Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11

کیا بکواس کر رہے ہو تم، ہر دوسرے انسان کے سامنے خود کو میرا بوائے فرینڈ بول کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو تم”
حنین غصے میں آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی
“ریلیکس ڈارلنگ اکیلے میں کتنا ہی غصہ کرلو مگر کسی دوسرے کے سامنے تو میرا لحاظ کر لیا کرو یار”
آزھاد ہنی کو پیار سے بہلاتا ہوا بولا۔۔۔ ساتھ ہی رافع کے گلے میں ہاتھ ڈال کر اسے کار پارکنگ کی طرف لے جانے لگا اور دوستانہ لہجے میں اس سے مخاطب ہوا
“کیا ہے نا یار رافع کل رات مجھ سے ایک بہت سنگین غلطی ہوگئی تھی میں روز رات کو سونے سے پہلے موبائل پر روز ہنی کی تعریف کرتا ہوں اور پھر اسے گڈ نائٹ کہہ کر سوتا ہوں مگر کل رات بدقسمتی سے میں نے گڈ نائٹ تو بول دیا مگر اس کی تعریف کرنا بھول گیا جبھی وہ اس طرح ری ایکٹ کررہی ہے یعنی ناراض ہے مجھ سے، اب ایسا ہے کہ تم اچھے بچوں کی طرح گھر جاؤ میں اسے منانے کے بعد خود اسے گھر چھوڑ دوں گا یہ میرا میسج نوین آپی کو لازمی دینا کہ ہنی کی فکر کرنے کے لیے آزھاد ہے اب وہ زیادہ ہنی کے لیے پریشان نہ ہو”
آزھاد رافع کو سمجھاتا ہوں اسے پارکنگ ایریا تک لے آیا
“کیا بات کر رہے ہو تم رافع سے۔ ۔۔ رافع یہ جو بھی کچھ کہہ رہا ہے یقیناً آپ سے جھوٹ بول رہا ہوگا آپ اس کی باتوں میں بالکل بھی نہیں آئیے گا اور اب ہمیں گھر جانا چاہیے”
حنین ان دونوں کی پیچھے چلتی ہوئی آئی اور اب وہ آزھاد کو اگنور کرکے رافع سے بولنے لگی
“حنین دیکھئے آپ دونوں کی بیچ میں مجھے کچھ بھی بولنے کی ضرورت تو نہیں ہے کیوکہ یہ آپ کا اور آزھاد بھائی کا پرسنل میٹر ہے مگر پھر بھی میں آپ کو سمجھانا چاہوں گا کل رات جو بھی کچھ ہوا میں مانتا ہوں غلطی سراسر ان کی تھی مگر پلیز آپ آزھاد بھائی کو معاف کردینا یہ واقعی بہت شرمندہ ہیں”
رافع کے بولنے پر حنین حیرت سے پوری آنکھیں کھولے رافع کو دیکھنے لگی اور پھر اتنی حیرت سے آزھاد کو بھی، جو مسکراتا ہوا داد دینے والے انداز میں رفع کا شولڈر تھپتھپا رہا تھا۔۔۔ رافع جب اپنی کار کی طرف بڑھنے لگا تو حنین بھی اس کے پیچھے جانے لگی
“ہنی رکو ناں، میری بات سنو تمہیں آج کچھ بہت خاص بتانا ہے مجھے، اس کے بعد میں تمہیں تھوڑی دیر میں گھر ڈراپ کردوں گا”
آزھاد نے ایک بار پھر حنین کا ہاتھ تھام اسے بہت اپنائیت سے کہا رافع اپنی کار پارکنگ ایریا سے باہر کی طرف نکال چکا تھا اور اس جگہ پر اس وقت زیادہ رش بھی نہیں تھا
“کیا بولا تم نے رافع کو کل رات کے بارے میں”
حنین اپنا ہاتھ چھڑا کر سنجیدگی سے آزھاد کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“اس سے میں نے بولا کہ کل رات میں، میں ہنی کو موبائل پر نائٹ کس دینا بھول گیا اسی وجہ سے وہ مجھ سے ناراض ہے”
آزھاد مسکراتا ہوا حنین کو اپنا کارنامہ بتانے لگا بے ساختہ حنین کا ہاتھ اٹھا اس سے پہلے آزھاد اس کا ہاتھ پکڑتا، وہ آزھاد کے گال پر تھپڑ کی صورت پڑھ چکا تھا
“آخر کیا سمجھا ہوا ہے تم نے مجھے کیوں میرے کردار کو دوسروں کے سامنے مشکوک بنانے لگے ہوئے ہو تم”
حنین اور بھی کچھ بولتی مگر آزھاد نے غصے میں اس کی جیکٹ کے دونوں کالر پکڑ کر اسے خود سے قریب کر کے اونچا بھی کیا
“تھپڑ کیوں مارا تم نے مجھے ہاں”
وہ آنکھوں میں بے انتہا کا غصہ لیے سخت لہجے میں حنین سے پوچھنے لگا
“یہ تھپڑ نہیں ہے انعام ہے میری طرف سے، جو کل تم نے میرے ساتھ کیا اس کا بھی اور جو تم لوگوں کو میرا بوائے فرینڈ بولتے رہتے ہو اس کا بھی”
حنین ایک بار پھر اس کا احسان بھول چکی تھی کہ آج وہ سر اٹھائے اگر بات کر رہی ہے تو اسی کی وجہ سے وہ کل اس کی عزت کو داغدار کر کے نہیں گیا تھا۔۔۔۔ اسے یاد تھا تو بس اتنا کہ وہ اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس کے ساتھ کیا کچھ کرنے لگا تھا اور تیسری بار اس نے حنین کا کردار مشکوک کیا تھا
“اور اب جو میں تمہارے ساتھ کروں گا اس پر یقیناً تمہیں مجھے گولی مارنے کا دل چاہے گا”
وہ حنین کی جیکٹ کے کالر چھوڑ کر اس کو بازو سے پکڑ کر کھینچتا ہوا اپنی کار کی طرف لے گیا اور پچھلی سیٹ پر اسے پھینک کر خود بھی کار کے اندر بیٹھا
“کیا کر رہے ہو تم آزھاد پیچھے ہٹو”
آزھاد اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر قریب ہوا حنین گھبراتی ہوئی بولی
“معافی مانگو پہلے”
وہ حکم دینے والے انداز میں بولا۔۔۔ حنین بغیر کچھ بولے اسے دیکھنے لگی
“بہت اکڑ ہے تم میں۔۔۔ دو منٹ کے اندر تمہارا غرور مٹی میں ملا سکتا ہو۔۔۔ معافی مانگو مجھ سے”
آزھاد اس کی دونوں ٹانگیں کھینچ کر اسے کار کی پچھلی سیٹ پر لٹاتا ہوا بولا
“سوری”
حنین نے اس کی حرکت پر خوفزدہ ہوکر ہلکی آواز میں بولا۔۔۔ نہ جانے وہ اس بات کو کیسے فراموش کر بیٹھی تھی کہ وہ کتنا بدتمیز ہے
“زور سے بولو آواز نہیں آئی مجھے”
آزھاد حنین کو دیکھتا ہوا بولا
“میں سوری بول چکی ہو، تم نے میرے ساتھ کل بھی برا نہیں کیا تھا تم آج بھی نہیں کر سکتے”
حنین سیٹ پر لیٹی ہوئی اسے یاد دلا کر بولی
“میں ابھی بھی تمہارا ریپ نہیں کرو گا،، بے فکر رہو اپنے ہونٹوں کی گارنٹی دیتا ہو یہ تمہیں نہیں چھوئے گے مگر ان ہاتھوں کی کوئی گرانٹی نہیں ہے۔۔۔ زور سے معافی مانگو آواز آنی چاہیے مجھے”
آزھاد نے بےحد سنجیدگی سے جملہ ادا کیا
“سوری”
جب اس نے آزھاد کے ہاتھ کا لمس اپنی ٹانگوں پر محسوس کیا وہ زور سے بولی
“گڈ، اٹھ کر بیٹھو”
آزھاد اسے بازو سے پکڑ کر بھٹاتے ہوئے بولا
“کیا تم جاننا چاہتی ہو کہ کل میں تمہارے ساتھ وہ سب کیوں نہیں کیا”
آزھاد اب اپنا غصہ بھلائے حنین کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“نہیں”
جو وہ بولنا چاہتا تھا حنین نہیں سسنا چاہتی تھی اس لیے کار کا دروازہ کھولنے لگی
“مگر میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں میں نے کل تمہارے ساتھ غلط کیوں نہیں کیا”
آزھاد اس کا بازو پکڑ کر حنین کا رخ اپنی طرف کرتا ہوا بولا حنین نے اس سے اپنا بازو چھڑانا چاہا تو آزھاد اس کا چہرا اپنے دونوں ہاتھوں میں اب وہ حنین کے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا
اور حنین اپنی سانس روکے خاموشی سے اسے دیکھنے لگی مگر اتنے میں کار کا شیشہ کسی نے باہر سے بجایا۔۔۔ کار کے اندر وہ دونوں ہی چونکے آزھاد باہر نکلا اور اس کے پیچھے حنین بھی
“کہاں غائب ہو گیا تھا یار تو”
مُکرم آزھاد سے پوچھنے لگا اور حنین آنکھوں میں خوف لیے مُکرم اور فصیح کو دیکھنے لگی وہ ان دونوں کے چہرے کیسے بھول سکتی تھی
“ابھی تم دونوں جو یہاں سے میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں”
آزھاد نے ایک نظر حنین کے چہرے کے تاثرات دیکھے پھر ان دونوں سے مخاطب ہوا
“چل تو دوبارہ سے انجوائے کر”
فصیح آنکھ مارتا ہوا آزھاد سے بولا۔۔۔ کبھی کبھی فصیح کی بےوقت کے ہانکنے کی عادت آزھاد کو زہر لگتی تھی ان دونوں کے جانے کے بعد وہ حنین کی طرف مڑا
“تم ان گھٹیا لڑکوں کو پہلے سے جانتے ہو یعنی تم انکے ساتھ ملے ہوئے ہو اور تم بھی ان کی طرح میرے ساتھ”
حنین کی آنکھوں میں بے یقینی تھی وہ چھوٹے چھوٹے قدم پیچھے کی طرف اٹھاتی ہوئی گیٹ کی طرف جانے لگی
“کیا بول رہی ہو تم وہ دونوں فرینڈز ہیں میرے، مگر یہ بات مجھے اس دن معلوم نہیں تھی کہ تمہارے ساتھ بدتمیزی کرنے والے فصیح اور مکرم ہوگے۔۔۔ وہ اب کبھی تمہاری طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گے پلیز ہنی میری بات سنو”
حنین آزھاد کی بات سنے بغیر اب تیز قدم بڑھاتی ہوئی گیٹ سے باہر نکلی آزھاد اس کے پیچھے چلنے لگا تاکہ حنین کے دل میں آئی بدگمانی دور کرسکے اور اپنی فیلنگز اس سے شیئر کر سکے
“مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی ہے اب کبھی بھی میرا پیچھا کرنے کی یا میرے گھر آنے کی ضرورت نہیں ہے”
حنین اسٹاپ پر آکر ٹیکسی کو ہاتھ کے اشارے سے روکتی ہوئی بولی
“تم میری بات سنے بغیر ایسے نہیں جاسکتی”
آزھاد حنین کا بازو پکڑ کر سنجیدگی سے اسے دیکھتا ہوا بولا
“تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے آزھاد” حنین آزھاد سے اپنا بازو چھڑا کر ٹیکسی میں بیٹھ گئی۔۔۔ تھوڑی دیر بعد جب ٹیکسی چلی تو آزھاد دھول اڑاتی ہوئی ٹیکسی کو غصے سے دیکھتا رہ گیا
****
رافع کے گھر پہنچا اس کے آدھے گھنٹے بعد ٹیکسی سے حنین گھر پہنچی رافع نوین کو آزھاد کا میسج دے چکا تھا جس پر نوین شاک ہو کر رہ گئی تھی۔۔۔ حنین گھر آئی تو اس وقت نوین نے اسے کوئی سوال نہیں کیا مگر خورشید صاحب کی فیملی کے جانے کے بعد نوین حنین کی کلاس لینے کے لئے اس کے بیڈ روم میں پہنچ گئی
“جب میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ تم آزھاد سے نہیں ملو گی تو تم نے اس کو وہاں پر کیوں بلایا”
نوین حنین کے کمرے میں آکر سخت لہجے میں اس سے پوچھنے لگی
“آپی میرا موبائل آپ ہی کے پاس ہے آپ چیک کر سکتی ہیں کہ اس میں آزھاد کا نمبر کہیں سیف نہیں ہے، میرا اس سے کوئی کونٹیکٹ نہیں ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ وہ وہاں پر کیسے موجود تھا”
حنین کو اپنی صفائی دیتے ہوئے غصہ آنے لگا
“اسے کوئی آلہام ہوتا ہے یا پھر کوئی خواب آتا ہے کہ تم وہاں پر موجود ہوتی ہو، ہنی وہ میرے منہ پر اپنے آپکو تمہارا بوائے فرینڈ بول چکا ہے۔۔۔ مزنہ کے سامنے اس نے یہ بات کی ہے اس لئے مجھے بے وقوف بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ خود کو بیوقوف بنانے کی ضرورت ہے۔۔۔ اگر وہ تمہاری آگے پیچھے گھوم رہا ہے تو وہ تم سے ٹائم پاس کر رہا ہے تم اس کو ہرگز سیریس مت لو۔۔۔ یہ جو امیر زادے ہوتے ہیں نا یہ ان کے وقتی شوق ہوتے ہیں، وہ ویسے بھی مجھ سے خار کھاتا ہے تمہیں صرف اور صرف استعمال کر رہا ہے۔۔ تم سمجھو اس بات کو”
نوین نے غصے میں حنین کو اپنی طرف سے سمجھانے کی کوشش کی
تو حنین بیڈ سے اٹھ کر نوین کے سامنے آئی
“میرا آزھاد سے کوئی افیئر نہیں ہے آپی یہ میں آپ کو بتا چکی ہوں مگر اب میں بار بار آپ کو اپنے کردار کی وضاحت نہیں دو گی۔۔۔ آپ کو جو سمجھنا ہے، جو میرے بارے میں سوچنا ہے سوچیں کیونکہ میں آپ کو کچھ بھی سوچنے سے نہیں روک سکتی،، ویسے بھی جو انسان جیسا ہوتا ہے وہ دوسرے کو بھی ویسا ہی سمجھتا ہے”
حنین اپنی بات کر کے مڑنے لگی تب نوین نے اس کا بازو سختی سے پکڑا
“تم مجھے کیا سمجھتی ہو ہنی یہ بتاؤ آج مجھے، ایک لڑکا جس کا کل تک کچھ اتا پتہ نہیں تھا وہ تمہاری زندگی میں آتا ہے اور تمہاری بہن کو کرکٹر لیس کہتا ہے تم اس کی بات پر بیلیو کر لیتی ہو۔۔۔ تمہیں اپنی بہن پر اعتبار نہیں ہے جس نے تمہیں پالا بڑا کیا وہ بدکردار لگ رہی ہے اور اس آزھاد کی بات تمہیں سچ لگ رہی ہے”
نوین دکھی لہجہ اختیار کرتی ہوئی بولی
“تو پھر آپ صاف صاف کہہ کیوں نہیں دیتی کہ آپ کا آزھاد کہ فادر سے کوئی ریلیشن نہیں” حنین الجھتی ہوئی نوین کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“جیسے تم مجھے اپنے کردار کی وضاحت نہیں دو گی ایسے ہی میں تمہیں یا پھر کسی دوسرے کو بھی اپنے کردار کی وضاحت نہیں دو گی ہنی۔۔۔ آزھاد کے فادر سے میرا ناجائز رشتہ نہیں ہے شاہنواز سے میرا جائز تعلق ہے نکاح کیا ہے انہوں نے مجھ سے”
نوین نے جیسے حنین کے اوپر دھماکا کیا یہ خبر دھماکے سے کم نہیں تھی حنین حیرت سے اپنی پوری آنکھیں کھولے نوین کو دیکھ رہی تھی جبکہ نوین اس کو حیرت زدہ چھوڑ کر کمرے سے چلے گئی
****
“شاہنواز آج آپ آئے کیوں نہیں، میں نے آپ کا ویٹ کیا”
نوین اپنے کمرے میں آکر شاہنواز کو کال کرکے شکوہ کرنے لگی
“آفس سے تھوڑی دیر پہلے ہی نکلنا ہوا ہے نوین، تم بھی موجود نہیں تھی آزھاد بھی سات بجے اٹھ گیا تھا”
شاہنواز نوین کو بتانے لگا
“آپ نے منع کیا ہے مجھے افس آنے سے ورنہ صحیح تو یہ ہے مجھے گھر میں بیٹھنا پسند نہیں۔۔۔ اب آپ کو یقیناً پروبلم ہورہی ہوگی اکیلے”
وہ شاہنواز کے احساس سے بولی
“اب تم اس کنڈیشن میں آفس آؤں گی تمہیں ریسٹ کی ضرورت ہے نوین۔ ۔۔ ریسٹ زیادہ ضروری ہے ہمارے بچے کے لیے”
شاہنواز نوین کو سمجھانے لگا
“شاہنواز میں نے ہنی کو ہمارے نکاح کے بارے میں بتا دیا مجھے ایسا کرنا پڑا کیوکہ آزھاد نے اس کو نہ جانے کیا کیا بول دیا ہے، میں اپنی بہن کی آنکھوں میں اپنے لیے مزید بدگمانی نہیں دیکھ سکتی۔۔۔ شاہنواز آپ پلیز کچھ کریں میں بہت پریشان ہوں”
نوین بیچارگی سے بولی تو شاہنواز نے گہرا سانس کھینچا
“نوین میں نے سوچ لیا ہے کہ اب وجیہہ کو حقیقت بنانے کا وقت آگیا ہے میں تمہارے اور اپنے نکاح کے بارے میں اسے بتا دوں گا۔۔۔ اسے دکھ ہوگا وہ ناراض ہوگی مگر وہ اس حقیقت کو قبول بھی کرلے گی تمہیں جلد از جلد اس گھر میں لے آؤں گا مگر پلیز تم ٹینشن مت لو” شاہنواز نوین کو سمجھاتا ہوا بولا
“اور آزھاد۔۔۔ وہ کیا ری ایکٹ کرے گا اس خبر پر،،، کیا وہ مجھے اس گھر میں آپ کے ساتھ برداشت کرے گا”
نوین نے کنفیوز ہوتے ہوئے شانواز سے سوال کیا
“یقیناً ہم دونوں کے رشتے کے متعلق جاننے کے بعد وہ غصہ کرے گا مگر کبھی نہ کبھی تو اسے بھی یہ حقیقت معلوم ہونی ہے۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا تم اس کی فکر نہیں کرو۔۔۔ یہ گھر جتنا آزھاد کا ہے اتنا ہی میرا بھی ہے اس لیے تمہیں یہاں لانے سے کوئی اعتراض نہیں کرسکتا”
شانواز نوین کو سمجھانے لگا جیسے سب کچھ بہت آسان ہو
“شاہنواز اور ہنی کے بارے میں آپ نے کیا سوچا ہے مجھے اپنی بہن کے لیے آزھاد کی طرف سے دھڑکا لگا رہتا ہے وہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچا دے”
نوین اب اصل پریشانی شیئر کرنے لگی
“تم حنین کی فکر مت کرو اسے فوری طور پر چند دنوں میں پنڈی اپنے ماموں کے پاس بھیج دو، جب تم یہاں میرے پاس آ جاؤ گی میری بیوی کی حیثیت سے،، اور چند ماہ بعد جب آزھاد کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا تب حنین کو واپس بلا لیں گے یا پھر جیسی بھی صورتحال ہوگی اس کے متعلق دیکھ لیں گے کہ کیا کرنا ہے” شاہنواز خود بھی ریلیکس انداز میں نوین کو ریلیکس کرتا ہوا بولا۔۔۔ جب ویئل چیئر پر روم میں وجیہہ کی آمد ہوئی تو شاہنواز فون بند کر چکا تھا
____________
“میری چھوٹی سی بہن مجھ سے ابھی بھی ناراض ہے کیا”
حنین اپنے روم میں بیٹھی ہوئی ایل۔ای۔ڈی پر کوئی مووی دیکھ رہی تھی تب نوین اس کے پاس آکر بولی
آج وہ دونوں بہنیں ہی گھر پر موجود تھی نوین نے شاہنواز کے کہنے پر آفس سے جاب چھوڑ دی تھی اور آج اس نے حنین کو بھی کالج نہیں جانے دیا تھا۔۔۔ حنین کا موبائل بھی ابھی تک نوین کے پاس ہی موجود تھا جو حنین نے اس نے مانگا بھی نہیں تھا
“آپ میری بہن ہے اگر کچھ برا بھی کریں گیں تو بھی میں آپ سے کب تک ناراض رہ سکتی ہو۔۔۔ میں آپ سے ناراض نہیں ہوں آپی مگر جو قدم آپ نے اٹھایا ہے آپ کو نہیں لگتا کہ وہ کتنا غیر مناسب ہے”
حنین ریموٹ سے پاور اف کا بٹن پریس کرتی ہوئی نوین کو دیکھ کر بولی
“میں عقل اور شعور رکھنے والی ایک بالغ لڑکی ہوں۔۔۔ نکاح میرا شرعی حق ہے ایسا کیا غیر مناسب فعل کیا ہے میں نے” نوین حیرت سے حنین کو دیکھتی ہوئے پوچھنے لگی
“آپی نکاح کرنا آپ کا حق ہے مگر کسی دوسری عورت کے حق پر ڈاکہ ڈالنا یہ مناسب ہے کیا۔۔۔ آپ کے باس، جن سے آپ نے نکاح کیا ہے ان کا ایک جوان بیٹا ہے آپ کی عمر کا۔۔۔ آپی آپ۔۔۔۔ آخر کیا سوچ کر آپ نے یہ قدم اٹھایا”
حنین ایک دم ہراساں ہوکر بولی
“دیکھو ہنی ابھی تم کم عمر ہو، کیا صحیح ہے کیا غلط ہے تم نہیں سوچ سکتی آج کل کے دور میں پیسہ بہت ویلیو رکھتا ہے جس کے پاس پیسہ نہیں سمجھو اس کی کوئی عزت نہیں اب تم میری باتوں سے یہ مت سمجھ بیٹھنا کہ شاہنواز سے میں نے پیسوں کی لالچ میں شادی کی ہے پہل شاہنواز نے کی۔۔۔ انہوں نے مجھے پسند کیا ایک شریف انسان کی طرح نکاح کی آفر کی، جسے میں نے سوچنے سمجھنے کے بعد ایکسپٹ کرلی۔۔۔ ان کی شرافت، مخلص طبیعت، انکی نظروں میں اپنے لئے احترام دیکھتے ہوئے اور یہ بھی سچ ہے ان سب چیزوں کے ساتھ وہ ایک اسٹیبلش بزنس مین ہیں۔۔۔ آج کل کے دور میں آسائشات کی کس کو ضرورت نہیں ہوتی ان سب چیزوں کے آگے اگر انکی ایج زیادہ ہے تو یہ سب چیزیں مل کر اس خامی پر پردہ ڈال دیتی ہیں اور رہی ان کی وائف کی بات تو میں کبھی بھی ایک ٹیپیکل سوتن بنکر جاہلوں والا بی ہیو نہیں کرسکتی وجیہہ کے ساتھ”
نوین بہت تحمل سے حنین کو اپنا نظریہ بتاتے ہوئے اس کا برین واش کرنے لگی
“یہ سب آپ کی سوچ ہے ہم دونوں بہنیں ہیں مگر ہماری سوچے ایک دوسرے سے ملتی ہوں ایسا ضروری نہیں، مجھے آزھاد کی مدر سے ہمدردی ہے خیر مجھے لگتا ہے آزھاد کو آپ کے نکاح کے بارے میں نہیں معلوم وہ اپنی مدر سے بےحد ٹچی ہے مجھے اس کی باتوں سے اندازہ ہوا ہے۔۔۔ وہ طوفان کھڑا کر دے گا آپی”
چند ملاقاتوں میں حنین اتنا تو آزھاد کو جان چکی تھی تبھی نوین کو آگاہ کرنے لگی ق
“کچھ نہیں کر سکتا وہ صرف بے بسی سے تماشہ دیکھنے کے علاوہ بشرطیکہ تم میرے ساتھ دو۔۔۔ ہنی دیکھو میں تمہاری بہن ہو مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ مجھے تم سے کتنا پیار ہے،، دو سے تین دن بعد تم پنڈی فاروق ماموں کی طرف جارہی ہو مگر اس بات کی کانوں کان کسی کو خبر نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ میں نہیں چاہتی آزھاد کو کسی طرح تمہارے بارے میں معلوم ہو،، میں اس گھر میں پہنچ جاؤں سب کچھ معمول پر آجائے پھر چند دنوں بعد میں تمہیں واپس بلا لو گی۔۔۔ میرا ساتھ دو ہنی میں تم سے تمہارا ساتھ اپنا گھر بسانے کے لیے نہیں مانگ رہی بلکہ تمہیں اس آزھاد سے بچانے کے لیے ایسا کر رہی ہو،، پرامس کرو تم پنڈی جاؤ گی بغیر کسی کو کچھ بولے”
نوین بچوں کی طرح اسے بہلا کر کہنے لگی تو حنین نے اپنا سر اقرار میں ہلایا اور نوین کے بڑھے ہوئے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا نوین نے خوش ہو کر حنین کو گلے لگایا
“آپی کیا آپ اس دن واقعی ابارشن؟؟ میرا مطلب ہے”
کسی خیال کے تحت حنین جھجھکتے ہوئے نوین سے پوچھا
“ایسا کچھ نہیں ہے ایم ایکسپیکٹڈ”
بہت سوچ سمجھ کر نوین نے اسے جواب دیا تو حنین حیرت سے نوین کو دیکھنے لگی، نوین اسے دیکھ کر مسکرا دی
****
“وجیہہ مجھے آپ سے ضروری بات کرنا ہے بلکہ کچھ بتانا ہے آپ کو”
وجیہہ جو کہ رات کے وقت اپنے بیڈ پر لیٹنے کی کوشش کر رہی تھی شاہنواز اس کو سہارا دے کر خود بیڈ پر بٹھانے میں مدد کرنے لگا
“ابھی بھی کچھ بتانے کے لئے باقی ہے”
وجیہہ شاہنواز کو دیکھ کر پوچھنے لگی اس دن کے بعد سے ان دونوں میں بات چیت تقریباً بند تھی۔۔۔ شاہنواز اگرچہ خود سے بات کرتا تو وجیہہ اسے ہاں یا نہیں میں مختصر سا جواب دے دیتی
“جی ابھی بھی بتانے کے لئے بہت کچھ بچا ہے اور وہ سب آپ کے لیے جاننا ضروری ہے” شاہنواز خود بھی بیڈ پر بیٹھتا ہوا وجیہہ سے بولا
“ڈیڑھ سال پہلے نوین میرے پاس جاب کرنے کے لیے آئی تھی تب مجھے محسوس ہوا کہ وہ اسے جاب کی ضرورت ہے مگر جاب میں نے نوین کو اس کی ضرورت کی وجہ سے نہیں دی تھی اس کی قابلیت اور کانفیڈنس کو دیکھ کر دی تھی، بعد میں بھی وہ اپنے کام میں رسپانسبل پرسن ثابت ہوئی”
شاہنواز وجیہہ سے اپنی بات کا آغاز کر چکا تھا وجیہہ غور سے شاہنواز کو دیکھتی ہوئی اس کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔ تھوڑی دیر رکنے کے بعد وہ دوبارہ بولا
“وجیہہ آپ نے میرے ساتھ 27 سال کا عرصہ گزارا ہے اس میں آپ کو یہ تو اندازہ ہوگیا ہوگا میں کوئی دل پھینک یا نظر باز قسم کا مرد نہیں ہوں بے شک آپ سے شادی میں نے اپنی مرضی سے کی،، میں کبھی آپ کے علاوہ کسی دوسرے کا خیال اپنے دل میں نہیں لایا مگر نوین کے جاب کرنے کے بعد معلوم ہی نہیں میرا دل کب بدلنے لگا۔۔۔ نہ چاہنے کے باوجود میں نوین کو چاہنے لگا اس کے بارے میں سوچنے لگا وہ مجھے اچھی لگنے لگی۔۔۔ ایک سال پہلے میں اس سے نکاح کر چکا ہوں نوین بیوی ہے میری”
کتنے آرام سے وہ اپنی دوسری شادی کا بتا کر وجیہہ کے جسم سے روح کھینچ رہا تھا وجیہہ سے کچھ بولا نہیں گیا وہ خاموشی سے نم آنکھوں کے ساتھ شاہنواز کو دیکھتی رہی
“وجیہہ آئی ایم سوری مجھے معلوم ہے میں نے آپ کا دل دکھایا مگر میں اس وقت اپنے دل کا کیا کرتا،، خود کو گناہ کرنے سے روکا تو نوین سے جائز بندھن باندھ لیا۔۔۔ ایسا نہیں ہے کہ میرے دل میں آپ کی محبت ختم ہو گئی ہے میرے دل میں آپ کی محبت کا آج بھی قائم ہے مگر اب آپ کے ساتھ دل کے آدھے حصے میں نوین بھی بستی ہے۔۔۔ آج یہ ساری بات میں آپ سے اس لیے شیئر کر رہا ہوں۔۔۔”
شاہنواز کے جملے سے وجیہہ کی آنکھوں سے آنسو، لڑی کی صورت گالوں پر آئے
“نوین کو اور میرے آنے والے بچے کو میری ضرورت ہے میں اسے یہاں لانا چاہتا ہوں۔۔۔ مگر آپ کی آمادگی سے” شاہنواز وجیہہ کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا وجیہہ دونوں ہاتھوں سے اپنے گال پر سے آنسو صاف کرکے مسکرائی
“جب تم نکاح مجھے بغیر بتائے کرچکے ہو تو اسے یہاں لانے کے لئے اجازت کیسی۔۔۔ یہ جتنا میرا گھر اتنا تمہارا بھی ہے اور مرد تو ویسے بھی خود اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں”
وجیہہ بیڈ پر لیٹتی ہوئی کہنے لگی
“وجیہہ آپ مجھ سے پلیز ناراض مت ہو اس طرح مجھے اچھا نہیں لگے گا” شاہنواز وجیہہ کا ہاتھ تھام کر شرمندہ لہجے میں بولا
“بہت کچھ ہمیں اچھا نہیں لگتا مگر ہمیں برداشت کرنا پڑتا ہے جیسے میں کر رہی ہوں ویسے ہی تم بھی کرلو۔۔۔ روم کی لائٹ بند کردو شاہنواز میں سونا چاہتی ہوں” وجیہہ اپنا ہاتھ کھینچتی ہوئی دوسری طرف کروٹ لے کر لیٹ گئی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *