Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19

کھانا ڈھنگ سے کھاؤ ہنی”
کھانے کی ٹیبل پر سب بیٹھے رات کا ڈنر کر رہے تھے تب نوین نے دوسری بار حنین کو ٹوکا جو اپنی پلیٹ میں رکھے چاولوں کے ساتھ فارک سے کھیلنے میں مصروف تھی
“پانی چاہیے تھا مجھے”
حنین کے بولنے پر آزھاد نے نظر اٹھا کر حنین کو دیکھا کیوکہ اتفاق سے پانی کا جگ اور گلاس اسی کے پاس رکھا ہوا حنین کو اپنی طرف دیکھ کر وہ دوبارہ کھانا کھانے میں مصروف ہوگیا
“طبیعت ٹھیک ہے تمہاری”
شاہنواز حنین کی طرف پانی کا گلاس بڑھاتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“تھینکس، طبیعت تو ٹھیک ہے بس شام سے ہی سر میں درد ہو رہا ہے”
شاہنواز سے پانی لیتی ہوئی وہ دوبارہ آزھاد پر نظر ڈال کر شاہنواز کو بتانے لگی۔۔۔ مگر آزھاد لا تعلق بنا کھانا کھانے میں مصروف تھا
“مجھے کیوں نہیں بتایا تم نے”
نوین حنین کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“آپ میرے لئے کافی پریشان رہتی ہیں آپی، اتنا پریشان مت ہوا کریں درد ہے خود ہی ختم ہوجائے گا”
حنین بولتی ہوئی اپنی پلیٹ میں جھک گئی تو آزھاد دوبارہ اسے دیکھنے لگا۔
باقی کا کھانا سب نے خاموشی سے کھایا وجیہہ کافی دیر سے آزھاد کی لاتعلقی اور حنین کا اس کی طرف دیکھنا نوٹ کررہی تھی مگر خاموشی رہی
****
“کس کے لیے بنائی ہے یہ کافی”
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد حنین کچن میں آئی تو دو مگ کافی، ٹرے میں رکھے دیکھ کر صابرہ سے پوچھنے لگی
“یہ کافی تو شاہنواز سر اور آزھاد سر کے لئے بنائی ہے کیا آپ کے لیے بھی بنا دو” صابرہ حنین کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“ہاں میں اپنے لئے کافی کا ہی کہنے آئی تھی، لاو یہ کافی میں دے کر آتی ہوں تم میرے لیے کافی بنا کر میرے روم میں پہنچا دو”
حنین صابرہ سے ٹرے لیتی ہوئی کچن سے نکل گئی
“ارے بیٹا آپ کو کافی لانے کی کیا ضرورت تھی صابرہ کہاں ہے”
شاہنواز اور آزھاد کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے آفس کے متعلق ڈسکس کر رہے تھے تب حنین کافی کے مگ ٹرے میں تھامے روم کے اندر داخل ہوئی تو شاہنواز حنین کو دیکھ کر بولا
“کوئی بات نہیں، صابرہ میرے لیے کافی بنا رہی تھی تو میں نے سوچا آپ کو کافی میں سرو کردو”
حنین مسکرا کر شاہنواز کو جواب دیتی ہوئی ان دونوں کے پاس آئی اور باری باری کافی سرو کرنے لگی
“تم یہاں کیا کر رہی ہو ابھی تک اپنے روم میں نہیں گئی” حنین نے آزھاد کی طرف کافی کا مگ بڑھایا تو آزھاد اسی کو دیکھتے ہوئے کافی کا مگ لے رہا تھا۔۔۔ آزھاد کو محسوس ہوا جیسے حنین اسے کچھ کہنا چاہتی ہے مگر ویسے ہی روم میں نوین آگئی
“جی آپی بس جانے ہی والی تھی، کیا آپ تھوڑی دیر بعد میرے روم میں آسکتی ہیں”
