Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09

حنین کو بار بار پر پرسوں رات والا منظر یاد آنے لگا کیسے آزھاد اس کو سوئمنگ پول سے بچا کر لایا تھا اس وقت وہ ہوش میں نہیں تھی مگر وہ محسوس کر سکتی تھی آزھاد کی آواز میں اپنے لئے پریشانی،، اپنے لئے فکر اور ہوش میں آنے کے بعد شاید اس کی آنکھوں میں محبت بھی۔۔۔۔۔
“نہیں نہیں یہ میں کیا سوچنے لگ گئی اس بدتمیز انسان کے بارے میں”
حنین نے فوراً اپنے دماغ میں آنے والی سوچ کو جھٹکا
“آخر اسے کیا ضرورت ہے یوں میرے پیچھے پڑنے کی اچھا خاصا پیسے والا انسان ہے،، شکل و صورت بھی ڈھنگ کی ہے لڑکیوں کی کمی تھوڑی ہوگی اسے بھلا”
حنین اپنی سوچوں میں گم جا کر آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی
“تو شکل و صورت میں میں کونسی کم ہو”
اب وہ شیشے کے سامنے کھڑی خود اپنا جائزہ لینے لگی پھر اپنے بالوں کو اسکارف کی مدد سے باندھنے لگی
“افسوس قد سے مار کھا گئی ہنی تم۔۔۔ ویسے تو ہائیٹ اتنی چھوٹی نہیں لیکن شاید آزھاد کے شولڈر تک آتی ہوگی میں”
حنین سوچتی ہوئی دوبارہ بیڈ پر لیٹ گئی اسے ایک اور منظر یاد آیا جب آزھاد اس کے بیڈروم میں آیا تھا
“تم مجھے بتا دو تم میرے کس اسٹائل سے امپریس ہوگی”
آزھاد کے بولے گئے الفاظ حنین کو یاد آئے۔۔۔۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ وہ اس کے کتنے نزدیک کھڑا تھا اور اس کی بولتی ہوئی نظریں۔۔۔ حنین نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں سے دبایا
“نزدیک تو وہ میرے پرسوں رات کو بھی تھا۔۔۔ اس کے منہ سے آتی وہ عجیب سی اسمیل۔۔۔ شاید ڈرنگ کی تھی”
یہ سوچ آتے ہی حنین کا دل برا ہونے لگا
“مجھے اور کچھ بھی سوچنا نہیں چاہیے اس کے متعلق،، اس کی کلاس میں اور میری کلاس میں نمایاں فرق ہے۔۔۔ وہ ڈرنگ کرتا ہے ہر عام بگڑے ہوئے امیر زادوں کی طرح یقیناً اسے لڑکیوں سے فرینڈ شپ کا بھی شوق ہوگا کئی گرل فرینڈز ہوگیں اس کی”
حنین مزید بدل ہوئی
“اور سب سے بڑھ کر آپی۔۔۔ آپی کے سامنے تو میں اپنی سوچ ظاہر بھی نہیں کر سکتی وہ سیدھا سیدھا میرا گلا دبانے میں دیر نہیں لگائے گیں”
ڈور بیل کی آواز پر حنین نے گھڑی میں ٹائم دیکھا۔۔۔ نوین کے آفس سے آنے کا ٹائم ہوگیا تھا وہ دروازہ کھولنے گئی
شکر ہے پرسوں رات پارٹی سے واپسی پر ڈرائیونگ کے دوران نوین نے اس سے زیادہ پوچھ گچھ نہیں کی۔۔۔ صرف نوین نے اتنا پوچھا تھا کہ وہ پانی میں کیسے گری
جس پر حنین نے اسے بتایا کہ اس کا پاؤں سلپ ہوا تھا اور آزھاد نے اس کو بچایا۔۔۔
آزھاد اس جگہ پر کب آیا،، کیا کر رہا تھا یہ اسے نہیں معلوم۔۔۔ نہ جانے وہ اصلی بات کیوں چھپا گئی اور یہ بھی نہیں بتا سکی کہ آزھاد ان کے فلیٹ میں بھی آچکا ہے
پرسوں رات کو ہی ڈرائیونگ کے دوران نہ جانے کیا سوچ کر نوین نے حنین کو بتایا کہ آزھاد اس کے باس کا بیٹا ہے۔۔۔ حنین کو محسوس ہوا جیسے نوین اور بھی کچھ بولنا چاہ رہی تھی مگر وہ خاموش رہی
“تم”
حنین نے دروازہ کھولا تو آزھاد کو اپنے سامنے کھڑا پایا حنین نے حیرانگی سے اس سے پوچھا اس کے چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی وہ جواب دینے کی بجائے پورا دروازہ کھول کر فلیٹ کے اندر داخل ہوا اور دروازے کو لاک کردیا
****
چھ بجے عموماً عباس آفس سے گھر آ جاتا تھا۔۔۔ وہ تھوڑی دیر پہلے ہی گھر آیا تھا ونڈو سے اس کی نظر گھر کے لان میں پڑی، اسے کومل چیئر پر بیٹھی ہوئی نظر آئی۔۔۔ عباس کچن میں چلا گیا،، انیکسی کی صفائی تو میڈ کر جاتی تھی مگر کھانا زیادہ تر وہ خود آفس سے آنے کے بعد بناتا تھا وجیہہ نے ایک دو بار اسے پیشکش کی تھی کہ وہ یہاں آ کر ان کے ساتھ کھانا کھا لیا کرے مگر اس نے سہولت سے انکار کردیا ابھی وہ کچن میں ہی موجود کوکنگ کر رہا تھا
کام کرنے کی عادت ویسے بھی اس کو شروع سے ہی تھی جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا اپنے پاس اپنے پیرنٹس کے علاوہ کسی دوسرے رشتے کو نہیں دیکھا تھا مگر تھوڑا بڑا ہو کر اسے معلوم ہوا اس کے پیرنٹس نے لو میرج کی تھی جس کی وجہ سے ان سے کوئی نہیں ملتا تھا اور نہ ہی کسی سے کانٹیکٹ تھا
چار سال پہلے اس کا اپنے پیرنٹس کے ساتھ اتفاق سے پاکستان آنا ہوا مگر حالات کی ستم ظرفی یہ ہوئی وہاں اس کی مدر کی ڈیتھ ہوگئی تب اس نے فرسٹ ٹائم اپنے رشتے داروں کو دیکھا اپنی خالا ماموں چچا اور ان کے بچوں کو بھی
دیا سے بھی اس کی تب ہی ملاقات ہوئی تھی، وہ اس کی خالہ کی بیٹی تھی اور ایک اچھی نیچر کی لڑکی بھی۔۔۔ یہی وجہ تھی کے اپنے فادر کے ساتھ پاکستان سے واپسی کے بعد بھی اس کا دیا سے کانٹیکٹ رہا
کھانا تیار ہو چکا تھا عباس دوبارہ لیونگ روم میں آیا بیڈ روم میں جانے لگا دوبارہ اس نے کھڑکی سے لان میں دیکھا کومل اب دونوں پاؤں اوپر کیے چیئر پر بیٹھی تھی۔۔۔۔ اس نے بیڈ روم میں جانے کا ارادہ ترک کیا اور باہر نکل کر لان کی طرف آ گیا
“کومی بےبی پلیز کھا لے نا، آپ کی میڈیسن کا ٹائم ہوگیا ہے”
عباس کومل کے پاس پہنچا تو کوثر کومل کے پاس کھڑی اس کی منتیں کر رہی تھی کہ وہ اپنی دوا کھالے
“تم گندی آنٹی ہو چلی جاؤ کومی کبھی تم سے یہ کڑوی میڈیسن نہیں کھائے گی”
کومل نے کوثر کو دیکھ کر چڑتے ہوئے کہا کوثر عباس کو دیکھنے لگی
“کیا بات ہے بھئی کوثر آپ کیوں ہماری کومی بےبی کو تنگ کر رہی ہیں”
عباس کوثر سے پوچھتا ہوا کومل کے برابر والی چیئر پر بیٹھا
“سر کومی بےبی میڈیسن نہیں لے رہی ہیں ضد کر رہی ہیں کہ آزھاد سر کو بلایا جائے۔۔۔۔ آزھاد سر نے جب سے آفس جوائن کیا ہے وہ ٹھیک طرح سے انہیں ٹائم نہیں دے پا رہے اس وجہ سے کومی بےبی مجھ سے بھی ناراض ہوگئی ہیں”
کوثر نے ساری بات عباس کے سامنے رکھی
“یہ موٹی کوثر جھوٹ بول رہی ہے یہ اکیلے میں کومی بےبی سے بات نہیں کرتی، کومی بےبی سے کھیلتی بھی نہیں، ،، کومی بےبی کو ڈراتی بھی ہے کہ کھانا نہیں کھایا تو تمہیں روم میں بند کر دوں گی۔۔۔ اگر شاور نہیں لیا تو واشروم میں بند کردوں گی۔۔۔ یہ اکیلے میں کومی بےبی پر غصہ کرتی ہے۔۔۔ اس کے بڑے بڑے دانت اور ناخن نہیں ہیں مگر یہ موٹی پوری چڑیل ہے”
کومل نے عباس کے سامنے کوثر کی ساری پول پٹی کھول دی جس پر کوثر شرمندہ ہونے لگی
“بری بات ہوتی ہے کومی ایسے کسی کو نہیں کہتے۔۔۔ کوثر لائے کومی بےبی کی میڈیسن مجھے دیجیے اور اب یہاں سے جائیں” عباس نے کومل کو ٹوکتے ہوئے کوثر سے ہاتھ بڑھا کر میڈیسن لی جو کوثر عباس کو تھما کر وہاں سے چلی گئی
“اب کومی کوثر سے میڈیسن نہیں کھائے گی بلکہ اپنے فرینڈ سے کھائے گی”
عباس نے شیشی کھول کر ایک ٹیبلٹ نکالی اور ہتھیلی پر رکھ کر کومل کی طرف بڑھائی جسے کومل نے عباس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مار کر نیچے پھینک دی
“فرینڈز ایسے نہیں ہوتے ہیں، فرینڈز اچھے ہوتے ہیں وہ سات میں کھیلتے ہیں اور باتیں بھی کرتے ہیں ان کے ساتھ مزہ بھی آتا ہے تم غصہ کرتے ہو اور ڈانٹتے بھی ہو کوثر موٹی آنٹی چڑیل ہے اور تم مونچھوں والے انکل”
کومل نے عباس سے ناراض ہو کر شکوہ کیا اور عباس نے اپنے لیے تعریفی کلمات سن کر اسے گھورا
“صرف ایک کومی ہی چھوٹا بےبی ہے باقی تو سب آنٹی اور انکل ہیں۔۔۔ اچھا اب یہ میڈیسن لو جلدی سے، آج کے بعد نہ میں غصہ کروں گا نہ ڈانٹوں گا”
عباس نے دوسری ٹیبلٹ اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اس کی طرف بڑھائی کومل نے ہاتھ مار کر دوبارہ وہ ٹیبلٹ گرا دی
“کومل”
عباس نے غصے میں اس کا نام لے کر اسے گھورا
“دیکھا تم ابھی بھی کومی پر غصہ کر رہے ہو کوئی کومی بےبی سے پیار نہیں کرتا”
کومل کو رونا آنے لگا
“تو یار تم پیار کرنے والی حرکتیں بھی تو کرو۔۔۔ اچھا سوری اب غصہ نہیں کروں گا پرامس یہ میڈیسن لےلو اچھے بچوں کی طرح ویسے بھی کومی بہت پیارا سا بےبی ہے”
عباس نے کومل کو بہلاتے ہوئے دوبارہ ٹیبلٹ نکال کر اس کی طرف بڑھائی کومل نے ایک بار پھر ہاتھ مار کر اسے پھینک دی
عباس نے بنا کچھ بولے بنا اس کو گھورے دوسری ٹیبلٹ اس کی طرف بڑھائی، کومل نے اسے بھی ہاتھ مار کر پھینک دی چوتھی اور پانچویں بار بھی عباس نے بناء کچھ کہے اس کی طرف ٹیبلٹ بڑھائی مگر کومل نے بھی ڈھیٹ پن سے وہی عمل دہرایا
ایک بار پھر عباس نے شیشی سے ٹیبلٹ نکالی اور اپنی ہتھیلی پر رکھ کر کومل کی طرف بڑھائی کومل نے جیسے ہی اس پر ہاتھ مارنا چاہا عباس نے فوراً مٹھی بند کرلی اور دوسرے ہاتھ سے کومل کا ہاتھ نرمی سے پکڑا اور میڈیسن اس کے منہ کی طرف بڑھائی
“اگر کومی کو اپنے فرینڈ کے ساتھ فٹ بال کھیلنا ہے تو وہ یہ ٹیبلٹ فٹافٹ کھائے گی”
عباس نے ٹیبلٹ اس کے منہ میں ڈالی اور پانی کا گلاس اس کے ہاتھ میں تھمایا
اب اپنے کہے کے مطابق عباس کو کومل کے ساتھ فٹبال کھیلنا تھی
آج کومل خوش تھی کیونکہ عباس آج انکل سے دوبارہ اس کا فرینڈ بن گیا تھا وہ بھی اچھا والا
_____________
“لوک کیوں کر رہے ہو دروازے کو”
حنین نے آگے بڑھ کر دروازے کا لوک کھولنا چاہا مگر آزھاد اس کا بازو پکڑ کر اسے کھینچتا ہوا لیونگ روم تک لایا اور وہاں موجود بڑے سے جھولے پر حنین کو دھکا دیا ساتھ ہی اس نے اپنا کوٹ بھی اتار کر اس جھولے پر حنین کے پاس پھینکا
حنین آزھاد کے اس انداز پر حیرت زدہ ہو کر اسے دیکھنے لگی
“دیکھو آزھاد ہم آرام سے کسی اور دن بیٹھ کر تفصیل سے بات کرلے گے،، اس وقت آپی کے آنے کا ٹائم ہے پلیز تم ابھی چلے جاؤ یہاں سے”
وہ پہلے بھی حنین کے بولنے پر اس کے فلیٹ سے چلا گیا تھا حنین کو لگا وہ اب بھی اس کی بات سمجھ جائے گا مگر آج حنین کو اس کے تیور دیکھ کر ذرا سا خوف آرہا تھا، کچھ اسکے انداز میں بدلاؤ تھا جو حنین کو الجھا رہا تھا۔۔۔ آزھاد نے اس کی بات سنتے ہوئے فرج سے پانی کی بوتل نکالی، بوتل سے منہ لگا کر پانی پینے لگا
“آرام سے بیٹھ کر بات کرنے کا ٹائم اب گزر گیا ہے۔۔۔ اب آرام سے بات کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں اور بے فکر رہو تمہاری آپی آج کافی لیٹ آئے گی، وہ بچہ ایبورٹ کروا رہی ہے اس وقت”
آزھاد بہت نارمل سے انداز میں حنین کو بتا کر مزید بوتل سے پانی پینے لگا یہی تو اسکے اپر کلاس طبقے کی خصوصیت تھی، گناہ کر کے فوراً ہی ثبوت کو مٹا دینا آزھاد کو پورا یقین تھا اس کا باپ بھی نوین کو لے کر یہی کام کروانے گیا ہوگا
“کیا بکواس کر رہے ہو تم میری آپی کے بارے میں،، اتنی گھٹیا بات بولتے ہوئے تمہیں شرم آنی چاہیے۔۔۔ نکل جاو فوراً یہاں سے ورنہ میں آپی کو بتا دوں گی کہ تم ہمارے فلیٹ تک پہنچ گئے ہو”
حنین کو آزھاد کی بات سن کر شدید غصہ آیا جبھی وہ چیختی ہوئی بولی جس پر آزھاد ہنسا
“تمہاری بہن ایک گری ہوئی لڑکی ہے اور گری ہوئی لڑکی کے بارے میں گھٹیا بات کرتے شرم کیسی،، تم مجھے اپنی بہن سے ڈرا رہی ہو میں تو چاہتا ہوں آج جو جو میں تمہارے ساتھ کرو وہ سب تم اپنی آپی کو ضرور بتاؤں”
آزھاد نے بولتے ہوئے پانی کی بھری بوتل حنین کے سر پر انڈیل لی
“یہ کیا بیہودگی ہے”
اچانک آزھاد کی حرکت پر وہ تلملا اٹھی اور آزھاد کا ہاتھ پکڑنے لگی
“اسے بےہودگی نہیں کہتے ہنی ڈیئر اصل بےہودگی تو میں تمہارے ساتھ اب کروں گا”
آزھاد اپنے ایک ہاتھ حنین کے دونوں ہاتھوں قابو کرتا ہوا دوسرے ہاتھ موجود پانی کی بوتل سے اب حنین کے شولڈرز اور گلے میں پانی ڈالتا ہوا اس کے کپڑے بھگونے لگا۔۔۔ پانی کی خالی بوتل پھینک کر اس نے حنین کو بھی دھکا دیا حنین فرش پر جا گری
“آج تمہاری بہن کو تمہاری حالت دیکھ کے معلوم ہوگا کہ مینٹلی ٹارچر کیسے کیا جاتا ہے”
آزھاد ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا ہوا اپنی آستین فولڈ کرکے حنین کی طرف قدم بڑھانے لگا
“آزھاد”
حنین نے ڈر کر اس کا نام پکارا تھا اور اٹھ کر اپنے بیڈ روم کی طرف بھاگی اس سے پہلے وہ بیڈروم کا دروازہ بند کرتی آزھاد نے زور سے دروازہ پر اپنا ہاتھ مارا دروازہ زور سے کھلنے پر وہ نیچے جا گری
“نہیں نہیں آزھاد پلیز نہیں”
آزھاد حنین کے قریب آ کر اسے اٹھانے لگاتا تب وہ روتی ہوئی چیخی
وہ اسے اپنے حصار میں لیے حنین پر جُھکا حنین نے زور زور سے اس کے سینے پر اپنے ہاتھ مارنا شروع کر دیے۔۔۔
آزھاد اس کے بالوں سے اسکارف کھینچ کر اس کے دونوں ہاتھ کمر تک لے جاکر باندھنے لگا
“میرا گناہ کیا ہے آزھاد، مجھے میرا جرم بتاؤ”
حنین روتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی تب آذھاد نے اسے کندوں سے پکڑا
“یہ تو کہاوت سنی ہوگی نہ تم نے کہ آٹے کے ساتھ گُھن بھی پستا ہے آج تم اپنی بہن کا کیا بھگتان بھروں گی”
آزھاد حنین کو دیکھتا ہوا پتھریلے لہجے میں بولا
حنین کے کندھوں سے اپنے ہاتھ ہٹا کر اپنا بازو اس کی کمر کے گرد باندھ کر دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ دبوچا
“معلوم ہے تمہیں وہ اپنی اداؤں اور جلووں سے کس کا دل بہلاتی ہے، کس کے بستر کی زینت بنی ہوئی ہے پچھلے ایک سال سے۔۔۔ معلوم ہے تمہیں کس کے ساتھ تمہاری بہن نے ناجائز تعلقات استوار کیے ہیں۔۔ میرے باپ کے ساتھ”
آزھاد نے آخری جملہ دانت پیس کر کہا اور حنین کو بیڈ پر دھکا دیا
اب وہ اپنی ٹائی اتار کر بیڈ کے پاس حنین کے قریب آنے لگا حنین نے روتے ہوئے پیچھے سرکنا شروع کیا تو آزھاد نے اس کے دونوں پاؤں پکڑ کر اپنی ٹائی اس کے گرد باندھنا شروع کردی
“میری بہن اور اپنے فادر کے جرم کی سزا تم مجھے کیوں دے رہے ہو آزھاد۔۔۔ میرا کیا قصور ہے مجھ پر ترس کھاؤ پلیز”
حنین اب بےبسی سے روتی ہوئی چیخ کر آزھاد سے بولی
“تمہاری بہن کو دو دن پہلے آگاہ کیا تھا میں نے اگر اس نے اپنے قدم نہیں روکے تو میں اس کی بہن کو ہرگز چھوڑنے والا۔۔ مگر کل وہ آفس آکر الٹا مجھے چیلنج کر گئی کہ میرے سر پر ناچے گی یا تو تمہاری بہن تم سے محبت نہیں کرتی یا پھر اس نے میری باتوں کو سیریس نہیں لیا۔۔۔ آج وہ میرے ڈیڈ کے ساتھ گئی ہے اپنا گناہ اور ناجائز ثبوت مٹانے۔۔۔۔ اپنے باپ کو تو میں اچھی طرح بتاؤں گا ہی مگر اس سے پہلے میں تمہاری بہن کو ایسا سبق دینا چاہتا ہوں جسے وہ ساری زندگی یاد رکھے”
حنین کے پاؤں سائیڈ پر کرتا ہوا وہ اس کی گردن پر جھکا اس سے پہلے آزھاد کے ہونٹ حنین کی گردن کو چھوتے
“اس سے بہتر ہے میرا گلا دبا دو آزھاد، مجھے مار کر بھی تمہارا انتقام پورا ہو جائے گا۔۔۔ پلیز مجھے مار دو مگر یوں پامال مت کرو”
حنین کی آواز، آزھاد کے کانوں میں گونجی تو آزھاد سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا حنین کی آنکھیں
رو رو کر سرخ ہو چکی تھی وہ اس وقت مکمل طور پر آزھاد کی حصار میں سسک رہی تھی۔۔ دو بہنیں اور ان دونوں کی مختلف سوچ آزھاد نے دل میں سوچا،، اس نے اپنا ہاتھ حنین کے کندھے سے ہٹا کر حنین کی آنکھوں کو چھونا چاہا تو حنین نے اپنے چہرے کا رخ دوسری سمت کر لیا
آزھاد اٹھ کر بیٹھا اور بیڈ سے نیچے پاؤں لٹکا کر بیٹھ گیا اب اس کی پشت حنین کی طرف تھی اپنی پاکٹ سے سگریٹ لائٹر نکال کر وہ سگریٹ پینے لگا حنین ابھی بھی بیڈ پر لیٹی ہوئی اسی کو خوف سے دیکھ رہی تھی
وہ اپنی سسکیاں منہ میں ہی دبائی ہوئی اپنے ہاتھوں پر زور دے رہی تھی کہ کسی طرح اس سے کُھل جائے مگر آزھاد نے اس کے ہاتھ بہت کس کر باندھنے تھے وہ صرف انہی کھولنے کی کوشش کرسکتی تھی سگریٹ پینے کے بعد آزھاد نے گردن موڑ کر حنین کو دیکھا
حنین کو ایک بار پھر اس سے خوف آنے لگا اسے لگا اب وہ اس کا گلا دبا دے گا اپنا انتقام پورا کرنے کے لئے۔۔۔ کیپری سے چھلکتی ہوئی سفید پنڈلیوں پر آزھاد کی نظر پڑی اس نے حنین کے پاؤں کو چھونے کی کوشش کی حنین نے جلدی سے اپنے پاؤں سمیٹے ایک دفعہ دوبارہ اسے رونا آنے لگا تب آزھاد نے اس کے پیروں کو سیدھا کر کے پاؤں پر بندھی ٹائی کھولنے لگا
“ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہارا گلا تو میں ہرگز نہیں دبانے والا نہ ہی تمہارے ساتھ وہ کرنے والا ہوں جس کا غصے میں سوچا تھا۔۔۔ بدتمیز اور بیہودہ تو میں بہت ہوں مگر اس لیول تک کا نہیں بن سکتا جتنا تم نے سوچ لیا ہے”
آزھاد حنین کے پاؤں کھولتا ہوا سنجیدگی سے بولا
“تمہیں اپنی بہن کو سمجھانا ہوگا ہنی، وہ میری ماں کا گھر برباد کر رہی ہے میں اپنی مما کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا جیسے اس وقت تمہاری آنکھوں میں مجھے آنسو برداشت نہیں ہوئے”
اب وہ حنین کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اس کو بٹھاتا ہوا اس کے ہاتھ کھولنے لگا
“بہت غصہ ہے مجھے نوین پر، اتنا کہ میں اس کو تکلیف دینا چاہتا ہو تاکہ وہ تڑپے۔۔۔ مگر میں اسے تڑپانے کے لئے شاید میں تمہیں ازیت نہیں دے سکو کیونکہ میں۔۔۔۔”
آزھاد اب اسکارف سے حنین کے بالوں کو دوبارہ قید کرتا ہوا اپنی بات ادھوری چھوڑ کر حنین کا چہرہ دیکھنے لگا اور حنین اس کی بات کا انتظار کرنے لگی
“کیونکہ تم”
آزھاد بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے نکلنے لگا تب حنین الجھ کر ایک دم بولی آزھاد نے اسے مڑ کر دیکھا
“کیونکہ میں تمہاری بہن جتنا گھٹیا نہیں ہوں”
آزھاد اس کو بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا
****
15 منٹ پہلے نوین گھر پہنچی تھی شاہنواز نے ہی اس کو گھر ڈراپ کیا تھا۔۔۔ نوین کے اصرار پر شاہنواز اسے اس کی دوست ڈاکٹر شہلا (گائنی) کے پاس اسے لے گیا تھا جو کہ کوئی اتنی مشہور نہیں بلکہ ایک نارمل سے میٹرنٹی ہوم کی ڈاکٹر تھی
نوین نے ڈاکٹر شہلہ کے پاس جانے کا اصرار اس لیے کیا تاکہ وہ اس سے اپنی مرضی کی رپورٹ تیار کروا سکے۔۔۔ شہلا کو نوین سے اتنی محبت نہیں تھی کہ وہ دوستی میں یہ کام کر دیتی بلکہ نوین کی دی گئی پرکشش اماؤنٹ سے وہ الٹراساؤنڈ کی نقلی ریپورٹ بنانے کے لئے تیار ہوئی تھی
نوین شاہنواز کے ساتھ خوش تھی جیسا سال بھر سے چل رہا تھا کم از کم حنین کی شادی تک ایسے ہی چلتا رہتا تو اچھا تھا مگر نوین کو بیچ میں یوں اچانک آزھاد کا آنا بری طرح کھلا تھا وہ نہ صرف اس کے اور شاہنواز کے بیچ آیا تھا بلکہ اس کے اور حنین کے بیچ میں بھی آنے کی کوشش کر رہا تھا جو کہ نوین بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔
اپنے اور اپنی بہن کے بیچ تو وہ اسے بالکل بھی نہیں آنے دے گی یہ تو طے تھا مگر اب نوین کو شاہ نواز کی طرف سے بھی دھڑکا لگا رہتا تھا
نوین نے اپنے قدم مزید جمانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیا مگر ساتھ ہی اب وہ کچھ آزھاد کو بھی باور کروانا چاہتی تھی
آج حنین نے اس کے لئے دروازہ نہیں کھولا تھا نوین نے گھر میں آکر حنین کے روم میں جھانکا وہ روم کی لائٹ کھولے آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹی تھی۔۔۔ نوین کے دو بار پکارنے پر بھی وہ ویسے ہی لیٹی تھی
نوین اس کے رویے کو نوٹس کیے بغیر اپنے روم میں آ گئی اور چینج کرنے کے بعد کچن میں جا کر اپنے لئے کھانا گرم کرنے لگی
“ایبارشن کروا لیا آپ نے”
ابھی کھانے کا دوران ہی ہوا تھا تب اسے حنین کی آواز آئی نوین نے سر اٹھا کر حیرت سے حنین کو دیکھا وہ ڈائننگ ٹیبل کے سامنے سینے سے ہاتھ باندھے کھڑی اس سے سوال کر رہی تھی
“کیا بکواس کی ہے تم نے ہنی، دماغ درست ہے تمہارا تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس طرح بے ہودہ بکواس کرنے کی، وہ بھی اپنی بڑی بہن کے سامنے” نوین کو حنین کے رویے اور بات کے انداز سے کچھ گڑبڑ کا احساس تو ہوا مگر پھر بھی وہ چہرے پر غصے کے تاثرات لائے سختی سے اس پر چیخنے لگی
“اونچی آواز میں چیخ کر میری آواز کو دبائے مت آپی۔۔۔ آپ نے کیسے ہمت کرلی اتنا بڑا اور غلیظ قدم اٹھانے کی آپ کا اپنے باس کے ساتھ ناجائز”
حنین ایک بار پھر بولی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *