Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27

“صابرہ مما اور ڈیڈ کہاں ہے سو کر نہیں اٹھے ابھی تک”
حنین کے ساتھ ڈائنگ ہال میں آنے کے بعد آزھاد نے ناشتے کے لوازمات ٹرالی سے اٹھا کر ٹیبل پر سجاتی صابرہ کو مخاطب کیا
“میں اٹھ گئی ہوں بیٹا،، بس شاہنواز کی وجہ سے تھوڑی لیٹ ہوگئی”
ویل چیئر چلاتی ہوئی وجیہہ ڈائنگ ہال میں آتی ہوئی بتانے لگی اس نے سرسری نظر حنین پر ڈالی، اس سے پہلے حنین اسے سلام کرتی وجیہہ اس پر سے اپنی نظریں ہٹا چکی تھی
“خیریت کیا ہوا ڈیڈ کو”
آزھاد وجیہہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“اس کا رائٹ شولڈر پین کر رہا تھا اس لیے تھوڑا بےسکون ہوکر سویا ہے۔۔۔۔ شاید آفس نہ آسکے آج”
وجیہہ ڈائننگ ٹیبل کے پاس آتی ہوئی آزھاد کو بتانے لگی
“آنٹی کیا لیں گیں آپ،، براؤن بریڈ یا کارن فلیکس”
حنین وجیہہ کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“جو مجھے چاہیے ہوگا میں خود لے لو گی تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے آرام سے اپنا ناشتہ کرو” وجیہہ کا جواب سن کر جہاں حنین شرمندہ ہوئی وہی آزھاد بھی حیرانگی سے وجیہہ کو دیکھنے لگا
“ہنی چیز املیٹ کی پلیٹ دو اور چائے بھی نکال دو”
آزھاد نے فریش جوس کا گلاس پیچھے سرکا کر حنین کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا
“آزھاد میں آج شام کو سلمہ کی طرف جانا چاہتی ہوں کافی دن سے بلا رہی ہے وہ، تم آفس سے آنے کے بعد مجھے اس کے پاس لے کر چلنا”
وجیہہ بریڈ پر مارملیٹ لگاتی ہوئی آزھاد سے بولی
آزھاد کی نظر حنین کے چہرے پر پڑی وہ کیٹل سے چائے نکالتی ہوئی آزھاد کو دیکھنے لگی پھر خاموشی سے کپ آزھاد کے سامنے رکھ دیا
“شیور مما میں آپ کو سلمہ آنٹی کے پاس چھوڑ دوں گا آپ آرام سے دو گھنٹے تو ان سے گپ شپ لگائیے گا پھر واپسی میں آپ کو پک کر لوں گا۔۔۔ ہنی تم بھی سات بجے ریڈی رہنا”
آزھاد نے وجیہہ کے ساتھ حنین کی طرف دیکھ کر اس سے بھی کہا حنین نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا جبکہ وجیہہ سوالیہ نظروں سے آزھاد کو دیکھنے لگی
“دراصل آج میرا ہنی کو باہر ڈنر کروانے کا پروگرام ہے، آپ کو سلمہ آنٹی کی طرف چھوڑ دو گا واپسی پر میں اور ہنی آپ کو پک کرلیں گے”
آزھاد وجیہہ کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر اسے بتانے لگا
“اوو تمہیں اپنا پروگرام میری وجہ سے خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے تم حنین کو لے کر چلے جاؤ میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ گی”
وجیہہ نارمل لہجے میں آزھاد کو بولتی ہوئی ناشتہ کرنے لگی
“کم ان مما کیا ہوگیا ہے ہمارا پروگرام کیو خراب ہونے لگا آپ کے ساتھ چلنے سے، سات بجے ریڈی رہیے گا آپ”
آزھاد وجیہہ کو دیکھتا ہوا بولا تو وجیہہ نے مسکرا کر اسے اوکے کہا
“اوکے لیڈیز اب اجازت دیں، سات بجے دونوں تیار رہیے گا”
آزھاد نے ناشتہ کرنے کے بعد اٹھ کر وجیہہ کے سر پر ہونٹ رکھے اور حنین کو آنکھوں کے اشارے سے باہر آنے کے لیے کہا خود بھی آفس کے لیے نکل گیا
****
“ڈارلنگ مما کی باتوں کو فیل مت کرنا انہیں یقیناً نوین پر غصہ ہوگا،، ٹھیک ہوجائیں گے وہ”
آزھاد کار میں بیٹھنے سے پہلے اپنے پیچھے آتی حنین کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ جس پر حنین نے اسے ہلکی سی اسمائل دی مگر بولی کچھ نہیں
“ایسے بائے کرو گی مجھے”
آزھاد نے کہنے کے ساتھ ہی جھک کر ہونٹوں سے اس کا گال چھوا اور فوراً پیچھے ہوا۔۔۔۔ حنین نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا اور پھر آزھاد کو گھورا
“بہت بدتمیز ہو تم، کوئی دیکھ لیتا تو”
کمرے سے باہر آزھاد کی اس بے باکی پر وہ گھبراتی ہوئی بولی
“ابھی سے گھبرا گئی رات ہونے میں تو کافی ٹائم ہے،، ویسے آج رات تم اپنی عزت خطرے میں ہی سمجھو”
وہ حنین کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھکر مسکراتا ہوا بولا
“میری رائے کبھی بھی اپنے بارے میں بدلنے نہیں دینا،، صدا کے بے شرم انسان ہو تم آفس جاؤ ورنہ میں اندر جارہی ہوں”
اس کی معنی خیز نظروں اور بےباک باتوں پر حنین اچھا خاصا بلش کر گئی
“اوکے ڈارلنگ آج شام ڈیپ ریڈ کلر کے ڈریس میں ریڈی رہنا۔۔۔ اندر کی ڈریسنگ کا کلر میں واٹس ایپ کردو گا”
کار میں بیٹھتے بیٹھتے اس کی نئی فرمائش نے حنین کے چہرے پر مزید لالی چھوڑی۔۔۔ حنین کو سُن کھڑا چھوڑ کر وہ آفس کے لیے نکل گیا
****
شام میں جب آزھاد آفس سے گھر پہنچا تو ایک نیا مسئلہ اس کا منتظر تھا
نوین کے کمرے سے حنین کی روتی ہوئی آواز سن کر اس کے قدم بے ساختہ نوین کے کمرے کی طرف بڑھے۔۔۔ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا تو اسے وجیہہ کی ویل چیئر بھی وہاں نظر آئی یعنی وجیہہ بھی اندر موجود تھی پھر اسے پریشان حال کوثر نوین کے کمرے سے باہر آتی نظر آئی
“کیا ہوا ہے”
آزھاد کوثر سے پوچھنے لگا
“نوین میڈم نے اپنے آپ کو کچھ کرلیا ہے،، شاید کچھ کھا لیا ہے انہوں نے۔۔۔ سر نے فضل کو بلانے کے لئے کہا ہے تاکہ ان ہاسپٹل لے کر جایا جائے”
کوثر آزھاد کو جلدی جلدی بتاتے ہوئے فضل کو بلانے چلی گئی
آزھاد کمرے میں پہنچا تو نوین آنکھیں بند کئے ہوئے بیڈ پر لیٹی تھی اس کی ایک سائیڈ پر حنین بیٹھی ہوئی رو رہی تھی جبکہ دوسرے سائیڈ پر شانواز مسلسل اس کا نام پکارتا ہوا بار بار اس کا گلا تھپتھپا رہا تھا
وجیہہ حیرت زدہ ویل چیئر پر بیٹھی تھی اس کے پاس ہی کومل کھڑی تھی وہ چہرے سے گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی
“کوثر۔۔۔ کوثر کومل کو لے کر جاؤ یہاں سے”
