Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36
ہاسپٹل کیوں لے آئے اسے وہی تڑپنے دیتے، معلوم نہیں اب اس کا قصہ ختم ہوگا کہ نہیں نوین روم میں آکر فصیح سے بولنے لگی
“مُکرم ساتھ تھا میرے اگر آزھاد کو ہاسپٹل نہیں لے کر آتا تو اسے شک ہو جاتا۔۔۔ آپ نے جو مجھے پوائزن کی بوتل دی تھی آپ کو اس پوائزن پر بھروسا تھا۔۔۔ میرا مطلب ہے وہ پوری بوتل میں اس کی ڈرنگ میں ملا چکا تھا اور وہ ڈرنگ آزھاد پوری پی چکا تھا مطلب پوائزن اس کی بوڈی میں پوری طرح شامل ہو چکا ہے اس کے بچنے کے چانسز ٹوئنٹی پرسنٹ بھی نہیں ہیں۔۔۔ ڈاکٹر مرتضیٰ صرف شاہنواز انکل کو تسلی دے رہے ہیں”
فصیح بےفکری سے اسے بتانے لگا تو نوین کو تھوڑا سکون ہوا
“جو پوائزن میں نے تمہیں دیا تھا وہ مجھ سے زیادہ زہریلا تھا یہ آزھاد نامی کانٹا میری زندگی سے نکلے گا تو ہی مجھے سکون ملے گا،، خیر تم نے اپنا کام بھرپور طریقے سے انجام دیا ہے اس کا انعام تمہیں مل جائے گا میں پوری کوشش کروں گی کہ کوئی پولیس کیس نہ بنے لیکن اگر شک کی بنیاد پر تم سے کسی بھی طرح کی پوچھ گچھ ہوئی تو تمہیں آگے بھی ثابت قدم رہنا ہے۔۔۔ میں آگے بھی تم سے بھرپور طریقے سے تعاون کرو گی یہ وعدہ ہے میرا”
نوین اس کو دیکھتی ہوئی یقین دہانی کروانے لگی
“کیا آپ کے وعدے پر مجھے اعتبار کرنا چاہیے مسسز شاہنواز جو عورت اپنے شوہر کی نہیں اپنی بہن کی نہیں میں اس سے کیسے تعاون کی امید رکھو”
فصیح کا لہجہ اور ٹون ایکدم تبدیل ہوِا نوین کنفیوز ہو کر اسے دیکھنے لگی
“زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے آزھاد کی موت کا بعد میں سوچنا پہلے تمہیں اپنے انجام کی فکر ہونی چاہیے”
فصیح نوین کو بولتا ہوا اسی روم کے اندر موجود دوسرا دروازہ کھولنے لگا شاید وہ کوئی اسٹور روم تھا
مگر نوین کی آنکھیں شاکڈ سے کھلی کی کھلی رہ گئیں وہاں ڈاکٹر مرتضیٰ کے ساتھ نہ صرف آزھاد اور مُکرم موجود تھے بلکہ شاہنواز اور حنین بھی موجود تھے۔۔۔ شاہنواز نوین کے پاس آیا اس سے پہلے کہ نوین اسے کچھ بولتی شاہنواز اس کے منہ پر تھپڑوں کی بارش کر چکا تھا۔۔۔ مُکرم اور مرتضیٰ نے آگے بڑھ کر شاہنواز کو پکڑا جبکہ حنین نے زور زور سے رونا شروع کردیا آزھاد اسے اپنے گلے لگائے ابھی بھی اپنے ٹھیک ہونے کا یقین دلا رہا تھا
“چھوڑو مجھے مرتضیٰ آج میں اس عورت کو جان سے مار ڈالوں گا”
شاہنواز غصے میں چیختا ہوا مُکرم اور مرتضیٰ سے خود کو چھڑانے لگا اور نوین سرخ چہرے کے ساتھ باری باری وہاں پر سب کو دیکھ رہی تھی
“شاہنواز یہ ہاسپٹل ہے یار،، یہاں پر صرف عزت کا تماشا بنے گا جو بھی معاملہ ہے گھر جانے کے بعد سنبھالنا میں اس ڈرامے کی وجہ سے صرف اس لئے تیار ہوا کیونکہ یہ آزھاد کی زندگی کا سوال تھا اور اتنی بڑی حقیقت کو تمہارے سامنے لانا ضروری تھا پلیز یار کول ڈاؤن”
مرتضیٰ شاہنواز کو سمجھاتا ہوا بولا
“نہیں یہ معاملہ گھر نہیں جائے گا اور نہ ہی اب یہ عورت میرے گھر جائے گی میں شاہنواز اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”
شاہنواز نوین کی طرف دیکھتا ہوا بولا
“شانواز نہیں پلیز مجھے معاف کر دیں”
باقی سب کو کمرے میں سانپ سونگھ گیا تھا مگر نوین اچانک اپنے حواسوں میں آئی
“میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں”
شاہنواز کی طلاق دینے کے بعد نوین کو بھی سب کی طرح سانپ سونگھ گیا۔۔۔ کمرے میں اب صرف حنین کی رونے کی آواز آرہی تھی جو کہ آزھاد کے گلے رو رہی تھی آزھاد شاہنواز کے ردعمل پر خود بھی شاکڈ تھا وہ اب حنین کو کیا دلاسا دیتا
جس وقت نوین فصیح سے ملنے گئی تب آزھاد ڈاکٹر مرتضیٰ کے ساتھ شاہنواز اور حنین کے پاس آیا جس پر شاہنواز آزھاد کی اس حرکت کو مذاق سمجھ کر اس پر غصہ ہوا مگر مرتضٰی اس کو سب سمجھانے کا کہہ کر سیکنڈ فلور پر لے گیا۔۔۔ اپنے کانوں سے نوین اور فصیح کی گفتگو سن کر سر شاہنواز حیرت زدہ تھا بلکہ حنین بھی صدمے سے آزھاد کو دیکھنے لگی
آزھاد کو اندازہ تھا یہ سب سن کر شاہنواز کافی سخت ردعمل کا اظہار کرے گا مگر اسے یہ نہیں معلوم تھا کی وہ نوین کو طلاق دے دے گا،، مرتضیٰ شاہنواز کو کمرے سے لےکر جا چکا تھا فصیح چلتا ہوا نوین کے پاس آیا نوین غور سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی
“آزھاد واقعی بہت بڑا کمینہ ہے مگر یہ میرا دوست ہے اس لیے تمھاری پرکشش آفر کے بعد بھی میں اسے مار نہیں سکا جبکہ اسے قتل کرنے کی دھمکیاں میں اس کے منہ پر اسے ہزار دفعہ دت چکا ہوں۔۔۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ کمینگی کے لیول میں پورا اترتا ہو مگر اب تمھیں دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے میرا معیار گرا ہوا ہونے کے باوجود اتنا گرا ہوا نہیں کہ میں انسانیت کو بھی پیچھے چھوڑ دو”
فصیح نوین کو بولتا ہوا مُکرم کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا اب نوین حنین کو دیکھ رہی تھی جس کے گرد آزھاد نے اپنے بازو باندھے ہوئے تھے۔۔۔ حنین اس کا حصار توڑ کر نوین کے پاس آئی
“کیا کرنا چاہ رہی تھی آپ میرے شوہر کے ساتھ۔۔۔ مجھ سے محبت کا دعویٰ کرتی ہیں آپ۔۔۔ یہ آپ کی محبت مجھ سے،، میری زندگی کی ساری خوشیاں چھیننا چاہ رہی تھی آپ۔۔۔ ایک بار بھی آپ کا دل نہیں کانپا آزھاد کے بارے میں ایسی سوچ لاتے ہوئے،، یہ خیال تک نہیں آیا آپ کو اگر اسے کچھ ہو جاتا تو آپ کی اپنی بہن کیسے رہ پاتی،، اپنے شوہر کا خیال نہیں کیا آپ نے،، ان کا جوان بیٹا ان سے چھیننا چاہ رہی تھی آپ۔۔۔ وجیہہ آنٹی کے بارے میں ایک بار نہیں سوچا آپ نے، ان پر دوہرا ظلم ہوتا آپی، پہلے آپ نے ان سے ان کا شوہر چھینا اور اب بیٹا بھی چھننے لگی تھی آپ۔۔۔ شرم سے مر جانا چاہیے آپ کو۔۔ عورت کے نام پر دھبہ ہیں آپ بلکہ انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں”
حنین روتی ہوئی نوین سے بولی نوین خاموش کھڑی ہوئی اپنی چھوٹی بہن کی باتیں سنے جارہی تھی
“ہنی گھر چلو”
آزھاد حنین کے پاس آیا اس کو کندھے سے تھامتا ہوا بولا
“جیت گئے تم آج بھی”
نوین آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی
“میں نے تمہیں صرف ناپسند کیا ہے شروع دن سے، مقابلہ تم کرتی آئی ہوں مجھ سے وہ بھی بلاجواز میں نے تو تمہاری حقیقت سب کے سامنے کھولی ہے۔۔۔ جب فصح نے مجھے بتایا کہ تم نے اسے مجھے زہر دینے کی بات کی ہے تب مجھے تم پر غصہ نہیں ترس آیا مگر اب وہ بھی نہیں آرہا کیونکہ تمہاری آنکھوں میں ابھی بھی ندامت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے”
آزھاد نوین کو بولتا ہوں حنین کو تھام کر کمرے سے باہر نکلنے لگا
“میرا سارا سامان جیولری حق مہر کی رقم۔۔۔ اپنے ڈیڈ سے کہہ کر میرے فلیٹ پر بھجوا دینا نوین کی بات سن کر آزھاد طنزیہ اس پر ہنسا جبکہ حنین حیرت سے نوین کو دیکھنے لگی جس کا گھر اپنے ہاتھوں اجڑ چکا تھا اور وہ اب بھی بالکل نارمل تھی
“آج کے بعد میں آپ سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی میں سمجھ لوگی میری بہن مر گئی”
حنین نوین کو دیکھتی ہوئی بولی
“چلی جاؤ یہاں سے اپنے شوہر کے ساتھ” نوین غصے سے اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی آزھاد نے اپنے آپ کو کوئی بھی سخت الفاظ کہنے سے باز رکھا اور حنین کو لے کر وہاں سے چلا گیا
ان دونوں کی جانے کے بعد نوین وہاں پر موجود کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔ آج ہونے والا سارا واقعہ سوچنے کے بعد آنکھوں میں آئی ہلکی سی نمی صاف کرتی ہوئی اٹھی اور خود بھی کمرے سے باہر جانے لگی
_____________
“بچے کھانا کھا چکے ہیں تمہارا اور اپنا کھانا میں نے روم میں ہی منگوا لیا ہے”
وجیہہ روم میں آتی ہوئی شاہنواز سے بولی وہ بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگا کر آنکھیں موندے بیٹھا تھا وجیہہ کی آواز سن کر اسے دیکھنے لگا
آج صبح آزھاد نے وجہیہ اور کومل کو کل رات والا قّصہ بتایا تھا شاہنواز نے گھر آکر اپنے آپ کو تب سے ہی کمرے میں بند کیا ہوا تھا
“میں کتنا خود غرض ہونا وجیہہ آپ سے محبت کا دعویٰ کیا، شادی کی، پھر زندگی بھر ساتھ نبھانے کی بجائے اپنی زندگی میں کسی اور کو شامل کرلیا معلوم نہیں کب کیسے کیوں نوین کا خیال میرے دل میں آیا جبکہ آپ نے تو مجھ سے ہمیشہ محبت کی،، میری محبت کا جواب ہمیشہ محبت میں دیا،، ہمیشہ میرا خیال رکھا میرے بچوں کا خیال رکھا اچھی بیوی ہونے کا فرض نبھایا۔۔۔ پھر آخر میں کیوں اتنا خود غرض ہو گیا کہ نوین کو اپنی زندگی میں شامل کرتے ہوئے میں نے ایک بار بھی آپ کا نہیں سوچا۔۔۔ میں بہت احسان فراموش ہوں جو میں نے آپ کی وفاؤں کا صلہ دوسری شادی کی صورت آپ کو دیا آپ نے ہمیشہ اپنا ظرف دکھایا نہ صرف میری شادی کو قبول کیا بلکہ نوین کو بھی اس گھر میں آنے کی اجازت دی،، اسے گھر کا فرد سمجھ کر قبول کیا اور دیکھیں بدلے میں نوین نے کیا کیا سب کے سامنے اپنے اور میرے رشتے کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔۔ یہ آپ کا صبر ہے جو مجھ پر پڑا ہے وجیہہ ایسا ہی ہونا تھا میرے ساتھ، میں نوین جیسی بیوی ہی ڈیزرو کرتا تھا”
شاہنواز آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ وجیہہ کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ وجیہہ خاموشی سے اس کی بات سنتی رہی بات کے اختتام سے ویل چیئر سے اٹھتی ہوئی بیڈ کا سہارا لے کر بیڈ پر شاہنواز کے برابر میں بیٹھی
“میں کبھی بھی تمہارے اور نوین کے لیے اپنے دل میں برا خیال نہیں لائی نہ کبھی تم دونوں کو کا برا چاہا۔۔ شاہنواز تمہیں معلوم ہے عورت ایک معاملے میں بہت حساس ہوتی ہے وہ ہر چیز کسی دوسرے سے شیئر کر سکتی ہے مگر اپنا شوہر کسی دوسری عورت کے ساتھ شئیر کرنا بہت مشکل عمل ہے،،، میں کوئی پہلی عورت نہیں ہوں جس پر سوتن آئی ہو۔۔۔ مگر ایسی لڑکیاں بہت کم ہوتی ہیں جو معذور ہو عمر میں زیادہ ہو ان کے لیے ہر دفعہ شاہنواز نہیں آتا۔۔ میں ہر بات میں منفی پہلو نکال کر خدا کی ذات شکوہ نہیں کرتی۔۔ اس ذات نے جو بہتر سمجھا وہ میرے لئے کیا۔۔۔ نوین تمہاری بیوی تھی مجھے معلوم ہے اسے فوری طور پر بھلانا تمہارے لیے مشکل ہو گا مگر تھوڑی سی تم کوشش کرنا تھوڑا سا میں تمہارا ساتھ دوں گی”
وجیہہ شاہنواز کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتی ہوئی بولی
“نوین میرے دل سے کل ہی نکل گئی تھی وجیہہ جب اس کا بھیانک چہرا میرے سامنے آیا، اپنی زندگی میں نکالنے سے پہلے میں اسے دل سے نکال چکا تھا اس نے ہمارے بیٹے کو مارنے کی سازش کی تھی۔۔ یہ آنسو جو آپ میری آنکھوں میں دیکھ رہی ہیں یہ نوین سے بچھڑنے کے دکھ کے نہیں بلکہ پچھتاوے اور شرمندگی کے ہیں۔۔۔ آپ مجھے معاف کردیں وجیہہ، پلیز مجھے معاف کر دیں”
شاہنواز وجیہہ کا ہاتھ تھامتا ہوا بولا
****
کھانے سے فارغ ہو کر جب آزھاد اپنے روم میں آیا تو حنین کو ایل ای ڈی پر نظر جمائے دیکھا۔ ۔۔ جس پر کوئی مووی چل رہی تھی اور حنین غائب دماغی میں اسکرین کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ آزھاد نے ریموٹ اٹھا کر پاور آف کا بٹن دبایا حنین اب بھی تاریک اسکرین کو دیکھ رہی تھی۔۔ صبح سے اس کی یہی کنڈیشن تھی کومل یا وجیہہ خود سے بات کرتی تو وہ جواب دے دیتی اور پھر خاموش ہو جاتی
“کب تک اس طرح اداس رہو گی ہنی”
آزھاد صوفے پر اس کے برابر میں بیٹھتا ہوا اس کا ہاتھ تھام کر پوچھنے لگا اب حنین اس کو دیکھ رہی تھی
“مجھے ڈیڈ کے اتنے سخت ردعمل کا ہرگز اندازہ نہیں تھا، مجھے لگا تھا وہ اسے کہیں دوسری جگہ شفٹ کردیں گے اس گھر میں نہیں رکھیں گے، مجھے یہ اندازہ نہیں تھا ڈیڈ اسے اپنی زندگی سے نکال دیں گے”
آزھاد حنین کا اداس چہرہ دیکھتا ہوا بولا وہ جانتا تھا وہ نوین سے محبت کرتی تھی اور اسی وجہ سے اداس تھی
“سہی کیا انہوں نے آپی کے ساتھ وہ اسی لائق تھی،، ویسے بھی زخم جب ناسور بن جائے تو جسم کے اس حصے کو کاٹ کر الگ کر دینا چاہیے”
حنین آزھاد کو دیکھتی ہوئی تلخی سے بولی
“ہنی”
آزھاد نے حنین کو دیکھتے ہوئے پکارا
“ایسے مت دیکھو مجھے آزھاد، تمہیں کیا لگتا ہے مجھے افسوس ہے اپنی بہن سے بچھڑنے کا۔۔۔ مجھے تو افسوس اس بات کا ہو رہا ہے وہ طلاق لینے کے بعد بھی کس طرح پرسکون تھی،، کوئی پچھتاوا کوئی ملال نہیں تھا انہیں تم نے دیکھا تھا۔۔۔ اپنے اجڑنے کو نے کوئی دکھ نہیں تھا انہیں”
حنین روتی ہوئی بولی تو آزھاد نے آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لے لیا
“وہ تمہیں مجھ سے چھیننا چاہتی تھی آزھاد اگر خدا نہ خواستہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتیں تو میرے پاس کیا بچتا،، انہیں زرا تم پر ترس نہیں آیا۔۔ وہ آخر کیسے اتنا گر سکتی ہیں۔۔ وہ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہیں وہ تو مجھ سے محبت کرتی تھیں” حنین آزھاد کے سینے سے لگی روتے ہوئے آزھاد سے بول
“ہنی خاموش ہو جاؤ پلیز کچھ نہیں ہوا مجھے میری جان۔۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوں تمہارے پاس”
آزھاد حنین کے آنسو پوچھتا ہوا بولا پھر اس کا چہرہ تھام کر اپنی نظروں کے سامنے کیا
“مجھے معلوم نہیں تھا میری بیوی مجھ سے اتنا پیار کرتی ہے”
آزھاد حنین کا چہرہ تھام کر سنجیدگی سے بولا
“ہر بیوی چاہنے والے شوہر کو اتنا ہی پیار کرتی ہے”
حنین آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی تو آزھاد نے مسکرا کر اس کی پیشانی پر لب رکھے
“اور کوئی بھی چاہنے والا شوہر اپنی بیوی کی آنکھوں میں آنسو نہیں برداشت کر سکتا”
آزھاد اسے دوبارہ اپنے حصار میں لیتا ہوا بولا
****
ایک ماہ بعد
حنین آئینے کے سامنے کھڑی بھاری بھرکم جھمکے اپنے کانوں سے اتار رہی تھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ اور وجیہہ ڈرائیور کے ساتھ گھر پہنچے تھے۔۔۔ ریڈ اور گرین کلر کے کومبینیشن کی ساڑھی میں آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنا جائزہ لینے لگی
آج کومل کی برات تھی اس کی اس کو رخصت کرتے وقت،، شاہنواز وجیہہ اور آزھاد کے ساتھ ساتھ وہ بھی اداس ہو گئی تھی۔۔۔ آزھاد نے کومل اور عباس کی شادی کرنے میں بہت جلدی کی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی آزھاد نے ایسا صرف اس کا اور شاہنواز کا دھیان بٹانے کے لیے کیا تھا اور آزھاد اپنے اس عمل میں کامیاب بھی ہو گیا تھا گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہوئی تو نہ صرف حنین کا بلکہ شاہنواز کا دل و دماغ شادی میں لگ گیا
اب وہ صوفے پر بیٹھ کر اپنے پاؤں سے اونچی ہیل اتارنے لگی جس سے اسے سکون ملا وہ آزھاد کے آنے سے پہلے چینج کرنا چاہتی تھی اس سے پہلے وہ اپنی سوچ پر عمل کرتی روم کا دروازہ کھلا اور آزھاد کمرے میں داخل ہوا
“مائی لائف مائی بیوٹیفل وائف”
آزھاد اس کو دیکھ کر مسکراتا ہوا حنین کے پاس آیا تو حنین اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ آزھاد نے اس کا نازک وجود اپنے بازوؤں میں بھرا اب وہ خاموشی سے تھوڑی دیر اسے محسوس کرنا چاہتا تھا
“سارا پیار کمرے میں آکر یاد آ رہا ہے اور وہاں بینکوئیٹ میں مجھے ایک نظر دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا”
حنین اس کے باہوں میں اسے شکوہ کرنے لگی جس پر آزھاد اسے خود سے الگ کر کے دیکھنے لگا
“اگر وہاں تمہیں دیکھتا تو دل شرارت پر آمادہ ہوتا اور میں اپنے دل کی خواہش پوری کرتا تو الٹا تم مجھ سے خفا ہوجاتی کہ میں بے شرم ہو پبلک پلیز کا لحاظ نہیں کرتا وغیرہ وغیرہ” وہ حنین کو دیکھتا ہوا سیریس ہو کر کہنے لگا تو حنین مسکرانے لگی
“ویسے آج تو کافی ہیںنڈسم لگ رہے تھے میں نے دو تین چھچھوریوں کو دیکھا تھا جو تم پر نظر رکھی ہوئی تھی”
حنین کی بات سن کر آزھاد ہنسا
“ڈارلنگ کیا تاریف ہے یا طنز”
وہ حنین کے گرد بازو حائل کرتا ہوا اسے پوچھنے لگا
“تم اسے تعریف سمجھو کیونکہ تمہاری نظر ان لڑکیوں پر نہیں تھی”
حنین کی جیلسی پر وہ ایک بار پھر ہنسا
“تو پھر میرے والے اسٹائل میں کرو ناں میری تعریف”
وہ حنین کے ہونٹوں کو دیکھتا ہوا اس سے فرمائش کرنے لگا
حنین کو اس کے ہونٹوں کے قریب آنے کے لیے اچکنا پڑا آزھاد نے اسے کمر سے پکڑ کر اونچا اٹھایا اور خود اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی گرفت میں لے لیا۔۔۔ کیوکہ اسے اپنی بیوی کی بھی تعریف کرنی تھی
“میرے خیال میں اتنی سی تعریف سے کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔ ہمیں آج رات ایک دوسرے کو بھرپور طریقے سے سرہانا چاہیے”
اس کے ہونٹوں کو آزاد کر کے وہاں سے نیچے اترتا ہوا بولا
“سکون دو تھوڑا مجھے بھی اور خود کو بھی”
حنین اس کو گھورتی ہوئی ڈریسنگ روم میں جانے لگی مگر آزھاد اس کی ساڑھی کا پلو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا
“ایک ہفتے سے شادی کے چکروں میں لگ کر میں نے تمہیں سکون ہی دیا تھا۔۔۔ اب ایک اچھی بیوی کی طرح تم میرے سکون کا سامان بنو اور مجھے میری تھکن اتارنے دو”
آزادہ حنین کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا بولا۔۔۔ حنین اس کے سینے پر سر رکھ کر اپنی آمادگی کا اظہار کیا
****
صبح کومل کو اپنے اوپر جھکاؤ محسوس ہوا تو اس نے آنکھیں کھولی
“عباس”
کومل کے لبوں سے عباس کا نام ادا ہوا
اب اس کا چہرہ مسلسل عباس کی نظروں کے حصار میں تھا۔۔۔ اس نے جھک کر کومل کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھے۔۔۔ وہ کل رات سے ہی اپنی تمام تر شدت کومل پر نچھاور کر چکا تھا اور کومل تھی کہ کل رات سے ہی وہ اپنے آپ میں سمٹنے پر مجبور ہوئے جا رہی تھی۔۔۔ اس وقت بھی شرم اور جھجک آڑے آگئی تب ہی وہ عباس کو پیچھے ہٹاتی ہوئی کمفرٹر منہ تک اڑھنے لگی
“کومی بےبی آپ کو تو ضد تھی عباس کے ساتھ پکڑم پکڑائی کھیلنے کی اور اب جب عباس فارم میں آیا ہے تو اب چھپن چھپائی کھیل رہی ہیں”
عباس کومل کے چہرے سے کمفرٹر ہٹاتا ہوا بولا تو کومل اس کی بات سن کر سرخ ہوگئی
وہ کل رات سے ہی اب اس کی بڑھتی ہوئی جسارتوں پر شرمائی جا رہی تھی
“میری زندگی میں آنے کیلئے اور میری صبح کو حسین بنانے کے لئے شکریہ”
عباس اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرکے اس کے کانوں میں رس گھولتا ہوا بولا تو کومل کے چہرے پر حسین مسکراہٹ بکھر آئی۔۔۔ کومل کو یقین ہو چلا تھا کہ عباس کے سنگ اس کی آگے کی زندگی کا سفر بہت حسین گزرنے والا ہے
****
“کیا ہوا کچھ پریشان لگ رہی ہو سب خیریت ہے نا” آزھاد کے آفس جانے کے بعد حنین غائب دماغی میں بیٹھی کافی کے سپ لے رہی تھی تب وجیہہ اس کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی حنین نے چونک کر وجیہہ کو دیکھا وہ کشمکش میں پڑ گئی وجیہہ کو کیا بتائے
“میری کزن مزنہ جس کا میں نے آپ سے ایک دفعہ ذکر بھی کیا تھا، کل اس کا فون آیا تھا میرے پاس۔۔۔ بتا رہی تھی اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ کافی بیمار ہے اس کے پیرنٹس یہاں پر موجود نہیں ہے اور اتفاق سے اس کا ہسبنڈ بھی آؤٹ آف سٹی ہے۔۔ اس وقت وہ بالکل اکیلی ہے بس اس کا سوچ کر ہی اداس ہو رہی تھی”
حنین آدھی سچی آدھی جھوٹی بات نظریں ملائے بغیر وجیہہ کو بتانے لگی
کل رات اس کے پاس آئی تو مزنہ کی ہی کال تھی مگر اس نے یہ سب باتیں حنین کو نوین کے بارے میں بتائی تھی بقول اس کے کہ دو ہفتے سے نوین شدید بیمار ہے اسے کینسر ڈائیگنوز ہوا ہے جس کا علاج کروانے کل اس کی لندن کی فلائٹ ہے۔۔۔ نوین کے بارے میں یہ خبر سن کر حنین کا دل کل رات سے ہی بری طرح پریشان تھا۔۔۔ آزھاد کے بار بار اس کے چپ رہنے کی وجہ پوچھنے پر وہ سر درد کا کہہ کے ڈال گئی وہ گھر کے کسی بھی فرد کے سامنے نوین کا نام لے کر کسی کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اپنے دل کو نہیں سمجھا سکتی تھی کیونکہ وہ لاکھ بری سہی مگر اس کی سگی بہن تھی
“تو بیٹا اس میں اداس ہونے والی کیا بات ہے آزھاد واپس آئے تو آج مزنہ کے پاس چلی جانا تھوڑی دیر کے لئے” وجیہہ کی بات سن کر وہ اسے دیکھنے لگی اب بھلا آزھاد کے ساتھ وہ نوین سے کیسے ملنے جا سکتی تھی
“اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں ابھی فضل کے ساتھ چلے جاؤ دو گھنٹے کے اندر واپسی کر لوں گی۔۔۔ ابھی تو ویسے بھی فری ہو” حنین وجیہہ کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“ہاں تو پھر ایسا کرلو فضل کے ساتھ چلی جاؤ۔۔۔ کل شام ویسے بھی عباس اور کومل آنے والے ہیں ایک ہفتہ کیسے گزر گیا شادی کو معلوم ہی نہیں ہوا”
وجیہہ مسکراتی ہوئی کہنے لگی کومل کے چہرے کی مسکراہٹ اس کے چہرے سے چھلکتی خوشی وجیہہ اور شاہنواز کو اطمینان بخشتی تھی،، وہ دونوں ہی خدا کے شکر گزار تھے کہ ان کے دونوں ہی بچے اپنی اپنی زندگی میں خوش تھے اور وہ اپنی اولادوں کو خوش دیکھ کر وہ دونوں مطمئن تھے
“ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ وقت گزرنے کا معلوم ہی نہیں ہوتا۔۔ ٹھیک ہے آنٹی پھر میں مزنہ کی طرف جانے کی تیاری کر لیتی ہوں جلدی واپسی کر لو گی”
حنین وجیہہ سے چند ایک دو باتیں کر کے وہاں سے اٹھ گئی…
جاری ہے
