Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33
حنین کو اس کے کیے کی سزا دے کر نوین کا دماغ تھوڑا بہت ریلیکس ہوا تھا۔۔۔ اسے یقین تھا کہ حنین آزھاد کو کبھی کچھ نہیں بتائے گی۔۔۔ بلکہ وہ اپنے نشانات چھپانے کے خاطر آزھاد کو خود سے دور بھی رکھے گی۔۔۔ اسے تھوڑا بہت دکھ تھا حنین پر ہاتھ اٹھانے کے لئے مگر یہ کوئی اتنی بڑی بات بھی نہیں تھی اگر وہ اس سے محبت کرتی تھی تو اپنی بہن کو اس کی غلطی پر مار بھی سکتی تھی،، بڑی بہن ہی تو تھی وہ حنین کی
شاہنواز تھوڑی دیر پہلے آفس سے آ چکا تھا۔۔۔ وہ شاہنواز کا موڈ فریش کرنے کے لئے بہت اچھا سا تیار ہونا چاہتی تھی۔۔ اور آج رات تو کیا وہ اگلی چار راتوں تک شاہنواز کو اس روم سے نکلنے نہیں دے گی ایسا اس نے سوچ رکھا تھا۔۔۔ اچھا بن کر اس نے دیکھ لیا تھا اچھا بننے میں کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔۔ کیونکہ پریگنینسی والی پول کھلنے کے بعد وجیہہ تو اسے منہ لگا ہی نہیں رہی تھی تو پھر اسے کیا ضرورت تھی اس گھر کے کسی دوسرے فرد کو فری کرنے کی۔۔۔ نوین ساری باتیں سوچتی ہوئی اپنا ڈریس آئرن کر رہی تھی تب اسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی صابرہ یقیناً اس کے لیے ایپل جوس لے کر آئی تھی
“ہاتھ کیوں اٹھایا تم نے ہنی پر”
آزھاد کی آواز سن کر اس نے پلٹ کر آزھاد کو دیکھا جو غصے میں اس کے کمرے میں کھڑا اس سے سوال کر رہا تھا
“تم ہوتے کون ہو مجھ سے سوال کرنے والے، ہنی بہن ہے میری، میں حق رکھتی ہوں اس کے ساتھ کچھ بھی کرنے کا۔۔ ہم دونوں کے معاملے میں بیچ میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے”
نوین نے آئرن کا پلک نکالا۔۔ اور اپنا ڈریس ہینگر میں لٹکاتی ہوئی آزھاد سے بولی
“تمہاری بہن میری بیوی ہے اور میں اس پر تم سے زیادہ حق رکھتا ہو۔۔ اگر کوئی مجھ سے منسلک رشتوں کو تکلیف پہنچائے تو میں اس کو جینا حرام کر دیتا ہوں۔۔۔ تم نے آج اسے تکلیف نہیں دی بلکہ مجھے ایک بار پھر چیلنج کیا ہے۔۔۔ یہاں میں تمہیں کوئی دھمکی یا وارننگ دینے نہیں آیا ہو کیونکہ آج تم لمٹ کراس کر چکی ہو۔۔۔ جو تکلیف تم نے ہنی کو پہنچائی ہے اب تم اس سے زیادہ تکلیف برداشت کرو گی”
آزھاد اس کو بولتا ہوا آئرن اسٹینڈ کی طرف گیا اور آئرن لے کر نوین کے پاس آنے لگا نوین پوری آنکھیں کھول کر آزھاد کو دیکھنے لگی جو آئرن لے کر اس کے قریب آرہا تھا
“تم پاگل تو نہیں ہوگئے ہو شاہنواز تمہاری چمڑی اُدھیڑ کر رکھ دیں گے، اگر تم نے کوئی بھی الٹی سیدھی حرکت کی میرے ساتھ”
نوین اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اپنے قدم پیچھے کرتی ہوئی اسے دھمکانے لگی
“میں پاگل نہیں ہوا پاگل تم ہوچکی ہو، اب میں تمہارے پاگل پن کا صحیح علاج کرو گا۔ ۔۔ابھی تم میری چمڑی کی نہیں اپنی چمڑی کی فکر کرو”
اس سے پہلے نوین تیزی سے کمرے سے باہر نکلتی آزھاد نے اس کا بازو پکڑ کر اسے دائی طرف دھکا دیا۔۔۔ وہ صوفے پر جا گری اس سے پہلے وہ صوفے سے اٹھتی آزھاد اس کے بازو پر گرم استری رکھ چکا تھا۔۔۔ نوین کی دردناک چیخوں سے کمرہ گونج اٹھا
“کیا حرکت ہے یہ”
وجیہہ کے کمرے سے نوین کے پاس آتے شاہنواز نے جب اپنے سامنے کا منظر دیکھا تو آزھاد کے ہاتھ سے استری لے کر دور پھینکی اور آزھاد کو پیچھے زور سے دھکا دیا
نوین تکلیف کی شدت سے زور زور سے چیختی ہوئی شاہنواز کے سینے سے لگی۔۔۔ اس کی چیخوں کی آواز سن کر حنین وجیہہ اور کومل بھی اس کے کمرے میں آچکی تھی
“یہ حرکت نہیں یہ ریٹرن ہے جو اس نے تھوڑی دیر پہلے ہنی کے ساتھ کیا اس کا”
آزھاد شاہنواز کے روبرو کھڑا ہو کر بولا
“تم نے اس کا ہاتھ کیسے جلایا تم انسان ہو یا جانور”
شاہنواز نوین کا جلا ہوا بازو دیکھ کر آزھاد پر چیخا۔۔۔ گرم استری کی وجہ سے نوین کی کھال بری طرح جھلس چکی تھی اور تکلیف کے مارے وہ شاہنواز کے سینے سے لگی ہوئی رو رہی تھی۔۔۔ آزھاد نے حنین کا ہاتھ پکڑ کر بازو سے اسکا سویٹر نیچے کیا
“یہ سلوک کیا ہے اس نے ہنی کے ساتھ۔۔ اب بتائیے آپکی یہ بیوی انسان ہے یا جانور”
آزھاد شاہنواز کو دیکھتا ہوں اور غصے میں پوچھنے لگا۔۔۔ وجیہہ اور کومل دونوں خاموش کھڑی ہوئی حیرت سے سارا تماشہ دیکھ رہی تھی
“یہ تمہارے ساتھ رہے گی تو میں اسے جان سے مار ڈالوں گی”
نوین غصے میں چیختی ہوئی بولی اس کی بات سن کر کمرے میں موجود ہر فرد حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔۔ شاہنواز نے جو اپنا ہاتھ نوین کے کندھے پر رکھا ہوا تھا۔۔۔ اس نے آہستہ سے ہٹایا
“سنی آپ نے اس کی بات۔۔۔ کتنا بغص بھرا ہوا ہے اس کے دل میں، کتنا کینہ رکھتی ہے اپنے دل میں،، یہ صرف اپنی بہن کو اس لیے مارنے کی بات کر رہی ہے کیونکہ اس کی بہن کو میں نے اپنی زندگی میں شامل کیا ہے یہ ایک خود غرض لڑکی ہے صرف اپنے آپ سے پیار کرنے والی۔۔ یہ کسی دوسرے کو خوش نہیں دیکھ سکتی یہاں تک کہ اپنی بہن کو بھی نہیں”
آزھاد شاہنواز کو دیکھتا ہوا بولا حنین بہت افسوس سے نوین کو دیکھ رہی تھی جبکہ کومل چہرے پر ناگواری کے تاثرات لائے کمرے سے باہر چلی گئی
“تم میری بات کان کھول کے سن لو یہ میری بیوی ہے اس کو ہاتھ لگانا تو دور کی بات اگر تم نے اس کی طرف غصے سے دیکھا بھی تو میں تمہارا حشر کر دوں گا”
اب کی بار آزھاد انگلی اٹھا کر وارننگ دینے والے انداز میں نوین کو دیکھتا ہوا بولا
“آزھاد پر اپنے روم میں جاؤ”
وجیہہ آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی
“اپنے ہی روم میں جاؤ گا مما مگر اکیلا نہیں اپنی بیوی کو ساتھ لے کر اور اگر یہ میرے کمرے میں آئی تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دو گا”
آزھاد نے وجیہہ سے بولتے ہوئے حنین کا ہاتھ پکڑا اور روم سے باہر جانے لگا
“اور ایک بات اپنے دماغ میں بٹھا لو اگر کل تک اس کے نشانات صحیح نہیں ہوئے تو میں تمہارا دوسرا ہاتھ بھی جلا دو گا”
آزھاد اپنی طرف گھورتی ہوئی نوین کو دیکھتا ہوا بولا
“آزھاد جاؤ یہاں سے”
وجیہہ اب کی بار سخت لہجے میں بولی جبکہ شاہنواز خاموش ہی رہا
“ویسے شاہنواز ایک ماہ سے یہ گھر کم اور جنگل زیادہ لگنے لگا ہے۔۔۔ اس کو ڈاکٹر کے پاس لے کر چلے جاؤ”
وجیہہ نوین کا جلا ہوا بازو دیکھ کر شاہنواز کو جتاتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی
****
“آزھاد تم نے آپی کا ہاتھ۔۔۔”
آزھاد حنین کو اپنے کمرے میں لے کر آیا تب حنین نے اپنی پوری بات مکمل بھی نہیں کی تھی وہ آزھاد کے دیکھنے کے انداز سے خاموش ہوگئی
“اس کی کوئی فیور مت کرنا میرے سامنے”
آزھاد حنین کو دیکھ کر بالکل سنجیدگی سے بولا۔۔۔ آزھاد کی بات سن کر حنین چپ ہی رہی تو آزھاد نے اسے اپنے حصار میں لیا
“میری بیوی ہو تم، کوئی اگر تمہیں تکلیف پہچائے گا۔۔۔ تو میں اسے بھی تکلیف دوں گا سمپل”
حنین آزھاد کی بات سن کر اس کے سینے سے سر اٹھاتی ہوئی اسے دیکھنے لگی۔۔ آزھاد نے جھک کر حنین کے ہونٹوں کو چھوا
“صابرہ کو روم میں بھیج رہا ہوں وہ تمہارے وارڈروب کا سامان میرے وارڈروب میں سیٹ کردے گی”
آزھاد حنین کے گال پر اپنی انگلیاں پھیرتا ہوا بولا۔۔۔ اب اس کے گال کا سرخ نشان مانند پڑ چکا تھا
“اور تم کہاں جارہے ہو”
حنین اس کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“کومل اپ سیٹ ہوگی اسے دیکھ کر آتا ہوں”
آزھاد حنین کو بیڈ پر بٹھاتا ہوا بولا اور روم سے نکل گیا
وہ حنین کے علاوہ وجیہہ اور کومل کی بھی فکر کرتا تھا۔۔۔ اپنے رشتوں کا احساس کرنا اور ان سے محبت کرنا شاید یہ عادت اس نے وجیہہ سے لی تھی حنین آزھاد کے لیے سوچنے لگی
****
“کومل کہاں ہو تم”
آزھاد کومل کے کمرے میں آیا اسے موجود نہ پا کر وہ اس کے سیل پر کال کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“بھائی میں فضل (ڈرائیور) کے ساتھ عباس کے گھر جارہی ہو۔ ۔۔۔ تھوڑی دیر گھر کے ماحول سے دور۔ ۔۔ آپ پلیز ٹینشن مت لیے میں خود واپس آجاو گی”
کومل نے آزھاد کو جواب دینے کے ساتھ کال کاٹی۔۔۔ ایک تو صبح مُکرم سے رشتے والی بات پر ویسے ہی اس کا دل اداس تھا اور شام میں گھر کا عجیب ماحول دیکھ کر اس کا دل اُکتانے لگا بس یہی دل چاہا وہ کسی طرح عباس کے پاس چلی جائے۔۔۔ نہ جانے کیو اس نے اپنے دل کی بات مانتے ہوئے عباس سے ملنے کا سوچا
_____________
عباس اپنی کار کی کیز اور موبائل اٹھا کر اپنے روم سے باہر نکلا اس کا ارادہ کومل سے ملنے کا تھا وہ اس سے اپنی فیلنگز شیئر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا
مگر اس طرح یوں آزھاد کی طرف جا کر کومل سے ملنا اسے تھوڑا اکورڈ لگ رہا تھا مگر ڈرائیونگ کے دوران وہ کوئی نہ کوئی وہاں جانے کا جواز ڈھونڈ ہی لے گا عباس نے سوچتے ہوئے مین ڈور کھولا تو دروازے پر کھڑی کومل کو دیکھ کر ایک دم ٹھٹھک گیا اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی جیسے کوئی دلی مراد پوری ہوئی ہو
“میں غلط وقت پر آگئی آپ کہیں جا رہے تھے شاید”
کومل عباس کو دیکھ کر کنفیوز ہوتی ہوئی بولی
“تم نے جب بھی اینٹری دی ہے میری زندگی میں ہمیشہ صحیح وقت پر دی ہے اندر آ جاؤ”
عباس کومل کو بولتا ہوا لیونگ روم میں داخل ہوا کومل بھی اس کے پیچھے چل دی
“اچھا ڈیکوریٹ کیا ہے آپ نے اپنا گھر”
کومل ہال کے بعد لیونگ روم کا جائزہ لیتی ہوئی ستائشی نظروں سے ایک چیز کو دیکھتی ہوئی بولی
“پھر بھی اس گھر میں ایک چیز کی کمی ہے صرف اس گھر میں ہی نہیں میری زندگی میں بھی”
عباس کومل کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا عباس کی بات سن کر کومل اپنی نظریں جھکا گئی عباس نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے صوفے پر بٹھایا اور اس کے ساتھ رکھے دوسرے صوفے پر خود ہی بیٹھ گیا اور دوبارہ کومل کا ہاتھ تھام لیا
“میں دیا کو پسند کرتا تھا کیونکہ وہ ایک اچھے دل کی مالک تھی کبھی روبرو اس سے اپنی پسند کا اظہار نہیں کیا مگر وہ میری پسندیدگی کے بارے میں جانتی تھی بلکہ نزہت خالہ بھی واقف تھی، میں نے اپنے فادر سے کہہ کر دیا کے لئے پرپوزل بھیجا۔۔۔ مگر دیا کے فادر اور اس کے بھائی راضی نہیں ہوئے مجھے لگا پاکستان میں سیٹل ہونے کے بعد میں خالو کے ساتھ ساتھ ثاقب اور عاقب کو بھی راضی کر لوں گا مگر اس سے پہلے ہی دیا مجھے چھوڑ کر دور چلی گئی۔۔۔ شروع شروع میں مجھے لگتا تھا کہ میں دیا کو مشکل سے ہی بھلا پاؤں گا جب اداس ہوتا تو اس کی تصویروں سے باتیں کر لیتا،، بابا کی ڈیتھ کے بعد میری زندگی مزید تنہا اور اداس ہو گئی،، پھر میں یہاں پاکستان شفٹ ہوگیا تب تم میری زندگی میں آئی
پہلی ملاقات میں تم مجھے اپنے رویے سے حیرت میں مبتلا کر کے چلی گئی دوسری ملاقات میں تم نے مجھے تجسس میں ڈالا تیسری ملاقات میں جب تم نے آزھاد کے سامنے مجھ سے اجنبی برتی تب مجھے لگا مجھے تم سے دوستی کر لینی چاہیے مگر پھر تمہاری اوٹ پٹانگ حرکات پر مجھے غصہ آنے لگا جس دن تم نے دیا کی تصویر توڑی تھی تم مجھے تم پر بہت غصہ آیا مگر اس کے بعد جس دن تم کوثر سے میڈیسن نہیں کھا رہی تھی تب تم مجھے بالکل اپنی طرح لگی، میں بھی بچپن میں اپنی ماما سے بالکل اسی طرح ضد کرتا اور انہیں پریشان کرتا
آہستہ آہستہ تم نے میرا دھیان بانٹا میں دیا کی بجائے تمہیں سوچنے لگا رات کو سونے سے پہلے تمہاری اوٹ پٹانگ حرکتوں اور باتیں یاد کرکے مسکراتا ایک دن آزھاد مجھ سے باتیں کرتا ہوا کہہ رہا تھا کہ میں نے کومل کو اپنا عادی بنادیا ہے مگر اس وقت میں آزھاد سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ عباس آہستہ آہستہ کومل بےبی کا عادی ہو گیا ہے۔۔۔ مجھے اپنی بے رونق سی زندگی میں تمہارے دم سے رونق محسوس ہوتی تھی جس دن تم میرے کندھے پر سر رکھ کر روئی تھی اس دن تم مجھے بہت اداس لگی بالکل میری لائف کی طرح تب میں نے شدت سے چاہا تمہیں وائف بناکر اپنی لائف میں شامل کرلو
مجھے نزہت خالہ سے معلوم ہوا تم دیا گی دوست تھی تب مجھے تمہارے ساتھ ہوئی ٹریجیڈی سمجھ میں آئی جو میں چاہ کر آزھاد سے نہیں پوچھ سکا تب مجھے لگا تم وہی منظر دوبارہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر اور اسے محسوس کرکے شاید اس صدمے سے باہر نکل آؤ، مجھے یہ معلوم تھا پھر کومی بےبی عباس سے ڈرنے لگے گی نفرت کرنے لگے گی مگر کومی بےبی کو ٹھیک کرنے کے لئے اسے واپس کومل بنانے کے لئے عباس نے رسک لے لیا جب تم نے آزھاد کے سامنے مجھے پہچاننے سے انکار کر دیا تب مجھے بہت تکلیف ہوئی۔۔۔ عباس دیا کو کھو چکا ہے مگر اب وہ کومل کو نہیں کھونا چاہتا”
عباس کومل کا ہاتھ تھام کر اس سے اپنی ایک ایک فیلنگ شیئر کرنے لگا جسے سننے کے بعد کومل نے اسے اپنا ہاتھ چھڑایا اور چہرہ چھپاتی ہوئی رونے لگی
“میں چاہے جانے کے لائق نہیں ہوں عباس، میں آپ کی محبت ڈیزرو نہیں کرتی، دیا کے ساتھ میری وجہ سے وہ سب کچھ ہوا نہ وہ مجھے اس دن ڈھونڈنے لائبریری میں آتی نہ وہ اپنی عزت کے ساتھ ساتھ جان گنواتی۔۔۔ اس نے مجھے کتنا منع کیا تھا اسید سے دور رہنے کے لیے اور میں کتنی نادان تھی جو اسید کی آنکھوں میں ہوس کو محبت سمجھ بیٹھی مگر میرے کیے کا خمیازہ دیا کو بھگتنا پڑا”
کومل کے اندر جو غم پل رہا تھا وہ سب عباس شیئر کرتی ہوئی بولی عباس خاموشی سے اسے دیکھنے لگا
“مجھے دیا نے بتایا تھا کہ وہ آپ کو پسند کرتی ہے میں نے اس سے سب کچھ چھین لیا میں بہت بری ہوں عباس بہت بری”
کومل مزید روتی ہوئی بولی عباس تب بھی خاموشی سے اسے دیکھتا رہا چند پل گزرنے کے بعد کومل کے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر اس کے آنسو پوچھنے لگا
“اس سارے واقعے میں تمہاری غلطی یہ ہے کومل تم انسان کی پہچان نہیں کر پائی جہاں تک دیا کو مجھ سے چھیننے کی بات ہے تو میری قسمت میں دیا کا ساتھ لکھا ہی نہیں تھا اس کے لیے تم اپنے آپ کو قصوروار نہیں سمجھو”
عباس کا چہرہ تھامے بولنے لگا کومل عباس کو دیکھنے لگی
“آج صبح ڈیڈ بھائی کے دوست سے میرے رشتے کی بات کر رہے تھے عباس، میں ایسا ہرگز نہیں چاہتی”
کومل عباس کو دیکھ کر پریشان ہوتی ہوئی بولی
“تو یہ بات بھائی کو بتانا تھی ناں، صبح پوچھا تو تھا میں نے”
آزھاد کی آواز سن کر وہ دونوں چونکے اور دروازے کی طرف دیکھا جہاں آزھاد کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا عباس نے فوراً کومل کے چہرے سے اپنے ہاتھ ہٹائے وہ دونوں آزھاد کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے۔۔ آزھاد چلتا ہوا ان دونوں کے پاس آیا
“تم میری نیت پر شک نہیں کرنا مجھے غلط نہیں سمجھنا میں کومل کی رضامندی جاننے کے بعد آنٹی انکل سے ہی بات کرتا”
عباس آزھاد کو دیکھتا ہوا بولا
“خود نہیں اپنے کسی بڑے کو لے کر آؤ ڈیڈ اور مما سے بات کرنے کے لئے”
آزھاد عباس بولتا ہوا کومل کا ہاتھ پکڑ کر اسے روم سے باہر لے جانے لگا پھر کچھ یاد آنے پر مڑا
“تھرسڈے کو میری برتھ ڈے ہے میں تمہارا انتظار کروں گا”
آزھاد عباس بولتا ہوا کومل کو لے کر باہر نکل گیا
****
“نوین اب بس خاموش ہو جاؤ”
شاہنواز اسے ڈاکٹر کے پاس سے لے کر آ گیا تھا اس وقت اس نے سلیولیس شرٹ پہنی ہوئی تھی اس کے بازو پر آئینمینٹ لگا ہوا تھا وہ بیڈ پر کروٹ سے لیٹی سسک رہی تھی جبکہ شاہنواز روکنگ چئیر پر بیٹھا ہوا تھا۔۔ ان دونوں کا رات کا کھانا بھی صابرہ روم نہیں لے کر آئی تھی کافی دیر سے نوین کو روتا ہوا دیکھ کر شاہنواز اس سے بولا
“تکلیف ہو رہی ہے مجھے آپ کو احساس ہے میری تکلیف کا۔۔۔ کتنی بے دردی سے آپ کے سائیکو بیٹے نے میرا ہاتھ جلایا ہے”
نوین روتی ہوئی شاہنواز کو دیکھ کر بولی
“اسے سائیکو بننے پر تم نے مجبور کیا۔۔۔ کیا ضرورت تھی تمہیں اس کی بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی اب یہ نہیں بولنا نوین کہ وہ تمہاری بہن ہے تو تم اس کے ساتھ کچھ بھی کروں گی۔۔۔ آزھاد نے جو تمہارے ساتھ کیا مجھے اس پر بھی غصہ ہے مگر تم نے جو حنین کے ساتھ کیا وہ بھی ٹھیک نہیں تھا۔۔ وہ کوئی بچی نہیں ہے ایک شادی شدہ لڑکی ہے جس پر تم نے ہاتھ اٹھا کر جہالت کا ثبوت دیا”
شاہنواز نوین کو دیکھتا ہوا بولا
“میں نے جہالت کا ثبوت دیا ہے جاھل میں نہیں جاھل آپ کا بیٹا ہے۔۔۔ صبح آپ کو موجود نہ پا کر میرے کمرے میں آیا تھا یہ ڈسٹبن میں جو ٹوٹی ہوئی بوتل پڑی ہے ناں اس سے میرا چہرہ بگاڑنے والا تھا وہ”
نوین شاہنواز کو آزھاد کی صبح والی حرکت بتانے لگی
“تمہیں کیا ضرورت تھی صبح ان کے روم کا لاک کھول کر ان کے روم میں جھانکنے کی۔۔۔ یہ حرکت تو جاھل بھی نہیں کرتے ہیں نوین،، تم تو ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو شعور رکھنے والی۔۔۔ یوں کسی ہسبنڈ وائف کے کمرے میں جبکہ وہ سو رہے ہو لاک کھول کر جایا جاتا ہے۔۔ تم ایسا کرنا بالکل عجیب نہیں لگا جب یہ بات آج صبح آفس میں پہنچ کر آزھاد نے مجھے بتائی تو یہ سب سن کر مجھے بہت شرمندگی ہوئی۔۔۔ نوین میں آزھاد کی کوئی سائیڈ نہیں لے رہا ہوں مگر اس کا ری ایکشن جبھی سامنے آتا ہے جب تم کچھ کرتی ہو۔۔ پلیز نوین اپنے آپ کو چینج کرو اس طرح تو میرا بھی تمہارے ساتھ رہنا بہت مشکل ہو جائے گا”
نوین شاہنواز کی بات سن کر خاموش ہو گئی اسے آزھاد کی کمینگی پر شدید غصہ آیا۔۔۔ وہ آفس پہنچ کر سب کچھ اپنے باپ کو بتا چکا تھا۔۔۔ اس سے پہلے شاہنواز کچھ اور بولتا کمرے کا دروازہ ناک ہوا
“تم دونوں کو ڈسٹرب تو نہیں کیا اندر آ سکتی ہوں میں”
دروازہ کھلنے پر وجیہہ ویل چیئر پر بیٹھی ہوئی شاہنواز کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“آپ کی طبیعت ٹھیک ہے، کوئی ضروری کام تو مجھے بلوالیا ہوتا”
شاہنواز وجیہہ کی ویل چیئر تھام کر اسے اندر لاتا ہوا بولا
“طبیعت ٹھیک ہے میری میں نوین سے بات کرنے آئی ہوں”
شاہنواز نے ویل چیئر کو بیڈ کے سامنے روکا تو نوین بیڈ سے اٹھ کر بیٹھ گئی
“شکر ہے زیادہ جلا نہیں مگر تکلیف تو ہو رہی ہوگی پین کِلر لی تم نے”
وجیہہ نوین کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“زیادہ نہیں جلا کیا مطلب، بہت بری طرح جلایا ہے میرا ہاتھ اپکے بیٹے نے وجیہہ، جلنے کی تکلیف کیا ہوتی ہے یہ آپ اندازہ ہی نہیں لگا سکتی”
نوین وجیہہ سے شکوہ کرتی ہوئی بولی۔۔ پہلے تو وجیہہ اس کی بات سن کر خاموش رہی پھر تھوڑی دیر بعد بولی
“تم نے ٹھیک کہا جلنے کی تکلیف واقعی بہت بری ہوتی ہے نوین کیا میں پوچھ سکتی ہوں آخر ایسی کونسی بات ہے جو تمہیں اندر ہی اندر جلا رہی ہے میرے بیٹے کی خوشیاں یا اپنی بہن کی خوشیاں۔۔۔ آخر کس کو خوش دیکھ کر تم اتنی نا خوش ہو”
وجیہہ لہجے میں نرمی لائے نوین کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی شاہنواز خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گیا
“آپ بات کو غلط رخ دے رہی ہیں وجیہہ میں بھلا کسی سے کیو ناخوش ہوگی”
نوین نے ایک نظر شاہنواز پر ڈال کر وجیہہ کو جواب دیا
“نہیں میں نے بات کو بالکل غلط رخ نہیں دیا ہے تمہاری شام والی باتوں سے اندازہ لگا کر میں یہ بات پوچھ رہی ہوں تم نے شام میں آزھاد سے کہا کہ اگر حنین اس کے ساتھ رہے گی تو تم اسے ماروں گی”
وجیہہ نوین کو دیکھ کر شام والی بات یاد دلانے لگی نوین ایک پل کے لیے خاموش ہوگئی
“اس وقت غصے میں میرے منہ سے ایسے ہی نکل گیا تھا”
نوین اپنی بیوقوفی پر ماتم کر کے جواز بناتی ہوئی بولی
“تو پھر میں پوچھ سکتی ہوں تم نے حنین پر کیوں ہاتھ اٹھایا”
وجیہہ نے فوراً دوسرا سوال کیا اب کی بار نوین خاموش ہوگئی
“میں نے تم سے اپنا شوہر شیئر کیا ہے نوین، جلنے جتنا نہیں مگر یقین جانو یہ بھی ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے کہنے کو تو ہم دونوں ہی شاہنواز کی بیویاں ہیں مگر اپنے اوپر سوتن برداشت کرنا پہلی بیوی کے لئے زیادہ تکلیف دے عمل ہوتا ہے اگر اس گھر میں میری حیثیت جوان اولاد کی وجہ سے مضبوط ہے تو میں اس بات کا فائدہ اٹھا کر آنا کا مسئلہ بنا لیتی اور تمہیں اس گھر میں ہرگز آنے نہیں دیتی مگر میں نے ایسا نہیں کیا نہ ہی کبھی تمہیں شاہنواز کے ساتھ دیکھ کر جلی یا پھر تم سے حسد کی کیونکہ نفرت کا جذبہ انسان کو جینے نہیں دیتا اندر ہی اندر انسان کھل کر ختم ہو جاتا ہے۔۔۔ نوین آزھاد اور حنین ایک دوسرے کے ساتھ خوش ہیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا خوشی خوشی زندگی گزارنا چاہتے ہیں ہم ان کے بڑے ہیں۔۔۔ ہمہیں ان کو دیکھ کر ان کی خوشی میں خوش ہونا چاہیے اس طرح سے دوسروں کی خوشی میں خوش رہ کر اپنی بھی زندگی سہل ہو جاتی ہے۔۔۔ زیادہ وقت لے لیا ہے میں نے تمہارا، میں چلتی ہوں تم دونوں ریسٹ کرو”
وجیہہ نوین سے بولتی ہوئی اپنے روم میں جانے لگی تو شاہنواز اس کی ویل چیئر تھام کر اسے روم سے باہر لے جانے لگا نوین نے ان دونوں کو روم سے باہر جاتا ہوا دیکھا اور پھر اپنے بازو پر نظر ڈالی جو کہ آزھاد نے بری طرح جلایا تھا
“جس نے مجھے جلا کر تکلیف دی ہے میں اس کی خوشیوں میں خوش ہوں”
نوین بیڈ پر لیٹ کر چھت کو گھورنے لگی.
جاری ہے