نوین کی آواز سن کر حنین ایک دم ہڑبڑائی تھی پھر اچانک نوین سے روم میں آنے کا کہنے لگی تو آزھاد حنین کو دیکھتا ہوا کچھ سوچنے لگا
“کیوں خیریت” نوین نا سمجھنے والے انداز میں حنین سے پوچھنے لگی
“جی خیریت ہے بس یونہی کہہ رہی تھی”
حنین نوین سے بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
“شاہنواز کیا آج آپ نے سونا نہیں ہے”
نوین اب شاہنواز کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“سونا ہے مگر وجیہہ کے روم میں تم اپنے روم میں جاکر سو جاؤ”
شاہنواز کے بولنے پر نوین اسے چونک کر دیکھنے لگی مگر شاہنواز اپنے سامنے کھلی فائل کو دیکھنے میں مصروف تھا
“مگر کل تو آپ وجیہہ کے پاس انہی کے روم میں تھے نا”
نوین وہی کھڑی ہوکر شاہنواز کو یاد دلانے لگی
“میں ایک ضروری ڈسکشن کر رہا ہوں اور تم بیچ میں انٹرپ کرکے مجھے ڈسٹرب کر رہی ہو۔۔ اپنے روم میں جاو نوین”
اب کی بار شاہنواز نے اسے سخت لہجے میں کہا جس پر نوین حیرت سے اسے گھورتی رہ گئی
اسے شاید یہ بات اتنی بری نہیں لگتی اگر وہ آزھاد کے سامنے نہ کہی ہوتی ایک نظر اس نے آزھاد کو دیکھا جو ان دونوں سے لاتعلق بنا مزے سے کافی پی رہا تھا مگر وہ صاف محسوس ہو رہا تھا یہ مزا اسے کافی پی کر نہیں آرہا تھا بلکہ شاہنواز کی بات سن کر آیا تھا۔۔۔ نوین پیر پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی
****
“تم یہاں۔۔۔ کوئی کام تھا”
وجیہہ جوکہ ہاتھ میں ٹیوب پکڑے بیڈ پر اپنے پاؤں سیدھے کیے بیٹھی تھی۔۔۔ شاہنواز کو روم میں آتا دیکھ کر تعجب سے پوچھنے لگی
“کیوں اپنی بیوی کے پاس صرف کام سے آیا جاتا ہے”
شاہنواز وجیہہ کے ہاتھ سے ٹیوب لیتا ہوا بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھ کر پوچھنے لگا
“نہیں میرے کہنے کا مطلب تھا تمہیں آج نوین کے پاس”
وجیہہ اپنی بات کی وضاحت دینے لگی
“کم ان وجیہہ آپ اپنے گھٹنوں میں شام سے پین فیل ہو کر رہی تھی تو میں آپ کے پاس آ گیا”
شاہنواز ٹیوب میں موجود جیل ہاتھ میں نکالتے ہوئے بولا
“تم رہنے دو میں صابرہ سے لگوا لیتی ہوں”
وجیہہ اس کا ارادہ بھانپ کر بولی
“کیوں کیا میں پہلی دفعہ یہ کام کر رہا ہوں یا پھر آپ کو شرم آ رہی ہے” دوسری بات پر شاہنواز نے مسکرا کر وجیہہ کو دیکھا تو وجیہہ مسکرانے لگی
“آپ نے بالکل اپنے آپ کو چھوڑ دیا ہے اپنا خیال رکھا کرے وجیہہ”
جیل سے اسکے گھٹنوں پر مساج کرتا ہوا شاہنواز وجیہہ کو بولنے لگا
“کس کے لئے”
وجیہہ شاہنواز کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“کس کے لئے خیال رکھا جاتا ہے میرے لئے، ہمارے بچوں کے لئے، اپنے خود کے لئے”
شاہنواز سنجیدگی سے وجیہہ کو دیکھتا ہوا کہنے لگا
