Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20

جی جی میں ٹھیک ہوں آپی۔۔۔ وہ کوکروچ آگیا ہے ناں اس لئے ڈر گئی تھی”
حنین جلدی سے نوین کو مطمئن کرتی ہوئی بولی
“میں کاکروچ”
آزھاد نے حنین کو گھورتا ہوا انگلی سے اپنی طرف اشارہ کر کے آہستہ سے پوچھنے لگا مگر حنین دوبارہ اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھ چکی تھی
“کیا کاکروچ آگیا واشروم میں”
نوین بیڈ پر بیٹھی ہوئی نا سمجھنے والے انداز میں اس سے پوچھنے لگی
“جی آپی کوکروچ وہ بھی اتنا بڑے سائز کا عجیب بیہودہ سا۔۔۔ جو مجھے گھور کر دیکھ رہا ہے”
حنین بےبسی سے آزھاد کی نگاہوں سے پریشان ہو کر اسے گھورتی ہوئی نوین کو بتانے لگی اس کے اسٹائل پر آزھاد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“کیا فضول بک بک کر رہی ہو ہنی۔۔۔ فوراً باہر نکلو اور اپنی پیکنگ رات میں ہی کر لینا سونے سے پہلے،، اپنے روم کا دروازہ اچھی طرح لاک کر کے سونا۔۔۔ میں بھی سونے جا رہی ہوں” نوین بیڈ سے اٹھتی ہوئی بولی
نوین کی بات سن کر اب آزھاد ساری شوخی غائب ہوچکی تھی وہ کنفیوز ہوتا ہوا حنین کو دیکھنے لگا حنین نے اس کے ہونٹوں سے اپنا ہاتھ ہٹایا۔۔۔ آزھاد نے اس کی کمر سے اپنا بازو ہٹاکر اسے آزادی بخشی۔۔۔۔ تو حنین اس سے دور ہو کر بیٹھی
“کیا سین ہے یہ”
آزھاد اب سنجیدگی سے حنین کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“تم شرافت سے پہلے مجھے میرے کپڑے لا کے دو گے اور عزت کے ساتھ مجھے پہنے دو گے تب میں بتاؤں گی”
حنین ناراض نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی تو آزھاد خاموشی سے اٹھ گیا۔۔۔ کیبنٹ سے اپنا موبائل نکال کر روم میں آیا، نوین کمرے سے جا چکی تھی
آزھاد نے بیڈ پر پڑے کپڑے اٹھا کر حنین کو تھمائے اور شرافت سے بیڈروم میں آکر اپنی شرٹ اتارتا ہوا وارڈروب میں ٹاول تلاش کرنے لگا
وہ ٹاؤل سے وہ اپنا سینہ اور بال خشک کر رہا تھا تب حنین نائٹ ڈریس میں واش روم سے باہر نکلی
“کس چیز کی پیکنگ کرنے کا بول رہی تھی نوین”
حنین کپڑے پہننے کے باوجود اس کو دیکھ کر اس سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی۔۔۔ مگر آزھاد کی سوئی جیسے نوین کی بات پر ہی اٹکی ہوئی تھی جبھی وہ بالکل سیریس ہوکر حنین کے پاس آکر اس سے پوچھ رہا تھا
“آپی چاہتی ہیں کہ میں پنڈی چلی جاؤ چند ماہ کے لئے۔۔۔ ہمارے ماموں کے پاس۔۔۔ تمہیں بغیر انفارم کیے کل صبح دس بجے میری فلائٹ ہے”
حنین نیچی نظریں کرتی ہوئی اداسی سے آزھاد کو بتانے لگی
اسے نوین کے ساتھ بے وفائی کرتے ہوئے دکھ ہو رہا تھا مگر وہ چاہ کر بھی آزھاد سے بے وفائی نہیں کر پائی۔۔۔ حنین کی بات سن کر آزھاد کا موڈ اچھا خاصہ خراب ہوچکا تھا جس کا اندازہ وہ اس کے چہرے کے تاثرات سے لگا سکتی تھی
“تمہاری بہن بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ میں اس کو اپنے ڈیڈ کی نظروں میں ذلیل کرکے اس گھر سے نکالو”
آزھاد کو اب نوین پر سخت غصہ آیا تھا اس نے پہلے حنین کو اس کے کمرے سے نکلوایا تھا اور اب وہ اسے اس گھر سے بھی دور بھیج رہی تھی
“بس شروع ہوگئے تم آپی کے بارے میں فضول بولنا۔۔۔ یہ سب کچھ اس لئے نہیں بتایا میں نے تمہیں کہ تم میری آپی کو اپنے ڈیڈ کی نظروں میں گرا کر اس گھر سے نکال دو۔۔۔ غلط کیا میں نے تمہیں بتا کر تمہیں تو کچھ بتانا ہی نہیں چاہیے تھا”
حنین آزھاد کے سامنے کھڑی ہوکر بولتی ہوئی مڑ کر وہاں سے جانے لگی۔۔۔ آزھاد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ آزھاد کی سینے سے جا لگی
“اگر تم مجھے یہ سب نہیں بتاتی اور خاموشی سے اس گھر سے دور چلی جاتی۔۔ تو میں تمہیں جان سے مار ڈالتا”
حنین بے یقینی سے آزھاد کی بات سن کر اسے دیکھتی رہی وہ کتنے آرام سے اس کے سامنے اسی کو جان سے مارنے کی بات کر رہا تھا
“یہ ہے تمہارے دل میں میرے لئے فیلنگز،، تم نے اس دن بھی مجھے سب کے سامنے جان سے مارنے کی بات کی تھی اور آج بھی”
حنین اسے غصے میں بولتی ہوئی دوبارہ اس کے پاس سے جانے لگی۔۔ آزھاد نے دوبارہ کھینچ کر اسے خود سے قریب کیا اور اسے اپنے مضبوط حصار میں لیا
“ایسی ہی فیلنگز رکھتا ہوں میں تمہارے لیے۔۔۔ جس نے بھی میرے اور تمہارے درمیان دوری پیدا کرنے کی کوشش کری اس کو تو میں بخشوں گا نہیں لیکن اگر تم نے کبھی مجھ سے دور جانے کی کوشش کی تو میں تمہیں بھی نہیں چھوڑو گا”
آزھاد نے بیڈ کی طرف رخ کرکے جھٹکے سے اسے چھوڑا تو حنین لڑکھڑا کر بیڈ پر جا گری۔۔۔ آزھاد ایک سنجیدہ نگاہ اس پر ڈال کر اس کے کمرے سے نکل گیا
____________
“ہنی اٹھو جلدی” حنین نے بمشکل آنکھیں کھولی اس کی آنکھیں بری طرح جل رہی تھی… درد سے بوجھل ہوتے وجود میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اٹھ سکتی
“کیا ہوگیا تمہیں ٹھیک ہو تم”
نوین اب اس کی حالت دیکھتی ہوئی فکرمندی سے پوچھنے لگی
“شاید کل رات دیر تک پانی میں رہنے کی وجہ سے بخار ہوگیا ہے”
حنین اپنی اندرونی کیفیت کے مدنظر، نوین کو مدھم آواز میں بتانے لگی
“ہنی تم کیو مجھے اتنا پریشان کرتی ہو، کس نے کہا اتنی سردی میں رات کے وقت شاور لو۔۔۔۔ تمہیں اندازہ بھی دو گھنٹے بعد تمہاری فلائٹ ہے ہمہیں گھر سے نکلنا ہے تم نے نیا مسئلہ پیدا کردیا”
نوین اس کی حالت دیکھ کر خود بھی پریشان ہونے کے ساتھ اسے ڈانٹتی ہوئی کہنے لگی
