Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03
جانی جانی یس بابا
ایٹنگ شوگر نو بابا
ٹیلرنگ لائی نو بابا اوپن یور ماوتھ ہاہاہا
کومل جو لان میں اپنی لانگ فراک کو لہراتے ہوئے بڑی ترنگ میں رائم پڑھتے پڑھتے آنیکسی کی طرف جا رہی تھی اچانک انیکسی میں سے اس کے سامنے ایک اجنبی شخص نمودار ہوا آیا جسے دیکھ کر وہ ڈر گئی
“ہیلو”
عباس جو کل رات کو آزھاد کے ہاں آنیکسی میں شفٹ ہوا تھا صبح صبح لان میں اسے کسی لڑکی کی آواز آئی۔۔۔ تجسس کے تحت وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا تو حیرت سے اس لڑکی کو دیکھنے لگا جو کہ دکھنے میں اکیس بائیس سال کی لگتی تھی لیکن اس نے ٹخنوں سے چھوتی ہوئی فراک کے ساتھ دو پونیاں باندھ کر اپنے آپ کو چھوٹی بچی والے گیٹ اپ میں ڈھالا ہوا تھا۔۔
وہ عباس کو یوں اچانک دیکھ کر شاید ڈر گئی تھی جبھی اپنے منہ پر دونوں ہاتھ رکھے آنکھوں میں خوف سمائے اسے دیکھ رہی تھی تبھی عباس نے اسے “ہیلو” بولا
“ہیلو”
اب وہ لڑکی ایک ہاتھ اونچا کرکے اپنے کان کی طرف لے جاتے ہوئے انگوٹھا کان پر رکھ کر ہاتھ کا نقلی فون بنا کر اسے ہیلو بولنے لگی۔۔۔ عباس غور سے اس کی حرکت دیکھنے لگا
آخر کون تھی یہ لڑکی اور اس طرح کیوں ری ایکٹ کر رہی تھی۔۔۔ شاید نیا چہرہ دیکھ کر لازمی اسے شرارت سوجھی ہوگی، یقیناً اب وہ عباس سے ٹائم پاس کر رہی تھی۔۔۔ عباس اس پر سنجیدہ نظر ڈال کر واپس انیکسی میں جانے لگا
“انکل آپ کومی سے بات نہیں کریں گے فون پر”
عباس اس کی بات سن کر پلٹا وہ ابھی بھی ہاتھ کا فون بنائے عباس کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی
“آپ کو میں انکل لگ رہا ہوں”
عباس اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھنے لگا وہ اپنے آپ کو شاید بچی پوز کر رہی تھی
“انکل ہی تو ہیں آپ اتنی بڑی بڑی مونچھوں والے” کومل اسکی ہینڈل بار مونچھوں کی توہین کرتی ہوئی بولی جو کہ اس کی شخصیت پر کافی ججتی تھی وہ ابھی بھی چھوٹے بچے کی طرح ایکٹ کر کے بولی
“اگر میں انکل ہوں تو اس لحاظ سے آپ بھی آنٹی ہیں یوں چھوٹی بچیوں کی طرف فراک پہن کر دو پونیاں باندھ کر آپ بچی کم اور عجوبہ زیادہ لگ رہی ہیں”
عباس سے اپنی مونچھوں کی توہین ذرا برداشت نہیں ہوئی تبھی وہ حساب بے باک کرتا ہوا بولا جس پر کومل اب گلا پھاڑ کر بچوں کی طرح رونے لگی
“کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ اور کیوں کر رہی ہیں آپ اس طرح سے اوور ری ایکٹ”
اسکے ایک دم چیخ کے رونے پر عباس بوکھلا گیا اب وہ سامنے لان میں اور گھر پر نظر ڈالتا ہوں کومل سے حیرت سے پوچھنے لگا
“کومی آنٹی نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹا سا پیارا سا بےبی ہے”
