55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

رات 9 بجے کے قریب زوہیب گھر میں داخل ہوا اور سیدھا اپنے کمرے میں جانے لگا جب اسے کچن سے بھینی بھینی خوشبو آئ اور کسی کے گنگنانے کی آواز بھی۔۔
زوہیب کے قدم بلا جھجھک کچن کی طرف گئے۔مگر وہاں کا تونظارا ہی الگ تھا۔۔
انعم آج زوہیب کیلیے کھانا گرم کررہی تھی اکثر جب زوہیب گھر آتا تو انعم سو چکی ہوتی یہ جاگ بھی رہی ہوتی تو نیچے نہی آتی زوہیب خودی کھانا گرم کرتا ۔۔
انعم جہاں کھانا گرم کررہی تھی وہی ساتھ ساتھ اپنی آواز کا جادو بھی بیکھر رہی تھی۔۔
“یار تجھے میں پیار کرو ۔۔
اننننناا سارا ۔۔
ایک جنم بھی کیا سو جنم بھی ہے تجھ پہ وارا “””
کسی کی موجودگی کا احساس کرکے انعم پلٹی وہی انعم کو دیکھ بے ڈھرک زوہیب کا ہاتھ اپنے دل پہ گیا۔۔
لائٹ پنک کلر کے قمیض جس پہ وائٹ پھولوں کا نفیس سا کام تھا ۔۔وائٹ چوری دار پاجامہ ہاتھوں میں بھر بھر کے چوڑیاں ڈالے کانوں میں میچنگ کے جھمکے ڈالے لمبے بال کمر پہ چھوڑے وہ زوہیب کا دل اتنا ڈھرکا گئ کے بلا جھجک زوہیب کا ہاتھ اپنے دل پہ گیا۔۔
انعم نے زوہیب کو دیکھ کے ایک اسمائل دی اور کہا۔
اب بیٹھے میں کھانا لاتی ہو۔۔
انعم کو اسطرح تیار دیکھ کے اس کے ایسے ریکشن پہ زوہیب نے اپنا موبائل نکالا اور چیک کیا اور بار بار چیک کیا جب انعم دوبارہ پلٹ کے زوہیب سے کہا۔۔
موبائل میں کیا دیکھ رہے ہیں؟؟
انعم کے بولنے پہ زوہیب نے کہا۔۔
سو سوری تم نے اگر میسج کیا تھا کے ہم کہی جائئینگے شام میں تو وہی دیکھ رہا ہو مجھے میسج کیوں نہی ایا۔۔
میں نے اپکو کوئ میسج نہی کیا زوہیب..
تو پھر آج اس گھر کی ملکہ کا رنگ کیوں بدللا ہے ماشاءاللہ اتنی تیار ہو میرے لیہ کھانا گرم کررہی ہو ابھی تک جاگ رہی ہو۔ ۔
انعم زوہیب کے پاس آئ اسکے ہاتھ سے موبائل لے کے اسکی جیب میں ڈالا اور اسکے گال پہ پیار سے ہاتھ رکھ کے کہا
اب فریش ہوکے آئے میں کھانا لگاتی ہو ۔
انعم کے اس عمل سے زوہیب کا ہاتھ بلا جھجک انعم کے ماتھے پہ گیا اور اس نے کہا۔
انعم تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟؟
اففف زوہیب اب جارہے ہیں آپ یہ نہی۔۔
انعم نے تھوڑے روبدار آواز میں کہا تو زوہیب فورا فریش ہونے چلا گیا۔
جب تک زوہیب فریش ہوکے آیا انعم کھانا لگا چکی تھی اور زوہیب کو کھانا دیکھ کے کافی دلی خوشی ہوئی کیونکہ سارا کھانا اس کی پسند کا تھا۔۔
زوہیب خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا جب کےنظرہں اسکی مسلسل انعم کے حسین سراپے پہ تھی۔۔
انعم محسوس کرسکتی تھی زوہیب کی نظریں اپنے اوپر اس لیہ وہ بھی اپنی مسکراہٹ دبائے کھانا کھانے لگی۔۔
زوہیب کھانا کھا کے ایک نظر انعم پہ ڈال کے اپنے نیچے والے کمرے میں جانے لگا جب ا
برتن سمیتتی انعم کی آواز گونجی۔۔
اوپر اپنے کمرے میں جائے میں کافی لاتی ہو ۔
اور زوہیب خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
انعم دو کافی کے مگ لے کے اپنے کمرے میں آئ تو زوہیب بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کے بیٹھا تھاا نعم نے کافی کے دونوں مگ سائیڈ میں رکھے اور جیسی ہی جانے کیلیے مڑی زوہیب نے اس کی کلائی پکڑ کے اسے اپنے اوپر گرایا ۔۔
انعم کے سارے بال کسی ابشار کی طرح زوہیب کے چہرے پہ چھا گئے
انعم نے زوہیب کے چہرے سے بال ہٹائے تو دونوں کی نگاہیں ملی۔۔
جب زوہیب نے کہا۔
بدلہ بدلہ سا یار ہے آج میرا اتنی عنایت کی وجہ پوچھ سکتا ہو میں اپنی زوجہ محترمہ سے؟؟
زوہیب کے بولنے پہ انعم اس پہ سے اٹھ کے اس کے سامنے گردن جھکا کے بیٹھی ۔۔
زوہیب بھی اسکے سامنے سیدھے ہوکے بیٹھا اور غور سے انعم کو دیکھا جو اپنی ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں مسل رہی تھی۔۔
زوہیب نے دھیرے سے پکارا ۔۔۔
انعم؟؟؟
آپ نے اپنی آبائ زمین کیوں بیچی؟؟
انعم نے دھیرے سے سرگوشی کرکے زوہیب دیکھا۔۔
یہ بات تمہیں کیسے پتہ چلی ؟؟
زوہیب نے حیران ہوکے کہا۔
اور پھر کچھ یاد آنے پہ اچانک کہا۔
اوہ آج آصف نے کال تھی تمہیں ہیں نہ؟؟
انعم نے دھیرے سے ہاں میں گردن ہلائی ۔
اور کیا کیا بولا تمہارے بھائ نے؟؟
یہ بول کے زوہیب نے اسکا ہاتھ تھاما اور چوڑیاں اتارنے لگا
بھائ۔نے وہ سب بتایا جو اپنے نے کبھی نہی بتایا ۔۔کیوں زوہیب اتنی محبت کرتے تھے مجھ سے کے ایک ایسی لڑکی کو اتنی عزت دی اسے نام دیا ۔۔
یہ بول کے انعم کی آواز رندھ گئی جب زوہیب نے اسکے کال کی بالیاں اتارتے ہوئے کہا۔۔
پہلی بات محبت کرتا تھا نہی کرتا ہو دوسری بات میں نے کوئ۔ہمدردی کے تحت تم سے شادی نہی کی بللکہ اللہ نے مجھے ایک موقع دیا تھا تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنے کا تو بس میں نے اس موقع کا استعمال کیا۔
اور رہا سوال زمین بیچنے کا تو یہ بول کے زوہیب نے انعم کے گلے کا ڈوپٹہ اتار اور اسکی شہہ رگ پہ اپنے لب رکھے اور ہٹائے نہی جیسے وہ اپنی برسوں کی پیاس بجھا رہا۔۔ہو
انعم نے بھی آج اسکو دھتکارا نہی بلکہ مظبوطی سے اسکی شرٹ تھامی ۔۔
تھوڑی دیر بعد زوہیب سے الگ ہوا تو انعم کا چہرہ لال انار کی طرح دہک رہا تھا اسکے ہونٹ کسی قیدی پرندے کی طرح پھڑپھڑا رہے تھے۔۔
جب زوہیب نے اس اپنے سینے سے لگایا اور کہا ۔۔
کیونکہ میری بیوی کو ڈرائیور پسند نہی تھا اس لیہ بزنس مین بننے کا سوچا اور میری بیوی کے نصیب سے اللہ بہت جلد مجھے کامیاب بزنس مین بنانے والا ہے۔۔
یہ بول کے زوہیب نے اپنے پوزیشن بدلی اور کپکپاتی انعم کے وجود کو اپنے باہنوں کے حصار میں بھینچا اور اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھے۔۔
انعم شرم سے اپنی آنکھیں نہی کھول پائ مگر جب زوہیب اسکے جسم پہ پورا قابض ہونے لگا جب کچھ یاد آنے پہ زوہیب کے سینے پہ ہاتھ رکھ انعم نے اسے مزید بہکنے سے روکا ۔۔زوہیب نے آنکھوں میں شکوہ لیہ اسے گھورا جب انعم نے کہا۔
اور وہ آپکی پرانی محبوبہ جسکا نام اپنے اپنے بازو پہ۔لکھوایا ہے انعم نے یہ بول کے اتنا سڑا ہوا منہ بنایا کے بے ساختہ زوہیب کی ہنسی نکلی اور اس نے کھڑے ہوکے اپنی قمیض اتاری اور انعم کے پاس اپنا وہ بازو کیا جس پہ نام لکھا تھا۔۔
انعم نام دیکھ جہاں چونکی وہی اسکی۔انکھیں بھی بھیگیں اور اس نے اس نام پہ اپنے لب رکھ دیے ۔کیونکہ وہ اور کسی کا نہی انعم کا ہی نام تھا۔۔
ایسا کرنے سے زوہیب نے فورا انعم کو اپنے حصار میں لے کے لیٹایا اسسے پہلے انعم دوبارہ۔کچھ بولتی زوہیب نے فورا اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں جکڑا اور اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔۔
باقی باتیں صبح کرنا ابھی مجھے پیار کرنے دو پتہ نہی کب میری بیوی کو دوبارہ مجھ میں ڈرائیور دیکھنے لگے اور وہ مجھے دوبارہ دھکا دے کے کمرے سے نکال دے
جاری ہے ۔۔
اور کل اپیسوڈ شارٹ آئے گی