Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28
بدتمیز انسان، اپنی ماں کے سامنے ہی بےعزتی کر دی میری”
حنین سوچتی ہوئی واپس نوین کے روم میں جانے لگی
“کیا ہوگیا ناراض ہے آزھاد تم سے”
وجیہہ کی آواز سن کر حنین نے پلٹ کر اسے دیکھا وجیہہ بے تاثر اُسی کو دیکھ رہی تھی
“جی ناراض ہوگیا ہے آپ کا بیٹا مجھ سے”
حنین کو لگا جیسے اس کی بات سن کر وجیہہ طنزیہ ہنسے گی یا پھر کوئی طنز کرے گی۔۔۔
مگر حنین کی بات سن کر وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی اس کی مسکراہٹ میں کوئی چلاکی یا مکاری نہیں تھی بلکہ اس کے چہرے کی طرح اس کی مسکراہٹ بھی شفاف اور اجلی تھی
“اور اب تم میرے بیٹے کے ناراض ہونے کے غم میں ناشتہ نہیں کروگی”
حنین دوبارہ جانے لگی تو ایک بار پھر وجیہہ بولی حنین نے مڑ کر وجیہہ کو دیکھا وہ اب بھی حنین کو دیکھ رہی تھی
“خیر مجھے اب ایسا بھی کوئی غم لاحق نہیں ہوا اس کے ناراض ہونے کا” حنین ڈائینگ ٹیبل کے پاس آکر کرسی پر بیٹھتی ہوئی بولی۔۔۔ کل رات نوین کے چکر میں اس نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا اب وہ ان دونوں کا سوگ مزید بھوکا رہ کر نہیں بنا سکتی تھی
“ایسا ہی ہونا چاہئے کسی کی ناراضگی اور غصے کو کھانے پر نہیں نکالنا چاہیے”
وجیہہ اس سے متفق ہوتی ہوئی کیٹل سے چائے نکالنے لگی شاید وہ حنین کے لیے ہی چائے نکال رہی تھی کیونکہ اس کے آگے اس کا کپ پہلے سے رکھا ہوا تھا
“آپ کو بری نہیں لگی میری بات، مطلب میں آپ کے بیٹے کی ناراضگی کی پرواہ کیے بنا ناشتہ کر رہی ہو”
حنین وجیہہ کو دکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“بری لگنے والی کیا بات میرا بیٹا تمہارا شوہر ہے ناراضگی تو ہر رشتے میں چلتی رہتی ہے،، بس ایگو کو بیچ میں نہیں لانا چاہئے مطلب بات کو نہیں بڑھانا چاہیے”
وجیہہ چائے کا کپ حنین کے آگے رکھ چکی تھی اور وہ اپنا ناشتہ کرتی ہوئی بولی
“بالکل ایسے ہی جیسے آپ نے بات کو نہیں بڑھایا اور ایگو کو بیچ میں لائے بغیر مجھ سے صلح کرلی”
حنین خود بھی ناشتہ کرتی ہوئی وجیہہ سے پوچھنے لگی
“میں تم سے ناراض نہیں تھی حنین، بس دو دن سے غصہ تھا،، مگر پھر خود کو سمجھایا تم صرف نوین کی بہن نہیں آزھاد کی بیوی بھی ہو، خیر تم آزھاد کو منا لینا اس کو منانا کو زیادہ مشکل نہیں”
وجیہہ ناشتہ کرنے کے ساتھ ساتھ حنین کو دیکھتی ہوئے بولی
“جی وہ آفس سے آئے گا تو میں اس کو منا لوں گی”
حنین نے ایک نظر وجیہہ کو دیکھکر تھوڑا جھکجھک کر جواب دیا اور ناشتہ کرنے لگی
“تم اس کے آفس سے آنے کا انتظار کر رہی ہوں تب تک تو ناراضگی کا دورانیہ اور بڑھ جائے گا ایسا کیوں نہیں کرتی کہ تم خود آزھاد کے آفس چلی جاؤ اور وہاں جاکر اسے منا لو”
وجیہہ نے حنین کو مشورہ دیا جس پر حنین اسے دیکھنے لگی
“میں اسے آفس جا کر منالو مطلب وہ میرے آفس آنے کا مائینڈ تو نہیں کرے گا”
حنین ہچکچاتی ہوئی وجیہہ سے پوچھنے لگی
“مائینڈ کرنے والی کونسی بات ہے اس میں میرے خیال میں تو شاید اسے تمہارا اس طرح آفس آکر منانے کا انداز اچھا لگے،، اس لئے بولا میں نے آگے تم خود دیکھ لو جو تمہیں مناسب لگے”
وجیہہ حنین کو کنفیوز ہوتا دیکھ کر بولی
“آزھاد کو مناوں کیسے، مطلب کتنا روڈ ہو جاتا ہے وہ کبھی کبھی آپ کیسے مناتی ہیں اگر وہ ناراض ہو جائے تو”
حنین کو محسوس ہو رہا تھا جیسے اب کی بار آزھاد کو منانا بہت مشکل ہے اس لیے وجیہہ کی مدد لینی چاہیے مگر حنین کی بات سن کر وجیہہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی
“وہ مجھ سے صرف ایک بار ناراض ہوا تھا 16 سال کی عمر میں جب اس نے شاہنواز سے اسپورٹ بائیک لینے کی ضد کری تھی اور میں نے منع کر دیا، وہ میرا بیٹا ہے میں نے اسے منا لیا مگر ماں کے اور بیوی کے منانے میں تو فرق ہوتا ہے۔۔۔ ویسے تم اپنی ساس سے اپنے شوہر کے منانے کے ٹپس پوچھ رہی ہو”
اب کی بار وجیہہ اپنی مسکراہٹ چھپاتی ہوئی حنین سے کہنے لگی جس طرح حنین شرمندہ ہوئی
“نہیں وہ تو میں بس ویسے ہی پوچھ رہی تھی”
حنین نے چائے کا کپ فوراً ہونٹوں سے لگا لیا وجیہہ اسے ایک بار پھر دیکھ کر مسکرائی
“آپ بہت اچھی ہیں آنٹی”
ناشتہ کرنے کے بعد وجیہہ لان کی طرف جارہی تھی تب حنین اسے دیکھتی ہوئی بولی
“بری ساس بننے میں کچھ نہیں رکھا ہے۔۔۔ ویسے تم بھی بہت اچھی ہو سب کا خیال رکھنے والی۔۔۔ اگر آفس جانا ہو تو 12 بجے کے بعد ڈرائیور کے ساتھ چلی جانا ابھی تو آزھاد میٹینگ میں مصروف ہوگا”
وجیہہ کی بات سن کر حنین ہلکا سا مسکرائی وجیہہ لان کی طرف چلی گئی
****
صبح آزھاد آفس پہنچا تو معلوم ہوا کہ میٹنگ کا ٹائم دو بجے رکھ دیا گیا ہے وہ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظر جمائے پریزنٹیشن دیکھ رہا تھا کہ اس کی ناگوار نظر روم کے دروازے پر پڑی کیونکہ اسے ہرگز پسند نہیں تھا کہ کوئی بغیر اجازت منہ اٹھا کر روم کے اندر داخل ہو مگر آنے والی ہستی کو دیکھ کر ناگواری حیرت میں بدلی
“کس کی پرمیشن سے اندر آئی ہو تم”
آزھاد نے اپنے حیرت زدہ تاثرات کو چھپاتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔
بلیک جیگن کے اوپر بلیک لیدر کی جیکٹ پہنے حنین نے آزھاد کو مسکرا کر دیکھا
“مسسز آزھاد کو کسی کی پرمیشن لینے کی ضرورت ہے کیا اب یہ بلاوجہ کی ناراضگی چھوڑو اور خوش ہو جاؤ میں تمہارے پیچھے آفس تمہیں منانے کے لیے آئی ہوں”
حنین چلتی ہوئی آزھاد کے پاس آئی
“جی مس یمنیٰ کس کی پرمیشن سے آپ نے انہیں اندر بھیجا”
