No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
اسفند ایک دو دن کراچی میں رکا۔۔
آج وہ سارے دوست مل کر سی ویو گئے۔۔مظہر کے بہت اسرار پہ اسفند نے بھی جانے کی حامی بھر لی۔۔
سمندر کی خاموشی دیکھ کے اسفند بھی بلکل خاموش ہوکے ایک جگہ بیٹھ گیا اور مسلسل سمندر کو تکنے لگا جب اسکے کانوں میں ایک نسوانی آواز ائ۔۔
ارے رجا چل نہ سمندر میں خالی پاؤں گیلے کرینگے۔۔
نہی بھئ مجھے اس خاموش سمندر سے بہت ڈر لگتا ہے تم لوگ جاؤ پلیز میں یہی ہو نہ کنارے پہ ۔۔
رجا نے آمنہ کی بھر پور منتیں کی ۔۔
آمنہ بھی سڑا ہوامنہ بنا کے سمندر کیطرف بڑھی۔جب رجا کو ایسا لگا کے وہ کسی کی نظروں کے حصار میں ہے۔۔
رجا نے گھوم کے ادھر ادھر نگاہ ڈورائ تو ایک شخص پتھر پہ بیٹھا تھا مگر اسکی پشت رجا کیطرف تھی۔۔
رجا نے اپنا وہم سمجھ کے کندھے اچکائے اور اپنے موبائل پہ سانگ پلے کرکے وہی بیٹھ کے سننے لگی۔۔
اب کی بار اسفند نے دوبارہ پلٹ کے اسے دیکھا تھا ۔اسکا دل ایک عجیب سی خواہش کررہا تھا کے وہ بار بار رجا کو دیکھےوہ رجا کو دیکھنے میں ہی مگن تھا ۔۔
جب رجا نے گانا شروع کیا۔۔
،،ساتھ چھوڑونگی نہ
تیرے پیچھے اونگی۔۔
چھین لونگی خدا سے یہ مانگ لاونگی۔۔
تیرے نال تقدیرا لکھوانگی۔۔
میں تیری بن جاونگی۔۔,,,
دو پل کیلیے رجا کا گانا سن کے اسفند کے لب مسکرائے اسکی لائٹ گرین انکھوں میں ایک عجیب سی چمک اٹھی۔۔
اور اسفند نے پتھر سے اٹھتے ہوئے دھیرے سے سرگوشی کی۔۔
“پاگل”
#
۔اوہ واؤ انعم تم تو کمال لگ رہی ہو اور یہ ڈریس اٹس سو ہاٹ!!!!!
انعم کی دوست جینی جو ایک امیر خاندان کی بگڑی ہوئی اولاد تھی۔۔۔
انعم کے ڈریس پہ ٹونٹ کرتے ہوئے کہا۔۔
جو کے ایک ریڈ کلر کا اسکٹ تھا۔۔ڈیب گلا اور گھٹنوں تک اتا وہ اسکرٹ ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کررہا تھا۔۔
رات کو کمبائینڈ اسٹڈی کا بہانے کرکے انعم جاتی تو اپنی دوست کے گھر تھی مگر وہاں سے وہ اپنی دوستوں کیساتھ کراچی کے نائٹ کلب میں اپنے دل کو تسکین دیتی۔عبایا پہن کے گھر سے نکلنا اور وہاں جاکے اپنے آپکی کی نمائش کرنا انعم خالد کا شوق تھا۔۔
جینی بھلے ایک امیر خاندان کی لڑکی کی مگر ولادین کی بے جا آزادی نے اسکی شخصیت بگاڑ دی۔۔
نائٹ کلب کی میبر ہونے کیساتھ وہ انعم کیساتھ کالج میں بھی پڑھتی تھی اور بھاری مقدار میں لڑکیوں کو ڈرگز سپلائ کرتی تھی۔۔
انعم کو بھی وہ کچھ ایسی لٹ لگانا چاہتی تھی ۔۔تاکہ انعم اسکی غلام ہوکے ہر وہ کام کرے جو جینی اس سے کہے ۔۔
جینی کو انعم سے کوئ خاص لگاؤ نہی تھا مگر جس شخص سے ڈرگز لے جینی کالج کی لڑکیوں کو سپلائے کرتی تھی اسکی نظر انعم پہ پڑ چکی تھی ۔۔انعم کو اس کےپاس لانے کیلیے جینی کو اسکے باس نے ایک بڑی رقم کی آفر کری تھی۔۔
اور شاید جینی کب کی اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتی مگر ہر بار زوہیب خان نجانے کہاں سے انعم کو بچانے اجاتا ۔۔
ابھی بھی جینی انعم کی ڈرنک میں ڈرگز ملا کے انعم کے پاس لے کے جارہی تھی ۔جب زوہیب خان ایک دم اسکے آگے آیا اور اسے گلاس لے کے اسکے منہ پہ مارا۔۔
اور ڈانس فلور میں جھولتی انعم کو جو کافی مقدار میں ڈرنک کرچکی تھی اور بہت سے لڑکوں کی نظروں کا مرکز بنی تھی اپنی باہنوں میں اٹھایا اور گاڑی کی طرف چل پڑا۔۔
انعم نے اپنی جھومتی انکھیں کھولی زوہیب کو دیکھا اور کہا۔۔
ہے یو؟؟؟
تم ،،ہ ۔۔ا۔ ر ہم ۔۔ت۔۔کیسی ہوئ مجھے گودھ میں اٹھانے کی ۔؟؟
اتنا بول کے انعم بیہوش ہوگئ ۔۔
زوہیب نے اسے گاڑی کی بیک سیٹ پہ لتا کے گاڑی جھٹکے سے اگے بڑھا دی۔۔
تھوڑی دور جاکے زوہیب نے جھٹکے سے گاڑی روکی فرنٹ سیٹ پہ رکھا برقعہ اٹھایا اور بیگ ڈور کھول کے انعم کے پاس آیا ۔۔
اسکے نیم برہنہ جسم کو دیکھ کے زوہیب نے نظریں چرائی اسکے پاؤں کو اسکی سینڈل سے آزاد کیا اسے برقعہ پہنا کے دوبارہ گاڑی اسٹارٹ کردی۔۔
گاڑی رات کے تقریبا 3 بجے نصرت ولا کے پیچھے والے حصہ پہ آکے روکی۔۔
زوہیب نے انعم کو دوبارہ باہنوں میں اٹھایا اور چور راستہ سے انعم کے کمرے میں پہنچ کے اسے لیٹایا اور واپس اسی راستے سے باہر نکل گیا۔۔
#
زوہیب خان ہارون صاحب کے ڈرائیور کا
بیٹا تھا۔۔
پڑھا لکھا خوبصورت لڑکا اسکی گہری براؤن خاموش آنکھیں کسی کو بھی اپنا دیوانہ بنا سکتی تھی۔۔
زوہیب خان کے والد دلاور نے ایک ایکسیڈینٹ میں اپنی زندگی کی بازی ہاری۔۔
جس ایکسیڈنٹ میں ہارون صاحب بھی کافی زخمی ہوئے تھے۔۔
زوہیب کی ماں بھی اپنے شوہر کا دکھ برداشت نہی۔کرسکی اور جان کی بازی ہار گئ۔۔
زوہیب جب ہارون صاحب کے پاس آیا تو 21 سال کا تھا انٹر پاس تھا ۔۔ہارون صاحب نے بہت کوشش کی ے وہ آگے پڑھ لے مگر اسکا پڑھائ میں دل نہی لگا۔۔
ہارون صاحب نے اسے گھر کی عورتوں کا ڈرائیور رکھا ۔۔
رجا کی وہ بہت عزت کرتا تھا رجا کا پہنا اوڑھنا اسے بہت اچھا لگتا تھاا۔اکثر وہ زوہیب سے اسکا حال احوال پوچھا لیتی ۔۔۔۔
مگر انعم سکے برعکس تھی وہ ہمیشہ زوہیب کو حقارت سے دیکھتی۔۔
پہلی نظر میں انعم زوہیب خان کے دل میں سما گئ وہ ہر طرح سے اسکا دیھان رکھتا مگر جب سے وہ کالج گئ تھی ۔زوہیب کو اسکی حرکتیں مشکوک لگنے لگی۔
زوہیب کے ڈیوٹی مغرب تک ہی ہوتی کیونکہ رات کو گھر کی لڑکیوں کو باہر جانے کی اجازت نہیں دیتی۔۔
ایک انعم تھی جو عصر کے وقت کبھی اپنی کسی دوست کے ہاں کبھی کسی دوست کے ہاں جاتی۔۔
نصرت بیگم بھی اسکے کچھ نہی بولتی کیونکہ وہ جاتی ہی فل پردہ میں تھی۔۔
اکثر مغرب تک گھر آجاتی مگر ہفتہ میں دو تین دن وہ دوستوں کے ساتھ رات کو نائٹ کلب جاتی۔اور گھر والوں کو کوئ نہ کوئ بہانہ کردیتی۔۔۔
اور جمیلہ بیگم یہ کہہ کے سب کو مطمئن کردیتی کو وہ اپنے کمرے میں ہے ۔۔
مگر زوہیب جو انعم کو اپنی دنیا مان چکا تھا ۔جب جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کہی جاتی سائے کی طرح اسکے ساتھ رہتا اور رات کو باحفاظت اسے اسکے کمرے میں چھوڑ کے اپنے گھر جاتا ۔۔
کئ بار وہ انعم کو منع کرچکا تھا یہ بول کے وہ ان سب سے دور رہے مگر انعم یہ بول کے اسکی تزلیل کرتی کے نوکر ہو نوکر بن کے رہو۔۔
ادھر وہ جمیلہ بیگم کے کان میں بھی یہ بات ڈال چکا تھا مگر جمیلہ بیگم نے بھی اسکے کھری کھری سنائ ۔۔
جب اسکی ماں نے بھی اپنی بیٹی کا نہی سوچا زوہیب نے خود انعم کی حفاظت جو سوچا۔۔
کیونکہ آصف سارا دن ہارون صاحب کے ساتھ آفس میں ہوتا۔۔
زوہیب کا کراچی میں اسکا خود کا ذاتی فلیٹ تھا جو اس نے ان تین سالوں میں اپنی کمائی سے خریدا تھا ۔ایک سلجھا ہوا انسان اپنی محبت میں الجھ کر رہ گیا تھا۔۔
وہ جانتا تھا انعم کو پانا ناممکن ہے پھر بھی وہ اسے ہر برائ سے بچانا چاہتا تھا۔
کتی دفعہ وہ انعم کو اس حالت میں کلب سے لایا تھا کے اگر وہ اسکی بیہوشی کا فائدہ بھی اٹھاتا تو کسی کو پتہ نہی چلتا مگر وہ اپنی محبت کو ناپاک کرنا نہی چاہتا تھا۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
See translation
