No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
خرم صاحب جو اسلام آباد میں مقیم تھے کافی جدوجہد کے بعد اپنا بزنس امپائر کھڑا مگر اس جدوجہد میں وہ بہت کچھ کھو چکے تھے۔
ماں کا پیار ،بیوی کی محبت ،بیٹے کا بچپن ۔۔
اپنوں سے آج وہ کوسوں دور تھے مگر وہ چاہ کر بھی کچھ نہی کرسکتے تھے۔۔
انکی دو اولادیں ہیں۔ ۔۔
اسفند خرم جو 25 سال کا خوبرو لڑکا ،جس نے تعلیمی میدان میں جہاں اپنے قدم جمائے وہی کار ریسنگ میں بھی اسکا کوئ ثانی نہی تھا کئ بار وہ موت کو چکما دے چکا تھا
خاموش طبیعت کا مالک یہ لڑکا جو ایک حسین مرد کا شاہکار تھا جیسے دیکھتے ہی کسی مصر کے شہزادے کا گمان ہوتا تھا۔۔
اپنی ماں سے نفرت کرتا تھا اسکے وجود سے بھی اسے کراہیت آتی تھی۔ ۔
مگر اپنی چھوٹی بہن حنا میں جہاں اسکی جان تھی وہی اسکی دائ جان اسکا سب کچھ تھی۔۔
پڑھائ اسکی ختم ہوچکی تھی۔۔
کبھی کبھار وہ آفس کا چکر لگالیتا تھا مگر اکثر وہ رات کے اندھیرے میں مری کے روڈوں پہ موت کا شکست دینے کا شوق پورا کرتا ۔۔۔
#
دوسری طرف ہارون صاحب جو کراچی کے بڑے بزنس مین تھے ۔۔مگر ایک خالی پن انکے اندر ہمیشہ رہا جسکو کافی حد تک انہی شریک حیات فاخرہ بیگم انکا ساتھ دے کے ختم کرچکی تھی۔۔
انکی ایک ہی اولاد تھی رجا ۔۔
جسمیں سب کی جان تھی نصرت بیگم تو اسکے بغیر جینے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔
تو ادھر جمیلہ جو نصرت بیگم کی نند کی بیٹی تھی جسکے ماں باپ اور شوہر کی وفات کے بعد وہ اپنے ماموں کے گھر اگئ۔۔
انکی دو اولادیں تھی۔۔
آصف اور انعم اور دونوں بچوں میں ہی انکی ماں کی چالاکیوں کی فطرت پائ جاتی ۔۔
رجا انکی آنکھ میں کسی ناپسندیدہ شہہ کی طرح کھٹکتی مگر وہ کر کچھ نہی سکتی تھی رجا کا اس لیہ اپنے دماغ کا فطوراپنے دل کی بھڑاس وہ رجا کو اپنی بہو بنا کے نکالنا چاہتی تھی۔۔وہ اپنے مقصد میں کتنی کامیاب ہوتی یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا تھا۔۔
#
یار آج تو تھکا دیا سر نے فزکس تو سر کے اوپر سے گزر گئ۔۔
رجا نے کینٹن کی کرسی پہ نڈھال ہوکے گرتے ہوئے کہا۔۔
ہاں یار!!!
آمنہ اور ارینا اسکی دونوں دوستوں نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائ۔۔
ابھی وہ تینوں بیٹھے ہی تھے کے انکے کلاس فیلو زارون اور ارشد بھی انکے ساتھ آکے بیٹھ گئے۔۔
زارون کی نظریں مسلسل رجا کے چہرے کا طواف کررہی تھی یہ بات وہاں بیٹھے ہر نفوس نے نوٹ کی ۔۔
رجا کی پوری کلاس ہی اس بات سے واقف تھی کے رجا ہارون ،زارون خان کی پسند ہے ۔۔
زارون خان جو پہلی نظر میں رجا پہ فریقہ ہوچکا تھا ۔۔
یونی کے پہلے سال کے اختتام پہ وہ رجا کو پرپوز بھی کرچکا تھا۔۔
مگر رجا وہ ہمیشہ اسے اپنا دوست سمجھتی رہی ۔رجا کے دماغ میں ہمیشہ کسی کے پچپن کی ہلکی سی جھلک رہی ۔۔وہ چاہ کر بھی زارون کو ہاں نہی بول پاتی۔۔
رجا نے سہولت سے زارون کو انکار کردیا ابھی فلحال تو زارون نےکوئی خاص ایکشن رجا کے انکار پہ نہی لیا ۔
مگر زارون کی ضد اسکے کیلے آگے کیا طوفان لانے والی تھی رجا ہارون اس بات سے انجان تھی۔
#
اج پھر کار ریسنگ میں اس نے موت کو شکست دی تھی ۔۔
اسکا جگری دوست مظہر اس سے سخت خفا ہوکے اسکی برابر والی سیٹ پہ بیٹھا تھا۔۔
ایک وہی تھا اسکے ہر دکھ درد کا ساتھی ۔۔
آج کار ریسنگ میں اسکی کار ہلکی سی ڈس بیلنس ہوئی جسکی وجہ سے اسفند کے ہاتھ پہ چوٹ آئ اور بلیڈنگ بھی بہت ہوئ مگر وہ تھا اسے پرواہ ہی نہیں تھی مظہر کے منع کرنے کے باوجود وہ ڈرائیونگ کررہا تھا۔۔
جب مظہر نے اسفند سے نہ بات کی نہ اسکی طرف دیکھا تو اسفند ہونٹوں پہ مسکراہٹ لیہ مظہر کی طرف موڑا اور کہا۔۔
مان جا ڈارلنگ کب تک ناراض رہے گا؟؟
اسفند کی بات پہ مظہر کے لب مسکرائے اور اس نے اسفند کی طرف مڑ کے کہا۔۔
اسفی تو جانتا ہے زاہد کو بس ان پیسوں سے مطلب ہے جو وہ لوگوں سے تیری کار ریسنگ پہ لگواتا ہے اسے تجھ سے کوئ مطلب نہی ۔۔۔
ہاں جانتا ہو مظہر وہ صرف پیسوں کا یار ہے ۔۔
تو پھر بھی تو اپنی زندگی داؤ پہ لگاتا ہے ۔۔؟؟
تو جانتا ہے مظہر میں یہ صرف اپنے سکون کیلیے کرتا ہو پیسوں کیلیے نہی۔اپنے اندر موجود اس اندھیرے سے لڑنے کیلیے میں موت سے لڑتا ہو تاکہ کچھ پل کیلیے ہی صحیح مجھے سکون ملے۔۔
مظہر نے غور سے اپنے یار کو دیکھا اندر سے ٹوتا اسفند خرم اوپر سے ایک سخت خول کی مانند تھا جیسے کوئ بھی توڑ کے اسکے اندر کا حال نہی جان سکتا تھا۔۔
اسفی زندگی اللہ کی امانت ہے ہم انسان کیوں اللہ کی۔امانت میں خیانت کرتے ہیں؟؟؟؟
۔۔موت جب آنی ہے تب آنی ہے کیوں ہر روز تو موت کو چیلنج کرتا ہے۔۔
اففف اب لیکچر مت دےسگریٹ دے مجھے جلا کے۔۔
اسفند کے بولنے پہ مظہر نے گھور کے اسے دیکھا اور کہا۔۔
نہی ہے سگریٹ عزت سے گھر چھوڑ مجھے۔۔
مظہر کےبولنے پہ اسفند نے ایک خو نخوار نظر اس پہ ڈالی اور گاڑی کی اسپیڈ ایک دم بڑھا دی۔۔
مظہر کو گھر کے باہر اتار کے اسفند نے گھر کی راہ لی اور ادھر مظہر نے ایک نمبر پہ ٹیکس کیا۔۔
،،نکل گیا ہے تمہارا بھائ ہاتھ پہ چوٹ آئ ہے اسکے دیکھ لینا ۔۔
ٹیکس کرکے مظہر نے موبائل چارج پہ لگایا اور فریش ہونے چلا گیا۔۔
ادھر حنا نے ٹیکس پڑھ کے نیچے کچن کی راہ لی کیونکہ وہ جانتی تھی اسکا بھائ کھانا نہی کھاتا باہر۔۔۔
اسفند گھر میں داخل ہوا تو رات کے دو بج رہے تھے اسےپتہ تھا سب سو رہے ہونگے سوائے ایک نفوس کے جو اسکی بہن تھی۔۔
اسفند کچن میں ایا تو حنا کھانا گرم کررہی تھی ۔
اسفند کو دیکھتے ہی مسکرائ ۔۔
اسفند حنا کے قریب آیا اور کہا۔۔
یار سوجایا کرو نہ تمہیں یونی بھی جانا ہوتا ہے صبح میں بچہ نہی ہو گرم کرلونگا کھانا۔۔
اففف بھائ کوئ نیو ڈئیلوگ لائے مارکیٹ میں۔۔۔۔
آپ بیٹھے میں کھانا لگاتی ہو ۔۔
حنا کے کھانا لگاتے ہی اسفند نے پیٹ بڑھ کے کھانا کھایا اسفند ہاتھ میں تکلیف کے باعث بہت مشکل سے کھانا کھا رہا تھا۔۔اور اسکی اس تکلیف کو کچن کے باہر کھڑا نفوس بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔۔
کھانا کھاتے ہی وہ اپنے کمرے میں گیا اسکے کچن سے نکلتے ہی ناعمہ بیگم کچن میں آئ جو ہمیشہ اسفند کا انتظار کرتی تھی جب تک وہ گھر آکے کھانا کھا نہی لیتا سوتی نہی تھی ۔۔
ناعمہ بیگم کچن میں آئ انہوں نے دودھ گرم کرکے حنا کو دیا اور کہا۔۔
جاؤ پھر آج اپنے اپکو تکلیف دے کے آیا ہے تمہارا بھائ ہاتھ پہ لگی ہے اسکے دودھ کیساتھ یہ میڈیسن دینا اور دوائ بھی لگا دینا اپنے بھائ کے۔۔
حنا بچپن سے اپنے بھائ کا رویہ اپنی ماما کیساتھ دیکھتی آئ تھی مگر کبھی پوچھنے کی ہمت نہی کی۔ایک بار ناعمہ سے پوچھا تو اس نے جھڑک دیا۔۔
حنا کمرے میں گئ تو اسفند اپنی شرٹ اتار کے شیشہ میں اپنا زخم دیکھ رہا تھا جب حنا نے کہا۔۔
خود کو جان بوجھ کےتکلیف دینا گناہ ہے بھائ۔۔
تکلیف جب روح میں ہو تو جسم کی تکلیف معنے نہی رکھتی حنا۔۔
اسفند نے حنا کو دیکھتے ہوئے کہا جو اسے میڈیسن دینے کیساتھ ساتھ دوائ بھی لگا رہی تھی۔۔
بھائ ماما آپ سے بہت پیار کرتی ہے پلیز اپنے اپکوعزیت دینا بند کرے
حنا ہزار بار کہا ہے میرے سامنے اس عورت کی بات مت کرا کرو۔۔
اسفند نے غصہ میں دودھ کا گلاس پٹھکتے ہوئے کہا۔
بھائ ماما ۔۔
بس حنا تم ماما سے بہت محبت کرتی ہو کیونکہ تمہیں انکی مامتا ملی ۔۔
مجھے انکا دھوکہ ملا صرف کوششش کرنا آج کے بعد مجھ سے صرف اپنی بات کرنا ۔۔
یہ بول کے اسفند اپنے ہاتھ پہ پٹی باندھنے لگا جب حنا نے کمرے سے جاتے ہوئے کہا۔
بھائ کبھی کبھی ہم کسی انسان کو سمجھنے میں غلطی کردیتے ہیں اور جب بعد میں اس انسانی کی پہچان ہوتی ہے تو بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔۔
دل ایک بار دھوکا دے سکتا ہے بھائ ۔مگر کسی انسان کی آنکھیں دھوکا نہی دے سکتی۔۔
اور میں نے ماما کی آنکھوں میں ہمیشہ آپکے لیہ محبت دیکھی ہے باقی جیسے کوئ نہی سمجھا سکتا اسے وقت سمجھا دیتا ہے ۔۔۔
یہ بول حنا کمرے سےچلی گئ ۔۔
جاری ہے۔۔۔
