No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
رجا اور اسفند ڈھلان سےلڑکتے ہی چلے گئے ۔۔
اسفند کے اوپر رجا نے اسفند کی جیکٹ کے کالر۔۔ کو مظبوطی سے تھاما ہوا تھا اور ساتھ میں اسکی چیخیں بھی جاری تھی۔۔
کبھی وہ اسفند کے اوپر ہوتی کبھی اسفند اسکے اوپر ہوتا ۔۔
ایک تو اسفند کے ہاتھ کوئ ایسی چیز نہی آرہی تھی کے وہ اپنے اپکو روک سکے اوپر سے رجا کی چیخیں۔۔۔
ہائے ددددیی ہائے ماما بچالو اللہ کی قسم کبھی میں ٹرپ پہ جانے کا نہی بولونگی۔۔
رجا اسفند کے نیچے دبی ہوئ تھی اور زور زور سے چیخ چیخ کے نجانے کون کون سے عہد وفا کررہی تھی۔۔
اسفند جو ایک پتھر کے سہارے تکا تھا اورمظبوطی سے جہاں ایک ہاتھ سے پتھر کو تھاما تھا وہی ایک ہاتھ سے رجا کو کمر سے تھاما تھا۔۔
اگر زرا سا بھی بیلنس آؤٹ ہوتا وہ دونوں جھڑنے سے ہوتے ہوئے سیدھا بہتے دریا میں گرتے۔۔
اسفند جسکے منہ پہ پتھر کے سائیڈ سے ہوتا ہوا پانی تیزی سے لگ رہا تھا ۔اوپر سے رجا کی دہائ۔۔اسفند کا دماغ خراب کرنے کیلیے کافی تھے۔۔
اسفند نے نے تھوڑی گردن جھکا کے رجا کو غصہ سے دیکھا اور کہا۔
رجا بلکل چپ ہوجاو آئ سمجھ تم پتہ نہی کہاں سے آئے میری زندگی میں جب جب میرے سامنے آتی ہو کوئ نہ کوئ ا
منحوصیت ہوجاتی ہے ۔۔
یہ بول کے اسفند نے لائٹ گرین آنکھوں سے رجا کو گھور کے دیکھا اسفند کی بات پہ رجا کا منہ حیرت سے کھلا اور اس نے اسفند کو گھور کے کہا۔
تو تم۔کونسا شاہ رخ خان ہو جس کے سامنے آنے کیلیے میں مری جارہی ہو یہ تو قسمت کا کھیل ہے جو بدقسمتی سے تمہارے سامنے لے آتی ہے۔۔رجا نے بھی حساب برابر کرتے ہوئے کہا یہ جانتے ہوئے بھی کے وہ ابھی اسفند کے اسرے پہ ہے۔۔
رجا مسلسل بولے جارہی تھی جب کے اسفند خاموشی سے اسے دیکھنے لگا اور پھر وہ ہوا جو نہ اسفند نے سوچا تھا نہ رجا نے ۔۔
اسفند نے آگے جھک کے رجا کے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے جہاں اسفند کی اس حرکت پہ رجا کی آنکھیں پوری کھلی وہی اسفند نے رجا کے لبوں کو اور مظبوطی سے تھاما مگر ہاتھ اسکا پھسلا اور وہ دونوں بہتے دریا میں گرےےےےے۔
وہ تو اسفند اور رجا کی قسمت اچھی تھی کے دریا کا بہاؤ کم تھا ۔۔
رجا جیسے تیسے کوشش کرکے خشک جگہ پہ آئ مگر اسفند وہ اس سے پہلے ہی خشک جگہ پہ موجود تھا
اور بہت غور سے دریا سے نکلتی رجا کو دیکھنے لگا۔۔
رجا جیسی ہی باہر نکلی اس کی نظر سامنے پتھر پہ مزے سے بیٹھے اسفند پہ پڑی ایک غصہ بھری لہر رجا کے وجود میں ڈوری اور وہ اسفند کے پاس پہنچی اور اس سے پہلے ایک زناٹے دار تھپڑ اسفند کو مارتی اسفند اس کے ہاتھ قابو کرچکاتھا۔۔
ارے ارے اتنی غصہ میں کیوں ہو آنکھوں والی آندھی اسفند نے اپنے چہرے پہ کمال کی۔مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی یو گرین آنکھوں والے مونسٹر ۔۔۔۔
رجا اپنے دونوں ہاتھ چھڑوانے کی بھر پور کوشش کررہی تھی جبکہ اسفند وہ تو رجا کے آخری لفظوں میں گم تھا ۔۔
“گرین آنکھوں والا مونسٹر”
یہ لقب وہ پہلے بھی سن چکا تھا مگر کس سے۔۔
رجا نے اسکے ہاتھ پہ کاٹا تو وہ ہوش کی دنیا میں آیا اور جھٹکے سے اسے چھوڑا۔۔
اسفند کو رجا نے خونخوار نظروں سے دیکھا اور آگے بڑھنے لگی جبھی اسکو آس پاس سے اپنی دوستوں کی اواز آنے لگی ۔..
ا!!!!!ا
ارینا اور آمنہ جو رجا کیلیے پانی لینے گئی تھی تاکہ اسکے پاؤں صاف کرسکے مگر اسفند اور رجا کو ایک ساتھ ڈھلان سے گرتا دیکھ دونوں کی چیخیں بلند ہوئ جسے سن کے کافی لوگ اکھٹے ہوئے۔۔
مظہر بھی اسفند کو گرتا دیکھ چکا تھا۔۔
اس نے فورا ریسکیو کی مدد سے ڈھلان سے نیچے جانے والا دوسرا راستہ اپنایا۔۔
دریا پہ پہنچنے پہ ہی آمنہ اور ارینا کو رجا دیکھ گئ۔
دونوں تیزی سےرجا کے پاس پہنچی ۔۔ریسکیو کے ساتھ انکی دو تین ٹیچریں بھی تھی انہوں نے رجا کو کور کیا۔۔
جبکہ مظہر اسفند کے پاس آیا تو اس کے چہرے پہ ایک مسکراہٹ تھی اور جو وہ بار بار رجا کی طرف اچھال رہا تھا ۔
اور رجا کا بس نہی چلا کے اسکی مسکراہٹ چھین لے ۔
جیسے تیسے وہ لوگ اوپر مال روڈ کی طرف آئے رجا اپنی ٹیچر کے ساتھ جانے لگی جب اسنے پلٹ کے اسفند کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔مگر اسسفند نے اپنی دائیں آنکھ دبا کے رجا کے گیلے وجود میں بھی آگ لگا دی۔۔
مظہر ڈرائیونگ کررہا رہا تھا ۔۔جب مظہر کے نمبر پہ کال آئ ۔۔
کال سننے کے بعد جو خبر مظہر نے اسفند کو دی وہ اسے آگے لگانے کیلیے کافی تھی۔۔
یار یہ لڑکی ہے ہی محنوس جب جب میرے سامنے آتی ہے میرا بہت بڑا نقصان ہوجاتا ہے ۔
اسفند نے غصہ میں اپنے بال سیٹ کرتے ہوئے کہا۔
یار اس میں اسکی کیا غلطی بارش کی وجہ سے ریس کینسل ہوئ۔۔
مظہر نے تھوڑی سی رجا کی حمایت لی۔۔
اسفند نے دوبارہ کھڑکی طرف منہ کیا جب مظہر نے کہا۔۔
یار ویسے اسے قسمت کا کھیل کہہ لو ہر بار تجھے یہی لڑکی ٹکراتی ہے مجھے تو لگتا ہے بہت سولڈ کنکشن ہے تم دونوں کے درمیان۔
مظہر نے اپنی بات کہہ کے اسفند کی طرف دیکھتے ہوئے گاڑی موڑی جب اسفند نے گھور کے اسے دیکھا اور کہا۔۔
تجھے یہ سولڈ کنکشن لگتا ہے جب جب وہ میرے سامنے آئ ہے میں ہارا ہو ۔۔
ہمممم مظہر نے صرف اتنا کہا ۔۔اور تھوڑی دیر بعد گنگنایا۔۔
“یہ تیرا میرا ملنا۔۔
یہ دلوں کا کھلنا ۔۔۔
یہ ہے اللہ کی مرضی
یوہی نہی ہے جانا
مظہر نے گانا گاکے بہت مشکل سے اپنی ہنسی چھپائ مگر اسفند اسکی ہنسی چھپانا دیکھ چکاتھا۔
اسفند نے ایک ائئیبرو اٹھائ اور کہا۔
مسسز صفدر کئ بار حنا کیلیے اپنے بیٹے سفیان کا رشتہ لا چکی ہیں مگر دائ جان نے یہ کہہ کے انہیں منع کرا ہر بار کے حنا کی بات پکی ہوچکی ہے اور ایک مہینے بعد اسکا نکاح ہے ۔۔انکے پاپا کے دوست کے بیٹے مظہر سے ۔۔
مگر مجھے اب لگتا ہے سفیان بیسٹ آپشن ہے حنا کیلیے کیوں تیرے لیہ کوئ اور دیکھ لیتے ہیں۔۔
اسفند نے یہ بول کے گھور کے مظہر کو دیکھا جو منہ کھول کے اسفند کو سکتے کی حالت میں دیکھنے لگا ۔۔
جب اسفند کا قہقہ گاڑی میں گونجا اور اسفند نے
گانا شروع کیا۔۔
“”لڑکی کے بھائ کو لڑکا پسند نہی۔۔۔
مظہر نے سڑا ہوا منہ بنا کے اسفند کو دیکھا اور چپ چاپ گاڑی چلانے میں ہی عافیت سمجھی۔۔
دو مہینے پہلے مظہر کی ماں حنا کیلیے مظہر کا رشتہ لے کر ائ۔۔جیسے ہارون صاحب نے سب کی رضامندی کے بعد ہاں کردیا۔۔
اسفند مظہر کی نظروں میں حنا کیلیے پسندیدگی دیکھ چکا تھا اس لیہ اسے بھی کوئ اعتراض نہی تھا کیونکہ مظہر پچپن سے اسفند کے ساتھ تھا اور اسفند کو خود بھی لگتا تھا کے مظہر سے زیادہ بیسٹ آپشن حنا کیلیے کوئ ہو نہی سکتا۔۔
!!!!!!!!!!!!
جینی تمہیں ہم نے ایک کام بولا تھا شاید تم اب اس کام کے لیہ بیکار ہوچکی ہو۔۔
جینی اپنے باس کی بات سنتے ہی کافی پریشان ہوئ اور کہا۔۔
باس آج آپکا کام ہو جائے گا ۔۔۔
جینی نہ یہ بول کے کال کٹ کی اور انعم کو کال۔کرکے نائٹ کلب آنے کا بولا ۔۔
انعم یار آج تمہیں آنا ہی پڑے گا آج میری برٹھ ڈے ہے۔۔
یار جینی تم سمجھو میں روز روز نہی نکل سکتی ویسے بھی اس زوہیب کو شک ہوگیا ہے ..
ایسا نہ ہو وہ بھائ یہ ماموں کو بول دے۔۔۔۔
ٹھیک ہے یار انعم میں کرہی نہی رہی اپنی برتھ ڈے پارٹی۔۔
جینی نے کمال معصومیت سے کہا۔
انعم نے جب جینی کا افسردہ لہجہ دیکھا تو بول پڑی اچھا ٹھیک ہے میں اجاونگی۔۔
جینی نے انعم کی حامی سنتے ہی اس نے اپنے خاص بندوں کا کال کی آج کا پلین بتایا۔
انعم جیسے ہی 12.30 پہ گھر سے نکلی زوہیب بھی گاڑی لے کر نکلا مگر آج اسکی گاڑی میں ہارون صاحب بھی موجود تھے۔۔۔
جنہیں وہ دو دن پہلے کال کرکے کلب لے جا چکا تھا اور انعم کی حرکت بھی دیکھا چکا ۔۔
ہارون صاحب تو کلب دیکھ کے چکرا کے ہی رہ گئے تھے جہاں لڑکا لڑکی اپنی تمیز اور تہزیب بھول کے اپنی۔اپنی عیاشیوں میں مصروف تھے۔۔
مگر جب انہوں نے انعم کو دیکھا تو انہیں بہت افسوس ہوا۔۔
زوہیب ہارون صاحب کو یہ بات بھی بتا چکا تھا کے وہ جمیلہ بیگم کو انعم کے بارے میں بتا چکا ہے مگر انہوں نے اسے اسکی اوقات یاد دلا کے چپ کروادیا۔۔
ہارون صاحب نے جینی کی گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے پولیس کا کال کردی۔۔۔
ابھی وہ لوگ جینی کی گاڑی کا پیچھا کررہے تھے کے زوہیب کی گاڑی کا ٹائر پنچر ہوگیا۔
اور جینی کی گاڑی آگے نکل گئ۔۔
جینی نے کلب پہنچ کے جھوٹ موٹ کی سالگرہ کا کیک کاٹا اور انعم کو ڈرنک آفر کری جسمیں بہت زیادہ مقدار میں درگز موجود تھی۔۔
انعم نے جینی کے ہاتھ سے ڈرنک لے کے پی ۔۔
ایک دم اسکا سر بھاری ہونے لگا اس سے پہلے وہ گرتی ایک آدمی اسے باہنہوں میں اٹھاکے کلب کے پیچھے بنے اسٹور میں لے گیا۔۔
جہاں پہلے سے ایک بیڈ موجود تھا۔۔
جینی نے وہاں موجود کیمرے اون کیہ اور کمرے سے باہر نکلی ۔۔
مگر کمرے کے باہر زوہیب کو کھڑا دیکھ اس کی ہوائیاں اڑ گئ۔۔۔
اور کے پیچھے پولیس کو دیکھ کے جینی کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئ پولیس نے جینی کو گرفتار کیا اور وہاں موجود کافی لڑکی لڑکیوں کو جو درگز کے نشے میں دھت تھے۔۔
گاڑی کا ٹائر تیزی سے چینج کرکے ہارون صاحب اور زوہیب کلب کے باہر پہنچے اتنے میں پولیس بھی اچکی تھی۔۔
ڈی ایس پی ہارون صاحب کے بہت اچھے دوست تھے پولیس اندر گئ اور زوہیب بھی بھی پاگلوں کی طرح اندر انعم کو ڈھونڈنے لگا جب اسے ایک کمرے میں جینی جاتی دیکھائی دی۔۔
زوہیب اسکے پیچھے گیا۔مگر رش کی وجہ سے وہ اس تک دیر سے پہنچا اتنے میں جینی کمرے سے باہر نکلی مگر زوہیب کا چہرہ دیکھ کے جو جینی کے چہرے کی ہوائںیاں آڑی وہ زوہیب کو یہ سمجھانے کیلیے کافی تھا کے انعم اندر ہے۔۔
زوہیب اندر پہنچا تو وہ آدمی اپنی شرٹ اتار کے انعم پہ جھکا تھا اور انعم کا وجود نیم برہنہ تھا۔۔
زوہیب نے ایک جھٹکے سے اس آدمی کو انعم سے الگ کیا اور اسکی اچھی خاصی دھلائی کی زوہیب نے بھی اس آدمی سے کافی مار کھائی اور اسے بہت چوٹیں ائ۔۔
جب وہ آدمی زوہیب کی مار کھا کے نڈھال ہوا تو زوہیب انعم کی طرف مڑا جو بلکل بیہوش تھی ۔۔زوہیب نے انعم کو کپڑے پہنائے اورا یسا کرتے ہوئے وہ جس ازیت سے گزرا وہ وہی جانتا تھا۔۔
انعم کو باہنوں میں اٹھا کے وہ باہر نکلا اور سیدھا ہارون صاحب کے پاس پہنچا ۔۔
ہارون صاحب نے انعم کو احتیاط سے گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ لیٹایا اور بہت غور سے گاڑی چلاتے ہوئے زوہیب کو دیکھا جسکی آنکھیں بہت کچھ ہارون صاحب کو سمجھا چکی تھی۔۔
پولیس اسٹیشن کے پاس جب وہ لوگ پہنچے تو آصف پہلے سے وہاں موجود تھا جیسے ہارون صاحب نے کال کرکے وہاں بلایا تھا۔۔
آصف نے جب انعم کو ایسی حالت میں دیکھا تو اسکا خون کھول گیا۔
مگر زوہیب کے چہرے پہ جگا جگا چوٹ کا نشان دیکھ کے وہ سمجھ گیا کے اسکی بہن کی عزت محفوظ ہے۔۔
آصف ہارون صاحب کے گلے لگ کے رو پڑا ۔۔ہارون صاحب نے آصف کو خود سے الگ کیا اور کہا۔
شکریہ زوہیب کا ادا کرو آصف اگر یہ انعم پہ نظر نہی رکھتا تو آج انعم کو اس دلدل سے نکالنا نہ ممکن تھا۔۔
آصف نے زوہیب کے پاس پنہچا جو سکتے کی حالت میں زمین۔ کو گھور رہا تھا۔۔۔
آصف کے پکارنے پہ جب وہ سیدھا ہوا تو آصف یہ دیکھ کے دنگ رہ گیا کے زوہیب روہا تھا۔۔
آصف انعم کے بیہوش وجود کو لے کے گھر پہنچا تو گھر میں ٹھیک ٹھاک کہرام مچایا جہاں انعم کی حالت دیکھ کے ددددیی اور فاخرہ بیگم کا ہاتھ بلا جھجھک اپنے منہ پہ گیا وہی جمیلہ بیگم کا حال بھی کچھ ایسا تھا۔۔
آصف نے اپنی ماں کی اچھی خاصی عزت افزائی کی اور انعم کو کمرے میں لیٹایا۔
ادھر زوہیب جب اپنے گھر آیا تو اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے بلک پڑا ۔۔۔۔
انعم کی صبح آنکھ کھلی تو اسکا سر بھاری ہو رہا تھا جب اچانک اسکے روم کا دروازہ کھلا اور آصف اندر آیا ۔۔
اندر آتے ہی آصف نے ایک زناٹے دار تھپڑ انعم کے منہ پہ ڈے مارا اور اسے خوب کھڑی کھڑی سنائ اور ساتھ میں اسے یہ بھی خبر دی کے کل شام اسکا نکاح ہے۔۔
آصف انعم کے کمرے سے نکل کے سیدھے جمیلہ بیگم کے کمرے کی طرف گیا۔
جمیلہ بیگم اپنے کمرے میں اپنی الماری سیٹ کررہی تھی جب آصف انکے کمرے میں آیا ۔۔
امی بات سنے!!
ہاں بولو جمیلہ بیگم نے مصروف انداز میں الماری کے اندر گھسے گھسے کہا۔۔
آج شام انعم کا نکاح ہے اب تیار رہیے گا۔۔
آصف کی بات سن کے جمیلہ بیگم کے ہاتھ سے کپڑے چھوٹ کے نیچے گرے انہوں نے پلٹ کے بے یقینی سے آصف کو دیکھا اور کہا۔
کیا بول رہے ہو آصف انعم کا نکاح کس سے ؟؟
جس بھی کررہا ہو بہت سوچ سمجھ کے کررہا ہو ۔اب کو اس لیہ بتا رہا ہو کیونکہ آپ ماں ہیں ۔ورنہ اپنے کوئ کسر نہی چھوڑی اس کو بگاڑنے میں۔۔
آصف بیٹا معاف کردو اسے غلطی ہوگئ اس سے آئندہ نہی کرے گی وہ ابھی وہ بہت چھوٹی کے 21 سال کی تو ہے ایسا ظلم نہی کرو اسکے ساتھ۔
چھوٹی نہی ہو وہ سنا اپنے نائٹ کلب جاکے ڈرنک کرکے پکڑی گئی ہے آپکی بیٹی آدھی رات کو اسے تھانہ سے لایا ہو بچی نہی آپکی بیٹی آج شام کو اسکا نکاح ہے اپکو آنا ہے تو آئیے گا ورنہ اسکا شوہر نکاح ہوتے ہی یہاں۔ سے لے جائے گا۔۔
یہ بول کے آصف کمرے سے باہر نکلا تو انعم کو کھڑا پایا جو سکتے کی حالت میں کھڑی تھی۔۔
آصف کے جاتے ہی وہ ڈور کے جمیلہ بیگم کے گلے لگ کے اور رونے لگی۔۔
اصف باہر نکلا اور گاڑی میں بیٹھتے ہوئے زوہیب سے کہا۔۔
قاضی کا انتظام کرلیا آج شام تک انعم نکاح ہے ۔۔
آصف پتہ نہی کیا کیا بولے جارہا تھا جبکہ زوہیب کی سانس اسی بات پہ اٹک گئ کے آج شام کو انعم کا نکاح ہے
اگلے دن سادگی سے انعم کے نکاح کی رسم رکھی جسمیں گھر کے فرد اوردو تین قریب کے رشتہ دار شامل تھے جبکہ رجا بھی شامل نہی تھی وہ ٹرپ پہ تھی۔۔
لائٹ پنک کلر اور لائٹ بیلو کلر کے میکسی میں جو اسکا دولھا اسکے لیہ لایا تھا کسی زندہ لاش کی طرح انعم اس جوڑے میں تیار ہوکے بیٹھی۔
جب نکاح خواہ اندر ائے۔
اور جب اسکے دولھے کا نام پکارا گیا انعم کا دل کیا وہ مرجائے وہ قسمت کے اس کھیل پہ بلک بلک کے روپڑی۔۔
جاری ہے۔۔
اب یہ تو لانگ ہے نہ۔۔۔