“اب یہ مت سوچیے گا کہ نوین کے آنے کے بعد مجھے آپ کی فکر نہیں ہے اس طرح شکوہ کن نگاہوں سے مت دیکھا کریں آپ مجھے، میں وہی ہو جس نے آپ سے شادی کی ضد کرنے پر ابا میاں اور ماں جی سے جوتے کھائے تھے”
شاہنواز اسے پچھلا وقت یاد دلاتا ہوا بولا جسے یاد کرکے وجیہہ بھی مسکرانے لگی۔۔۔ وہ اپنا کوئی شکوہ کرکے شاہنواز کا موڈ نہیں خراب کرنا چاہتی تھی مگر اسے کومل کا خیال آیا
“شاہنواز تم نے کومل سے بات کرنا بالکل چھوڑ دیا ہے۔۔ تم تو کہتے تھے کہ تمہیں اپنے بیٹے کے مقابلے بیٹی سے زیادہ محبت ہے”
وجیہہ کی بات سن کر شاہنواز کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہوگئی وہ بیڈ سے اٹھ کر ٹشو سے اپنے ہاتھ صاف کرنے لگا
“کس طرح سر جھکایا اس نے میرا۔۔۔ نقصان ہوا ہے اس کی وجہ سے کسی دوسرے کا۔۔۔ آپ اتنی جلدی بھول گئی کس طرح اس نے اعتبار توڑا تھا ہمارا”
شاہنواز وارڈروب سے کپڑے نکالتا ہوا وجیہہ کو بولنے لگا
“شاہنواز اسی نقصان کی وجہ سے تو وہ اتنے گہرے صدمے میں چلی گئی ہے کہ اپنے آپ کو اپنی ذات کو فراموش کر بیٹھی ہے۔۔۔ اسے صرف ماں کی یا پھر بھائی کی ضرورت نہیں ہے اسے اپنے باپ کی بھی ضرورت ہے وہ باپ جو اپنی بیٹی کو سب سے زیادہ عزیز رکھتا تھا”
وجیہہ شاہنواز کو دیکھتی ہوئی بولی شاہنواز بنا کوئی جواب دیئے اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا
________
شاہنواز سے نیو پروجیکٹ کے بارے میں ڈسکس کر کے وہ اپنے روم میں آیا مگر اس کا دھیان بار بار حنین کی طرف جا رہا تھا کھانے کی میز پر بھی حنین کا اپنی جانب دیکھنا وہ نوٹ کر چکا تھا پھر کافی دیتے وقت جس طرح وہ اسے دیکھ رہی تھی آزھاد کو یقین ہو گیا وہ اس سے کچھ کہنا چاہتی ہے
یقیناً روم میں بھی اس نے نوین کی بجائے اسے ہی بلایا تھا۔۔۔۔ آزھاد نے رات کو سونے سے پہلے ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہنی اپنا موبائل پاکٹ میں رکھتا ہوا وہ حنین کے کمرے میں پہنچا اس وقت تقریباً سب ہی اپنے اپنے روم میں موجود تھے۔۔۔ حنین کے کمرے میں پہنچ کر اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی حنین کمرے میں موجود نہیں تھی
البتہ اس کے کپڑے بیڈ پر رکھے ہوئے تھے اور واش روم کی لائٹ آن تھی آزھاد کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ ابھری۔ ۔۔۔ واشروم کی لائٹ آن دیکھ کر آزھاد کا موڈ بھی ان ہوچکا تھا وہ دوبارہ مین ہال میں آیا ڈیوائیڈر میں موجود چابیوں کے گچھوں میں سے واش روم کی چابی نکالنے لگا
****
کل اسے یہاں سے چلے جانا تھا اس بات کو سوچ کر ایک بے نام سی اداسی وہ اپنے اندر محسوس کر رہی تھی۔۔۔ وہ کیو اداس تھی اسے معلوم نہیں تھا مگر آج نوین کی خلع والی بات پر اس کا دل دکھا تھا شاید وہ خود ایسا نہیں چاہتی تھی مگر یہ بات وہ نوین کے آگے بولنے سے گھبراتی تھی، گھبراتی نہیں شاید ڈرتی تھی
کیوکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی اگر یہ بات اس نے کبھی نوین کے سامنے بولی تو نوین اس کا بہت برا حشر کرے گی،، نوین کا آزھاد کو ناپسند کرنا اور آزھاد کی نوین سے نفرت۔۔۔ یہ بات اس سے کیا پورے گھر سے چھپی ہوئی نہیں تھی اور ان دونوں کی سرد جنگ نے حنین کو عجیب دوراہے پر کھڑا کر دیا تھا
وہ اداسی سے سوچتی ہوئی وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگی۔۔۔۔
آزھاد نے ڈنر کے ٹائم پر اسے دیکھا تک نہیں تھا،، معلوم نہیں وہ اس کی بات سمجھا بھی ہوگا۔۔۔ حنین سوچتی ہوئی باتھ ٹب میں پانی بھرنے لگی شاور جیل سے خوب سارے جھاگ بناکر واش روم کا دروازہ لاک کرتی ہوئی۔۔۔ اب وہ تھوڑی دیر خود کو ریلیکس کرنا چاہتی تھی
****
چند ہی منٹ گزرے تھے جب اسے دروازہ کھولنے کی آواز آئی حنین نے آنکھیں کھول کر دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔ وہی اس کے منہ سے بھیانک چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی کیوکہ وہ اپنے دونوں ہاتھ ہونٹوں پر رکھ چکی تھی مگر آزھاد کی پوری طرح آنکھیں اور منہ کھلا دیکھ کر اس نے جلدی سے اپنی دونوں ٹانگیں سمیٹ کر سینے پر جماتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ ٹانگوں سے باندھے
“بے شرم انسان، شرم نام کی کوئی چیز تم میں ہے بھی کہ نہیں”
باتھ ٹب کے اندر بیٹھی ہوئی حنین غصے میں چلاتی ہوئی آزھاد کو بولنے لگی۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا وہ اپنی حالت پر روئے یا پھر اپنے سامنے کھڑے اس بےہودہ انسان پر غصہ کرے۔۔۔ جس کی آنکھیں ہی نہیں بلکہ وہ پورا ایکسرے مشین بنا ہوا اسے دیکھنے میں مصروف تھا
“شرم تو اسے آنی چاہیے جس کے تن پر کپڑے نہیں ہیں، میں تو اس وقت پورے کپڑوں میں موجود ہو۔۔۔ ویسے شاور جیل سے جھانک کچھ زیادہ ہی بنا لئے تم نے، ویو کے کچھ کلیئر نظر نہیں آرہا تھوڑی سی اونچی ہوکر بیٹھو”
وہ اپنی ہنسی چھپانے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا۔۔۔ مگر یہ کوشش ہی لگ رہی تھی۔۔۔ اس کی بات سن کر اور اس کی ہنسی دیکھ کر حنین نے پاس پڑے ہوئے شیمپو کی بوتل کھینچ کر اسے ماری جو آزھاد نے ہنستے ہوئے کیچ کرلی
“تم انتہا درجے کے بدتمیز اور چھچھورے انسان ہو، ایٹیکیٹس نام کی کوئی چیز نہیں تم میں، یوں کسی لڑکی کے واشروم میں آیا جاتا ہے جب وہ باتھ لے رہی ہو”
تھوڑی دیر پہلے چھائی ہوئی اداسی کہیں غائب ہو چکی تھی اب وہ صرف آزھاد کی شکل دیکھ کر غصہ اور اپنی قابل رحم حالت پر ترس کھا سکتی تھی
“بدتمیز تو میں بچپن سے ہوں مگر چھچھورا میں اب ہوا ہوں وہ بھی تمہیں دیکھ کر۔۔۔ بائی دا وے تم بھول رہی ہو مجھے یہاں بُلانے والی تم ہی ہو، تھوڑی دیر پہلے تم ہی نے مجھے کافی دیتے ہوئے اپنی بہن کے سامنے بلایا تھا”
آزھاد اس کے چہرے پر شرم و غصہ اور پریشانی والے کیفیات کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتا ہوا بولا
“میں نے تمہیں روم میں بلایا تھا واشروم میں نہیں”
حنین غصے میں جھنجھلاتی ہوئی بولی وہ ابھی بھی گھٹنے سینے سے جوڑ کر دونوں ہاتھ گھٹنوں سے باندھے بیٹھی تھی
“جہاں پر بھی بلایا ہو ڈارلنگ مگر میں آیا تمہارے بلاوے پر ہی ہوں، چلو شاباش اب جلدی سے ٹب سے باہر نکل کر آؤ ورنہ میں دوسری کوئی بات کیے بنا خود ٹب کے اندر آجاؤ گا”
وہ حنین کو دیکھ کر پیار بھرے انداز میں چھچھوری سے دھمکی دیتا ہوا بولا جس پر حنین کے رہے سہے اوسان اور خطا ہوگئے
حنین کو اس سے پوری امید تھی وہ ایسا کر سکتا تھا ایک نظر اس نے دیوار کے ساتھ ہینگ ویو سے اپنے ٹاول کو دیکھا مگر اسے اٹھانے کے لئے حنین کو کھڑا ہونا پڑتا اور اس وقت حنین کی کھڑے ہونے والی پوزیشن بالکل نہیں تھی
“وہ تمہارے پیچھے کیا ہے آآآآ”
اچانک حنین کے چہرے پر خوف کے آثار نمودار ہوئے
وہ آزھاد کے پیچھے دیوار پر کوئی چیز دیکھ کر خوف سے چیختی ہوئی اپنی آنکھیں بند کرنے لگی۔۔۔ اس کے چہرے پر خوف دیکھ کر ایک منٹ کے لیے آزھاد پیچھے مڑا۔۔۔ جس کا فائدہ اٹھا کر حنین جلدی سے اٹھی اور ٹاول کھینچ کر اسے جلدی جلدی اپنے گرد لپیٹنے لگی۔۔۔
آزھاد اس کی چال سمجھ کر زور سے ہنسا مگر اس کے کھڑے ہونے پر اور ٹاول لپیٹنے پر جلدی سے وہ اپنے ٹراؤزر کی پاکٹ سے موبائل نکال کر حنین کی تصویریں بنانے لگا۔۔۔ شولڈر سے نیچے بندھا گیا ٹاول جس سے اس کے گھٹنے بھی کور نہیں ہو پا رہے تھے اوپر سے حنین اسکی اس حرکت پر مزید گھبرا گئی
پہلے اس نے آزھاد کو تصویریں بناتے دیکھ کر اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے منہ چھپا لیا مگر اپنے آپ کو ٹاول میں آزھاد کے سامنے تصور کرکے وہ جلدی سے دوبارہ ٹب میں اسی پوزیشن میں بیٹھ گئی
“تم نہایت چھچھورے اور فضول انسان ہو میں آج تمہیں نہیں بخشوں گی”
حنین نے اس کو مزید تصویریں لیتا ہوا دیکھ کر ہینڈ شاور کو ہولڈر سے نکال کر شاور کا رخ آزھاد کی طرف کیا
اس سے پہلے پانی موٹی سی دھار کی صورت شاور سے باہر آتا اور آزھاد کے موبائل پر جاتا۔۔۔ آزھاد اپنا موبائل بند کر کے برابر دیوار پر لگے کیبنٹ کے اندر رکھ چکا تھا۔۔۔ مگر غصے میں حنین پانی سے اسکی پوری شرٹ بھگو چکی تھی۔۔۔ آزھاد نے ایک نظر اپنی شرٹ کو دیکھا جو کہ گیلی ہو کر اس کے سینے سے چپک چکی تھی
“پورا پورا پنگا لے لیا ہے ڈارلنگ آج تو تم نے۔۔۔ اب بخشو گا تو میں تمہیں نہیں”
آزھاد اپنے گیلے کپڑوں کو دیکھتا ہوا بولا اور باتھ ٹب کی طرف اپنے قدم بڑھانے لگا
