55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

دائ جان جو باہر آنے کی تیاری کررہی تھی رجا کو کمرے میں آتا دیکھ ایک دم رکی اور مسکراکے کہا۔۔
کسی ہو رجا؟؟
اسلام وعلیکم دائ جان۔۔
میں ٹھیک ہو آپ کیسی ہیں ؟اپ تو بلکل دددییی کی طرح لگتی ہیں۔۔
رجا کی بات پہ دائ جان مسکرائ اور کہا۔
اب بہنیں ہیں ملیں گی تو ۔۔
بلکل جیسے ناعمہ آنٹی اور آگے کی بات کرتے کرتے رجا رکی ۔۔کیونکہ دروازہ کھول کے اسفند اندر آچکا تھا۔۔
دائ جان ناشتہ کیلیے اجائے اسفند نے ایک نظر رجا پہ ڈالی اور دوبارہ دروازہ بند کرکے چلاگیا۔
رجا نے اسفند کے جاتے ہی ایک لمبی سانس لی تو ادھر دائ جان رجا کے قریب ائ اور کہا۔۔
۔
تم گزرے ہوئے دنوں سے واقف ہو رجا؟؟
دائ جان دددیی نے مجھے ساری باتوں سے آگاہ کردیا تھا سوائے اپکے اس پوتے کے ۔۔رجا کی بات پہ دائ جان مسکرائ اور کہا ۔
میرا پوتا دل کا بہت اچھا ہے رجا بہت دکھ اٹھائے ہیں اس نے۔۔
یہ بات بولتی ہوئی دائ جان تھوڑی افسردہ ہوئ جب رجا نے ان سے کہا۔
خاماخای میں آپکے پوتے نے دکھ اٹھائے ہیں دائ جان اگر بچپن میں آپکے پوتے کو اپنی ماں کی پرچھائ یاد ہوتی تو آج حالات کچھ اور ہوتے ۔۔
خیر چلے ناشتہ کرنے بہت بھوک لگی ہے..
دائ جان اور رجا ایک ساتھ ناشتہ کی ٹیبل پہ آئے تو خرم صاحب اور حنا بھی اچکے تھے۔۔
رجا نے آگے بڑھ کے خرم صاحب کو سلام کیا۔رجا کو دیکھ کے خرم صاحب کو اسمیں اپنی بہن دیکھی جو انکی انجانی خواہشات کی نظر ہوگئ۔۔
حنا بھی رجا کو کافی اچھی لگی۔۔
جبکہ رجا مسلسل اسفند کو آنکھیں دیکھا رہی تھی تاکہ وہ اسے گھورنا پسند کرے ۔
سب ناشتہ میں مصروف تھے جب اسفند نے خرم صاحب کے برابر میں رکھا جوس کا جگ مانگا۔۔
اسسے پہلے اسفند صاحب اٹھا کے دیتے ناعمہ بیگم نے جگ اٹھا کے اسفند کو دیا ۔
اسفند نے جب ناعمہ بیگم کے ہاتھ میں جوس کا جگ دیکھا تو اس کے ماتھے پہ ایک شکن آئ اور اس نے رجا سےناشتہ کی ٹیبل پہ اٹھتے ہوئے کہا۔
رجا میری چائے میرے کمرے میں لے انا۔۔
اسفند یہ بول کے اپنے کمرے میں چلا گیا جب کے ناعمہ بیگم ایک بار پھر اپنی تزلیل پہ صبر کا گھونٹ پہ کے رہ گئ۔۔
!!!!!!!!.
رجا چائے لے کے کمرے میں آئ تو اسفند کال۔پہ۔بزی تھا۔۔
رجا کو دیکھ کے کال کٹ کی اور کہا
اپنی۔پھپھو سے زیادہ فرینک ہونے کی ضرورت نہی۔
رجا جو بیڈ پہ بیٹھنے لگی تھی اسفند کی بات پہ ایک دم کھڑے ہوکے اسفند کے روبرو آئ اور کہا۔۔
کیوں نہ ہوفرینک اتنے سالوں بعد تو وہ مجھے ملی ہیں..
اور تم۔مجھے اپنی ماں سے ہی فرینک ہونے کو منع کررہے ہو عجیب بیٹے ہو۔۔
یہ بول کے رجا نارمل انداز میں اپنی ڈریسنگ پہ رکھا سامان ٹھیک کرنے لگی جب اسفند نے اسکا ہاتھ پکڑ کے کمر پہ۔لے جاکے موڑا اور غصیلی آواز میں کہا۔
آج تو کہہ دیا ہے مجھے انکا بیٹا آج کے بعد اگر کہا تو دوبارہ اگلا لفظ بولنے کے قابل نہیں رہوگی
یہ بول کے اسفند نے رجا کی کلائی چھوڑی تو وہ سسک پڑی اسکی کلائی پہ اسفند کے ہاتھ کے نشان تھے ۔۔
اسفند کی لائٹ گرین آنکھیں اس وقت جنونیت کا منظر پیش کررہی تھی ۔۔اسفند نے ایک نظر اسے دیکھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔!!
!!!!!!!!
زوہیب اور انعم پنڈی واپس اچکے تھے اور ساتھ میں آصف اور لبنہ بھی۔۔
ہارون صاحب نہ تو خود اپنی اکلوتی بیٹی کے ولیمہ میں آئے اور نہ انکے گھر کا کوئ فرد۔۔
انعم نے وائٹ اور پیچ کلر کی میکسی زیب تن کیہ اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دے رہی تھی جب زوہیب بلیک ڈنر سوٹ پہنے اندر ایا۔۔
یار انع۔۔۔۔۔۔۔اگے کی بات اس کے منہ میں ہی رہ گئ۔کیونکہ انعم لگ ہی اتنی حسن رہی تھی۔
زوہیب انعم کے پیچھے آکے کھڑا ہوا تو انعم نے چوڑیاں پہنتے مصروف انداز میں کہا۔
بس ہوگئ زوہیب تیار۔۔
زوہیب نے آہستہ سے انعم کو پیٹ سے تھام کے خود سے لگایا تو انعم جو چوڑیاں پہن کے بالوں کو آخری ٹچ دے رہی تھی پل بھر رکی۔۔
زوہیب نے انعم کے کندھے پہ اپنا سر رکھا اور کہا ۔۔
کسی نیکی کا صلہ ہو تم انعم میری بہت خوبصورت لگ رہی ہو اوپر سے ماں بننے کےمرحلہ سے جو تم گزر رہی ہو پہلے سے زیادہ خوبصورت لگنے لگی ہو۔۔
یہ بول کےزوہیب نے انعم کا رخ اپنا طرف موڑا تو انعم کی نظریں شرم سے جھکی تھی ۔۔
زوہیب نے انعم۔کا چہرہ دھیرے سے اوپر کیا اور اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے۔۔
ایک عجیب سا سحر زوہیب پہ طاری ہونے لگا۔
جب انعم زوہیب سے الگ ہوا تو انعم یہ دیکھ کے حیران رہ گئ کے زوہیب کی آنکھوں میں انسو تھے ۔
زوہیب اپ رو رہے ہیں کیوں؟
انعم ایک دم پریشان ہوگئ جب زوہیب نے آگے بڑھ کے اسے سینے سے لگایا اور کہا۔۔۔
زندگی کا وہ حصہ جس میں ہر اولاد کو اپنے ماں باپ کی ضرورت ہوتی ہے اکیلا رہا ۔کبھی سوچا نہی تھا کے کبھی تم میری زندگی میں شامل ہوگی اب دیکھو اللہ نے تمہارے ساتھ ساتھ ایک عدد خوبصورت بیٹی سے بھی نوازنے والا ہے ۔
زوہیب کی آخری بات پہ انعم ایک دم اسکے سینے سے الگ ہوئ اور کہا۔
آپ سے کس نے کہا بیٹی ہوگی مجھے تو بیٹا چاہیے۔۔
جی نہی بیٹی ہوگی۔
انعم اور زوہیب دونوں اس تکرار میں تھے جب آصف کمرے میں داخل ہوا اور کہا۔
یار چل چلو رجا کئ بار کال کرچکی ہے۔۔
آصف کے بولنے پہ ان دونوں کو بھی احساس ہوا ٹائم کا اور وہ سارے رجا اور اسفند کا ولیمہ اٹینڈ کرنے نکل۔پڑے۔
!!!!!!!
پی سی ہوٹل آسلام آباد میں ایک پررونق ولیمہ کی تقریب جاری تھی۔۔
پستی اور ٹی پنک کلر میں رجا آج برات والے دن سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی تو ادھر اسفند بھی ڈنر سوٹ میں غضب ڈھا رہا تھا مگر رجا سے ناراض تھا اور یہ بات رجا نے بہت محسوس کی۔۔
اسفند کے سارے دوست آج اسکے ولیمہ میں شامل تھے۔۔
رجا کے میکے والوں کا بھر پور استقبال کیاگیا جسمیں صرف چار لوگ ہی شامل تھے۔۔
زوہیب اور انعم ایک ساتھ کھڑے کافی خوبصورت لگ رہے تھے اور یہ بات اسفند اور دائ جان نے بھی کہی۔
زوہیب اور اصف کو اسفند اپنے دوستوں ملوانے لے گیا۔۔
لبنہ رجا کیساتھ اسٹیج پہ بیٹھی تھی۔
انعم اکیلی کھڑی تھی جب کسی جانی پہچانی اوازپہ ایک دم پلٹی
جینی کو دیکھ کے جہاں انعم۔حیران ہوئ وہی ایک غصہ کی لہر انعم کے وجود میں ڈوری جو انعم برداشت کرگئ۔۔
اوہ فائنلی تو تم ایک نوکر کے لائک ہی تھی اس سے اچھا تو تم اس آدمی سے ابھی جینی کی بات مکمل ہوتی ایک زناٹے دار تھپڑ جینی کی بولتی بند کرگیا۔۔
جینی اپنے گال پہ ہاتھ رکھے حیران نظروں سے انعم کو دیکھنے لگی۔۔
انعم ماحول سے ہٹ کے کھڑی تھی جبھی کسی نے ان دونوں کی طرف توجہ نہی دی۔۔
تمہاری اوقات کیا ہے جو میرے شوہر کو نوکر کہو۔۔
زوہیب خان نام ہے اسکا آئندہ تمیز سے نام لینا میرے شوہر کا اور جس آدمی کا مشورہ تم مجھے دے رہی ہو تم کیوں نہ بن جاتی اسکے بستر کی زینت اسکے علاؤہ نجانے کتنے مردوں کا تم دل بہلا چکی ہو ۔۔
انعم کے آخری جملے پہ جینی کا ہاتھ اٹھا اسسے پہلے انعم کے منہ پہ پڑتا زوہیب نے آکے اسکا ہاتھ پکڑا اور جھٹک کے کہا۔۔
کوششش بھی نہی کرنا کبھی ورنہ منہ دیکھانے کے قابل نہی رہوگی۔۔
یہ بول کے زوہیب نے انعم کا ہاتھ پکڑ کے وہاں سے لے گیا جب جینی نے کسی کو کال کی اور کہا۔
باس تمہاری ضروت اس وقت اسلام آباد میں معاوضہ دو اور انعم کو لے جاو۔۔
آگے سے نجانے کیا کہا گیا۔۔
جس پہ جینی نے کال کٹ کرکے دور سے انعم اور زوہیب کو مسکراتا دیکھ صرف اتنا کہا۔
اب دیکھو اس ٹھپڑ کا بدلہ تم سے ایسا لونگی انعم کے ساری زندگی اس ٹھپڑ کے نشان تمہاری روح تک پہ رہینگے۔۔۔
جاری ہے۔۔