Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23

آزھاد کے دوستوں نے بدتمیزی کی تم سے”
شاہنواز ڈرائیونگ کرتا ہوا حنین سے پوچھنے لگا۔۔۔ جس پر حنین نے کچھ بولنے کی بجائے نفی میں سر ہلایا
“یعنی آزھاد نے بدتمیزی کی ہے تم سے”
شاہنواز نے ایک نظر حنین کو دیکھا اور دوبارہ سامنے دیکھتا ہوا اور ڈرائیونگ کرنے لگا
“دل دکھایا ہے اس نے میرا بری طرح”
حنین نیچی نظر کرکے آہستہ سے بولی
“ٹھیک ہے اب اس کی سزا یہی ہے کہ کل شام کی فلائٹ سے تم پنڈی جارہی ہوں اپنے ماموں کے پاس”
شاہنواز بنا کسی تاثر کے حنین سے بولا تو حنین نے بےساختہ شاہنواز کو دیکھا
“کیا ہوا دل دکھایا ہے اس نے تمہارا کیا تم اسے پینشٹ نہیں کرنا چاہتی”
حنین کے دیکھنے پر شاہنواز اسے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“اتنی دور جاکر پینشٹ کرنا ضروری ہے کیا میرا مطلب ہے یہاں رہ کر بھی تو پینشٹ کیا جاسکتا ہے ناں”
حنین ڈر کر بہت آہستہ سے بولی مگر اس کی بات سن کر شاہنواز کے ہونٹو پر بے ساختہ مسکراہٹ آئی جسے وہ سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ کر چھپا گیا
“آزھاد کو تم نے بتایا تھا اپنے پنڈی جانے کا”
شاہنواز ڈرائیونگ کرتا ہوا دوبارہ حنین سے پوچھنے لگا جس طرح حنین گھبرا کے شاہنواز کو دیکھنے لگی
“بے فکر رہو میں نوین کو کچھ نہیں کہوں گا”
حنین کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار دیکھ کر شاہنواز حنین کو بولا۔۔۔ اب وہ ڈرائیونگ کرتا ہوا کچھ اور بھی سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا
_____________
“تھینکس شاہنواز آپ ہنی کو لے کر آ گئے”
حنین شاہنواز کے ساتھ گھر واپس آئی تو نوین حنین کی طرف لپکتی ہوئی شاہنواز کو بولی
“میں کتنی پریشان ہوگئی تھی تمہارے لیے۔۔۔ سیل بھی آف تھا تمہارا”
اب وہ حنین کو چہرہ تھام کر حنین سے کہہ رہی تھی
“وجیہہ کہاں ہیں”
شاہنواز نوین کو دیکھتا ہوا اس سے وجیہہ کا پوچھنے لگا
“پانچ منٹ پہلے ہم دونوں ساتھ ہی بیٹھے تھے، ابھی تھوڑی دیر ہوئی ہے وہ اپنے کمرے میں گئیں ہیں۔۔۔ شاہنواز میں نے آپ کی بات مانتے ہوئے وجیہہ کو کچھ نہیں بتایا ہے مگر آپ آزھاد کی حرکت ضرور بتائیے گا انہیں”
شاہنواز وجیہہ کے روم میں جا رہا تھا تب نوین اس سے بولی۔۔ شاہنواز نوین کی بات سن کر مڑا
“نوین مجھے کیا بتانا چاہیے کیا نہیں بتانا چاہیے یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔۔۔ اور اب حنین کو اپنے ماموں کی طرف بھیجنے کا مت سوچنا۔۔۔ اسے بھی ریسٹ کرنے دو اور تم بھی اپنے بیڈ روم میں جاؤ”
شاہنواز نوین کو بولتا ہوا وجیہہ کے روم میں چلا گیا
****
“اسے کیا ہوا، یوں بے وقت اور آپکے روم میں کیوں سو رہی ہے”
شاہنواز روم میں آیا تو کومل کو بیڈ پر سوتے ہوئے دیکھا جبکہ وجیہہ سامنے صوفے پر بیٹھی سلائیوں کی مدد سے سوئیٹر بُن رہی تھی
“معلوم نہیں آج کیوں بے وقت سوگئی، میں تو نوین کے ساتھ بیٹھی تھی جب روم میں آئی تو اس کو سوتا ہوا دیکھا”
وجیہہ سوئیٹر بنتے ہوئے شاہنواز کو بتانے لگی۔۔۔۔ شاہنواز کومل کو کمفرٹر اڑھا کر اس کے سینے سے آئی پیڈ اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتا ہوا۔۔۔ اب کومل کے بالوں کی دونوں پونیاں کھول رہا تھا
“بال کٹنگ کروا دیئے آپ نے اس کے”
شاہنواز کومل کے بالوں کو دیکھتا ہوا ماتھے پہ شکن لاکر وجیہہ سے پوچھنے لگا تو وجیہہ نے ایک نظر سر اٹھا کر شاہنواز کو دیکھا
“معلوم نہیں،، کس کا ایسا ہیئر کٹ دیکھ لیا تو ضد کرنے لگی۔۔۔ کومی بھی ہیئر کٹنگ کروائے گی،، مگر زیادہ چھوٹی لینت نہیں کروانے دی میں نے”
وجیہہ سویٹر بنتے ہوئے شاہنواز کو بتانے لگی اسے معلوم تھا شاہنواز کو شروع سے ہی کومل کے بڑے بال پسند تھے وہ اس کے بال نہیں کٹوانے دیتا تھا
“بس ذرا سا کیا غافل ہو، سب اپنی منمانیو میں لگ جاتے ہیں”
شاہنواز بڑبڑاتا ہوا اپنا کوٹ اتار کر ہینگ کرنے لگا
“مگر میں تو تم سے کبھی بھی غافل نہیں ہوئی شاہنواز۔۔۔ من مانی تو پھر بھی تم کر بیٹھے”
وجیہہ نے سویٹر بنتے ہوئے اس سے شکوہ کیا جس پر شاہنواز نے غصے میں اسے دیکھا
“میں ابھی افس سے آیا ہوں اور آپ بے وقت کے طعنے دیں گیں مجھے”
شاہنواز نے لہجا سخت مگر آواز ہلکی رکھی تاکہ کومل کی نیند ڈسٹرب نہ ہو
“تمہارے لیے چائے یا کافی میں سے کیا منگاؤ۔۔۔۔ آزھاد آگیا آفس سے”
وجیہہ بات کو رفع دفع کرتی ہوئی نرمی سے شاہنواز سے پوچھنے لگی
“آج آفس تشرف ہی کہاں لایا تھا آپکا شہزادہ۔۔۔ معلوم نہیں آپ نے کیا کھا کر اسے پیدا کیا تھا۔۔۔۔ انتہائی درجے کا بدتمیز اور بےشرم انسان نکلا ہے”
شاہنواز وجیہہ کو بولتا ہوا ڈریسنگ روم میں کپڑے چینج کرنے چلا گیا
“معلوم نہیں تمہیں کس بات پر غصہ آرہا ہے شاہنواز اگر آزھاد نے کوئی غلطی کی ہے تو مجھے بتاؤ”
شاہنواز چینج کرکے واپس آیا تو وجیہہ اپنی ویل چیئر پر بیٹھ چکی تھی اب وہ شاہنواز سے آزھاد کا کارنامہ پوچھنے لگی
“رہنے دیں آپ۔۔۔ اس کی باتیں صرف بی پی ہائی کر سکتی ہیں۔۔۔ اور گھر میں ایک ہی بندے کا بی پی ہائی رہے اتنا ہی کافی ہے۔۔۔ کافی منگوائے آپ جا کر”
شاہنواز بیڈ کے دوسرے سائیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا
“میں کافی کا بول رہی ہو تم تھوڑی دیر ریسٹ کرو۔۔۔ کوثر سے بول کر میں کومل کو بھی اٹھوا دیتی ہوں”
وجیہہ بولتی ہوئی روم سے نکلنے لگی
“کوثر کو بلانے کی ضرورت نہیں ہے لیٹا رہنے دیں اس کو، جائیں آپ کافی کا بول کر آئے”
شاہنواز نے بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرلی
****
“ہنی تم ٹھیک ہو ناں”
حنین اس وقت اپنے روم میں بیٹھی تھی اور نوین نے اس سے یہ بات تیسری بار پوچھی تھی۔۔۔۔ حنین اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ کیا پوچھنا چاہ رہی ہے
“آپی میں بالکل ٹھیک ہوں جیسی گئی تھی ویسے ہی آئی ہو۔۔۔ آپ ٹینشن مت لیا کریں نہ زیادہ سوچا کریں۔۔۔ پلیز اپنے روم میں جاکر ریسٹ کریں”
حنین اب کی بار اکتائے ہوئے انداز میں نوین سے بولی تھی
“کیسے ریسٹ کرو، کیسے نہ سوچو زیادہ۔۔۔۔ اس بدتمیز نے تمہیں صبح سے اپنے ساتھ رکھا ہوا اب رات کو تم واپس آ رہی ہو اور تم کہہ رہی ہوں کہ تم ٹھیک ہو۔۔۔ چندا مجھ سے کچھ بھی مت چھپانا۔۔۔ جو بھی اس گھٹیا انسان نے کیا ہے مجھے بتاؤ،، میں شاہنواز سے کہہ کر اس کی کتنی درگت بنواتی ہوں تم دیکھنا”
نوین پیار سے حنین کو بہلاتی ہوئی اس سے کہنے لگی
“کیسی باتیں کرنے لگی ہیں آپی آپ مجھ سے۔۔۔ کچھ بھی نہیں کیا اس نے۔۔۔ اور اگر کچھ کیا تو آپ سر کو بتائے گیں اففف”
حنین نوین کی بات سن کر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی
“اس نے بکواس کی تو تھی میرے سامنے کہ وہ ہنی مون منائے گا۔۔۔ تم کہہ رہی ہوں کہ کچھ نہیں کیا۔۔۔ اگر کچھ نہیں کیا چھوا تو ہوگا نا اس نے”
نوین مشکوک ہوتی ہوں یہ حنین سے بولی تو حنین نے اس کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ دیئے
“آپی پلیز میرے سامنے اس طرح کی باتیں مت کیا کریں۔۔۔ مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا۔۔۔ جب میں نے کہہ دیا کچھ نہیں ہوا تو مطلب ویسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔ میں کیسے یقین دلاؤں آپ کو”
حنین اسے کچھ بھی نہیں بتا سکتی تھی۔۔۔ نہ وہ سب جو اس نے اپنے دوستوں کے سامنے کیا۔۔۔ نہ وہ سب جو وہ دوستوں کے آنے سے پہلے۔۔۔ حنین بےبسی سے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپاتی ہوئی رونے لگی
“اچھا اچھا ہنی اب رو مت میری جان۔۔۔ مجھے بس ویسے ہی صبح سے ٹینشن ہو رہی تھی ناں جبھی پوچھ رہی تھی۔۔۔ مجھے معلوم ہے میری بہن مجھ سے کچھ نہیں چھپائے گی۔۔۔ تم اب ریسٹ کرو شاباش۔۔۔ کھانا میں تمہارا کمرے میں ہی بھجوا دوں گی،، ویسے بھی وجیہہ تمہارا پوچھ رہی تھی تو میں نے کہہ دیا طبیعت ٹھیک نہیں ہے، تم صبح سے ہی اپنے کمرے میں موجود ہو”
نوین حنین کے پیار سے بال سنوارتی ہوئی بولی اور اس کے کمرے سے باہر چلی گئی
****
آزھاد کی آنکھ کافی دیر سے کھلی تھی۔۔۔ رات کو کافی مقدار میں شراب پینے کی وجہ سے اس کا سر ابھی تک بھاری ہو رہا تھا۔۔۔ وہ اپنا سر تھام کر اٹھ کر بیٹھا۔۔۔ اب آئستہ آئستہ اسے کل کے سارے منظر یاد آنے لگے
کیسے فصیح اور مُکرم نے اسے زبردستی شراب پلائی تھی۔۔۔ پھر اس نے نشے میں فصیح اور مُکرم کے سامنے جو کچھ حنین کے ساتھ کیا۔۔۔۔ آزھاد وہ سب کچھ سوچتا ہوا دونوں ہاتھوں میں اپنا سر تھام کر بیٹھ گیا۔۔۔ اسے شاہنواز کو زوردار تھپڑ بھی یاد آیا، جو شاہنواز نے اس کے گال پر رسید کیا تھا اور گھر نہ آنے کی وارننگ بھی
اسے فصیح اور مُکرم کی حرکت پر غصہ آنے لگا۔۔۔ ان دونوں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ ڈرنگ کا عادی نہیں، زیادہ مقدار میں پینے سے اسے اچھی خاصی چڑھ جاتی ہے وہ بالکل حواسوں میں نہیں رہتا پھر بھی جانتے بوجھتے ان دونوں نے حنین کی موجودگی میں یہ حرکت کی تھی
وہ ان دونوں کو اچھی طرح سبق سکھانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر فصیح کو تو وہ اسکی نانی یاد دلائے گا کیونکہ اسے یہ بھی یاد آرہا تھا۔۔۔ فصیح اس کی اور حنین کی کس طرح ویڈیو بنا رہا تھا۔۔۔ وہ مذاق کرتے کرتے اکثر ایسے ہی اوور ہو جاتا تھا اور آزھاد کو فصیح کی یہ عادت سخت ناگوار لگتی تھی
سائیڈ ٹیبل سے اس نے اپنا موبائل اٹھا کر فصیح اور نشوا کی کچھ حسین تصویریں فصیح کے ڈیڈ کے نمبر پر سینڈ کی تاکہ اس کے تواضع کرنے سے پہلے اس کا باپ بھی اس کی اچھی طرح تواضع کرے
اس کا دماغ ایک بار پھر حنین کی طرف چلا گیا یقیناً وہ کل بہت ہرٹ ہوئی ہوگی۔۔۔ لازمی وہ اس سے ناراض بھی ہوگی۔۔۔۔ اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے سامنے دیوار پر لگی گھڑی میں ٹائم دیکھا۔۔۔ وہ آفس بعد میں جانے کا ارادہ رکھتا تھا پہلے اسے حنین کی ناراضگی دور کرنی تھی جس کے لئے اسے گھر جانا تھا تھا
****
“تم۔۔۔۔ کیوں آئے ہو یہاں پر”
حنین ڈریس چینج کرنے کے لئے وارڈروب سے اپنا ڈریس نکال رہی تھی تب اسے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی مڑ کر دیکھا تو آزھاد اس کا ہینڈ کیری تھامے کمرے کے اندر داخل ہو رہا تھا
“بات کرنا تھی تم سے”
آزھاد روم کا دروازہ بند کرتا ہوا ہینڈ کیری وہی چھوڑ کر حنین کے قریب آیا
“مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی چلے جاؤ یہاں سے”
حنین نے غصے میں کہتے ہوئے آزھاد کو دیکھا وہ اس سے بہت زیادہ خفا تھی۔۔۔ دو سیکنڈ آزھاد خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر اچانک اس نے حنین کو پکڑ کر اپنے سینے سے لگالیا
“چھوڑو آزھاد پیچھے ہٹو،، میں ناراض ہوں تم سے”
حنین اس سے اپنا آپ چھڑانے کے لئے مچل اٹھی مگر آزھاد اسے چھوڑنے کے لیے ہرگز تیار نہیں تھا
“میری بات سنو گی تو ہی پیچھے ہٹو گا۔۔۔ ورنہ ایسے ہی چپکائے رکھو گا خود سے”
وہ حنین کے مچلنے کا نوٹس لیے بغیر اسے ایسے ہی اپنے سینے سے لگائے بولا اس نے حنین کی کمر سے اپنے دونوں بازو اتنی زور سے باندھے ہوئے تھے کہ حنین پوری اس کے سینے سے چپکی ہوئی تھی
“مجھے تمہاری ایک بھی بات نہیں سنی ہے۔۔۔۔ اور اس طرح تو ہرگز بھی نہیں۔۔۔ اگر تم نے مجھے نہیں چھوڑا تو میں تم سے اور زیادہ ناراض ہو جاؤ گی آزھاد”
حنین اس کے سینے اور کاندھے پر نازک ہاتھ سے تپھڑ مارتی ہوئی غصے میں بولی
“آخری بار پوچھ رہا ہوں تم سے،، سکون سے میری بات سنو گی یا نہیں”
وہ سرجھکا کر حنین کو دیکھتا ہوا بے حد نرمی اور پیار سے اس سے پوچھنے لگا
“نہ ہی تمہاری بات سننی ہے نہ ہی تمہاری کوئی سوری ایکسپٹ کرنی ہے۔۔۔ اور اگر بدلے میں تم نے کوئی بھی بے ہودہ حرکت کری تو میں پنڈی چلی جاؤ گی”
حنین بھی شاید اس وقت پر ضد پر آچکی تھی جبھی سر اٹھا کر آزھاد کو دیکھتی ہوئی اسے دھمکی دے کر بولی۔۔۔ حنین کی بات سن کر آزھاد نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ جما دیئے
“مجھ سے دور جانے کی دھمکی دوگی تو میں اور بھی زیادہ بری طرح چپکو گا (centepate) سے بھی زیادہ خطرناک انداز میں”
حنین کی دھمکی سننے کے بعد وہ چپکنے کی جھلک دکھاتا ہوا اب اسے سنجیدگی سے دھمکی دے رہا تھا
“میری جان میں تم سے صرف یہ کہہ رہا تھا۔۔۔۔”
حنین کو ویسے ہی اپنی باہوں میں جکڑے وہ اپنی بات بولنے لگا
“نہیں سنی ہے مجھے تمہاری بات۔۔۔ بس مجھے یہ معلوم ہے تم نے کل مجھے میری ویلیو بتائی ہے”
حنین اس کی بات کاٹتی ہوئی بولی آزھاد اب خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا حنین بھی ویسے ہی اسے گھورنے لگی۔۔۔ اچانک آزھاد نے اس کو کمر سے پکڑ کر اونچا اٹھایا
“یہ کیا کر رہے ہو تم، دماغ تو خراب نہیں ہو گیا”
حنین کے بولنے کی دیر تھی آزھاد نے اسے اوپر کی طرف اچھال کر مزید اونچا کیا۔۔۔ اب وہ اسے کمر کی بجائے تھائیز سے پکڑا ہوا تھا اور حنین نے اسے دونوں کندھوں سے پکڑا ہوا تھا
“تم پورے پاگل ہو گئے ہو آزھاد یہ تم کیا حرکت کر رہے ہو”
وہ حنین کو وارڈروب کے پاس لے جا کر مزید اچھالتا ہوا اسے وارڈروب کے اوپر بٹھا چکا تھا
“آپ اگر تم بیچ میں بولی اور میری بات مکمل نہیں ہونے دی تو میں تمہیں یہاں سے اٹھا کر سیدھا ڈرائنگ روم میں لے جاؤں گا اور وہاں لے جا کر (chandeliar) فانوس کے اوپر پر بٹھا دوں گا”
آزھاد کی دھمکی سن کر حنین اسے حیرت سے دیکھنے لگی
آج صبح ہی کومل خود کو چڑیا کہہ کر لان میں موجود درخت پر بیٹھنے کی ضد کر رہی تھی۔۔۔ اسے بڑی مشکلوں سے بہلا کر سمجھایا گیا کہ وہ چڑیا نہیں ایک انسان ہے اور انسان ایسے کام نہیں کرتے اور اب اس کا شوہر اسے وارڈروب کے اوپر بٹھا کر اسے فانوس کے اوپر بٹھانے کی دھمکی دے رہا تھا یعنی نوین بالکل ٹھیک کہتی تھی ان دونوں بہن بھائی کا کوئی اسکرو ڈھیلا ہوکر گِر چکا ہے
“بولو کیا کہنا ہے”
وہ کومل ہرگز نہیں تھی جو گھنٹوں وارڈروب یا فانوس پر بیٹھ کر انجوائے کرتی مگر اس کے سامنے جو نیچے کھڑا تھا وہ کومل کا بھائی تھا وہ لازمی اپنی چلا کر اسے اوپر بٹھائے رکھتا اس لیے ہار مانتے ہوئے حنین نے اس کی بات سننے کا فیصلہ کیا
“میں نے فصیح اور مُکرم کو منع کیا تھا کہ مجھے ڈرنگ نہیں کرنی۔۔۔ مگر مُکرم نے دھوکے سے میرے ہاتھ پکڑے اور فصیح نے وائن کی بوتل میرے منہ سے لگا دی۔۔۔ مُکرم کو میری عادت معلوم ہے کہ میں بہت برا بدلہ لیتا ہوں وہ میرے ساتھ بالکل بھی مذاق نہیں کرتا اگر میں نے چند دنوں پہلے اس کی بجائی نہیں ہوتی۔۔۔۔ پلیز یہ مت پوچھنا کہ میں نے اس کی کیسے بجائی تھی وہ بتانے والی بات نہیں ہے۔۔۔ بس میں اتنا کہنا چاہتا ہو وہ ڈرنگ میں خود سے نہیں کی تھی ان دونوں نے زبردستی پلائی تھی”
آزھاد بہت سنجیدگی سے حنین کو بتا رہا تھا
“مجھے کوئی شوق نہیں ہے تم سے تمہارے چھچھورے کارنامے جاننے کا۔۔۔ تم سمیت تمہارے دونوں دوست ایک نمبر کے بے ہودہ اور لفنگے ٹائپگ کے انسان ہو۔۔۔ میں تمہاری بات سن چکی ہو اب مجھے نیچے اتارو”
حنین نے اسے شرمندہ کرتے ہوئے نیچے اترنے کو کہا مگر اسے اچھی طرح اندازہ تھا اسے شرمندہ کرنے کی کوشش، صرف ایک کوشش ہی ہے۔۔۔
حنین نے تھوڑا سا جھک کر آزھاد کے شولڈرز کو پکڑا تو آزھاد اس کو کمر سے پکڑتا ہوا نیچے اتارنے لگا
“ہنی بتایا تو ہے یار میری غلطی نہیں تھی پھر کیوں مجھ سے ناراض ہو”
نیچے اترنے کے بعد حنین اپنے کپڑے لے کر واشروم جانے لگی تو آزھاد اس کے ہاتھ سے کپڑے لے کر بیڈ پر رکھتا ہوا پوچھنے لگا
“واقعی تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے آزھاد تمہیں یاد ہے کل تم اپنے دوستوں کے سامنے میرے ساتھ کیا کر رہے تھے”
حنین نے اپنے سویٹر کے بٹن کھولے۔۔۔ اس کی گردن سے نیچے سرخ نشان دیکھ کر آزھاد نظریں چرا گیا
“کل تم اپنے دوستوں کے سامنے یہ بھی بتانے والے تھے کہ اگر میں ہماری ویڈنگ نائٹ بےہوش نہیں ہوتی تو تم میرے ساتھ کیا کرتے”
حنین اسے دیکھ کر مزید شرمندہ کرتی ہوئی بولی۔۔۔ اور وہ اب کی بار شرمندہ ہو بھی گیا تھا
“اس وقت میں نشے میں تھا۔۔۔ نشے میں میرے سینس بالکل کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں”
وہ اپنی شرمندگی مٹاتا ہوا اسے وضاحت دینے لگا جس پر حنین طنزیہ ہنسی
“شکر ہے تمہارے میں اتنے سینس تو موجود تھے کہ تم نے اپنے ساتھ اپنے دوستوں کو دعوت نہیں دی”
حنین طنزیہ انداز میں آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی
“ہنی”
آزھاد کو حنین کی بات برداشت نہیں ہوئی تھی اس لیے وہ غصے میں اسے آنکھیں دکھاتا ہوا اس پر چیخا
آزھاد غصے میں حنین کو دیکھ رہا تھا اور حنین خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔ اب وہ آنکھیں بند کرکے اپنا غصہ پی رہا تھا حنین اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھنے لگی۔۔۔ آزھاد آنکھیں کھول کر اپنے آپ کو نارمل کرتا ہوا حنین کے قریب آیا اور اپنے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھاما
“آئی ایم سوری آئندہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا۔۔۔ مجھے کبھی بھی اچھا نہیں لگے گا کہ تم میری وجہ سے ہرٹ ہو یا تمہیں کوئی تکلیف پہنچے۔۔۔ میں اب کبھی بھی ڈرنگ نہیں کرو گا پرامس”
وہ حنین کے دونوں گالوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر اس کا چہرہ اونچا کرتا ہوا وعدہ کرنے لگا
“مجھے کل ایک اور بات نے بھی ہرٹ کیا تھا۔۔۔ تم نے نشے میں اپنی کسی پرانی گرل فرینڈ کا اسکرٹ کھینچا تھا۔۔۔ آزھاد تم اتنے گھٹیا کیوں ہو آخر”
آخری بار حنین نے بہت بے بسی سے پوچھی تھی
“بہت ذلیل انسان ہے یہ فصیح اس نے جان بوجھ کر تمہیں سنانے کے لیے یہ بات بولی ہے۔۔۔ وہ میری گرل فرینڈ نہیں تھی صرف فرینڈ تھی۔۔۔ غلطی سے اس کے اسکرٹ میں میرا بریسلیٹ اٹک گیا تھا اور بریسلیٹ کھینچنے کے چکر میں بس۔۔۔۔ ویسے تم صرف مجھ سے انہی دو باتوں کو لے کر ہرٹ ہوئی۔۔۔ میرے ڈرنگ کرنے اور اسکرٹ کھینچنے کو لے کر۔۔۔۔ ہمارا کل ایک اور بھی تو امپورٹنٹ کام ادھورا رہ گیا تھا،، کیا تم اس کو لے کر مجھ پر غصہ نہیں”
آزھاد بولتا ہوا اس کی گردن پر جھک کر سرخ نشان پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا جس پر وہ تھوڑی دیر پہلے انگھوٹھا پھیر رہا تھا
“آزھاد کیا کر رہے ہو آپی گھر پر موجود ہیں پلیز اپنے کمرے میں جاو”
حنین اسے پیچھے ہٹاتی ہوئی خود بھی دور ہوکر بولی اور نوین کا نام سن کر اور حنین کی بات پر آزھاد کو غصہ آیا
“کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا بوائے فرینڈ ہوں میں تمہارا جو تم اپنی آپی سے ڈرا رہی ہو،، جب میں تمہارے پاس موجود ہو تو آئندہ اپنی آپی کا نام لے کر مجھ سے کوئی فضول بات نہیں کرنا ہنی”
حنین کو سخت لہجے میں بولتا ہوا اس نے دوبارہ حنین کو قریب کیا۔۔۔ نوین کی وجہ سے وہ اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے حنین کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کرکے اب کی بار آزھاد اس کے ہونٹوں پر جھکا
نرمی کی بجائے اس کے انداز میں شدت تھی،،، حنین کی کمر پر اپنے بازو کی گرفت سخت کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے حنین کے ہونٹوں پر بھی اپنے ہونٹوں سے گرفت سخت کردی۔۔۔ اس کے والہانہ انداز پر حنین نے اپنی ایڑھیاں اچکا کر اس کی شولڈر کے گرد اپنے بازو باندھے تو آزھاد نے اسے کمر سے اٹھا کر اونچا کر لیا۔۔۔ وہ دونوں ہی سحر انگیز لمحات میں کھوئے تھے کہ دروازے کا ہینڈل گھوما۔۔۔
آزھاد نے حنین کو نیچے اتارا،، حنین ایک دم سے آزھاد سے دور ہوئی۔۔۔ نوین کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر آزھاد کا موڈ بری طرح خراب ہوا
“کیوں آئے ہو تم اس کے روم میں اور کیا کر رہے تھے تم ابھی اس کے ساتھ”
نوین کمرے میں داخل ہوئی اور غصے میں آزھاد کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی جبکہ حنین نوین کو دیکھ کر گھبرا گئی تھی
“ضرورت پوری کرنے ایک شریف آدمی اپنی بیوی کے پاس ہی آتا ہے۔۔۔ دوسرے معاملوں میں، میں بدمعاش سہی مگر اس معاملے میں میں خاصا شریف آدمی ہو۔۔۔۔ ویسے تم سمجھ تو گئی تھی کہ میں کیا کر رہا تھا تمہاری بہن کے ساتھ،،، اگر تمہارا کوئی سین دیکھنے کا موڈ ہے، تو کیا پھر سے کنٹینیو کرو”
آزھاد بالکل نارمل انداز میں نوین کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ نوین اس کی بات سن کر غصے میں لال پیلی ہو گئی تھی جبکہ حنین کو بھی آزھاد کے اوپر شدید غصہ آیا تھا کل وہ نشے میں تھا لیکن اس وقت وہ ہوش و حواس میں صرف اس کی بہن کا خون کھولانے کے لئے بے شرمی کی باتیں اپنا فرض سمجھ کر رہا تھا۔۔۔ یہ جانے بغیر کے اس کا خمیازہ کس طرح حنین کو بھگتنا پڑے گا
“میں تم سے بار بار کہتی ہو کہ میری بہن سے دور رہا کرو تم ایک گھٹیا قسم کے انسان ہو کہیں سے بھی میری بہن کے لائق نہیں ہو۔۔۔ ابھی اور اسی وقت اس کے کمرے سے نکلو”
نوین غصے میں آزھاد کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔۔ اس کی باتیں آزھاد کو طیش جبکہ حنین کو خوف دلا گئی
“تمہاری بہن کی قسمت ہی ایسی ہے، اسے بہن بھی گھٹیا ملی ہے اور شوہر بھی گھٹیا ملا ہے۔۔۔ تم ایک گھٹیا انسان سے کیا توقع کرتی ہوں کہ وہ تمہاری خوبصورت بہن کو ایسے ہی چھوڑ دے گا اب تو یہ جائے گی سیدھا میرے بیڈروم میں اور تم میرے بیڈروم میں قدم رکھ کے دکھاؤ تو میں تمہیں مان جاؤ گا”
آزھاد بالکل سنجیدگی سے اسے چیلنج کرتا ہوا بولا حنین کے نفی میں سر ہلانے کے باوجود وہ اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے بیڈ روم میں لے جانے لگا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *