Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
رات کو اسفند کمرے میں آیا تو رجا ڈوپٹہ سے بے نیاز کھڑی اپنی جیولری اتار رہی تھی۔۔
اسفند اس کے حسین سراپے کو دیکھ کے اسکے پاس آیا مگر رجا وہ اسفند کو دیکھ کےبھی انجان بن گئ۔۔
جیولری اتار کے جانے لگی تب اسفند نے اسکی کلائی تھام کے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔
کہاں جارہی ہو ایسے اگنور کرکے؟؟؟
اگنور کرکے نہی جان بوجھ کے تمہیں نظر انداز کرکے کل دوپہر جو تم نے کیا اس کے بعد تمہیں کیا لگتا ہے میں نائٹی پہن کے تمہارا انتظار کرتی۔۔
رجا غصہ میں بول تو گئ مگر پھر گھبرا کے اسفند سے اپنی کلائ چھڑوانے لگی جب اسفند نے اسے خود سے قریب کرکے کہا۔۔
ویسے ائیڈیا برا نہی۔۔اسفند نے مسکرا کے کہا۔۔
اتنا نخرے کس بات کے ہیں رجا۔۔؟
خوش نہی ہوکیا اس شادی سے۔۔۔
اسفند کے سوال پہ رجا نے اپنی کلائی چھڑواتے ہوئے کہا۔۔
اگر میں نہ بولو تو؟؟
رجا کے بولنے پہ اسفند کے چہرے پہ ایک دلفریب مسکراہٹ ائ۔۔
اس نے مزید اپنی باہنوں میں رجا کو قید کیا اور کہا ۔۔
تو پھر میں یہ بولونگا کے عادت ڈال لو قربت کی۔کیونکہ مجھے تو تم سے محبت ہوگئ اس دن سے جس دن تماری سانسوں میں اپنی سانسیں منتقل کی ۔
یہ بول کے اسفند نے رجا کے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے ۔۔
اسفند کے عمل میں جب جنونیت شامل ہونے لگی تو رجا کا سانس لینا مشکل ہونے لگا اسکی آنکھوں سے تیزی سے آنسو جاری ہونے لگے۔۔
اسفند رجا کی حالت پہ رحم کرکے اسکی سانسیں چھوڑی اور کہا۔
آج چھوڑ رہا ہو آئندہ تمہیں محبت ہوئ ہو یہ نہ ہوئ ہو مجھ سے اس رشتہ کو قبول کرو یہ نہ قبول۔کرو دل سے میں تماری ایک نہی سنونگا۔۔
یہ بول کے اسفند نے کپڑے چینج کرے گاڑی کی چابی اٹھا کے باہر نکل گیا۔۔
اسفند کے جاتے ہی رجا سکتے سے بیڈ پہ بیٹھی اور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا مگر اس کے کانوں میں اسفند کے الفاظ گونجنے لگے ۔۔
“میں تم سے محبت کرتا ہو۔”۔
فجر کے وقت اسفند گھر میں داخل ہوا تو رجا بیڈ پہ براجمان ہوکے آرام سے سو رہی تھی اسفند اس کے سر کے سرہانے جاکے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور غور غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔
اسفند کے دل میں نہ جانے کیا سمائے کے اس ے باہنوں میں آرام سے اٹھایا اور اسے واش روم میں لے گیا شاور کے نیچے لے جاکے اسنے شاور اون کردیا ۔
رجا جو گہرے نیند میں تھی پانی اپنے اوپر گرنے سے ہڑبڑا کے کے اپنی آنکھیں کھولی اتنی دیر تو اسے یہ سمجھنے میں لگی کے وہ ہے کہاں دماغ زرا سا اسکا بیدار ہوا مگر یہ دیکھ کے وہ صدمے میں چلی گئ کے وہ اس وقت اسفند کی گودھ میں تھی اور شاور کے نیچے تھے ۔۔
ایک نظر اسنے شاور کو گردن اوپر کرکے دیکھا اور پھر اسفند کو جو اسے ہی دیکھنے میں گم تھا۔
رجا نے اسفند کو دیکھ کے غصہ میں کہا۔
او سائیکو اتارا مجھے ۔۔
کسی سوئے ہوئے انسان کے ساتھ کوئ ایسا کرتا ہے۔۔؟؟؟
رجا کے غصہ کرنے پہ اسفند نے ایک نظر اسکے بھیگے سراپے کو دیکھا جس سے جھلکتے رجا کے نشیب و فراز اسفند کا ایمان خراب کررہے تھے۔۔
اسفند نے رجا کو نیچے اتارا جیسی ہی رجا جانے لگی اسفند نے کھینچ کے اسے دوبارہ شاور کے نیچے کیا اور کہا۔۔
میں کرتا ہو ایسا خاص کر جب میری بیوی میرے جزبات کو جھنجھوڑ کے خود مزے سے سو رہی ہو۔۔
اسفند مجھے نیند آرہی ہے رجا نے گھبرائ ہوئ اواز میں کہا۔کیونکہ اسفند اب اسکی قمیض کے اندر سے اسکی کمر پہ ہاتھ پھر رہا تھا۔۔
اسفند جو مدہوشی سے رجا کی قمیض کی آگے کی ڈوری کھولنے لگا تھا۔
ایک دم رجا کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیا اور گنگنایا۔۔
“مجھے اپنے سرہانے پہ تھوڑی سی جگہ دے دو۔۔
مجھے نیند نہ آنے کی کوئ تو وجہ دے دو”””
یہ بول کے اسفند نے دھیرے سے رجا کے ہونٹوں کو چھوا اور کہا۔
جاؤ سو جاؤ رجا۔۔
یہ بول کے اسفند گھوم کے شاور کے نیچے دوبارہ کھڑا ہوگیا۔
رجا نے ایک قدم الٹا اٹھایا اور واش روم سے کچھ سوچتے ہوئے باہر اگئ۔۔
ابھی تک اسکی سمجھ میں نہیں آیا کے یہ کیسی محبت ہے اسفند کبھی جنون کبھی سکون۔۔
رجا نے خاموشی سے کپڑے بدلے اور سونے لیٹ گئ۔۔
تقریبا 20منٹ اسفند باہر آیا تو رجا دوبارہ نیند کی وادیوں میں اتر چکی تھی۔۔
اسفند نے کپڑے بدلے اور رجا کے برابر میں آکے لیٹ گیا۔اسکی نظریں اب بھی رجا کے معصوم چہرے کا طواف کررہی تھی۔۔
رجا کے چہرے پہ آئے گیلے بالوں کی لٹ اسفند نے احتیاط سے پیچھے کی۔۔
اور دوبارہ اسکے چہرے کو تکنے لگا۔۔
“ساری دنیا سے جیت کے میں آیا ہو ادھر۔۔
تیرے آگے ہی میں ہارا کیا تو نے کیا اثر۔۔
میں دل کا راز کہتا ہو ۔۔
جب جب سانسیں لیتا ہو تیرا ہی نام لیتا ہو۔۔
یہ تونے کیا کیا”””
اسفند کب نیند کی وادیوں میں اترا اسے خود پتہ نہی چلا۔۔
“”””””
دو تین دن نہ اسفند نے رجا کو تنگ کیا نہ اس سے زیادہ بات کی۔۔
رجا اسفند کے اس دھوپ چھاؤں کے رویہ پہ جہاں حیران تھی وہاں پریشان بھی۔۔
آج زاہد نے اسے ڈنر پہ پہ انوائیٹ کیا تھا۔
مظہر اسفند کے ولیمہ میں شامل نہی ہوسکا تھا نہ اس سے ابھی تک رجا کی ملاقات ہوئ مظہر کے خالہ کی ڈیٹھ ہوگئ تھی ۔۔مظہر اور اسکی والدہ کو وہاں جانا پڑا۔۔
زاہد نے ایک ہوٹل میں ان دونوں کو ڈنر پہ انوائیٹ کیا۔۔
لائٹ بے بی پنک کلر کی ساڑھی میں رجا بہت حسسین لگ رہی تھی۔۔حنا تو اسکی تعریف کرتے کرتے نہی تھک رہی تھی وہی دائ جان نے بھی اسکی نظر اتاری اور ناعمہ بیگم کو رجا کسی کی یاد دلا گئ۔۔
اسفند نے جب اسے دیکھا تو دنگ رہ گیا ایک بار پھر وہ رجا کے سحر میں جکڑنے لگا۔
زاہد اور جینی بھی رجا کو دیکھ کے کافی حیران ہوئ جبکہ رجا زاہد کی نظروں سے کافی پریشان تھی۔۔
ڈنر کے بعد وہ لوگ واپس گھر اگئے۔
مگر اسفند اسکا آج ارادہ کچھ اور تھا رجا ساڑھی چینج کرنے جانے لگی جب اسفند نے اسکی ساڑھی کا پلو پکڑ کے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔
اور اسے گودھ میں اٹھا کے بیڈ پہ لیٹایا۔۔رجا جو اسفند کو آج چاہ کر بھی روک نہی پارہی تھی ۔۔اسفند کی شرٹ اتارنے پہ وہ بوکھلا گئ اور کہا۔
اسفند ؟؟
اسفند جو رجا کی ساڑھی کا پلو گرا چکا تھا اب اسکا ہاتھ رجا کے بلوز پہ تھا۔۔
رجا کہ کانپتی آواز پہ اس نے رجا کو نگاہ اٹھا کے دیکھا۔۔
لائٹ گرین آنکھوں میں آج سب کچھ حاصل کرنے کا جنون تھا ۔۔رجا کو اسفند کی آنکھوں میں دیکھنا محال تھا ۔رجا نے فورا گردن جھکائی جب رجا نے نیچے گردن جھکائے ہوئے کہا۔
مجھے تھوڑا وقت چاہیے اسفند۔ ر
اسفند نے اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔۔
کس لیہ؟؟
میں ابھی اتنی جلدی اس ریلیشن کے حق میں نہی۔۔
تو تم سے تمہارا حق کون مانگ رہا ہے میں اپنا حق خود ہی وصول کررہا ہو ۔۔یہ بول کے اسفند نے اسکے اوپر سے ساڑھی اتار کے سائیڈ میں رکھی۔۔
اسفند کی اس حرکت سے رجا کا جسم ہولے ہولے کانپنے لگا جسے اسفند نے اپنے مظبوط باہنوں کے حصار میں لیا۔۔
اچانک ایک زور دار پتھر اسفند کے کمرے کی کھڑکی پہ پڑا اسفند اور رجا ڈر کے ایک دم چونکے مگر اس کے بعد لگاتار تین چار پتھر کھڑکی پہ پڑے کانچ توٹنے کے شور سے رجا ڈر کے اسفند کے سینے سے لگ کے رونے لگی۔۔
گھر کے تمام افراد اس شور سے اٹھ گئے۔۔
اسفند نے رجا کو کھڑا کرکے اسکے کپڑے بدلنے کو کہا اور خود شرٹ بدل کے نیچے پہنچا۔۔۔
گھر کی کھڑکیاں توڑنے والے شخص نے گاڑی ایک جھٹکے سے اگے بڑھائ اور کسی کو کال کرکے کہا۔۔
زارون صاحب آپکا کام ہوگیا۔۔
آج دو ہنسوں کے جوڑوں کا ملاپ ہو نہی سکا یہ بول کے کال کرنے والے نے قہقہ لگایا اور کال کٹ کردی۔۔
جاری ہے ۔