حنین کی بات سن کر ٹیبل پر موجود فون کان سے لگائے وہ پی۔ اے سے پوچھنے لگا جس پر حنین کے مسکراتے لب سکھڑے
“میری مسسز ہو یا پھر کوئی اور اگر آپ کو جاب کرنی ہے تو آئندہ رولز فالو کریئے گا اسے میری فرسٹ اور لاسٹ وارننگ سمجھے”
آزھاد نے پی۔ اے کی خبر لے کر فون کریڈل پر رکھا
“دس منٹ سے زیادہ ٹائم نہیں دے سکتا اس لیے جو کہنا ہے جلدی کہو”
آزھاد اب اپنے سامنے کھڑی ہوئی حنین کو دیکھتا ہوا بول کر اپنی کلائی پر بندھی ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھنے لگا کیونکہ تھوڑی دیر بعد اسے میٹنگ کے لیے نکلنا تھا
“کب تک ایسے منہ بنا کر رکھنے کا ارادہ ہے۔۔۔ یہاں تمہارے آفس میں تمہیں منانے کے لئے آئی ہوں، تمہیں سوری کہنے کے لئے۔۔ اور یہ بتانے کے لیے میری زندگی میں تمہاری ویلیو ہے تمھارا یوں ناراض ہونا مجھے اگنور کرنا بہت ہرٹ کررہا ہے سوری نا پلیز اب ناراضگی چھوڑ دو”
حنین اس کے سامنے کھڑی ہوکر نرمی سے بولی۔۔۔ آزھاد رولنگ چیئر پر جھولتا ہوا اسے دیکھنے لگا
“زپ کھولو اپنی جیکٹ کی”
آزھاد کی بات سن کر، اس کا موڈ دیکھتی ہوئی جوکہ بالکل سنجیدہ تھا حنین نے اپنی جیکٹ کی زپ کھولی جس کے اندر اس نے ریڈ کلر کا ٹاپ پہنا ہوا تھا
“اتار دو اپنی جیکٹ”
آزھاد کی اگلی بات سن کر حنین اسے دیکھنے لگی۔۔۔ اس کے فیس ایکسپریشن ابھی بھی بالکل سنجیدہ تھے جیسے حنین اس کی بات نہیں مانتی تو وہ ناراض ہوتا۔۔۔ اس لیے حنین کو اس کی بات مانتے ہوئے اپنی جیکٹ اتارنی پڑی۔۔۔ اب وہ ریڈ کلر کے ٹاپ میں آزھاد کے سامنے کھڑی تھی
(What color is the inside dressing)
آزھاد ریڈ کلر کے ٹاپ میں اس کا جائزہ لیتا ہوا اس سے سوال کرنے لگا
“جو تم نے کل کہا تھا وہی، مگر آزھاد۔۔۔”
حنین کو خطرے کی گھنٹی بجتی ہوئی محسوس ہوئی تبھی وہ ایکدم بولی
“ششش جتنا سوال کرو بس وہی جواب دو… ٹیک آف یور ٹاپ”
آزھاد کی اگلی بات سن کر حنین حیرت سے گھور کر اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ رولنگ چیئر پر جھلتا ہوا اس کے اگلے عمل کا انتظار کرنے لگا
“کیا بول رہے ہو تم ہوش میں تو ہو”
حنین حیرت سے اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی
“کیوں،، منانے آئی تھی نا تم مجھے۔۔۔ تو جو میں بولوں وہ چپ کرکے مانتی جاؤ۔۔۔ ورنہ اسی وقت گھر جاؤ”
آزھاد سنجیدگی سے بولا
“یہ والی بات میں تمہاری کیسے مان سکتی ہوں۔۔۔۔ تم اسطرح کرو گے میرے ساتھ”
آزھاد کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ اسے رعایت دینے کے لیے بالکل تیار نہیں ہے لیکن حنین بھی اس کی فرمائش کیسے پوری کر سکتی تھی
“اپنی بہن کی تو سچی جھوٹی جائز ناجائز ہر بات مان لیتی ہو۔۔۔ پھر شوہر کی کیوں نہیں، ٹاپ اتارو نہیں تو گھر جاؤ”
وہ ابھی بھی سنجیدگی سے حنین کو دیکھتا ہوا بولا حنین بے چارگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ نچلا ہونٹ دانتوں میں دباتے ہوئے اس نے اپنا ٹاپ اوپر کرنا چاہا
“نہیں میں ایسا نہیں کروں گی”
ٹاپ دوبارہ نیچے کرتی ہوئی وہ فیصلہ کن انداز میں بولی۔۔۔ آزھاد ایک جھٹکے سے چیئر سے اٹھا اور حنین کی جیکٹ اس کے ہاتھ میں پکڑا کر اس کا بازو پکڑتا ہوا اپنے روم سے باہر نکلنے لگا
“چھورو میرا بازو، تم ایک بے شرم انسان ہو۔۔۔ میری بلا سے تم بھاڑ میں جاؤ”
حنین اپنا بازو چھڑاتی ہوئی آزھاد سے بولی اور خود اس کے روم سے نکل گئی
****
آج عباس کو آزھاد کے گھر سے اپنے گھر میں شفٹ ہونا تھا ایک گھنٹے پہلے وہ جا کر وجیہہ سے مل لیا تھا اور آزھاد سے اس کی رات کو ہی ملاقات ہوگئی تھی کومل کے کمرے کی طرف اس نے قدم بڑھائے مگر اس کو یوں کومل کے کمرے میں جانا مناسب نہیں لگا اس لیے واپس آنیکسی میں آکر اپنا سامان پیک کرنے لگا
****
اب وہ نہ صرف مکمل ہوش و حواس میں آچکی تھی بلکہ آہستہ آہستہ اسے ساری باتیں بھی یاد آ چکی تھی۔۔۔ شاہنواز، وجیہہ اور آزھاد اس کا بہت خیال رکھ رہے تھے۔۔۔ حنین بھی اسے اچھی نیچر کی لگی صاف دل کی خوش اخلاق لڑکی اس کے بھائی کے لئے کسی ایسے ہی لڑکی کو ہونا چاہیے تھا
بس نوین کو دیکھ کر اسے تھوڑی سی الجھن ہوتی اسے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ نوین سے فرینک ہو سکے گی۔۔۔ اور رہا عباس اسے تو وہ پہلے دن ہی پہچان گئی تھی مگر آزھاد کے سامنے اس نے پہچاننے سے اس لیے انکار کیا کہ وہ اس کے ساتھ کچھ غلط کر رہا تھا۔۔۔۔ مگر بعد میں کومل کو اپنے ذہن پر زور ڈالنے سے،، عباس کا ایک کیئرنگ روپ بھی یاد آیا
اس کے ساتھ فٹ بال کھیلنا، اسے میڈیسن کھلانا۔۔۔ کھانا کھلانا اس کو باہر گھمانے لےکر جانا ہنس ہنس کر باتیں کرنا۔۔۔ یہ سب باتیں سوچ کر وہ کنفیوز ہو جاتی اس کا کون سا روپ اصلی تھا وہ بالکل اسید کی طرح کا تھا، ہاں وہ بھی تو ایسا ہی تھا اس کا کلاس فیلو اس کی محبت کا دعویدار
دیا نے اسے کتنا منع کیا تھا کہ اسید کی صحبت ٹھیک نہیں بلکہ دیا کی اسید اور اس کے دوست حارث اچھی خاصی لڑائی بھی ہوئی تھی کہ اگر اس نے کومل کو بیوقوف بنانا نہیں چھوڑا تو وہ ناصرف اس کی یونیورسٹی کے ڈین سے کمپلین کرے گی بلکہ اس کے پیرنٹس سے بھی اس کی کمپلین کرے گی
اور پھر اس کے اگلے دن کیا ہوا وہ اسید کی باتوں میں آکر یونیورسٹی کے آف ہونے کے بعد اسے ملنے یونیورسٹی کی لائبریری میں پہنچ گئی جہاں اسید اپنے دوست حارث کے ساتھ موجود تھا وہ دن اس کی زندگی کا سب سے بھیانک دن ثابت ہواا
لازمی حارث اور اسید اس کے ساتھ کچھ برا کرنے والے تھے مگر نہ جانے یہ اس کی خوش قسمتی تھی یا پھر دیا کی بدقسمتی۔۔ دیا کومل کو ڈھونڈتے ہوئے لائبریری میں پہنچ گئی اور اسید نے کومل کو وہی لائبریری کے دوسرے حصے میں بند کر دیا۔۔۔ کومل گرل کے پار زور زور سے چیخ کر اسید کو منع کر رہی تھی۔۔۔ اس کا بیگ بھی اس کی پہنچ سے کافی دور لائبریری کے دوسرے حصے میں پڑا تھا وہ دیا کہ کسی بھی طرح مدد کرنے میں بے بس تھی
اسید اور حارث نے دیا کو وہاں سے جانے نہیں دیا بلکہ باری باری اسے اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔۔۔ اس وقت دیا کی چیخوں کے ساتھ ساتھ کومل کی چیخیں بھی شامل تھی جن کو سن کر یونیورسٹی کا گارڈ لائبریری میں آیا اور اس نے یونیورسٹی کے عملے کے ساتھ ساتھ پولیس کو بھی انفارم کیا
اسید اور حارث دونوں ہی کو گرفتار کر لیا گیا مگر اس واقعے کا شدید اثر لیتے ہوئے دیا اپنی جان سے گئی اور کومل اپنے حواسوں سے۔۔۔ کومل کو بے ہوشی کی حالت میں گھر لایا گیا تھا مگر ہوش میں آ کر صدمے کے باعث وہ کبھی کبھی ہنسنے لگ جاتی تو کبھی چیخ و پکار شروع کر دیتی اور رونے لگ جاتی
آزھاد اس وقت امریکہ سے واپس آیا مگر شاہنواز نے چند دنوں بعد ہی اسے واپس بھیج دیا سائیکٹرس کا کہنا تھا کومل نے اس واقعہ کا دماغ پر کافی گہرا اثر لیا ہے جس کے باعث وہ صدمے میں چلی گئی ہے چند دنوں بعد وہ اس شاکنگ پیریڈ سے یعنیٰ اس کیفیت سے نکل پائے گی
شاہنواز نے اسید اور حارث پر کیس کیا تھا وہ اتنا مضبوط تھا کہ ان کے پیرنٹس چاہ کر بھی اپنے بیٹوں کی سزا ختم نہیں کروا سکے۔۔۔۔ مگر دوسری طرف شاہنواز کومل سے بدظن ہوگیا کیوکہ جب شروع شروع میں اسے فرٹ پڑتے وہ حواسوں میں نہیں ہوتی تو وہ اکثر اسید کا نام لیتی۔۔۔ جس سے اس کی اسید سے پسندیدگی ظاہر ہوتی۔۔۔ یہ بات کومل سے شاہنواز کی دوری کا سبب بنی
وہ اپنے خیالوں میں گم لان کو کراس کرکے آنیکسی کی طرف پہنچ گئی،، جہاں سے عباس اپنا سوٹ کیس اور بیگ ہاتھ میں لیے باہر نکل رہا تھا۔۔۔ کومل نے عباس کو دیکھا تو وہ ایکدم ڈر گئی عباس کے قدم بھی وہی رک گئے
عباس کو اس کی اور اپنی پہلی ملاقات یاد آئی تب بھی وہ پویم پڑھتی ہوئی انیکسی کی طرف آئی تھی اور اچانک عباس کو دیکھ کر اسی طرح ڈر گئی تھی
“ہیلو”
عباس نے کومل کو اسی دن کی طرح ہیلو کہا مگر وہ ہاتھ سے نقلی فون بنا کر ہیلو کہنے کی بجائے عباس کو دیکھتی رہی پھر کچھ بھی کہے بنا پلٹ کر جانے لگی
“کومی بےبی بات تو سنتی جائیے”
کومل کو جاتا ہوا دیکھ کر عباس سوٹ کیس اور بیگ وہی چھوڑ کر کومل کی طرف بڑھا
وہ اسے دیکھے بغیر اور ملے بغیر جانے کا ارادہ رکھتا تھا جبھی وجیہہ سے مل کر آ گیا تھا مگر اب کومل کو دیکھ کر وہ اپنے قدم اور دل کو روک نہیں پایا جبھی کومل کے پاس پہنچا
“میں کومی بےبی نہیں کومل ہو۔۔۔ آئندہ مجھے اس نام سے مخاطب مت کریے گا”
کومل پلٹ کر چہرے پر ناگواری لاتی ہوئی عباس بولی وہ واقعی فراک پہن کر دو پونیاں باندھی کومی بےبی نہیں بلکہ لانگ شرٹ کے اوپر ٹراؤزر پہنے سارے بالوں کو کندھے کے ایک سائیڈ پر کیے کومل لگ رہی تھی
“چند دن پہلے اگر تمہیں غلطی سے کومل کہہ دیتا تو تم اس بات کا برا مانتی تھی کہ تمہیں کومی بےبی کیوں نہیں کہا شکر ہے تم نے یہ نہیں کہا کہ میں آئندہ تمہیں مخاطب ہی نہ کروں ہاں آئندہ کومل کہہ کر مخاطب کروں گا اس بات کا اب خیال رکھوں گا”
عباس مسکراتا ہوا کومل کی طرف دیکھ کر کہنے لگا وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی
“بھائی نے بتایا تھا مجھے کہ آپ نے میرا کافی خیال رکھا اس کے لئے تھینکس”
کومل روکھے انداز سے عباس کو کہنے لگی تو عباس کی مسکراہٹ تھم گئی
“سب آزھاد نے بتایا۔۔۔ کومل تمہیں خود سے کچھ بھی یاد نہیں میرے ساتھ گزارا ہوا وقت”
عباس کومل کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“بہت زیادہ یاد کرنے پر مجھے یاد آیا تھا کہ آپ مجھے اپنے گھر لے گئے تھے جہاں آپ مجھے اپنے موبائل پر کوئی ویڈیو دکھا رہے تھے”
کومل نے عباس کو اس کے عمل پر شرمندہ کرنا چاہا وہ اتنی بے خبر بھی نہیں تھی یہ بات وہ عباس کو باور کروانا چاہتی تھی
“کومل ایک بار میری طرف غور سے دیکھو کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ کبھی غلط کر سکتا ہوں وہ سب کچھ صرف تمہیں شاکنگ پیریڈ سے نکالنے کی ایک کوشش کی اور کچھ بھی نہیں”
عباس کومل کو دیکھتا ہوا حقیقت بتانے لگا
“دل نہیں چاہتا میرا کسی پر بھی بات پر اعتبار کرنے کو”
کومل عباس کو کہتی ہوئی وہاں سے واپس جانے کے لئے پلٹی تب عباس نے اس کے دوپٹہ کا سرا پکڑا تو کومل کو روکنا پڑا عباس چلتا ہوا کومل کی جانب آیا
“ان دو ماہ میں تم نے ہمیشہ مجھے اپنا دوست کہا، میں نے پوری کوشش کی کہ تمہارے اور اپنے درمیان اس دوستی کے رشتہ کو خالص طریقے سے نبھاؤ۔۔۔ اگر تم پھر بھی یہ کہوں گی کہ تمہیں میری بات کا اعتبار نہیں تو مجھے بہت دکھ ہوگا کومل۔۔۔ دو دن پہلے بھی تم نے آزھاد کے سامنے جب مجھے پہچاننے سے انکار کیا تو بہت دکھ ہوا تھا مجھے۔۔۔جبکہ کومل نے عباس سے وعدہ کیا تھا وہ اسے کبھی بھی نہیں بھولے گی”
عباس کومل کی جانب دیکھتا ہوا کہنے لگا کومل اسے خاموشی سے دیکھنے لگی تب عباس نے کومل کا ہاتھ تھاما
“عباس کومل کو دوبارہ سے اعتبار بھی دلا دے گا۔۔۔۔ اور اپنے ساتھ گزارا ہوا وقت بھی یاد کروا دے گا۔۔۔ بس اسے کومل کا ساتھ چاہیے”
عباس کومل کا ہاتھ تھامتا ہوا کہنے لگا
“کومل بےبی آپ کو اندر وجیہہ میڈم بلا رہی ہیں”
کوثر کومل کے پاس آکر بولی۔۔۔ کومل عباس سے ہاتھ چھڑا کر وہاں سے جانے لگی۔۔۔۔ گھر کے اندر داخل ہونے سے پہلے کومل نے پلٹ کر عباس کو دیکھا وہ ابھی بھی منتظر نگاہوں سے کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا کومل گھر کے اندر چلی گئی
****
“ٹیک اف یور ٹاپ۔۔۔ فرمائشیں چیک کرو ذرا ہیرو کی،،، مجھے ہالی وڈ کی کوئی بیہودہ ہیروئن سمجھا ہوا ہے۔۔۔ آنٹی کو تو بتا بھی نہیں سکتی ان کے بیٹے کے بے ہودہ کرتوت”
حنین منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی ہوئی اپنے کمرے کے اندر آئی
“کہاں سے آ رہی ہو تم”
حنین اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو نوین کو اپنے کمرے میں موجود پایا وہ اب مکمل بیدار ہوچکی تھی
“آزھاد سے ملنے اس کے آفس گئی تھی” حنین نے ہینڈ بیگ رکھتے کوئی نوین کو جواب دیا
“کیوں”
نوین ماتھے پر شکنیں لیے، آنکھیں دکھاتی ہوئی صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوئی
“اس کیوں کا کیا جواب چاہیے آپکو وہ شوہر ہے میرا” حنین اسے جتاتی ہوئی بولی۔۔۔ اسی کی وجہ سے تو وہ حنین سے ناراض تھا
“تم شاید اس ڈیل کو بھول گئی ہو جو میرے اور تمہارے درمیان ہوئی تھی اس طرح اس کو ویلیو دے کر تم خود اس کو قریب آنے کی دعوت دو رہی ہو”
نوین اب غصے میں سخت لہجہ اختیار کرتی ہوئی بولی
“سوری آپی میں آپ کی کسی بھی ڈیل کو نہیں مانتی آزھاد میرے ساتھ خوش ہے اور میں بھی اس کے ساتھ خوش رہنا چاہتی ہوں۔۔۔ پھر اس بات سے کسی تیسرے کو فرق نہیں پڑنا چاہیے”
حنین نے اپنا جیکٹ اتار کر صوفے پر رکھا اور لہجے میں نرمی لائے بغیر نوین کے سامنے آ کر بولی
“کیا کہا تم نے کسی تیسرے کو فرق نہیں پڑنا چاہیے میں تمہاری بہن، تمہیں میرا وجود تھرڈ پرسن لگتا ہے”
نوین نے غصے میں اسے دھکا دیا وہ صوفے پر جاکر گری
“آپی”
حنین اس کے غصے پر حیرت کا اظہار کرتی ہوئی بولی
“خاموش”
نوین اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی غرائی
“تمہیں یاد ہے جب ہماری امی ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر گئی تھی اس وقت میں محض بارہ سال کی تھی بارہ سال کی کم عمر لڑکی، اس وقت میں نے ماں کے غم کو سینے سے لگانے کی بجائے اپنی چھوٹی سی تین سالہ بہن کو سینے سے لگایا تھا۔۔۔ بارہ سال کی عمر میں، میں بن بیاہی ماں بن گئی تھی تمہارے لیے
جب تم رات کو بھوک سے بلک بلک کر روتی تب میں اپنا بستر چھوڑ کر تمہارے لئے فیڈر تیار کرتی۔۔۔ پیٹ بھرنے کے بعد اکثر تمہارا سونے کا دل نہیں چاہتا تب میں تمھارے ساتھ کھیلتی اور صبح اسکول کے ٹائم پر لیکچر کے دوران اونگھ رہی ہوتی۔۔۔ تمہیں نہلانا دھلانا کھلانا پلانا سُلانا بغیر ماتھے پر شکن لائے میں تمہارے سارے کام کرتی.
جاری ہے
