Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14
آزھاد پلیز میرے ساتھ یہ سب نہیں کرو”
حنین بیڈ پر سے اٹھتی ہوئی اپنے آنسو روک کر آزھاد سے بولی وہ جو اس کے قریب بڑھتا ہوا آ رہا تھا حنین کو اپنے حصار میں لے لیتا ہوا بولا
“تو پھر تم بنا چوں چرا کے نکاح نامے پر سائن کر دینا”
آزھاد حنین کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا نرمی سے بولا حنین کو آزھاد کی بات سن کر حیرت کا جھٹکا لگا وہ اس کا چہرہ دیکھنے لگی جیسے وہ اس کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں آزھاد اسے بالکل سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا تب حنین کا سر نفی میں ہلایا
“نہیں میں تم سے نکاح نہیں کر سکتی”
حنین کی بات سن کر آزھاد نے اس کی کمر کے گرد اپنی گرفت اور بھی سخت کی
“کس سے کرنا ہے پھر نکاح اس رافع سے”
اب کی بار آزھاد لہجے میں سختی لاتا ہوا حنین سے پوچھنا لگا
“جس سے بھی کرنا ہے مگر تم سے نہیں کرنا،، تم مجھ سے اس طرح زبردستی نہیں کرسکتے”
آزھاد کی سخت گرفت میں وہ مچلتی ہوئی اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کرکے بولی
“آج تو دونوں صورت ہی زبردستی ہوگی،،، زبردستی نکاح یا پھر”
آزھاد نے اپنی بات ادھوری چھوڑ کر حنین کی کمر سے اپنا ہاتھ اوپر لے جاتا ہوا میکسی کی زپ کھولنی چاہی
“آزھاد نہیں پلیز”
حنین نے روتے ہوئے زور زور سے اپنے ہاتھ اس کے سینے پر مارنے شروع کر دیے۔۔۔ آزھاد نے اس کی دونوں کلائیاں پکڑی
“تمہاری بہن نے میری ماں کے ساتھ اچھا نہیں کیا ہنی مگر میں چاہ کر بھی تم سے غلط نہیں کرسکتا لیکن آج اگر تم نے نکاح نامے پر سائن نہیں کیے تو میرے لئے بہت مشکل ہو جائے گا اپنے اندر کے جانور کو سلانا”
آزھاد اس کو دونوں کلائیوں سے پکڑ کر بیڈ تک لایا اور لاکر بٹھایا
“ہم دونوں کے نکاح کی صورت میں ہی تم واپس اپنی بہن سے مل سکتی ہو،، جب کہ تمہاری مزید ضد سے، نہ صرف تم اپنی بہن کا چہرہ دیکھنے کو ترس جاو گی بلکہ ساری زندگی تمہیں اسی فلیٹ میں گزارنی ہوگی۔ ۔۔ میرے ساتھ، بغیر کسی رشتے کہ۔۔ یقین مانو یہ نکاح والے آپشن سے زیادہ مشکل ہوگا”
آزھاد حنین سے بات کرتا ہوا وارڈروب کے پاس آیا اندر سے لال رنگ کا ڈوپٹہ جس کے چاروں طرف گولڈن کلر کا کام ہوا تھا۔۔۔ حنین کے پاس لایا دوپٹے کی تہہ کھول کر اب وہ دوپٹہ، آزھاد حنین کو سر پر اوڑھانے لگا
حنین کو دوپٹہ اوڑھانے کے بعد آزھاد نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنا سامنے کھڑا کیا، اب وہ غور سے اسے دیکھنے لگا پھر اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر حنین کے گال سے آنسو صاف کرنے لگا
“میں تمہیں آج کے دن کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گی”
حنین ناراض نظروں سے آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی
“اوکے مت کرنا مجھے معاف بس نکامے پر سائن کر دینا”
آزھاد حنین کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا وہ گم سم سی گرنے کے انداز میں بیڈ پر بیٹھ گئی
کتنی مشکل سے تو اس نے اپنے دل کے دروازے آزھاد کے بار بار دستک دینے پر بھی بند رکھے تھے۔۔۔ کیوکہ وہ جانتی تھی نوین کبھی بھی ایسا نہیں چاہے گی۔۔۔ وہ خود نوین کے خلاف جا کر کوئی کام کیسے کر سکتی تھی نوین اسکی بہن تھی جس نے اسے پالا بڑا کیا تھا
اور آزھاد۔۔۔ اس کی طرف سے بھی تو حنین کو کم خدشات لاحق نہیں تھے،، اس کے ڈرنک کرنے کی عادت،،، اس کے گھٹیا دوست اور سب سے بڑی بات آزھاد کا نوین سے نفرت کرنا۔۔۔ آج کے دن اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا وہ اس سے بالکل بے خبر تھی اسلیے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی
****
“آگئے تم دونوں یہ واجد کیوں نہیں پہنچا ابھی تک نکاح خواں کو لے کر”
آزھاد کمرے سے باہر نکلا تو فصیح اور مُکرم کو اپنے فلیٹ پر موجود پایا ان دونوں کو دیکھتا ہوا بولا
“اتنی جلدی کیا ہے تجھے اپنے نکاح کی،، اندر سے رونے کی آواز سے تو لگ رہا تھا کہ معرکہ نکاح سے پہلے ہی پار کر لیا”
فصیح معنی خیزی سے آزھاد کو دیکھتا ہوا بولا
“شٹ آپ فصیح دوستی میں مذاق ایک لمٹ تک پسند ہے مجھے، آئندہ اپنا منہ کھلنے سے پہلے سوچنا ورنہ میں دوستی کا لحاظ کیے بنا تمہارا منہ توڑ دوں گا”
آزھاد فصیح پر آیا غصہ کنٹرول کرکے بولا اس وقت اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا
“یار عجیب پاگل آدمی ہے تو مطلب کچھ بھی بول دیتا ہے”
مُکرم مزید فصیح کو جھڑکتا ہوا بولا
ڈور بیل بجنے پر ان تینوں کی توجہ دروازے کی طرف گئی مُکرم نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو واجد کے ساتھ قاضی اور دو افراد اور بھی فلیٹ کے اندر داخل ہوئے
نکاح کا مرحلہ شروع ہوا تو حنین سے رضامندی لینے اور سائن کروانے نکاح خواں کے ساتھ آزھاد بھی کمرے میں گیا
“میں نے قبول کیا”
نکاح خواں کے پوچھنے پر حنین نے آزھاد کو نظر اٹھا کر دیکھا اس کی آنکھوں میں سخت وارننگ تھی تب حنین نے بولا اور نکاح نامے پر بہت سست انداز میں سائن کیے۔۔۔ جس پر آزھاد ریلیکس ہوا جیسے کوئی بہت بڑا معرکہ تہہ ہوا ہو جبکہ خود آزھاد نے بہت پھرتی سے نکاح نامے پر سائن کیے تھے
****
“آج کل کون سی لڑکی اپنے نکاح پر اتنا روتی ہے”
سب کام سے فارغ ہونے کے بعد آزھاد حنین کے پاس روم میں آیا تو اسے آنسوؤں بہاتا ہوا دیکھ کر بولا۔۔۔ ڈھیر سارا رونے کی وجہ سے اس کی آنکھوں کا سارا کاجل بہہ کر دونوں گالوں تک آ چکا تھا
“اگر کسی لڑکی کو مجبور کرکے اس سے زبردستی نکاح کیا جائے تو وہ ایسے ہی روتی ہے”
حنین آزھاد کو تڑخ کر جواب دیتی ہوئی بولی۔۔۔ آزھاد گہرا سانس خارج کر کے بیڈ پر حنین کے پاس بیٹھا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھے ٹشو باکس سے ٹشو نکالا
“مجھے مجبوراً ایسا کرنا پڑا کیوکہ آرام سے تم ہاتھ ہی کہاں آرہی تھی۔۔۔ ویسے ان آنسوؤں کا سبب صرف زبردستی نکاح کرنا ہی ہے ناں۔ ۔۔ یا کہیں رافع کو دل ول تو نہیں دے بیٹھی تھی”
آزھاد ٹشو پیپر سے بہت احتیاط سے اس کے دونوں گالوں پر پھیلا ہوا کاجل صاف کرتا ہوا آرام سے پوچھنے لگا۔۔۔ آزھاد کی بات سن کر ہنی نے غصے میں آزھاد کا ہاتھ اپنے گال سے جھٹکا
“یار شک تھوڑی کررہا ہوں تم پر، صرف سوال پوچھ رہا ہوں”
آزھاد حنین کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھتا ہوا بولا بھرپور کوشش کرنے کے بعد بھی وہ اس وقت سیریس ہونے کی ایکٹنگ نہیں کر سکتا تھا کیوکہ اس کی مسکراہٹ چھپائے نہیں چھپ رہی تھی جو حنین کو اس وقت زہر لگی
“تمہارے شک کرنے سے مجھے رہتی برابر بھی فرق نہیں پڑنے والا، ویسے بھی اب کیا ہوسکتا ہے کونسا میں رفع سے رشتہ جوڑ سکتی ہوں”
وہ ایک گھنٹے سے اب تک اس کا کافی خون جلا چکا تھا حنین نے بھی اس کا دل جلانا چاہا مگر حنین کی بات سن کر اب وہ بےشرمو کی طرح کھل کر ہنس رہا تھا
“اگر رفع سے تمہیں رشتہ جوڑنے کا زیادہ ہی شوق چڑھا ہے تو میں تمہاری خواہش کا احترام کرتے ہوئے پوری کوشش کروں گا کہ رافع کو ہمارے بچوں کا بہت جلد ماموں بناؤ”
آزھاد کی بات سن کر حنین مزید جل گئی وہ کلائی پر بندھی ہوئی ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھتا ہوا کھڑا ہوا
“اب ہمیں نکلنا چاہیے ہنی جلدی سے اپنی اونچی ہیںلز پہنو تاکہ تھوڑا بہت ہی سہی میری ٹکر پر آؤ”
اب وہ بالکل سنجیدگی سے حنین کو دیکھتا ہوا یقیناً اس کی ہائٹ پر ٹونٹ کر رہا تھا حنین اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی
“کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو اب یہ مت سوچنا کہ تمہیں اپنی بیوی بنا کر تمہیں ہیلز بھی اپنے ہاتھوں سے پہناؤں گا۔۔ اس طرح کا مرد میں بالکل بھی نہیں ہوں پہلے ہی بتا دو” حنین کے گھورنے پر وہ سیریس ہو کر بولا۔۔۔ حنین بیڈ سے اٹھ کر اس کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی
“بےہوشی کے وقت میرے پاؤں سے ہیلز کس ٹائم کے مرد نے اتاری تھی، اور تمہیں ٹکر دینے کے لیے مجھے یہ ہیلز کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے تم جیسے اونٹ کا میں ایسی ہی مقابلہ کر سکتی ہو”
آزھاد سر جھکا کر حیران ہونے کی ایکٹنگ کے ساتھ بہت غور سے حنین کی باتیں سن رہا تھا
“پہلے میرے بیڈروم میں تو چلو ڈارلنگ پھر کرلیں گے مقابلہ اور دیکھے گے کون کس کو زیر کرتا ہے”
آزھاد کا دل چاہا کے اس کے سرخ ہونٹوں پر اپنے پیار کی مہر لگائے وہ حنین کی ہونٹوں پر جھکا مگر حنین اسے پیچھے دھکا کر بیڈ پر بیٹھتی ہوئی اپنی سینڈلز پہننے لگی
نہ جانے کیوں مگر اسے ابھی رونا آنے لگا۔۔۔ آزھاد غور سے اس کی فیس ایکسپریشن دیکھنے لگا پھر حنین کے پاس آکر اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کرنے لگا اب حنین کا سر اس کی تھوڑی کو چھو رہا تھا۔۔۔ آزھاد نے اس کے سر پر ٹکے ہوئے سرخ دوپٹے کا گھونگھٹ نکالا
“یہ بہت ضروری ہے، تمہارے چہرے پر میری نظریں ٹکی رہی تو ڈرائیونگ کیسے کرو گا”
آزھاد ڈوپٹے سے اس کا چہرہ چھپاتا ہوا اب کی بار پوری ایمانداری سے اپنے دل کی بات بولنے لگا
دوسری طرف حنین کو بھی آزھاد کا گھونگھٹ نکالنا صحیح لگا کم از کم اب وہ اس کے آنسو تو نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ جو حنین اب کی بار دوبارہ اس کے سامنے بہانہ بھی نہیں چاہتی تھی
گھونگھٹ نکالنے کے بعد آزھاد حنین کا ہاتھ تھام کر اسے فلیٹ سے باہر لے جانے لگا۔۔۔ حنین کو لگا کہ آزھاد نے اس کا ہاتھ تھام کر صحیح کیا یہ بھی ضروری تھا گھونگھٹ کی وجہ سے اور اونچی ہیلز کی وجہ سے شاید وہ ٹھیک سے چل نہیں پاتی۔۔۔ اس لیے وہ خاموشی سے اس کا ساتھ دیتے ہوئے چلنے لگی
****
کار کے بریک لگنے پر سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔۔۔ وہ شاہنواز اور نوین دونوں پر دھماکا کرکے حنین کو اپنے ساتھ گھر لے آیا تھا۔۔۔ اپنے نکاح کی خبر سے شاہنواز اور نوین کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر تو آزھاد کے دل میں ٹھنڈک پڑی ہی تھی مگر اب باری تھی یہ حقیقت وجیہہ کے سامنے لانے کی
“کن سوچوں میں گم ہو گئی ہو۔۔۔ ابھی بیڈروم میں فوراً تھوڑی جائیں گے ابھی تو تمہیں تمہاری اس اصلی والی ساس سے بھی ملوانا ہے”
آزھاد حنین کی طرف کا کار کا دروازہ کھولے کھڑا تھا حنین کار سے باہر نہیں نکلی اسے دیکھنے لگی۔۔۔ آزھاد نے آگے بڑھ کر حنین کا ہاتھ تھاما اور اسے کار سے باہر نکالا اب وہ اسے گھر کے اندر لے کر جا رہا تھا
___________
“آزھاد کال کیوں نہیں ریسیو کر رہے تھے میں کب سے تمہیں کال۔۔۔ یہ کون ہے”
آزھاد جیسے ہی ہال کے اندر داخل ہوا وجیہہ اپنی وئیل چیئر پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی اپنی بات مکمل کیے بنا وہ آزھاد کے ساتھ اندر آتی لڑکی کو دیکھ کر آزھاد سے پوچھنے لگی
“موبائل شام سے ہی سائلنٹ موڈ پر تھا کیوں خیریت کیا ہوا۔۔۔ کومل کیا کر رہی ہے”
آزھاد اپنا موبائل پاکٹ سے ٹٹولتا ہوا کومل کے بارے میں پوچھنے لگا
“ہاں سب خیریت تھی کومل تھوڑی دیر پہلے ہی سوئی ہے،،، یہ کس کو اپنے ساتھ لائے ہو”
وجیہہ حنین کو دیکھتی ہوئی آزھاد کی باتوں کا جواب دے کر آخر میں اس سے دوبارہ حنین کا پوچھنے لگی
“مما یہ حنین ہے” آزھاد نے بولنے کا آغاز کیا سب کے سامنے تو وہ بہت بے باک اور نڈڈر ہوکر بولا تھا وجیہہ کے سامنے بس اتنا ہی بول پایا
“صحیح۔۔۔ اب آگے بولو”
وجیہہ سجی سنوری خوبصورت لڑکی کو دیکھنے کے بعد آزھاد کی طرف دیکھ کر بولی
“یہ کیا بتائے گا آپ کو میں بتاتا ہوں کیا کارنامہ انجام دے کر آیا ہے آج آپ کا لاڈلا۔۔۔ اسے تو ایوارڈ ملنا چاہیے جو آج اس نے حرکت کی ہے”
آزھاد کو واقعی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ وجیہہ کو کیا بولے
مگر ہال میں داخل ہوتا ہوا شاہنواز ایک دم سے آ کر تیز آواز میں بولنے لگا اس کے ساتھ نوین بھی ہال میں داخل ہوئی
حنین جوکہ خاموش کھڑی تھی نوین کو دیکھ کر اب اس کے گلے جا لگی اور رونے لگی وجیہہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ باری باری سب کو دیکھ رہی تھی
“ڈیڈ میں نے عمر کی مناسبت سے کارنامہ انجام دیا ہے۔۔۔ آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے جس عمر میں آپ نے کارنامہ انجام دیا ہے اس بات پر تو ایوارڈ کے اصل حقدار آپ ہیں”
آزھاد چِڑ کر شاہنواز کو دیکھتا ہوا بولا
“بکواس بند کرو اپنی اگر میں تمہارا لحاظ کر رہا ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم بدلحاظی کرتے جاؤ کیو کی تم نے آج یہ حرکت”
شاہنواز چلتا ہوا آزھاد کے پاس آیا اور سخت لہجے میں اس سے پوچھنے لگا جس پر آزھاد بنا شرمندہ ہوئے ڈھٹائی سے ہنسا اسکی یہ ہنسی شاہنواز کو مزید غصہ دلا گئی
“آپ ہی کا خون ہو کچھ تو اثر آئے گا آپ کا”
آزھاد دونوں کندھے اچکا کر عجیب شان بے نیازی سے بولا شاہنواز نہ جانے کیوں اس کی بدزبانی برداشت کر رہا تھا
جبکہ وجیہہ باری باری ان دونوں کو دیکھ رہی تھی اور ان کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی، پھر وہ ایک نظر نوین اور حنین پر بھی ڈال لیتی حنین ابھی تک نوین کے گلے لگی ہوئی تھی نوین آہستہ آہستہ اسے کچھ پوچھ رہی تھی
وجیہہ نوین کو تو پہچان گئی تھی کیوکہ وہ شاہنواز کے ساتھ آئی تھی مگر یہ آزھاد کس کو اپنے ساتھ لےکر آیا تھا وجیہہ کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا اور وہ نوین کے گلے لگ کر کیوں رو رہی تھی
“میں نے اگر نوین سے نکاح کیا ہے تو اس کی رضامندی شامل تھی یوں تمہاری طرح دن دھاڑے لڑکی کو اٹھوا کر اسے زبردستی نکاح نہیں کیا میں نے”
شانواز مزید زور سے چیختا ہوا بولا
“آزھاد”
وجیہہ نے شاہنواز کی بات سن کر بےساختہ آزھاد کو پکارا۔۔۔ وجیہہ آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی لیے آزھاد کو دیکھ رہی تھی
“مما میں نے ایسا کیوں کیا میں آپ کو سب بتاؤں گا”
آزھاد اب نرم لہجے میں وجیہہ کے سامنے بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھام کر بولا
“یہ کیا بتائے گا آپ کو میں بتاتا ہوں آج آپ کے صاحبزادے نے نوین کی چھوٹی بہن کو پالر سے اٹھوایا،، اس سے زبردستی نکاح کیا اور جس شان سے یہ بھرے مجمے میں اپنے نکاح کا اعلان کرکے آیا ہے۔۔۔ اس نے صحیح معنویٰ میں میری ناک کٹوائی ہے”
شاہنواز غصے میں بھرا وجیہہ کو بتانے لگا وجیہہ نوین اور حنین کو سکتے کی کیفیت میں دیکھنے لگی
“ڈیڈ یہ تو غلط بات ہے آپ پر دوسری شادی بھی معاف ہے میری پہلی شادی پر آپ اسطرح ری ایکٹ کر رہے ہیں جیسے آپ کی ناک میری وجہ سے ہی کٹی ہو”
آزھاد وجیہہ کے پاس سے اٹھتا ہوا شاہنواز کے سامنے کھڑے ہوکر بولا اس کی بات سن کر شاہنواز کا غصے میں ہاتھ اٹھا ہی تھا
“شاہنواز پلیز” وجیہہ ایکدم بولی تو شانواز نے فضا میں بلند اپنا ہاتھ نیچے کیا اور حنین اور نوین دونوں ہی اب باپ بیٹے کو دیکھ رہی تھی آزھاد بھی بنا شرمندہ ہوئے پرسکون انداز میں شاہنواز کو دیکھ رہا تھا
“اس گستاخ کو کہیں کہ میری نظروں کے سامنے سے دور ہو جائے، آج ذلیل کر کے رکھ دیا اس نے دنیا کے سامنے مجھے”
شانواز آزھاد کی طرف اشارہ کرتا ہوا وجیہہ سے بولا
“ریلیکس ڈیڈ آپ زیادہ چیخیں گے یا غصہ کریں گے تو آپ کا بی پی ہائی ہوگا میں اپنے روم میں چلا جاتا ہوں”
آزھاد شاہنواز سے ایسے بول رہا تھا جیسے اسے اپنے باپ کا بہت خیال ہو،، اس وقت آزھاد کی شکل دیکھ کر واقعی شاہنواز کا بی پی ہائی ہونے لگا تھا مگر اسے کیا معلوم تھا اس کا بیٹا اپنے کمرے میں جاتے جاتے بھی اسے آخری جھٹکا لگاتا جائے گا
“چلو ہنی اپنے بیڈ روم میں چلیں”
آزھاد حنین اور نوین کے پاس آیا اور حنین سے مخاطب ہوا مگر یہ جھٹکا صرف شاہنواز کو ہی نہیں لگا وہاں موجود سب افراد کو لگا
“میری بہن تمھارے ساتھ کہیں نہیں جائے گی۔۔ ایسا سوچنا بھی نہیں” سب سے پہلے نوین ہوش میں آئی اور وہ آزھاد کو آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی
“میں نے تم سے بات کی یا تم سے کچھ پوچھا”
آزھاد نوین کو دیکھتا ہوا کرخت لہجے میں بولا۔۔۔ نوین اس سے پہلے اسے کچھ بولتی آزھاد دوبارہ انگلی اٹھا کر بولا
“اس گھر میں رہنا ہے تو میرے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے، نہ ہی میرے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت ہے جو میرے معاملات میں ٹانگ اڑاتا ہے میں بنا لحاظ کیے اس کی ٹانگ توڑ دیتا ہوں تمہیں بہت خیال رکھنا پڑے گا اپنا”
آزھاد نوین کو تنبیہی کرتا ہوا بولا نوین غصے میں جبکہ حنین افسوس سے آزھاد کو دیکھنے لگی۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے وہ اپنے ڈیڈ سے بدتمیزی کر رہا تھا اور اب اس کی بہن سے
“یہ کس لہجے میں بات کر رہے ہو تم نوین سے”
شاہنواز ان تینوں کے قریب آکر آزھاد سے بولا
“میں آپ کی دوسری بیوی سے بات کرنا پسند ہی نہیں کرتا ڈیڈ اب آپ اس کو آج ہی میری نیچر کے بارے میں بتا دیں تاکہ یہ آگے سے مجھ سے نہ الجھے”
آزھاد شاہنواز کو دیکھتا ہوا بولا اور حنین کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچتا ہوا اپنے بیڈ روم میں لے جانے لگا
“چھوڑو میری بہن کو،، شاہنواز اسے روکیں وہ میری بہن کو نہیں لے جاسکتا” نوین تیز آواز میں شاہنواز کو دیکھتی ہوئی بولی آزھاد پر جس کا کوئی اثر نہیں ہوا
“آزھاد حنین کا ہاتھ چھوڑ دو”
شاہنواز نے کمرے میں جاتے ہوئے آزھاد کو چیخ کر کہا مگر بے سود
“آزھاد”
وجیہہ نے آزھاد کو پکارا مگر وہ سب کی سنی انسنی کرتا ہوا حنین کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے کمرے میں لے گیا اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا
****
“ہنی”
نوین روتی ہوئی چیئر کا سہارا لے کر اپنے آپ کو گرنے سے بچانے لگی۔۔۔ شاہنواز نے اس کے پاس آکر اسے چیئر پر بٹھایا۔۔۔ وجیہہ خاموشی سے یہ منظر دیکھنے لگی
“وہ اچھا نہیں کرے گا شاہنواز میری بہن کے ساتھ، ہنی بہت چھوٹی ہے بہت معصوم ہے۔۔۔ اس نے مجھ سے بدلہ لینے کے لیے میری بہن سے شادی کی ہے،،، آپ کو معلوم ہے ناں ہنی مجھے کتنی عزیز ہے”
نوین روتی ہوئی شاہنواز سے بولی
“تمہاری اپنی طبیعت خراب ہوگی نوین اس طرح رونے سے۔۔۔ وہ کچھ نہیں کرے گا حنین کو۔۔۔ اس وقت روم میں چلو ہم صبح دیکھ لیں گے”
وہ نوین کو بولتا ہوا وجیہہ کے پاس آیا
“آئیے میں آپ کو روم میں چھوڑ کر آتا ہوں”
شاہنواز وجیہہ کی وئیل چیئر تھامنے لگا
“اس کی ضرورت نہیں ہے شاہنواز تم نوین کو لے کر جاؤ میں خود بھی جا سکتی ہو”
وجیہہ شاہنواز کے ویئل چیئر تھامنے سے پہلے وئیل چیئر چلاتی خود اپنے کمرے میں چلی گئی
شاہنواز روتی ہوئی نوین کو تھام کر اپنے نئے روم میں جانے لگا جس میں اس نے پرسوں نیا فرنیچر ڈلوا کر ڈیکوریٹ کروایا تھا.
جاری ہے
