Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Last Episode pt.last
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode pt.last
لندن۔۔
بلیک کلر کے لونگ کوٹ پہنے وہ آفس کا کام سمیٹ رہا تھا ۔بارش کا موسم تھا اور اسفند کو جلد ازجلد اپنے فلیٹ پہ پہنچ کے اپنی پیکنگ بھی کرنی تھی۔۔
جبھی آفس کا دروازہ کھلا اور ایک 22 سال کی لڑکی جو خوبصورت ہونے کیساتھ ساتھ معصوم بھی تھی طریقہ کا ویسٹرن ڈریس پہنے اسفند کے آفس میں اینٹر ہوئ جسکا پھلا ہوا منہ دیکھ کے اسفند سمجھ چکا تھا کے آج اسکی پھر وسیم سے لڑائ ہوئ جو اسکا منگیتر ہونے کیساتھ اب بہت جلد اسکا ہونے والا شوہر بھی تھا۔۔
اسفند نے اسکا پھولا ہوا منہ دیکھا تو اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔
کیا ہوا مہوش منہ کیوں لٹکا ہے؟؟
مہوش نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر کہا۔۔
اسفی بھائ میں نے آپ سے کہا تھا ماما سے بات کرے ابھی مجھے شادی نہی کرنی اوپر سے آپ نے تو اور ماما کو یہ کہا کے اسی منتھ کے لاسٹ میں شادی کردو ۔۔
ہاوو کڈ یو؟؟
اوہ میں سمجھا پتہ نہی کیا ہوگیا میری بہن کا منہ کیوں لٹکا ہے ۔۔
اسفی بھائ میں سیریس ہو۔۔
اوہ اوہ اچھا۔۔
اور آپ تو ویسے بھی کل پاکستان جارہے ہیں میری شادی پہ بھی نہی ہونگے اپ۔۔
یار دائ جان نے اس بار دھمکی دی نہی آیا تو واسطہ ختم اب تو جانا پڑے گا۔اسفند نے مصروف انداز میں کہا۔
صرف دائ جان کیلیے جارہے ہیں رجا بھابھی کیلیے نہی۔۔مہوش کی بات پہ اسفند کا کام کرتا ہاتھ رکا اور اس نے مسکرا کے کہا۔۔
پتہ نہیں مہوش کہا ہے ؟کیسی ہے؟
مگر شاید اس بار قسمت مہربان ہو جائے مل۔جائے مجھے۔
مل جائے گی انشاءاللہ ابھی وہ دونوں باتیں کررہے تھے کے دروازہ کھلا اور وسیم گنگناتے ہوئے اندر ایا۔۔
“ساتھ چھوڑونگا نہ تیرے پیچھے اونگا۔۔
چھین لونگا یہ خدا سے مانگ لاونگا۔۔
تیرے نال تقدیرا لکھوانگا۔۔
میں تیرا بن جاونگا۔۔۔”
وسیم کے گانا گنگنانے پہ اسفند کا ہاتھ پل بھر کیلیے رکا پل بھر کیلیے آنکھیں اسکی بھیگی مگر پھر وہ نارمل انداز میں مسکرایا اور کہا۔
وسیم میری بہن کا اگر خیال نہیں رکھا نہ تو لندن آنے میں مجے دو منٹ لگینگے ۔۔
اسفند کی دھمکی پہ 23 سالہ وسیم نے سڑا ہوا منہ بنایا اور کہا۔۔دونوں بہن بھائ صرف دھمکی دیتے ہو۔۔
وسیم کے اس انداز پہ اسفند کے ساتھ ساتھ مہوش کی بھی ہنسی نکلی۔
چلو نہ مہوش شاپنگ پہ۔۔۔
وسیم نے منتیں بھرے انداز میں کہا تو اسفند کے کہنے پہ مہوش اسکے ساتھ چلی گئ۔
لندن میں اسفند کے یہ پڑوسی اسفند کی بے رنگ زندگی میں کسی رنگ کی مانند تھے ۔مہوش کی امی اپنی بیٹی کیساتھ رہتی تھی جبکہ انکے والد کا انتقال ہوگیا۔وسیم مہوش کے خالہ کا بیٹا تھا اور مہوش سے بہت محبت کرتا تھا۔۔
اسفند کے بارے میں مہوش اور وسیم سںب جانتے تھے بس دعا کرتے تھے کے انکے بھائ کی یہ ہجر کا سفر اب ختم۔ہوجائے۔۔
اسفند گھر پہنچ کے اپنی پیکنگ کرنے میں مصروف ہوگیا جب اسکی ایک تے شدہ شرٹ میں سے رجا کی پک گری۔۔
اسفند نے پک اٹھائ اور غور غور سے دیکھنے لگا ۔۔
“کہی تو دل میں یادوں کی ایک سولی گڑھ جاتی ہے ۔
کہی کوئ تصویر بہت ہی دھندلی پڑھ جاتی ہے۔
کوئ دنیا کے نئے رنگوں میں خوش رہتا ہے۔۔۔
کوئ سب کچھ پاکے بھی یہ من ہی من کہتا ہے ۔
کہنے کو ساتھ اپنے ایک دنیا چلتی ہے۔۔
پر چپکے اس دل نہ تنہائ پلتی ہے۔۔
بس یاد ساتھ ہے ۔تیری یااد ساتھ ہے۔۔””
!!!!!!
اسفند کراچی پہنچ چکا تھا کیونکہ ناعمہ بیگم اسے بتا چکی تھی وہ لوگ کراچی میں ہیں۔۔
صبح 12 بجے کے قریب وہ کراچی پہنچا تھا فلائٹ میں ارام کرتا آیا تھا اس لیہ فریش ہوکے بیٹھا تھا جب اس نے دائ جان سے کہا۔
دائ جان یہ حنا اور مظہر نہی دیکھ رہے وہ لوگ تو کہہ رہے تھے کے کراچی میں ہے اور زوہیب اور انعم بھی نہی دیکھ رہے۔۔
ابھی نصرت بیگم اسے جواب دیتی کے اس کے ناعمہ بیگم کے نمبر پہ حنا کی کال۔انےلگی۔۔
ارے حنا کہاں ہو تم۔لوگ؟؟
اسفند نے ناعمہ بیگم سے موبائل لیتے ہوئے کہا۔
ارے بھائ یہاں فییسٹا واٹر پارک میں ہے یہی اجائے نہ آپ ۔۔
ارے میں وہاں آکے کیا کرونگا تم لوگ آجاؤ گے تب مل لینگے ۔۔۔
اجائے نہ بھائ سب بچے اپکو دیکھ کے خوش ہوجائئگے ۔حنا کے اصرار پہ اسفند نے اڈریس پوچھا اور فیسٹا کیلیے نکل پڑا۔
ادھر سارے گھر والے آج ہونے والے تماشے کیلیے تیار بیٹھے تھے سب جانتے تھے اب یہ بات اسفند سے کوئ چھپا نہی سکتا کے وہ دو بچوں کا باپ ہے ۔۔زروان زوہیب اور مظہر کے کہنے پہ۔دائ جان اور دددیی دونوں نے اسفند کو بلا تو لیا تھا مگر آگے جو ہوگا اس کیلیے وہ دونوں زمیدار نہی ہونگی یہ بات وہ ان تینوں کو بول چکی تھی۔۔۔۔
اسفند واٹر پارک پہنچ چکا تھا جب اس نے حنا کے نمبر پہ کال کرکے پوچھا۔۔
آگیا ہو میں کہاں ہو تم لوگ۔؟؟
ببھائ وہ جو تین چار سلائڈ لگی ہیں نہ ایک ساتھ آپ وہاں پہنچے ہم اراہے ہیں۔۔
حنا نے کال کٹ کی تو اسفند سلائئڈ کے پاس پہنچا ۔۔وہ سارے ایک طرف کھرے تھے آگے کا سین دیکھنے کیلیے ۔۔
پول میں جب اسفند پاؤں ڈال کے بیٹھا تو ایک آواز پہ وہ ساکن رہ گیا۔
ایشال ابھی کے ابھی نیچے او بہت اونچی سلائڈ ہے وہ بیٹا۔۔
رجا ایشال کو ڈانٹ رہی تھی جو بہت اونچی سلائڈ پہ بیٹھی تھی۔۔
رجا کی آواز پہ اسفند نے پلٹ کے دیکھا تو ساکن رہ گیا اس کی رجا اسکے سامنے کھڑی تھی اور کسی کو پکار رہی تھی۔
اسفند اس سے پہلے رجا تک پہنچتا۔سلائیڈ پہ بیٹھی بچی منہ بناتی ہوئ نیچے آئ تو اسفند کو ایک جھٹکا لگا جب اس نے رجا کو ماما کہا۔۔
کیا ہے ماما اتنی بھی اونچی نہی سلائیڈ ۔۔
بچی نے بولتے ہوئی رجا کا ہاتھ پکڑ کے چلی گئ جبکہ اسفند وہ کھڑا رہ گیا جب پیچھے سے حنا نے کہا ۔
بلکل آپ میں ملتی ہے نہ بھائ آپکی بیٹی ۔۔
حنا کی آواز پہ وہ ایک دم پلٹا تو سب کھڑے تھے اسفند کی آنکھوں میں انسو چمکنے لگے جب اس نے ہکلاتے ہوئے کہا۔۔۔
مہ۔۔ری۔۔بیٹی؟؟
ہاں اسفند تمہاری بیٹی اور تمہارا بیٹا بھی وہ دیکھو زارون کے اشارے کرنے پہ اسفند نے پلٹ کے دیکھا تو شششد رہ گیا رجا دونوں کا ہاتھ پکڑ کے شاید ان لوگوں کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔
اسفند بھائ اللہ نے اپکو جڑواں بچوں سے نوازا ہے یہ بولنے والی انعم تھی۔۔
اسفند کی آنکھوں سے پہلے آنسو گرے پھر اسکی آنسو میں غصہ ابھرنے لگا۔
وہ رجا کی طرف جانے لگا جب زوہیب نے کہا بھائ ابھی نہی پلیز تین دن بعد آپکے بچوں کی سالگرہ ہے پلیز وہاں آئیے گا سب کے سامنے ابھی نہی ورنہ رجا کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔۔
اسفند نے غصے سے بھری نظر ان سب پہ ڈالی اور چلا گیا۔
شام میں وہ لوگ واپس آئےتو کافی تھکے تھے مگر اپنے نمبر پہ۔اسفند کا ملنے والے میسج پہ وہ۔لوگ ایک بار پھر ایک ہوٹل کے کمرے میں مجرم کی طرح سر جھکا کے کھڑے تھے۔۔
واہ کیا دوستی نبھائ تم لوگوں نے؟؟
اسفند نے ایک غصیلی بھری نظر وہاں کھڑے ہر نفوس پہ ڈالی جب زارون اور زوہیب نے کہا۔
بھائ اپکو اندازہ نہی رجا نے کتنی بڑی قسم دی تھی کے نہ اپکو یہ بتایا جائے کے آپ دو بچوں کے باپ ہیں نہ یہ بتایا جائے کے رجا کہاں ہے ۔۔
ہاں اسفند ورنہ رجا ہمارے پاس سے بھی چلی جاتی ۔مگر اس بار ہم۔نے اسکو کراچی میں اس لیہ روکا تاکہ تم۔لوگوں کو ملواسکے۔
مظہر نے بھی اپنی رائے دی۔۔
پرسو آپکے بچوں کی سالگرہ ہے اور آپکے بیٹے نے یہی ضد رکھی ہے کے جب تک اسکے پاپا نہی آئینگے وہ کیک نہی کاٹے گا۔۔
حنا اور انعم نے بھی اسفند سے کہا۔۔
ٹھیک ہے اب سالگرہ میں ہی اپنی آنکھوں والی آندھی بیوی کے میں ہوش اڑاونگا ۔۔
مگر جب تک میں یہی رہونگا۔۔
سالگرہ کی تیاری بڑی دھوم دھام سے کی گئ تھی۔۔وائٹ فیری فراک میں ایشال اپنے باپ کی چھاپ لگ رہی تھی تو ادھر وائٹ پینٹ کوٹ میں اذان بھی اپنے باپ میں مل رہاتھا۔۔
لائٹ پرپل کلر کی ساڑھی میں رجا بھی غضب ڈھا رہی تھی۔۔
جب اذان نے پاپا پاپا کی رٹ لگانا شروع کردی کیک کاٹتے وقت ۔
رجا اسسے کافی دیر سے سمجھا رہی تھی جب ایک دم لائٹ اوف ہوئ اور زارون نے اسفند کے کہنے پہ ڈی جے کو سانگ پلے کرنے کہا۔
“ساتھ چھورونگا نہ تیرے پیچھے آؤنگا ۔۔
چھین لونگا یہ خدا سے مانگ لاونگا۔۔
تیرے نال تقدیرا لکھ واونگا میرا تیرا بن جاونگا۔۔۔”
اور اسفند نے اینٹری دی بیلک شلوار قمیض میں ۔۔
رجا نے جب اسفند کو دیکھا تو ساکن رہ گئ۔بلا جھجھک اسکی نظریں اپنے گھر والوں پہ گئ۔
اسفند اپنے دونوں بچوں کے پاس آیا تو اسکی آنکھوں میں انسو تھے وہ دونوں بچوں کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا اور کہا۔۔
اب تو پاپا آگئے اب تو کیک کاٹیں ۔۔
کیا؟؟ آپ ہمارے پاپا ہیں ایشال اور اذان دونوں نے ایک ساتھ کہا۔۔۔۔
تو اسفند ۔ے اپنے آنسو صاف کیہ اور ہاں میں گردن ہلائ۔۔۔
دونوں بچے فورا اسفند کے سینے سے لگ گئے بچوں کو سینے سے لگائے اسفند روپڑا جب اسکی نظر پاس کھڑی رجا پہ گئ ایک غصہ کی۔لہر اسکی آنکھوں میں اتر گئ ۔
دونوں بچوں نے باپ کی گودھ میں ہی چڑھ کے کیک کاٹا۔۔
سب ہی کی آنکھیں یہ سین دیکھ کے بھر ائ۔
جیسے تیسے پارٹی نبٹی تو رجا نے کہرام مچادیا ۔دونوں بچے باپ سے لگ کے سورہے تھے مگر اسفند جاگ رہا تھا اور رجا کی آواز صاف سن رہا تھا جو دائ جان دددیی سب سے لڑ رہی تھی۔۔
دائ جان اپنے آخر اپنے پوتے کا ہی ساتھ دیا نہ۔۔
غلط بات مت کرو رجا یہ بولنے والی دددیی تھی۔۔
ہم نے کس کا ساتھ دیا کس کا نہی یہ تم بھی جانتی ہو پانچ سال سے اسفند اس بات سے لاعلم رہا کے وہ باپ بن چکا ہے اور ایساہم نے صرف تمہارے کہنے پہ کیا ۔۔
ہاں بھابھی اب بس کرے بچوں کا تو سوچے انہں ضروت ہے اب بھائ کی۔
حنا کے بولنے پہ رجا نے گھوم کے حنا کو دیکھا۔۔
معاف کردو اسے رجا ہارون صاحب اور خرم صاحب نے بھی اسفند کی سائیڈ لی جبکہ زارون مظہر اور زوہیب بلکل خاموش تھے۔
کبھی معاف نہیں کرونگی میں ابھی اسی وقت جارہی ہو اپنے بچوں کو لے کے اپنے ساتھ ۔۔
رجا یہ بول کے چپ ہوئ جب اسفند کی آواز ائ۔
اب بچے کہی نہی جائینگے وہ اپنے دادو کے گھر رہینگے اپنے باپ کیساتھ۔۔
اسفند یہ بولتا ہوا رجا کے سامنے کھڑا ہوا تب رجا نے کہا۔
وہ تمہارے بچے نہی ہیں۔۔
اچھا تو پھر کس کے بچے ہیں لاو اسکا نام بتاو۔۔
اسفند زبان سنبھالو ناعمہ نے غصہ میں۔ اسفند کو دیکھ کے کہا۔
ٹھیک ہے رکھو اپنے بچے اپنے پاس میں جارہی ہو اب۔رجا نے روتے ہوئے اپنے آنسو صاف کیہ اور اوپر جاکے اپنا سامان باندھنے لگی۔۔
یار اسفند منالے اسے مظہر نے اسفند سے کہا۔
ہاں اسفند یہاں سے نکل کے وہ کہاں جائیگی کسی کو نہی پتہ چلے گا۔۔یہ بولنے والا زارون تھا۔
۔
سب کے بولنے پہ اسفند رجا کے پیچھے کمرے میں گیا اندر گیا تو رجا روتے ہوئے اپنا سامان پیک کرہی تھی۔۔
اسفند نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور آکے رجا کا ہاتھ پکڑ کے کہا۔
کہاں جارہی ہو اپنے شوہر اور بچوں کو چھوڑ کے۔۔؟؟
تمہارے بچے ہیں وہ ابھی تم نے کہا میں تو بغیرت ہو عزت راز نہی ہے مجھے ایک بدچلن عورت کہی بھی جائے تم جیسے عزت دار کو کوئ فرق نہی پڑھنا چاہیے تمہیں بچے چاہیے نہ میں نے دے دیے اب میں کہی بھی جاؤ یہ تمہارا مسلہ نہی رجا نے اسفند کے روبرو آکے غصہ میں کہا۔۔
مجھ سے غلطی ہوگئ رجا پانچ سال بہت ہوتے ہیں یار تم نے مجھے سزا دے تو دی مجھ سے میرے بچے کی موجودگی چھپا کر ۔۔۔
مجھے کچھ نہی سننا آپکے لگائے گئے الزام ان پانچ سالوں میں کسی کوڑے کی طرح میرے جسم پہ برسے ہیں۔۔
رجا نے روتے ہوئے کہا۔
میں ہر زخم پہ مرہم رکھونگا مجھے موقع تو دو ۔اسفند کی بھی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔تم۔نے مجھے خود سے دور رکھا رجا ورنہ میں اتنے سال تم سے دور نہی رہتا۔مومن بشر ہو غلطی ہوگئ یار معاف کردو پلیز اپنے گھر چلو مجھے بھی اپنی فیملی چاہیے ۔۔
اچھا کس کس زخم پہ مرہم رکھینگے آپ ۔۔یہ بول۔کے رجا نے اپنی قمیض کی ڈوری کھولی اسکی پوری کمر کھل گئ۔
جہاں اسفند کی بیلٹ کی مار کے نشان اب بھی موجود تھے جہاں اسکی بیلٹ کا کفل اندر گھب گیا تھا وہاں بہت گہرا زخم تھا۔
رجا کی کمر پہ زخم دیکھ کے اسفند نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کری اور رجا کی کمر پہ جھک کے اسکے ہر زخم پہ اپنے لب رکھے۔
اسفند کی اس حرکت پہ رجا کی بھی آنکھیں بہنے لگی وہ اس بنجر زمین کی طرح تھی جہاں برسوں بعد اج اسکے شوہر کے پیار کی برسات ہوئ تھی۔
اسفند نے رجا کو گھوم کے اپنی طرف کیا اور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کے کہا۔
پلیز معاف کردو نہ یار ایک بار پلیز یہ کہہ کے اسفند نے رجا کے کندھے سے شرت تھوڑی نیچے کی وہاں اپنے لب رکھے ۔۔اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھے ۔۔
رجا اپنی آنکھیں بند کرکے کھڑی تھی جب کچھ یاد آنے پہ رجا نے اسفند کو خود سے دور کیا اور اپنی شرٹ اوپر کرتے ہوئے کہا۔۔
نہی کرونگی معاف میں جارہی ہو آپ رہے اپنے بچوں کیساتھ ۔۔یہ بول کے رجا اپنا سامان لے کے جانے لگی جب اسفند نے اسکی کلائی تھام کے اسے اپنے پاس کیا۔
رجا اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ اسے خود سے دور کرنے لگی مگر اسکی آنکھوں کو دیکھ کے ڈر گئ جہاں آج ایک بار پھر سب کچھ پانے کا جنون تھا۔
مجھے مجبور مت کرو رجا کے میں اپنے شوہر ہونے کا حق جتاو؟؟
چھوڑے مجھے اسفند مجھے نہی رہنا اپکے ساتھ آپ آپ بہت برے ہیں آپ نے مجھے پہ بہت الزام لگائے مجھے بولنے کا موقع بھی نہی دیا ۔مجھے بہت مارا ۔۔
رجا ہونٹ نکال کے رو رہی تھی اور ساتھ ساتھ اسفند سے اسکے ہر رویہ کی شکایت کررہی تھی۔۔
لو تم بھی مار لو مجھے اسفند نے اسکا ہاتھ لے کے اپنے گال پہ مارتے ہوئے کہا۔۔۔
نہی کیا کررہے ہیں آپ رجا نے اپنا ہاتھ اسفند کے گال سے ہٹاتے ہوئے کہا۔
اسفند نے رجا کو باہنوں میں اٹھا کے بیڈ پہ لیٹایا اور اس پہ جھک کے کہا۔۔
“چاہوگی تم جیسا ہوجاونگا ویساا۔۔۔
چاہے تو وعدہ لے لو۔۔
“”
یہ بول کے اسفند رجا کے لبوں پہ جھک گیا ۔۔
رجا مسلسل ہاتھ چلا کے اسے خود سے دور کرنے لگی ۔جب اسفند کا ہاتھ اسکی شرٹ پہ گیا جو وہ کندھے سے نیچے کرچکا تھا ۔دیوانہ وار وہ رجا پہ اپنے پانچ سال کا پیار نچھاور کررہا تھا۔۔
اسفند رجا سے بہت محبت کرتا تھا اور رجا بھی یہ بات وہ دونوں جانتے تھے ۔۔بس آنا کی دیوار تھی دونوں کے درمیان۔۔۔
رجا نے بھر پور مزاحمت کی مگر تھک ہار کے اس نے ہار مان لی۔
اسکے ہار مانتے ہی اسفند نے پھر پور مسکرائٹ کیساتھ اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے ۔۔
رجا کی آنکھوں میں انسو جمع ہونے لگے اور اس نے اسفند کے کشادہ سینے پہ اپنا منہ چھپاتے ہوئے کہا۔
گرین آنکھوں والا مونسٹر۔۔
ہاں مونسٹر مگر صرف تمہارا ۔معاف کردیا نہ مجھے رجا۔۔؟؟
اسفند کے پوچھنے پہ رجا نے ہاں میں گردن ہلائی اور اپنا آپ اسفند کو سونپ دیا۔۔۔
!!
صبح ناشتہ کی ٹیبل۔پہ جب سب نے اسفند کو دیکھا اور شرمائ شرمائ رجا کو تو سب سمجھ چکے تھے کے معاملے ٹھنڈا ہوچکا۔۔
پاپا پاپا میں آپکے ساتھ ناشتہ کرونگی ایشال ڈورتی ہوئ آئ اور اسفند کی گودھ میں چڑھ کے بیٹھ گئ ادھر ازان نے بھی اسفند کے ہاتھ سے ناشتہ کیا ۔۔
جب حنا نے اپنی مسکان چھپاتے ہوئے زارون اور آمنہ کو مخاطب کرکے کہا جنکو سب نے کل روک۔لیا تھا۔
زارون بھائ آمنہ آپی کل رات کو کوئ جارہا تھا نہ ارجنٹ فلائٹ سے۔۔
حنا کے بولنے کا مطلب سمجھ کے سب کا ہی قہقہ گونجا ٹیبل پہ اور رجا نے شرما کے اسفند کے کندھے پہ۔اپنا منہ چھپا لیا۔
پاپا پاپا۔
آج پھر پنڈی کی پہاڑیوں پہ اسفند کی گاڑی ریس ٹریک پہ تھی اسکے دونوں بچوں نے بھر پور شور مچایا جب اسفند ریس جیتا ۔
ایشال تو جلدی سے اپنے پاپا کے پاس پہنچی جب کے اذان بنا دیکھے نیچے اترنے لگا مگر افسوس رجا کی طرح اپنی آنکھوں کا استعمال نہی کیا اور ایک بچی کی آئسکریم گراتے ہوئے اسفند تک پہنچا جب اس بچی نےغصہ میں کہا۔
اوہ آنکھوں والے اندھے ۔۔
لڑکی کے بولنے پہ رجا اسفند اور ایشال نے پلٹ کے دیکھا اور جب دیکھا کے معملہ کیا ہے تو ایشال نے کہا۔
ماما بھائ کبھی دیکھ کے نہی چلینگے ۔۔
تم۔نے مجھے آنکھوں والا اندھا کہا۔
اذان غصہ میں اس بچی تک پہنچا اور کہا۔
ہاں کہاں دیکھ کے نہی چلتے میری آئسکریم گرادی۔
ہاں تو تم دیھان سے کھاتی نہ آئسکریم گرین آنکھوں والی چڑیل اذان نے بھی اسکی آنکھوں پہ چوٹ کرتے ہوئے کہا۔
اور اذان کے جملے پہ رجا اور اسفند نے ایک دوسرے کو دیکھا اور انکا زندگی سے بھر پور قہقہ ریس ٹریک پہ گونجا۔۔
ختم شد۔۔