“آپ کو میرے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بخار میں سفر کرنے سے کوئی مر نہیں جاتا”
حنین نوین کی باتوں پر منہ بگاڑتی ہوئی بولی۔۔۔۔ حنین کو یہ سوچ کر افسوس ہوا نوین بس اسے کسی طرح یہاں سے نکالنا چاہتی تھی اس کی طبیعت کا تو اسے احساس ہی نہیں تھا
“کیا الٹی سیدھی باتیں کررہی ہو صبح ہی صبح۔۔۔۔ پٹو گی تم مجھ سے۔۔۔۔ تمہیں کیا خود سے دور بھیج کر میں خوش ہوں۔۔۔ صرف تمہارے بھلے کے لیے ہی ایسا کر رہی ہو نا،، تمہیں اس آزھاد سے بچانے کے لیے۔۔۔ شاباش تھوڑی سی ہمت کرو جا کر فریش ہوجاو۔۔۔۔ آزھاد آفس چلا گیا ہے اس وقت ہمہیں ایئرپورٹ کے لئے نکلنا ہے”
نوین اسے بیڈ پر سست بیٹھا دیکھ کر بولی۔۔ حنین نے حیرانگی سے اسے دیکھا
“کیا آزھاد آفس چلا گیا”
حنین نے بے یقینی سے نوین کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔ اسے اندر کہیں سو فیصد یقین تھا کہ آزھاد یہ خبر سن کر آج آفس ہرگز نہیں جائے گا بلکہ اسے روک لے گا
“وہ روز اسی ٹائم پر آفس جاتا ہے خیر یہ بتاؤ پیکنگ کر لی تھی تم نے رات کو۔۔۔ چلو یہ کپڑے پکڑو جلدی سے چینج کر کے آؤ”
نوین نے اس کے وارڈروب سے کپڑے نکال کر دیے جنھیں پکڑ کر وہ بےدلی سے قدم اٹھاتی ہوئی واشروم چلی گئی جبکہ نوین اس کا بیگ اور ٹکٹ وارڈروب سے نکالنے لگی
****
“آپی مجھے اچھا نہیں لگ رہا آنٹی سے مل لیتی ہوں،، وہ کیا سوچیں گی میں ان سے ملے بغیر ہی چلی گئی”
حنین چینج کرکے آئی تو نوین اس کا بیگ اور سارا سامان کار میں پہنچا چکی تھی تب حنین اس سے بولی
“وہ کیا سوچیں گیں یہ تمہارے سوچنے کی بات نہیں ہے۔۔۔ ویسے بھی وجیہہ کو میں نے کچھ خاص نہیں بتایا تمہیں چھوڑ کر آؤ گی تب ہی کچھ بتاؤں گی، اگر پہلے سے بتا دیا تو وہ تمہاری ساس ہونے کے ناطے اس بات پر اعتراض کرسکتی ہیں۔۔۔ چلو میں ڈرائیور کو بول چکی ہوں کہ وہ ہمیں ایئرپورٹ پہنچا دے”
نوین اس کی بات کو اہمیت دئیے بغیر باہر نکل گئی جبکہ حنین بے دلی سے آزھاد کے روم کے بند دروازے پر ایک نظر ڈالتی ہوئی خود بھی باہر نکل گئی
وہ دونوں ہی پچھلی سیٹ پر بیٹھی ڈرائیور کے ساتھ ائیرپورٹ کے لیے نکل رہی تھی۔۔ نوین بار بار اسے کسی نہ کسی بات کی ہدایت کر رہی تھی۔۔۔ حنین اس وقت بالکل خاموش تھی نوین کو اندازہ تھا اس کی اداسی کی وجہ اس کی طبیعت خرابی کہ علاوہ نوین سے دوری بھی تھی۔۔۔ وہ بار بار حنین کو پیار کرکے یقین دلارہی تھی کہ وہ جلد اسے اپنے پاس بلا لے گی اور ملنے بھی آئے گی
“یہ کار یہاں کیوں موڑ لی۔۔۔ ہمیں ایئرپورٹ جانے کے لیے لفٹ سائیڈ پر جانا تھا”
نوین ڈرائیور کو دیکھتی ہوئی بولی تو حنین نے بھی چونک کر کار کی کھڑکی سے راستے کو دیکھا
“میم آزھاد سر کا آرڈر تھا کار ائیرپورٹ جانے کی بجائے ان کے ایڈریس پر لے آؤ مطلب انکے فلیٹ پر”
ڈرائیور ڈرائیونگ کے دوران نوین کو بتانے لگا اس کی بات سن کر نوین کے پیروں تلے زمین نکل گئی جبکہ حنین کی دھڑکنوں نے تیز اسپیڈ پکڑ لی
“آزھاد کا آرڈر۔۔۔ کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔ میں کہتی ہوں شرافت سے کار آئیرپورٹ کے روڈ پر موڑو”
نوین اس وقت پریشان ہونے میں یا حیران ہونے میں وقت ضائع نہیں کرسکتی تھی کہ آزھاد کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی بلکہ وہ ڈرائیور کو سختی سے جھڑکتی ہوئی بولی
“سوری میم میں آزھاد سر کے آرڈر کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا”
ڈرائیور نے موذبانہ لہجے میں نوین کو کہا۔۔۔ اور کار کی اسپیڈ تیز کردی
“میں تمہیں جو بول رہی ہوں وہ سنو، تم جانتے نہیں ہو کس کی بیوی سے بات کر رہے ہو تم”
نوین اب کی بار چیخ کر بولی اور اس صورتحال سے حنین کافی گھبرا گئی تھی مگر وہ ڈرائیور بھی کوئی آزھاد کی طرح ہی ڈھیٹ تھا جو نوین کی دھاڑ سننے کے باوجود خاموشی سے ڈرائیونگ کیے جا رہا تھا
نوین اپنے موبائل سے شاہنواز کو کال ملانے لگی۔۔ مگر اس وقت شاہنواز کال نہیں اٹھا رہا تھا۔۔۔۔ کار اپارٹمنٹ کے گیٹ کے اندر داخل ہوئی تو حنین وہ جگہ فوراً پہچان گئی آزھاد نے یہی تو اس سے نکاح کیا تھا
ڈرائیور نے بیسمنٹ میں کار روکی سامنے ہی اپنی کار میں آزھاد بیٹھا تھا وہ کار میں موجود حنین اور نوین کو دیکھ کر گلاسز اتارتا ہوا اپنی کار سے باہر نکلا
“یہ کیا گھٹیا حرکت کی ہے تم نے۔۔۔ تم ہوتے کون ہو ڈرائیور کو بول کر زبردستی ہمیں یہاں پر لانے والے”
نوین آزھاد کو دیکھتی ہوئی کار کا دروازہ کھول کر اتری اور غصے میں آزھاد کے سامنے کھڑی ہوکر بولنے لگی
“گھٹیا حرکت میں نے نہیں تم نے کی ہے،، تم کون ہوتی ہوں میری بیوی کو میری بغیر اجازت یہاں سے دور کسی دوسری جگہ پر بھیجنے والی”
آزھاد نوین کے سامنے اسی کی طرح غصے میں اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ حنین ابھی بھی خاموشی سے کار میں بیٹھی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی
“بیوی۔۔۔۔ زبردستی نکاح کیا ہے تم نے میری بہن سے،، نہیں رہنا چاہتی ہے وہ تمہارے ساتھ”
نوین غصے میں چیختی ہوئی اس کی خوش فہمی دور کرنے لگی اسے یہ بھی خیال نہیں رہا وہ کہاں کھڑی اور کس قدر زور زور سے بول رہی ہے
“میں نے تمہاری بہن سے نکاح کیا ہے کوئی مذاق نہیں کیا۔۔۔ وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا نہیں۔۔۔ یہ ہم دونوں کا مسئلہ ہے، ہم ڈیسائڈ کرلیں گے۔۔۔ تمہیں بیچ میں اپنی ٹانگ اڑانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ جس طرح تم اس وقت چیخ رہی ہو ایک پاگل عورت لگ رہی ہو۔۔۔۔ تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ تم یہاں سے دفع ہو جاؤ۔۔۔ ورنہ یہاں پر موجود گارڈز تمہیں پاگل خانے چھوڑ آئے گے”
آزھاد بنا لحاظ کیے نوین کو بولتا ہوا کار کا دروازہ کھول کر حنین کا بازو پکڑ کر اسے باہر نکالنے لگا
“یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو اس کا ہاتھ کہاں لے جا رہے ہو اسے”
نوین آزھاد کی حرکت کو دیکھ کر مزید زور سے چیختی ہوئی بولی
“اپنے فلیٹ میں لے کر جا رہا ہوں۔۔۔ جہاں تمہاری بہن سے زبردستی نکاح کیا تھا۔۔۔ اب ہنی مون بھی یہی مناؤں گا۔۔۔ اور تم اس کنڈیشن میں ذرا کم غصہ کیا کرو بےبی کا کلر ڈارک نکلا تو مسلئہ ہوگا ڈیڈ کو بلیک کلر پسند نہیں ہے “
آزھاد کی بات سن کر جہاں حنین سٹپٹائی وہی نوین آگ بگولہ ہوکر رہ گئی
“آزھاد اسے چھوڑو اس کو 18 سال کے ہونے میں ابھی تین ماہ باقی ہیں”
نوین اس کی باقی کی بکواس اگنور کرتی ہوئی آزھاد کے سامنے آکر اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولی
“بالغ ہے تمہاری بہن۔۔۔ کوئی ننھی بچی نہیں ہے،،، ساری انفارمیشن ہے اسے،،، اور جو کچھ نہیں معلوم آج میں اسے بتادو گا اور آج ہی یہ 18 سال کی بھی ہوجائے گی۔۔۔ اب اپنا راستہ ناپو اور سیدھی شرافت سے گھر جاو”
آزھاد بھی اسے ایک ایک لفظ باور کرواتا ہوا حنین کا ہاتھ پکڑ کر اسے لفٹ کی طرف لے جانے لگا،، حنین خاموشی سے آزھاد کی بدتمیزی جبکہ نوین کی ضد اور غصہ دیکھ رہی تھی
“میں تمہیں اپنی بہن کو کہیں نہیں لے کر جانے دوگی”
نوین آزھاد کے پیچھے آکر اس سے حنین کا بازو چھڑاتی ہوئی بولی۔۔۔ نوین کی حرکت دیکھ کر آزھاد کا پارہ ہائی ہو گیا۔۔۔ اس نے ایک حنین کا بازو چھوڑ کر اچانک نوین کا بازو پکڑا
“عزت راس نہیں آتی تمہیں”
اب کی بار غصے میں آزھاد بھی چیخا
“آزھاد آپی کا ہاتھ چھوڑ دو پلیز”
حنین جو کافی دیر سے خاموش تھی ایک دم التجائی انداز میں بولی۔۔۔ کار میں بیٹھا ڈرائیور بھی آزھاد کو غصے میں دیکھ کر کار سے باہر نکل آیا مگر خاموش کھڑا تماشا دیکھنے لگا
“منہ بند کرو اپنا” آزھاد بڑی بڑی آنکھیں دکھا کر حنین کو گھورتا ہوا بولا اور نوین کا بازو پکڑ کر زور سے جھٹکتا ہوا اسے بولا
“اب اگر تم نے میرے معاملے میں اپنی ٹانگ اڑائی یا ہم دونوں کے بیچ میں آئی۔۔۔ تو میں تمہارے منہ پر ایسڈ ڈال کر تمہارا چہرہ اتنا بھیانک کر دوں گا۔۔۔ میرا باپ تھوکنا بھی پسند نہیں کرے گا تم پر۔۔۔ اب یہاں سے اپنی شکل لے کر دفع ہو جاؤ”
وہ نوین کا بازو سختی سے پکڑے اسے دھمکی دے رہا تھا اس کا لہجہ، انداز اتنا سخت اور سرد تھا کے نوین کچھ بھی نہیں بولی بلکہ اسے گھور کر دیکھتی رہی۔۔۔ اب وہ نوین کا ہاتھ سختی سے پکڑ کر اسے کھینچتا ہوا کار کے پاس لایا اور کار کا دروازہ کھول کر اندر بٹھایا
“ہینڈ کیری نکالو کار سے، میڈم کو واپس گھر چھوڑ کر آؤ۔۔۔ گیٹ کیپر کو سختی سے تاکید کر دینا یہ دوبارہ گھر سے باہر نہ نکلیں اور اگر تم یا فضل۔۔۔ گھر کے کسی بھی فرد کو یہاں لے کر آئے یا مجھے کسی بھی طرح ڈسٹرب کیا تو آج ہی فارغ کر دوں گا جاب سے”
نوین کو کار میں بٹھانے کے بعد اب وہ ڈرائیور کو ہدایت دے رہا تھا ڈرائیور مہذب انداز میں آزھاد کی بات سن کر اسے یس سر کہتا ہوا نوین کو لے کر وہاں سے چلا گیا
تب آزھاد حنین کا ہینڈ کیری لے کر اس کے پاس آیا حنین اسے ناراض نظروں سے دیکھ رہی تھی
“چلو”
آزھاد نے اس کا ہاتھ پکڑا اس کی ناراضگی کی پرواہ کیے بنا اسے لفٹ کے کے ذریعے اپنے فلیٹ میں لے آیا
****
“کال کر رہی تھی تم میں میٹینگ میں بزی تھا بولو کوئی خاص بات تھی” نوین کو پانچ منٹ ہوئے تھے ڈرائیور کے ساتھ گھر آئے ہوئے تب شانواز کی کال آئی
“آپ بزی رہے میٹنگ میں شاہنواز ایسی کوئی خاص بات نہیں تھی بات صرف اتنی تھی کہ آپ کے بیٹے نے میری بہن کو ایئرپورٹ لے جانے ہی نہیں دیا۔۔۔ میری دو کوڑی کی عزت کرکے مجھے ڈرائیور کے ہاتھ گھر روانہ کردیا اور میری بہن روتی چیختی رہی اس کے آگے،، مگر وہ اسے زبردستی اپنے فلیٹ میں لے گیا”
نوین کو اپنا غصہ کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا اس لئے وہ شاہنواز کو ہی سنانے لگی
“نوین میں نے تمہیں پہلے ہی منع کیا تھا کہ حنین کو پنڈی بھیجنے والا فیصلہ تمہارا غلط ہے۔۔۔ آزھاد کو جب بھی معلوم ہوتا وہ ایسے ہی ری ایکٹ کرتا یہ میں تمہیں پہلے ہی آگاہ کر چکا تھا”
نوین کی بات سن کر شاہنواز بولا
“تو کیا کروں میں پھر،، اپنی بہن کو سجا سنوار کر آپ کے بیٹے کے بیڈ روم میں بٹھا دو تاکہ وہ دل کھول کر میری بہن کے ساتھ زیادتی کرے”
نوین مزید غصے میں بولی
“فضول قسم کی الٹی بات مت کرو نوین،، تمہاری بہن آزھاد کی بیوی ہے کوئی نامحرم نہیں ہے تو پھر زیادتی کا کیا سوال، میرے خیال میں اب تمہیں اپنا دماغ ان دونوں کی طرف سے ہٹا لینا چاہیے اور اپنے اوپر دھیان دینا چاہیے ہمارے بچے کے اوپر۔۔۔ پورے دس دن گھر میں خاموشی تھی،، آزھاد چپ بیٹھا تھا لیکن آج اگر اس نے بد تمیزی کی ہے تو وجہ یہی ہے کہ تم نے حنین کو اس گھر سے دور بھیجنے کی کوشش کی”
شاہنواز نوین کو اس کی غلطی بتانے لگا
“واہ کیا بات ہے آپ کی شاہنواز۔۔۔ میری بہن بے شک آپ کے بیٹے کی بیوی ہے مگر وہ اس رشتے پر خوش نہیں ہے اور اگر آزھاد اس سے زور زبردستی کرے گا تو وہ زیادتی میں ہی شمار ہوگا۔۔۔ شاہنواز خدارا اپنے بیٹے کی سائڈ لینا بند کریں، اگر میں آپ کو اس کی حرکتوں سے آگاہ نہیں کرتی تو صرف اور صرف آپ کا خیال کر کے یا پھر وجیہہ کا لحاظ کر کے۔۔۔ کتنی بدتمیزی کرتا ہے وہ مجھ سے کتنا تنگ کیا ہوا ہے اس نے مجھے،، آپ کو اگر اس کے کرتوت بتانے بیٹھ گئی ناں تو صبح سے شام ہو جائے گی اور آج تو اس نے کھلی دھمکی دی ہے مجھے کہ وہ میرے منہ پر تیزاب پھینک کر میری شکل اتنی بھیانک کر دے گا کہ اس کا باپ مجھ پر تھوکے گا تک نہیں یہ بولا ہے آپ کے بیٹے نے مجھے”
نوین اپنے کمرے میں غصے میں ٹہلتی ہوئی موبائل پر شاہنواز کو آزھاد کے مزید کرتوت بتانے لگی
“نوین ویسے تو مجھے محسوس نہیں ہوتا کہ تمہاری بہن آزھاد سے رشتہ نہیں رکھنا چاہتی ہے۔۔۔ ہوسکتا ہے میری آبزرویشن غلط ہوں مگر اپنے بیٹے پر مجھے یقین ہے وہ کوئی بھی ایسا غلط قدم نہیں اٹھائے گا جس سے حنین ہرٹ ہو مگر اس نے تمہیں ہرٹ کیا ہے تم سے بدتمیزی کی ہے اس کا جواب اسے دینا ہوگا۔۔۔ میں ڈرائیور سے بات کرتا ہوں اب تم ریلیکس ہوجاو اور پلیز وجیہہ کو کچھ بھی نہیں بتانا وہ ٹینشن لیں گیں تو ان کی طبیعت خراب ہوگی”
شاہنواز نے اسے بہلا کر فون رکھا
“تم مجھ پر ایسڈ ڈال کر میرا چہرہ بھیانک کرنے والے ہونا کہ تمہارا باپ مجھ پر تھوکے تک نہیں۔۔۔ اب دیکھنا آزھاد میں بنا ایسڈ کے تمہارے چہرے پر سب سے کیسے تھکواتی ہو”
نوین زہر خواندہ لہجے میں خود سے بولی
____________
آزھاد حنین کو فلیٹ میں لے کر آیا اس کا ہینڈ کیری سائیڈ میں رکھتا ہوا خود صوفے پر نیم دراز ہوا جبکہ حنین سامنے دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوئی اسے ملامتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ حنین کو اپنی طرف دیکھتا پا کر آزھاد بھی ریلیکس انداز میں صوفے پر بیٹھا اسے دیکھنے لگا۔۔۔ حنین پلک جھپکائے بغیر اسے دیکھ رہی تھی۔۔ حنین کے دیکھنے کے انداز پر آزھاد نے اندازہ لگایا کہ وہ اس سے خفا ہے۔۔۔ وہ اسے خفا خفا سی بہت کیوٹ لگی اب حنین کے مسلسل دیکھنے پر آزھاد کو ہنسی آنے لگی
“کب تک دروازے پر کھڑی مجھے یو گھورتی رہو گی یہ کام تم میرے قریب بیٹھ کے بھی کر سکتی ہو، یہاں آؤ” وہ اپنی مسکراہٹ چھپاتا ہوا حنین کو اپنے پاس صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا
“تم آپی کے ساتھ ذرا بھی عزت سے پیش نہیں آسکتے آزھاد،، ان سے تمہارا دہرا رشتہ ہے وہ تمہاری وائف کی سسٹر ہونے کے ساتھ ساتھ تمہاری مدر بھی ہیں بیشک اسٹیپ مدر ہی سہی پر تمہیں انہیں رسپیکٹ دینا چاہیے”
حنین اپنی بات ختم کرکے صوفے پر اس کے برابر میں آکر بیٹھی تو آزھاد نے گردن موڑ کر اسے سنجیدگی سے دیکھا
“تمہاری بہن مجھے بہنوئی ہونے کے ناطے کتنی رسپیکٹ دیتی ہے یہ تمہیں نظر نہیں آتا اور آئندہ اپنی بہن کو میری مدر کہنے کی ضرورت نہیں ہے وہ صرف اور صرف میرے ڈیڈ کی سیکنڈ وائف ہے۔۔۔ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔ رہی عزت سے پیش آنے کی بات تو ڈارلنگ میں تمہارا خیال کرکے اس کا لحاظ ہی کرجاتا ہو۔۔۔ ورنہ یقین مانو وہ اس قابل نہیں کہ اس سے عزت سے پیش آیا جائے”
آزھاد نے جتنے نارمل انداز میں حنین سے کہا اسے آزھاد کی بات سن کر آگ ہی لگ گئی
“اگر اتنی ہی نفرت کرتے ہو میری بہن سے،، وہ تمہیں اتنی ہی زہر لگتی ہے تو پھر اس کی بہن سے شادی کیوں کی تم نے”
حنین اب سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی کیوکہ اسے محسوس ہو رہا تھا اس کا ٹیمپریچر آزھاد کی باتیں سن کر مزید بڑھ جائے گا
“کیا کرتا میرے دل اور دماغ پر قبضہ جو جما بیٹھی تھی تم بری طرح سے۔۔۔ دل ہر وقت تمہارے ساتھ کی چاہ کرنے لگا۔۔۔ دماغ نے کہا بیٹا آزھاد اسے گرل فرینڈ بنانے کی بجائے ڈائریکٹ بیوی بنالے”
حنین کے گھورنے کی پرواہ کیے بغیر وہ اطمینان سے بولا۔۔۔ حنین اب بھی اسے خاموشی سے گھورے جا رہی تھی
“اب اسلیے تو اپنے پاس بیٹھنے کے لئے نہیں کہا کے غصے میں تم گھورتی رہو تھوڑا پیار سے بھی دیکھ لو یار شوہر ہو تمھارا”
حنین کے گھورنے پر اب کی بار آزھاد اپنے لہجے میں شوخی سماتا ہوا بولا۔۔۔ جس پر بھی حنین کو کوئی فرق نہیں پڑا وہ اب بھی آزھاد کو گھور رہی تھی
“اچھا یار موڈ ٹھیک کرو اپنا”
آزھاد صوفے سے تھوڑا کھسک کر اس کے قریب ہوکر بیٹھا اور اس کا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگا لیا۔۔۔ اب وہ اسمائل دے کر حنین کو دیکھ رہا تھا اب کی بار آزھاد کے دیکھنے پر حنین نے اپنی نظریں جھکالی
“گھر چھوڑ کر آو مجھے آپی پریشان ہو رہی ہوگیں”
وہ آزھاد کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ چھڑا کر بولی
“میرا موڈ تمہاری بہن کی وجہ سے دس دن سے خراب ہے آج رات تھوڑا اسے بھی پریشان ہونے دو کل چلیں گے”
آزھاد دوبارہ اس کا ہاتھ تھام کر بولا تو حنین اسے گھورنے لگی،،، وہ اس کے گھورنے کا نوٹس لیے بغیر اس کا ماتھا اور گردن چھو کر دیکھنے لگا۔۔۔ اب آزھاد کو سمجھ میں آیا اس کا چہرہ اتنا اترا اترا کیوں لگ رہا تھا
“یہ اچھی بات نہیں ہے تم بخار چڑھا کر میرے پاس آئی ہو جبکہ میرا آج رات بھی کل کی طرح ایک ساتھ باتھ لینے کا ارادہ تھا”
آزھاد اس سے شکوہ کرتا ہوا بولا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *