Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 29 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29 Part 2
چار سال بعد۔۔
ان چار سالوں میں بہت کچھ بدل چکا تھا۔۔ہارون اور فاخرہ کے گھر اللہ نے ڈھائ سال بعد ایک پیاری سی گڑیا دی جسکا نام انہوں نے رجا رکھا۔۔
تو ادھر خرم اور صائمہ کو اللہ نے پہلے سال میں ہی بیٹے سےنوازا جسکا نام انہوں نے اسفند رکھا۔
اسفند کی 4 سالگرہ پہ صائمہ نے بہت ضد کرکے رجا اور اسفند کا نکاح کروادیا۔۔
خرم اور صائمہ اب اسلام آباد میں رہتے تھے۔۔
خرم صاحب نے وہاں اپنا خود کا بزنس شروع کیا ۔خرم صاحب کی اس حرکت پہ نور جہاں ان سے بہت ناراض ہوئ بہت شور شرابا کرا مگر ہارون نے انہیں سمجھا کے ٹھنڈا کیا ۔مگر نور جہاں بیگم نے اپنی ناراضگی ایسے ظاہر کی کے وہ خرم کیساتھ اسلام آباد نہی گئ بلکہ یہی کراچی میں رہی۔۔
ناعمہ ملائشیا گئ تو وہی کی ہوکے رہ گئی مشکل سے ایک دو بار ہی پاکستان آئ ۔صائمہ سے بھی بات کرتی مگر بہت کم ۔۔وہ خرم اور صائمہ کی زندگی سے بلکل نکل چکی تھی۔۔
!!!!!!!
خرم ؟؟؟
خرم جو بہت ضروری پیپر ورک کررہا تھا ۔بہت مصروف انداز میں کہا۔۔
ہم بولو۔۔
صائمہ نے جب خرم کو فائل میں مصروف دیکھا تو بول پڑی۔۔
خرم اللہ کا واسطہ ہے یہ آفس کا کام تو گھر سے دور رکھے ترس گئ ہو میں کے آپ دو منٹ مجھ سے بات کرے نہ آپ اب مجھے اور اسفند کو وقت دیتے ہیں نہ ہی کہی لے کے جاتے ہیں؟؟
صائمہ کی بات سن کے خرم نے ایک نظر اپنی روٹھی بیوی کو دیکھا اور کہا۔۔
افف یار یہ سب میں تمہارے اور اسفند کیلیے تو کررہاہو۔۔
بزنس کو بڑھاونگا تو تم لوگ ہی اس سے فائدہ اٹھاوگے۔۔
خرم کی بات پہ صائمہ نے ایک نظر خرم۔پہ ڈالی اور جاکے لیٹ گئ۔۔
خرم نے بھی زیادہ بات نہی کی اور دوبارہ اپنے کام میں لگ گیا۔۔
!!!!!!.
مسلسل فون کی آواز پہ صائمہ نے سالن کا چولھا ہلکا کیا اور فون اٹھایا۔
ہیلو۔۔
ہاں صائمہ تمہیں یاد ہے نہ آج شام میں بزنس پارٹی ہے ؟خرم نے کال اٹھاتے ہی صائمہ سے پوچھا۔
ہاں یاد ہے ۔۔خرم میں نے ساری تیاری کرلی ہے۔۔
اچھا ٹھیک ہے اسفند کو تم برابر والی ثمینہ آنٹی کو دے دینا۔۔
ہاں ٹھیک ہے۔۔
خرم۔نے کال کٹ کی تو صائمہ بھی جلدی جلدی اپنا کام نبٹانے لگی۔۔
بلیک ساڑھی میں صائمہ کا روپ نکل کے ایا تھا کوئ اسے دیکھ کے بول نہی سکتا تھا کے وہ شادی شدہ عورت ہے اور ایک بچے کی ماں ہے۔۔
تو ادھر جب خرم نے صائمہ کو دیکھا تو دنگ رہ گیا۔۔
آئینہ کے سامنے کھڑی صائمہ جب اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دے رہی تھی جب خرم نے آکے اسے کمر سے تھام کے خود سے لگایا اور کہا۔
بہت حسین لگ رہی ہو لگتا ہے آج تو پارٹی میں کوئ نہ کوئ تمہارے حسن سے گھائل ہوگا۔۔
خرم کی بات پہ صائمہ پلٹی اور کہا۔۔
میرا یہ سنگھار خالی میرے شوہر کیلیے ہے لوگ مجھے دیکھ کے کیا سوچتے ہیں کیا نہی مجھے پرواہ نہی۔۔
صائمہ کی بات پہ خرم۔نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور دونوں پارٹی کیلیے نکل گئے۔۔
پارٹی اپنے عروج پہ تھی بڑے بڑے بزنس مین آئے ہوئے تھے جب اکبر خان کی اینٹری ہوئ خان گروپ کا اکلوتا وارث مرادنہ وجاہت کا شہکار جسکی پرسنیلٹی کسی بادشاہ سے کم نہی تھی۔۔
اپنی نارمل۔شکل وصورت والی بیوی کیساتھ جب وہ پارٹی میں آیا تو ہر کوئ اسکے آگے پیچھے گھومنے لگا ۔کافی بزنس مین کی خواہش تھی خان گروپ کیساتھ کام کرنے کی جنمںیں خرم بھی شامل تھا۔۔
سب ہی خان سے آکے ملے۔۔
ایک امپورٹڈ کال سننے خان سنسان جگہ پہ آیا ۔کال ابھی اس نے کٹ ہی کی تھی کے چوڑیوں کی کھنکنے کی آواز پہ خان پلٹا تو صائمہ کو دیکھ کے مہبوت رہ گیا۔
صائمہ جو واش روم سے نکل کے اپنی ساڑھی صحیح کرتی ہوئ اپنی ہی دھن میں چلی آرہی تھی خان کو دیکھ نہی پائ اور اس سے ٹکرا گئ۔۔
اکبر نے بر وقت صائمہ کو تھام کر گرنے سے بچایامگر اسکی لائٹ گرین آنکھوں میں خود کو ڈوبنے سے بچا نہی پایا۔۔
اوہ آئ ایم سو سوری۔۔
صائمہ نے معزرت کی اور آگے بڑھ گئ۔۔
جبکہ اکبر خان کافی دیر تک وہی سکتے کی حالت میں رہا۔۔
خان پارٹی میں آیا تو اس کی نظریں بلا جھجک صائمہ کو ڈھونڈنے لگی۔۔
اور اسکی نگاہوں کو زیادہ محنت کرنی نہی پڑی وہ اسے سامنے ہی خرم کیساتھ کھڑی نظر اگئ۔۔
اکبر نے اپنے مینجر سے خرم کو پوچھا تو اس نے اسے خرم کی ساری ڈیٹیل دی۔۔
خان کے بولنے پہ مینیجر نے خرم سے جاکے کہا ۔۔کے اکبر خان نے انہیں ملنے بلایا ہے۔
خرم کو تو یہ سن کے یقین ہی نہیں ایا۔۔
وہ صائمہ کیساتھ اکبر خان کے پاس پہنچا۔۔
خرم صاحب نے اکبر خان سے مصافحہ کیا مگر خان کی نظریں مسلسل صائمہ کے سراپے پہ تھی۔۔
صائمہ کو خان کی نظروں سے عجیب سی گھٹن ہونے لگی۔
یہ آپکے ساتھ کون میرا مطلب آپکی ریلیٹف ہیں خان نے خرم سے پوچھا جب خرم نے مسکراتے ہوئے صائمہ کے کندھے پہ۔ہاتھ رکھا اور کہا۔۔۔
نہی خان صاحب یہ میری وائف اور میرے بیٹے کی ماں ہیں مسسز خرم ۔۔
اوہ مگر انہیں دیکھ کے لگتا نہی یہ شادی شدہ ہیں اور ایک بچے کی ماں بھی ہےخان کے لہجہ میں ایسا کچھ تھا جیسے خرم نے محسوس نہی کیا مگر صائمہ ضرور چونکی اور خان سے زرا فاصلہ پہ کھڑی خان کی بیوی کشمالہ بھی چونکی۔۔
جاری ہے۔۔
See translation
