Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26
صبح کومل کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو اپنے ہی کمرے میں موجود پایا،، رات کے پہر بھی اس کی بیچ میں آنکھ کھلی تھی تب اس نے اپنے کمرے میں وجیہہ اور شاہنواز کو بھی دیکھا تھا وہ دونوں اسے گلے لگا کر باری باری پیار کر رہے تھے
اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں تھوڑی دیر بعد دوائیوں کے زیراثر اس کا دماغ دوبارہ غنودگی میں چلا گیا تھا۔۔۔ اس وقت آنکھ کھلنے پر اس نے اپنے بیڈ پر برابر میں آزھاد کو بیٹھے دیکھا
“ڈیڈ اور مما کہاں چلے گئے بھائی”
کومل اٹھ کر بیٹھتی ہوئی آزھاد سے پوچھنے لگی
“ساری رات ڈیڈ اور مما دونوں ہی تمہارے پاس موجود تھے،، میں تو تھوڑی دیر پہلے آیا ہوں۔۔۔ کیسا فیل کررہی ہو اب”
آزھاد کومل کو دیکھتا ہوا اس کے بکھرے بال درست کرتا اسے پوچھنے لگا
“مجھے کچھ ہوا تھا نا بھائی،، کچھ بہت عجیب سا۔۔۔ کیا ہوا تھا میرے ساتھ”
کومل اپنے بالوں سے آزھاد کا ہاتھ پکڑ کر اس سے پوچھنے لگی۔۔ زیادہ کچھ تو نہیں مگر چند ایک دو عجیب سی حرکت اسے اپنی یاد آ رہی تھی جیسے چھوٹی بچی بن کر ری ایکٹ کرنا،، کھلونوں کے ساتھ کھیلنا رو رو کر کسی بات کی ضد کرنا وہ شاید ایسا کچھ کرتی رہی تھی چند دنوں پہلے
“کچھ بھی نہیں ہوا تھا چند ماہ تک بس تمہاری طبیعت خراب ہو گئی تھی پر اب تم بالکل ٹھیک ہوں”
آزھاد اس کا چہرہ تھام کر اسے بتانے لگا تھوڑی دیر پہلے ہی اس کی کومل کے سائیکیٹرس سے بات ہوئی تھی۔۔۔ جس کے مطابق کومل اب (Shocking period) سے نکل چکی تھی اور آہستہ آہستہ اسے ساری باتیں یاد آتی جائے گی بس اسے ہر طرح کی ذہنی ٹینشن سے دور رکھا جائے اسی طرح کی چند ایک دو ہدایت اور بھی دی گئی تھی
“دیا میری دوست کیسی ہے بھائی” کومل آنکھوں میں آنسو لاتی ہوئی آزھاد سے پوچھنے لگی۔۔۔ آزھاد نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اس کا سر اپنے کندھے پر رکھا اور کومل کے کندھے کے گرد اپنا بازو حاہل کیا
“اس کے بارے میں ہم بعد میں بات کرلیں گے کومل، اب تم زیادہ سوچو گی تو تمہاری طبیعت خراب ہوگی”
آزھاد اسے پیار سے سمجھانے لگا
“ڈیڈ نے دوسری شادی کیوں کی بھائی انہوں نے ایسا کیوں کیا”
کومل اب آزھاد کے کندھے سے سر اٹھا کر اسے پوچھنے لگی
نوین اسے روز ہی آکر یہ یاد دلاتی تھی کہ وہ اس کی دوسری مما ہے نئی والی۔۔۔۔ شاید تبھی اسے نوین کی یہ بات یاد رہ گئی
“کومل میں کہہ رہا ہوں ناں یہ سب باتیں ہم بعد میں ڈسکس کرلیں گے ابھی تمہیں اپنے مائنڈ کو بالکل ریلیکس رکھنا ہے”
آزھاد دوبارہ اسے نرمی سے سمجھانے لگا تب ہی دروازہ ناک ہوا وہ دونوں دروازے پر کھڑے عباس کو دیکھنے لگے۔۔۔ کومل عباس کو دیکھ کر بے ساختہ آزھاد کے سینے سے لگ گئی آزھاد کومل کی حرکت پر چونکا
“کومل سے ملنے آیا تھا اس کی طبیعت کے بارے میں پوچھنے کے لئے کیا میں اندر آ جاؤ”
عباس دروازے پر کھڑا آزھاد سے پوچھنے لگا چند دن پہلے اسے کومل کے کمرے میں آنے کی کسی سے اجازت نہیں لینی پڑتی تھی مگر اب صورتحال تھوڑی مختلف تھی وہ کومل کا اپنے آپ سے ڈر اچھی طرح سمجھ چکا تھا
“پوچھنے کی کیا ضرورت ہے اندر آجاؤ۔۔۔ تم تو کومل کی سب سے اچھے دوست ہو”
آزھاد عباس کو دیکھتا ہوا بولا تو عباس روم کے اندر داخل ہوا۔۔۔وہ آزھاد کے سینے سے لگی ابھی بھی عباس کو دیکھے جا رہی تھی عباس کومل کو دیکھتا ہوا سامنے رکھی کرسی پر بیٹھا،،، بےساختہ کومل نے آزھاد کی آستین کو مضبوطی سے پکڑ لیا
“کیا ہوا کومل عباس سے نہیں ملو گی دیکھو تمہارا فرینڈ تم سے ملنے آیا ہے” آزھاد نے کومل کو بولتے ہوئے خود سے الگ کرنا چاہا مگر اس نے سختی سے اب آزھاد کو پکڑے رکھا وہ آزھاد سے الگ ہونے کو تیار نہیں تھی،، وہ دیکھ عباس کو ہی رہی تھی عباس بھی اسے دیکھنے لگا
اسے وہ وقت یاد آیا جب ایک بار پہلے بھی وہ آزھاد کے سینے سے لگی اسی طرح اسے اجنبیت سے دیکھ رہی تھی مگر جب کہ دیکھنے میں اور آج کے دیکھنے میں کافی فرق تھا اب اس کی آنکھوں میں ہلکا ہلکا خوف بھی ہلکورے لے رہا تھا شاید وہ عباس کو دیکھ کر کل اپنے ساتھ ہونے والا واقعہ یاد کر رہی تھی
“کون فرینڈ میں انہیں نہیں جانتی” کومل عباس کو دیکھتی ہوئی آزھاد سے بولی اس کی بات سن کر جہاں آزھاد کو حیرت ہوئی وہی عباس دکھ سے مسکرایا
“کومل جب تم بیمار تھی اکثرو بیشتر میں تمہیں ٹائم نہیں دے پاتا تب عباس نے تمہاری بہت کیئر کی ہے ایک اچھے دوست کی طرح” آزھاد نرمی سے کومل کو یاد دلاتا ہوا بولا۔۔۔ ڈاکٹر نے آزھاد کو بتایا تھا کہ بہت سی باتیں اسے یاد رہے گی بہت سی باتیں یاد دلانا پڑے گی
“چھوڑو آزھاد اب اسے کچھ بھی یاد نہیں آئے گا بس میں یہی دیکھنے آیا تھا اور تمہیں بتانے کے لئے کہ ایک دو دن میں، میں اپنے گھر میں شفٹ ہو جاؤں گا۔۔۔ جاکر آنٹی سے مل لیتا ہوں پھر آفس کے لئے بھی نکلنا ہے”
عباس اپنی بات مکمل کر کے کرسی سے اٹھا اور کمرے سے نکل گیا
آزھاد کو کومل کے بی ہیویر پر حیرت ہوئی اگر وہ نوین کو یاد رکھ سکتی ہے تو عباس کو کیوں نہیں۔۔۔ کہیں کچھ مسسنگ تھا یا کچھ گڑبڑ، جو آزھاد کو سمجھ میں نہیں آیا مگر وہ اس وقت کومل سے کچھ بھی پوچھ کر اسے مینٹلی اپ سیٹ نہیں کرنا چاہتا تھا
کومل اسی طرح اس کے گلے لگی ہوئی تھی تب وہ دشمنِ جان چلتی ہوئی کومل کے کمرے میں آئی کل تک وہ بھی اس کی شکل دیکھنے کی روادار نہیں تھی اور اپنے رویے سے آزھاد کو کافی ہرٹ کر چکی تھی،، مگر نہ جانے کیوں آزھاد کا دل حنین کے معاملے میں اسے سزا دینے کی بجائے رعایت کرنے پر ہی اُکساتا تھا۔۔۔
“کیسی ہو کومل،، ابھی کوثر سے تمہارے بارے میں معلوم ہوا تھا، تو سوچا تم سے مل لو”
حنین کومل کو دیکھتی ہوئی بیڈ کے پاس آکر رکی تو کومل آزھاد سے الگ ہوکر حنین کو دیکھنے لگی
“آپ”
کومل جیسے حنین کو دیکھتی ہوئی اسے پہچاننے کی کوشش کرنے لگی
“نہیں پہچانا تم نے مجھے، ہماری بات چیت اتنی تھی بھی نہیں شروع دن سے ہی۔۔۔۔ تم اپنے بھائی سے میرے بارے میں پوچھ لو وہ بتا دے گا تمہیں کہ میں کون ہوں”
حنین کومل کو دیکھتی ہوئی بولی تو آزھاد کا دل چاہا کہ وہ اپنی بیوی کی معصومیت پر فدا ہی ہوجائے۔۔۔ کومل اب سوالیہ نظروں سے آزھاد کو دیکھنے لگی
“ہمارے ڈیڈ کی سیکنڈ وائف کی چھوٹی سسٹر ہے یہ۔۔۔ اپنی بہن سے عادتوں میں بالکل مختلف، مگر اپنی بہن کو سب سے زیادہ چاہنے والی” آزھاد حنین کو دیکھتا ہوا کومل سے حنین کا تعارف کرواتا ہوا بولا، اپنے تعارف پر ایک شکوہ بھری نظر حنین نے آزھاد پر ڈالی
“اور بھی طنز کے تیر چلا لو اب تو تمہارا حق بنتا ہے۔۔۔ مگر اپنی بہن سے مکمل تعارف کرواو میرا”
حنین آزھاد کو دیکھتی ہوئی سنجیدگی سے بولی
“مجھے ایک حکیم نے منع کیا ہے کہ صبح صبح چھوٹے قد والی لڑکی کے منہ لگنے سے عقل گھسنے کا خطرہ ہوتا ہے”
حنین کی اجازت کی دیر تھی وہ اس کی ہائیٹ پر طنز کرتا ہوا بولا جس پر کومل حیرت سے آزھاد کو دیکھنے لگی
“شاید میرا پورا تعارف کرواتے ہوئے تمہارے بھائی کو شرم آرہی ہے۔۔۔ میں صرف تمہارے ڈیڈ کی سیکنڈ وائف کی چھوٹی سسٹر ہی نہیں تمہارے بھائی کی بھی وائف ہوں”
حنین کومل کو بول کر ایک نظر آزھاد پر ڈال کر اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ کومل آزھاد کو دیکھنے لگی مگر اب وہ کومل کا حیرت ذدہ چہرہ دیکھ کر مسکرا رہا تھا
“ناراض ہوکر یہ اور بھی زیادی پیاری لگتی ہے اس لیے سوچ رہا ہوں ابھی اسے ناراض ہی رہنے دو”
آزھاد بولتا ہوا کومل کے پاس، بیڈ سے اٹھا۔۔۔ اب اسے خود بھی آفس جانے کی تیاری کرنی تھی
****
“ہنی ایک بار میری بات سن لو پلیز”
کل رات شاہنواز کے ردعمل کہ بعد نوین اپنے کمرے سے باہر ہی نکلی تھی مگر شام میں وہ ہمت کرکے حنین کے کمرے میں چلی آئی
“اب کون سا جھوٹ بولنے آئی ہیں آپ، آپی آپ کو ذرا بھی احساس ہے۔۔۔ کتنی گھٹیا حرکت کی ہے آپ نے،، خود تو معلوم نہیں آپ ابھی بھی شرمندہ ہیں کہ نہیں،،، مگر آپ کی وجہ سے پورے گھر کے سامنے میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔ آپ کو ذرا بھی احساس ہے آپ نے کتنا بڑا بہتان لگایا ہے آزھاد کے اوپر اور آپ کی وجہ سے میں نے اس کو کتنی باتیں سنائی۔۔۔۔ سر، وجیہہ آنٹی سب کیا سوچ رہے ہوگے آپ کے بارے میں،، آپ کے اس عمل کی وجہ سے میں سب لوگوں سے کتنی مشکل سے نظر ملا پاؤں گی آپ پلیز میرے روم سے چلی جائیں آپی”
حنین جوکہ رات سے بھری بیٹھی تھی نوین کا چہرہ دیکھ کر اس پر پھٹ پڑی
“میں سب سے معافی مانگ لوگی مگر خدارا تم تو میرے ساتھ یہ برتاؤ مت کرو، میں بہن ہو تمہاری بالکل اکیلی ہو گئی ہو پلیز ہنی یہ سب کچھ میں نے تمہارے لئے کیا ہے”
نوین اس کے پاس آکر پشیمان لہجے میں بولی
“جھوٹ،، آپ ابھی بھی جھوٹ بول رہی ہیں آپ نے میرے لئے کچھ بھی نہیں کیا آپ نے سب کچھ طرف آزھاد سے نفرت کے لیے کیا ہے اس کو نیچا دکھانے کے لیے،، انتہا کا گرا ہوا کام کیا ہے آپ نے،، مجھے شرمندگی ہورہی ہے آج آپ کو اپنی بہن کہتے ہوئے”
حنین نوین سے کہتی ہوئی اسے روتا ہوا چھوڑ کر خود اپنے کمرے سے باہر نکل گئی
****
“کیا مینو ہے آج رات کے کھانے کا”
حنین کچن میں آئی تو صابرہ کو رات کے کھانے میں مصروف دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“کومل میم کے کہنے پر (Fried rice with chicken chilli) بنا رہی ہو اور ساتھ ہی فش گریوی۔۔۔ آپ کو کچھ اسپیشل کھانے کا دل چاہ رہا ہے تو آپ بتا دیں”
صابرہ مصروف انداز میں حنین سے پوچھنے لگی
“کچھ اسپیشل کھانے کا تو نہیں بنانے کا دل کر رہا ہے۔۔۔ فش گریوی کی بجائے فرائیڈ فش میں بنا دیتی ہو ایک دفعہ پہلے بھی بنا چکی ہو”
حنین کو یہاں رہتے ہوئے معلوم ہوگیا تھا سی فوڈز کے سارے ایٹم آزھاد کے لئے بنائے جاتے ہیں یہ اسی کو پسند تھے۔۔۔ اس لئے آج حنین نے خود سے آزھاد کے لئے فرائیڈ فش بنانے کا سوچا
“تجربہ کرنے کی ضرورت نہیں حنین، ایک رات کا کھانا ہی سب ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں، تمہارا اگر خود سے کھانا بنانے کا دل چاہ رہا ہے تو بیشک دوپہر میں بنا لینا ابھی صابرہ کو کوکنک کر لینے دو”
حنین نے پلٹ کر دیکھا کچن کے دروازے کے ساتھ ویل چیئر پر وجیہہ بیٹھی اس سے مخاطب تھی
اس کے لہجے میں کسی قسم کی سختی یا تلخی تو نہیں تھی مگر اس کا لہجہ نرمی سے بھی عاری تھا۔۔۔ وہ بنا تاثر کے حنین کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ حنین اس کی بات سن کر اثبات میں سر ہلا کر خاموشی سے کچن سے چلی گئی
****
کھانے سے فارغ ہو کر وہ چاروں سیٹنگ روم میں بیٹھے تھے تو وہ حنین بھی جھجھگتی ہوئی وہی ان کے پاس آ گئی اور ایک صوفے پر بیٹھ گئی
کھانے کی ٹیبل پر بھی نوین کے علاوہ وہ چاروں ہی موجود تھے۔۔۔ تب بھی حنین کسی کے بلاوے کا انتظار کیے بغیر خود سے کھانے کی ٹیبل پر آگئی تھی
نوین کھبی بھی اسے یوں سب کے ساتھ بیٹھنے نہیں دیتی تھی۔۔۔ اس لیے وہ یہاں پر بیٹھی تھوڑی سی اجنبیت فیل کر رہی تھی۔۔۔ مگر آزھاد کی فیملی ہی اس کی فیملی تھی اور اسے خود کو اس فیملی میں ایڈجسٹ کرنا تھا
آزھاد معلوم نہیں کومل کے برابر میں بیٹھا ہوا آہستہ آہستہ اس سے کیا باتیں کر رہا تھا۔۔۔ اس نے صرف حنین کے روم میں آنے پر ایک نظر حنین کو دیکھا تھا اس کے بعد وہ مسلسل کومل سے ہی باتیں کر رہا تھا جبکہ شاہنواز وجیہہ کے برابر میں بیٹھا ہوا کافی کے چھوٹے چھوٹے سپ لیتا ہوا اپنا موبائل دیکھ رہا تھا۔۔۔ وجیہہ ہی کافی پیتے ہوئے ایک آدھ نظر حنین پر ڈال لیتی،، مگر وہ نظر ایسی ہوتی جسے حنین نے اپنے آپ کو وجیہہ کو مخاطب کرنے سے باز رکھا ہوا تھا۔۔۔ حنین خاموشی سے سر جھکا کر کافی کے چھوٹے چھوٹے سپ لینے لگی
“آپ کس بات پر مسکرا رہی ہیں کوئی لطیفہ تو سنایا نہیں کسی نے اس وقت”
شاہنواز ٹیبل پر اپنا موبائل رکھتا ہوا وجیہہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا تو حنین سمیت آزھاد اور کومل کی توجہ بھی وجیہہ کی طرف مندمل ہوئی
“لطیفہ پر مسکرایا نہیں ہنسا جاتا ہے شاہنواز مگر میں آج اپنی فیملی کو دیکھ کر خوش ہو رہی ہو اور یہ مسکراہٹ اسی کی علامت ہے۔۔۔ کافی دنوں بعد ہم سب یوں مل کر بیٹھے ہیں ایک ساتھ تو بہت اچھا لگ رہا ہے مجھے”
وجیہہ کی بات سن کر حنین کو اپنا آپ اس فیملی میں مس فٹ لگا۔۔۔ آزھاد کافی کا سپ لیتا ہوا اس کو نروس ہوتا دیکھنے لگا
“بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ،، اس موقع پر ایک فیملی فوٹو تو بنتی ہے کیا خیال ہے آپ کا”
شاہنواز نے وجیہہ کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکرائی۔۔۔ آزھاد نے اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا۔۔۔ شاہنواز اور وجیہہ کے قریب آیا
“فیملی فوٹو سے پہلے ایک تصویر مسٹر اینڈ مسز شاہنواز کی ہوجائے” آزھاد اپنے موبائل سے شاہنواز اور وجیہہ کی تصویریں کھینچنے لگا جس پر کومل کے ساتھ حنین کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئی
اب کومل اپنی جگہ سے اٹھ کر شاہنواز کے پاس بیٹھ گئی تو آزھاد نے شاہنواز وجیہہ اور کومل کی تصویر کھینچی ایک نظر وہ حنین پر ڈال کر خود بھی صوفے پر وجیہہ کے برابر میں بیٹھ گیا
“بھابھی فیملی فوٹو لی جا رہی ہے آپ بھی ہماری فیملی کا حصہ ہیں وہاں کیوں بیٹھی ہیں”
کومل حنین کو دیکھتی ہوئی بولی تو حنین اپنی جگہ سے اٹھ کر آزھاد کے برابر میں بیٹھ گئی تب آزھاد نے دو تین سیلفی بنائی
“اس فیملی فوٹو کے بعد کیوں ناں ایک دو تصویریں مسٹر اینڈ مسسز آزھاد کی ہوجائیں”
سیلفی بنانے کے بعد حنین اٹھ کر واپس اپنی جگہ پر جانے لگی تب کومل نے آزھاد کے ہاتھ سے موبائل لیا اور حنین کا ہاتھ پکڑ کر اسے آزھاد کے ساتھ کھڑا کرتی ہوئی بولی جس پر شاہنواز مسکرایا
“بھائی آپ سے اچھے پوز تو ڈیڈ مما کے ساتھ پکچر لیتے ہوئے بنا لیتے ہیں آپ تھوڑا سا بھابھی کے قریب ہوکر تو کھڑے ہوجائے”
کومل کی بات سن کر آزھاد نے اسے آنکھیں دکھائی
“خاموشی سے تصویریں کھینچو اور مجھے میرا موبائل واپس دو”
آزھاد گھورتا ہوا کومل کو بولا۔۔۔ وہ آزھاد کے گھورنے کا نوٹس لیے بغیر ان دونوں کے قریب آئی اور آزھاد کا ہاتھ پکڑ کر حنین کے کندھے پر رکھا پھر تصویریں لینے لگی
****
صبح آٹھ بجے حنین کی الارم سے آنکھ کھلی۔۔۔۔اتنی صبح کا الارم اس نے لگایا ہی اس وجہ سے تھا کہ وہ آزھاد کے آفس جانے سے پہلے اسے مناسکے۔۔۔ حنین جلدی سے مگر پانی کے چھینٹے مار کر بالوں میں برش کرتی ہوئی اپنے کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ آزھاد کے کمرے میں بنا ناک کیے دروازے کا ہینڈل گھما کر وہ اندر داخل ہوئی۔۔
