Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
آصف تیزی سے آگے بڑھا انعم کے گرتے وجود کو سنبھالنے کیلیے۔۔
آصف کہاں ہے زوہیب ؟
کیا ہوا ہے اسے۔۔۔
ہارون کی آواز بھی یہ بات پوچھتے ہوئے کانپ گئ۔
ماموں زوہیب جس پلین سے ارہا تھا وہ۔کریش ہوگیا۔۔
کیا؟؟؟؟؟؟؟؟
ہارون صاحب بھی صدمہ سے وہی صوفے پہ بیٹھ گئے۔۔
رجا بار بار انعم کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی۔ادھر آصف اور ہارون صاحب ایئرپورٹ انتظامیہ کو بار بار کال کرکے ڈیٹیل لے رہے تھے مگر ناکام رہے کیوں انکا نمبر مسلسل بزی جارہا تھا۔۔
اسلام آباد سے آنے والی فلائٹ ابھی آدھا گھنٹہ پہلے حادثہ کا شکار ہوئ خبروں میں مسلسل ہیڈ لائن چل رہی ادھر فاخرہ بیگم جمیلہ بیگم کو سنبھال رہی تھی جو بار بار انعم کے مہندی والے ہاتھوں کو دیکھ کے رو رہی تھی ۔
کے جبھی حال میں آواز گونجی۔۔
یہ انعم کو کیا ہوا انعم انعم ۔۔
یہ اور کسی کی نہی زوہیب کی آواز تھی جو ہال میں اینٹر ہوا
مگر جب اسکی نظر سب پہ پڑی جو رونے دھونے میں مصروف تھے اسے کچھ سمجھ نہیں آیا مگر جب اسنے صوفے پہ انعم کے بے حس وحرکت وجود کو دیکھا تو اسے لگا اس کی سانسیں بند ہوجائئنگی۔۔
وہ دیوانہ وار انعم کو پکارتا ہوا گھر میں داخل ہوا۔
زوہیب کو زندہ صحیح سلامت دیکھ کے سب ہی جہاں خوش تھے وہی شوکڈ بھی مگر زوہیب تو اپنی سوہنی کو ہوش میں لا رہا تھا ۔۔
انعم کے کانوں میں زوہیب کی اواز آنا تھی کے وہ ایک جھٹکے سے اٹھی ۔۔اور اپنے سامنے زوہیب کو دیکھ کے اس نے دھیرے سے زوہیب کے کندھے کو ہاتھ لگایا اور جب اسے یقین ہوا کے اسکا زوہیب زندہ ہے تو وہ دیوانہ وار اسکے گلے لگ کے رونے لگی ۔۔
زوہیب پریشانی کے عالم میں کبھی خود سے گلے لگی انعم کو دیکھتا کبھی وہاں کھڑے سارے گھر والے کو۔۔
آصف بھائ ہوا کیا ہے یہ رو کیوں رہی ہے اتنا کوئ مجھے بتائے گا؟؟
زوہیب کے پوچھنے پہ آصف نے پلین کریش کا بتایا ۔
زوہیب نے دھیرے سے انعم کو خود سے الگ کیا اور کہا۔۔
ہاں میں اسی فلائٹ میں ہوتا مگر اسے قسمت کا کھیل کہہ لے کے اینڈ ٹائم پہ لاہور والی بزنس ڈیل کنفرم ہوگی اور مجھے ارجنٹ لاہور جانا پڑا ابھی وہی سے ڈائریکٹ اراہا ہو ۔۔
تو یہ بات تم نے مجھے کال کرکے کیوں نہی بتائ
؟؟؟
آصف نے غصہ میں زوہیب سے پوچھا ۔۔
زوہیب نے ایک نظر سب کو دیکھا اور کہاں۔۔
وہ میں جلدی میں تھا اس لیہ بھول گیا بتانا۔۔
ابھی زوہیب آگے کچھ بولتا ایک زناٹے دار تھپڑ اس کی بولتی بند کرگیا۔
اور ایسا اور کسی نے نہی بلکہ انعم نے کیا۔۔
زوہیب نے بے یقینی سے انعم کو دیکھا ۔جو کسی شیرنی کی طرح اپنے کھلے بال لپیٹ رہی تھی اور بال۔لپیٹتے ہی زوہیب کو مارنے کیلیے کچھ ڈھونڈنے لگی۔۔
انعم کی اس حرکت پہ زوہیب کی تو سٹی گم ہوگئ اور گھر کے باقی مکین اپنی مسکراہٹ دبائے سامنے صوفے پہ بیٹھ گئے۔۔
زوہیب نے الٹے الٹے قدم اٹھاتے ہوئے انعم کو گھور کے کہا۔۔
جسکے ہاتھ میں کشن تھا وہ زوہیب کو مارنے کیلیے آگے بڑھ رہی تھی۔۔
آپ کو شرم نہی آئ اتنی اہم۔بات کوئ بتانا بھولتا ہے یہاں میری سانسیں رک گئ اور اب بات بتانا ہی بھول گئے۔۔
انعم نے غصہ سے گھورتے ہوئے کہا ۔
جب زوہیب نے فورا موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا اور کہا ۔
اللہ کی قسم سوہنی غلطی ہوگئ زندگی کی بہت بڑی آج کے بعد میرے باپ کی توبہ جو کچھ بھولو۔۔
اب قسم سے پہلے کچھ کھلا دو بہت بھوک لگی ہے۔۔
زوہیب نے اتنی معصوم شکل بناکے یہ بات کہی کے انعم کے ساتھ ساتھ ہال میں بیٹھے ہر نفوس کی ہنسی نکل گئ۔جب رجا نے پاس آکے انعم کے کندھے پہ پیار سے ہاتھ رکھا اور کہا۔۔
جانے دو انعم غلطی ہوگئ ہمارے دولھا بھائ سے آج کیلیے اتنا کافی ہے واقعی میں اب تو مجھے بھی بھوک لگنے لگی ہے۔۔
رجا کے بولنے پہ زوہیب نے مشکور نگاہوں سے اسے دیکھا ۔۔
ایک اور فیملی کو خود قسمت نے اپنے کھیل سے بچایا تھا مگر کیا کوئ اور قسمت کے کھیل سے بچ پائے گا یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔۔
!!!!!!!!!!!
زوہیب کو ایک داماد کی جگہ بیٹے کی حیثیت دی ہارون صاحب نے جمیلہ بیگم بھی زوہیب سے ٹھیک ٹھاک ملی۔۔۔
رات کے کسی پہر زوہیب کی آنکھ کھلی جب اس نے انعم کو اپنے سینے پہ سوئے ہوئے دیکھا۔
جو نیند میں بھی زوہیب کی شرٹ مظبوطی سے تھامی ہوئی تھی۔۔
آصف نے اسے بتایا کے انعم زوہیب کی فلائٹ کا سن کے کافی ڈر گئ اسکا رونا اسکا بیہوش ہونا آصف نے ایک ایک بات زوہیب کو بتائ تھی۔۔
زوہیب انعم کیلیے اتنا معنے رکھنے لگا یہ احساس ہی زوہیب کیلیے کافی پرسکون تھا۔۔
زوہیب نے ایک نظر سوئ ہوئ انعم پہ ڈالی اور پھر اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے کسی دباو کے تحت انعم کی آنکھ کھلی تو زوہیب کو اپنے اوپر جھکا پایا ۔۔
زوہیب کو جب انعم کے جاگنے کا احساس ہوا تو گردن اٹھا کے اسے دیکھا جو بہت غور سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
زوہیب نے انعم کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے انعم کی۔انکھیں بھیگنیں لگی جب زوہیب نے انعم کے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
ڈر گئ تھی اج؟؟
ہمم بہت زیادہ زوہیب آپکی محبت کی عادت ہوگئ ہے مجھے اب آپکے بغیر جینے کا تصور بھی سوہانے روح ہے یہ بول کے انعم کی۔انکھ سے آنسو گرے جیسے زوہیب نے اپنے لبوں سے چنا اور کہا۔
مگر انعم موت تو برحق ہے میری سوہنی!!
ہاں ہے بے شک ہے مگر میں ہمیشہ آپ سے پہلے اس دنیا سے جانا چاہتی ہو۔۔یہ میری خواہش بھی ہے اور دعا بھی۔۔
انعم کی باتوں نے زوہیب کو لاجواب کردیا ۔۔
!!!!!!
آصف کی شادی ساتھ خیریت سےنمٹ گئ سب ہی اپنے اپنے کاموں میں لگ لبنہ ایک اچھی بہو ثابت ہوئ سب ہی اس سے خوش تھے اور رجا سے اسکی اچھی دوستی ہوگئ تھی۔۔
اسفند نے جب اپنا کراچی جانے کا پروگرام گھر میں بتایا اور یہ خبر جب دائ جان تک پہنچی تو انہوں نے اسے اپنے کمرے میں بلایا۔۔
وہ کسی طرح بھی ابھی اسے کہی بھی جانے سے روکنا چاہتی تھی۔۔مگر اسفند پہ دھند سوار تھی وہ۔کسی طرح بھی رجا کو ڈھونڈنا چاہتا تھا کیونکہ وہ اب اس سے محبت کرنے لگا تھا اور یہ سوچ کے وہ کراچی کیلیے نکل گیا۔
مگر جب وہاں اس نے رجا کی ڈیٹیل نکالی اسکے کالج سے تو یہ خبر ہی اسکے لیہ سوہان روح تھی کے اسکا نکاح ہوچکا ہے۔۔
رجا کے پیپر اسٹارٹ ہوچکے تھے اسکا یونی میں آخری سال تھا ۔۔
پیپر ختم ہوئے اور رجا اب گھر میں فارغ تھی ۔
۔
(2 مہینے بعد)۔۔۔۔
سب ہی ناشتہ کی ٹیبل پہ بیٹھے تھے جب نصرت بیگم نے کہا۔
ہارون اس مہینے کے آخر میں رجا کے سسرال والے اسے لینے آئینگے ۔۔۔
نصرت بیگم کی بات سن کے رجا کا ہاتھ ناشتے سے رکا اور وہ اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔
جب ہارون صاحب نے کہا۔
شوق سے آئے لینے اماں مگر یاد رکھے گا اس گھر کے کسی فرد سے میرا کوئ تعلق نہیں ہوگا اگر آپ نے مجھے ایک بار پھر مجبور کیا تو یاد رکھے گا اس بار میں آپکی بھی نہی سنوگا۔۔اور رجا کے یہاں سے جانے کے بعد میرا نہ رجا سے کوئ تعلق ہوگا نہ اس گھر کے کسی فرد سے اس کے سسرال والے اس خوش فہمی میں ہرگز نہی رہے کے اس نکاح سے میں ماضی بھول جاونگا اور ایک بار پھر اپنے گھر کے راستے کھول دونگا۔۔
یہ بول کے ہارون صاحب بھی اٹھ کے چلے گئے اور وہاں بیٹھا ہر نفوس اس شادی کے بارے میں سوچنے لگا۔۔اور جمیلہ بیگم سمجھ گئ کے رجا کا نکاح کس سے ہوا ہے۔۔
