Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06

“ہاں تو کیا نام بتایا آپ نے ڈیڈ کی پرسنل سیکرٹری کا”
آج شاہ نواز کی غیرموجودگی میں آزھاد اس کے آفس آیا وہ اس وقت شاہنواز کی کرسی پر برجمان مشتاق صاحب (مینیجر) سے مخاطب ہوا
“نوین۔۔۔ نوین مرزا”
مینیجر کشمکش میں مبتلا تھا وہ شاہنواز یا نوین کے متعلق پرسنل انفارمیشن کسی کو نہیں دے سکتا تھا مگر یہاں شاہنواز کا بیٹا ہی آکر اس سے پوچھ گچھ میں لگا تھا اس لیے وہ گھبراتا ہوا بولا
“مجھے بیس منٹ کے اندر معلوم کرکے بتائیں دبئی کے کس ہوٹل یا ولا وہ دونوں موجود ہیں اور یہ ٹور کتنے پرسنٹ آفیشلی ہے ان ساری ڈیٹیلز سے مجھے آگاہ کریں”
آزھاد مینیجر گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا
“جی سر”
مینیجر آزھاد سے بولتا ہوا جانے لگا
“مشتاق صاحب ڈیڈ اس کمپنی میں 50 پرسنٹ کے مالک ہیں جبکہ ففٹی پرسنٹ ہی اس کمپنی میں میرا بھی شیئر ہے،، آپ کو بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اگر کچھ بھی غلط انفارمیشن دی گئی تو انجام آپ کو بھگتنا ہوگا”
آزھاد مینیجر کو وارن کرتا ہوا بولا
“یس سر”
مینیجر نے ایک بار پھر مہذب انداز میں آزھاد کو جواب دیا
“اب آپ تشریف لے جائے اور امتیاز صاحب کو روم میں بھیجئے”
آزھاد نے شاہنواز کے متعلق انفارمیشن لینے کے بعد اب آفس کے معاملات کی بھی انفارمیشن لینا بھی ضروری سمجھا
ابھی وہ شاہنواز کی پرسنل سیکرٹری کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا جسے اس نے ابھی تک نہیں دیکھا تھا مگر اب وہ اس معاملے کو سنجیدگی اور قریب سے دیکھنا چاہتا تھا کیوکہ شاہنواز کے بدلتے ہوئے رنگ اور ڈھنگ سے اب اس کے ساتھ ساتھ وجیہہ بھی مشکوک ہونے لگی تھی،، تبھی ٹیبل پر رکھا ہوا فون بجا
“یس”
آزھاد نے سوچوں کو جھٹکتے ہوئے ریسیور اٹھایا
“سر کو فصیح صاحب اور مُکرم صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں”
پی۔اے نے اس کو آگاہ کیا
“اوکے اندر بھیجیں ان دونوں کو”
آزھاد میں ریسیور واپس رکھا اس دن فارم ہاؤس سے واپسی کے بعد فصیح اور مُکرم سے اس کی آج ملاقات ہو رئی تھی
“کیا بڈی ناراض ہو گیا تو۔۔۔ کل سے کچھ خبر ہی نہیں ہے تیری”
فصیح اور مُکرم دونوں آفس کے روم میں آئے مُکرم آزھاد سے پوچھنے لگا
“جن سے میں ناراض ہو جاؤں ان کو منہ نہیں لگاتا جبکہ تمہیں میں نے خود ہی صبح کال کرکے بتایا تھا کہ آج میں آفس آنے کا ارادہ رکھتا ہوں”
آزھاد مُکرم کو دیکھتا ہوا بولا
“تجھے نہیں معلوم فارم ہاوس سے جانے کے بعد تو نے کیا کچھ مس کر دیا۔۔۔ کیا حسینائے تھی یار قسم سے میرا تو نشہ ابھی تک نہیں اترا”
فصیح فارم ہاوس کا منظر یاد کرتا ہوا ٹھنڈی آہ بھر کر بولا
“یہ نشہ تمہارا اسی دن اترے گا جب تمہیں معلوم ہوگا کہ تم ایڈز جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوگئے ہو”
آزھاد نے جتنے آرام سے کہا مُکرم ہنستا ہوا فصیح کا مذاق اڑانے لگا
“ایسی بد دعائیں دے کر ڈرا تو مت یار”
فصیح اب سیدھا ہو کر بیٹھتا ہوا بولا
“اوو تو اب سمجھا یہ پرہیز جبھی ہے ایڈز کے ڈر سے”
مُکرم آزھاد کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ ان خرافات میں وہ خود بھی زیادہ پڑنے کا قائل نہیں تھا مگر موقع محل دیکھ کر فصیح کا ساتھ دے دیا کرتا جبکہ آزھاد نے شروع سے اس چیز سے فاصلہ رکھا تھا
“صرف ایڈز کا ہی ڈر نہیں ہے خوف خدا بھی کوئی چیز ہوتی ہے ویسے بھی ایک حرام چیز تو منہ لگی ہوئی ہے دوسرے کی طلب اگر شدت اختیار کر گئی تو حلال طریقہ ہی اپناؤ گا”
آزھاد ریولنگ چیئر پر جھولتا ہوا مُکرم کو بتانے لگا
“یعنی حلال طریقے سے حلال ہونے کا سوچا ہے تو نے”
فصیح کی بات پر وہ تینوں ہنسے
“حلال ہونے کا نہیں کرنے کا”
آزھاد پی۔ اے سے اپنے ساتھ ان دونوں کے لیے کافی کا بولنے لگا
“کوئی بکری بھی تلاش کی ہے یا ابھی تک سوچوں میں اٹکا ہوا ہے” فصیح نے معنیٰ خیزی سے پوچھا تب آزھاد کو حنین یاد آئی
“اس بات کو چھوڑو یہ بتاؤ اسامہ کی بہن مریم کس کالج میں پڑھتی ہے” آزھاد فصیح سے پوچھنے لگا کیوکہ لڑکیوں کی انفارمیشن اسی کے پاس ہی مل سکتی تھی
“ریئلی اسامہ کی بہن”
مُکرم ہنستا ہوا آزھاد سے کنفرم کرنے لگا
“شٹ آپ،، کچھ پوچھنا ہے اس سے” آزھاد کا جیسے مریم کے نام پر منہ کڑوا ہوا
“ابے مریم کو چھوڑ تجھے معلوم ہے اس دن تیرے فارم ہاؤس سے نکلنے کے بعد کون ملی وہی حسینہ جسکا تو موبائل نمبر لینے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا”
فصیح اس رات کا حنین کا قصہ یاد کرکے آزھاد کو بتانے لگا
“ہنی”
آزھاد کے لبوں سے بے آواز حنین کا نام ادا ہوا اور چہرے کے تاثرات ایک دم سنجیدہ ہو گئے
“مان گیا یار کیا لڑکی تھی،، اس لڑکی سے نہ تو تُو نمبر نکلوا سکا اور نہ ہی وہ لڑکی اس ڈفر کے ہاتھ لگی اس رات”
مُکرم ہنستا ہوا آزھاد کو بتانے لگا جس پر اب آزھاد کو غصہ آنے لگا یعنی اس رات حنین کی پیچھے لگنے والے لڑکے اسی کے دوست تھے
“ایک بار اس حسینہ کو ذرا نظر آنے دے پھر دیکھنا کیسے بجتی ہے وہ میرے ہاتھ سے”
فصیح مُکرم کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ تبھی آزھاد ایک جھٹکے سے کرسی سے اٹھا اور تیزی سے قدم بڑھاتا ھوا فصیح کے پاس آیا ایک دم اس کا گریبان پکڑ کر اسے کرسی سے اٹھایا
“کیا بکواس کی تو نے اس کے متعلق دوبارہ بول”
آزھاد غصے میں فصیح کا گریبان پکڑتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ جس پر فصیح اس کا انداز دیکھتا رہ گیا مُکرم بھی کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہوا
“یار تجھے ہو کیا گیا اچانک”
فصیح نے آزھاد کا ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹانا چاہا مگر اس وقت آزھاد کے ہاتھوں کی مضبوط گرفت اور آنکھوں میں غصہ دیکھ کر وہ دونوں حیران رہ گئے
“اس کے متعلق اگر کوئی گندی سوچ دوبارہ تمہارے دماغ میں آئی یا آئندہ کبھی اس کو میلی نظر سے دیکھا ناں تو میں تجھے زمین کے اندر زندہ گاڑھ دو گا فصیح”
