Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08
بچاؤ مجھے”
عباس نے دھڑکتے دل کے ساتھ چھت کی دیوار سے جھک کر دیکھا تو لمبا سانس خارج کیا
چھت کی دیوار سے لگے پائپ (جو کہ پانی ڈرین کرنے کے لیے لگایا گیا تھا) کومل اب چہرے پر خوف کے اثار لائے اس پائپ کو پکڑ کر ہوا میں اپنے دونوں پاؤں چلا رہی تھی
“کومل اپنا ہاتھ دو ایک ہاتھ سے پائپ پکڑی رہنا دوسرا ہاتھ مجھے دو” عباس دیوار سے نیچے جھک کر اپنا ہاتھ کومل کی طرف بڑھاتا ہوا بولا
“کیا کومی بےبی نیچے گرے گی تو وہ مر جائے گی”
کومل نے ایک نظر نیچے ڈرائیور وے پر ڈالی پھر اپنا سر اوپر کرکے عباس سے سوال کرنے لگی
“نہیں یہ اتنی اونچائی نہیں ہے اور کومی بےبی بھی کافی ڈھیٹ شے ہے ایسے نہیں مرے گی بس چند ایک ہڈی ضرور ٹوٹ جائے گی تمہاری،،، اب باقی کی تفریح اوپر آکر کرنا جلدی ہاتھ پکڑاو اپنا”
عباس اپنا غصہ کنٹرول کرتا ہوا مزید دیوار سے جھک کر کومل کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہوا بولا تاکہ کومل اس کا ہاتھ تھام لے
جب کومل نے بغیر کسی بےوقوفی یا پاگل پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہاتھ اونچا کرکے عباس کی طرف بڑھایا تو اس نے شکر ادا کرکے کومل کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور اپنی طرف کھینچتے ہوئے دوسرا ہاتھ بھی پکڑا
کومل کے دونوں ہاتھوں کو کھینچ کر وہ اسے دیوار کے پار چھت پر لانے میں کامیاب ہوا اور اپنا پھولا ہوا سانس بحال کرنے لگا
“واہ تم تو میرے فرینڈ ہونے کے ساتھ ساتھ سپرمین بھی ہو بس پیچھے چادر نہیں ٹنگی ہوئی”
کومل عباس کو خوشی سے دیکھتی ہوئی بولی
جس پر عباس نے اس کا بازو پکڑا اور خاموشی سے سیڑھیاں اترتا ہوا اسے نیچے لایا اس کے کمرے میں لے جا کر اسے بیڈ پر بٹھایا
“ذرا بھی احساس ہے تمہیں کتنا پریشان کرتی ہو تم اپنے گھر والوں کو بدتمیز لڑکی”
عباس کو لگا کہ کمرے میں آکر اب کومل کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے اس لیے اس پر غصہ کرتا ہوا بولا
“کومی بدتمیز نہیں ہے اور لڑکی بھی نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹا سا بےبی ہے”
کومل ناراض ہوتے ہوئے عباس کو دیکھ کر بتانے لگی کیوکہ اس کا فرینڈ دوبارہ بدل گیا تھا اور اس پر غصہ کر رہا تھا
“کوئی بےبی شےبی نہیں ہو تم اچھی خاصی بڑی لڑکی ہو تم،،، آئندہ اگر کوئی اوٹ پٹانگ حرکت کی نہ تو رکھ کر دوں گا”
عباس نے ڈرانے کے لیے ہاتھ فضا میں بلند کیا تو کومل آنکھیں بند کرکے۔ پیچھے ہوئی
“فوراً لیٹو بیڈ پر”
عباس نے ڈپٹتے ہوئے کومل سے کہا کومل جلدی سے بیڈ پر لیٹ گئی
“یہ کمفرٹر کون اوڑھے گا”
عباس گھورتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“تم اڑھاو گے ناں”
کومل کا جواب سن کر وہ اس کو گھورتا ہوا کومل پر کمفرٹر ڈال کر اس کے روم سے باہر نکل گیا
___________
“کیا ہوا کوئی بات ہوگئی ہے”
اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ شاہنواز کی آمد پر نوین نے اسے اسمائل نہیں دی تھی اس کا کوٹ اتار کر ہینگ نہیں کیا تھا شاہنواز اس کے رویے کا نوٹس لیتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“آپ کو یاد ہے چند دن پہلے میں نے بتایا تھا کہ ایک لڑکا ہنی سے اس کا نمبر مانگ رہا تھا اور اس لڑکے نے مجھ سے بھی کافی بدتمیزی کی تھی،، شاہنواز وہ لڑکا آزھاد تھا”
نوین شاہنواز کو دیکھتی ہوئی اس کے سامنے چیئر پر بیٹھ کر شاہنواز کو بتانے لگی
“آزھاد۔۔۔ آزھاد نے حنین اس کا نمبر مانگا تھا”
شاہنواز کو نوین کی بات سن کر کافی حیرت ہوئی کیونکہ شاہنواز اپنے بیٹے کی سرگرمیوں سے واقف تھا وہ پینے پلانے کے چکر میں ملوث رہتا مگر لڑکیوں سے دوستی کافی لمٹ میں رکھتا
“کیوں وہ لڑکا آپ کا بیٹا ہے تو آپ کو یقین نہیں آرہا میری بات کا”
نوین شاہنواز کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“میں نے ایسا کب کہا کہ میں تمہاری بات پر یقین نہیں کر رہا اچھا اٹھو یہاں آؤ”
شاہنواز نے نوین کو چیئر سے اٹھا کر روم میں موجود صوفے پر لا کر بٹھایا اور خود بھی اس کے پاس بیٹھا
“شاہنواز کوئی میرے بارے میں کچھ بھی بات کریں مجھے شاید اتنا برا نہیں لگے مگر کل آزھاد نے ہنی کے متعلق بہت غلط بات بولی ہے،،، آپ ہنی سے میری اٹیچمنٹ جانتے ہیں میری بہن مجھے بے حد عزیز ہے۔۔۔ آزھاد کی باتوں کو لے کر میں کافی ڈسٹرب ہو گئی ہو”
نوین شاہنواز کو کل رات آزھاد کی بولی ہوئی باتیں بتانے لگی جسے سن کر شاہنواز کے ماتھے پر ناگوار لکیر واضح ہوئی
“تم نے مجھے کل رات کو ہی کیوں نہیں بتایا یہ سب”
نوین کے منہ سے آزھاد کی باتیں سن کر شاہنواز کو آزھاد پر غصہ آنے لگا
“میں آپ کو رات کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اس وقت آپ کو یہ سب کچھ اس لیے بتا رہی ہو تاکہ میں اور ہنی آگے جاکر ڈسٹرٹ نہ ہو۔۔۔ ایک بات اور بھی آزھاد کو ہم دونوں کے متعلق شک ہو گیا ہے”
نوین پریشانی سے دیکھتی ہوئی شاہنواز کو بولی تو شاہنواز اس نے نوین کا ہاتھ تھاما
“مجھے اندازہ ہے اس بات کا کہ آزھاد کو کہیں نہ کہیں سے ہمارے متعلق بھنک پڑ گئی ہے خیر تمہیں آزھاد کی باتوں کو لے کر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں سنبمھالوں گا سب اور حنین سے متعلق بھی تم بے فکر ہو جاؤ میں سوچتا ہوں کچھ” شاہنواز کی بات سن کر نوین تھوڑا ریلیکس ہوئی
“میں آپ کے لیے کافی منگواتی ہوں” نوین مسکرا کر صوفے سے اٹھنے لگی
“کافی بات منگوانا پہلے یہاں آؤ”
اس کو اٹھتا ہوا دیکھ کر شاہنواز اپنے بازو پھیلاتا ہوا بولا تو نوین مسکرا کر اس کے سینے سے لگی
“اب کی بار دو دن کیسے گزر گئے بالکل معلوم نہیں ہوئے”
نوین دوبئی میں گزرے ہوئے وہ پل یاد کرکے شاہنواز سے بولی
“میں بھی بالکل یہی سوچ رہا ہوں اب جلد ازجلد کچھ سوچنا پڑے گا”
شاہنواز نوین کو باہوں میں لیے کہہ رہا تھا کہ اچانک اس کے روم کا دروازہ کھلا۔۔۔ وہ دونوں ہی بوکھلا گئے اور پیچھے ہٹے آزھاد روم کے اندر داخل ہوا
“یہ کیا طریقہ ہے اس طرح کسی کے روم میں داخل ہوا جاتا ہے”
شاہنواز صوفے پر بیٹھا رہا جبکہ نوین فوراً کھڑی ہوگئی تھی
اس طرح یوں اچانک آنے کی کوئی ورکر تو ہمت نہیں کرسکتا تھا آزھاد کو دیکھ کر نوین کا منہ حلق تک کڑوا ہوا
“ڈیڈ یہ آفس کسی دوسرے کا نہیں بلکہ میرے باپ کا ہے۔۔۔ اووو غلط بول گیا جتنا یہ افس آپ کا ہے اتنا میرا بھی ہے۔۔۔ کیا کچھ پرسنل کام ہو رہا تھا کافی گھبرا گئے تھے آپ”
آزھاد تنقیدی نگاہوں سے نوین کو دیکھتا ہوا شاہنواز کی کرسی پر جا بیٹھا
“بکواس بند کرو اپنی اور جو کہنے آئے ہو وہ کہو نہیں تو اپنے روم میں جاؤ”
شاہنواز اس کی بات پر بھڑکتا ہوا بولا
“بات تو کرنی ہے آپ سے ڈیڈ مگر کسی دوسرے کے سامنے نہیں۔۔۔ ہے یو گیٹ آؤٹ فروم ہیر”
آزھاد شاہنواز کو جواب ہوا اچانک نوین کو دیکھ کر بولا نوین کا چہرہ غصے اور خجالت سے سرخ ہوگیا
“یہ کون سا طریقہ ہے بات کرنے کا آزھاد، کیا سارے مینرز اور ایٹیکیٹس تم امریکا چھوڑ کر آ گئے ہو معلوم نہیں ہے تمہیں لیڈیز کو کیسے مخاطب کیا جاتا ہے”
شاہنواز صوفے سے اٹھ کر اب آزھاد پر مزید بھڑکتا ہوا بولا مگر آزھاد اتنے ہی مزے سے کرسی پر بیٹھا ہوا جھول رہا تھا
“میں ٹکے ٹکے کے ایمپلائز کے سامنے بات کرنا پسند نہیں کرتا ڈیڈ، اس کو باہر بھیجیں”
آزھاد اب نوین کو بالکل اگنور کرکے شاہنواز کو دیکھتا ہوا بولا
“وہ کہیں نہیں جائے گی جو بھی بولنا ہے اس کے سامنے بولو” شاہنواز برہم ہوتا ہوا بولا
“سر میں آتی ہوں تھوڑی دیر بعد” نوین شاہنواز کو کہہ کر آزاد کو گھورتی ہوئی وہاں سے نکل گئی جس پر آزھاد کے لب پھیلے
“ڈیڈ مجھے یہ آپ کی سیکرٹری کچھ خاص پسند نہیں ہے میں چاہتا ہوں اس کو جلد سے جلد آفس سے فارغ کردیا جائے”
آزھاد اب بہت ریلیکس موڈ میں شاہنواز کو دیکھتا ہوا بولا شاہنواز چلتا ہوا آزھاد کے قریب آیا
