55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

ڈارک مہندی کلر کی کاٹن کی قمیض شلوار میں اسفند کی چھاپ ہی نرالی تھی۔
اسفند ہر ایک کی نگاہوں کا مرکز بنا تھا مگر اسے پرواہ نہی تھی۔۔
اسفند دائ جان کیساتھ پہلے ہی ہوٹل آگیا تھا جہاں آج اسکی بہن کا نکاح تھا۔۔۔۔
ناعمہ بیگم اور حنا پالر میں موجود تھے جنہیں لینے خرم صاحب کو جانا تھا۔۔
ایک ایک کرکے سارے مہمان انا شروع ہوگئے تھے۔۔
جب زاہد اپنی ایک کزن کیساتھ ہوٹل میں داخل ہوا اور سیدھا اسفند کے پاس گیا ۔
واہ میرے یار آج تو محفل کی جان بنا ہوا ہے؟؟
زاہد کی اواز پہ ویٹر کو ہدایت دیتا اسفند ایک دم پلٹا اور اسفند کے پلٹتے ہی زاہد کے ساتھ آئ اسکی کزن پلک جھپکانا بھول گئ۔۔
زاہد کی بات پہ اسفند دلکشی سے مسکرایا اور کہا۔۔
بس کردے مسکے لگانا۔۔
یہ بول کے اسفند زاہد کے گلے لگا جب اسفند نے سوالیاں نظروں سے زاہد کے برابر میں کھڑی لڑکی کو دیکھا جو خوبصورت بھی تھی اور بہت غور غور سے اسفند کو دیکھ رہی تھی۔۔
اسفند کی سوالیاں نظروں کا مفہوم سمجھ کے زاہد نے کہا ۔
اسفند یہ ہے میری کزن جینی۔۔
اور جینی یہ میرا دوست اسفند ۔۔
۔نائس ٹو میٹ یو جینی۔۔اسفند نے خوش دلی جینی کو ویلکم کیا ۔۔
مگر جینی اسکی تو رال ٹپکنے لگی اسفند کو دیکھ کے خاص کر اسکا اسٹیٹس دیکھ کے۔۔
اسفند نے زاہد کو بیٹھنے کو کہا۔۔
جب ایک دم حال کی تمام لائٹیں بند ہوئ اور حنا کی اینٹری ہوئ جو لائٹ پنک کلر کے شرارے میں بہت حسین لگ رہی تھی جس کے ایک طرف خرم صاحب تھے اور دوسری طرف ناعمہ بیگم دائ جان بھی اٹھ کے انکے پاس جاکے کھڑی ہوئ جب ناعمہ بیگم کی نظر دور کھڑے اسفند پہ پڑی جسکی آنکھوں میں صرف اداسی تھی۔۔
ناعمہ بیگم نے دائ جان کو دھیرے سے اسفند کو بولانے کا کہا۔
دائ جان نے اسفند کو اشارے سے بلایا تو وہ بھی انکے ساتھ جاکے کھڑا ہوگیا۔۔
ایک مکمل فیملی کو پوز اسفند ولا والے سب مہمانوں کے سامنے پیش کررہے تھے مگر اس پوری ہیپی فیملی کے پیچھے موجود دکھ کی ایک داستان تھی وہ دکھ جو ایک ماں نے اٹھائے ایک بیٹے نے اٹھائے اور ایک شوہر نے۔۔
!!!!!!!!!
اسفند آج سب کچھ بھلا کے اپنی بہن کے نکاح کو انجوائے کررہا تھا ۔
جینی وقفہ وقفہ سے اسفند کو بہانے بہانے سے مخاطب کررہی تھی۔ ۔
اسفند بھی ہنس ہنس کے جینی سے بات کررہا تھا اور یہ بات وہاں موجود دو نفوس کو ہضم نہی ہوئ ۔بہت جلد ان دو نفوس کو اپنے فیصلے پہ۔درامد ہونا تھا۔۔
مظہر کے آتے ہی نکاح شروع ہوا۔نکاح کے بعد جہاں حنا رونے لگی وہی اسفند کی بھی آنکھیں اپنی بہن کے گلے لگ بھیگ گئ۔
ادھر ناعمہ بیگم کا بھی کچھ ایسا حال تھا ۔
وہ روتی آنکھوں سے اسفند کے گلے لگنے آنے لگی یہ سمجھ کے کے شاید آج وہ انہیں بھی گلے لگا کے گا۔
مگر ناعمہ بیگم جب اسفند کے قریب ائ تو اسفند نے الٹے قدم اٹھاتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی اور اسٹیج سے نیچے اتر گیا۔
ناعمہ بیگم کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح ہارتی کے انہیں خرم صاحب نے کندھے سے تھام کے اپنے آپ سے لگایا اور دیکھا جنکی آنکھوں کا مفہوم سمجھ کے ناعمہ بیگم ناچاہتے ہوئے بھی مسکرا اٹھی۔۔
کھانے کا دور چلا سب ہی کھانا کھانے میں مگن تھے جب ڈی جے نے سانگ پلے کیا۔۔
“ساتھ چھوڑونگی نہ تیرے پیچھے اونگی۔۔
چھین لونگی یہ خدا سے مانگ لاونگی۔۔
تیرے ساتھ نصیباں لکھ واونگی۔۔
میں تیری بن جاونگی۔۔۔۔”
سانگ پلے ہوتے ہی اسفند جو ویٹر کو کھانا سرو کرنے کی۔ہدایت کررہا تھا ۔پل بھر کے لیہ وہ رکا۔۔
گانا سنتے ہی رجا کا حسین سراپا اسکے سامنے لہرایا اور پھر اسکی گںستاخی اسے یاد آئ تو بلا جھجک اس کے لب مسکرائے۔۔۔
ابھی وہ اپنے مسکرانے میں ہی مگن تھا جب مظہر نے آکے اسے کہا۔
کیا بات ہے بھئ اکیلے اکیلے مسکرایا جارہا ہے؟؟
مظر کے بولنے پہ اسفند اور دلکشی سے مسکرایا اور کہا۔
تونے صحیح کہا تھا مظہر اس لڑکی میں اور مجھ میں سولڈ کینکشن ہے؟؟
اوہ تو میرے یار کو وہ لڑکی یاد آرہی ہے۔۔ویسے وجہ پوچھ سکتا ہو اچانک اسکی یاد آنے کی؟؟مظہر کی بات پہ اسفند نے پل بھر کیلیے اپنی آنکھیں بند کرکے کھولی اور مظہر سے کہا۔۔
یہ۔گانا مظر جو اس وقت ڈی جے نے بجایا یہی گانا ایک دن میں نے رجا کو گنگناتے ہوئے سنا تھا جب ہم کراچی کے سمندر پہ تھے۔۔
اوہ تو لڑکی کا نام رجا ہے۔۔
اوئے یہ لڑکی لڑکی کیا لگا رکھا ہے بھابھی بول اسفند نے اسے گھور کے کہا
اوہ ہو بھابھی تو تو ایسے بلاوا رہا ہے جیسے تیرے نصیب میں ہے وہ نام کے علاؤہ کچھ آتا پتہ ہے نہی بڑا ایا بھابھی بول۔۔
یہ ۔بول کے مظہر ہنسنے لگا جب اسفند نے سنجیدگی سے مظہر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
نصیب میں ہے یہ نہی یہ تو وقت بتائے گا ۔مظہر مگر اگر وہ میری نہی تو کسی کی بھی نہی بنے گی۔۔
اسفند کے لہجہ میں کچھ ایسا تھا کے پل بھر کیلیے مظہر ڈر گیا اور اس نے کہا۔۔
اسفند قسمت کے کھیل نرالے ہوتے ہیں اگر وہ کسی اور کا نصیب ہوئ تو؟؟؟
تو اس شخص کا نصیب میں اجاڑ دونگا ۔۔یہ بول کے اسفند وہاں رکا نہی۔۔
جبکہ ان دونوں کی باتیں سننے والی جینی شیطانی مسکراہٹ کیساتھ وہاں سے ہٹ گئ۔۔
!!!!!!!!!!!!
خان صاحب کافی دیر سے لاوئنج میں زارون کا انتظار کررہے تھے مگر وہ تھا کے جو رجا کے گھر سے غصہ سے نکلا ابھی تک واپس نہیں ایا۔۔
دو بجے کے قریب خان صرف تھوڑی سی غنودگی میں گئے جب زارون لاوئج میں داخل ہوا
خان صاحب پہ ایک نظر ڈال کے وہ اپنے کمرے میں جانے لگا جب خان صاحب کی آواز لاونج میں گونجی۔۔
یہ کونسا وقت ہے زارون گھر آنے کا؟؟
خان صاحب کی آواز پہ زارون دو منٹ کیلیے روکا اور بنا پلٹے کہا۔
بابا کچھ دیر کیلیے اپنا دل ہلکا کرنا چاہتا تھا تو اس لیہ ۔۔۔۔۔۔۔
تو اس لیہ تم نے شراب کا سہارا لیا۔خان صاحب نے قریب آکے اسے غصہ میں کہا۔۔۔
تو کیا کرو بابا میں میں بہت محبت کرتا ہو رجا سے اتنی آسانی سے اسے خود سے دور جانے نہی دونگا۔۔؟؟
زارون رشتوں میں زبردستی نہی چلتی میرے بچے یہ بولتے خان صاحب کی اواز میں بہت قرب تھا۔۔
اگر زارون اس وقت نشہ کی حالت میں نہی ہوتا تو یقین اپنا باپ کے لہجہ میں ضرور چونک تہ۔۔
زارون ہم اپنی ضد میں اپنے دل کو سکون دینے کی خاطر کی کسی زندگی میں گھس جاتے ہیں یہ کسی کو زبردستی اپنی زندگی میں شامل کر تو لیتے ہیں مگر بدلہ میں ہم ایک انسان کو نہی ایک کتھ پتلی کو اپنی زندگی میں شامل کرتے ہیں اور جب ہمیں احساس ہوتا ہے کے ہمارے چاہ اور ہماری بے پناہ محبت بھی اسے ہماری طرف راغب نہی کرسکی تو صرف ایک کاش کا لفظ رہ جاتا ہے ہمارے پاس ۔۔کے کاش ہم اس شخص کو زور زبردستی سے اپنا نہی بناتے ۔۔۔۔
یہ بول کے خان صاحب کی آنکھوں کے گوشے بھیگے اور وہ اپنے کمرے کی طرف چل دیے ۔۔
پیچھے زارون کی بھی جھٹکے سے زمین پہ بیٹھا اسکی آنکھوں سے بھی انسو جاری تھے۔۔
!!!!!!!!!!!
اگلا پورا دن گزر گیا نہ تو رجا ناشتہ پہ آئ اور نا کمرے سے باہر نکلی۔۔
نصرت بیگم کے ساتھ ساتھ فاخرہ بیگم کو بھی تشویش ہونے لگی۔۔
دونوں جانتی تھی کے جس دن یہ بات رجا کے سامنے آئے گی کے اس کا نکاح اس کے کسی کزن کیساتھ بچپن میں ہی ہوچکا تو اس دن رجا کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔۔
ہارون صاحب نے تو کسی قسم کا کوئ ریکشن نہی دیا رجا کے اسطرح سے کمرے میں بند ہونے کا جسکا مقصد صاف تھا کے وہ اس معملہ میں نصرت بیگم اور فاخرہ بیگم کی کوئ مدد نہی کرینگے۔۔ ۔
نصرت بیگم دوپہر کے وقت رجا کے کمرے میں گئ۔۔پہلی دستک پہ رجا نے کمرے کا دروازہ کھول دیا مگر نصرت بیگم کو یہ دیکھ کے کافی افسوس ہوا کے رجا کی آنکھیں کافی سرخ تھی جو پوری رات رونے کی چغلی کھا رہی تھی۔۔
رجا نے نصرت بیگم پہ ایک پرشکوہ نظر ڈالی اور جاکے کھڑکی کے پاس کھڑی ہوگئ۔۔۔
ہم جانتے ہیں رجا کے تم ہم سے ناراض ہو تمہاری زندگی کی اتنی بڑی سچائ ہم نے تم سے چھپائ مگر یقین کرو بچے ہم بہت مجبور تھے۔۔
نصرت بیگم نے بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے وضاحت دی۔۔
مجبور دددیی مجبور ۔۔
رجا ایک دم غصہ سے سے پلٹی۔۔۔
میں اپکو صرف دادی نہی اپنا دوست سمجھتی تھی ایسا دوست جس کے ساتھ میں اپنا ہر دکھ ہر غم ہر خوشی شیئر کرتی تھی۔
مگر دددییی آپ نے کیا کیا میرے ساتھ مجھے اس لائک بھی نہی سمجھا کے مجھے یہ بتا سکے کے مجھے کسی کے نام کے ساتھ جوڑا جاچکا ہے مجھے اپنے احساس جزبات کسی کے نام کرنے کی جرات نہی کرنی۔۔
رجا بولتے بولتے رو پڑی۔۔
رجا میرے بچی ہم جانتے ہیں ہم نے تم سے چھپا کے بہت بڑی غلطی کی۔مگر تم یقین جانو ہم تمہیں سب بتاتے مگر بس ہمت نہی ہوئ ۔۔
نصرت بیگم یہ بول کے افسردہ ہوئ ۔جب رجا نے کہا۔
دددییی آپ نے جس کو میرے لیہ چنا ہے آپ اپنے یقین کیساتھ اس بات پہ مہر لگا سکتی ہیں کے وہ شخص جسکے بارے میں میں صرف اتنا جانتی ہو کے بچپن میں میرا نکاح اس کے ساتھ ہوچکا۔۔
اس کا نام تک مجھے معلوم نہیں اور دوسری بات کیا وہ میرے قابل ہے ؟؟
کیا میرے علاوہ اسکی زندگی میں کوئ شامل نہی جیسے مجھے اب تک انجان رکھا گیا کے میں کسی کی امانت ہو کیا وہ یہ بات جانتا ہے کے میں اسکی بیوی ہو یہ وہ بھی انجان ہے اس بات سے کے وہ کسی کا شوہر ہے؟؟؟
جاری ہے۔۔۔