آزھاد کوثر کو آواز دیتا ہوا بولا۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کسی بھی بات کا کومل اپنے دماغ پر اثر لے
“ڈیڈ ہٹیں پیچھے” آزھاد شاہنواز کو ہٹاتا ہوا نوین کے ہاتھ کی نبض چیک کرنے لگا جو کہ نارمل سے تھوڑی سست رفتار میں چل رہی تھی
“آپی نے سلیپنگ پلز کھالی ہیں آزھاد پلیز انہیں بچا لو ورنہ میں بھی مر جاؤں گی”
حنین آزھاد کو دیکھ کر روتی ہوئی بولی اس نے ڈیپ ریڈ کلر کا ڈریس پہنا ہوا تھا شاید وہ آزھاد کے آنے کا انتظار کر رہی تھی
“سر کار ریڈی ہے نوین میڈم کو ہاسپیٹل لے کر جانے کے لیے”
فضل نے روم میں آتے ہوئے کہا اور وہ نوین کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔ شاہنواز نے اپنے شولڈر پین کی وجہ سے نوین کو سہارا دینے کے لیے فضل کو بلایا تھا
“پیچھے ہٹو فیصل،،، جائیں ڈیڈ آپ کار میں بیٹھیں”
آزھاد نے بے ہوش پڑے نوین کے وجود کو اٹھایا تو شاہنواز کے ساتھ ساتھ روتی ہوئی حنین بھی ہاسپٹل جانے کے لیے شاہنواز کے پیچھے کمرے سے نکلی
****
پچھلے پون گھنٹے سے وہ مسلسل ہوسپٹل کے کوریڈور میں ٹہل رہا تھا جبکہ شاہنواز اور حنین دونوں ہی چیئر پر بیٹھے تھے حنین وقفے وقفے سے ہلکی آواز میں رو رہی تھی جبکہ شاہنواز آہستہ آواز میں اسے سمجھا رہا تھا
آزھاد کو معلوم نہیں تھا کہ اسکے ڈیڈ حنین کیا بول رہے ہیں،، اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ ان دونوں کی آپس میں بات چیت ہے بھی کہ نہیں یہ پھر اس کے ڈیڈ موجودہ صورتحال کی وجہ سے حنین کو ٹریٹ کر رہے تھے۔ ۔۔۔ اتنے میں ایمرجنسی وارڈ سے ڈاکٹر مرتضیٰ برآمد ہوا
ڈاکٹر مرتضیٰ نہ صرف اس کے فیملی ڈاکٹر تھا بلکے شاہنواز کا بہت اچھا دوست بھی تھا۔۔۔ حنین اور شاہنواز کرسی سے اٹھ کر ڈاکٹر مرتضیٰ کے پاس پہنچے۔۔۔ آزھاد پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے قدم اٹھاتا ہوا ان لوگوں کے پاس پہنچا
“اسٹامک واش کیا جاچکا ہے شاہنواز اب تمہاری وائف کو کوئی خطرے نہیں”
مرتضیٰ شاہنواز کو تسلی دیتا ہوا بولا
“آپ صحیح کہہ رہے ہیں نہ ڈاکٹر،، آپی ٹھیک ہیں ناں اب”
حنین بہت ڈر گئی تھی اس لئے اس نے ایک دفع اور ڈاکٹر سے یقین دہانی چاہیی جس پر مرتضیٰ نے مسکرا کر اسے دیکھا
“جی بیٹا آپ کی سسٹر بالکل ٹھیک ہیں۔۔۔ ویسے بھی انہوں نے جس کوانٹیٹی میں پلز لی تھی اس سے ان کی جان کو ہرگز خطرہ نہیں تھا۔۔۔ مگر پھر بھی اس طرح کے عمل سے احتیاط کرنی چاہیے”
کچھ پلز باڈی میں ڈیزولو ہوگئی ہیں جسکی وجہ سے کل تک تھوڑی غنودگی رہے گی۔۔۔ مگر اس میں کوئی پریشان ہونے والی بات نہیں”
مرتضیٰ نے پہلے حنین کو دیکھ کر پھر شاہنواز کو دیکھ کر اپنی بات مکمل کی
“جی بالکل،، مرتضیٰ انکل آپ ٹھیک کہ رہے ہیں ویسے بھی ان کا سوسائڈ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا یہ صرف اپنے ہزبینڈ اور سسٹر کو ڈرانے کی تھوری ہمدرری سمیٹنے کی کوشش تھی”
آزھاد بولتا ہوا طنزیہ ہنسا
“میں کب تک نوین کو گھر لے کر جا سکتا ہوں”
شاہنواز ایک نظر آزھاد کو دیکھ کر مرتضیٰ سے مخاطب ہوا
“اگر اسی وقت لے کر جانا چاہتے ہو تو لے جا سکتے ہو۔۔۔ بس کچھ پلز باڈی میں ڈیزولو ہوگئی ہیں جسکی وجہ سے کل تک تھوڑی غنودگی رہے گی۔۔۔ مگر اس میں کوئی پریشان ہونے والی بات نہیں”
مرتضیٰ شاہنواز کو بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا
“میں نے تم سے کہا تھا نہ ہنی تمہاری بہن کافی اسمارٹ ہے دیکھو وہ تمہیں اور ڈیڈ کو منانے میں کامیاب ہوگئی”
آزھاد اب حنین کو دیکھتا ہوا اپنی صبح والی بات یاد کروانے لگا
“آزھاد پلیز”
حنین کو جیسے اس وقت اس ٹاپک پر بات کرنا اچھا نہیں لگا جبھی وہ بولی جبکہ شاہنواز خاموش ہی رہا
“آپ حنین کے ساتھ کار میں بیٹھے میں فارملٹیز پوری کر کے آرہا ہوں”
آزھاد شاہنواز کو دیکھتا ہوا بولا
“نہیں تم حنین کو لے کر کار میں بیٹھو میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں”
شاہنواز کی بات سن کر آزھاد حنین کو لے کر کار کے پاس پہنچا
“آدھی شیشی کی بجائے پوری شیشی ہی کھا لیتی،، کم از کم پروگرام کے کینسل ہونے کا افسوس تو نہیں ہوتا۔۔۔ مٹی میں ملا دیا تمہاری بہن نے ہماری ڈیٹ کو”
آزھاد کار کا فرینڈ ڈور حنین کے لئے کھولتا ہوا خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا
“آزھاد وہ میری بہن ہے اگر انہوں نے مجھے ڈرانے کے لیے ایسی کوشش کی ہے تو میں واقعی لگی ہوں،، میں پیار کرتی ہوں آپی سے اور آج زندگی میں پہلی بار میں نے کتنی باتیں سنائی ہیں انہیں تم اندازہ نہیں لگا سکتے”
حنین کو ایک بار پھر رونا آنے لگا۔۔۔ وہ نوین کی اس حرکت پر واقعی خوفزدہ ہوگئی تھی
“یار اگر باتیں سنائی ہے تو وہ ڈیزرو بھی کرتی تھی، خیر بہن کی محبت تو دیکھ لی اب یہ بتاؤ اپنے شوہر سے کتنی محبت ہے ریڈ ڈریس میں تم میرا ویٹ کر رہی تھی اب مجھے دیکھنا ہے اندر کا کلر میری مرضی کے مطابق ہے کہ نہیں”
وہ حنین کا ہاتھ تھام کر اسے دیکھتا ہوا بولا
“آزھاد پلیز اس وقت میرا مذاق کا موڈ نہیں ہے”
حنین نے ہاتھ چھڑاتے ہوئے سیریز ہو کر کہا
“تو تمہیں میں کہاں سے مذاق کرتا ہوا لگ رہا ہوں۔۔ ایم ڈیم سیریز ڈارلنگ۔۔۔ باقی کا پروگرام مٹی نہیں ہونا چاہیے اور اپنے روم میں، میں تمہارا یہ موڈ ہرگز نہیں دیکھو”
آزھاد نے دوبارہ حنین کا ہاتھ پکڑا
حنین نے دیکھا آزھاد کے چہرے پر سنجیدگی کے ساتھ ساتھ آنکھوں میں آرڈر بھی تھا حنین نے خاموشی سے سر جھکالیا جبکہ آزھاد اسموکنگ کرتا ہوا شاہنواز کا ویٹ کرنے لگا
****
“نوین کیوں تنگ کر رہی ہو حنین کو اسے بھی اپنے کمرے میں جا کر ریسٹ کرنے دو اور تم بھی ریسٹ کرو”
اس وقت آزھاد حنین اور شاہنواز نوین کے بیڈ روم میں موجود تھے نوین گھر آچکی تھی اور تھوڑی دیر پہلے وہ ہوش میں آئی تھی ہوش میں آنے کے ساتھ ہی اس نے حنین کا پوچھا تھا اور اس وقت وہ بیڈ پر برابر میں بیٹھی حنین کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے لیٹی تھی۔۔۔ جبکہ شاہنواز بیڈ کے سامنے کھڑا ہوا نوین کو نرمی سے سمجھا رہا تھا۔۔۔ شاید حنین کی طرح وہ بھی نوین کی اس حرکت سے ڈر گیا تھا۔۔۔ جبھی اس کے لہجے میں نرمی آ گئی تھی
“نہیں یہ میرے پاس ہی سوئے گی شاہنواز آپ وجیہہ کے پاس چلے جائیں اگر یہ میرے ساتھ نہیں رہے گی۔۔۔ تو میں ساری رات بےسکون رہوں گی”
نوین کی آنکھوں سے محسوس ہو رہا تھا وہ تھوڑی دیر بعد غنودگی میں چلی جائے گی مگر وہ بضد تھی کہ حنین اس کے پاس ہی سوئی گی۔۔۔
وہ حنین کو آزھاد کے ساتھ دیکھنا تو دور کی بات سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی،، آزھاد خاموش کھڑا اپنے سامنے بیڈ پر لیٹی اس عورت کی ضد دیکھ رہا تھا جو اب بلاوجہ میں اس سے بیر باندھی ہوئی تھی۔۔۔ ساتھ ہی وہ حنین کو بھی دیکھ رہا تھا جو مسلسل اس سے نظریں چرائے اپنی بہن سے چپکی بیٹھی تھی
“ہنی شاہنواز کو بتاؤ ناں جان تم اپنی آپی کے پاس ہوگی آج رات”
نوین حنین کا ہاتھ تھامے اس سے پوچھنے لگی
“کوئی بات نہیں سر میں ڈسٹرب نہیں ہوگی، میں آپی کے پاس سو جاتی ہوں اگر آپ ڈسٹرب نہ ہو تو”
حنین شاہنواز کو دیکھتی ہوئی بولی مگر اس نے پوری کوشش کی تھی کہ وہ آزھاد کی طرف نہ دیکھے
حنین کی بات سن کر آزھاد خاموش نظر حنین کے چہرے پر ڈال کر روم میں چلا گیا تو حنین کو افسوس ہوا
“تھینکس حنین تم نے میرے ڈسٹرب ہونے کا سوچا، خیر میں وجیہہ کے پاس چلا جاتا ہو تم دونوں ریسٹ کرو”
شاہنواز شکایتی انداز میں نوین کو دیکھ کر حنین سے مخاطب ہوا اور پھر روم سے نکل گیا
“ہنی میں پرسکون نیند لینا چاہتی ہوں پلیز روم کا دروازہ لاگ کردو”
نوین کی آنکھوں سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ واقعی سونا چاہتی ہے مگر کوئی خوف سے بیدار کیے ہوئے تھا
“آپی آپ ریلیکس ہوکر سو جائے میں یہی آپ کے پاس موجود ہوں”
حنین بیڈروم کا دروازہ لاگ کر کے بیڈ پر اس کے پاس آ کر لیٹ گئی
نوین نے دوبارہ اپنی تسلی کے لئے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔ آپ نوین گہری نیند میں سو رہی تھی مگر حنین کی آنکھوں میں نیند دور دور تک موجود نہیں تھی وہ صرف آزھاد کو سوچ رہی تھی شاید وہ اس سے ناراض ہوگیا تھا حنین نے ہاتھ پر نظر ڈالی جو ابھی بھی نوین نے پکڑا ہوا تھا اور آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگے
____________
حنین کی صبح آٹھ بجے کے قریب آنکھ کھلی اس نے ایک نظر نوین پر ڈالی جو دوسری طرف کروٹ لے گہری نیند سو رہی تھی،، حنین بالوں کو فولڈ کر کے کلپ لگاتی ہوئی بیڈ سے اٹھی اور واش روم کا رخ کیا
پوری رات وہ سکون سے سو نہیں پائی تھی،، نوین بار بار نیند میں اس کو پکار کر کنفرم کر رہی تھی کہ حنین اسی کے پاس موجود ہے یا پھر بار بار اس کے وجود کو بیڈ پر ٹٹول کر اطمینان کرتی اور اس کا ہاتھ پکڑ لیتی۔۔۔ لیکن اس وقت وہ گہری میں سو رہی تھی حنین نے ایک نظر سوتی ہوئی نوین کو دیکھا اور کمرے سے باہر نکل کر آزھاد کے بیڈ روم کا رخ کیا
****
“آزھاد آفس نہیں جانا کیا”
حنین آزھاد کے کمرے میں آئی تو وہ ابھی بھی سو رہا تھا، شاید وہ بھی رات کو دیر تک جاگتا رہا تھا
حنین نے اس کے پاس آکر دیکھا مگر حنین کے پکارنے کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا وہ یونہی آنکھیں بند کیے لیٹا رہا تب حنین بیڈ پر اس کے قریب آ کر بیٹھ
“آزھاد”
حنین نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے گال پر رکھے اس کا سر ہلایا تب آزھاد نے اپنی آنکھیں کھولی
“آفس نہیں جانا کیا تم نے آج”
حنین نے ایک بار پھر اس سے پوچھا اور اپنے ہاتھ پیچھے کیے۔۔۔ آزھاد حنین کو نیند بھری آنکھوں سے دیکھنے لگا جیسے اسکی آنکھوں میں ابھی بھی نیند کا خمار باقی ہو
اس نے حنین کا بازو پکڑ کر اسے اپنے اوپر گرا لیا اور حنین کی کمر پر اپنے بازو لپیٹ کر اسے اپنے حصار میں لیا۔۔۔ حنین جب آزھاد کے سینے پر گری تو اس نے اپنے ہونٹ آزھاد کے سینے پر رکھے،،، جس کو محسوس کرکے اسکے سینے میں ٹھنڈک کا احساس جاگا وہ حنین کی کمر پر اپنے بازووں سے گرفت مزید سخت کرتا ہوا کروٹ کے بل حنین کو پکڑے الٹا ہوکر لیٹا
حنین اب بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اور آزھاد اس کے اوپر جھکا اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ مکمل آزھاد کے حصار میں تھی تب حنین نے اپنا ہاتھ اس کے گال پر رکھا جسے آزھاد نے تھام کر مدہوشی میں اپنے ہونٹوں سے لگایا اب وہ دوسرے ہاتھ کا انگوٹھا حنین کے ہونٹوں پر پھیرتا ہوا مدھوشی کے عالم میں اسے دیکھ رہا تھا
“شکر ہے تم مجھ سے ناراض نہیں ہو”
حنین کے منہ سے بے ساختہ نکلا تو آزھاد اس کا ہاتھ چھوڑ کر اسے غور سے دیکھنے لگا
پھر ایک نظر کمرے کی کھڑکی پر ڈالی جہاں پردوں سے روشنی چھن کر آرہی تھی۔۔ صبح ہو چکی ہے یعنی کل رات وہ حنین کا انتظار کرتے کرتے سو گیا تھا مگر حنین اس کے پاس نہیں آئی تھی حنین کا یہ جملہ اس کا ذہن مکمل بیدار کر چکا تھا۔۔۔ وہ کل رات اپنی بہن کے پاس سوئی تھی اسے اگنور کر کے،،، آزھاد جیسے ہوش کی دنیا میں آیا اور اٹھ کر بیٹھا
“اُف الارم کیو نہیں بجا”
سائیڈ ٹیبل پر رکھے الارم پیس کو دیکھتا ہوا وہ خود سے بولا پھر اپنا موبائل چیک کر کے فوراً اٹھا اور وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگا
“آزھاد کیا ہوا کہاں جا رہے ہو”
حنین اس کی ساری حرکت نوٹ کرتی اٹھ کر بیٹھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“صبح سو کر اٹھنے کے بعد بندہ کہا جاتا ہے”
آزھاد سیریس ہو کر اس سے پوچھتا ہوا پھر واش روم چلا گیا
“آنکھ کھلتے ہی تو ٹھیک تھا پھر آچانک کیا ہوگیا”
حنین خود سے بولتی ہوئی بیڈ سے اٹھ کر اس کا کمفرٹر تہہ کرکے اس کا انتیظار کرنے لگی
تھوڑی دیر میں آزھاد باتھ گاون میں شاور لے کر روم میں آیا وہ حنین کو دیکھے بغیر اپنا ڈریس لے کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا
“تمہیں معلوم ہے آپی ساری رات سوئی جاگی کیفیت میں رہی ہیں، وقفے وقفے سے میرا ہاتھ تھام کر اطمینان کرتی رہی کہ میں ان کے پاس موجود ہوں”
آزھاد ڈریس پہن کر واپس روم میں آیا تو حنین اسکے موڈ سے اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ اس سے ناراض ہے
“اس کے دماغی خلل کا کوئی علاج نہیں ہے۔۔۔ لاعلاج ہوچکی ہے تمہاری بہن”
جلدی جلدی شوز پہننے کے بعد وہ ٹائی کی ناٹ باندھتا ہوا بولا
“ایسے مت کہو آزھاد تمہیں میری بھی سچویشن سمجھنی چاہیے۔۔۔ آپی کو کل رات میری ضرورت تھی”
وہ ڈریسر کے پاس آکر بولی۔،۔۔ جلدی جلدی بالوں میں برش پھیرتا آزھاد کا ہاتھ رکا، وہ حنین کو دیکھنے لگا
“رائٹ کل رات تمہاری آپی کو ہی تمہاری ضرورت تھی۔۔۔ اسی کا حق ہے تم پر صرف اور یہ تم نے کل ثابت بھی کردیا”
آزھاد اسکو دیکھ کر جتاتا ہوا ناراضگی سے بولا
“تمہیں اس طرح مجھ سے ناراض نہیں ہونا چاہیے بلکہ میری مجبوری بھی سمجھنا چائیے۔۔۔ انہوں نے پالا ہے مجھے آزھاد”
وہ آزھاد کے ہاتھ سے ہیئر برش لیتی ہوئی بولی
“ہاں ناراض ہونے کا حق تو صرف تمہیں حاصل ہے،، تمہاری مجبوریاں بھی صرف میں سمجھو۔۔۔ تم ایسا کیوں نہیں کرتی ہیں ہنی کے ابھی بھی میرے بیڈروم میں شفٹ ہونے کی بجائے اپنی آپی کے بیڈروم میں شفٹ جاؤ۔۔۔ وہ تمہیں ابھی بھی پال لے گی، نہ اسے شوہر کی ضرورت ہے نہ ہی تمہیں”
آزھاد کلائی میری ریسٹ واچ باندھنے کے بعد اپنا والٹ، موبائل، لائٹر اور سگریٹ کا پیکٹ جیبوں میں رکھتا ہوا روم سے نکل گیا اور حنین اسے دیکھتی رہ گئی پھر ہمت ہارے بغیر اس کے پیچھے گئی
“نہیں مما لیٹ ہوگیا ہو نو بجے میٹنگ ہے”
حنین ڈائننگ ہال میں آئی تو وجیہہ کو اکیلے ناشتے کی ٹیبل پر موجود پایا۔۔۔ آزھاد اس سے مل کر باہر نکل رہا تھا
“آزھاد ناشتہ تو کرتے جاؤ”
حنین کے بے ساختہ بولنے پر وہ مڑا
“بتایا تو ہے مما کو میٹنگ ہے لیٹ ہو رہا ہوں کیا تمہیں الگ سے بتاؤں گا” آزھاد اسے روکھے لہجے میں جواب دے کر باہر نکل گیا
اب وہ شرمندگی سے وجیہہ کو دیکھ رہی تھی جو اسی کو دیکھ رہی تھی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *