55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

کیا بات ہے بہت چپ چپ ہو؟؟
کچھ نہی لبنہ آصف نے ایک لمبی سانس لے کے لبنہ سے کہا۔۔
آج انعم کو رخصت ہوئے لبنہ ایک ہفتہ ہوگیا مگر نہ تو وہ جاتے ہوئے مجھ سے مل کے گئ اور نہ اس نے اب تک مجھ سے بات کی۔۔
آصف اس کیلیے جھٹکا ہی ایسا ہے اسکی جگہ کوئ بھی لڑکی ہوتی اسکا یہی ریکشن ہوتا ۔۔
مگر لبنہ زوہیب اس کے لیہ بہت اچھا لائف پارٹنر ثابت ہوگا۔۔
انشاءاللہ اصف تم پریشان نہی ہو کوئ بھی بہن زیادہ دنوں تک اپنے بھائ سے ناراض نہی رہ سکتی۔۔
ہمم شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو ۔
دونوں کے درمیان تھوڑی دیر کیلیے خاموشی ہوئ دونوں ہی کافی شاپ میں بیٹھے کیسی گہری سوچ میں گم اپنی اپنی کافی کے سپ لے رہے تھے جب آصف نے کہا۔۔
دیکھو میں یہاں تمہاری پریشانی سننے آیا تھا اور بتانے اپنی پریشانی لگ گیا۔۔
تم بولو تم نے کہا تھا رات کو کال پہ بہت ضروری بات کرنی ہے؟؟
کیا بات ہے ؟
آصف پھپھو ہر دوسرے تیسرے دن اپنے لفنگے بیٹے کیساتھ آکے بیٹھ جاتی ہیں اور انکا لفنگا بیٹا بہت گندی نظر سے مجھے گھورتا ہے۔۔
کل تو وہ اکیلا آیا تھا اور اماں بھی گھر پہ نہی تھی میں نے گیٹ نہی کھولا مگر اصف میں کب تک ایسے روکونگی۔۔
یہ بات کہہ کے لبنہ کی آنکھیں بھیگنے لگی جب آصف نے اسکے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا اور کہا ۔
بس ایک ہفتہ مجھے دے دو لبنہ میں بات کرتا ہو امی سے وہ مجھ سے ناراض ہے انعم کی وجہ سے مگر مجھے یقین ہے وہ مان۔جائیینگی۔۔
یہ بول کے آصف نے لبنہ کے ہاتھ پہ دباؤ ڈالا تو لبنہ بھی بھیگی آنکھوں سے مسکرائ اور ہاں میں گردن ہلائ۔۔
!!!!!!!!!!
لبنہ کی ملاقات آصف سے اسی کے آفس میں ہوئ تھی۔۔
دو تین ملاقاتوں میں ہی وہ آصف کو پسند آنے لگی مگر لبنہ اپنی لمٹ جانتی تھی ۔مگر جب آصف نہ اسے سیدھا پرپوز کیا الٹی سیدھی جگہ گھومانے کے بجائے تو اس نے بھی ہاں کردی۔۔
لبنہ کے والد ایک فیکٹری میں ملازم تھے مڈل کلاس کی یہ فیملی اچھی زندگی گزار رہی تھی جب ایک دن فیکڑی میں آگ لگنے کی وجہ سے لبنہ کے والد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔لبنہ اس وقت بی اے کی طلبعلم تھی۔۔
جب اسنے ہارون صاحب کی آفس میں ایپلائے کیا اور اسے وہاں جاب مل گئ۔۔
مگر اصل فتنہ اسکی پھپھو جو اپنے آوارہ نکمے بیٹے سے اسکی شادی کروانے کے چکر میں تھی تاکہ شادی کے بعد وہ لبنہ اور اسکی ماں کا واحد سہارا یہ گھر بھی اپنے قبضے میں لیں لے۔۔
!!!!!!!!!!!!
اس دن کے بعد سے زوہیب نے نہ تو انعم سے بات کی نہ اس کمرے میں سویا ۔۔
صبح صبح انعم۔اٹھ جاتی مگر زوہیب سے وہ بھی بات نہی کرتی۔۔
ایک عجیب سا سناٹا تھا دونوں کی زندگی میں جیسے کوئ بھی توڑنے کو تیار نہیں تھا۔۔
زوہیب نے زینب کے تھرو پوچھوایا انعم سے کیا وہ دوبارہ کالج میں ایڈمیشن لینا چاہتی ہے؟؟
مگر انعم نے اسے صاف منع کردیا۔۔
پورا دن انعم گھر کی صفائ میں گزارتی زینب جب کالج سے آجاتی تو اسکا کافی وقت گزر جاتا
زوہیب کب آتا کب جاتا اسے کچھ نہی پتہ تھا ہاں مگر اسے ہمیشہ اسکے تکیہ کے پاس کچھ پیسے ضرور ملے جس زوہیب اسے ضرورت کے طور پہ رکھ کے جاتا ۔۔۔۔۔
انعم اب کھانا پکانے بھی لگی تھی مگر زوہیب کےساتھ نہ تو کھاتی تو اسے کھانا دیتی۔۔
زوہیب کیا کررہا تھا کیا نہی اسے کچھ علم نہی تھا وہ بس اس گھر میں قید ہوکے رہ گئ تھی۔۔
ضرورت کا ہر سامان گھر میں موجود تھا ۔۔مگر اسکی کچھ پرسنل چیزیں ختم ہوچکی تھی جنہیں لینے آج اسے بازار جانا تھا زینب کو تو بول چکی تھی اور وہ تیار بھی تھی ۔مگر سارا مسئلہ پیسوں کا تھا وہ زوہیب سے پیسے کیسے مانگے یہی بات اسے پریشان کررہی تھی۔۔
آج چھٹی کا دن تھا زوہیب لانج میں بیٹھا جب انعم تیار ہوکے نیچے ائ۔۔
بلیک قمیض اسکے نیچے ڈارک بلیو شلوار سر پہ بیلو کلر کا ڈوپٹہ جس سے سر کور کیا ہوا تھا اس پہ بلیک کشمیری شال ۔۔
وہ زوہیب کے سامنے آئ تو زوہیب نے ایک نظر اسے دیکھا اور انجان بن کے دوبارہ ٹی وی دیکھنے لگا ۔
زوہیب چور نظروں سے انعم کو دیکھ رہا تھا جو پریشان سے کھڑی اپنی ہاتھوں کی انگلیوں سے کھیل رہی تھی۔۔
جب زوہیب نے ٹی وی بند کیا اور پوری توجہ انعم کی طرف دی اور کہا۔
کچھ کہنا ہے تمہں ؟؟
زوہیب کے بولنے پہ انعم نے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا۔۔
وہ مجھے کچھ سامان لینا تھا اپنا میں زینب کے ساتھ مارکیٹ جارہی تو۔۔۔۔۔۔
تو؟؟؟
زوہیب نے بھی اسی کی طرح جواب دیا۔۔
وہ مجھے پیسے چاہیے تھے۔۔؟؟
اچھا ایک منٹ زوہیب نے انعم کو روکنے کو کہا اور خود کمرے میں گیا۔۔تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو جیکٹ پہنا ہوا تھا اور آنکھوں پہ گلاسس بھی لگائے ہوئے تھے ۔۔
انعم کے پاس آکے اسے کہا ۔
زینب بچی ہے پنڈی کے بازاروں کا ماحول اچھا نہی ہے یہ مت سمجھنا کے میں تم پہ نظر رکھنے کیلیے جارہا ہو۔۔یہ تمہیں پیسے دینے سے کترارہا ہو۔۔
یہ لو؟؟
زوہیب نے اسے کریڈٹ کارڈ دیتے ہوئے کہا۔
کے اگر نہی یقین مجھ پہ تو بے شک زینب کے ساتھ چلی جاؤ مگر دیھان سے جانا کیوں کے ایک ہی بیوی ہے میرے پاس ۔۔
یہ بول کے زوہیب نے اپنی مسکراہٹ دبائ ۔۔انعم نے ایک نظر کریڈٹ کارڈ کو دیکھا اور آگے بڑھ گئ ۔۔
زوہیب بھی اسکے پیچھے پیچھے گیا اور اپنی خود کی خریدی گاڑی کا فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا انعم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر گاڑی کو جب زوہیب نے اسکی آنکھوں کا مفہوم سمجھتے ہوئے کہا۔۔
بھئ ڈرائیور نہی ہو کہی میری خود کی گاڑی ہے یہ۔۔
زوہیب کے بولنے پہ۔انعم گاڑی میں بیٹھ گئ ۔۔
دونوں طرف خاموشی تھی جب زوہیب نے کہا۔۔
انعم ایک بات پوچھو۔؟؟؟
انعم جو کھڑکی کے باہر کے نظارے دیکھنے میں مگن تھی ایک دم پلٹ کے سوالیاں نظروں سے زوہیب کو دیکھنے لگی اور کہا ۔۔۔
پوچھو؟؟؟
تم کسی سے محبت کرتی تھی کیا؟؟
زوہیب کے سوال پہ انعم نے اتنی خونخوار نظروں سے دیکھا زوہیب کو کے وہ گڑبڑایا اور کہا۔۔۔
نہی میرا مطلب ہے کے وہ تم کہہ رہی تھی کے میں نے تمہارے نام کیساتھ نام جوڑ کے تمہاری زندگی برباد کردی تو میں سمجھا شاید تم ۔۔۔۔؟؟؟
زوہیب یہ بول کے چپ ہوا تو انعم نے دوبارہ گردن باہر کی طرف موڑ لی۔۔
اور اچانک جیسے کچھ یاد آنے پہ پلٹ کے زوہیب کو دیکھا اور کہا۔۔
ویسے انسان کو شرم انی چاہیے دوسروں پہ الزام تھوپنے سے پہلے خود اپنے گریبان میں جھانکے۔۔۔
انعم اپنی پرانی ٹون میں واپس اچکی تھی اور اسے ایسا بولتے دیکھ زوہیب کو کافی اچھا لگا ۔
مطلب؟؟؟
زوہیب۔نے ناسمجھی کے عالم میں انعم کو دیکھا۔۔
مطلب یہ تم نے خود تو کسی مجنوں کی۔طرح کسی کانام اپنے ہاتھ پہ لکھوایا ہوا ہے خود تم محبت کرتے ہو کسی سے اور سوال مجھ سے کررہے ہو ۔۔۔۔
اصل میں ہونا ایک ڈرائیور۔۔۔
ڈارئیوار کا دماغ کہاں ہوتا ہے پتہ نہیں میرے بھائ کو کہاں سے تم شریف لگے۔۔
یہ بول کے انعم چپ ہوئ تو زوہیب نے اسکا غصہ سے بھرا لہجہ اور چہرہ دیکھا جو اسے بہت اچھا لگا۔۔
تم نے کب دیکھا میرے ہاتھ پہ نام؟؟
زوہیب نے انعم سے پوچھا۔
دیکھ لیا بس۔۔
اور ایک منٹ میں نے کونسی بدمعاشی کی تمارے ساتھ۔۔
زوہیب نے بھی اسے گھور کے دیکھ کے کہا۔۔۔
تھوڑا بہت پیار ضرور کیا وہ بھی تم نے پورا ہونے نہی دیا ظالم بیوی۔۔
زوہیب یہ بول کے مسکرایا تو ادھر زوہیب کی باتوں کا مطلب سمجھ کے انعم کا گردن گھما کے زوہیب کو دیکھنا مشکل ہوگیا ۔۔
جب انعم تھوڑی دیر تک کچھ نہی بولی زوہیب نے پھر کہا۔
نام کو غور سے دیکھا تم نے کیا لکھا تھا؟؟
جی نہی میری بلا سے تم اپنے ہاتھ پہ اپنے عشق کی داستان لکھو پتہ نہی اس بیچاری کو بھی کیا کیا جھوٹ بولا ہوگا ۔۔
مطلب تمہیں اعتراض نہی میں اپنا عشق پورا کرلو ۔۔۔؟؟ زوہیب نے حیران ہوکے انعم سے پوچھا۔۔
مجھے کیا اعتراض ہوگا بھلے تم پوری فلم بناؤ اپنے عشق پہ۔۔
انعم کی بات پہ زوہیب دل کھول کے مسکرایا ۔
اسے انعم کا یہ روپ بہت اچھا لگا۔۔
گاڑی پنڈی کے چھوٹے بازار میں نہی بلکے ایک مال کے پاس آکے روکی۔۔
زوہیب نے انعم کی طرف کا گیٹ کھول کے اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوئے کہا۔
میں نہی چاہتا میری نازک سی بیوی کو یہاں کے بازاروں میں دھکے لگے ۔۔
انعم نے خاموشی سے زوہیب کا ہاتھ تھام لیا۔۔
زوہیب انعم کا ہاتھ تھامے تھامے روڈ کراس کرنے لگا مگر جب اس نے پوزیشن بدلی جہاں سے گاڑیاں آرہی تھی وہاں وہ خود ہوا اور انعم کو اس طرف کرا ۔۔یہ حرکت دیکھ کے انعم کی ایک ہاٹ بیٹ مس ہوئ۔۔
زوہیب نے انعم کو کافی شاپنگ کرائ۔جب ایک شاپ کے پاس رک کے انعم نے زوہیب سے کہا۔
وہ میں اندر جارہی ہو آپ یہی کھڑے رہے ؟؟؟
اپ؟؟؟
زوہیب نے جان بوجھ کے ناسمجھی کا مظاہرہ کیا جبکہ اسکا انعم کا اسکے سامنے جو جھجکنا بہت اچھا لگا۔۔
زوہیب کے بولنے انعم نے جب اسے گھو کے دیکھا تو وہ سیدھا ہوا اور شاپ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
ہاں تم جاؤ میرا کیا کام لیڈیز شاپ کے اندر یہ بول کے زوہیب نے انعم کی طرف اپنا کریڈٹ کارڈ کیا اور وہ شاپ کے اندر چلی گئ۔ادھے گھنٹے بعد انعم باہر آئ تو زوہیب اسے سامنے سے اتادیکھائ دیا۔
دونوں کو شاپنگ کرتے ہوئے کافی ٹائم ہوگیا تھا اس لیہ دونوں نے ڈنر باہر کیا اور پھر گھر ائے۔۔
انعم سامان اٹھا کے اوپر چلی گئ تو پیچھے زوہیب بھی باقی بچا ہوا سامان لے کے کمرے میں پہنچا آج کافی ٹائم بعد اس نے اس کمرے میں قدم رکھا تھا۔۔
انعم نے عبایا اتارا اور فریش ہونے چلی گئ جب کے زوہیب وہی بیٹھ کے موبائل چارج کرنے لگا جب انعم کمرے میں آئ تو زوہیب موبائل میں بزی تھا اسے دیکھ کے زوہیب نے اسمائل پاس کی اور کہا۔۔
تم پہن کے تو دیکھاؤ جو تم لائ تھی؟؟
کیا پہن کے دیکھاو۔؟؟
انعم نے ناسمجھی کے عالم میں زوہیب سے کہا۔۔
ارے وہی جو تم میرا مطلب ہے وہ ۔۔۔۔۔
کیا بولنا چاہ رہے ہو ؟؟؟
انعم کچھ کچھ تو سمجھ گئ مگر کچھ بولی نہی۔۔
جانمن جو شاپ میں آدھا گھنٹہ لگا کے لائ وہ دیکھاؤ اپنے سر تاج کو پہن کے ۔۔مگر یہ بات وہ خالی اپنے دل۔میں بول سکا انعم کے سامنے بول کے اپنی شامت نہی بولانی تھی اسے ۔۔
انعم نے جب زوہیب کو خاموش کھڑا پایا تو اپنا سامان الماری میں رکھنے لگی۔۔
زوہیب بیڈ پہ لیٹا خاموشی سے اسکی ساری کاروائی دیکھنے لگا۔۔
جب انعم۔فری ہوئ تو اس نے انعم کا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنے سامنے بیٹھایا اور جیب میں سے کچھ نکالا ۔۔
انعم نے غور سے اس سرخ مخمل کی ڈبیا کو دیکھا۔
زوہیب نے باکس کھولا تو اس میں ہیرے کی چمکتی ہوئی ڈائمنڈ کی لونگ تھی۔۔
زوہیب نے وہ انعم کے آگے کی تو اس نے خاموشی سے اسکے ہاتھ سے دبیا لی اور کہا مجھے پہنا نہی اتی یہ۔۔
میں پہناو؟؟
زوہیب کے لہجہ میں ایسا کچھ تھا کے وہ منع نہی۔کرپائ اور اپنی پہنی ہوئ ناک کی بالی اتاری ۔۔
زوہیب اسکے تھوڑا اور قریب ہوا اور احتیاط سے اسکو لونگ پہنائ مگر لونگ کا کفل لگاتے ہوئے انعم کو تکلیف ہوئ جب اس نے بے ڈھرک زوہیب کا ہاتھ تھاما۔۔
زوہیب نے جب لونگ پہنا دی تو بے ڈھرک اسکے منہ سے نکلا ۔۔
“ماشاءاللہ””
زوہیب کی آنکھوں کا خمار دیکھ کے انعم بلا جھجک اپنی نظریں جھکا گئ۔۔
زوہیب نے اپنے حق کے استمال کرکے اسکے پھڑپھڑاتے ہوئے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے ۔۔
انعم زوہیب کی اس حرکت پہ جہاں بوکھلائ وہی اس نے پوری طاقت سے زوہیب کو خود سے دور کیا۔
اور ڈور کے واش روم میں بند ہوگئ۔۔
زوہیب نے ایک پرشکوہ نظر واش روم کے بند دروازے پہ ڈالی اور نیچے چلا گیا۔۔
!!!!!!!!!!!
کل انکی واپسی تھی ۔اج وہ لوگ پھر مال روڈ آئے تھے ۔۔رجا نے گھر والوں کیلیے کافی۔چیزیں لی بازار سے نکلتے ہوئے جب اسکی نظر اس ڈھلان پہ پڑی۔۔
بے خودی میں اسکے قدم اس ڈھلان کی۔طرف گئے۔۔
وہ نیچے جھک کے دیکھنے لگی ۔ایک بار پھر اسکی زہین میں اسفند کی گستاخی گھومی بے ڈھرک اسکا ہاتھ اپنے لبوں پہ گیا۔
ناچاہتے ہوئے بھی اسکے لب مسکرائے ۔۔
ایک دم اسے کسی نے آگے دھکا دے کے دوبارہ اپنی طرف کھینچا رجا آنکھیں بند کرکے اپنی طرف کھینچنے والے بندے کے سینے سے لگی رہی مگر جب آنکھیں کھول کے اسے دیکھا تو سکتے میں اگئ۔۔۔
ا
جاری ہےے۔