آزھاد ابھی بھی فصیح کا گریبان پکڑتا ہوا غصے میں اسے بولا
“ریلیکس یار کیا ہوگیا تجھے،، ایک لڑکی کے لیے تو اتنا جذباتی ہو رہا ہے وہ صرف ایک لڑکی ہے ہم دوست ہیں تیرے”
مُکرم موقعے کی سنگینی کو دیکھتا ہوا آذھاد سے نرم لہجے میں بولا۔۔۔ جس پر آزھاد نے فصیح کا گریبان چھوڑا
“رائٹ ہم دوست ہیں”
آزھاد اپنی کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا مُکرم کے اشارے پر فصیع بھی کرسی پر بیٹھ گیا
آزھاد کو نہ جانے کیوں فصیح کا اس طرح حنین کے متعلق بولنے پر غصہ آگیا اور وہ غصے میں فصیح کا گریبان پکڑ بیٹھا جبکہ فصیح شروع سے ہی لڑکیوں کے متعلق ایسی ہی سوچ رکھتا تھا۔۔۔ آزھاد سگریٹ سلگاتا ہوا اپنے دماغ کو ٹھنڈا کرنے لگا
****
“کل تم آفس گئے تھے خیریت”
شاہنواز کل رات کو ہی واپس لوٹا تھا اور وہ اس وقت آفس کے لئے تیار بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔ تبھی ناشتے کی ٹیبل پر موجود آزھاد سے پوچھنے لگا
“ہاں سوچ رہا ہوں اب باقاعدگی سے اور سنجیدگی سے آفس اور دوسرے معاملات کے جائزہ لوں”
آزھاد ناشتہ کرتی ہوئی وجیہہ پر ایک نظر ڈال کر شاہنواز کو دیکھتا ہوا کہنے لگا
“تم پہلے گھر کے معاملات کا جائزہ تو لو میرے پیچھے کومل کی حالت بگڑی اس وقت تمہیں گھر پر ہونا چاہیے تھا نہ کہ سیر سپاٹوں میں مصروف”
شاہنواز آزھاد پر طنز کرتا ہوا بولا کیوکہ صبح جب اس نے وجیہہ کی کال دیکھی تو موبائل پر بات کرنے سے اسے کومل کے بارے میں معلوم ہوا
“ڈیڈ اس رات سیر سپاٹوں میں اور دنیاوی رنگینیوں میں کون مشغول تھا یہ آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں،، میں دوستوں کے پاس سے گھر آنے کے لیے نکل رہا تھا راستے میں میری کار خراب ہوگئی ورنہ مجھے اپنی بہن کی ایک باپ کی طرح ہی فکر رہتی ہے اسی وجہ سے آج میں نے دوسرے سائکیٹرس سے کنسرن کیا ہے۔۔۔ ویسے آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ منڈے سے آفس جوائن کر رہا ہوں کیوکہ اب مجھے آپ کی طرف سے بھی فکر لاحق ہوگئی ہیں”
آزھار شاہنواز کو جتاتا ہوا کہنے لگا جس پر شاہنواز کے ساتھ ساتھ وجیہہ نے بھی چونک کر آزھاد کو دیکھا
“کیا مطلب ہے تمہارا کون سی فکروں کے متعلق بات کر رہے ہو”
وجیہہ نے چونک کر آزھاد سے پوچھا
“آپ نے غور نہیں کیا دن بدن ڈیڈ کی پرسنلٹی میں بڑھتے ہوئے نکھار کو۔۔۔ کل رات دبئی سے واپسی کے بعد ڈیڈ کچھ زیادہ ہی فریش دکھائی دے رہے ہیں”
آزھاد شاہنواز کو سلگاتا ہوا ناشتے سے بھرپور انصاف کرنے لگا۔۔ جس پر وجیہہ خاموش جبکہ شاہنواز کو غصہ آگیا
“کیا بکواس کر رہے ہو اپنی ماں کے سامنے میرے متعلق”
شاہنواز غصے میں آزھاد کو دیکھتا ہوا بولا
“آپ دعا کریں یہ بکواس ہی ہو تو زیادہ اچھا ہے”
آزھاد اب سنجیدگی سے شاہنواز کو دیکھ کر بولا خاموش بیٹھی وجیہہ ان دونوں کو دیکھ رہی تھی
“آپ خاموش بیٹھی میرا منہ دیکھ رہی ہیں،، تمیز سکھائے اس بدتمیز کو کہ باپ سے کیسے بات کی جاتی ہے”
شاہنواز وجیہہ کو بولتا ہوا اٹھ گیا اور آفس کے لئے نکل گیا
اب وجیہہ آزھاد کی طرف دیکھنے لگی
“آپ بے فکر رہیں میں سب ٹھیک کردوں گا”
آزھاد وجیہہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دیتا ہوا بولا
جہاں تک اسے معلومات ملی تھی اس سے آزھاد نے یہی نتیجہ اخذ کیا تھا نوین مرزا نامی سیکرٹری سے شاہنواز کا افیئر ہے اب وہ نوین مرزا سے آفس میں روبرو ملنے کا ارادہ رکھتا تھا
“کوثر سے کہہ کر کومل کو ریڈی کروائے جب تک میں چینج کر کے آتا ہوں”
آزھاد وجیہہ کو سوچوں میں گم دیکھ کر بولا اور کرسی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا
****
حنین کو نوین کل رات ہی ایئرپورٹ سے اپنے ساتھ واپس گھر لے آئی تھی۔ ۔۔ سونے سے پہلے ان دونوں نے کافی دیر تک باتیں کی،،، صبح نوین تو آفس کیلئے روانہ ہوگئی تھی مگر حنین نے اپنی طبیعت میں بیزاری محسوس کرکے کالج سے آف کرلیا
آج وہ ریسٹ کرنا چاہتی تھی اور صبح سے ہی ریسٹ کر رہی تھی اس لیے اب آرام کر کر کے وہ تھک گئی تھی تو اس نے اپنی اجڑی ہوئی وارڈروب سے سارے کپڑے نکال کر انہیں سلیقے سے ہینگ کرنا شروع کردیا
فارم ہاوس سے واپسی کے بعد مزنہ نے اس سے آزھاد کے متعلق پوچھا مگر حنین ٹال گئی کیوکہ اس کو معلوم تھا وہ جتنا بھی مزنہ کو سچ بتاتی کہ وہ آزھاد ہو نہیں جانتی مگر مزنہ اس کی بات پر کبھی یقین نہیں کرتی اور اس آزھاد کو،،، اس بدتمیز انسان کو تو وہ واقعی نہیں بھولی تھی
وارڈروب سیٹ کرنے کے بعد وارڈروب کی دراز میں سے اپنی دوسری استعمال کی چیزیں نکال کر اس نے بیڈ پر پھیلائی
“حنین باجی رات کا کھانا بنا دیا ہے میں نے، اب میں گھر کے لیے نکل رہی ہو”
صابرہ کا روزمرہ کا یہی روٹین تھا روز حنین کہ کالج سے آنے کے بعد گھر کی صفائی کرنا اور پھر شام کا کھانا بنا کر مغرب تک واپس گھر چلے جانا۔۔۔ صابرہ کے جانے کے بعد حنین نے باہر کا دروازہ لاک کیا اور خود واش روم چلی گئی
مشکل سے دو منٹ ہی گزرے ہوگے اسے باہر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی نوین کے گھر آنے کا سوچ کر وہ مطمئن ہو گئی
آزھاد حنین کا ایڈریس کل ہی معلوم کر چکا تھا، مگر بدلہ لینے کے لیے نہیں۔۔۔ بدلہ تو اس سے حنین لے چکی تھی اسکی نیندیں حرام کرکے،، ایڈریس معلوم کرنے کے بعد اس کا دل حنین کے متعلق سوچے جا رہا تھا اس لیے اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس وقت وہ حنین کے فلیٹ کے دروازے پر موجود تھا۔۔۔ پہلے اس نے سوچا وہ شریفوں کی طرح ڈور بیل بجانے کے بعد گھر میں داخل ہوں مگر حنین نے کبھی بھی آزھاد کو شریف نہیں سمجھنا تھا تو پھر اس نے شریفوں والا طریقہ اپنانے کی بجائے ماسٹر کی سے دروازے کا لاک کھولا اور فلیٹ کے اندر داخل ہو گیا
فلیٹ کے اندر داخل ہوکر وہ سرسری جائزہ لیتا ہوا اس بیڈروم میں داخل ہوا جہاں کی لائٹ ان تھی۔۔۔ بیڈ پر خاص قسم کا بکھرا ہوا سامان دیکھ کر اس کے ہونٹ سیٹی بجانے والے انداز میں سکھڑے
“اونلی تھارٹیٹو”
چیزوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔۔
اس کی نظر واشروم کی جلتی ہوئی لائٹ پر پڑی تو وہ سب چیزوں کو ایک سائیڈ پر کرتا ہوا جوتوں سمیت بیڈ پر لیٹ گیا بیڈ پر پڑا ہوا پیکٹ ہاتھ میں اٹھایا چہرے پر بغیرتی والی مسکراہٹ سجائے وہ اسے گیند کی طرح اچھالتا ہوا حنین کے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگا
حنین واش روم سے باہر نکل کر جو اپنی ڈراز سیٹ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی سامنے بیڈ پر آزھاد کو لیٹا ہوا دیکھ کر بے اختیار اس کے منہ سے چیخ نکلی۔۔۔ آزھاد بیڈ پر لیٹا ہوا، ہاتھ میں اس کی اتنی پرسنل چیز لیے۔۔۔ حنین کا چہرہ شرمندگی سے اور پھر غصے سے سرخ ہونے لگا
“بیڈ ڈیز ویری بیڈ”
آزھاد نے کمینگی سے بولتے ہوئے پیکٹ حنین کے اوپر اچھالا اب وہ حنین کو دیکھتا ہوا مسکرا رہا تھا
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے بیڈروم میں گھس کر یوں میری پرسنل چیزوں کو چھونے کی” حنین اس کی بات کو اگنور کرکے غصے میں بولی
“معلوم نہیں کیوں مگر پہلی ملاقات سے ہی تمہارے اور میرے بیچ میں لفظ “پرسنل” کچھ عجیب سا لگتا ہے۔۔۔ کیا تم اپنے روم میں یہ مینا بازار یونہی سجائے رکھتی ہو”
وہ ابھی بھی بیڈ پر لیٹا ہوا حنین کو اشتیاق بھری نظروں سے دیکھتا ہوا پوچھ رہا تھا
“بند کرو اپنی بے ہودہ گفتگو بدتمیز انسان اور نکلو میرے گھر سے،، ایک منٹ۔۔۔ فلیٹ کا دروازہ تو لاک تھا تم اندر کیسے آئے”
حنین نے اس کو نکل جانے کے لئے بولا مگر اچانک اس کو خیال آیا کہ وہ گھر کے اندر کیسے آیا
“سمجھ میں نہیں آرہا تمہارے اس سوال کو معصومانہ کہو یا بچکانہ”
آزھاد بیڈ سے اٹھ کر حنین کے قریب آتا ہوا بولا
“کیا چاہتے ہو تم۔۔۔ دیکھو تم اپنا بدلہ مجھ سے لے چکے ہو”
حنین اپنے سامنے کھڑے آزھاد کو دیکھ کر بولی تو وہ مزید قدم بڑھاتا ہوا حنین کے پاس آیا حنین پیچھے کی طرف قدم بڑھانے لگی
“کیا چاہتا ہوں میں یہی تو میں بھی سوچے جا رہا ہوں اور اس الجھن کو ہی تو سلجھانے کے لیے تمہارے پاس آیا ہوں۔۔ مگر تمہیں دیکھ کر تو میں مزید الجھ گیا ہوں”
حنین مزید پیچھے ہوتی ہوئی دیوار سے جا لگی آزھاد اس کے نزدیک آ کر غور سے اس کو دیکھتا ہوا بولنے لگا
“دیکھو تم آپ مجھے پریشان کر رہے ہو۔۔۔ پلیز یہاں سے چلے جاؤ”
حنین اس کو اپنے قریب دیکھر گھبراتی ہوئی بولی
“ڈسٹرب پہلے تم نے مجھے کیا ہے۔۔۔ میں اپنے آپ میں الجھ کر رہ گیا ہو اور اس الجھن کو سلجھانے کے لیے تمھیں اب مجھ سے ملنا پڑے گا کیونکہ اب یہ ایک ملاقات مجھے کافی نہیں لگ رہی اگر تم مجھ سے کل ملنے آتی ہوں تو میں ابھی اور اسی وقت ایک شریف آدمی کی طرح تمہارے گھر سے چلا جاؤں گا نہیں تو تم میری بدتمیزیوں سے اب تک اچھی طرح واقف تو ہوگئی ہوگی”
آزھاد اس کے مزید قریب آ کر اپنا چہرہ حنین کے چہرے کی طرف جھکاتا ہوا اس سے کہنے لگا
