Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
maazi
غفران صاحب نے اپنے دونوں بیٹوں گل محمد اور گل شیر خان کی شادی اپنی دوست کی بیٹیوں سے کی
نور جہاں اور نصرت بیگم دونوں سگی بہنوں نے سسرال میں کافی اپنا نام کیا۔۔
نصرت بیگم اور گل محمد کی تین اولادیں تھیں۔۔
سب سے بڑا ہارون۔پھر دو جڑواں بیٹیاں ناعمہ اور اس سے پانچ منٹ چھوٹی صائمہ۔۔
دونوں بہنوں کی شکلیں ایک جیسی تھی مگر صائمہ کی لائٹ گرین آنکھیں اسے سب سے منفرد بناتی تھی۔۔
ناعمہ کم گو ہر وقت پڑھائ میں مگن رہنے والی ہر کسی کے کام آنے والی لڑکی تھی تو ادھر صائمہ زندگی سے بھر پور لڑکی جو کچھ کر گزرنے کی جدوجہد میں لگی رہتی۔۔
تو ادھر نور جہاں اور گل شیر خان کی دو اولادیں تھیں۔۔
خرم اور فاخرہ۔۔
بچپن میں ہی فاخرہ کی نسبت ہارون سے طے تھی اور دونوں ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے۔۔
اس خوشحال گھرانے کو نجانے کس کی نظر لگی کے ایک کار ایکسیڈنٹ میں گل۔محمد اور گل شیر خان ایک ساتھ اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔۔
دونوں بہنوں نے ایک ساتھ بیوگی کی چادر اوڑھی۔۔
نور جہاں نصرت بیگم کے مقابلے میں زیادہ روب دار تھی انہوں نے صرف اپنے بچے نہی بلکے اپنی بہن کے بچوں پہ بھی چیل کی طرح نگاہ رکھی۔۔
بچوں کی اعلی تعلیم کا سوچ کے وہ وہ دونوں بہنیں کراچی شفٹ ہوگئ۔۔
نور جہاں بیگم نے خرم اور ہارون کو ایک ساتھ باہر پڑھنے بھیجا مگر جب نور جہاں بیگم سے اب کاروبار اکیلے سنبھالا نہی گیا تو انہوں نے ان دونوں کو واپس آنے کو کہا۔۔
ہارون تو 5سال پہلے ہی واپس آگیا تھا اور وجہ تھی پردیس میں دل نہی لگنا مگرخرم جیسے بزنس مینجمنٹ پڑھنے کا حد سے زیادہ جنون تھا وہ نہی ایا۔۔
!!!!!!!
ناعمہ زرا دیکھ کے او یہ صائمہ ابھی تک اٹھی کے نہی۔۔
ناعمہ جو کھلی ہوا میں نوٹس بنانے میں مصروف تھی ۔ نصرت بیگم کے بولنے پہ وہ کمرے میں پہنچی تو صائم میڈم مزے سے سورہی تھی۔۔
ناعمہ نے ایک دم اسکے اوپر سے چادر کھینچی ۔۔
اس آفت پہ صائمہ جو مزے سے نیند کی وادیوں میں گم تھی ایک دم ہڑبڑا کے اٹھی اور کہا۔۔
کیا۔۔۔کیا ہوا؟؟
ابھی تک تو کچھ نہی ہوا مگر اگر تم دس منٹ میں نہی اٹھی تو آنی ائئینگی اب تمہیں اٹھانے دوپہر کے 12 بج رہے ہیں اور تم ابھی تک پڑی سو رہی ہو۔۔۔
کیا ہے یار پتہ ہے میں کتنا اچھا خواب دیکھ رہی تھی۔۔میں اور شاہ رخ خان ایک ساتھ مری کی پہاڑیوں پہ۔۔صائمہ نے کھونے والے انداز میں کہا۔
اور وہاں آنی نے آکے تمہارے شاہ رخ خان کو پہاڑی پہ سے دھکا دے دیا ۔۔۔۔۔۔
ناعمہ نے اپنی کالی سیاہ آنکھیں اور بڑی کرکے صائمہ کو ڈرایا۔۔
افف ناعمہ تم نے مجھے ڈرا ہی دیا۔۔
ابھی اور ڈرنا جب آنی تمہیں بلانے ائینگی۔۔نور جہاں کی آمد کا سن کے صائمہ نے فورا واش روم کی طرف ڈور لگائ۔۔
!!!!!!
آپا کب تک ارادہ ہے خرم۔کا آنے کہا۔۔
دوپہر کے کھانے پہ۔سب ہی ٹیبل پہ براجمان تھے جب نصرت بیگم نے نور جہاں بیگم سے پوچھا۔۔
بس اسی ہفتہ آنے کا بول دیا ہے میں نے اسے اور ساتھ ساتھ وارننگ بھی دے دی ہے کے اگر اب نہی آیا تو کوئ ضرورت نہی آنے کی۔۔
نور جہاں کے بولنے پہ ہارون نے کہا۔
ارے انی میری بات ہوئ ہے خرم سے آپ ٹینشن نہی لے اس بار وہ آئے گا کیونکہ اسکا کورس کمپلیٹ ہوگیا ہے۔۔
اچھا ہے اجائے تاکے میں بھی پھر فاخرہ کے فرض سے آزاد ہو اور ساتھ کوشش کرونگی کے اس کے لیہ بھی کوئ لڑکی دیکھو ۔۔۔
نور جہاں بیگم کی بات پہ جہاں فاخرہ اور خرم نے ایک دوسرے کو دیکھا وہی نور جہاں بیگم کی نظریں ناعمہ پہ ٹک گئ انکی شروع سے اپنی یہ سنجیدہ طبیعت بھانجی پسند تھی ایسا نہیں تھا کے انہیں صائمہ سے محبت نہی تھی مگر بس اسکے لاوبالی پن سے چڑتی تھی۔۔
بھئ آنی جو بھی پروگرام رکھنا ہے میرے اسائمنٹ کے بعد رکھیے گا کل مجھے اسلام آباد جانا ہے اور پورے ایک ہفتہ کا اسائیمنٹ ہے مختلف ہوٹلوں کا اسٹے وہاں کا مینجمنٹ وزٹ کرنا ہے صائمہ نے کھانا کھاتے ہوئے مصروف انداز میں کہا۔
تو نصرت بیگم نے کہا ٹھیک ہے تم اپنا کام مکمل کرو جب تم اوگی تو پھر شادی کی تیاریاں شروع ہونگی فاخرہ اور خرم کی۔۔
ہاں یہ ٹھیک ہے مگر یاد رکھنا صائمہ کوئ ایسی حرکت نہ ہو کے ہمارا سرشرم سے جھکے ۔۔یہ بولنے والی نور جہاں بیگم تھی جنکی باتوں کا مفہوم وہاں بیٹھا اور نفوس سمجھ چکا تھا۔
ارے میری پیاری انی اب اتنا بھی مجھے ہلکا نہی لے آپ کوئ انکھ تو اٹھا کے دیکھے تو سیدھا ناک پہ ایسا پنچ ماروگی کے ساری زندگی ایک آنکھ سے دیکھتا پھرے گا۔۔
صائمہ کے بولنے پہ وہاں بیٹھے ہر نفوس کا قہقہ گونجا اور ناعمہ نے بھی ہنستے ہوئے نفی میں گردن ہلائ۔
!!!!!!
وہاں صائمہ اسلام آباد کیلیے نکلی اور یہاں خرم کی آمد ہوئ ۔۔
گرین آنکھوں والا خرم پہلی نظر میں ناعمہ کے دل زور سے ڈھرکا گیا۔۔
آج خرم کو ائے دو دن ہوگئے تھے اور وہ سخت قسم کا بور ہورہا تھا ۔وہ کچھ سوچتے ہوئے اٹھا اور ناعمہ کے کمرےکا رخ کیا۔
دروازہ ناکک کرکے اندر آنے کی اجازت ملتے ہی خرم اندر گیا ۔۔
ناعمہ بالوں کا رف سا جوڑا بنائے اپنی ڈائری میں کچھ لکھنے میں مصروف تھی جب خرم کو دیکھ کے فورا اپنی ڈائری بند کی اور کہا۔
ارے خرم تم کوئ کام تھا؟؟
نہی ایسے ہی بور ہورہا تھا ہارون تو اپنے کاموں میں مصروف ہے باقی سب بھی کچھ نہ کچھ کام ہی کررہے ہیں ایک میں ہی فارغ ہو تو سوچا کراچی ہی گھوم لو مگر مجھے یہاں کے راستوں کا نہی پتہ تم چلوگی میرے ساتھ؟؟
خرم کے پوچھنے پہ ناعمہ نے مسکرا کے ہاں میں گردن ہلائ۔۔
پورا ایک ہفتہ ناعمہ اور خرم نے کراچی ایک ساتھ دیکھا ہنسا مسکرانا کھانا پینا ایک دوسرے سے اپنی باتیں شیئر کرنا دونوں کافی اچھے دوست بن گئے تھے ناعمہ کی زندگی کا یہ ہفتہ سب سے یاد گار تھا ۔خرم سے اب اسکی محبت اور بڑھنے لگی تھی مگر ادھر خرم وہ صرف ناعمہ کو اپنا دوست سمجھتا تھا۔۔
آج وہ قائد اعظم کا مزار گھوم کے آئے تھے۔۔ناعمہ تو اپنے کمرے میں چلی گئ جبکہ خرم کچن میں پانی پینے کے غرض سے گیا مگر وہاں صائمہ کو دیکھ کے پل بھر کیلیے ساکن رہ گیا۔
لائن گرین کلر سوٹ اس پہ سونے پہ سہاگہ اسکی کلر کی اسکی آنکھیں جو کاجل سے لبریز تھی رف سا جوڑا بنائے وہ کھانے میں مشغول تھی۔۔
جب خرم کو دیکھ کے ایک دم چونکی مگر کچھ یاد آنے پہ کہا۔
اوہ تو آگئے آپ پردیسی خرم ۔۔۔
صائمہ کے بولنے پہ خرم مسکراتے ہوئے صائم کے سامنے بیٹھا اور کہا۔
ہاں دو ہفتے پہلے ہی ایامگر تم کہاں تھی۔؟؟
صائمہ نے چاولوں کا لقمہ ہضم کیا پلیٹ سائیڈ میں رکھی اور ہاتھ دھوتے ہوئے کہا۔
میں اسائیمنٹ کے سلسلے میں آسلام آباد گئ تھی صبح آئ تھی مگر کسی سے ملے بغیر ہی سو گئ۔۔
اچھا خرم بعد میں بات ہوگی مجھے پھر نیند آرہی ہے یہ بول کے صائمہ تو چلی گئ مگر خرم کا دل ساتھ کے گئ۔
جاری ہے۔۔۔
