55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

انعم بنت خالد کیا اپکو زوہیب بنت دلاور سے ایک لاکھ مہر سکہ رائج الوقت نکاح قبول ہے؟؟۔۔
قاضی کے الفاظ تھے یہ گرم سیسہ جو انعم کے کانوں میں انڈیلا گیا۔۔ادھر جمیلہ بیگم کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا جبکہ باقی سارے گھر والے جانتے تھے کے انعم کا نکاح زوہیب سے ہی ہونے والا ہے۔۔اصف نے قریب آکے انعم کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے دبایا تو وہ ایک دم چونکی اور قبول ہے کہا۔۔
اور پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی۔۔
ادھر زوہیب کا نکاح ہوتے ہی انعم کی رخصتی کا شور اٹھا اور انعم کسی زندہ لاش کی طرح زوہیب کیساتھ گاڑی میں بیٹھ کے اسکے فلیٹ اگئ۔
!!!!!!
انعم کو جب آصف پولیس اسٹیشن سے گھر لایا اور زوہیب کے پاس آیا تاکہ اسکا شکریہ ادا کرسکے۔۔
تمہارا شکریہ میں کیسے ادا کرو زوہیب اج تم جو ہماری عزت بچا کے ہم پہ احسان کیا ہے اس احسان کا بدلہ میں کبھی نہی چکا سکتا۔۔
آصف بول کے چپ ہوا جب زوہیب نے کہا۔۔
آصف سر میں نے آپکے ساتھ ساتھ اپنی عزت بھی بچائ ہے۔۔
زوہیب کے بولنے پہ آصف نے نہ سمجھی کی حالت میں زوہیب کو دیکھا جب زوہیب نے کہا۔
میں انعم سے شادی کرنا چاہتا ہو اصف سر جانتا ہو اپنی اوقات سے بہت زیادہ آگے بڑھ گیا ہو میں یہ بات بول کے ۔مگر اگر آج میں یہ بات آپ سے نہی کرتا تو شاید کبھی نہی کرتا۔۔
یہ مت سمجھیے گا کے آج جو کچھ ہوا اس کے بعد میں آپ سے یہ سب کہہ رہا ہو ۔اج میں جس کرب سے گزرا ہو اپکو اندازہ نہی میں انعم بی بی سے بہت محبت کرتا ہو پلیز مجھے خالی ہاتھ مت لوتائئیے گا یہ بول کر زوہیب نے آصف کے سامنے ہاتھ جوڑے اور بلک بلک کے رو پڑا ۔
آصف دو منٹ تک خاموش رہا اور پھر آگے بڑھ کے زوہیب کو گلے سے لگالیا۔اور کہا۔۔
شاید میں اگر خود بھی اپنی بہن کیلیے لائف پارٹنر ڈھونڈتا تو تم جیسا تلاش نہی کر پاتا۔۔مگر زوہیب اس نے جو بھی کیا بری صحبت میں رہ کے کیا تم سے ایک ریکوسٹ ہے پلیز کبھی اسکے آگے اسکا ماضی مت دھرانا۔۔
آصف سر جب محبت اپکو ملے نہ تو شکوے گلے نہی کرنے چاہیئے بلکہ یہ سوچنا چاہیے کے اپنے محبت کو کسطرح سے محبت کرے کے وہ اپنے اوپر بیتی ہر دکھ کی داستان بھول جائے۔۔۔۔
زوہیب کے جواب نے آصف کو لاجواب کر دیا ۔
لیکن سر میں نکاح کے دو تین بعد ہی پنڈی اپنے آبائ گھر شفٹ ہوجاونگا ۔انعم کو ان سب سے دور لے کر جانا چاہتا ہو۔۔
آصف نے مسکرا کے زوہیب کو دیکھا اور کہا۔
جیسے تمہیں ٹھیک لگے یار میں ماموں سے بات کرکے تمہیں بتاتا ہو۔۔۔
اور پھر فیصلہ زوہیب کے حق میں ہوا۔۔
زوہیب کے پاس کافی بینک بیلنس موجود تھا مگر پھر بھی وہ اتنا خرچ کرتا جتنی ضرورت ہوتی ۔۔
اس نے کافی ساری چیزیں انعم کیلیے لی نکاح کا ڈریس لے کے جب وہ دائ جان کے پاس پہنچا اس کے لبوں پہ ایک عجیب ہی مسکراہٹ تھی۔۔
۔۔۔۔
!!!!!!!!!
انعم زوہیب کے ساتھ گاڑی میں بلکل خاموش تھی۔۔
اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو جاری تھے قسمت کے اس کھیل نے اس کی روح تک کو بھی جھنجھوڑ دیا تھا ۔۔
وہ کلب میں کس حالت میں تھی اسکے ساتھ کیا ہونے والا تھا ابھی تک وہ ان سب باتوں سے انجان تھی۔۔
زوہیب کی نظریں گاڑی چلاتے ہوئے مسلسل انعم کے دلہن کے سراپے پہ تھی۔۔اللہ نے اس کی جھولی میں اسکی محبت ڈالی تھی ۔۔وہ بھی پاک رشتے سے ۔۔۔
اچانک زوہیب کی نظریں انعم کے خالی ہاتھوں پہ پڑی شاید زوہیب پہلی ایسی دلہن دیکھ رہا تھا جس کے ہاتھوں میں اس کے ہونے والے شوہر کے نام کی مہندی نہی تھی۔۔
گاڑی زوہیب کے فلیٹ کے باہر رکی تو انعم جو اپنی ہی سوچوں میں گم تھی ایک دم ہوش میں آئ ۔فلیٹ کی بلڈنگ کو دیکھ کے وہ پھر سسک پڑی۔۔
زوہیب گاڑی سے اتر کے گھوم کے انعم کی طرف آیا اور اسکی طرف کا دروازہ کھول کے اپنا ہاتھ انعم کے آگے کیا۔۔
انعم نے ایک نظر زوہیب کو دیکھا ایک نظر اس کے پھیلے ہوئے ہاتھ کو اور جھٹکے سے اسکا ہاتھ دور کیا اور خود گاڑی سے اتر کے فلیٹ کے اندر جانے لگی۔۔
زوہیب نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ اپنی مٹھی بند کی اور انعم کے پیچھے گیا۔۔
ہائ ہیل اور ہیوی ڈریس کیساتھ انعم بہت مشکل سے سیڑھیاں چڑ رہی تھی جب اسکے پیچھے آتے زوہیب نے اسے اپنی باہنوں میں اٹھایا انعم جو اپنی ہی سوچوں میں گم سیڑھیاں چڑھ رہی تھی زوہیب کی اس حرکت پہ اسکا خون کھولا اور جس ہاتھ سے اسنے زوہیب کی گردن پکڑی تھی اسی ہاتھ کے ناخن اس نے زوہیب کی گردن میں زور سے چبائے۔۔
مگر زوہیب نے نہ تو مسکرانا چھوڑا اور نہ ہی انعم کو اپنی باہنوں سے آزاد کیا ۔۔
انعم جو غصہ میں زوہیب کو گھور رہی تھی اچانک غور سے زوہیب کے چہرے کو دیکھنے پہ انعم کو اسکے چہرے پہ کافی چھوٹے چھوٹے چوٹوں کے نشان دیکھے۔۔
زوہیب اسکو لے کے اپنے فلیٹ پہ پہنچا اور ایک ہاتھ سے فلیٹ کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا ابھی پہلا قدم رکھا ہی تھا ۔۔
کے ان دونوں پہ گلاب کے پھولوں کی بارش ہونے لگی۔۔
انعم کے چہرے پہ بے تحاشہ گلاب کے پھولوں۔ کی پتیاں گری۔۔
پل بھر کیلیے ہی سہی مگر انعم کے لبوں پہ ہلکی سے برائے نام مسکراہٹ ائ۔۔
ززوہیب نے انعم کو لے جاکے بیڈ پہ بیٹھایا اور جھک کے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے۔۔اور فورا پیچھے ہوا کیونکہ انعم کی۔انکھیں پھر بھیگنے لگی۔۔
زوہیب نے اپنی قمیض اتاری اور اپنے کپڑے لے کےفریش ہونے چلا گیا۔
زوہیب کے جاتے ہی انعم ایک بار پھر رونے لگی اسکے بھائ نے اسکے ساتھ کتنا بڑا ظلم کیا ایسا اسے لگتا تھا۔۔۔۔
زوہیب فریش ہوکے باہر نکلا تو انعم ابھی تک اسی پوزیشن میں بیٹھی جس پوزیشن میں زوہیب اسے چھوڑ کے گیا تھا۔۔
انعم ؟؟
زوہیب کے پکارنے پہ انعم نے بھیگی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا تو زوہیب نے آگے بڑھ کے اسکے آنسو صاف کرنا چاہے مگر انعم ایک بار پھر اسکا ہاتھ جھٹک دیا ۔
الماری میں کپڑے ہیں تمہاری جاؤ فریش ہوجاو۔۔
زوہیب یہ بول کے ہٹا تو انعم کو بھی احساس ہو آکے اب اگر وہ مزید اس ڈریس میں رہی تو بیہوش ہو جائے گی۔
اور اپنا ڈریس سنبھالتی ہوئ نیچے اتری ڈریسنگ کے سامنے جاکے پہلے اپنی جیولری وغیرہ اتارنے لگی زوہیب بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کے بہت غور سے انعم کو دیکھ رہا تھا مگر انعم نے ایک بار بھی شیشہ میں نگاہ اٹھا کے اسے نہی دیکھا۔۔
جیولری اتار کے وہ فریش ہونے چلی گئ۔۔
فریش ہوکے باہر آئ تو صوفے پہ لیٹنے لگی جب زوہیب کی آواز کانوں میں ائ۔۔
زندگی میں میری شامل ہوگئ ہو نکاح میں ہو میرے جتنی جلدی یہ بات سمجھ جاؤ انعم تمہارے لیہ اچھا ہے۔
اس لیہ فورا بیڈ پہ او میں تمہں کھا نہی جاؤنگا۔۔۔۔
زوہیب کی باتیں انعم کو دھمکی لگی یا پھر کچھ اور وہ چپ چاپ بیڈ پہ آکے کروٹ لے کے لیٹ گئ۔
مگر گردن پہ انعم کے ناخنوں کی خراش کی وجہ سے زوہیب کو کافی تکلیف ہورہی تھی۔اس نے ڈرار سے ٹیوب نکالی اور انعم کا رخ اپنی طرف موڑ کے کہا۔۔
گردن پہ جو شادی کا پہلا تحفہ دیا ہے اپنے نیند نہی آرہی اس کی وجہ سے یہ لگاؤ گردن پہ۔۔
زوہیب نے انعم کے آگے ٹیوب کی جیسے اس نے خاموشی سے تھام لیا۔۔
زوہیب رخ موڑ کے بیٹھا اور گردن سے اپنی شرٹ تھوڑی نیچے کی یہ دیکھ کے انعم کو واقعی شرمندگی ہوئ کے اس کے ناخن بری طرح زوہیب کی گردن زخمی کرچکے ہیں ۔
اس نے خاموشی سے زوہیب کی گردن پہ ٹیوب لگائ۔
اور لیٹ کے کروٹ بدل لی۔۔
زوہیب کو بھی ٹیوب لگوانے کے بعد کافی آرام محسوس ہوا اور وہ بھی انعم کی پشت کو گھورتا ہوئے کب نیند کی وادیوں میں اترا اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔
صبح زوہیب کی آنکھ کھولی تو انعم بیڈ نہہہ تھی۔۔زوہیب تیزی سے بیڈ سے اتر کے کمرے سے باہر نکلا تو انعم سامنے ٹریس پہ کھڑی تھی گم سم اداس تھی ۔۔
زوہیب کی جان میں جان آئ اور وہ ناشتہ بنانے چلا گیا۔۔
ناشتہ بناکے زوہیب نے تیبل پہ لگایا اور انعم کے پاس جاکے کھڑا ہوا مگر یہ دیکھ کے زوہیب کو بہت افسوس ہوا کے انعم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔
زوہیب نے ہلکے سے انعم کو پکارا اور کہا۔۔
انعم ناشتہ کرلو پھر ہمیں نکلنا ہے پنڈی کیلیے تمہیں تمہارے گھر والوں سے بھی ملوالاونگا۔۔
مجھے کسی سے نہی ملنا اور نہ مجھے بھوک ہے۔۔
یہ بول کے انعم جانے لگی جب زوہیب نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچا اور کہا۔
ضد میں انسان اکثر اپنا ہی۔نقصان کرتا ہے بہت لمبا سفر ہے انعم مجھے مجبور مت کرو کے یہ سفر میں تمہارے ساتھ زبردستی کرتے ہوئے گزارو۔۔
نکاح کا پاک رشتہ ہے ہمارے درمیان ۔میں جانتا ہو تم مجھ سے نفرت کرتی ہو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا میرے ساتھ زندگی گزارنے کا ۔مگر اب جو اللہ کا منظور ۔۔
اس لیہ خاماخای میں بھوکی رہ کے تم اپنا نقصان کروگی۔۔
کیونکہ میں کسی صورت تم سے الگ نہی ہوگا یہ بات بٹھالو اپنے ننھے سے دماغ میں ۔۔
یہ بول کے زوہیب نے انعم کو چھوڑا اور اسکا ہاتھ تھام کے ناشتہ کی ٹیبل پہ لے ایا۔
زوہیب نے پہلا لقمہ توڑ کے انعم کی طرف کیا مگر نہ تو انعم نے لقمہ کھایا نہ اسے دیکھا بلکے جان مار کے تھوڑا بہت ناشتہ کیا ۔۔
ابھی وہ لوگ ناشتہ سے فارغ ہوئے تھے کے ڈور بیل بجی ۔
زوہیب نے دروازہ کھولا تو سامنے جمیلہ بیگم دائ جان اور فاخرہ بیگم تھی۔۔
جمیلہ بیگم انعم کے گلے لگ کے سسک پڑی مگر انعم جو صبح سے بات بات پہ رو رہی تھی اپنی۔ماں کے گلے لگ کے اسکی آنکھ سے ایک آنسو نہی گرا کسی بت کی طرح وہ انکے درمیان بیٹھی رہی تھوڑی دیر بیٹھ کے وہ لوگ چلے گئے جب زوہیب نے اپنا سامان پیک کرنا شروع کیا نکاح سے ایک دن پہلے وہ ساری تیاری کرچکا تھا بس آج اسے نکلنا تھا پنڈی اپنے ابائ گاؤں ولیمہ بھی وہ وہی رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔
جاری ہے۔۔