“تم مجھے اس طرح بلیک میل نہیں کر سکتے، میں تم پر واضح کر چکی ہوں کہ میں ویسی لڑکی نہیں ہوں تم اپنے یہ ڈائیلاک اس لڑکی کے سامنے بولو جو تمہارے اس اسٹائل سے امپریس ہو”
حنین کا سر بعمشکل آزھاد کے کندھے کو چھو رہا تھا حنین اس کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر آزھاد کو پیچھے ہٹانے لگی تاکہ اپنے فرار کا راستہ بنا سکے
“تم مجھے وہ اسٹائل بتاؤ جس سے تم امپریس ہوگی”
آزھاد اپنے سینے پر رکھے حنین کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر دیوار پر لگاتا ہوا مزید حنین کے چہرے کے آگے جُھکا آزھاد غور سے حنین کے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا جبکہ حنین گھبراتی ہوئی اس کی نظروں کو۔۔۔
ڈور بیل کی آواز پر وہ دونوں چونکے
“آئی تھنگ آپی آگئی او گاڈ اب کیا ہوگا”
حنین ایک دم پریشان ہوگئی اور بوکھلاتی ہوئی بولی۔۔۔ آزھاد اس کے دونوں ہاتھوں کو آزاد کرکے پیچھے ہٹا اور اس کے پریشان چہرے کو دیکھ کر مسکرانے لگا
“ارے واہ آپی جی بھی آگئی،، چلو اچھا ہے ان سے بھی ملاقات ہو جائے گی آج”
آزھاد بولتا ہوا کمرے سے نکلنے لگا تب ہی حنین نے اسکا بازو پکڑا
“رکو تم کہاں جارہے ہو”
نوین کے بارے میں سوچ کر تو حنین کی جان پر بن آئی تھی وہ پریشان ہوتی ہوئی آزھاد سے پوچھنے لگی
“دروازہ کھولنے آپی جی کے لیے”
آزھاد حنین سے اپنا بازو چھڑا کر نارمل سے انداز میں بولا اور دوبارہ کمرے سے باہر نکلنے لگا تو حنین اس کے سامنے آئی
“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا آپی تمہیں یہاں دیکھ کر مجھے جان سے مار دیں گیں۔۔۔۔ تم دروازہ نہیں کھول رہے ہو بلکہ بیک ڈور سے واپس جا رہے ہو”
حنین اس کو دیکھ کر جلدی سے بولی
“اور تمہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میں تمہاری بات مانوں گا”
آزھاد حنین کا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھ کر آرام سے اس سے پوچھنے لگا
“آزھاد پلیز،، آپی تیسری بیل کے بعد خود دروازے کا لاک کھولے گی یہاں سے چلے جاؤ”
حنین اب رو دینے والی ہوئی اور آزھاد سے منت کرنے لگی آزھاد کو ہنسی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی کہ وہ اپنی بہن سے کسقدر ڈرتی ہے
“ریلکس ڈارلنگ،،، میں یہاں سے چلا جاتا ہوں لیکن کل میں تمہارا کالج آف ہونے کے بعد انتظار کروں گا۔۔۔ اگر تم مجھے وہاں نہیں ملی تو میں شام میں دوبارہ تمہارے پاس آؤں گا،، تمھارے بیڈ روم میں۔۔۔ تمہارے بےحد نزدیک”
آزھاد اس کو دیکھتا ہوا پیار بھری دھمکی دے کر ڈرائنگ روم کے راستے سے باہر نکل گیا۔۔۔ ویسے ہی نوین چابی سے دروازے کا لاک کھول کر فلیٹ کے اندر داخل ہوئی
_____________
صبح کا آغاز ہوا تو عباس اپنے لیے کافی بنا کر، ہاتھ میں کافی کا مگ تھامے اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا
کافی کا مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا فریم اٹھایا۔۔۔ اب وہ فریم میں موجود تصویر کو دیکھ رہا تھا
“کل رات آنی سے موبائل پر بات ہوئی تھی میری، تب معلوم ہوا انکی طبعیت ٹھیک نہیں آفس سے واپسی پر اب ان سے ملتا ہوا آو گا،،، تمہیں اس لیے بتا رہا ہوکہ تم کہتی تھی کہ میں ہمیشہ اپنے پاپا اور ممی کی طرح کسی بھی رشتے دار سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا، تو اب دیکھ لو میں تمہاری بات کو ویلیو دے رہا ہو تمہارے گھر جاکر “
عباس فریم میں موجود تصویر سے باتیں کرنے لگا پھر تصویر کو واپس ٹیبل پر رکھ کر واش روم میں چلا گیا”
چل میرے گھوڑے ٹک ٹک ٹک چل میرے گھوڑے ٹک ٹک ٹک”
کومل ہاتھ سے فٹبال کو فرش پر مارتی ہوئی لونک فراک کے اوپر دو پونیاں باندھے انیکسی کے اندر داخل ہوئی لیونگ ایریا کراس کرتی ہوئی وہ بیڈروم میں آئی ساتھ ہی ہاتھ میں موجود فٹبال اس نے زور سے سامنے دیوار پر مارنی چاہی مگر فٹبال دیوار کی بجائے سائیڈ ٹیبل پر بھاپ اڑتی ہوئی کافی کے مگ سے ٹکرائی کافی کا مگ برابر میں رکھے فریم پر لگا اور دونوں ہی چیزیں نیچے گری
“یس”
کومل ہاتھ مکا بنا کر مھٹی زور سے ہلاتی ہوی اپنے کارنامے پر خوشی کا اظہار کرتی بولی
شور کی آواز سن کر عباس واش روم سے باہر نکلا کافی کا مگ جو کہ چند سیکنڈ پہلے اس نے ٹیبل پر رکھا تھا اب وہ نیچے فرش پر لڑھک رہا تھا مگر غصہ اسے فریم کے گرنے پر آیا جس کی کرچیاں فرش پر بکھری ہوئی تھی اور دیا کی تصویر پر کھولتی ہوئی کافی گر چکی تھی عباس کی نظر دروازے پر کھڑی کومل پر پڑی جو بڑا سا منہ کھولے اپنے کندھے لہراتی ہوئی ہنس رہی تھی
“یہ کیا کیا تم نے” عباس غصے میں کومل کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“شارٹ مارا تھا” کومل فخر سے اس کو اپنا کارنامہ بتانے لگی
“تمہیں معلوم ہے تم نے میرا کتنا نقصان کیا ہے”
عباس گھورتا ہوا کومل کے پاس آ کر اس سے پوچھنے لگا
“فرینڈ غصہ نہیں کرتے ہیں کومی کے گھر میں بہت سارے کافی کے مگز ہیں وہ تمہیں ان میں سے ایک لا کر دے دے گی”
کومل اپنے نئے فرینڈ کی ناراضگی سے ڈرتی ہوئی بولی
“میں کافی کے مگ کی بات نہیں کر رہا ہوں بلکہ اس تصویر کی بات کر رہا ہوں جو تمہاری اس بچگانہ حرکت کی وجہ سے خراب ہوگئی ہے”
عباس کومل کو گھورتا ہوا بولا
کومل سر نیچے کرکے فرش پر گری تصویر کو دیکھنے لگی جس پر گرم کافی اپنے نشان چھوڑ گئی تھی
“یہ بھی تمہاری فرینڈ ہے”
کومل عباس کا غصہ اگنور کرتی ہوئی معصومیت سے پوچھنے لگی
“نہیں یہ میرے لیے فرینڈ سے بھی زیادہ ہے اور اس کی تصویر کو تم نقصان پہنچا چکی ہو اس لئے اس وقت یہاں سے سیدھی شرافت سے چلی جاؤ” عباس نے کومل کا بازو پکڑ کر اسے اپنے بیڈروم سے باہر نکالا اور بیڈروم کا دروازہ بند کر لیا
“تم فرینڈ نہیں تم انکل ہوں کومی بےبی اب تم سے بات نہیں کرے گی”
کومل کھڑکی سے جھانک کر اسے منہ چڑھاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی غصہ کرنے کی وجہ سے اب عباس فرینڈ سے دوبارہ انکل بن چکا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *