Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17

“تم اپنی بہن کو طلاق دلوانے کی بات کر رہی ہوں ابھی تو نیا ریلیشن قائم ہوا ہے۔۔۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے آگے جاکے ان دونوں میں اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہو جائے۔۔۔ مجھے معلوم ہے زبردستی کے رشتے کمزور ہوتے ہیں،،، لیکن ابھی تو ان کے رشتے کو بنے ہوئے صرف چوبیس گھنٹے ہی گزرے ہیں۔۔۔ میں یہ نہیں کہتی کہ دنیا کیا کہے گی کل شادی آج طلاق، ،، یا پھر پوری دنیا کو آزھاد اور حنین کے رشتے کا معلوم ہوگیا تو اب ان کو سمجھوتہ ہی کرنا پڑے گا۔۔۔ لیکن جبکہ اب ان دونوں کا آپس میں نکاح ہو چکا ہے تو شاید ان دونوں کو ہی اس رشتے کو سمجھنے میں ٹائم دینا چاہیے”
وجیہہ بہت سنجیدگی سے نوین کو اپنی بات سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی نوین اسکی بات سن کر زبردستی کا مسکرائی
“یہ بات بھی آپ کی ٹھیک ہے آپ کو زیادہ تجربہ ہے،، شادی شدہ ہیں آپ ایکسپیرینس ہے مگر وجیہہ ایک بہن ہونے کے ناطے میں اتنا چاہتی ہوں کہ میری بہن اپنی ساری زندگی سمجھوتہ کرتے ہوئے نہیں گزارے میں چاہوں گی، آزھاد اور حنین پہلے ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھ لیں ایک دوسرے کے مزاج کو جان لیں ایک دوسرے کی نیچر سے واقف ہو جائیں تب ہی وہ آگے زندگی گزار سکتے ہیں۔۔۔ میرا کہنے کا مطلب ہے ابھی وقتی طور پر اگر آپ ان کے بیڈرومز الگ کروا دیں۔۔۔کیوکہ ہنی بالکل مینٹلی طور پر تیار نہیں ہے۔۔۔ آپ میرا مطلب سمجھ رہی ہیں نا۔۔۔ وجیہہ ہنی کل رات سے بہت ڈر گئی ہے”
نوین کی بات سن کر وجیہہ عجیب کشمکش میں پڑ گئی کیونکہ صبح اسے حنین ڈری ہوئی تو نہیں البتہ تھوڑی نروس ضرور لگی تھی
“ٹھیک ہے میں آزھاد سے بات کرتی ہوں اس نے اگر حنین سے کسی انتقام کے لئے یہ رشتہ جوڑا ہے تو پھر ایسے رشتے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔ لیکن اگر آزھاد حنین سے فیئر رہ کر رشتہ قائم رکھنا چاہتا ہے تو تم حنین کو بھی تھوڑا بہت سمجھاو۔۔۔ میرے خیال میں بیڈرومز الگ کرنے کی ضروت نہیں پڑے گی پھر”
وجیہہ کی بات سن کر نوین خاموش ہوگئی
“جیسا آپ مناسب سمجھیں مگر آپ آج ہی آزھاد سے بات کرئیے گا اس کے متعلق”
نوین مسکراتی ہوئی وجیہہ سے بولی
****
عباس تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے گھر آیا تھا اس نے وجیہہ کو گھر کے لان میں بیٹھا دیکھ کر اس کے پاس جانے کا ارادہ کیا مگر پھر دور سے ہی اس نے نوین کو آتا دیکھا تو وجیہہ کے پاس جانے کا اپنا ارادہ ترک کر دیا اور رات کے لیے ڈنر بنانے کچن میں آگیا
چند منٹ گزرے تو اسے لیونگ روم میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا کچن سے جھانک کر دیکھنے پر اسے کومل صوفے پر بیٹھی ہوئی نظر آئی جو اس کے موبائل سے اپنی سیلفیاں لینے میں مصروف تھی۔۔ عباس سارا کام نبھٹا کر کچن سے نکلا
“عباس تمہیں معلوم ہے کومی کے گھر میں ایک آنٹی اور ایک ٹوائے آیا ہے”
عباس کو کچن سے برآمد ہوتا دیکھ کر کومل نے خوشی خوشی اسے خبر سنائی
“ٹوائے”
عباس نے کنفیوز نظروں سے کومل کو دیکھا
“پہلے کومی اسے پری سمجھی، مگر پھر معلوم ہوا وہ تو ایک ٹوائے ہے پیارا سا، جو بھائی اپنے لیے لائے ہیں”
کومل خوش ہوتی ہوئی عباس کو بتانے لگی اور عباس اسے گھور کر دیکھنے لگا
“ایسے نہیں کہتے کومی بےبی، وہ ٹوائے نہیں تمہارے بھائی کی وائف ہے” عباس نے سوچا اس نے اپنے دماغ کے مطابق کچھ سمجھ کر اس طرح بولا ہوگا تبھی وہ کومل کو سمجھاتا ہوا صوفے پر اس کے پاس بیٹھا
“وائف۔۔۔ وہ کیا ہوتی ہے”
اب کومل کنفیوز ہو کر عباس سے پوچھنے لگی۔۔۔ عباس سوچنے لگا اسے کیا بتائے پھر بولا
“جیسے ڈیڈ ہوتے ہیں، مما ہوتی ہیں، بھائی ہوتا ہے۔۔ ایسے ہی وائف بھی ہوتی ہے جو پہلے سے ہمارے گھر میں موجود نہیں ہوتی ہے بلکہ ہمہیں خود وائف کو لانا پڑتا ہے۔۔۔ اب تم خاموش ہو کر بیٹھو میں کافی لے کر آتا ہوں”
عباس کومل سے کہتا ہوا اٹھا
“کومی کو بھی اپنی وائف چاہیے”
عباس دو مگ میں کافی لے کر آیا تو کومل نے نرالی سی فرمائش کی جس پر وہ ہنسنے لگا
“وائف صرف بوائس لے کر آتے ہیں، گرلز نہیں اور کومی تو ویسے بھی ایک چھوٹا سا بےبی ہے۔۔۔ اب موبائل ٹیبل پر رکھو اور خاموشی سے کافی پیو”
عباس خود بھی کافی پینے لگا
“تو پھر بھائی کی طرح تم بھی وائف لے کر آؤ گے اپنے لئے”
کومل آنکھیں گھما کر سوچتی ہوئی پھر عباس کو دیکھ کر پوچھنے لگی عباس نے کافی کا سپ لے کر کومل کو دیکھا
“ہاں۔۔۔ مگر اتنی جلدی نہیں،، خاموشی سے کافی پیو اب”
عباس اسے مختصر سا جواب دے کر دوبارہ کافی پینے لگا
“تم پلاو ناں اپنے ہاتھوں سے”
کومل بچوں کی طرح فرمائش کرنے لگی تو عباس کو اپنا مگ رکھ کر دوسرے مگ سے کومل کو کافی پلانے لگا
“عباس تم وائف کب لاوگے”
کومل کا دماغ شاید اسی بات پر اٹک گیا تھا تب ہی وہ اس سے دوبارہ پوچھنے لگی
“بولا تو ہے اتنی جلدی نہیں۔۔۔ ابھی وائف کے بارے میں سوچا ہی نہیں میں نے”
عباس نے اسے جواب دینے کے ساتھ ٹشو بوکس سے ٹشو نکال کر کافی سے بنے جھانک سے کومل کی مونچھے۔۔۔ ٹشو کی مدد سے صاف کرنے لگا اب وہ اپنی کافی پی رہا تھا اور کومل ایک بار پھر سوچوں میں گم تھی
“اب کیا سوچ رہی ہو کومی بےبی” عباس اسے سوچوں میں گم دیکھ کر کافی کا گھونٹ بھرنے لگا
“ایسا کرو تم کومی بےبی کو اپنی وائف بنا لو جب تم
کومی بےبی کے ساتھ کھیلو گے، اپنا دل بہلاؤ گے اس کے ساتھ انجوائے کرو گے تو کومی بےبی کو بہت اچھا لگے گا”
کومل کی بات سن کر عباس کے منہ میں موجود کافی کلی کی صورت باہر نکلی اب وہ کومل کو حیرت سے دیکھ رہا تھا
****
دوپہر میں نوین حنین کے کپڑے اپنے فلیٹ سے لے کر آگئی۔،۔۔ اس وقت حنین جینز کے اوپر زپر شرٹ میں مبلوس آئینے کے آگے کھڑی اپنے بالوں کو بینڈ کی مدد سے قید کرنے میں مصروف تھی جب آزھاد آفس سے اپنے کمرے میں آیا اس کے ہاتھ میں ایک شاپر موجود تھا حنین نے پلٹ کر اسے دیکھا
“اچھا لگ رہا ہے آج آفس سے آنے کے بعد تمہیں یوں اپنے روم میں دیکھ کر”
وہ چلتا ہوا حنین کے قریب آیا اور بینڈ سے اس کے بال دوبارہ آزاد کیے
“یہ کیا ہے”
حنین اس کی بات کو نظرانداز کرکے آزھاد کے ہاتھ میں موجود شاپر کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“گفٹ۔۔۔ تمہارے لئے” آزھاد نے شاپر میں موجود پیکٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔ تو حنین اسے دیکھنے لگی شاید وہ صبح اپنے بولے گئے لفظوں کا مداوا اس انداز میں کرنا چاہتا تھا جس سے حنین کا دل دکھا تھا
“اوپن اٹ”
آزھاد کے بولنے پر حنین نے پیکٹ کھولا اندر
ڈیپ ریٹ کلر کا بہت خوبصورت سا ڈریس موجود تھا
“بیوٹیفل”
حنین ستائشی نظروں سے ڈریس کو دیکھتی ہوئی بولی
“ویری بیوٹی فل”
آزھاد نے حنین کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا حنین نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ آزھاد نے حنین کو دیکھتے ہوئے وہ ڈریس اس کے ہاتھ سے کھینچ کر صوفے پر اچھالا اور ایک لمحہ لگا تھا اسے انسان سے شیطان بننے میں یعنیٰ حنین کے زپر کی زپ کھولنے میں
حنین اس کی حرکت پر حق دق رہ گئی اس نے سر جھکا کر اپنے زپر کی زپ دیکھی جو کہ سینے تک کھلی ہوئی تھی۔۔ فوراً اس نے ایک ہاتھ کی مٹھی سے اپنے گریبان کو دبوچ اور غصے سے آزھاد کو دیکھا جو آنکھوں میں شرارت لیے بھرپور نظارہ کرنے کے بعد اب حنین کے فیس ایکسپریشن دیکھ کر بے شرموں کی طرح اسمائل دے رہا تھا
“یو”
حنین نے ایک ہاتھ سے اپنا گریبان پکڑے مگر دوسرے ہاتھ کا مُکا بناکر آزھاد کو پنچ مارنا چاہا
آزھاد جوکہ اس کے ہر ری ایکشن کے لیے مکمل تیار تھا اس لیے اس نے حنین کی مٹھی کو اپنے ایک ہاتھ سے قابو کر کے، اپنے دوسرے ہاتھ سے حنین کا کندھا پکڑ کر جھٹکے سے اسے گھمایا۔۔۔۔ جس سے حنین کی پشت آزھاد کے سینے سے جا لگی ساتھ ہی آزھاد نے اس کی دونوں کلائیاں پکڑی۔۔۔ حنین اب مکمل اس کی گرفت میں موجود تھی
“یور اِنر بیوٹی از ڈیم ہاٹ ڈارلنگ”
وہ جھک کر حنین کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا بولا
“آزھاد چھوڑو مجھے”
آزھاد کے تعریفی کلمات سن کر وہ شرم سے لال ہوئی تھی مگر اب آزھاد کے ہونٹ حنین کے کان کی لو کو چھو رہے تھے تو حنین مزید گھبرا گئی
آزھاد نے حنین کی کلائی چھوڑی اس سے پہلے وہ دور ہوتی آزھاد نے اسے گود میں اٹھا لیا اور بیڈ کی طرف رخ کرنے لگا
“آآآآ”
آرام سے لٹانے کے بجائے آزھاد نے اسے نرم سے میٹرس پر پھینکا تو حنین چیخی، ساتھ ہی دوبارہ اپنا گریبان مٹھی میں پکڑ لیا کیوکہ زپ بند کرنے کی نوبت آنے سے پہلے حنین کا نازک وجود آزھاد کی نیچے دب چکا تھا
“شیم ان یو۔۔۔ اتنے بڑے گھوڑے ہو کر تمہیں مینرز چھو کر نہیں گزرے کہ لڑکی کو کیسے ٹریٹ کیا جاتا ہے”
وہ اپنی کنڈیشن سے بھی شرمسار تھی مگر اس نے آزھاد کو بھی شرم دلانا ضروری سمجھا
“میں صرف گھوڑا نہیں ہوں ایک بے لگام گھوڑا ہو”
آزھاد اسے خود اپنی تعریف بتاتا ہوا حنین کا ہاتھ اس کے گریبان سے ہٹا کر اپنے قابو میں کر چکا تھا
“آزھاد نہیں پلیز پیچھے ہٹو”
حنین اس کو اپنے اوپر جھکا ہوا دیکھ کر گھبراتی ہوئی بولی کیوکہ وہ اب واقعی بے لگام ہو چکا تھا
“آزھاد پلیز، تم واقعی پورے جنگلی ہو”
حنین اس سے اپنے کلائیاں چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی
“ابھی سے ڈر گئی ہنی ڈیئر یہ تو ابتدائی مراحل ہیں”
آزھاد اس کی ذات پر رحم کھا کر اپنے ہونٹ اس کی شہ رگ سے ہٹاتا ہوا بولا ورنہ اس نے ڈریکولا بننے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی
“اگر تم نے دوبارہ کوئی چھچھوری حرکت شروع کی نہ میں شور مچا دو گی اب کی بار”
حنین کو نوین کی دوپہر والی بات یاد آئی تو وہ اسے دھمکی دیتی ہوئی بولی
“گڈ آئیڈیا۔۔۔ زور زور سے چیخو تاکہ تمہاری آواز باہر تک جائے اور تمہاری آپی تمہارے لُٹنے کے غم میں آج ہی اس دنیا سے چل بسے”
بولنے کے ساتھ ہی آزھاد نے حنین کی کمر سے ذرا نیچے زوردار قسم کی چٹکی بھری جس پر حنین چاہ کر بھی زور سے چیخ نہیں پائی
“شرم اور مینرز تمہیں چھو کر بھی نہیں گزرے ہیں ترس بھی نہیں آرہا تمہیں میرے اوپر” حنین نے اپنے نازک ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اسے پیچھے ہٹانا چاہا
“تم پر ترس کھانے کی صورت میں، تو میں شادی شدہ ہوکر بھی کنورا رہ جاؤ گا۔۔۔ ڈارلنگ خود سوچو اگر میں تم پر ترس ہی کھاتا رہا تو پیار کب کروں گا اور تم اسطرح ڈرو نہیں یار۔۔۔ میرے پیار کرنے کا یہی انداز ہے تھوڑا ہٹ کر تھوڑا مختلف تھوڑا انوکھا عادی ہوجاؤ گی جلد ہی”
اب وہ حنین کے ہونٹوں پر جھکا اور ہٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔ اپنے سینے پر حنین کے دس سے بارہ مُکے کھانے کے بعد وہ پیچھے ہٹا
جب دروازے پر دستک ہوئی آزھاد نے اٹھتے ہوئے دروازہ کولا۔۔۔ واپس آیا تو حنین ابھی بھی بیڈ پر لیٹی ہوئی اپنے سانسوں کی روانی کو نارمل کر رہی تھی
“ابھی تو ایسا کچھ کیا ہی نہیں جو تمہاری یہ حالت ہوگئی ہے چلو اٹھو۔۔۔ مما نے ہم دونوں کو اپنے کمرے میں بلوایا ہے”
آزھاد بولنے کے بعد اب خود حنین کو بیڈ سے اٹھا رہا تھا
****
“آپ نے بلایا تھا مما”
آزھاد اور حنین کمرے میں داخل ہوئے تو شاہنواز اور نوین پہلے سے صوفے پر موجود تھے
“ہاں بیٹھو”
وجیہہ کے بولنے پر آزھاد اعتراض بھری نگاہ نوین پر ڈال کر صوفے پر بیٹھا
“حنین تم یہاں آجاؤ میرے پاس”
حنین سوچ میں تھی وہ نوین کے پاس جا کر بیٹھے یا پھر آزھاد کے پاس مگر اس کی مشکل وجیہہ نے اپنے پاس بلا کر آسان کردی۔۔۔ وہ خاموشی سے بنا آزھاد یا نوین پر نظر ڈالی وجیہہ کے پاس آکر بیڈ پر بیٹھ گئی
“آزھاد مجھے تم سے پوچھنا تھا کہ تم نے حنین سے زبردستی نکاح کیا تھا”
وجیہہ آزھاد کو دیکھتی ہوئی تحمل سے اس سے سوال کرنے لگی
“نکاح تو ہوچکا ہے ناں مما تو اب اس سوال کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی ہے”
آزھاد نے تھوڑا چِڑ کر جواب دیا اسے اندازہ ہوگیا۔۔۔ اس وقت کمرے میں اس کے خلاف عدالت لگائی گئی تھی اور یہ کام وجیہہ نوین یا شاہنواز کے کہنے پر ہی کر رہی تھی
“چلو پھر تُک والے سوال کا جواب دو۔۔۔ تم نے حنین سے نکاح کیوں کیا”
وجیہہ دوبارہ آزھاد کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“اس کا جواب تو آپ اس کی بہن سے پوچھ لیں وہ زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتی ہے کہ میں نے اسکی بہن سے نکاح کیوں کیا”
حنین سے اپنی پسندیدگی کے بارے میں بتا کر وہ نوین کو کوئی خوشی نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔ اس لیے اصل بات دباتا ہوا بولا۔۔۔ آزھاد کی بات سن کر جہاں نوین نے سلگتے ہوئے اسے دیکھا وہی حنین بھی خاموشی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی
“اگر ایسی بات ہے تو ابھی اور اسی وقت اس رشتے کو ختم کرو آزھاد۔۔۔ طلاق دو حنین کو”
اب کی بار شاہنواز بولا کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی
“پہلے آپ دیں اس عورت کو طلاق”
آزھاد غصے میں نوین کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا
“تم مجھ سے اپنا مقابلہ کرو گے،،، ضد لگاؤ گے اپنے باپ سے”
شاہنواز گھورتا ہوا آزھاد کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“ضد میں نہیں ضد آپ سب لگا رہے ہیں، یہ طلاق شوشا آپ لوگوں نے چھوڑا ہے” آزھاد صوفے سے اٹھتا ہوا بولا کیوکہ اب اسے وہاں پر بیٹھنا ہی فضول لگا
“شاہنواز مجھے کیوں طلاق دیں گے جبکہ میں ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔۔۔ ذرا تم اپنی بیوی سے پوچھو وہ تمہارے ساتھ رہنا بھی چاہتی ہے۔۔۔ بولو ہنی آزھاد کو حقیقت بتاؤ”
نوین نے آزھاد سے بولنے کے بعد حنین کو مخاطب کیا۔۔۔ حنین نے ایک نظر نوین کو اور پھر آزھاد کو دیکھا
“اس کے پوچھنے یا نہ پوچھنے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ اگر وہ طلاق چاہے گی تب بھی میں اسے طلاق نہیں دینے والا”
آزھاد نے ایک نظر حنین کے سہمے ہوئے چہرے کو دیکھ کر نوین کو جتایا تھا اور کمرے سے جانے لگا
“چلو تم طلاق نہیں دو گے مگر خلع سے بھی کام لیا جا سکتا ہے”
نوین کی آواز پر آزھاد کے قدم رکھے وہ مڑا اور چلتا ہوا نوین کے پاس آیا کمرے میں موجود سب ان دونوں کو ہی دیکھ رہے تھے
“تم یہ بھی کر کے دیکھ لو اگر تم نے ایسا کوئی بھی قدم اٹھایا تو تم خود اپنی بہن کی موت کی ذمہ دار ہوگی،، اگر یہ میرے نکاح میں نہیں رہی تو دنیا میں بھی نہیں رہے گی۔۔۔ مار ڈالو گا میں اسے”
