گے، اب یہ بتاؤ میری بیڈ روم میں اپنے بیڈروم میں”
آزھاد ویسے ہی حنین کو بازوؤں میں اٹھائے اس سے پوچھنے لگا
“میرے بیڈروم میں” حنین اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی آہستہ سے بولی
“اگر آپی جاگتی ہوئی ہمارا انتظار کرتی ملی”
حنین نے کسی خدشے کے تحت آزھاد سے پوچھا
“پھر تو تمہیں اسی طرح گود میں اٹھائے اس کے سامنے اپنے بیڈروم میں لے کر جاو گا”
آزھاد شرارتی انداز میں ہنستا ہوا بولا حنین اسے گھورنے لگی
“اور اگر انٹی ہم دونوں کا ویٹ کر رہی ہو جاگتی ہوئی”
حنین اب وجیہہ کے بارے میں پوچھنے لگی
“تم ان سے کہہ دوگا آپکی بہو کی فرمائش پر اسے گود میں اٹھایا ہوا ہے”
آزھاد کے بولنے پر حنین نے اسے ایک بار پھر گھورا اب وہ دونوں گھر کے اندر داخل ہوچکے تھے۔۔۔ اور گھر کے سب فرد تقریباً اپنے رومز میں سو رہے تھے
آزھاد نے حنین کے بیڈروم کا رخ کیا کمرے کے پاس پہنچ کر حنین نے روم کا دروازہ کھولا۔۔۔ آزھاد اس لے کر کمرے کے اندر داخل ہوا اور لات سے دروازہ بند کیا
حنین کو بیڈ پر لٹاتا ہوا اب وہ دروازہ لاک کرنے کے بعد اس کے قریب آیا تب تک حنین بیٹھتی ہوئی آزھاد کی جیکٹ اتار چکی تھی۔۔۔ اس کا چینج کرنے کا ارادہ تھا مگر اس آزھاد نے اسے کندھوں سے تھام کر بیڈ پر دوبارہ لٹا دیا اور خود اس کے قریب بیڈ پر بیٹھتا ہوا حنین کو دیکھنے لگا۔۔۔ آزھاد کی نظریں حنین کو جو پیغام دے رہی تھی اس کا مفہوم سمجھ کر وہ اپنی پلکیں جھکا گئی آزھاد کے لب آئستہ سے مسکرائے
آزھاد نے اس کا چہرہ تھام کر اونچا کیا اب وہ اس کے ہونٹوں پر جھک کر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا حنین نے اس کے دونوں بازو پکڑے مگر وہ اپنے ہاتھ حنین کی کمر کے گرد حاہل کرتا ہوا اس کی فراک کی زپ کھول چکا تھا آزھاد کی اس حرکت پر حنین کا دل بہت زور سے دھڑکا۔۔۔ وہ آزھاد کی سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانے لگی تب آزھاد نے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی گرفت سے آزاد کیا اور اٹھ کر بیٹھا
اب وہ اپنے شوز اتارنے کے بعد حنین کے پاؤوں کو سینڈلز سے آزاد کر رہا تھا۔۔۔ حنین بیڈ پر لیٹی ہوئی آدھی کھلی آدھی بند آنکھوں سے اسی کو دیکھ رہی تھی وہ حنین کی نازک پنڈلیوں کو چھونے لگا
“آزھاد کیا کر رہے ہو”
حنین دھڑکتے دل کے ساتھ بے وقوفی کا سوال اس سے پوچھنے لگی
“تمہیں ہر طرف سے لال کرنے کی تیاری”
آزھاد نارمل انداز میں کہتا ہوا اپنی شرٹ اتار چکا تھا
آزھاد نے اپنے ہونٹ حنین کی گردن پر رکھے تو وہ حنین نے اپنی آنکھیں بند کرلی شولڈرز سے اسے اپنی شڑٹ سرکتی ہوئی محسوس ہوئی اب وہ آزھاد کے ہونٹوں کا لمس اپنی گردن کے بعد اب اپنے کندھوں پر محسوس کرنے لگی
“ہنی میری جان آج تو تم گئی”
اپنے ہونٹ حنین کے کان کے پاس لا کر سرگوشی کرکے اسے ڈراتا ہوا وہ اپنے ہونٹوں سے اس کے کان کی لو چومنے لگا۔۔ اس کی بات سن کر حنین کا دل حلق میں آگیا
“آزھاد”
حنین نے اس کی بڑھتی ہوئی بےباکی پر اسے پکارتے ہوئے تکیے کو مٹھیوں سے دبوچا تو آزھاد اس کے اوپر جھکا ہوا اب حنین کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھ چکا تھا
شاید وہ اس وقت حنین کی سننے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھا۔۔۔ وہ حنین کی آواز نہیں بلکہ اس کی دل کی دھڑکنیں بہت قریب سے محسوس کرنا چاہتا تھا
حنین کے ہونٹوں پر رکھی ہوئی اپنی انگلی وہ آہستگی سے اس کے ہونٹوں پر پھیرتا ہوا نیچے تھوڑی تک لایا اور پھر اس کی گردن سے سیدھا پھیرتا ہوا سینے تک لایا
“آزاد پلیز”
حنین آزھاد کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی مگر وہ اس کی التجا کو خاطر میں نہ لاتا ہوا اپنا ہاتھ چھڑا کر اس کا ہاتھ پکڑ چکا تھا
جہاں سے حنین نے اس کی انگلی ہٹائی تھی اب وہاں آزھاد اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا۔۔۔ وہ جو شرم و حیا کے باوجود ہمت کرکے تھوڑی سی اپنی آنکھیں کھول پائی تھی اسکی بےباکی پر دوبارہ اسے اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی
“آزھاد”
وہ اسکی مزید بڑھتی ہوئی شدتیں سہہ کر جیسے رو دینے والی ہوئی
“اے کیا ہوا”
آزھاد کی آواز سن کر حنین نے اپنی آنکھیں کھولی وہ اٹھ کر اس کے چہرے کی نزدیک اپنا چہرہ کیا نرمی سے پوچھ رہا تھا
“ڈر لگ رہا ہے”
حنین کے چپ رہنے پر آزھاد اس سے پوچھنے لگا
“تھوڑا تھوڑا”
حنین ہمت کرکے بولی مگر وہ شرم کی وجہ سے آزھاد سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی
“ابھی سے”
وہ حنین کے ماتھے پر آئے بال پیچھے کرتا ہوا اسے دیکھ کر کہنے لگا۔۔۔ اس کی بات پر حنین اسے دیکھنے لگی مگر آزھاد کو اپنی طرف دیکھتا پا کر وہ دوبارہ اپنی پلکیں جھکا گئی
“پیار کرتی ہو ناں مجھ سے”
آزھاد سنجیدگی سے اس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا آزھاد کی بات پر دوبارہ حنین نے اپنی پلکیں اٹھائی۔۔۔ وہ منہ سے کچھ نہیں بولی بس اقرار میں سر ہلایا
“تو پھر خود کو ریلیکس کرو شاباش”
وہ حنین کے ماتھے پر اپنے ہونٹوں سے مہر لگاتا ہوا اسے ریلیکس کرنے لگا اور حنین کو کمفرٹر اوڑیا۔۔۔ اس سے پہلے حنین خود کو ریلیکس کرتی ایک بار پھر آزھاد اس کے پورے وجود پر قابض ہو چکا تھا
اب کی بار نہ صرف اس کا دل بری طرح دھڑکا تھا بلکہ اسے اپنی جان بھی نکلتی ہوئی محسوس ہوئی اس سے پہلے درد کی شدت سے وہ چیختی آزھاد اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھ چکا تھا
_____________
دو بجے تک تو اس نے حنین کا انتظار کیا تھا مگر وہ گھر نہیں آئی اوپر سے وہ اپنا سیل فون بھی وہ گھر چھوڑ گئی تھی تو نوین کو اس بات پر اور بھی زیادہ غصہ آیا۔۔ آزھاد کے موبائل پر کال کرنے کا مطلب تھا وہ جان بوجھ کر حنین کو گھر مزید دیر سے لے کر آتا۔۔۔
چھ بجے کے قریب اسکی آنکھ کھلی، آنکھ کھلتے ہی نوین کا دماغ فوراً حنین کی طرف گیا وہ بجلی کی تیزی سے بیڈ اٹھی اور کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ حنین کا دروازہ اندر سے لاک دیکھ کر وہ کسی خدشے کے تحت آزھاد کے بیڈ روم میں گئی جو کہ خالی تھا۔۔ مین ہال میں آکر وہ ڈیوائیڈر میں موجود کی باکس سے وہ حنین کے بیڈروم کی ڈوپلیکیٹ کی نکالنے لگی
جب وہ حنین کے کمرے کا لاک کھولنے لگی تب اس کو ڈر بھی لگ رہا تھا۔۔۔ اگر یہ حرکت اس کی شاہنواز نے دیکھ لی یا پھر اندر واقعی آزھاد موجود ہو۔۔۔ اس طرح لاک کھول کر کسی کے بیڈروم میں جانا ویسے تو بہت غیر اخلاقی حرکت تھی مگر وہ اپنے دماغ میں آئے ہوئے سوالات سے مجبور ہوکر یہ قدم اٹھانے لگی
بہت آہستگی سے اس نے حنین کے روم کا دروازہ کھولا مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔ آزھاد اور حنین ایک کمفرٹر میں اتنے قریب بے خبر سو رہے تھے آزھاد کا بازو تکیہ پر پھیلا ہوا تھا جس پر حنین کا سر رکھا تھا۔۔ آزھاد کی کروٹ حنین کی طرف تھی اور حنین کا چہرہ آزھاد کے ہونٹوں کے بے حد نزدیک وہ صاف دیکھ سکتی تھی کہ آزھاد نے اس وقت نہیں پہنی۔۔۔ غصے میں اس نے اپنے جبڑے زور سے بھینچے
نوین کا بس نہیں چل رہا تھا وہ آزھاد کو سولی پر لٹکا دے بلکہ حنین کو بھی خوب جوتے لگائے ساری رات وہ اس کے لیے پریشان رہی اور اس کی بہن اسی کے دشمن کی باہوں میں مزے سے سو رہی تھی۔۔۔ زہر اگلتی نظروں سے وہ ان دونوں کو دیکھ کر آہستہ سے دروازہ بند کرنے لگی
جیسے ہی اس نے دروازہ بند کیا آزھاد کی آنکھ کھل گئی۔۔۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی کمرے میں موجود تھا یا پھر آیا تھا۔۔۔ گھر میں موجود ملازموں کی اتنی جرت نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ اس طرح کا کام کریں۔۔۔ اور گھر کا کوئی دوسرا فرد بھی یہ چیپ حرکت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ اور گھر میں کس کو آزھاد اور حنین سے تکلیف ہے اس کا آزھاد کو اچھی طرح علم تھا
آزھاد آہستگی سے حنین کے سر سے نیچے سے اپنا بازو نکال کر اپنی شرٹ پہنتا ہوا بیڈ سے اٹھا۔۔۔ اب اسے نوین کے کمرے میں جا کر اس کا دماغ اچھی طرح درست کرنا تھا
****
اپنے کمرے میں آکر وہ بلا جواز منہ سے ناخن چبا کر کمرے کے چکر لگا رہی تھی۔۔۔ تب اس کے کمرے کا دروازہ ہینڈل گھوما۔۔ شاہنواز کی آمد کا سوچ کر نوین دروازہ تک پہنچی مگر آنے والے نے زور سے دروازہ کھولا جو اس کے سر پر لگا
“یہ کیا طریقہ ہے کسی کے کمرے میں آنے کا، تمیز نام کی تم ہمں کوئی چیز ہے کہ نہیں”
نوین اپنے سر پر ہاتھ رکھتی ہوئی آزھاد کو دیکھ کر غصے میں بولی
“تم مجھے تمیز سکھاؤ گی۔۔۔ ویسے تم کیا دیکھنے آئی تھی ابھی بیڈروم میں”
آزھاد روم کا دروازہ بند کرتا ہوا نوین کے قریب آیا
“وہ تمہارا بیڈروم نہیں ہے ہنی کا بیڈروم ہے”
نوین اس کے سامنے کھڑی اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی
“پورا گھر میرا ہے، تم اپنی حد میں مطلب اس کمرے کی حدود تک رہو”
آزھاد نے اس کو آنکھیں دکھاتے ہوئے مزید اسکی طرف اپنے قدم بڑھائے۔۔۔ جس سے نوین پیچھے کی طرف اپنے قدم بڑھاتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“کیا کر رہے تھے تم ہنی کے ساتھ”
مزید آزھاد کو قدم بڑھاتے ہوئے دیکھ کر اسے مزید پیچھے کی طرف قدم بڑھانے پڑے
“جو بھی کچھ کرنا تھا وہ میں رات میں کر چکا ہو۔۔ڈیٹیل میں سننا پسند کروں گی یا شارٹ میں”
آزھاد سنجیدہ لہجے میں بولتا ہوا مزید قدم بڑھاتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“ابھی اور اسی وقت نکل جاؤ میرے کمرے سے”
آزھاد کے مزید آگے آنے سے نوین کو پیچھے بیڈ پر بیٹھنا پڑا۔۔ وہ غصے میں اس سے بولی
“نہیں تو کیا کروں گی الزام لگاؤ گی مجھ پر۔۔۔ کہ میں تمہارے کمرے میں آکر تمہیں چھیڑ رہا تھا”
آزھاد نے بے خوفی سے کہتے ہوئے بیڈ پر جوتے سمیت اپنا پاؤں ٹکایا۔۔۔ نوین اس کی بات سن کر غصے میں اس کو گھورنے لگی
“اگر تم میرے باپ کی بیوی نہیں ہوتی تو میں تمہیں تمہاری اس گھٹیا حرکت کا اچھی طرح جواب دیتا۔۔۔آئندہ اگر تم نے کمرے کا لاک کھول کر کوئی اونچھی حرکت کی۔۔۔ تو پھر میں جو تمھارا حشر کروں گا وہ دنیا دیکھے گی”
وہ شہادت کی انگلی نوین کو دکھاتا ہوا وارن کرنے لگا
“اچھا کیا کرو گے تم ذرا مجھے بھی تو پتا چلے”
نوین اس کی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بولی۔۔۔ پہلے تو آزھاد نوین کو خاموشی سے دیکھتا رہا پھر اچانک اس نے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھی ہوئی کانچ کی بوتل کو سائیڈ ٹیبل اٹھا کر اسے صرب لگا کر توڑا۔۔۔ اور بوتل کا ٹوٹا ہوا حصہ نوین کے چہرے کے قریب لایا۔۔۔ اب آزھاد کے چہرے کے تاثرات خوفناک حد تک سنجیدہ تھے
“صرف دو منٹ لگے گے مجھے تمہارا یہ چوکھٹا بگاڑنے میں۔۔۔ اس لئے میرے معاملات میں گھسنے کی یا اپنی ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اپنی حد میں رہو، اپنے کام سے کام رکھو اور ہنی سے دور رہو”
آزھاد نے ٹوٹی ہوئی کانچ کی بوتل کا حصہ نوین کے چہرے کے اس حد تک نزدیک کیا ہوا تھا کہ وہ اپنا سر پیچھے کر کے اور آنکھیں نیچی کر کے بوتل کو خوف سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ آزھاد اس کو اچھی طرح وارن کرتا ہوا بوتل کا ٹکڑا ڈسٹ بن میں پھینک کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ اور نوین بند دروازے کو گھور کر دیکھنے لگی جہاں سے ابھی آزھاد گیا تھا.
جاری ہے
