Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22
تمہیں کیا لگتا ہے کل جب ہم گھر جائیں گے اس کے بعد الگ الگ بیڈ روم میں رہے گے۔۔۔ کل سے تم میرے ساتھ میرے بیڈروم میں رہو گی”
وہ حنین کو بولتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھکا۔۔۔ اور دیوانہ وار اپنے سانسوں کی خوشبو اس کی سانسوں میں منتقل کرنے لگا۔۔۔ آزھاد کے انداز میں بہت شدت تھی۔۔
حنین کو اندازہ ہوگیا اگر اس نے اس بے لگام گھوڑے کی لگامیں کھینچنے کی کوشش کری۔۔۔ تو وہ اس کے ساتھ بہت سختی برتے گا
اب وہ آزھاد کی انگلیوں کا لمس اپنے پیٹ پر محسوس کر رہی تھی جان اسکی تب نکلی جب اسکے کپری کا بٹن کھلا
“آزھاد۔۔۔ ہٹو پیچھے”
حنین اس سے پیچھے ہٹاتی ہوئی بولی
“کیا مسئلہ ہے یار ہنی تمہارے ساتھ”
آزھاد باقاعدہ آنکھیں دکھاتا ہوا حنین کو گھورنے لگا
“کیا تمہیں کچھ سنائی نہیں دیا صاف محسوس ہورہا فلیٹ میں کوئی آیا ہے”
حنین کو اسکی مدہوشی پر حیرت ہوئی۔۔۔ حنین کی بات سن کر آزھاد کے موڈ پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوا تھا
“تم یہی رکو”
آزھاد اپنی شرٹ پہنتا ہوا حنین کو بول کر بیڈروم سے باہر نکلا
*****
“ابے تو یہاں پہلے سے موجود ہے”
فصیح آزھاد کو دیکھتا ہوا خوش ہو کر بولا
“تم دونوں یہاں کیسے”
آزھاد فصیح اور مکرم کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ اس وقت وہ دونوں اسے کتنے منہوس لگ رہے تھے وہ چاہ کر بھی انہیں نہیں بتا سکتا تھا۔۔۔ آج آزھاد کو افسوس ہوا کہ اس نے اپنے فلیٹ کی ڈوبلیکیٹ چابی ان دونوں گدھوں کو کیو دی
“اس سالے کا آج پینے کا پروگرام بن گیا تو مجھے بھی گھسیٹ لایا۔۔۔ ہم تجھے بھی کال کرکے بلانے والے تھے”
مُکرم آزھاد کو دیکھتا ہوا بولا
“اوکے تم دونوں بیٹھو میں ابھی آتا ہوں”
آزھاد ان دونوں کو بولتا ہوا واپس بیڈ روم میں حنین کے پاس آیا اور بیڈروم کا دروازہ بند کیا
حنین دوبارہ اپنے سوئٹر میں موجود تھی چونکہ وہ باہر ہونے والی گفتگو سن چکی تھی اس لیے آزھاد کو ناراض نظروں سے دیکھ رہی تھی
“اب تم ایسے مت دیکھو میں نے تھوڑی نا بلایا ہے ان دونوں کو”
آزھاد حنین کی نظروں کو دیکھتا ہوا کہنے لگا
“بلایا نہیں ہے مگر انہیں بتا تو سکتے تھے کہ تم یہاں پر اپنی وائف کے ساتھ موجود ہو۔۔۔۔ اس گھٹیا کام کے لیے تم یہ فلیٹ یوز کرتے ہو”
حنین ملامت بھری نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی
“یار کیا اب میں منہ اٹھا کر کہو گا کہ میری بیوی ساتھ آئی ہے اور ہم اس وقت کتنا امورٹنڈ کام کررہے تھے۔۔۔ تم دونوں یہاں سے دفع ہو جاؤ۔۔۔۔ اب زیادہ منہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے میرے آگے،، صرف یہ بتانے آیا ہو اسی روم میں رہنا ایک گھنٹے میں فارغ کر کے آتا ہوں ان دونوں کو”
آزھاد حنین کو بولتا ہوا اور روم سے جانے لگا
“ایک گھنٹے میں”
حنین کی آواز پر پلٹ کر وہ اسے دیکھنے لگا وہ اسے گھور کر دیکھ رہی تھی آزھاد مسکراتا ہوا واپس اس کے پاس آیا
“بیس منٹ میں ان دونوں کو فارغ کرکے تمہارے پاس آتا ہوں اور پھر تمہارے گھورنے کا صحیح سے علاج کرتا ہوں”
وہ حنین کو زور سے گال پر کس کرتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
****
آزھاد جب ڈرائنگ روم میں پہنچا تو فصیح اور مُکرم صوفے پر برجمان تھے سامنے ٹیبل پر وائن کی بوتل اور گلاس پہلے سے موجود تھی
“کیا کوئی اور بھی ہے تمہارے علاوہ فلیٹ میں”
مُکرم نے آزھاد کو روم میں آتا دیکھ کر سوال کیا
“ہاں ہنی کے ساتھ آیا تھا صبح”
آزھاد صوفے پر بیٹھتا ہوا بتانے لگا جس پر وہ دونوں آزھاد کو دیکھنے لگے
“کیا ہوگیا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو تم دونوں، اپنی بیوی کے ساتھ آیا ہوں گرل فرینڈ کے ساتھ نہیں”
آزھاد ٹیبل پر رکھی مُکرم کے سگریٹ کے پیکٹ سے سگریٹ نکال کر لائیٹر سے جلاتا ہوا بولا
“پھر تو یہ والا پروگرام کینسل کرتے ہیں اچھا نہیں لگے گا”
مُکرم شراب کی بوتل کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا
“ابے اچھا نہ لگنے کی کیا بات ہے۔۔۔ بھابھی کونسا یہاں کمرے میں موجود ہیں۔۔ ویسے بھی اس کی شادی کے بعد سے ایک ساتھ بیٹھے ہی نہیں ہے ہم تینوں۔۔۔ اب تو ایسے بول کر موڈ نہیں خراب کر”
فصیح باری باری گلاس میں شراب نکالتا ہوا مُکرم کو بولا تو وہ چپ ہوگیا
“میں نہیں پیوں گا آج موڈ نہیں ہے”
فصیح نے جب تیسرا گلاس بھرنا شروع کیا تو آزھاد بولا
“یار اب تو موڈ خراب کر رہا ہے”
فصیح آزھاد کو دیکھتا ہوا بولا
“سیریسلی یار بالکل دل نہیں چاہ رہا تم دونوں پیو آج میں باتوں میں کمپنی دونگا”
آزھاد سگریٹ پیتا ہوا بولا تھوڑی دیر پہلے ہی تو اس نے حنین کو آئندہ ڈرنگ کرنے سے منع کیا تھا
“صرف باتوں کی کمپنی میں مزا نہیں آتا،، اٹھا یار گلاس نخرے مت دیکھا اب”
مُکرم اپنا گلاس پکڑتا ہوا بولا
“چھوڑ یار اس کو یہ اپنی بیوی سے ڈر رہا ہے اور کوئی بات نہیں ہے”
فصیح گلاس ہونٹوں سے لگاتا ہوا مُکرم کو آنکھ مار کے بولا تو آزھاد فصیح کو گھورنے لگا
“میں کسی سے نہیں ڈرتا اور تیرے اس طرح چابی دینے سے تو میں ہرگز نہیں پینے والا”
آزھاد فصیح کی نیچر اچھی طرح جانتا تھا وہ صرف حنین کے نام سے اسے جوش دلا رہا تھا
آزھاد جب ٹیبل کی طرف جھک کر ایش ٹرے میں سگریٹ مسل رہا تھا تب فصیح کو شرارت سوجھی اس نے مُکرم کو اشارہ کیا جس پر مُکرم مسکرایا
آزھاد واپس صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھا تو اچانک مُکرم صوفے سے اٹھا مضبوطی سے آزھاد کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر قابو میں کیا
“یہ کیا زلالت ہے مُکرم، چھوڑ میرے ہاتھ”
آزھاد کو اندازہ ہوگیا اب وہ دونوں اس کے ساتھ کیا کرنے والے تھے۔۔۔ اس سے پہلے وہ اپنے ہاتھ مُکرم سے چھڑاتا۔۔۔ فصیح آزھاد کا منہ پکڑ کر بوتل اس کے منہ میں انڈیلنے لگا
“بس تیرے سارے بھرم اور نخرے نکالنے کا ایک ہی طریقہ ہے”
فصیح اس کے منہ میں شراب انڈیلتا ہوا بولا جب آدھی بوتل ہوگئی اور آزھاد کا چہرہ سرخ ہونے لگا اسے زور کا پھندہ لگا تب فصیح نے اس کے منہ سے بوتل نکالی اور مُکرم نے اس کے ہاتھ چھوڑے
“ایک نمبر کے…… ہو تم دونوں”
آزھاد زور زور سے کھانستا ہوا ان دونوں کو بڑی سی گالی دے کر غصے میں دیکھنے لگا جبکہ فصیح اور مُکرم دونوں ہی اپنی حرکت اور آزھاد کی حالت پر ہنس رہے تھے
___________
سامنے اسکرین پر ہیرو صاحب اپنی محبت کا یقین دلانے کے لیے ہیروئن کے ہونٹوں کی جان چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے۔۔۔ عباس نے غور سے اسکرین کو دیکھا اور اس کے بعد اس کی نظر کومل پر گئی جو اپنے ہونٹوں کا پاؤٹ بنا کر مگن انداز میں اس سین کے اندر بری طرح کھوئی ہوئی تھی
“ارے بند کیوں کر دیا کتنا اچھے سے مضبوط پکڑا ہوا تھا انکل نے آنٹی کو، وہ بھی بغیر ہاتھ لگائے”
عباس نے ایل ای ڈی پاور آف کیا تو کومل کا تسلسل ٹوٹا۔۔ وہ عباس کو دیکھتی ہوئی غصے میں پوچھنے لگی
“بچے نہیں دیکھتے ہیں ایسے سینز بہت بری بات ہوتی ہے، میں کارٹون کی سیڈیز لایا ہو تم وہ دیکھو”
عباس تحمل سے کومل کو سمجھانے لگا
“کارٹون تم دیکھو، کومی بےبی وہی پکڑم پکڑائی دیکھے گی دوبارہ لگاؤ”
کومل عباس پر بگڑتی ہوئی بولی اور لفظ پکڑم پکڑائی پر عباس نے بامشکل خود کو قہقہہ لگانے سے باز رکھا
“دیکھو کومی تم ایک چھوٹا بےبی ہو ایسی چیزیں بےبیز بالکل نہیں دیکھتے اوکے”
عباس اسے پیار سے بہلانا لگا کیا معلوم اس کو ضد چڑھ جاتی اور وہ پورا گھر سر پر اٹھا لیتی اسے سنبھالنا ایک بڑا مسئلہ تھا
“اگر بےبیز ایسی چیزیں نہیں دیکھ سکتے تو پھر اسکرین پر ایسی چیزیں دکھاتے کیوں ہیں”
کومل نے بہت پریشان ہوکر عباس سے پوچھا تھا عباس نے بے ساختہ اپنا ہاتھ ماتھے پر مارا
“یہ بڑے بچوں کے لئے ہوتا ہے۔۔۔ اسکرین پر یہ سب بڑے بچے دیکھتے ہیں”
عباس کی بات سن کر کومل سوچ میں پڑ گئی اور عباس ٹیبل پر رکھی بوتل سے پانی پینے لگا
“بڑے تو تم بھی ہو گئے ہو اس لئے تو تمہاری بڑی بڑی مونچھیں اُگ آئی ہیں۔۔۔۔ پھر تو تم بھی دیکھتے ہوگے یہ پکڑم پکڑائی”
جتنے آرام سے کومل نے عباس سے پوچھا تھا اتنی ہی مشکل سے عباس نے پانی حلق سے نیچے اتارا
“نہیں۔۔۔ میں یہ سب کچھ بالکل نہیں دیکھتا اب تم بتاؤ تمہیں کارٹون دیکھنا ہے یا واپس گھر جانا ہے”
عباس آنکھیں دکھاتا ہوا اسے پوچھنے لگا
“کارٹون دیکھنا ہے”
کومل معصوم شکل بنا کر آہستگی سے بولی۔۔۔ عباس اب ڈراز میں رکھی ہوئی سیڈی نکال کر کارٹون لگانے لگا
“عباس ایک بات پوچھوں”
کومل کو جیسے کچھ یاد آیا
“ہاں پوچھو”
عباس ریموٹ ہاتھ میں لیتا ہوا کومل کو دیکھنے لگا
“تم وہ سب کچھ دیکھتے نہیں ہوں مگر کرنا تو آتا ہوگا نہ بڑے جو ہو گئے ہو تم”
کومل بالکل سیریس ہو کر عباس سے پوچھنے لگی اور اب اسکو دیکھتے ہوئے اسکے جواب کا انتظار کرنے لگی
“ہاں آتا ہے مگر ایسا کرتے بھی نہیں ہیں”
عباس اس کو دیکھ کر نظریں چراتا ہوا بولا۔۔۔ کومل اپنے گال پر شہادت کی انگلی مارتی ہوئی آنکھیں اوپر کیے کچھ سوچنے لگی
“اگر ایسا کرنا آتا ہے تو کر کیوں نہیں سکتے کومی بےبی کو لگتا ہے عباس اور کومی بےبی ایسا کر سکتے ہیں ان انکل انٹی کے جیسے”
عباس کومل کی بات سن کر غور سے کومل کو دیکھنے لگا
“نہیں کومل اور عباس فرینڈز ہیں اور فرینڈز ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔ ایسا صرف ہسبینڈ اور وائف کرتے ہیں”
عباس اسے دیکھ کر سنجیدگی سے بولا کومل اٹھ کر اس کے پاس آئی
“تو پھر کومی کو ابھی اپنی وائف بنالو جلدی سے”
کومل اس سے ضدی انداز میں بولی
“کیوں کومی بےبی کو ایسے پکڑم پکڑائی کھیلنا ہے”
عباس اپنی ہنسی روکتا ہوا کومل سے پوچھنے لگا
“ہاں صرف اپنے فرینڈ کے ساتھ”
کومل خوش ہوکر عباس بولی تو عباس ہنس دیا
*****
ایک گھنٹہ حنین نے انتظار کیا آزھاد روم میں واپس نہیں آیا۔۔۔ وہ ابھی بھی اپنے دوستوں کو کمپنی دے رہا تھا حنین اٹھ کر شاور لینے چلی گئی وہ شاور لے کر نکلی دوبارہ اپنا سوئٹر پہن کر بالوں کو ڈرائیر کرنے لگی۔۔۔
تب آزھاد کا موبائل بجنے لگا آزھاد کے موبائل پر شاہنواز کی کال آرہی تھی حنین نے کچھ سوچ کر کال ریسیو کر لی
“آزھاد کہاں پر ہے تم ٹھیک ہو”
حنین کو سلام کا جواب دے کر شاہنواز نے اس سے سوال کیا
“جی میں ٹھیک ہوں سر،، آزھاد اپنے فرینڈز کے ساتھ ڈرائنگ روم میں موجود ہے۔۔۔ آپی کیسی ہیں آئی مین وہ پریشان ہو رہی ہوگیں”
حنین شاہنواز سے نوین کے بارے میں پوچھنے لگی
“اس کے دوست کیا کر رہے ہیں اس وقت فلیٹ میں۔۔۔ نوین ٹھیک ہے میں آفس سے گھر کے لیے نکل رہا تھا۔۔۔ آزھاد سے آفس کے متعلق کچھ ضروری بات کرنی تھی رکو میں تھوڑی دیر میں وہی پہنچتا ہوں”
شاہنواز کو حنین کی موجودگی میں آزھاد کا اپنے دوستوں کو فلیٹ میں بلانا عجیب لگا۔۔۔ وہ تو کبھی فصیح اور مکرم کو گھر پر نہیں لاتا تھا دوسرا شاہنواز اگر گھر جاتا تو نوین حنین کے متعلق پوچھ پوچھ کر اس کا سر کھا جاتی اس لئے اس نے گھر جانے کی بجائے آزھاد کے فلیٹ کی طرف کار کا رخ کیا
****
شاہنواز سے بات کرکے حنین نے سوچا آزھاد کو شاہنواز کا میسج دے دے اچھا ہے اسے دیکھ کر آزھاد کے دوست بھی وہاں سے جلدی چلے جائیں گے۔۔۔ گھڑی اس وقت شام کے سات بجا رہی تھی آزھاد کو دو گھنٹے ہوچکے تھے اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے
تب حنین بیڈروم کا دروازہ کھول کر لیونگ روم عبور کرتی ہوئی ڈرائنگ روم کے دروازے پر پہنچی
اسے صوفے پر بیٹھے ہوئے آزھاد کی پشت نظر آئی اس نے آزھاد کو متوجہ کرنے کے لیے دروازہ ناک کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تب اندر ہونے والی گفتگو پر اس کا ہاتھ وہی رکا
“تو نے بتایا نہیں یار تیری وائف کی ناراضگی تجھ سے دور ہوئی ہے کہ نہیں۔۔۔ کچھ بتا ناں یار کیسا لگ رہا ہے شادی کر کے کیا فیلنگز آ رہی ہے تیرے کو”
مُکرم جھومتا ہوا آزھاد کو دیکھ کر پوچھنے لگا آزھاد نے مدہوشی سے ہنستے ہوئے سامنے رکھے گلاس کو اٹھا کر منہ سے لگایا۔۔۔ بے شک اس وقت آزھاد کی پشت حنین کی طرف تھی مگر وہ آزھاد کے سامنے رکھے گلاس کو دیکھ سکتی تھی بلکہ اب وہ گلاس میں موجود شراب پی رہا تھا حنین کا دل ٹوٹ گیا
“چھوڑ بے بیوی کی باتیں کون پوچھتا ہے۔۔۔ آزھاد تو اپنی گرل فرینڈ کے بارے میں بتا جس سے تیرا امریکہ میں چکر چلا تھا”
فصیح جوکہ آزھاد کے سامنے بیٹھا تھا اور وہ حنین کو دیکھ چکا تھا۔۔۔ اسلیے ازلی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزھاد سے پوچھنے لگا
“فصیح کیا یہ ضروری ہے کہ تو جب بھی منہ کھولے، گھٹیا باتیں بولے۔۔۔ شی واز ناٹ مائی گرل فرینڈ اسٹوپڈ۔۔۔ اچھی دوست تھی وہ میری”
آزھاد کی آواز کی لڑکڑاہٹ سے اندازہ ہو رہا تھا وہ نشے میں بالکل چُور ہو چکا تھا اس نے کافی زیادہ ڈرنگ کی ہوئی تھی حنین واپس روم میں جانے کے لیے مڑی
“اچھی دوست تھی جبھی تُو نے ڈانس کلب میں اس کا اسکرٹ کھینچا تھا سالے”
فصیح نے دوبارہ خباثت کا مظاہرہ کیا۔۔ جس پر حنین کے قدم ایک دم تھمے
“چپ کر جا فصیح اس وقت بھی میں نے ڈرنک کی ہوئی تھی کمینے بالکل اسی طرح جس طرح ابھی تم دونوں خبیثوں نے مجھے پلائی ہے۔۔۔ اس وقت بھی غلطی میری نہیں تھی”
آزھاد فصیح کو بولتا ہوا سر صوفے سے ٹیکنے لگا۔۔۔ آنکھیں بند کرکے جھومتے ہوئے مُکرم نے آنکھیں کھولی اور آزھاد کو پکار کر دروازے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ آزھاد نے سر گھما کر ڈرائنگ روم کے دروازے پر دیکھا تو حنین کو کھڑا پایا
“ہنی میری جان”
آزھاد نے حنین کو دیکھ کر صوفے سے اٹھنے کی کوشش کی اگر وہ ٹیبل کا سہارا نہ لیتا تو چکنے ماربل پر اس کا پیر سلپ ہوتا۔۔۔۔ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ وہ چلتا ہوا حنین کے پاس آیا حنین نے افسوس بھری نگاہ اس پر ڈالی،، اس نے تھوڑی دیر پہلے ہی حنین سے کہا تھا کہ وہ اب ڈرنگ نہیں کرے گا۔۔۔
آزھاد حنین کے کندھوں پر دونوں کہنیاں ٹکائے اپنے ہاتھ پیچھے لے جاکر نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا
“ہے مائی لائف مائی بیوٹیفل وائف پرومس یار میں نے خود نہیں پی یہ ان دونوں چو…..”
آزھاد بولتا ہوا رکا،، حنین کے کندھے سے اپنا ہاتھ ہٹا کر ہونٹوں پر انگلی رکھتا ہوا خود کو چپ کروانے لگا
“ششش بیڈ مینرز آزھاد۔۔۔۔ وائف کے سامنے نو چیپ لینگویج اونلی پیار والی باتیں”
نجانے نشے میں وہ کیا کیا بول رہا تھا حنین کو اس سے گھبراہٹ ہونے لگی۔۔۔ اس نے ایک نظر فصیح اور مکرم پر ڈالی۔۔۔ وہ دونوں بھی اسی کی طرح نشے میں دھت تھے
“ان کتوں کو مت دیکھو ابھی،، یہاں اپنے ہببی کو دیکھو،، جو تمہیں بہت پیار کرتا ہے،، یو نو بہت غصہ آیا تھا مجھے جب تم نے کہا کہ تم الگ بیڈروم میں رہنا چاہتی ہو۔۔۔ مطلب یہ کوئی سینسیبل بات ہے یار، شادی کرنے کے بعد الگ الگ بیڈ رومز۔۔۔ معلوم ہے ہماری ویڈنگ نائٹ پر اگر تم بے ہوش نہیں ہوتی تو میں تمہیں۔۔۔”
بولنے کے ساتھ وہ حنین کے ہونٹوں پر جھکنے لگا
“آزھاد پیچھے ہٹو”
حنین نے ایکدم اپنا چہرا پیچھے کیا وہ اس وقت بالکل اپنے حواسوں میں نہیں تھا۔۔ حنین کو اس سے ڈر لگنے لگا وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانے لگی
“واٹس دا میٹر ود یو لٹل گرل۔۔۔ کِس کرنے کے لئے جھکنا تو مجھے پڑھ رہا ہے تم کیوں اتنا اریٹیٹ ہو رہی ہو مجھ سے ہاں”
حنین کے اسطرح پیچھے کرنے پر اب وہ حنین کو مضبوطی سے کمر سے پکڑ چکا تھا اور حنین کی گردن پر جھکنے لگا
“آزھاد یہ کیا کر رہے ہو تم، پیچھے ہٹو پلیز”
وہ اس وقت نشے میں بالکل بے حال تھا حنین زور زور سے اس کے سینے پر ہاتھ مارتی ہوئی چیخی مُکرم اپنی نشے سے بند آنکھیں پوری طرح کھول کر تماشہ دیکھنے لگا جبکہ فصیح ہنستا ہوا صوفے سے اٹھا اور موبائل سے آزھاد کی ویڈیو بنانے لگا
“پیار کر رہا ہوں ہنی ڈارلنگ۔۔۔ پیار کرنے کے علاوہ اور کیا کر سکتا ہوں”
ایک ہاتھ سے حنین کو کمر سے پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے اب وہ سوئیٹر کھینچتا ہوا اپنے ہونٹ حنین کے گردن پر رکھنے کی کوشش رہا تھا۔۔۔ وہ پہلے ہی نشے میں دھت تھا مزید اپنا وزن حنین پر چھوڑا تو حنین خود کو سنبھال نہیں پائی اور بری طرح فرش پر پیچھے کی طرف گری، ساتھ ہی آزھاد بھی اس کے اوپر گرا۔۔۔ اب وہ اس کے سوئٹر کے بٹن کھولنے کی بجائے توڑ چکا تھا اور حنین کی گردن سرخ کرچکا تھا حنین کو رونا آنے لگا
“آزھاد اٹھ یار پیچھے ہٹ”
حنین کو روتا ہوا دیکھا مُکرم آزھاد کو پکڑتا ہوا پیچھے ہٹانے لگا
“وہ بیوی ہے میری باسٹرڈ تو کون ہے”
اب آزھاد مُکرم پر بگڑنے لگا تب اس کی نظر فصیح پر پڑی آزھاد نے جھپٹ کر اس سے موبائل چھینا اور دیوار پر دے مارا اور ایک مُکا فصیح کو بھی رسید کیا۔۔۔ مُکرم جھک کر نیچے گری ہوئی حنین کو اٹھانے لگا
“Don’t touch my wife”
آزھاد مُکرم کو دھکا دیتا ہوا بولا۔۔۔ اب وہ خود روتی ہوئی حنین کو دیکھ رہا تھا
“چلو نکلو میرے فلیٹ سے۔۔ سالو بہت ڈرامہ ہوگیا تم لوگوں کی وجہ سے”
وہ نشے میں غرق فصیح اور مُکرم پر چیخا۔۔۔ اب وہ حنین کے آنسو صاف کرنا چاہتا تھا
“پیچھے ہٹو آزھاد تم پورے کے پورے جانور ہو بلکل اپنے ان دوستوں کے جیسے، بات مت کرنا اب مجھ سے”
حنین آزھاد کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا کر اسے پیچھے دھکا دیتی ہوئی غصے میں چیخی۔۔۔
اب وہ یہاں سے جانے کا ارادہ رکھتی تھی اس نے فلیٹ کا دروازہ کھولا۔۔۔ شاہنواز ڈور بیل بچانے والا تھا دروازہ کھلنے پر اس کا ہاتھ وہی رک گیا۔۔۔ وہ اپنے سامنے کھڑی حنین کو دیکھنے لگا حنین نے شاہنواز کو دیکھا تو ایک دم ٹھٹکی اور اپنے آنسو صاف کرنے لگی
“کیا ہوا”
شاہنواز غور سے حنین کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا اس کے بال بکھرے ہوئے تھے وہ آنسو پوچھنے کے بعد اب اپنے سویٹر کو صحیح کر رہی تھی
“مجھے گھر جانا ہے”
حنین نظریں جھکا کر اتنا ہی بول پائی
“آزھاد کہاں پر ہے” شاہنواز نے پوچھا ہی تھا آزھاد اسے آتا دکھائی دیا
“ڈیڈ آپ یہاں”
آزھاد کے چلنے کے اسٹائل اور بات کرنے کے انداز سے شاہنواز سمجھ گیا اس نے ڈرنک کی ہے
“کیوں رو رہی ہے یہ، کیا ہوا اس کو”
شاہنواز نے آزھاد کی کھلے گریبان پر نظر ڈالی (جو کہ حنین سے اس کو پیچھے ہٹاتے ہوئے کھلا تھا) دوسری نظر دور کھڑے فصیح اور مُکرم پر ڈالی۔۔۔ ان کی حالت سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا تھا وہ دونوں نشے میں تھے
“ڈیڈ وہ میں ہنی کو”
اس سے پہلے آزھاد اپنی پوری آنکھیں کھولتے ہوئے سیدھا کھڑا رہ کر اپنا جملہ مکمل کرتا شاہنواز نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا۔۔۔ گرنے سے بچنے کے لیے آزھاد نے دیوار کا سہارا لیا
“اگر تم چاہتے ہو کہ میں غصے میں کوئی بھی ایسا فیصلہ نہ کرو جس پر تم بہت پچھتاؤ۔۔۔ تو آج رات گھر میں قدم نہیں رکھنا میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا آزھاد”
آزھاد کو نشے کی حالت میں دیکھ کر شاہنواز اس سے بولا
“چلو حنین”
اب وہ حنین کو بولتا ہوا لفٹ کی طرف بڑھ گیا حنین ایک ناراض نظر آزھاد پر ڈال کر شاہنواز کے پیچھے چل دی.
جاری ہ