“اور نوین کی چھوٹی بہن اس سے تو شاید اس کا موبائل کا نمبر مانگ رہے تھے تم،، ویسے کل کیا دھمکیاں دے رہے تھے نوین کو اس کی بہن کے متعلق”
شاہنواز نے اس کے سامنے کھڑا ہوکر پوچھنے لگا تو آزھاد شاہنواز کو دیکھ کر کرسی سے کھڑا ہوا اور ڈھیٹ بن کر مسکرانے لگا
“ہنی کی بات کر رہے ہیں آپ وہ تو بہت کیوٹ سی ہے شکل بھی شاید اسکی اپنی ماں پر بھی گئی جبکہ آپ کی سیکرٹری نے یقیناً اپنے باپ کے نقش چرائے ہوگے۔۔۔ خیر مجھے نوین کی شکل سے کیا لینا دینا، رہی بات ہنی کے موبائل نمبر لینے کی وہ بات تو اب بہت پرانی بات ہوچکی ہے اب تو میں کچھ اور ہی سوچ رہا ہوں۔۔۔ ویسے میں آپ کو بتادوں کہ کل میں نے نوین کو دھمکی نہیں دی تھی اسے وارن کیا تھا مگر افسوس اس نے میری وارننگ کو دھمکی سمجھا شاید اب کوئی چھوٹا موٹا ٹریلر دکھانا پڑے گا”
آزھاد کچھ سوچتا ہوا شاہنواز سے بولا
“کیا کرو گے تم” شاہنواز غصے میں آزھاد کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“جب سب کو علم ہوگا تو آپ کو بھی معلوم ہو جائے گا بس آپ اپنی سیکرٹری پر کم اور آفس پر زیادہ دھیان دیں”
آزھاد شاہنواز کے دونوں شانوں پر اپنے ہاتھ رکھتا ہوا اسے مشورہ دینے لگا
“آزھاد بات یہ ہے کہ اگر تمہاری کسی بھی حرکت سے نوین کی بہن کو یا نوین کو کوئی بھی تکلیف پہنچی یا پھر کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا تو یاد رکھنا کہ میں تمہارا باپ ہوں اور ابھی تمہیں بہت آرام سے سمجھا رہا ہوں تم شرافت کا مظاہرہ کرو اسی میں تمہاری بھلائی ہے”
شاہنواز اپنے کندھے سے آزھاد کے ہاتھ ہٹا کر اسے سائڈ میں کرکے خود اپنی چیئر پر بیٹھ گیا
“ڈیڈ کیا ہے نہ کہ جو مجھے تکلیف دیتا ہے میں اسے دہری تکلیف دیتا ہوں اور رہی بات نقصان پہنچانے کی تو ایک بزنس مین کو نفع نقصان کا سوچنا ہی نہیں چاہیے اور جہاں تک بات ہے شرافت کا مظاہرہ کرنے کی تو ابھی تک میں نے شرافت کا مظاہرہ ہی کیا ہوا ہے مگر میں ایسا زیادہ دیر تک نہیں کر سکتا۔۔۔۔ آپ کو اپنے بڑھتے ہوئے قدم روکنے ہوگے ڈیڈ ورنہ آگے آپ مجھ سے کسی بھی بات کی توقع کرسکتے ہیں”
آزھاد شاہنواز کو دیکھ کر کہتا ہوں اس کے روم سے چلا گیا
****
آزھاد آفس کے اپنے روم میں آ کر بیٹھا ویسے ہی دروازہ کھلا اور نوین چلتی ہوئی آزھاد کے روم نے آئی ٹیبل پر اپنی دونوں ہتھیلیاں جما کر ہلکا سا جھکی
“کل تم نے جو بھی ہنی کے متعلق کہا آزھاد وہ میں نے بہت مشکل کر کے ضبط کیا تھا، آگے سے میری بہن کے متعلق بولنا تو دور کی بس سوچنا تک نہیں ورنہ نوین مرزا سے تمہیں دشمنی کس قدر مہنگی پڑ سکتی ہے تم اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے
نوین سنجیدگی سے آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی
“کس کی پرمیشن سے تم میرے روم میں آئی ہو یہ میرے باپ کا روم نہیں ہے اور نہ ہی میں اپنے باپ کی طرح ملازموں کو منہ لگانا پسند کرت ہو بلکہ انہیں انکی اوقات میں رکھتا ہوں یہ بات آئندہ کے لئے یاد رکھنا۔۔۔ ایک بات اور بھی یاد رکھنا نوین مرزا اگر تم نے اپنی راہوں کا تعین درست سمت پر نہیں کیا تو تم میرے منہ سے بولے ہوئے الفاظ تو جیسے تیسے نے برداشت کر گئی لیکن اگر تم نے اپنی حرکتیں نہیں چھوڑی تو جو میں تمہاری بہن کے ساتھ کروں گا وہ تمہارے لیے برداشت کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔۔۔ چلو اب دفع ہو جاؤ میرے روم سے” آزھاد اس کو سنجیدگی سے بولتا ہوا ایک بار پھر کرسی پر ریلیکس ہو کر بیٹھ گیا
“تمہیں اپنے ملازموں کو منہ لگانا پسند نہیں ہے نہ آزھاد،،، اب تم دیکھنا ک کہ یہ ٹکے کی ملازمہ کیسے تمہارے سر پر ناچتی ہے۔۔۔ نوین مرزا چیز کیا ہے اور اس کی اوقات کیا ہے اس کا تمہیں بہت جلد اندازہ ہو جائے گا”
آزھاد نوین کو بولتی ہوئی اس کے کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ آزھاد لائٹسر سے سیگریٹ سلگاتا ہوا نوین کی بولی ہوئی باتوں کو سوچنے لگا
****
شاہنواز مجھے آپ سے ضروری بات کرنا تھی لنچ کے بعد شاہنواز ایک فائل میں گھم تھا جب نوین اپنی ٹیبل سے اٹھ کر شاہنواز کی ٹیبل پر آئی
“بولو میں سن رہا ہوں”
شاہنواز نے فائل ایک طرف رکھی اور نوین کی طرف متوجہ ہوا
“مجھے ہنی کے متعلق آپ سے ضروری بات کرنا تھی شاہنواز”
نوین شاہنواز کو دیکھ کر بولی
“بولو کیا کہنا چاہتی ہوں تم ہنی کے بارے میں”
شاہنواز اب غور سے نوین کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
شاہنواز میں خورشید صاحب (مینیجر) کے بیٹے رافع سے ہنی کی شادی کرنا چاہتی ہوں وہ اچھا سُلجھا ہوا لڑکا ہے پلیز آپ اس سلسلے میں خورشید صاحب سے بات کریں”
نوین شاہنواز کو دیکھتے ہوئے بولی سچ تو یہ تھا کہ وہ آزھاد کی باتوں سے ڈر چکی تھی اور حنین کے لیے کوئی رسک نہیں لینا چاہتی تھی
“آر یو سیریز نوین، مجھے حیرت ہو رہی ہے تمہاری اس بچگانہ بات پر۔۔۔ حنین کی ابھی عمر ہی کیا ہے اتنی چھوٹی عمر میں تم اس کی شادی کے بارے میں کیسے سوچ سکتی ہوں۔۔۔ آخر ایسا کیا مسئلہ درپیش آگیا ہے” شاہنواز کو جیسے نوین کی سوچ پر حیرت ہوئی
“شاہنواز آپ میری ٹینشن نہیں سمجھ سکتے مجھے آپ کے بیٹے سے خوف محسوس ہو رہا ہے وہ ہنی کے ساتھ کچھ بھی”