اب وہ فراک کے اوپر پہنے ہوئے سویٹر کی آستین سے ناک پوچھتی ہوئی بولی،، اس حرکت پر عباس کو ابکائی آتے آتے رہ گئی۔۔۔ ساتھ میں اسے حیرت بھی ہوئی اسے عباس کا عجوبہ کہنے سے زیادہ آنٹی کہنا برا لگا
“کومی بےبی کومی بےبی آپ اپنے کمرے سے یہاں کیوں آگئی میڈم کتنا پریشان ہو رہی ہیں، اندر چلیے پلیز”
کوثر بھاگتی ہوئی کومل کے پاس آئی اور پریشان ہو کر بولنے لگی
“آنٹی،، آنٹی یہ انکل کومی سے بدتمیزی کر رہے ہیں”
عباس نے دیکھا وہ اب وہ اپنے برابر لڑکی کو بھی آنٹی کہہ کر مخاطب کرتی ہوئی عباس کی شکایت لگا رہی تھی
کوثر نے معذرت طلب نظروں سے عباس کو دیکھا اور کومل کو واقعی چھوٹے بچوں کی طرح طرح بہلاتی ہوئی واپس اندر لے گئی۔۔۔ عباس نے غور سے دور جاتی ہوئی اس لڑکی کو دیکھا اب اس کو اندازہ ہوا وہ لڑکی شرارتاً یا مذاقاً چھوٹے بچوں کی ایکٹنگ نہیں کر رہی ہے شاید اس کا ذہنی توازن نارمل نہیں تھا عباس دوبارہ آنیکسی کے اندر چلے گیا
****
“او میرے خدا حنین کب سے تم ان کتابوں میں گم ہوں اب تو چھوڑ دو ان کا پیچھا”
مزنہ حنین کے برابر میں صوفے پر بیٹھی ہوئی اس سے کہنے لگی۔۔۔ آج صبح ہی نوین نے اسے صالحہ کے گھر چھوڑ دیا تھا
“سر لائیق کا دیا ہوا اسائنمنٹ تھا،، وہی کمپلیٹ کر رہی تھی کیونکہ میرا ان کے ہاتھوں شرمندہ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اب بولو کیا بات ہے”
حنین بکس اور نوٹس سمیٹتے ہوئے مزنہ سے پوچھنے لگی
“اچھا بھئی اب میری بات غور سے سنو کل میرے گروپ کے کافی اسٹوڈنٹس فارم ہاؤس پر جا رہے ہیں،، وہ جو میری کلاس میٹ ہے ناں اسرا اس کے چچا کا ذاتی فارم ہاؤس ہے پھر کیا ارادہ ہے ہم دونوں بھی چلیں تقریباً کلاس کی ساری لڑکیوں کا پروگرام بنا ہوا ہے وہاں جانے کا”
مزنہ حنین سے ایکسائٹڈ ہوتی ہوئی پوچھنے لگی
“یہ پروگرام کالج کی طرف سے نہیں بلکہ تمہاری فرینڈز کا ہے تو آپی ہرگز الاؤ نہیں کریں گیں”
حنین کو معلوم تھا نوین سے پوچھنے کا فائدہ نہیں وہ اسے جانے نہیں دے گی،، کالج کا پروگرام ہوتا تب بھی حنین کو اسکی منتیں ترلے کرکے اجازت لینی پڑتی اور ابھی تو نوین خود بھی یہاں پر موجود نہیں تھی اس لئے اس نے مزنہ کو منع کردیا
“ارے بیوقوف تمہاری آپی کو کون بتائے گا کہ یہ پروگرام کالج کی طرف سے نہیں ہے اور ویسے بھی تین فیمیلز ٹیچرز بھی ہمارے ساتھ ہوگیں پلیز منع مت کرو حنین تمہاری وجہ سے تو امی شاید مجھے بھی جانے دے دیں اکیلے تو وہ بھی ہرگز نہیں جانے دیں گیں”
مزنہ منت کرتی ہوں یہ حنین سے بولی
“وہاں سب تمہاری دوستی ہوگیں،، میں بور ہو جاؤں گی دوسرا میں آپی سے کچھ غلط نہیں بولو گی”
حنین اب مزنہ کو آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی
“ارے یار میں تمہیں بور نہیں ہونے دو گی اپنے ساتھ چپکا کر رکھوں گی ایلفی کی طرح۔۔۔ اپنی آپی سے تمہیں کچھ بھی غلط یا جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے میں خود نوین آپی سے بات کر لو گی انہیں کیسے منانا ہے یہ تم مجھ پر چھوڑ دو پلیز پلیز مان جاو حنین”
مزنہ واقعی اس سے ضد کرنے لگی تب حنین نے ہتھیار ڈال دیئے مگر اسے معلوم تھا حنین مزنہ کی بھی بات کبھی نہیں مانے گی
****
“ابھی سے کہا جا رہا ہے ابھی تو صرف شراب کا دور چلا ہے، شباب تو ابھی باقی ہے”
کاڑڈز کھیلنے کے بعد آزھاد کو اٹھتا ہوا دیکھکر فصیع معنی خیزی سے بولا
“فضول میں تم دونوں گدھوں کے ساتھ یہاں شہر سے اتنی دور آ گیا ہوں میں، اب نکلنا ہے مجھے۔۔ ڈیڈ بھی آج گھر پر موجود نہیں ہیں یہ شراب اور شباب تم دونوں کو ہی مبارک ہو”
آج شام میں فصیح کا اپنے کزن کے ساتھ اپنے ذاتی فارم ہاؤس پر نائٹ اسٹینڈ کرنے کا اور موج مستی کرنے کا پروگرام تھا اس نے زبردستی مُکرم کے ساتھ ساتھ آزھاد کو بھی اپنے ساتھ کھینچ لیا۔۔۔ آزھاد ان دونوں کے ساتھ یہاں پر آ تو گیا تھا مگر پوری رات یہاں گزارنے کا اس کا کوئی خاص موڈ نہیں تھا اس لئے اپنی جیکٹ کے ساتھ اپنا موبائل سگریٹ کا پیکٹ، لائٹر اور گاڑی کی چابی اٹھاتا ہوا بولا
“تُو تو پکا مولوی بن گیا ہے کبھی کبھی تو انسان کو زندگی کے مزے لینے چاہیے”
اب کی بار مُکرم بے ڈھنگا سا قہقہہ لگا بولا وہ بھی نشے میں دُھت ہو چکا تھا۔۔۔ جس کلاس سے وہ لوگ بیلونگ کرتے تھے وہاں پر شراب گرل فرینڈ رات کو لیٹ نائٹ پارٹیز یہ سارے خرافات عام سی بات تھی
“باہر سے ڈانسرز ہائیر کرکے ان کے لٹکے جھٹکے دیکھنا پھر ان کے ساتھ رات بھر انجوائے کرنا تم لوگوں کے نزدیک یہ سب انجوائمنٹ ہے جبکہ مجھے دوسروں کی یوز کی ہوئی چیزوں اور لڑکیوں میں کھبی انٹرسٹ نہیں رہا”
آزھاد جیکٹ پہنتا ہوا اپنے موبائل سمیت ساری چیزیں پاکٹ میں ڈالتا ہوا ان دونوں سے بولا
“پہلے بتا دیتا تجھے کچھ اسپیشل ان ٹچ مال چائیے۔۔۔ چل اسے چھوڑ یہ ایک جام دوستی کے نام لگاتا جا”
فصیح اٹھ کر بعمشکل قدم سنبھالتا ہوا۔۔۔ گلاس میں ڈرنگ لئے آزھاد کے پاس آتا ہوا بولا
“اٙن ٹچ مال کی طلب ہوگی تو تم سے ہرگز نہیں بولوں گا کیونکہ مجھے تمہاری چوائس ذرا پسند نہیں اور دو پیک لگانے کے بعد میں کار ڈرائیو نہیں کر سکو گا۔۔ کل ملتے ہیں”
آزھاد فصیح کے ہاتھ سے گلاس لے کر واپس ٹیبل پر رکھتا ہوا بولا۔۔۔ اور وہاں سے نکل گیا
ہائی سوسائٹی میں موو کرنے کے باوجود وہ اس ایک برائی سے بچا ہوا تھا۔۔۔ جب وہ امریکہ میں تھا تب اسکی فرینڈ شپ ایواء سے تھی جو کہ عیسائی ہونے کے باوجود کافی ڈیسنٹ تھی اور ایک فاصلہ رکھ کر ملتی تھی اسی وجہ سے آزھاد سے اسکی کافی عرصے فرینڈ شپ رہی البتہ ڈرنگ وہ کبھی کبھی کرلیتا۔۔۔ مگر زیادہ مقدار میں اس لیے نہیں کہ اسے بہت جلد چڑھ جاتی تھی
****
حنین کو کافی حیرت ہوئی جب نوین نے اسے مزنہ کے ساتھ جانے کی پرمیشن دے دی شاید اس وجہ سے کہ نوین سے مزنہ نے نہیں صالحہ نے بات کی تھی اور اسی کے بھروسے اس نے حنین کو مزنہ کے ساتھ بھیج دیا
مگر وہاں پر پہنچ کر اب مزنہ اپنی سہیلیوں میں لگی ہوئی تھی حنین کو اس سے توقع بھی یہی تھی اس لئے وہ اکیلی ہی اپنے گرد شال لپیٹ کر فارم ہاؤس میں موجود باغیچے کے واک کرنے لگی۔۔۔ یہ فارم ہاؤس شہر سے کافی دور تھا اور اسی کے ساتھ لائن میں وہاں پر دوسروں فام ہاؤس بھی موجود تھے باغیچہ کراس کرنے کے بعد ایک خالی میدان آیا جیسے وہ عبور کرکے وہ اپنے ہی خیالوں میں آگے نکل گئی سامنے بڑی سی دیوار کو دیکھ کر وہ خیالوں کی دنیا سے واپس آئی۔۔۔ شاید یہاں پر فارم ہاؤس کی حدود ختم ہوجاتی تھی
لیکن کیونکہ دیوار کے پیچھے سے تیز میوزک کی آوازیں آ رہی تھی جیسے وہاں کوئی پارٹی یا فنکشن چل رہا ہوں تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے دیوار کے پاس رکھی کرسی پر چڑھ کر دیوار کے پار جھانکنے کی کوشش کی
مگر دیوار کافی اونچی تھی اسے کچھ نظر نہیں آیا وہی دیوار میں اسے ایک چھوٹا سا دروازہ نظر آیا شاید یہ فارم ہاؤس کا دوسرا حصہ تھا یا پھر کوئی دوسرا فارم ہاؤس۔۔۔ نہ جانے حنین کے دل میں کیا سمائی وہ دروازہ کھول کر دوسرے پورشن کے اندر داخل ہو گئی
رات کے تقریباً ایک بجے کا وقت تھا مگر یہاں تو دن کا سماں تھا،، ڈھیر ساری روشنیوں میں ڈانس فلور پر بہت سی لڑکیاں اور لڑکے مگن انداز میں ڈانس کر رہے تھے لڑکیوں کی ڈریسنگ دیکھ کر حنین کو عجیب سا احساس ہوا اس وقت وہ بھی جینز کے اوپر ٹاپ میں مبلوس تھی مگر سامنے لڑکیوں کو دیکھ کر اس کا اپنے کانوں کو ہاتھ لگانے کا دل چاہا اور ساتھ ہی اپنی شال کو مزید اچھی طرح سے اپنے گرد لپیٹا۔ ۔۔ اسے یہاں زیادہ دیر تک رکنا مناسب نہیں لگا
وہ سات آٹھ لڑکے اسے نارمل نہیں لگے ان کے قدم لڑکھڑا رہے تھے وہ مدہوش ہوکر جھوم رہے تھے حنین واپس جانے کے لیے مڑی مگر تب تک دو لڑکے وہ دروازہ بند کرچکے تھے
“دروازہ کھولو مجھے واپس جانا ہے”
وہ دونوں لڑکے غور سے حنین کو دیکھ رہے تھے تب حنین گھبراتی ہوئی بولی
“چلی جانا سوئٹی مگر تھوڑا بہت ہمیں مزے کروانے کے بعد”
ایک لڑکا خباست سے بولتا ہوا اسکے پاس آیا۔۔۔ حنین تیزی سے پیچھے ہوئی
“ابے غور سے دیکھ یہ وہی حسینہ ہے۔ ۔۔ جس نے آزھاد کو لفٹ نہیں کراوئی تھی آج تو موبائل نمبر سے زیادہ ہی کچھ مل جائے گا”
فصیح حنین کو پہچان چکا تھا۔ ۔۔ تب مُکرم نے پوری آنکھیں کھول کر حنین کو دیکھا
___________
حنین کو ان کی باتیں سمجھ میں نہیں آرہی تھی وہ گھبرائی ہوئی آنے والے وقت ڈرنے لگی اسے لگا اگر وہ یہاں سے نہیں گئی تو اس کے ساتھ بہت بھیانک کچھ ہو سکتا ہے۔۔۔ فصیح اور مُکرم نے اس کی طرف قدم بڑھائے تو حنین نے تیز رفتار میں بھاگنا شروع کردیا
“تیز بھاگ پکڑ سالی کو”
فصیح مُکرم سے کہتا ہوا خود بھی حنین کے پیچھے بھاگنے لگا۔۔۔ حنین تیزی سے فارم ہاؤس کے مین گیٹ کی طرف بھاگی جو کہ کسی کار کی آمد کی وجہ سے گارڈ نے کھولا تھا
“اے جلدی دروازہ بند کر”
فصیح نے حنین کو گیٹ پار کرتا ہوا دیکھ کر بھاگنے کے ساتھ گارڈ کو چیخ کر کہا تب تک حنین تیزی سے گیٹ عبور کر گئی تھی لیکن اس کی شال کہیں مین گیٹ کے گرل میں پھنس گئی
“بیٹی اسے چھوڑو جلدی نکل جاؤ یہاں سے”
حنین اپنی شال نکالنے لگی تو وہ بوڑھا گارڈ بولا حنین نے اس گارڈ پر ایک نظر ڈالی اپنی شال وہی چھوڑ کر بھاگنے لگی
“سالے بڈھے تجھے تو آ کر بتاؤں گا،، مُکرم جلدی سے بائک پر بیٹھ”
فصیح کو اس گارڈ پر شدید غصہ آیا تھا جس نے حنین کو پکڑنے کی بجائے وہاں سے بھگا دیا مگر فصیح نہیں چاہتا تھا حنین وہاں سے نکلنے جبھی اس نے بائیک سنبھالی اور جیب میں ٹٹول کر جلدی سے چابی نکال کر بائیک اسٹارٹ کری
حنین حواس باختہ بھاگتی چلی گئی اس کا دماغ اس وقت کام نہیں کر رہا تھا بس اسے اپنی عزت بچانے تھی بائیک کی آواز سن کر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور بھاگنے کی رفتار میں مزید اضافہ کردیا
رات کے اندھیرے میں دھنلی آنکھوں کے ساتھ سنسان سڑک کو لے کر آنکھوں سے آنسو صاف کرکے وہ تیزی سے بھاگتی جارہی تھی اب اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ مزید بھاگتی اس کے پاؤں بری طرح دکھ رہے تھے اور سانس بھی بری طرح پھول رہا تھا دائیں ہاتھ پر موجود گھنی جھاڑیوں میں جائے پناہ کی تلاش میں اس راستے پر چل دی
“روک بائیک یہی اندر گئی ہے”
مُکرم نے فصیح سے کہا تو فصیح نے بائیک روکی
“اللہ پاک پلیز مجھے بچالے”
حنین بڑے سے پتھر کے پیچھے بیٹھتی ہوئی اپنے لیے دعا مانگنے لگی اسے قدموں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی اپنے ہی ہاتھوں سے حنین نے اپنا منہ بند کر لیا
“چل یار واپس چلتے ہیں زیادہ دیر رکنا یہاں پر خطرے سے خالی نہیں ہے کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں”
سنسان جگہ اور رات کے پھیلے سناٹے کو دیکھتا ہوا مُکرم فصیع سے بولا فصیح نے اس کی بات کی تائید کی جب دور کہیں سے حنین کو بائیک اسٹارٹ کرنے کی آواز آئی تو اس نے خدا کا شکر کیا کھڑے ہوکر دیکھا تو وہ دونوں وہاں موجود نہیں تھے اب وہ اپنی کانپتی ہوئی ٹانگوں کو ساتھ پتھر سے ٹیک لگا کر واپس بیٹھ گئی
حنین کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ واپس کیسے جائے سیل فون تو وہ اپنا نوین سے بات کرکے وہی چھوڑ کر آگئی تھی اگر وہ واپس جاتی اور وہی لڑکے اسے پھر مل جاتے اس سے آگے حنین سے کچھ سوچا ہی نہیں گیا۔۔۔۔ مگر وہ ساری رات اس سنسان جگہ پر بھی کیسے گزار سکتی تھی رات کے اس پہر سردی کافی بڑھ رہی تھی کوئی گرم کپڑا یا چادر بھی اس کے پاس موجود نہیں تھی حنین اپنے دونوں پاؤں کو دباتے ہوئے یہی سوچ رہی تھی مشکل سے اسے دس منٹ گزرے تھے جب اسے غُرانے کی آواز آنے لگی حنین نے سر اٹھا کر دیکھا اس کا دل بری طرح دہل کر رہ گیا مشکل سے دس قدم کے فاصلے پر ایک بڑا سا کالے رنگ کا کُتا زبان باہر نکالے اسی کو دیکھ رہا تھا حنین ڈرتی ہوئی آئستہ سے دوبارہ کھڑی ہوئی۔۔۔ اسے دوبارہ رونا آنے لگا،، کتا اب بھی لمبی زبان باہر نکالے اسی کو دیکھ رہا تھا حنین نے کلمہ پڑھ کر ایک بار پھر دوڑ لگانا شروع کر دی کُتا بھی بھونکتا ہوا اس کے پیچھے بھاگنے لگا پندرہ سے بیس منٹ تک وہ سڑک پر بھاگتی رہی اور کُتا اس کے پیچھے بھونکتا ہوا بھاگتا رہا
اب حنین کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا مگر تھوڑی ہی دور اس سڑک پر ایک کار کھڑی نظر آئی کوئی شخص اپنی کار سے باہر نکلا سیل فون کان سے لگائے ٹہل رہا تھا
“پلیز ہیلپ می” حنین چیختی ہوئی اس آدمی کی طرف بڑھی آزھاد کو ایک سیکنڈ لگا تھا ساری سچویشن سمجھنے میں، کسی لڑکی کے پیچھے کُتا لگا تھا اور وہ بھاگتی ہوئی اسکی جانب آرہی تھی اس سے پہلے وہ کُتا چھلانگ لگا کر اس لڑکی پر حملہ کرتا آزھاد نے اپنے ہاتھ میں موجود سیل فون کھینچ کر اس کُتے کو مارا جس پر وہ ڈر کر وہاں سے بھاگ گیا۔۔ حنین پھولی ہوئی سانس کے ساتھ اپنے سامنے کھڑے آزھاد کو دیکھنے لگی
“ہنی”
آزھاد اپنے سامنے کھڑی حنین کو فوراً ہی پہچان گیا بے ساختہ اس کے منہ سے اس کا نام ادا ہوا،،، حنین اپنی پھولی ہوئی سانس کو بحال کرتی آزھاد کے قریب آئی اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کی جیکٹ کو مضبوطی سے پکڑا اور آنکھیں بند کئے اس سے پہلے وہ چکرا کر نیچے گرتی آزھاد نے اسکے بےہوش وجود کو تھام کر نیچے زمین پر آئستہ سے لٹایا
“ہنی آنکھیں کھولو کیا ہوا تمہیں”
وہ حنین کا سر اپنے گھٹنے پر ٹکائے اس کا گال تھپتھپاتا ہوا پوچھنے لگا۔۔ آزھاد نے ایک نظر سنسان روڈ پر ڈال کر دوبارہ حنین کے بےہوش وجود کو دیکھا،،، پھر اسے اٹھا کر اپنی کار کے پاس لے آیا اور اسے کار کی پچھلی سیٹ پر لٹایا۔۔۔
آزھاد کو حیرت ہو رہی تھی کہ اتنی رات گئے سنسان جگہ پر وہ اکیلی کیا کر رہی تھی۔۔۔ کار میں لٹانے کے بعد وہ سڑک پر جاکر اپنا موبائل اٹھانے لگا جس کی اسکرین چکنا چور ہو گئی تھی نفی میں سر ہلاتا ہوا وہ کار کی طرف واپس آیا
اس کے ساتھ آج بیٹ لک یہ ہوئی تھی کہ وہ مُکرم اور فصیح کے پاس سے واپس گھر جانے کے لیے نکلا تو ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد اس کی کار خراب ہوگئی تھی اتنی رات گئے سخت سردی میں وہ اپنی کار سے نکل کر فصیح اور مُکرم کے موبائل پر پچھلے آدھے گھنٹے سے کال ملا رہا تھا دونوں ہی اس کی کال ریسیو نہیں کر رہے تھے پھر یوں اچانک حنین اس کے سامنے چلی آئی
آزھاد ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا گردن موڑ کر وہ حنین کو دیکھنے لگا اس وقت سردی میں وہ پتلے سے ٹاپ میں موجود تھی کسی احساس کے تحت آزھاد نے اپنی جیکٹ اتار کر حنین کے اوپر ڈالی،، اب وہ اپنی برابر والی سیٹ پر سے پانی کی بوتل اٹھا کر بوتل سے منہ لگا کر پانی پیتا ہوا حنین کو دیکھنت لگا، ہتھیلی میں پانی بھر کر اس نے حنین کے منہ پر چھڑکا
****
“ہنی”
نوین ایک دم حنین کا نام پکار کر بیڈ سے اٹھی اس کے برابر میں لیٹا ہوا شاہنواز نوین کے جاگنے سے خود بھی بیدار ہوگیا اور لیمپ ان کیا
“کیا ہوا تمہیں،، نوین تم ٹھیک ہو” شاہنواز نوین کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“جی، بس ویسے ہی ہنی کو خواب میں دیکھا وہ رو رہی تھی تو میں ڈر گئی”
نوین اپنے آپ کو نارمل کرتی ہوئی شاہنواز کو بتانے لگی پھر سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا اپنا فون اٹھا کر کو کال کرنے لگی
“کیا کر رہی ہو نوین ٹائم دیکھا ہے تم نے اس وقت رات کے 3 بج رہے ہیں کیوں اس کو نیند سے ڈسٹرب کر رہی ہو وہ سو رہی ہوگی اس وقت”
شاہنواز نوین کا فون اسکے ہاتھ سے لیتا ہوا بولا
“اس کی آواز سن لی تھی تو مجھے تسلی ہوجاتی”
نوین شاہنواز کو دیکھتی ہوئی بولی
“نوین میں مانتا ہوں تمہیں حنین سے محبت ہے مگر اسے خود سے اتنا اٹیچ بھی مت کرو کہ بعد میں وہ تمہارے بغیر رہ ہی نہ سکے،، وہ ساری زندگی تو تمہارے ساتھ نہیں رہے گی کل کو اس کی بھی شادی ہونی ہے یوں ہر آدھے گھنٹے بعد فون کرکے اس کی خبر گیری کرنا ایک ایک پل کی اس سے اپڈیٹ لینا اس طرح یا تو وہ خود تم سے دور ہو جائے گی یا پھر اتنا اٹیچ کے وہ کسی دوسرے کے ساتھ ایڈجسٹ ہی نہیں ہو پائے گی”
شاہنواز نوین کا ہاتھ تھام کر اسے سمجھانے لگا
“بہن ہے وہ میری شانواز مجھ سے کبھی بھی دور نہیں ہو سکتی نہ کوئی دوسرا اسے مجھ سے دور کر سکتا ہے”
نوین شاہنواز کو دیکھتی ہوئی بولی
“اور کل کو اگر اس کی شادی ایک ایسے انسان کے ساتھ ہو جاتی ہے جسے تمہاری اس سے اٹیچ منٹ اریٹیٹ کرے تو”
شاہنواز نوین کو دیکھ کر پوچھنے لگا اسے معلوم تھا نوین کی کمزوری اس کی بہن ہے مگر ہر رشتے کو نارمل رکھ کر چلنا چاہیے وہ یہ بات نوین کو نہیں سمجھا پاتا تھا
“تو ظاہری بات ہے کسی کی اریٹیشن ختم کرنے کے لیے میں اپنی بہن سے اپنا تعلق ختم نہیں کرسکتی اس لئے میں اس انسان کو ہی اپنی بہن کی زندگی سے نکال دور پھینکو گی”
نوین کندھے اچکا کر شاہنواز کو آسان سا حل بتانے لگی جس پر شاہنواز نے مسکرا کر اس کی بات کو مذاق میں لیا
“کیا اتنی ہی محبت تم مجھ سے بھی کرتی ہو”
شاہنواز نوین کا سر اپنے کندھے پر رکھ کر اس سے پوچھنے لگا
“اب کیا آپ مجھ سے اپنی محبت کا امتحان لیں گے”
نوین شاہنواز کے کندھے سے سر ٹکائے اسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“امتحان تو تم دے چکی ہوں اور اس میں پاس بھی ہو چکی ہوں”
شاہنواز نے تکیہ پر اپنا سر رکھتے ہوئے نوین کا سر اپنے سینے پر رکھا اور لیمپ آف کر دیا.
جاری ہے