وہ بہت نارمل انداز میں نوین کو بول رہا تھا جیسے یہ کوئی بہت عام بات ہو،، نوین کچھ بولنے کے لئے منہ کھولا مگر آزھاد نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا
“تم نے پچھلی بار بھی میری وارننگ کو سیریس نہیں لیا تھا اب کی بار بھی اپنی مرضی کر کے دیکھ لینا اور پھر زندگی بھر اپنی بہن کو یاد کرکے روتے رہنا”
نوین اپنے سامنے کھڑے آزھاد کو غصے میں آگ بگولہ ہوتی دیکھنے لگی شاہنواز اور وجیہہ بھی شاک کی کیفیت میں آزھاد کی بات سن رہے تھے
“آٹھو، روم میں چلو”
آزھاد نے مڑ کر بیڈ پر بیٹھی ہوئی حنین کے پریشان چہرے پر نظر ڈال کر اسے اٹھنے کے لیے کہا تو حنین ہوش میں آئی بلکہ کمرے میں موجود تمام افراد ہوش میں آئے
“اب وہ تمہارے ساتھ تمہارے کمرے میں نہیں جائے گی آزھاد”
یہ جملہ وہاں سے آیا جہاں سے اسے توقع نہیں تھی
“مما”
آزھاد نے سنجیدگی سے وجیہہ کو دیکھتے ہوئے پکارا
“تم نے خود اپنی باتوں سے واضح کیا ہے کہ یہ شادی تم نے نوین سے انتقام لینے کے لیے کی ہے اور اس گھر میں میرے ہوتے ہوئے اس چھت کے نیچے کوئی بھی زیادتی نہیں ہوگی۔۔۔ حنین سے تم نے زبردستی نکاح کیا اس کی مرضی کے بنا وہ بھی ایک طرح زبردستی ہے مگر اب اور نہیں۔۔۔ تم اپنے روم میں جاو آزھاد حنین الگ روم میں رہے گی”
وجیہہ آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی
“یہ غلط بات ہے مما شی از مائی وائف”
آزھاد شکوہ کناں نظروں سے وجیہہ کو دیکھتا ہوا بولا
“اور تم تھوڑی دیر پہلے اپنی وائف کو جان سے مارنے کی بات کر رہے تھے”
اب کی بار شاہنواز نے آزھاد کو یاد دلایا جس پر آزھاد نے غصے میں دانت پیسے
“ہنی روم میں چلو” آزھاد ایک بار پھر بہت سنجیدگی سے حنین کی طرف دیکھتا ہوا بولا حنین نے ایک نظر آزھاد کو دیکھا جس کے لہجے میں بہت مان تھا جیسے حنین اس کی بات مانے گی۔۔۔ حنین نے ایک نظر نوین کو دیکھا جو اسے ایسی نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے اس نے آزھاد کی بات مانی تو وہ فوراً اسی وقت حنین کو جان سے مار دے گی حنین نے اپنی نظریں جھکالی
“میں تمہارے ساتھ تمہارے روم میں نہیں رہنا چاہتی”
حنین نے نظریں جُھکا کر آزھاد کو جواب دیا۔۔۔ وہ قہر برساتی نظروں سے حنین کو دیکھنے لگا
“آزھاد اگر تمہارے دل میں میرے لئے ذرا بھی احترام ہے تو کوئی بھی ہنگامہ کی بنا اپنے کمرے میں چلے جاؤ اور جب تک کہ حنین خود تمہارے روم میں نہیں آنا چاہتی تب تک تم اس سے زبردستی نہیں کروگے”
وجیہہ کی بات سن کر ایک نظر آزھاد نے نوین کے چہرے پر ڈالی جس کے چہرے پر خوشی چھلکتی صاف نظر آرہی تھی وہ اپنی بہن کو اس کے کمرے سے نکالنے میں کامیاب ہوچکی تھی آزھاد خاموشی سے بنا کسی کو کچھ کہے وہاں سے چلا گیا
___________
“کیسی طبیعت ہے مما اب آپکی”
دوسرے دن رات کے وقت سب کھانے کی ٹیبل پر موجود تھے تب آزھاد وجیہہ سے پوچھنے لگا