نوین پریشان ہوتی ہوئی شاہنواز کو دیکھ کر بولی
“آزھاد کچھ نہیں کر سکتا حنین کے ساتھ اور شادی ان سب مسلوں کا حل نہیں ہوتا میں نے تمہیں کہا ہے نہ کہ میں حنین کے متعلق سوچوں گا،، یقین کرو کچھ بہتر ہی سوچوں گا۔۔۔ اب ریلکس جاؤ”
شاہنواز نوین کو یقین دہانی کراتا ہوا بولا تو نوین مسکرا کر اٹھنے لگی مگر آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا تو وہ دوبارہ ٹیبل پکڑ کر چیئر پر بیٹھ گئی
“کیا ہوا تم ٹھیک ہو”
شاہنواز اٹھ کر نوین کے پاس آیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فکرمندی سے پوچھنے لگا
“آپ صرف ہنی کا مسئلہ حل کریں باقی دوسرے مسئلے میں خود سولو کر لوں گی”
نوین شاہنواز کو دیکھ کر لاپرواہ انداز میں بولی
“کیا مطلب لو میں تمہاری اس بات کا۔۔۔۔ کیا سولو کرلو گی تم۔۔۔ نوین یہاں میری طرف دیکھو اور مجھے بتاؤ کہ کیا بات ہے”
شاہنواز ایک عمر گزار چکا تھا یوں اچانک نوین کا چکرانا اور اب نظریں چُرانا اسے بہت کچھ سمجھا رہا تھا
“آپ کو احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا شاہنواز،، خیر میں آپ کو اس وقت کوئی ٹینشن نہیں دینا چاہتی،، آج صبح ہی مجھے معلوم ہوا ہے۔۔۔ ایم پریگنینٹ۔۔۔ میں کل ہی گاینالوجیسٹ سے اپوائنمنٹ لے کر اس پروبلم کو سولو کرتی ہو”
نوین اب نرمی سے بولتی ہوئی شاہنواز کا حیرت زدہ چہرہ دیکھنے لگی
“اتنی بڑی بات تم مجھے صبح بتانے کی بجائے اب بتا رہی ہو نویں۔۔۔ تم ہوتی کون ہو یہ فیصلہ کرنے والی،، یہ بچہ میرا ہے یہ میٹر میرا ہے۔۔۔ اسکو کیسے سولو کرنا ہے میں تم سے بہتر جانتا ہوں”
شاہنواز اس سے ناراض ہوتا ہوا بولا اور اب وہ اپنا ہینگ کیا ہوا کوٹ پہن رہا تھا
“پہلے ہی کتنے مسئلہ آگئے ہیں یہ بات بتا کر میں آپ کو ٹینس نہیں کر سکتی تھی اور اس مسئلہ کا سلوشن میں نے نکال لیا ہے وقت اور حالات کے حساب سے یہی سوئٹیبل ہے”
نوین شاہنواز کو دیکھ کر خود بھی کرسی سے اٹھتی ہوئی بولی
“نوین تمہیں ہمارا بچہ مسئلہ لگ رہا ہے”
شاہنواز افسوس سے اس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“تو آپ بتائیں شاہنواز اس وقت یہ مسئلہ نہیں ہے تو اور کیا ہے۔۔۔ دنیا والوں کے سامنے آپ اپنی فیملی کے سامنے میں اپنی بہن کے سامنے کیا جواب دوں گیں ہم”
نوین اب سیریز ہوکر شاہنواز سے پوچھنے لگی
“جو سچ ہے ہم وہی جواب دیں گے اور تم کوئی الٹی سیدھی حرکت نہیں کروں گی۔۔۔ ابھی اور اسی وقت تم میرے ساتھ اپنے پراپر چیک اپ کے لیے چل رہی ہو”
شاہنواز نوین کو دیکھتا ہوا بولا
“ٹھیک ہے مگر اس وقت ہم کہیں نہیں جا رہے، آج آزھاد کا فرسٹ ڈے ہے آفس میں ویسے بھی، میں کل کا اپنی فرینڈ ڈاکٹر شہلا سے اپوائنمنٹ لے لیتی ہو وہ گائنالوجسٹ ہے میں اسی کو چیک اپ کروانا چاہتی ہو یہی ٹھیک رہے گا”
نوین شاہ نواز کا کوٹ اتار کر واپس ہینگ کرتی ہوئی بولی
___________
آج آزھاد کا آفس میں دوسرا دن تو وہ ساری فائلز منگوا کر خورشید صاحب (مینیجر) سے آفس کی معلومات اور ورکرز کے بارے میں جان کاری لے رہا تھا تھوڑی دیر پہلے اس نے لیپ ٹاپ پر موجود سیو ڈیٹا اور ساری فنڈنگ چیک کی تھی
“خورشید صاحب آپ کل لنچ بریک کے بعد ایک میٹنگ آرگنائز کریں جس میں آفس کے تمام ورکرز کی شمولیت لازمی ہو، میں تمام ورکرز کے سامنے ان کے روبرو ہو کر،، انہیں اپنے کام کا انداز اور کچھ قواعد بتانا چاہتا ہوں۔۔۔ یہ فائلز میں نے دیکھ لی ہیں پرسوں جو ٹینڈر ہماری کمپنی کو ملا ہے مجھے اس کی ساری ڈیٹیلز آدھے گھنٹے میں اپنی ٹیبل پر چاہیے”
آزھاد نے خورشید صاحب کو بولتے ہوئے لیپ ٹاپ پیچھے کھسکایا جس پر وہ پچھلے ایک گھنٹے سے نظر جمائے ہوئے تھا، اب وہ اپنا سر پیچھے چیئر ٹیک کر آنکھیں بند کرتا ہوا کرسی پر جھولنے لگا۔۔۔
خورشید صاحب آزھاد کا اشارہ سمجھ کر کمرے سے نکل گئے ابھی اسے چند سیکنڈ ہی گزرے تھے کہ آزھاد کا موبائل بجنے لگا۔۔۔
آزھاد نے آنکھیں کھول کر اپنے موبائل کی اسکرین کو دیکھا اسے واجد کال کر رہا تھا
واجد اس کے آفس کا ہی ایک ورکر تھا جس سے آزھاد کی کل ملاقات ہوئی تھی اس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے آزھاد کو اپنی وفاداری کا بھی بتایا کہ وہ آفس کے متعلق ہر اندر باہر کے معاملے اور آفس کی ہر چھپی ہوئی باتوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔۔۔ آزھاد اس کے چہرے پر چھائی کمینگی دیکھ کر سمجھ گیا یقیناً وہ سہی بول رہا تھا وہ ایسے ہی کاموں میں ماہر انسان ہے تب ہی آزھاد نے اس کو ایک نئے کام پر لگا دیا
“ہاں واجد بولو کیسے کال ملائی”
آزھاد کال ریسیو کرتا ہوا واجد سے پوچھنے لگا
“سر چھوٹا منہ اور بڑی بات مگر خبر بھی بہت ضروری ہے اور بہت بڑی ہے اس وجہ سے آپ کو کال ملائی”
واجد تھوڑا ہچکچاتا ہوا بولا
“فضول گوئی میں ٹائم برباد کرنے والے لوگ پسند نہیں مجھے، کام کی بات پر آؤ فوراً”
آزھاد بیزار ہوتا ہوا اس سے بولا
“سر۔۔ شاہنواز سر اور نوین میڈم آدھے گھنٹے پہلے آفس سے نکلے تھے مگر وہ اس وقت ایک ہوسپٹل میں۔۔۔ میرا مطلب ہے میٹرنٹی ہوم میں موجود ہیں”
واجد کی بات سن کر آزھاد ایک دم کرسی سے سیدھا ہو کر بیٹھا.
جاری ہے
