Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211

Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Last updated: 11 September 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qismat Ka Khel

By Mariyam Khan

جینی کے بوس نے جب اپنے منہ پہ گھونسا مارنے والے کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔۔
کچھ ایسا ہی حال جینی کا بھی تھا کیونکہ زوہیب نے جینی کو بولا تھا کے وہ ایک ہفتہ بعد آئے گا۔۔
زوہیب کی نظریں فورا انعم پہ گئ جو ڈوپٹہ سے بے نیاز تھی اور گردن جھکا کے کھڑی تھی۔
زوہیب نے نیچے پڑا انعم کو ڈوپٹہ اسے اچھے سے اڑایا تو اسکی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔
زوہیب نے انعم کو صوفے پہ بیٹھایا اور کسی کو آواز دے کے بولایا۔۔
ایک پولیس آفیسر تین چار ہولدار کیساتھ گھر کے اندر داخل ہوا ۔۔
پولیس آفیسر کو دیکھ کے جینی کے باس کی سیٹی گم ہوئ اور اسنے کہا۔۔
انسپکٹر ثاقب ؟؟
ہاں میں دلاور تم نے کیا سوچا کے پنڈی میں ہوگے تو کیا میں تم تک پہنچ نہی پاونگا میں ہر بار تم اس لیہ بچ جاتے تھے کے میرے پاس تمہارے خلاف ثبوت نہیں تھا۔
مگر قسمت کا کھیل دیکھو مجھے تمہارے خلاف ثبوت بھی کہاں ملا میرے پچپن کے یار کے گھر ۔۔
یہ کہہ کے ثاقب نے مسکراکے زوہیب کو دیکھا ا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
ثاقب نے یہ بول کے دلاور کو دیکھا جو گہری سوچ میں گم تھا۔۔
ثاقب نے کہا۔
یہی سوچ رہا ہے نہ دلاور کے مجھے کیسے پتہ تو آج یہاں آئے گا تو سن۔
جب پچھلی بار زوہیب لاہور گیا تھا تو دوسرے دن ہی اسکا کام ختم ہوگیا۔میری پوسٹنگ لاہور میں ہی تھی میں اسکی شادی میں نہیں آسکا اس لیہ اسکے ساتھ دو تین دن کی چھٹی لےکے زوہیب کیساتھ اگیا۔
ہم لوگ جب گھر کے باہر رکے تو تین گاڑیاں کھڑی دیکھی۔
اور میں سمجھا کے میرے سسرال والے آئے ہیں مگر جب میں نے اندر سے انعم۔کی رونے کی آواز سنی تو مجھے معملہ کچھ گڑبڑ لگا۔۔
آگے کی بات زوہیب نے کی۔۔
قسمت کا کھیل کہہ لو دلاور یہ پھر تمہاری بدقسمتی میں زوہیب کیساتھ جب اندر جانے لگا تو مجھے تم صوفے پہ مجھے بیٹھے ہوئے دیکھے۔
زوہیب جو جینی کو اور تمہیں دیکھ کے غصہ میں اندر بڑھ رہا تھا میرے کہنے پہ رک گیا۔
تم۔نے یہ کہہ کے بھابھی کو دھمکایا کے اگر انہوں نے تمہاری بات نہی مانی تو تو زوہیب کو لاہور میں ہی مراودوگے۔۔
اس دھمکی سے انعم بھابھی واقع ڈر گئ اور خالی اپنے شوہر کو بچانے کیلیے ساری زندگی تمہاری راکھیل بننے کو بھی تیار ہوگئ۔
مگر شاید تجھے یقین تھا کے انعم بھابھی کہی بھاگ نہ جائے یہ پھر زوہیب کو کال کرکے سب بتا نہ دے۔۔
اس لیہ تو نے جینی کو یہاں چھوڑا۔۔
اور تم ۔۔
زوہیب اٹھ کے جینی کے پاس آیا اور زور دار تھپڑ اسکو مارا اور اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑا اور کہا۔
اور تم کیا سمجھی کے میرا ایمان اتنا کمزور ہے کے تیری جسی ہر بستر کی زینت بننے والی لڑکی میں انعم پہ ترجی دونگا انعم میری محبت نہی میرا سکون ہے محبت کرنے والوں کو لفظوں کی ضروت نہی ہوتی اپنی ہر بات کہنے کی انکی خاموشی بھی کافی ہوتی ہے اپنے یار کو بتانے کیلیے کے وہ کیا چاہتے ہیں۔۔
تونے جتنا ٹاچر کرنا تھا میری بیوی کو تونے کردیا اب تو دیکھ تیرا جیل میں کیا حال ہوگا۔
یہ بول کے زوہیب نے جینی کے بال کو چھوڑ کے اسے ثاقب کے قدموں میں دھکا دیا۔۔
میں اتنے دن سے پنڈی میں ہی تھا اور روز اپنی بیوی کو دیکھتا تھا اور ریسٹورنٹ والی پک جب تم نے لی تب بھی میں اپنی بیوی کے ساتھ سائے کی طرح تھا۔۔
ہاں بس میری یہ بیوقوف بیوی مجھے دیکھ نہی پائ اور آج میں جو تمہارے ساتھ ناٹک کیا کے میں جارہا ہو لاہور اس لیہ کیاتاکے تم اس دلاور کو یہاں بلاو ۔۔
اور اس کو میں گرفتار کرسکو آگے کی بات ثاقب نے مکمل کی جینی اور دلاور کو گرفتار کرکے پولیس وین میں بیٹھایا اور خود دوبارہ زوہیب کے پاس آیا اس بغلگیر ہوا اور انعم کے سر پہ۔ہاتھ رکھتے ہوئے ۔
بہت کم لوگوں کو ایسی محبت ملتی ہے بھابھی اپ نے محبت کا امتحان جیسے پاس کیا ایسے کوئ نہی کرتا ہاں آپکے گھر کا ڈنر مجھے پہ ادھار رہا بہت جلد آؤنگا ان کتوں کو زرا لاہور کے جیل کا کھانا کھلاکے۔۔
ثاقب کے جانے کے بعد زوہیب دروازہ بند کرکے انعم کے پاس آیا جو رونے میں مشغول تھی۔۔