اس نے کل سے ہی نوین کے ساتھ ساتھ اب حنین کو بھی اگنور کیا ہوا تھا نوین کو تو اس بات کی رتی برابر پروا نہیں تھی مگر حنین کل رات سے ہی خاصی بےچین تھی
“وجیہہ کیا ہوا ہے آپ کو”
شاہنواز نے کھانا کھاتے ہوئے وجیہہ سے پوچھا
“دوپہر میں بی پی ہائی ہوگیا تھا جس کی وجہ سے کافی گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ آزھاد آفس سے آ گیا تھا میرے پاس، اب بہتر فیل کر رہی ہو”
وجیہہ نے ایک نظر آزھاد پر ڈال کر شاہنواز کو جواب دیا
“کمال کرتی ہیں آپ وجیہہ میں گھر پر موجود تو تھی آپ مجھے بتا دیتی میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے چلتی”
نوین وجیہہ کو دیکھتی ہوئی بولی آزھاد نے ایک نظر اس ڈرامے باز لڑکی کو دیکھا جو یقیناً اس کے باپ کے سامنے اپنے نمبر بڑھا رہی تھی یا پھر کل شام وجیہہ کے کئے گئے فیصلے پر وہ زیادہ ہی خوش تھی جبھی وجیہہ پر مہربان ہو رہی تھی، آزھاد سر جھٹک کر کھانا کھانے لگا
“ایسی کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے نوین، پچھلے ایک سال سے ہی میری طبیعت اپ ڈاؤن رہتی ہے”
وجیہہ نوین کو دیکھتی ہوئی بتانے لگی
“وجیہہ آئندہ کبھی آپ کی طبیعت خراب ہو تو آپ نوین کو بتا دیئے گا وہ گھر پر ہی تو موجود ہوتی ہے۔۔۔ اور پلیز اپنی صحت کا خیال رکھا کریں”
اب شاہنواز وجیہہ کو دیکھتا ہوا کہنے لگا
“شاہنواز بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں وجیہہ میں آپ کے کام آؤں گی تو مجھے خوشی ہوگی۔۔۔ آپ کے روم میں اس لیے خود سے نہیں آتی کہ آپ کے آرام میں خلل نہ پڑے کہیں آپ ڈسٹرب نہ ہو میری وجہ سے”
نوین مسکرا کر وجیہہ کو بولنے لگی اس کی بات سن کر وجیہہ بس مسکرا کر اسے دیکھنے لگی
“ڈیڈ آج رات آئی تھنک آپ کو مما کے پاس ہونا چاہیے، ان کی طبیعت اتنی بھی ٹھیک نہیں انہیں رات میں ضرورت پڑ سکتی ہے”
آزھاد نے کھانے کے دوران بغیر شاہنواز کو دیکھے اسے مخاطب کیا۔۔ آزھاد کی بات سن کر سب نے اس کی طرف دیکھا
“یہ بات تمہیں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے میں خود بھی سمجھ سکتا ہوں”
شاہنواز آزھاد کو دیکھ کر ٹوکتا ہوا بولا
“بتا نہیں رہا تھا یاد دِلا رہا تھا آپ ہی نے مما سے کچھ دونوں بیویوں کو ایکول رکھنے کی اور برابری کے حقوق دینے کی بات کی تھی۔۔۔۔ اچھا ہے نہ آپ کو دیکھ کر کچھ پریکٹس میری بھی ہوجائے گی آگے جاکر یہ باتیں میرے بھی کام آنی ہیں کہ کیسے دو بیویوں کے ساتھ انصاف برتا جاتا ہے”
آزھاد نے کھانا کھاتے ہوئے جتنے آرام سے یہ بات بولی تھی خاموشی سے کھانا کھاتی ہوں حنین کو اتنی زور کا پھندہ لگا تھا نیوالہ اسکے حلق میں اٹک کر رہ گیا برابر میں بیٹھی ہوئی نوین اس کی کمر ہی سہلاتی رہ گئی مگر پانی پینے کے بعد بھی وہ کافی دیر تک کھانستی رہی
“آزھاد خاموشی سے کھانا کھاؤ”
وجیہہ نے آزھاد کو دیکھ کر مخاطب کیا تو وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *