55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26 Pt.1

حنا کی شادی خیرو عافیت سے نمٹ گئ ۔۔حنا کی شادی کے بعد خرم صاحب ،دائ جان اور ناعمہ بیگم نے حج کرنے کا سوچا ا۔۔
پاسپورٹ وغیرہ میں انہیں ٹائم لگا اوروہ لوگ حج کیلیے نکل گئے پورے دو مہینے اسٹے تھا انکا سعودیہ عرب میں ۔۔
رجا نے گھر کی زمیداری سنبھالی اور اسفند نے آفس کی۔۔
زارون جس موقع کی تلاش میں تھا اسے وہ بہت جلد ملنے والا تھا۔۔
رجا کھانے پکاکے اپنے روم میں فریش ہونے گئ جب اس کے نمبر پہ اسفند کی کال آنے لگی۔
رجا نے کال اٹھائ اور کہا۔۔
ہیلو اسلام وعلیکم۔۔
آگے سے اسفند نے بہت پیار سے کہا۔
وعلیکم اسلام میری آنکھوں والی آندھی کیا کرہی تھی۔۔؟؟
اسفند کی بات سن کے رجا نے سڑا ہوا منہ بنایا اور کہا۔۔
کچھ نہی میرے گرین آنکھوں والے مونسٹر فریش ہونے جارہی تھی۔۔
ہائے میں بھی آجاؤ ابھی دونوں ساتھ میں فریش ہونگے۔۔۔اسفند نے بھر پور رومینٹک انداز میں رجا کو آفر کی۔۔
جی نہی مجھے آج ہی فریش ہونا ہے پورا دن نہی لگانا باتھ روم میں۔۔
اسفند کے بولنے پہ رجا کو دو دن پہلے کا واقع یاد آگیا جب وہ فریش ہونے گئ اور بد قسمتی سے دروازہ بند کرنا بھول گی۔۔
جہاں اسفند صاحب بھی واش روم میں رجا کے ساتھ نہانے گھسے وہی انکے اندر کا رومینٹک مونسٹر بھی جاگ گیا اور اسفند صاحب نے تین چار گھنٹے واش روم میں رجا کیساتھ گزارے۔۔
ہائے بڑی ہی ظالم بیوی ہو میری۔۔
اچھا سنو رات میں تیار رہنا ہم ڈنر پہ چلینگے اور پھر لونگ ڈرائیو پہ۔۔
اسفند نے پیار سے رجا کے آگے اپنی خواہش رکھی جس پہ رجا نے کہا۔
مگر اسفند میں کھانا بنا چکی اسکا کیا ہوگا؟
وہ کل کھالینگے۔۔۔۔اسفند نے پیار سے کہا۔۔۔
چلے ٹھیک میں ویٹ کرونگی آپکا اوکے ۔
اوکے میری آنکھوں والی آندھی یہ بول کے اسفند کھٹاک سے کال کٹ کردی کیونکہ وہ جانتا تھا رجا آگے سے کیا بولنے والی ہے۔
اسفند کال کٹ کرکے دوبارہ اپنے کام میں لگ گیا اور زاہد جو اسفند کے آفس آیا تھا اسے ریس کا بتانے جو دو ہفتے بعد ہونے تھی اسفند کا آج کا پلین سن کے اس نے زارون کو کال کی۔۔
اسفند افس سے جلدی نکل کے روڈ کراس کرکے اپنی کار کے پاس جانے لگا جب ایک تیزی رفتار کار اسے ہٹ کرکے نکل گئ یہ سب اتنی جلدی ہوا کے اسفند کو سمجھ میں ہی نہی ایا۔۔
اسفند اپنا سر پکڑ کے اس سے پہلے گرتا کیسی نے اسے تھام لیا ۔۔
اسفند نے بند آنکھوں سے اسے دیکھا اور پھر بیہوش ہوگیا۔
اسفند کے بیہوش وجود کو دیکھ کےزارون کے لبوں پہ شیطانی مسکراہٹ ائ۔۔وہاں کھڑے لوگوں کی مدد زارون نے اسفند کو گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال لے کے پہنچا۔۔
رجا نے بلیک کلر کاسوٹ زیب تن کیا کانوں میں سلور کلر کی بالیاں ڈالی اور لبوں پہ ریڈ لپسٹک لگائے وہ اسفند کا ویٹ کرنے لگی جبھی گاڑی کا ہارن بجا ۔۔
رجا نے اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دیا اور نیچے گئ۔
مگر اسفند کےسر پہ پٹی بندھی دیکھ کے رجا کے صحیح مانو میں اوسان خطا ہوگئے۔۔
مگر اصل اسکے پیروں کے نیچے سے زمین تب نکلی جب اس نے اسفند کو لاتے ہوئے شخص کو دیکھا۔۔
رجا تیزی سے اسفند کے پاس پہنچی اور کہا۔
“یہ چوٹ کیسے لگی اسفند ؟
اپ ٹھیک تو ہیں؟؟
رجا نے بے چینی سے اسفند سے پوچھا ۔۔
اسفند نے مسکرا کے کہا۔۔
ہاں یار ٹھیک ہو معمولی سی چوٹ ہے روڈ کراس کرتے ہوئے کوئ گاڑی ہٹ کرگئ۔مگر زارون نے بروقت مجھے ہسپتال پہنچا دیا۔
اسفند زارون کے بارے میں بات کررہا تھا اور زارون کی نظر رجا کے سجے ہوئے سراپے پہ تھی۔۔
رجا بھی زارون کو خونخوار نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔
تم دونوں ایک دوسرے کا جانتے ہو؟؟
اسفند نے جب زارون اور رجا کو ایک دوسرے کو تکتا پایا تو پوچھ بیٹھا۔۔
ہاں میں رجا ابھی زارون بولتا رجا بول پڑی ۔
ہاں زارون اور میں ایک ہی یونی میں تھے اور کلاس فیلو تھے اور۔؟؟
اور اسفند نے پھر کہا۔۔
اور بہت اچھے دوست بھی تھے..
دوست تھے مطلب؟؟
اسفند ۔ے ناسمجھی سے زارون کو دیکھا۔۔
تھے مطلب تم اڑا کے لے گئے نہ ہماری دوست کو تو اب یہ دوست نہی مسسز اسفند ہے۔۔
زارون کی بات پہ اسفند ہنسا اس سے پہلے اسفند کچھ کہتا اسکے نمبر پہ کال آنے لگی۔
جیسے سننے اسفند ان دونوں کا اکیلا چھوڑ کے کال سننے گیا۔
جب رجا نے غصہ میں دانت پیستے ہوئے کہا۔
یہاں کیا کرہے ہو زارون کیا چاہتے ہو؟؟
کیوں میرا گھر برباد کررہے ہو؟؟
میں تو بس تمہیں چاہتا ہو رجا بات مان لو میری قسم سے بہت دور لے جاونگا تمہیں۔۔
ابھی رجا کچھ بولتی کے اسفند نے آکے زارون کے کندھے پہ۔ہاتھ رکھ کے کہا۔۔
کس کو دور لیجانے کی بات ہورہی ہے بھئ؟؟؟
جاری ہے ۔۔