Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 29 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29 Part 1
گھر میں فاخرہ اور ہارون کی شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھی ۔
آج مایوں تھی ۔۔فاخرہ زرد رنگ کے جوڑے میں گھونگھٹ نکالے اسٹیج پہ براجمان تھی اور برابر میں ہارون وائٹ کاٹن کے سوٹ میں ملبوس تھا۔۔
ناعمہ اور صائمہ نے ایک جیسا چٹی پٹی کا غرارہ زیب تن کیا تھا۔۔
خرم پھولوں کا تھال لے کے گھر کے اندر آرہا تھا جب اسکی تکر سامنے سے آتی صائمہ سے ہوئ جو اپنی دھن میں کانوں میں جھمکیاں ڈالے آرہی تھی ۔
زور دار ٹکر سے اس سے پہلے صائمہ گرتی خرم نے اسے کمر سے تھام کے پلر کا سہارا لیا ۔۔مگر بد قسمت پھولوں کا تھال دونوں پہ آگرا ۔۔
صائمہ اور خرم کی آنکھیں آپس میں ملی ۔۔صائمہ نے ایک نظر خرم کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر نظریں ادھر ادھر گھما لی جبکہ خرم کا صائمہ کے سراپے پہ سے نظریں ہٹانا مشکل ہوگیا۔۔
ایک دم صائمہ خرم سے الگ ہوئ اور باہر کو بھاگی۔
خرم نے بھی صائمہ کو ایسا جاتا دیکھا تو مسکرا کے اپنے سر پہ ہاتھ پھیرا اور باہر کو چلا گیا۔
جبکہ اوپر کھڑی ناعمہ نے جب یہ منظر دیکھا تو پل بھر کیلیے اس کی آنکھیں بھیگی مگر پھر وہ نارمل ہوگئ۔۔
پوری شادی میں صائمہ خرم کی نظروں کے حصار میں رہی تو ادھر ناعمہ نے اپنے بھائ کی شادی انجوائے کی۔۔
صائمہ خرم کی نگاہوں کا پیغام سمجھ چکی تھی مگر انتظار تھا اسے تو صرف خرم کی پیش قدمی کا۔
فاخرہ اور ہارون کی شادی ساتھ خیریت سے نبتی سب ہی اپنے اپنے معمول پہ آگئے تھے۔۔
خرم اپنے کمرے میں موجود کچھ کام کررہا تھا جب نور جہاں کمرے میں داخل ہوئ۔۔
ارے امی کوئ کام تھا تو مجھے بلا لیا ہوتا ؟؟
نہی ہم۔نے سوچا آج اپنے بیٹے سے اکیلے میں بات کری جائے۔۔
جی جی امی حکم کرے۔۔
بیٹا فاخرہ بھی اپنے گھر کی ہوگئ ہے اب ہم چاہتے ہیں تم بھی شادی کرکے اپنا گھر بساؤ اور کاروبار سنبھالو ہارون کب تک اکیلے دیکھے گا بزنس۔۔
تمہیں کوئ پسند ہے تو بتاؤ یہ پھر ہم اپنی پسند کی لڑکی دیکھے؟؟
نور جہاں کے بولنے پہ خرم مسکرایا اور کہا۔۔
امی لڑکی دیکھنے کی کیا ضرورت ہے لڑکی تو گھر میں موجود ہے۔۔
خرم کی بات پہ نور جہاں بیگم مسکرائ اور کہا ۔۔
اچھا زرا ہمیں بھی تو پتہ چلے اور وہ گھر والی لڑکی کون ہے۔؟؟
نور جہاں کے بولنے پہ خرم نے بلا جھجھک صائمہ کا نام لیا جیسے سن کے نور جہاں بیگم کے مسکراتے لب تھمے ۔کیونکہ وہ ناعمہ کی آنکھوں میں خرم کی محبت دیکھ چکی تھی اور جس طرح انکی دوستی تھی وہ یہی سمجھ رہی تھی کے خرم ناعمہ کا نام لے گا۔۔
نور جہاں کو چپ دیکھ کے خرم نے انکا ہاتھ تھاما اور کہا ۔۔
امی اگر اپکو صائمہ پسند نہی تو کوئ بات نہیں آپ جس سے بولینگی میں اس سے کرلونگا شادی۔۔
خرم کی بات پہ نور جہاں بیگم نے مسکرا کے خرم کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور کہا۔۔
میں کل ہی نصرت سے بات کرتی ہو۔۔
نور جہاں بیگم کا جواب سن کے خرم بلا جھجھک خوشی خوشی انکے گلے لگ گیا مگر نور جہاں بیگم کیسی کا سوچ کے پھر افسردہ ہوگئ ۔۔۔
نصرت بیگم کی رضامندی اور صائمہ کی ہاں نے خرم کو تو جیسے خوشیوں کا پیغام دے دیا۔۔
یونی سے آکے جب یہ خبر ناعمہ کو ملی تو پل بھر کیلیے اس کی آنکھیں نم ہوئ مگر پھر وہ اپنی بہن کی خوشیوں میں مگن ہوگئ۔۔
آج صبح ہی خرم اور صائمہ کا نکاح ہوا ۔۔نکاح کی رسومات ادا ہوتے ہی ناعمہ ڈورتی ہوئ کمرے میں گئ اور اپنے کب سے روکے آنسو بہنے دیے۔۔کبھی وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کے اپنی روتی آواز کو دباتی تو کبھی آئینہ کے سامنے کھڑے ہوکے اپنے آنسو بے دردی سے رگڑتی اور مصنوعی مسکراتی۔۔
ناعمہ واش روم سے باہر نکلی تو نور جہاں بیگم کو اپنا منتظر پایا۔۔
ارے انی آپ یہاں کوئ کام تھا تو مجھے بلالیتی۔۔ناعمہ نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔۔
ادھر آؤ ناعمہ ۔۔
نور جہاں کے بلانے پہ ناعمہ مسکراتی ہوئ نور جہاں بیگم کے پاس گئ جب انہوں نے کہا۔
اپنے ہر انداز سے انسان اپنی محبت کو چھپا سکتا ہے مگر اپنی آنکھوں پہ وہ چاہ کے بھی پہرا لگا نہی پاتا اس لیہ کہتے ہیں محبت کرنے والے کے یار کا عکس اسکی آنکھوں میں ہوتا ہے۔۔
ہم۔بہت شرمندہ ہے تم۔سے ناعمہ ہم چاہ کر بھی تمہاری خوشی پوری نہی کرپائے۔
آنی اب آپ جب میرے رازسے آشنا ہے تو وعدہ کرے یہ راز اپ کبھی کسی پہ آشنا نہی کرینگی۔۔یہ۔تو قسمت کا کھیل ہے آنی کسی کو بن مانگے محبت مل جاتی ہے اور کسی کو ساری زندگی محبت کے لیہ ترسنا پڑتا ہے ۔۔
میری فکر نہی کرے آپ آنی میں بہت سکون میں ہو کیوں کے میری محبت ابھی جنون کی حد تک نہی پہنچی اور ویسے بھی محبت میں ضد نہی چلتی محبت قربانی کا نام ہے ۔۔
ضد اور جنون میں میں خرم کو حاصل تو کرلیتی مگر کبھی خرم کو خوش نہی رکھ پاتی۔۔
یہ بول کے ناعمہ بیگم کی آنکھیں ایک بار پھر چھلک پڑی اور نور جہاں بیگم نے اس باہمت لڑکی کو اپنے سینے سے لگالیا۔۔۔
!!!!!!!!
مہندی کا فنکشن کمال کا رہا برات کی صبح زورشور سے بارش ہورہی تھی ۔جب خرم ناعمہ کے کمرے میں ایا۔
ناعمہ جو بہت ضروری کام کررہی تھی خرم کو دیکھ کے مسکرائ اور کہا۔۔
ارے دولھے صاحب آج سالی کے کمرے میں کیسے آگئے ۔۔
میں تو اگیا مگر تم تو کمال کی بیوفا نکلی اپنے دوست کو تو بھول ہی گئ ہر وقت اپنے آپ میں مگن رہتی ہو۔۔
خرم کے شکوے پہ ناعمہ مسکرائ اور دھیرے سے بڑبڑائ۔۔
دوستی کا ہی سوچا جبھی محبت قربان کی۔۔
کیا کچھ کہا تم نے خرم نے جانچتی نظروں سے ناعمہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ارے نہی بھئ تم سناؤ کوئ کام تھا ۔۔؟؟
ہاں یار اپنی زوجہ سے ملنا تھا مگر کیسے ملو۔۔اوہ چلو ہم کرواتے ہیں ملاقات ناعمہ نے ایک ادا سے کہا۔۔
تو دونوں کی بیک وقت ہنسی نکلی ۔۔
ناعمہ جیسے تیسے کرکے خرم کو صائمہ کے کمرے میں چھوڑ آئ اور خود باہر کھڑی ہوگئ۔۔۔۔
خرم اندر گیا تو صائمہ ٹیرس پہ کھڑی بارش کے مزے لے رہی تھی جب خرم نے جاکے اسے کمر سے تھاما اس سے پہلے صائمہ کی چیخ نکلتی خرم نے اس کے لبوں پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا اور کہا۔
میں یہاں تڑپ رہا ہو کے کب میری بیوی مجھ سے مل کے اظہارے محبت کرے ۔مگر یہاں تو میری بیگم بارش کے مزے لے رہی ہے۔۔
صائمہ نے خرم کی گردن میں اپنے دونوں ہاتھ ڈالے صائمہ کی اس پیش قدمی سے خرم کے لب مسکرائے جب صائمہ نے کہا۔۔
میری آنکھوں سے اندازہ نہی ہوا اپکو کے آپ میرے لیہ کیا ہو؟؟
خرم نے ایک نظر صائمہ کی آنکھوں میں دیکھا اور کچھ گنگنایا۔۔
“آنکھوں سے تونے یہ کیا کہہ دیا۔۔
دل یہ دیوانہ ڈھرکنے لگا۔۔
تنہائ میں ہم ملے اسطرح ۔۔
بارش میں شعلہ برسنے لگا۔۔
خرم کے گنگنانے پہ صائمہ بلا جھجک خرم کے گلے لگ گئ۔۔
جب پانچ منٹ تک خرم کمرے سے باہر نہی نکلا تو ناعمہ نے ہلکا سا دروازہ کھول کے اندر جھانک کے خرم کو آواز دی مگر سامنے کا نظارا دیکھ کے ناعمہ دبے پاؤں وہاں سے اگئ۔۔
خرم اور صائمہ کے ولیمہ کے اگلے دن ناعمہ کی ملائشیا کی فلائٹ تھی جہاں اس نے چار سال کا کورس کرنا تھا کسی این جی او کیساتھ۔۔
ناعمہ کی اس حرکت پہ سب اس سے بہت ناراض تھے سوائے نور جہاں بیگم کے کیونکہ انہیں سب پتا تھا صائمہ تو باقاعدہ بلک بلک کر روپڑی ۔۔
تو ادھر ہارون بھی اپنی اس بہن کو دیکھ کے کافی اداس تھا کیونکہ وہ بھی اپنی بہن کے راز واقف تھا۔۔اور پھر سب کو منانے کے بعد ناعمہ پاکستان سے ملائشیا آگئ ۔۔نور جہاں بیگم نے بھی فلحال اسے نہی روکا کیونکہ وہ بھی اس کے غم سے واقف تھی اور اسے سنبھلنے کیلیے تھوڑا ٹائم دینا چاہتی تھی۔۔
جاری ہے