“آزھاد نہیں، آزھاد سوری، آزھاد میں بالکل سیریس ہو” حنین کے بار بار بولنے پر جب آزھاد نے اپنے قدم نہیں روکے تو اس سے پہلے آزھاد واقعی ٹب کے اندر آتا حنین ڈر کے مارے کھڑی ہو کر ٹب سے باہر نکلنے لگی
“آزھھھاد”
آزھاد جو کہ اس کے قریب آ چکا تھا مگر بدقسمتی سے ٹب سے باہر پڑے جھانک سے اس کا پاؤں سلیپ ہوا اور حنین جوکہ ٹب سے باہر نکل رہی تھی آزھاد اس کے اوپر گر پڑا اور وہ دونوں ہی اب باتھ ٹب کے اندر موجود تھے
حنین نے اپنی آنکھیں زور سے بند کی ہوئی تھی اس نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولی تو آزھاد کو اپنے اوپر جھکا پایا۔۔۔۔ اس کا چہرہ اب سنجیدہ تھا مگر آنکھوں میں شرارت ہنوز برقرار تھی
“کیا ارادہ ہے پھر ہنی ڈارلنگ آج تھوڑا سا باتھ اپنے شوہر کے ساتھ لے لو”
آزھاد حنین کے اوپر سے اٹھ کر ٹب میں بیٹھتا ہوا بولا مگر ساتھ ہی اس نے حنین کو کمر سے تھام کر اسے اپنے اوپر گرا لیا
“تم اس وقت مجھے کتنے چیپ لگ رہے ہو تم اندازہ نہیں لگا سکتے”
حنین کو اس کی آنکھوں سے الجھن ہو رہی تھی جس میں بے شرمی اور شرارت کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی تھی۔۔۔ حنین نے اس کی نظروں سے پریشان ہو کر اسی کے سینے میں اپنا منہ چھپا لیا
“اور تم اس وقت مجھے کتنی سیکسی لگ رہی ہو اگر تمھیں ذرا بھی اندازہ ہوجائے۔۔۔ تو تم ساری رات یوں ہی میرے سینے میں اپنا منہ چھپائے بیٹھی رہو گی”
آزھاد اسکے کندھے اور گردن پر پانی سے چپکے بالوں کو پیچھے کرتا ہوا بولا۔۔۔ حنین نے اس کی بات سن کر اٹھنا چاہا تو آزھاد نے اپنا دوسرا بازو حنین کی کمر کے گرد حائل کر دیا اب وہ اسکے کندھے پر اپنے ہونٹ جمائے بیٹھا تھا
“تمھیں مجھ پر کبھی بھی ترس نہیں آتا۔۔۔ کم ازکم اس وقت تمہیں میری کنڈیشن دیکھ کر مجھ پر ترس کھانا چاہیے”
حنین اس کے سینے سے لگی ہوئی اپنے کندھے پر آزھاد کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے اس سے شکوہ کر رہی تھی۔۔۔ آزھاد نے اس کے کندھے سے اپنے ہونٹ ہٹا کر حنین کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اس کا چہرہ اپنے سامنے کیا
“اس ٹائم ترس تو تمہیں کھانا چاہیے مجھ پر۔۔۔ جو اس وقت میری کنڈیشن ہو رہی ہے تم ون پرسنٹ بھی نہیں سمجھ سکتی۔۔۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس وقت مجھے سب سے بری چیز کیا لگ رہی ہے۔۔۔ تو میں جواب دو گا یہ ٹاول”
آزھاد نے اپنی نظریں جھکا کر اس کے ٹاول کو دیکھا حنین نے اس کے گال پر چپت لگائی
“کتنا سارا اسٹاک ہے تمہارے پاس ان فضول قسم کی باتوں کا”
حنین غصے اور شرم سے سرخ چہرے کے ساتھ گھورتی ہوئی بولی
“صرف باتوں کا ہی نہیں حرکتوں کا بھی”
آزھاد نے بولنے کے ساتھ اسکے بالوں کو چھوڑ کر اس کے ٹاول کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔ حنین نے زور سے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا۔۔۔۔ مگر دوسرے ہی پل وہ آزھاد کے انکھیں دکھانے پر سہم گئی
“تم مجھے اسطرح ڈراؤ گے تو میں سیریسلی رو دو گی”
حنین نے بولنے کے ساتھ رونے والی شکل بنائی جس پر آزھاد نے اپنی ہنسی چھپانے کے لیے حنین کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔ حنین نے ایک بار پھر پیچھے ہونا چاہا۔۔۔ آزھاد نے دوبارہ اسکے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسائی اور کمر کے گرد حصار تنگ کیا
“ہنی”
باہر سے نوین کی آواز آئی تو حنین بدک کر پیچھے ہٹی جیسے کسی نے پانی میں کرنٹ چھوڑا ہو
“او مائی گاڈ یہ تو آپی روم کے اندر آچکی ہیں”
حنین بہت آہستہ آواز میں پریشان ہو کر بولی اس کی حالت دوبارہ غیر ہونے لگی اسے ایک بار پھر رونا آنے لگا
“ایسی ہی تھوڑی نہ مجھے اس لڑکی سے نفرت ہے ہمیشہ غلط ٹائم پر آکر یہ میرا موڈ خراب کرتی ہے۔۔۔ آج تو میں اسے چھوٹا موٹا ہارٹ اٹیک دلا کر ہی رہوں گا”
آزھاد خراب موڈ کے ساتھ اٹھنے کی کوشش کرنے لگا
“آزھاد نہیں پلیز تمہیں میری قسم”
حنین اس کے کندھوں پر زور دے کر اسے واپس بٹھاتی ہوئی بولی
“ہنی کیا کر رہی ہو” نوین کی دوبارہ آواز سنائی دی
“ہم یہاں”
اس سے پہلے آزھاد نے بلند آواز میں کچھ بولتا حنین نے مضبوطی سے اس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھا
“تم آپی کو ہارٹ اٹیک دلانا چاہ رہے ہو اس سے پہلے وہ میری جان لے لیں گی تمہیں میرے ساتھ دیکھ کر۔۔۔ پلیز خاموش ہوکر بیٹھ جاؤ میری خاطر”
حنین اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لاکر مزید آئستہ آواز میں بولی۔۔۔۔ آزھاد حیرت سے حنین کو دیکھنے لگا اس کی نوین کے ڈر سے روح فنا ہوئے جارہی تھی
“آپی میں باتھ لے رہی ہو”
حنین آزھاد کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر تیز آواز میں نوین سے بولی
“رات کو اس ٹائم سردی میں تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ہے”
نوین بیڈ پر پھیلے ہوئے کپڑے ایک سائیڈ پر کرتی ہوئی بیٹھی
“جی آپی، دماغ نہیں میری قسمت خراب ہوگئی ہے” حنین کو سمجھ میں نہیں آیا وہ نوین کو رات میں نہانے کا کیا ریزن دے اسلیے بیچارگی سے بولی
“کیا فضول بک رہی ہو”
نوین کو اس کا یوں بلاوجہ کا بولنا برا لگا
“سوری آپی میرا مطلب تھا آآآآ نہیں”
حنین جو اپنی بات کی نوین کو وضاحت دینے والی تھی اچانک آزھاد کو شرارت سوجھی اور اس نے حنین کا ٹاول کھینچا جسے بروقت کھلنے سے پہلے حنین سنبمال چکی تھی اور ساتھ ہی دوسرے ہاتھ سے ہلکی سی چپت آزھاد کے گال پر رسید کر چکی تھی
“ہنی کیا ہوا ہے تمہیں تم ٹھیک ہو” نوین اب اس کی چیخنے پر پریشان ہو کر پوچھنے لگی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *