Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794
Last updated: 17 July 2026
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel
"ہاں تو کیا نام بتایا آپ نے ڈیڈ کی پرسنل سیکرٹری کا"
آج شاہ نواز کی غیرموجودگی میں آزھاد اس کے آفس آیا وہ اس وقت شاہنواز کی کرسی پر برجمان مشتاق صاحب (مینیجر) سے مخاطب ہوا
"نوین۔۔۔ نوین مرزا"
مینیجر کشمکش میں مبتلا تھا وہ شاہنواز یا نوین کے متعلق پرسنل انفارمیشن کسی کو نہیں دے سکتا تھا مگر یہاں شاہنواز کا بیٹا ہی آکر اس سے پوچھ گچھ میں لگا تھا اس لیے وہ گھبراتا ہوا بولا
"مجھے بیس منٹ کے اندر معلوم کرکے بتائیں دبئی کے کس ہوٹل یا ولا وہ دونوں موجود ہیں اور یہ ٹور کتنے پرسنٹ آفیشلی ہے ان ساری ڈیٹیلز سے مجھے آگاہ کریں"
آزھاد مینیجر گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا
"جی سر"
مینیجر آزھاد سے بولتا ہوا جانے لگا
"مشتاق صاحب ڈیڈ اس کمپنی میں 50 پرسنٹ کے مالک ہیں جبکہ ففٹی پرسنٹ ہی اس کمپنی میں میرا بھی شیئر ہے،، آپ کو بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اگر کچھ بھی غلط انفارمیشن دی گئی تو انجام آپ کو بھگتنا ہوگا"
آزھاد مینیجر کو وارن کرتا ہوا بولا
"یس سر"
مینیجر نے ایک بار پھر مہذب انداز میں آزھاد کو جواب دیا
"اب آپ تشریف لے جائے اور امتیاز صاحب کو روم میں بھیجئے"
آزھاد نے شاہنواز کے متعلق انفارمیشن لینے کے بعد اب آفس کے معاملات کی بھی انفارمیشن لینا بھی ضروری سمجھا
ابھی وہ شاہنواز کی پرسنل سیکرٹری کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا جسے اس نے ابھی تک نہیں دیکھا تھا مگر اب وہ اس معاملے کو سنجیدگی اور قریب سے دیکھنا چاہتا تھا کیوکہ شاہنواز کے بدلتے ہوئے رنگ اور ڈھنگ سے اب اس کے ساتھ ساتھ وجیہہ بھی مشکوک ہونے لگی تھی،، تبھی ٹیبل پر رکھا ہوا فون بجا
"یس"
آزھاد نے سوچوں کو جھٹکتے ہوئے ریسیور اٹھایا
"سر کو فصیح صاحب اور مُکرم صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں"
پی۔اے نے اس کو آگاہ کیا
"اوکے اندر بھیجیں ان دونوں کو"
آزھاد میں ریسیور واپس رکھا اس دن فارم ہاؤس سے واپسی کے بعد فصیح اور مُکرم سے اس کی آج ملاقات ہو رئی تھی
"کیا بڈی ناراض ہو گیا تو۔۔۔ کل سے کچھ خبر ہی نہیں ہے تیری"
فصیح اور مُکرم دونوں آفس کے روم میں آئے مُکرم آزھاد سے پوچھنے لگا
"جن سے میں ناراض ہو جاؤں ان کو منہ نہیں لگاتا جبکہ تمہیں میں نے خود ہی صبح کال کرکے بتایا تھا کہ آج میں آفس آنے کا ارادہ رکھتا ہوں"
آزھاد مُکرم کو دیکھتا ہوا بولا
"تجھے نہیں معلوم فارم ہاوس سے جانے کے بعد تو نے کیا کچھ مس کر دیا۔۔۔ کیا حسینائے تھی یار قسم سے میرا تو نشہ ابھی تک نہیں اترا"
فصیح فارم ہاوس کا منظر یاد کرتا ہوا ٹھنڈی آہ بھر کر بولا
"یہ نشہ تمہارا اسی دن اترے گا جب تمہیں معلوم ہوگا کہ تم ایڈز جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوگئے ہو"
آزھاد نے جتنے آرام سے کہا مُکرم ہنستا ہوا فصیح کا مذاق اڑانے لگا
"ایسی بد دعائیں دے کر ڈرا تو مت یار"
فصیح اب سیدھا ہو کر بیٹھتا ہوا بولا
"اوو تو اب سمجھا یہ پرہیز جبھی ہے ایڈز کے ڈر سے"
مُکرم آزھاد کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ ان خرافات میں وہ خود بھی زیادہ پڑنے کا قائل نہیں تھا مگر موقع محل دیکھ کر فصیح کا ساتھ دے دیا کرتا جبکہ آزھاد نے شروع سے اس چیز سے فاصلہ رکھا تھا
"صرف ایڈز کا ہی ڈر نہیں ہے خوف خدا بھی کوئی چیز ہوتی ہے ویسے بھی ایک حرام چیز تو منہ لگی ہوئی ہے دوسرے کی طلب اگر شدت اختیار کر گئی تو حلال طریقہ ہی اپناؤ گا"
آزھاد ریولنگ چیئر پر جھولتا ہوا مُکرم کو بتانے لگا
"یعنی حلال طریقے سے حلال ہونے کا سوچا ہے تو نے"
فصیح کی بات پر وہ تینوں ہنسے
"حلال ہونے کا نہیں کرنے کا"
آزھاد پی۔ اے سے اپنے ساتھ ان دونوں کے لیے کافی کا بولنے لگا
"کوئی بکری بھی تلاش کی ہے یا ابھی تک سوچوں میں اٹکا ہوا ہے" فصیح نے معنیٰ خیزی سے پوچھا تب آزھاد کو حنین یاد آئی
"اس بات کو چھوڑو یہ بتاؤ اسامہ کی بہن مریم کس کالج میں پڑھتی ہے" آزھاد فصیح سے پوچھنے لگا کیوکہ لڑکیوں کی انفارمیشن اسی کے پاس ہی مل سکتی تھی
"ریئلی اسامہ کی بہن"
مُکرم ہنستا ہوا آزھاد سے کنفرم کرنے لگا
"شٹ آپ،، کچھ پوچھنا ہے اس سے" آزھاد کا جیسے مریم کے نام پر منہ کڑوا ہوا
"ابے مریم کو چھوڑ تجھے معلوم ہے اس دن تیرے فارم ہاؤس سے نکلنے کے بعد کون ملی وہی حسینہ جسکا تو موبائل نمبر لینے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا"
فصیح اس رات کا حنین کا قصہ یاد کرکے آزھاد کو بتانے لگا
"ہنی"
آزھاد کے لبوں سے بے آواز حنین کا نام ادا ہوا اور چہرے کے تاثرات ایک دم سنجیدہ ہو گئے
"مان گیا یار کیا لڑکی تھی،، اس لڑکی سے نہ تو تُو نمبر نکلوا سکا اور نہ ہی وہ لڑکی اس ڈفر کے ہاتھ لگی اس رات"
Rate this Novel
Categories:
Action Action & Adventure Adult Adventure After Marriage after nikah Age Difference Based Contemporary Crime Thrillers Gangster Hero Kidnapping Based Mafia Daddies Moral & Faith-Based Drama Revenge based Rude Hero
Tags:
