Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21
زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے واپس گھر لے کر چلوں”
آزھاد کے خطرناک عزائم دیکھ کر حنین کو گھر جانا ہی ٹھیک لگا۔۔ ویسے بھی نوین ناجانے اس کے بارے میں اب تک کیا کیا سوچ چکی ہوگی
“ایک بار بول دیا ناں اب بار بار نہیں بولوں گا کل چلیں گے مطلب ہم گھر کل چلیں گیں اب مزید کوئی بحث نہیں ہونی چاہیے”
اب کی بار وہ لہجے میں تھوڑی سختی لاتا ہوا بولا اور حنین کو بازوں میں اٹھا کر بیڈروم میں لے جا کر بیڈ پر لٹایا
“بریک فاسٹ کیا تھا تم نے”
خود بھی بیڈ کر بیٹھ کر وہ دوبارہ حنین کا ماتھا چھوتا ہوا اس سے پوچھنے لگا اب کی بار اس کا لہجہ نرم تھا
“آپی کو مجھے پنڈی بھیجنے کی جلدی تھی، تم یہاں لائے ہو تو تمہیں روعب جھاڑنے سے فرصت نہیں۔۔ میری طبیعت خراب ہو یا میں صبح سے بھوکی ہوں کسی کو پرواہ ہی نہیں ہے میری”
حنین بیڈ پر لیٹی ہوئی خفا خفا سی اس سے شکوہ کرنے لگی
“روعب میں آنے والی تم شے ہو تم” آزھاد اپنی مسکراہٹ چھپاتا ہوا اٹھا اور اپنا کوٹ اتار کر وارڈروب میں ہینگ کرتا ہوا استین کے بٹن کھول کر کف فولڈ کرتا ہوا بیڈروم سے نکلنے لگا
“کہاں جارہے ہو تم” حنین اسکو روم سے نکلتا دیکھ کر پوچھنے لگی
“تمہارے الزام کو غلط ثابت کرنے کے لیے۔۔۔ کہ مجھے تمہاری پرواہ نہیں” آزھاد حنین کو دیکھ کر کہتا ہوا روم سے نکل گیا
حنین آنکھیں بند کیے بیٹھ کر لیٹی رہی اسے یوں ہی ریلیکس لیٹنا اچھا لگ رہا تھا بیس منٹ بعد بیڈروم کا دروازہ کھلا تو آزھاد ہاتھ میں ٹرے تھامے اندر آیا۔۔۔ لازمی وہ اس کے لئے ناشتہ بنا کر لایا تھا بےساختہ حنین کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ساتھ ہی وہ اٹھ کر بیٹھ گئی
“کیا سوچ کر مسکرایا جارہا ہے” آزھاد ٹرے سائیڈ پر رکھتا ہوا حنین کے مسکرانے کی وجہ پوچھنے لگا
“میں ایک نک چڑے اور مغرور انسان سے ایکسپیکٹ نہیں کر رہی تھی کہ وہ میرے لئے ناشتہ بھی بناسکتا ہے” حنین آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی تو آزھاد مسکرایا
“میری تعریف کرتے ہوئے کافی کنجوسی سے کام لیا ہے تم نے بدتمیز، بے ہودہ، چھچھورا، بےشرم اور ڈھیٹ کہنا تو تم مجھے بھول ہی گئی”
آزھاد ٹرے میں سے پلیٹ اٹھا کر بولا جس میں بوائل ایگ پیسز کی شکل میں رکھے ہوئے تھے وہ فارک کی مدد سے حنین کو کھلانے لگا
“ایک لفظ تم بھی اپنی شان میں کہنا بھول گئے ہو جو کہ سب سے زیادہ سوٹ کرتا ہے تم پر”
حنین اس کے ہاتھ سے نیوالہ کھاتی ہوئی بولی تو آزھاد نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
“منہ پھٹ”
حنین اپنی مسکراہٹ چھپاتی ہوئی سنجیدگی سے بولی تو آزھاد اب کی بار ہنسا
“یہ تو آدھی دنیا مجھے کہتی ہے اور ایک لفظ اور بھی میری شخصیت کا خاصاں کرتا ہے اور وہ لفظ ہے ضدی۔۔۔ آزھاد اگر ضد میں آجائے تو اپنی منوا کر چھوڑتا ہے”
آزھاد اس کو اپنے ہاتھ سے کھلاتا ہوا ساتھ ساتھ جتانے لگا
“زبردستی نکاح کرکے تم یہ مجھ پر واضح کر چکے ہو” حنین نے فورک اس کے ہاتھ سے لے کر واپس پلیٹ میں رکھا اور پلیٹ لے کر ٹرے میں رکھی
“نکاح ضد میں نہیں کیا جاتا”
آزھاد حنین کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا
“معلوم ہے انتقام کے لیے کیا جاتا ہے”
حنین طنزیہ انداز میں بولی
“غلط نکاح محبت میں کیا جاتا ہے” آزھاد اس کو گہری نظروں سے دیکھتا ہوا اس کے دونوں ہاتھ تھام کر بولا۔۔ محبت کے اظہار پر حنین کی پلکیں بے ساختگی جھک گئی آزھاد خاموشی سے حنین کو دیکھتا رہا
“تم نے ناشتہ کیا”
حنین معنی خیز خاموشی سے گھبرا کر اسے یوں ہی پوچھ بیٹھی
“لوگ بہت بے حس ہیں بھئی سب کو اپنی پیٹ کی فکر ہے۔۔۔ مجال ہے جس نے ناشتہ بنایا ہو جھوٹے منہ اس سے بھی پوچھ لیا جائے”
حنین کو بھرپور طنز میں لیکچر دیا گیا تھا جس طرح حنین نے اس سے اپنے ہاتھ چھڑائے
“زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے تم صبح گھر سے ناشتہ کر کے آفس روانہ ہوئے تھے”
حنین منہ بنا کر بولی
“تو میں نے کب انکار کیا ہے میں تو یہ کہہ رہا ہوں تم مجھے اپنے ساتھ ناشتہ کرنے کی آفر کرتی تو میں ہرگز انکار نہیں کرتا”
آزھاد اس کو ایک بار پھر شرمندہ کرتا ہوا بولا
“اگر اپنے ہاتھ سے بنے ہوئے ناشتہ کرنے کے لیے اتنا ہی تڑپ رہے تھے تو خود سے کرلیتے”
حنین نے ٹرے میں سے پلیٹ اٹھائی جس میں سکھے ہوئے ٹوس رکھے تھے اور آزھاد کی طرف بڑھائی
“ایسے نہیں جیسے میں نے ابھی اپنے ہاتھ سے کھلایا تھا”
اس کی فرمائش سن کر حنین نے آنکھیں گول گھمائی اور بریٹ کا پیس اٹھا کر آزھاد کی طرف بڑھایا جسے آزھاد نے دانتوں سے پکڑ کر حنین کا ہاتھ بریڈ سے ہٹایا۔۔۔ اب وہ انگلی کے اشارے سے حنین کو قریب آنے کو کہہ رہا تھا حنین اپنا چہرہ آزھاد کے قریب لائی تو آزھاد نے منہ میں پکڑی ہوئی بریڈ کی طرف اپنی آنکھوں سے اشارہ کیا حنین مسکرائی پھر اس نے بغیر بریڈ کو ہاتھ لگائے دوسرے سائڈ سے بریڈ کے پیس کی بائٹ لی۔۔۔ ایسا کرنے کے بعد اب وہ دونوں ہی اس فلمی سی حرکت پر ہنس رہے تھے
*****
“جی ڈیڈ خیریت ہے”
ناشتے کے بعد آزھاد نے حنین کو میڈیسن دی جس سے وہ آدھے گھنٹے سے کافی گہری نیند میں سو رہی تھی تبھی آزھاد کا موبائل بجا
“خیریت تم رہنے کہاں دیتے ہو دو دن سکون سے گزرتے ہیں پھر تمہیں کوئی نہ کوئی تماشا لگانا ہوتا ہے”
آزھاد کی بات سن کر شاہنواز طنزیہ انداز میں بولا
“تماشا میں نے نہیں تماشہ آپ کی دوسری بیوی نے لگایا ہے جبکہ اس کی گئی کارروائی کا جواب میں نے ابھی تک دیا نہیں ہے”
آزھاد دوسرے روم میں آکر صوفے پر بیٹھتا ہوا بولا
“شٹ اپ آزھاد تم نے جو پچھلے 10 دن سے نوین کے ساتھ رویہ رکھا ہے سب علم ہے مجھے۔۔۔ میں تمہیں اس سے بدتمیزی کرنے یا بدکلامی کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گا۔۔۔ تم ابھی اور اسی وقت حنین کو لے کر گھر پہنچو”
شاہنواز اب سخت لہجہ اختیار کرتا ہوا بولا
“اوہو تو اب اس نے میرے خلاف آپکے کان بھر کر آگ لگانے کا کام شروع کردیا ہے۔۔۔ ویسے ہنی کو لے کر میں آج گھر نہیں آرہا ڈیڈ اور اگر کسی نے یہاں پر میرے فلیٹ میں آنے کی کوشش کی۔۔۔ تو میں حنین کو لے کر امریکا شفٹ ہو جاؤں گا”
شاہنواز کی بات سن کر آزھاد نے کال کاٹی اور واپس بیڈ روم میں آیا جہاں حنین ابھی بیٹھ پر سو رہی تھی۔۔۔ اس کا کمفرٹر درست کرتا ہوا آزھاد بھی اس کے برابر میں لیٹ گیا
****
“اِدھر چلی میں اُدھر چلی جانے کہاں میں کدھر چلی۔۔۔ کومی پھسل گئی۔۔۔۔
لان میں ڈالی گئی تازہ کھاد جس میں پانی ڈال کر اسے خوب کیچڑ بنا دیا گیا تھا۔۔۔ کومل گانے کے اسٹیٹ کے مطابق ویسے ہی ایکٹ کرتی ہوئی ننگے پاؤں کھاد میں اِدھر سے اُدھر گھوم رہی تھی۔۔۔۔ اور پھسلنے والے جملے پر جب وہ جھوٹ میں پھسلنے کی ایکٹنگ کرنے لگی تو سچ میں ہی پھسلنے لگی مگر بروقت عباس نے اسے آکر تھام لیا
“میری آنکھیں ترس گئی ہیں کومی بےبی کو کوئی اچھا ڈھنگ کا کام کرتا دیکھنے کے لیے”
عباس کا ہاتھ پکڑ کر کیچر سے نکالتا ہوا حسرت سے بولا
“کومی بےبی کو بہت اچھے کام آتے ہیں وہ ایک تتلی بن کر اُڑ سکتی ہے اور منکی کی طرح اچھل اچھل کر ڈانس کر سکتی ہے۔۔۔ کھانا کھانے میں تم سے ریس لگا سکتی ہے اور تمہاری ان مونچھوں کو بھی اڑھا سکتی ہے”
کومل نے عباس کے ساتھ انیکسی کا رخ کرتے ہوئے اپنے سارے کارنامے بتائے مگر آخری والی بات پر عباس نے برا مانتے ہوئے اسے دیکھا
“تم کیا ہر وقت میری مونچھوں کے پیچھے پڑی رہتی ہو آنٹی۔۔۔ اپنی ان مونچھوں کا مذاق مجھے ذرا پسند نہیں”
عباس کومل کو گھورتا ہوا کہنے لگا
“دیکھو اب تم آنٹی کہہ کر فائٹ کر رہے ہو کومی بےبی سے”
کومل کی بات پر عباس نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے
“اوکے چھوٹے بےبی مجھے معاف کرو اور شرافت سے اپنے گھر جاؤ تمہارے گندے پاؤں سے یہاں فرش سارا خراب ہوگا”
عباس بغیر کسی مروت کے کومل سے بولا
“اگر ایسی بات ہے تو تم کومی بےبی کو گود میں اٹھاکر یا پھر اپنے شولڈر پر بٹھا کر اندر لے جا سکتے ہو۔۔۔ فرش خراب نہیں ہوگا ویسے بھی کومی چھوٹا سا بےبی ہے”
کومل اسے ایک نیا آئیڈیا دیتی ہوئی بولی جس پر عباس کو ہنسی آئی
“ایسا بھی کوئی چھوٹا بےبی نہیں ہے جو اسے گود میں اٹھا لیا جائے خود اپنے پاؤں سے چل کر اندر آ جاؤ”
عباس انیکسی کے اندر داخل ہوتا ہوا بولا کومل اس کے پیچھے صاف ستھرے فرش پر اپنے پاؤں بناتی ہوئی اندر آ گئی
“جاؤ واش روم کے اندر جا کر اچھی طرح اپنے پاؤں واش کرکے آؤ،، میں کارٹون کی سیڈیز لایا ہوں پھر کارٹون دیکھتے ہیں”
عباس اسے واشروم کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا تو وہ روہانسی ہو کر اسے دیکھنے لگی
“کومی بےبی کو تو پاوں واش کرنے نہیں آتے وہ تو کوثر آنٹی کرواتی ہیں ناں”
کومل عباس کو دیکھتی ہوئی معصومیت سے بتانے لگی
“ٹھیک ہے پھر کو میں کوثر کو بلا کر لاتا ہوں”
عباس روم سے جانے لگا
“کوثر انٹی تو چھٹی لے کر چلی گئی اپنے گھر”
کومل کی بات پر عباس نے مڑ کر اسے دیکھا
“تم کروا دو ناں کومی بےبی کے پاؤں واش تم تو اچھے والے فرینڈ ہونا کومی بےبی کے”
اپنے گندے پاؤں دیکھ کر اب کو عمل کو بھی الجھن ہو رہی تھی تبھی وہ عباس کو مکھن لگاتی ہوئی بولی عباس نے اسے گھور کر دیکھا
“چلو آؤ”
وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا واش روم کے اندر گیا
“کومل اگر اب تم ذرا بھی ہلی تو تمہیں اٹھاکر میں اس پانی سے بھرے ٹب میں پھینک دوں گا سیدھی طرح کھڑی رہو”
عباس کی دھمکی سن کر وہ ایکدم اسٹریٹ کھڑی ہوگئی
“ویسے اگر تم کومی کو پانی میں پھینکو گے تو کومی بےبی فش بن کر پانی میں سوئمنگ بھی کر سکتی ہے”
کومل اس کی معلومات میں اضافہ کرنے لگی
“کومی سارے اوٹ پانک کام کر سکتی ہے۔۔ مجال ہے جو کوئی کام ڈھنگ کا کرلے”
اچھی طرح پاؤں پر سوپ ملنے کے بعد اب وہ ہینڈ شاور سے پانی کا پریشر اس کے پاؤں پر ڈالتا ہوا بولاا
“چلو آرام سے جا کر صوفے پر بیٹھو میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں”
عباس کومل کو بولتا ہوں اب اپنے ہینڈ واش کرنے لگا۔۔۔ کومل سعادت مندی سے سر ہلاتی ہوئی واش روم سے باہر نکل گئی
عباس روم میں آیا تو کومل صوفے پر بیٹھی ہوئی ریموٹ ہاتھ میں پکڑے چینل سرچ کرنے میں مصروف تھی۔۔۔ عباس اس کو وہیں چھوڑ کر لیونگ روم میں آگیا تاکہ کومل کے بنے ہوئے پاؤں کے نقشے فرش سے صاف کر سکے۔۔۔ موب سے صفائی کرنے کے بعد جب عباس روم میں آیا تو سامنے اسکرین پر چلتا ہوا سین دیکھ کر وہ ایک دم ٹھٹھک گیا
_______________
حنین کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے قریب آزھاد کو سوتا پایا، نہایت آہستگی سے اس نے آزھاد کا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹایا وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور گھڑی میں ٹائم دیکھنے لگی
دوپہر کے 3 بج رہے تھے وہ کافی دیر تک سو چکی تھی اس لیے کسلمندی سے بیڈ سے اٹھی بخار اس کا اتر چکا تھا اس کا ارادہ اب شاور لے کر فریش ہونے کا تھا حنین نے اپنے پہنے کے لیے ڈریس نکالا
اچانک اسے نوین کا خیال آیا جو بھی تھا نوین اس کے لیے پریشان ہو رہی ہوگی یہ سوچ کر وہ اپنے بیگ میں سے موبائل تلاش کرنے لگی مگر موبائل بیگ میں موجود نہیں تھا اس نے گھور کر سوتے ہوئے آزھاد کو دیکھا لازمی اس نے سونے سے پہلے اس کا موبائل بیگ سے غائب کیا ہوگا حنین نے سر جھٹک کر کپڑے بیڈ کر رکھے اور روم سے باہر نکل گئی
یہ فلیٹ زیادہ بڑا نہیں تھا مگر جدید طرز کا بنا ہوا فرنش فلیٹ تھا وہ کمروں کا جائزہ لینے کے بعد کچن میں آئی جہاں فرج اور اوون دیوار میں نصب تھے کچن میں ہی ایک طرف چھوٹا سا ریک موجود تھا جس میں مختلف بوتلیں ترتیب سے رکھی ہوئی تھی۔۔۔ حنین نے ایک بوتل اٹھائی بوتل پر شیمپینگ کا لیبل دیکھ کر حنین کا دل خراب ہونے لگا
ایسی نجس چیز وہ تو اپنے گھر کے ڈسٹبن میں بھی نہ ڈالے اور آزھاد نے اسے کچن میں رکھا ہوا تھا وہ ڈرنگ کرتا تھا یہ بات حنین کو پہلے سے معلوم تھی اس کا دل خراب ہونے لگا
“یہاں کیوں آگئی، کیا پھر سے بھوک لگی ہے”
حنین کو اپنی پشت سے آزھاد کی آواز سنائی دی حنین نے پلٹ کر آزھاد کو دیکھا۔۔۔ آزھاد کی نظر حنین کے ہاتھ پہ شیمینگ کی بوتل پر پڑی
وہ چلتا ہوا حنین کے پاس آیا اس کے ہاتھ سے بوتل لے کر واپس ریک پر رکھتا ہوا، حنین کا ہاتھ تھام کر واپس اسے روم میں لے جانے لگا مگر ہم نے اس کے ساتھ اپنے قدم نہیں بڑھائے تو آزھاد نے اس کو مڑ کر دیکھا
“تمہیں معلوم ہے شراب ہمارے مذہب میں حرام ہے”
حنین اس سے اپنا ہاتھ چھڑا کر سنجیدگی سے پوچھنے لگی
“یہ شراب نہیں ہے چلو روم میں”
آزھاد نارمل انداز میں کہہ ہوا اس کی بات ٹالتا ہوا بولا
“تم نے مجھے کوئی چھوٹا بچہ سمجھ رکھا ہے یا پھر بیوقوف لگتی ہو میں تمہیں۔۔۔ ڈرنگ کرتے ہو تم میں نے ایک بار پہلے بھی نوٹ کیا ہے”
حنین اپنا غصہ دباتی ہوئی مگر ناراضگی سے بولی
“میں کہہ رہا ہوں نہیں ہے یہ شراب سمجھ میں نہیں آرہا تمہیں”
آزھاد اپنی بات صحیح ثابت کرنے کے لئے لہجے میں سختی لاتا ہوا بولا تو حنین اسے ملامت بھری نظروں سے دیکھنے لگی پھر اقرار میں سر ہلا کر ریک سے دوبارہ بوتل نکالی
ہنی یہ بوتل بند کر کے واپس رکھو اور روم میں چلو”
آزھاد نے جو اسے بوتل کا کیپ کھولتے دیکھا تو وہ بہت سیریس ہوکر اس سے بولا مگر حنین ایسی ہوگئی جیسے اس نے آزھاد کی بات سنی ہی نہ ہو وہ ایک چھوٹے سائز کا گلاس نکال کر بوتل میں موجود محلول گلاس میں انڈیلنے لگی
“ہنی میں آخری بار کہہ رہا ہوں یہ گلاس اور بوتل واپس رکھ دو”
آزھاد نے سخت لہجے میں کہنے کے ساتھ اسے گھور کر غصے میں دیکھا تھا وائن سے بھرا ہوا گلاس جب وہ اپنے منہ تک لے جانے لگی تب آزھاد نے زور سے گلاس پر ہاتھ مارا جو سیدھا دیوار پر جا لگا
“ایک دفعہ کی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے تمہیں کیا بکواس کر رہا ہوں میں”
آزھاد اب غصے میں چیختا ہوا حنین کا بازو پکڑ کر اسے کھینچتا ہوا بیڈروم میں لے کر آیا اور جھٹکے سے بیڈ پر بٹھایا
“جب تمہیں معلوم ہے کہ وہ وائن ہے تو کیوں منہ لگا رہی تھی،، ٹمپریچر ہو رہا ہے پہلے ہی تمہیں دو گھونٹ بھی منہ میں جاتے تو اتنی طبیعت خراب ہوتی سیدھی دماغ پر چڑھ جاتی”
اب ازھاد اس کے سر پر کھڑے ہوکر اس کو باتیں سنا رہا تھا
“یہی تو میں تمہیں کہہ رہی تھی کہ یہ وائن ہے۔۔۔ تم ہی انکار کر رہے تھے۔۔ وائن ایک حرام چیز،، اس کو تم کیسے منہ لگا لیتے ہو آزھاد۔۔۔۔ میں بھی کوئی بہت اچھی مسلمان نہیں ہو مگر ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں حلال اور حرام چیز میں تمیز کرنی چاہیے۔۔۔ ڈرنگ کرنا چھوڑ دو آزھاد یہ بہت بری عادت ہے”
حنین آزھاد کو دیکھتی ہوئی بہت پیار سے بولنے لگی
“کوئی عادی وادی نہیں ہوں میں ڈرنک کرنے کا نہ ہی کوئی شوق ہے مجھے۔۔۔ صرف فصیح کو عادت ہے میں اور مُکرم اس کا ساتھ دیتے ہیں کبھی کبھی اور بس”
آزھاد بیڈ پر حنین کے برابر میں بیٹھا ہوا نارمل لہجے میں بولنے لگا
“کوئی ضرورت نہیں ان کا ساتھ دینے کا بھی۔۔۔ مجھے تو تمہارے دوست بھی ایک آنکھ نہیں بھاتے ہیں۔۔۔ آج تم مجھے ایک بات سچ سچ بتانا تم نے مجھے اپنی زندگی میں شامل کیا تو تمہاری زندگی میں، میں تمہارے لئے کتنی ویلیو رکھتی ہو”
حنین بیڈ سے اٹھ کر اس کے سامنے کھڑی ہو کر پوچھنے لگی۔۔ آزھاد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی گود میں بٹھایا اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کیے
“تمہیں اب تک اپنی ویلیو کا خود اندازہ نہیں ہوا۔۔۔ گرل فرینڈ بنانے کی وجہ بیوی بنا کر اپنی زندگی میں شامل کیا ہے میں نے تمہیں”
آزھاد اپنا ایک ہاتھ اس کے گال پر رکھتا ہوا
“ٹھیک ہے جب تمہاری زندگی میں میری اتنی ویلیو ہے تو پھر میری بات کی بھی ویلیو ہونی چاہیے تم اب کبھی بھی ڈرنگ نہیں کروگے”
وہ بہت پیار سے اپنی بات آزھاد سے منوا رہی تھی آزھاد کو اس پر ہی پیار آنے لگا۔۔۔ وہ اسمائل دیتا ہوا اس کو لے کر بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹا حنین کے سارے بال اس کے چہرے پر بکھر گئے
“عادتوں سے جان چھڑانا مشکل ہوتا ہے،، مجھے واقعی ڈرنگ کرنے کی عادت نہیں ہے۔۔ میں اب کبھی بھی ہاتھ نہیں لگاؤں گا شراب کو پکا۔۔۔ اب تم بتاؤ تمہاری لائف میں میری کتنی ویلیو ہے”
وہ اس کے بال اپنے چہرے سے ہٹاتا ہوا اس کے کانوں کے پیچھے کرکے پوچھنے لگا
“اگر میری لائف میں تمہاری ویلیو نہیں ہوتی تو میں آپی کہ بھیجنے پر آرام سے پنڈی چلی جاتی۔۔۔ یو اپنی آپی سے غداری نہیں کرتی۔۔۔ تمہیں انفارم کر کے، سمجھو میں نے تمہیں تمہاری ویلیو کا بتایا ہے مگر مزید کوئی تمہاری الٹی سیدھی بات مان کر میں کوئی دوسرا ثبوت نہیں دینے والی تمہیں”
حنین آزھاد کو کہتی ہوئی اس کے سینے پر سے اٹھی اور بیڈ سے اپنے کپڑے اٹھا کر واش روم جانے لگی آزھاد بیڈ سے اٹھ کر حنین کو پیچھے سے ہگ کرتا ہوا بولا
“ثبوت مانگ کون رہا ہے جو مجھے چاہیے ہوگا میں بنا مانگے تم سے خود لے سکتا ہو”
اب وہ حنین کو اونچا اٹھا کر واپس بیڈ پر لایا
“آزھاد چھوڑو مجھے، واش روم جانا تھا”
حنین اس سے اپنا آپ چھڑاتی ہوئی بولی مگر وہ اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر جھک چکا تھا
“آخر کیوں جانا ہوتا ہے تمہیں اتنا واشروم آج یہ راز بتا ہی دو”
وہ چہرے پر سنجیدگی لائے بالکل سیریس ہوکر حنین سے پوچھ رہا تھا
“فضول باتیں نہیں کرو باتھ لینا تھا مجھے”
حنین اسے گھورتی ہوئی بولی
“فضول کی باتوں میں تو میں اپنا ٹائم ضائع ہی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ اب باتھ تم ایک گھنٹے بعد لے لینا۔۔ میرا نشہ اتار کر”
وہ حنین کے سوئیٹر کے بٹن کھول کر اس کا سویٹر اتار چکا تھا اب وہ اپنی شرٹ اتار رہا تھا حنین کے پہننے ہوئے ٹاپ کا گلا کافی گہرا تھا اور سیلویس نہ ہونے کے برابر وہ جھجھکتی ہوئی گلا اوپر کرنے لگی
“آزھاد تم کیا کرنے لگے ہو”
حنین کو اپنی خیریت محسوس نہیں ہوئی جبھی وہ گھبراتی ہوئی بولی
“تمہیں بند کلی سے کِھلتا گلاب بنانے لگا ہو۔۔۔ ٹاپ اوپر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں میں آج پوری گہرائی میں اتر کر جائزہ لو گا”
آزھاد جتنے نارمل انداز میں بول رہا تھا اس کی بات سن کر حنین کے ہوش اڑ گئے۔۔۔ اب وہ شولڈر سے حنین کی شرٹ نیچے کرچکا تھا۔۔
حنین کی ہوائیاں اڑنے لگی۔۔۔۔ جب اس نے جھک کر حنین کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھے تو حنین نے اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔۔ وہ حنین کے شولڈر پر اپنے ہاتھوں سے دباؤ ڈالتا ہوا اب اس کی کلائیاں اپنے ہاتھوں میں جگڑ چکا تھا۔۔۔ دیوانہ وار اسکی گردن پر اپنی محبت کی مہریں ثبت کرتا ہوا اس نے مزید فاصلہ طے کیا۔۔۔
“آزھاد پلیز”
اس کی بڑھتی
جرت پر حنین اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ سے آزاد کرواتی ہوئی بےساختہ بولی۔۔۔ وہ اس کے سینے سے اپنے ہونٹ ہٹاتا ہوا حنین کو دیکھنے لگا
“اب کیا مسئلہ ہوگیا تمہارے ساتھ، میں نے تمہیں صبح کہا تھا میں ضد پر آجاؤں تو اپنی منوا کر رہتا ہوں اب تم مجھے منع کرکے یا روک کے ضد ہرگز مت دلانا”
آزھاد کے لہجے میں کہیں سے بھی شوخی یا مذاق کی رمق نہیں تھی وہ بالکل سیریس تھا حنین نے اپنی آنکھیں جھکالی
“اب یہ مت بولنا کہ تم منٹلی تیار نہیں ہو”
حنین کے آنکھیں جھکانے پر وہ مزید بولا
“ابھی ہمارے بیڈرومز ایک نہیں ہے جب تک ہمارے بیڈرومز ایک نہیں ہوجاتے۔۔۔ تب تک یہ سب”
حنین اسے دیکھ کر دوبارہ نظریں جھکاتی ہوئی آئستہ بولی۔۔ تو آزھاد اسے حیرت سے دیکھنے لگا
“صرف یہی بات ہے یا پھر کچھ اور”
آزھاد اب اس کا چہرہ اوپر کر کے پوچھنے لگا
“یہی بات ہے اور کیا بات ہوگی”
حنین کو نوین کا بھی خیال مگر وہ بولی کچھ بھی نہیں.
جاری ہے
