55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

کال کٹ ہوتے ہی زارون نے راکنگ چیر پہ بیٹھ کے اپنی آنکھیں بند کی۔
اسکی آنکھوں کے سامنے رجا کا دلہن بنا سراپا ایک دم لہرایا ۔۔
ایک دم زارون نے اپنی آنکھیں کھولی ایک تلخ مسکراہٹ اس کے لبوں پہ آئ اور اس نے دھیرے سے کہا ۔۔
تم صرف میری ہو رجا صرف میری۔۔۔
“تیرے بارے میں نہ سوچو ایسی رات نہی ہے۔۔
تو توڑے میرا دل تیری اوقات نہی ہے”۔۔
رجا کی برات والے دن خان صاحب بیہوشی کی حالت میں زارون کو گھر لے آئے تھےدو دن بیہوش رہنے کے بعد جو زارون کو ہوش آیا تو خان صاحب انکی وائف کا اسے سنبھلنا مشکل ہوگیا اس کی حالت قابل رحم تھی۔خان صاحب کی طرف تو زارون دیکھنا بھی پسند نہی کرتا تھا۔۔پورا دن بس اپنے کمرے میں رہتا ۔۔نہ ٹھیک سے کھاتا نہ پیتا۔
اور پھر اچانک زراون کہی چلا گیا ۔ایسا نہی تھا خان صاحب کو خبر نہی تھی وہ کہاں گیا۔مگر وہ جو سمجھ رہے تھے کے زارون نے شاید حالات سے سمجھوتا کرلیا ہے تو یہ انکی بہت بڑی بھول تھی۔۔
زارون نے رجا کے بارے میں ایک ایک انفارمیشن نکال لی وہ شادی ہوکے کہاں گئ،کس سے ہوئ سب۔
جہاں اس نے رجا کے بارے میں ساری معلومات نکالی وہی اسفند کے بارے میں بھی ساری تفصیلی معلومات بھی اور یہ بات جان کے اسفند وہی ہے جسکے ساتھ رجا ڈھلان سے گری تھی اسکے مقصد کو اور ہوا دینے کیلیے کافی تھی۔
کافی چھان بین کے بعد زارون کو یہ بات پتہ چلی کے اسفند کی دوستوں کی لسٹ میں صرف دو لوگ ہی شامل تھے ۔مظہر اور زاہد ۔۔
اور زاہد کی لالچی فطرت کے بارے میں جان کے زارون کو اپنا پلین کامیاب ہوتا دیکھائی دیا۔کیونکہ جہاں تک مظہر کے بارے میں زارون جان پایا تو وہ بچپن سے اسفند کے ساتھ ہے اور اسکا بہنوئ بھی ہے اسکا استعمال کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔زارون نے جب زاہد کو پیش کش کی تو پہلے تو وہ۔ہچکچایا مگر جب زارون نے اسکی لالچی فطرت کے مد نظر رکھتے ہوئے اسے بھاری رقم کی پیشکش کی تو زاہد نے اپنی دوستی کو چھوڑ کے پیسوں کو چنا اور زارون کا ساتھ دینے کی ٹھان لی۔اسفند اور رجا کی پل پل کی ریپورٹ زارون تک پہنچائ یہاں تک کے زارون اس ہوٹل میں بھی موجود تھا ۔جہاں زاہد نے اسفند کے کو ڈنر پہ انوائیٹ کیا تھا۔
زارون نے جب وہاں رجا کو دیکھا اتنا سجا سنورا تو ایک بار اسکو پانے کی خواہش میں اور جنیونیت آگئ اور اس نے زاہد کو کہا اسفند کے گھر وہ سب کرنے کے لیہ۔۔
!!!!!!!!!!!
اسفند نے لاکھ کوشش کی مگر پتہ نہی لگا پایا کے اس دن انکے گھر پہ حملہ کرنے والا کون تھا؟؟
رجا اور اسفند کی شادی کو ایک مہینہ ہوگیا تھا۔۔دونوں میں اب بھی دوری قائم تھی۔مگر رجا اسفند کیلیے اب فیلنگ محسوس کرنے لگی تھی۔۔
اسکی ہر چیز کا دیھان رکھتی مگر اس کی قربت سے گھبراتی ۔۔
اج وہ اپنے کمرے کی تفصیلی صفائی کررہی تھی۔
اور اپنا فیورٹ گانا سی ڈی پلیر پہ۔اون کرکے اور ساتھ میں گنگنا بھی رہی تھی۔۔
مظہر آج اسفند سے ملنے آفس میں آیا اور اسکے ساتھ ہی گھر بھی اگیا۔
مظہر ہال میں سب کیساتھ بیٹھا تھا اور اسفند اپنے کمرے میں فریش ہونے گیا۔۔
دروازہ پہ ہاتھ کے کھولا تو اندر سے گانے کی آواز آنے لگی اور ساتھ میں رجا کی گنگنانے کی بھی۔۔
“ساتھ چھوڑونگی نہ تیرے پیچھے اونگی۔۔
چھین لونگی یہ خدا سے مانگ لاونگی۔۔
تیرے ساتھ نصیباں لکھوانگی۔۔
میں تیرے بن جاونگی۔۔”
رجا گنگنانے کے ساتھ صفائ کو آخری ٹچ بھی دے رہی تھی۔۔اسفند دیوار سے ٹیک لگائے فرصت سے رجا کی ساری کاروائی دیکھ رہا تھا اور ساتھ مسکرا بھی رہا تھا جبھی رجا نے صفائ مکمل کی اور جیسی ہی پلٹی تو اسفند کو خود کوتکتا پایا۔۔۔۔
ارے آپ کب ائے؟؟
رجا نے اپنے سائیڈ پہ بندھا ڈوپٹہ کھولتے ہوئے پوچھا۔۔
ابھی ابھی آیا جب تم اپنی سریلی آواز بیکھیر رہی تھی۔۔
اچھا یہ بول کے رجا نے گھوم۔کے صفائ کا کپڑا اٹھا کے بنا دیکھے زور سے جھاڑا ۔۔
ساری ڈسٹ اسفند کے منہ پہ گئ ۔۔
اسفند نے کھانستے ہوئے رجا سے کہا۔۔
یار رجا کبھی تو اپنی ان آنکھوں کا استعمال کرلیا کرو آگے پیچھے دیکھ لیا کرو جب کوئ کام کرتی ہو ۔۔
اسفند یہ بول کے دوبارہ کھانسنے لگا ۔۔رجا نے سوری کہا اور فورا پانی کا گلاس لے کے اسفند تک انے لگی مگر ہائے رجا کی قسمت وہی کپڑے پہ اسکا پاوں پڑا اور پانی کا گلاس سیدھا اسفند کے منہ گیا۔۔اور بے ڈھرک رجا کا ہاتھ اسفند کا منہ دیکھ کے اپنے منہ پہ گیا۔
اسفند جو پانی پینے کا خواہش مند اپنے منہ پہ۔پانی پڑتا دیکھ اس نے منہ کھولے رجا کو دیکھا اور پھر رجا کے پیروں کے نیچے آئے کپڑے کو اور غصہ میں اپنی مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا۔۔
رجاااااااااا۔
فورا چلی جاؤ یہاں سے جب تک میں فریش نہہی ہوجاتا ۔۔
اففف میں کونسا اپکو نہاتے ہوئے دیکھ رہی ہو جو چلی جاؤ یہاں سے بندہ ہے کبھی کبھی نہی دیکھتا کوئ چیز راستے میں پڑی ہوئ۔۔
کبھی کبھی۔۔
اسفند نے رجا کہ بات پہ ایک ایبرو آچکا اسے دیکھا اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے فریش ہونے چلا گیا۔۔
اسفند فریش ہوکے باہر آیا تو رجا الماری میں گھسی اپنے کپڑے نکال رہی تھی۔۔
رجا نے کپڑے نکال کے الماری بند کری اور اسفند کو اگنور کے کرکے فریش ہونے جانے لگی جب اسکے کپڑوں کچھ پرسنل نیچے گرا
مگر وہ آنکھوں والی آندھی بنا اسے دیکھے فریش ہونے چلی گئ۔۔
اسفند کی نظر اس پہ پڑی ۔وہ جو فریش ہوکے نیچے مظہر کے پاس بیٹھنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔
اپنا ارادہ ملتوی کرکے سامنے صوفے پہ بیٹھ کے رجا کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا۔۔
رجا نے بھر پور شاور کے کے کپڑے پہنے کیلیے جب کپڑے اٹھائے تو اپنی مطلوبہ چیز نہ ہونے کی صورت میں زور سے اپنے سر پہ ہاتھ مارا۔اور کہا صحیح کہتے ہیں اسفند مجھے آنکھوں والی اندھی۔۔
باتھ گاؤن پہن کے پہلے رجا نے ہلکا سا دروازہ کھول کے دیکھا کے کہی اسفند تو نہی مگر اسفند اسے دیکھائ نہی دیا کیونکہ وہ صوفے پہ بیٹھا تھا۔
رجا دبے قدموں گون میں باہر آئ اور یہ دیکھ کے ۔۔اس نے پوری آنکھیں کھول کے اسفند کو دیکھا جو اسے ہی دیکھنے میں مگن تھا مگر اصل رجا کو اپنی قسمت کو صحیح مانو میں کوسنے کا دل کیا۔۔کیونکہ اس کی مطلوبہ چیز اسکے ہاتھ میں تھی۔۔
اسفند ہاتھ میں موجودہ چیز کو رجا کے پاس لایا جو واش روم کے گیٹ سے لگ کے کھڑی تھی۔اسفند نے قریب آکے رجا کو دیکھا جو چہرہ جھکا کے کھڑی تھی۔۔اسفند نے اسکی مطلوبہ چیز واش روم میں ٹانگی۔اور کہا۔
ویسے کبھی کبھی تم میرا بہت فائدہ کرتی ہو اپنی آنکھوں کا استعمال نہ کرکے۔۔
۔
اور خود دھیرے دھیرے گاؤن کی ڈوری کھولنے لگا۔۔۔
ہلکی سے ڈوری کھول کے اسفند نے اسکے شولڈر سے گاؤن نیچے کیہ اور وہاں اپنے لب رکھے ۔۔رجا نے اپنی آنکھیں بند کی ۔۔
اسفند نے رجا کو اور خود سے لگایا اور اسکے لبوں پہ جھک گیا۔
باہنوں میں اٹھاکے اسے بیڈ پہ لیٹایا کے ایک دم دروازہ بجا۔۔
اسفند کا دل کیا کے اپنے کانوں کے پردے بند کردے مگر مستقل دروازے کی دستک سے اسفند رجا کے اوپر سے ہٹ کے دروازہ کھولنے گیا اور رجا نے ڈور کے واش روم کی راہ لی۔۔
دروازہ کھولتے ہی حنا نے کہا ۔۔
بھائ مظہر بولا رہے ہیں اپکو ..
ہاں چلو میں آہی رہا تھا۔
یہ بول کے اسفند نے گھوم کے دروازہ بند کیا اور نیچے چلا گیا۔
مظہر کو جہاں رجا بھابھی کے روپ میں اچھی لگی وہی رجا کو یہ جان کے خوشی ہوئ کے مظہر حنا کا نکاح ہوچکا ہے۔۔
ایک خوشگوار ملاقات رہی رجا کی مظہر کیساتھ۔۔
!!!!!!!!!!
زوہیب آپکا لاہور جانا ضروری ہے کیا؟؟
انعم جو زوہیب کا سامان پیک کررہی تھی روہانسی ہوکے بول پڑی۔۔
زوہیب نے انعم کے وجود کو دیکھا جو بہت آرام آرام سے چل کے زوہیب کے سارے کام کررہی تھی۔
پیار سے اسے پیچھے تھام کے خود سے لگایا اسکے دونوں گالوں پہ پیار سے اپنے لب رکھے اور اسکے پیٹ پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
سوہنی جانا ضروری ہے ورنہ کبھی نہی جاتا زینب اور خالہ کو میں نے خاص ہدایت کردی ہے تین دن کی تو بات ہے میں اجاونگا۔
مگر تم نے اپنا بہت دیھان رکھنا ہے تمہیں یاد ہے نہ ڈاکٹر نے خاص ہدایت کی ہے 5 منٹھ میں تمہیں دیھان کی۔۔
زوہیب اپنی بولی جارہا تھا مگر انعم خاموشی سے نگاہ جھکا کے بیٹھی تھی۔۔
زوہیب نے ایک نظر انعم کو دیکھا اور اس کے گھٹنوں کے پاس بیٹھ کے پکارا۔۔
انعم۔؟؟؟
زوہیب کے پکارنے پہ انعم نے نگاہ اٹھا کے اسے دیکھا تو دنگ رہ گیا۔
انعم تو رو کیوں رہی ہو یار..
زوہیب نے یہ بول کے انعم کو سینے سے لگایا اور اسے ماتھے پہ۔اپنے لب رکھے۔۔
زوہیب میرا دل بہت گھبرا رہا ہے پتہ نہی ایسا لگ رہا ہے جیسے کچھ غلط ہونے والا ہے۔۔
ارے میری جان اچھا اچھا سوچوں کچھ نہی ہو گا چلو اب مسکراکے مجھے الوادع کہو۔۔
زوہیب کی بات پہ انعم مسکرائ تو مگر دل ابھی بھی اسکا خوف نے کانپ رہا تھا۔
انعم کے مسکرانے پہ زوہیب نے دھیرے سے اسکے لبوں کو چھوا اور پھر لاہور چلا ایا جہاں زوہیب کو تین دن لگنے تھے وہاں زوہیب کو ایک ہفتہ لگ گیا مگر جب وہ گھر آیا تو یہ دیکھ کے اسکی آنکھوں میں خون اتر آیا کے انعم جینی کے ساتھ ہال میں بیٹھ کے ہنس ہنس کے باتیں کرہی ہے۔۔
جاری ہے۔۔
اگر آج اچھا ریسپونس ملا تو ایک دھماکے دار اپیسوڈ اور آئے گی۔۔اسر اچھا ریسپونس کیا ہے آپ لوگ جانتے ہیں۔۔
۔