55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

نصرت بیگم کی خاموشی رجا کو بہت کچھ سمجھا گئ ۔
وہ نصرت بیگم کے قدموں میں آکے بیٹھی اور کہا۔
اگر نہ مانا مجھے اس نے اپنی بیوی؟؟
کوئ اور اسکی زندگی میں شامل ہوچکا ہو اگر اسکی شریک حیات بن کے۔؟؟؟
یہ میں پسند کرتی ہو اگر کسی کو۔؟؟
رجا کی آخری بات پہ نصرت بیگم نے بے ساختہ نگاہ اٹھا کے رجا کو دیکھا ۔۔
نصرت بیگم کے ایسے دیکھنے پہ رجا کے چہرے پہ ایک تلخ مسکراہٹ آئ اور اس نے کہا۔
آپ بڑے لوگ بچپن میں ہی بچوں کی زندگی کا فیصلہ یہ تو اپنی خوشی کیلیے یہ پھر اپنوں کو خوش کرنے کیلیے کرتے ہو دددیی۔
یہ سوچے بنا کے بڑے ہوکے اگر انہیں کوئ اور پسند اجائے؟؟
یہ پھر بڑے ہوکے وہ ایک دوسرے کو نہ۔پسند کرے اس صورت میں آپ لوگ تو اپنا فیصلہ ہم پہ تھوپ چکے ہوتے ہو بعد میں خاندان کی عزت کا واسطہ دے کے اس رشتہ کو نبھانے کا زور دیتے ہو یہ سوچے بنا کے دونوں ایک دوسرے کیساتھ دل سے رشتہ نبھائے گے یہ مجبوری میں۔
یہ بول کے رجا ایک بار پھر بلک پڑی۔۔
اور نصرت بیگم کو لاجواب کرگئ۔۔
نصرت بیگم خاموشی سے اپنے کمرے میں آگئ اور خاموشی سے ڈائری نکال کے کسی کے نمبر پہ کال کی جو تھوڑی دیر بعد ہی صحیح مگر اٹھا لی گئ۔۔
!!!!!!!!!!!!
جمیلہ بیگم کو بھی رجا کے نکاح کے بارے میں پتہ چل چکا تھا جیسے سن کے وہ بھی کافی شوکڈ تھی ۔
اصف دس سال کا تھا جب وہ اس گھر میں آئی تھی ۔۔رجا اس وقت آٹھ سال کی تھی تو کب کیسی کہاں ان س سے چوک ہوئ کے وہ رجا کا نکاح نہی دیکھ سکی کے کس کے ساتھ ہوا۔۔
ابھی وہ انہیں سوچوں میں گم تھی جب آصف کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔۔
ایک لمبی سانس لے کے جمیلہ بیگم اٹھی اور نیچے چل دی جہاں فاخرہ بیگم ،نصرت بیگم ، گاڑی میں انکا انتظار کررہی تھی ۔۔وہ۔لوگ آج لبنہ کے گھر جارہے تھے رشتہ لے کے۔۔
بھولی سی لبنہ جہاں سب کو اچھی لگی وہی جمیلہ بیگم کو بھی ٹھیک ہی لگی۔۔
تھوڑی دیر بعد ہارون صاحب بھی وہاں آگئے اور سب سے صلح مشورے کے بعد ایک ہفتہ کے بعد نکاح کی ڈیٹ رکھی گئ۔۔
رجا کو بھی کافی خوشی ہو آصف کے نکاح کا سن کے وقتی طور پہ ہی صحیح رجا اپنے نکاح کو بھول چکی تھی ہاں مگر وہ اب گھر میں زیادہ کسی سے بات نہی کرتی تھی اور اسکا زیادہ تر افسوس دددیی کو تھا۔۔
آج آصف بہت خوش تھا کیونکہ اسکی من چاہی ساتھی اسکی جیون ساتھی بننے جارہی تھی۔۔
ابھی آصف اپنی خوشی میں مسکرائے جارہا تھا اور کچھ سوچ کے اس کے لب ایک دم سکڑے اور اس نے زوہیب کو کال کی۔۔
اپنی نکاح کی خبر دینے کے بعد اس نے زوہیب سے انعم کا نمبر مانگا۔۔
کچھ دیر کے بعد آصف نے انعم کو کال۔کی۔۔
انعم جو اپنے روم میں ٹی وی دیکھ رہی تھی۔۔
موبائل کی رنگ پہ موبائل اٹھایا۔
انجان نمبر سے کال دیکھ کے انعم نے کچھ سوچتے ہوئے کال اٹھائ۔۔
انعم کا موبائل جو اس رات کلب میں ہی رہ گیا۔تھا۔
زوہیب نے یہاں آکے اس کیلیے نیو موبائل اور نیو سم لی تاکہ وہ انعم سے کانٹیکٹ میں رہ سکے۔۔
کال ریسیو ہوتے ہی انعم کی آواز اسپیکر سے ابھری۔۔
ہیلو ۔۔؟؟
آصف نے دو منٹ تک تو کچھ نہی بولا اور پھر کہا۔۔
ہیلو گڑیا کیسی ہو؟؟
آصف کی آواز سن کے جہاں انعم کی آنکھیں بھیگی وہی آصف کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔۔
شاید آصف کو اندازہ تھا کے انعم کال نہ کٹ کردے اس لیہ فورا بولا۔۔
پلیز یار انعم کال کٹ مت کرنا تمہیں میری قسم ۔۔
آصف کی قسم دینے پہ انعم نے واقعی کال کٹ نہی کی مگر چپ رہی۔۔
ابھی تک ناراض ہو اپنے بھائ سے؟؟؟
تو کیا نہی ہونا چاہیے انعم کی آنسوؤں سے ا
بھیگی آواز اسپیکر سے ابھری۔۔
آپ نے اچھا نہی کیا بھائ ایک بار بھی مجھ سے نہی پوچھا اور میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کردیا وہ بھی ایک نوکر کیساتھ ایک کلب ہی تو گئ تھی میں اپنی دوستوں کیساتھ وہ بھی میری دوست کی برتھ ڈے پارٹی میں ہاں ڈرنک زیادہ کرلی مگر اسکی اتنی بڑی سزا؟؟؟
مطلب انعم تمہیں ابھی تک زوہیب نے نہی بتایا کے اس رات کلب میں کیا ہوا ؟؟
ہارون ماموں اور میں تمہیں کہاں سےگھر لائے؟؟
زوہیب نے کس طرح تمہیں جینی اور اس آدمی سے بچایا۔؟؟
انعم کی بات سن کے آصف حیران تھا جبھی اس نے انعم سے اتنے سوال کر ڈالے۔۔
کیا مطلب آپ کس بارے میں بات کررہے ہیں؟
مجھے کچھ سمجھ نہیں آئ آپکی بات؟؟.
انعم کے بولنے پہ آصف نے اسے کلب میں ہوئے سارے کارنامے جینی کا اسے استعمال کرنا سب چیز ایک ایک بات بتا دی۔۔
یہ ساری باتیں سن کے انعم سکتے میں آگئ مطلب اگر زوہیب نے اس پہ نظر نہی رکھی ہوتی وقت پہ اسے رسوا ہونے سے نہی بچایا ہوتا تو آج وہ کراچی کی کسی بدنام گلی میں گمنام رہ رہی ہوتی۔۔
آصف نے آگے پھر کہا۔۔
انعم زوہیب تم سے بہت محبت کرتا ہے میں نے دیکھے ہیں اسکے آنسو جب وہ تمہیں کلب سے بیہوشی کی۔حالت میں باہر لایا وہی تھاجس نے تمہارے ہر عمل پہ نظر رکھی جبھی آج تم عزت سے اپنے گھر کی ہو گڑیا۔۔
زوہیب نے خود ہاتھ جوڑ کے کہا اتنا سب ہونے کے باوجود کے وہ تم سے محبت کرتا ہے تم سے نکاح کرنا چاہتا ہے اور صاف کہا تھا اس نے کے وہ اب ڈرائیونگ نہی کرے گا اس کی بیوی کو پسند نہی۔
تمہیں پتہ ہے انعم اس نے اپنے آبائ زمیں بیچ دی اور نیو کاروبار اسٹارٹ کیا ماموں نے اور میں نے اس کی کئ بار ہیلپ کرنے کی کوشش کی مگر اس نے صاف کہا کے وہ اپنے بل بوتے پہ اپنی محنت کی کمائی سے اپنی بیوی کو ہر آسائش دینا چاہتا ہے۔۔
قسمت والوں کو ایسا شوہر ملتا ہے انعم ورنہ جس کنڈیشن میں تم کلب سے لائ گئ ہم کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہی تھے انعم۔۔
یہ مت سمجھنا انعم کے زوہیب نےتم پہ ترس کھا کے تم سے شادی کرنے کو کہا۔۔
وہ تم سے اس دن سے محبت کرتا ہےجس دن تمہیں پہلی بار دیکھا ہے اور یقین جانو انعم میں چاہ کر بھی تمہارے لیہ زوہیب جیسا بندہ نہی ڈھونڈ پاتا۔۔وہ چاہتا تو اپنے آبائ گھر لاکے اس حال میں رکھتا جس حال میں وہ خود رہتامگر وہ تمہیں دنیا کی ہر خوشی دینا چاہتا ہے ۔۔اس لیہ اتنی محنت کررہا ہے اپنے نیو بزنس میں۔۔
گڑیا مانتا ہو وہ حیثیت میں ہمارے برابر نہی مگر دل کی بادشاہی میں وہ ہم سے بہت آگے ہے ۔۔سوچنا ضرور میری باتوں کو۔۔۔
اب جب تم مجھے خود کال کروگی تب تمہیں میں ایک گڈ نیوز دونگا ۔۔
اپنا خیال رکھنا اللہ حافظ۔۔
آصف نے کال کٹ کی تو انعم جو آصف کی باتیں ابھی تک بنا آواز کے رو کے سن رہی تھی کال کٹ کرتے ہی بلک بلک کے رو پڑی ۔۔زوہیب کے ساتھ اپنے سلوک کو یاد کرکے رو پڑی۔۔
جاری ہے۔۔