دروازہ کھلنے پر آزھاد نے کمرے میں داخل ہوتی حنین کو دیکھا،، وہ اس وقت آفس جانے کی تیاری کر رہا تھا حنین کو اپنی طرف آتے دیکھ کر بھی وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنے بالوں میں برش پھیرنے لگا،، حنین نے آزھاد کی پشت پر اپنا سر ٹکا کر اپنے دونوں ہاتھوں کو آزھاد کے سینے سے اوپر لے جاتی ہوئی اس کے شولڈر پکڑے۔۔۔ بال کاڑھتے ہوئے آزھاد کے ہاتھ وہی تھم گئے،، آزھاد کو اپنی شرٹ پر نمی سی محسوس ہوئی جس سے اس نے اندازہ لگایا حنین اس کی پشت سے چہرہ ٹکائے شاید رو رہی تھی۔۔ آزھاد نے اپنے شولڈر پر رکھے حنین کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اس کو اپنے سامنے کھڑا کیا
“کس بات پر رونا آرہا ہے”
وہ حنین کے آنسو صاف کرتا ہوا سنجیدگی سے حنین کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔ بس اتنا کہنے کی دیر تھی حنین نے ایک بار پھر اس کے سینے سے لگ کر رونا شروع کردیا
“کس طرح اگنور کر رہے ہو تم کل سے اور پھر پوچھتے ہو کہ رونا کیوں آ رہا ہے”
وہ آزھاد کے سینے سے لگی ہوئی اس سے شکوہ کرنے لگی
“میں نے صرف کل اگنور کیا ہے اور تم تین دن سے اگنور کر رہی تھی مجھے”
آزھاد اس کی کمر پر اپنے دونوں بازو باندھتا ہوا سنجیدگی سے بولا
“ایم سوری آزھاد میرے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ آپی ایسا بھی کر سکتی ہیں، میں نے آپی کی وجہ سے تمہیں ہرٹ کیا اور آپی کی وجہ سے میں خود ہرٹ ہوگئی۔۔۔ میں نے اس وقت تمہیں غلط سمجھا، میں سمجھی تم نے غصے میں آپی کے ساتھ غلط کیا ہوگا مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا آپی اس حد تک چلی جائے گیں۔۔۔ انہوں نے جھوٹ کا سہارا لیا سر سے شادی کرنے کے بعد مزید جھوٹ بول کر تم پر الزام لگایا مجھے بہت شرم محسوس ہو رہی ہے آپی کے اس عمل سے”
حنین آزھاد کے سینے سے لگی مزید اپنے دل کا غبار نکالنے لگی۔۔۔ آزھاد نے اس کا چہرہ تھام کر خود سے الگ کیا
“اس ویڈیو کو دکھانے کا مقصد تمہیں یا ڈیڈ کو شرمندہ کرنا یا دل دکھانے کا نہیں تھا ہنی، میں صرف حقیقت منظر عام پر لانا چاہتا تھا لیکن تم اس طرح رو گی تو مجھے لگے گا میں نے یہ غلط کیا”
آزھاد حنین کا چہرہ تھام کر اونچا کرتا ہوا اس کے آنسو صاف کرنے لگا
“تم نے غلط نہیں کیا آپی نے بہت غلط کیا تمہارے ساتھ، تم پر اتنا بڑا الزام لگا کر۔۔۔۔ سر کا ٹرسٹ بھی توڑا اور وجیہہ آنٹی وہ کیا سوچ رہی ہوگیں آپی کے بارے میں”
شاہنواز نے پرسوں رات کے بعد سے نوین سے لاتعلقی برتی ہوئی تھی وہ تو اس کے کمرے میں نہیں رہا تھا پھر حنین وجیہہ کے رویے کو سوچتی ہوئی آزھاد سے بولی
“ڈارلنگ تم اپنی آپی کو نہیں جانتی وہ بہت اسمارٹ ہے،، ایک دو دن میں ہی تمہیں اور ڈیڈ کو منانے میں کامیاب ہوچکی ہوگی یہ تم لکھ کر رکھ لو اور اب یہ اپنا آپی نامہ بند کرو،،، یہ بتاؤ کہ کل رات تم نے ڈنر کیو نہیں کیا تھا ٹھیک سے”
وہ اسے اونچا کرکے ڈریسر پر بٹھاتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ حنین کو حیرت ہوئی کل رات وہ کس طرح لاتعلقی شو کر رہا تھا مگر وہ اتنا بھی لاتعلق نہیں تھا
“تم نے اگنور کیا ہوا تھا تو بھوک ہی مر گئی تھی میری”
حنین کے بولتے ہی آزھاد نے جھک کر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے
اپنے لبوں کی پیاس بجھا کر وہ پیچھے ہوا اور غور سے حنین کو دیکھنے لگا
“ہنی ڈیئر تمہارا یوں صبح صبح میرے لئے جاگ کر میرے روم میں آنا مجھے بہت اچھا لگا اور اسی خوشی میں، آج رات میں تمہیں اپنے ساتھ ڈیٹ پر لے جانا چاہتا ہوں کیا تم آج رات میرے ساتھ ڈیٹ پر جانے کے لئے تیار ہو”
آزھاد کے فلمی انداز میں ڈیٹ کی پیشکش پر حنین کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی
“میں سوچ کر شام تک بتا دوں گی”
حنین نے ڈریسر سے نیچے اتر کر اترتے ہوئے جواب دیا جس پر آزھاد گھورتا ہوا مزید اس کے قریب آیا اور روعب جمانے والے انداز میں ڈریسر پر دونوں ہاتھ رکھتا ہوا اس پر جھکا
“اوکے۔۔۔۔ اب تمہارا اتنا ہی دل کر رہا ہے میرے ساتھ ڈیٹنگ کے لیے تو میں مان جاتی ہوں مگر یاد رہے،، مجھے ڈیٹ کرنے کے لیے ڈیسنٹ طریقہ اپنانا پڑے گا تمہارا یہ بدتمیزوں والا طریقہ کار اور چھچھورں والا انداز مجھے ذرا بھی پسند نہیں”
حنین آزھاد کے گھورنے پر اور یوں روعب دکھانے پر اس پر احسان کرتی ہوئی بولی
“ڈارلنگ ڈیسنٹ طریقہ کار صرف ڈیٹ کرنے تک اپنا سکتا ہوں مگر تمہیں اپنے بیڈ روم میں لانے کے بعد مجھ سے ایسی کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ زیادہ دیر تک ڈیسنٹ بننا میری طبیعت میں شامل نہیں”
آزھاد بولتا ہوا اپنے ہونٹ حنین کے چہرے کے قریب لایا نرمی سے گال کو چھوتے ہوئے اچانک گال پر کاٹا۔۔۔ حنین نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے ہلکا سا مُکا آزھاد کے سینے پر لگایا جس پر وہ ہنسا
“چلو بریک فاسٹ کے لیے ورنہ آفس کے لیے لازمی لیٹ ہو جاؤں گا”
آزھاد حنین کا ہاتھ تھام کر روم سے باہر جانے لگا
“ہنی مجھے تم سے بات کرنی ہے”
آزھاد حنین کا ہاتھ تھام کر اپنے روم سے باہر نکلا تو نوین ان دونوں کے سامنے آ کر بولی اس کی نظر حنین کے ہاتھ پر تھی جو کہ آزھاد کے ہاتھ میں تھا
“آزھاد آفس جانے کے لیے لیٹ ہو رہا ہے، ہم دونوں اس وقت بریک فاسٹ کرنے کے لیے جارہے ہیں آپ کو جو بھی بات کرنی ہو بعد میں کرلئے گا”
حنین کا جواب سن کر نوین اس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی یقیناً اس کا سچ سامنے آنے کے بعد اب حنین اس کی کوئی شرط نہیں مانے گی نوین کو اندازہ ہوگیا تھا
“چلو ہنی”
آزھاد نے حنین کا ہاتھ چھوڑ کر اس کے شولڈر کے گرد اپنا ہاتھ رکھا اور جتاتی ہوئی نظر نوین کے اوپر ڈالتا ہوا اسے اپنے ساتھ لے گیا
“شاہنواز بھی میری بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے اور یہ بھی ہنی کو مجھ سے چھین لے گا”
نوین نے ان دونوں کو ایک ساتھ جاتا دیکھ کر خوف سے سوچا.
جاری ہے
