No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
رجا ہانپتی کانپتی کینٹین پہنچی ۔
آمنہ اور ارینا جو آڈر آنے کے بعد رجا کا ویٹ کررہی تھیں۔
رجا کو ایسے بدحواسی میں دیکھ کے دونوں گھبرائ اور کہا۔۔
یار کیا ہوا تو اتنی گھبرائ ہوئ کیوں ہے کیا ہوا؟؟
آمنہ نے رجا کو پانی دیتے ہوئے پوچھا۔۔
آمنہ کا پوچھنا تھا کے رجا کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں گرنے لگے۔۔
ارینا اور آمنہ رجا کو ایسا روتا دیکھ فورا اسکی برابر والی سیٹ پہ آئ اور کہا
رجا کیا ہوا ہے بتاؤ یار پلیز تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔؟؟؟
دونوں کے پوچھنے پہ رجا نے زارون کی لائبریری کے راستے والی حرکت بتا دی۔۔
مگر رجا میری ایک بات سمجھ میں نہیں آتی تجھے زارون پسند کیوں نہی یار؟؟
ارینا نے اپنا نظریہ رجا کے سامنے رکھا کیونکہ وہ آج زارون کا رجا کو پرپوز کرنا دیکھ چکی تھی ۔۔
پوری یونی جانتی تھی بظاہر تو زارون میں کوئ برائ نہی تھی نہ آسکا یونی میں بھی کسی کے ساتھ نہ افیئر ہوا تھا تو پھر رجا کا انکار ارینا کی سمجھ سے باہر تھا۔۔
یار ارینہ یہ کس قسم کا سوال تم پوچھ رہی ہو ؟؟
پسند نہ پسند یہ پھر محبت کرنا ایک فطری عمل ہے اب خالی اس بات پہ کے سامنے والا اپکو پسند کرتا ہے یہ محبت کرتا ہم اسے اپنی زندگی شامل کرلے یہ تو کوئ لوجک نہی۔۔
رجا نے تھوڑے غصیلے لہجہ میں ارینا کی بات کا جواب دیا۔۔
ہاں یار ارینا رجا ٹھیک کہہ رہی ہے یہ تو خاماخای کی زبردستی ہوئ آمنہ نے بھی رجا کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا۔
ارے یار تم دونوں تو خاماخای میں ناراض ہورہی ہو میں نے خالی اپنا ایک پوائنٹ اوف ویو رکھا۔
یار رجا میں تو کہتی ہو تم انکل کے کان میں زارون کی باتیں ڈال دو ایسا نہ ہو کل کو یہ زارون کوئ مسئلہ پیدا کردے۔۔
آمنہ نے رجا کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔
یار آمنہ تم جانتی ہو دددیی کو وہ تو ویسے بھی میرے یونی جانے کے حق میں نہی تھی وہ تو میری ضد پہ وہ مانی اوپر سے چچی جان ہزار باتیں کرنے کا انہیں موقع مل۔جائے گا ۔۔
تو پھر تم کیا ایسی ہی زارون کی دھمکیاں سنتی رہوگی۔۔
ارینا نے پھر درمیان میں مداخلت کری۔۔
نہی ارینا اگر زارون نے مجھے زیادہ تنگ کیا تو میں پرنسپل سے اسکی شکایت کرونگی باقی بھلے پھر پاپا کو بھی کیوں نہ بتانا پڑے۔ ۔
اچھا خیر چھوڑو اس منحوس زارون کا قصہ یہ بتاؤ ٹرپ پہ جانا کا کیا سوچا دو ہفتہ بعد مری لے کے جارہے ہیں یونی والے ۔۔۔
آمنہ نے رجا سے پوچھا۔۔
ہاں یار میں آج پاپا سے بات کرونگی ویسے بھی ٹرپ پہ خالی گرلز جارہی ہیں مجھے نہی لگتا پاپا کو کوئ ایشو ہوگا۔۔
ہممم ۔۔وہ تینوں اپنی اپنی باتوں میں لگے تھے جبکہ دیوار کے اس پار کھڑا زارون جسکے لبوں پہ ٹرپ کا سن کے ایک شیطانی مسکراہٹ ائ۔
#
ایک ہفتہ تو سکون سے گزرا انعم گھر سے باہر بلکل نہی نکلی۔۔
زوہیب کو بھی خوشی ہوئ کے چلو کم از کم کوئ بات تو انعم کہ سمجھ میں ائ۔۔
آج فاخرہ بیگم اور ہارون صاحب کسی شادی میں گئے تھے واپسی میں جہاں انہیں دیر ہوئ وہی زوہیب جو انکے ساتھ تھا اسے بھی دیر ہوگئ ابھی وہ تقریبا رات کے دو بجے اپنے گھر جا رہا تھا جب اس نے جینی کو دیکھا زوہیب کو ایسا لگا جیسے اسکی گاڑی میں انعم موجود ہے۔۔
اپنا شک دور کرنے کیلیے زوہیب نے جینی کی گاڑی کا پیچھا کیا ۔
گاڑی نصرت
ولا کے پاس رکی اور اس میں سے انعم باہر نکلی ۔۔مگر آج اسکی حالت کافی بہتر تھی وہ جیسی تیسے کرکے کے اپنے کمرے میں پہنچ گئ۔۔
یعنی اسے میری بات سمجھ میں نہیں آئ زوہیب نے غصہ میں کہا اور زور سے ہاتھ گاڑی کے اسٹرینگ پہ مارا اور گاڑی آگے بڑھادی۔
اگلے دن بھی سب کے سونے بعد انعم 12 بجے کے قریب گھر سے نکلی ابھی وہ جینی کی گاڑی میں بیٹھی ہی تھی کے اسکے تعاقب میں کھڑے زوہیب نے کسی کے نمبر پہ۔کال کی اور گاڑی جینی کی گاڑی کے پیچھے لگادی۔۔
#
ماما جانے دے نہ ساری گرلز جارہی ہے پھر پتہ نہی یہ موقع ملے یہ نہی۔۔
رجا فاخرہ بیگم کے پیچھے پڑی تھی ۔یونی کیساتھ ٹرپ پر جانے کیلیے ۔ددییی ہارون صاحب سب نے ہی اسکو اجازت دے دی تھی مگر فاخرہ بیگم کسی صورت نہی مان رہی تھی۔
اور جب فائنلی رجا کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرے فاخرہ بیگم نے اجازت دے دی۔۔
مگر جاتے ہوئے ہزار نصیحتیں کرنا نہ بھولے۔
رجا کو گئے ہوئے ابھی چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کے فاخرہ بیگم اداس سی دددیی کے کمرے میں آئ اور چپ چپ انکے پاس بیڈ پہ بیٹھ گئ۔۔۔
نصرت بیگم نے بہت غور سے فاخرہ بیگم کے چہرہ کو دیکھا اور کہا۔۔
ابھی بیٹی کو گئے چند گھنٹے نہی ہوئے اور تم اداس ہوگئ فاخرہ ۔۔
جب وہ رخصت ہوگی تب کیا کروگی۔۔
خالہ آپ جانتی ہیں جو فیصلہ آپ نے اور امی نے لیا تھا اپکو کیا لگتا ہے اب وہ اتنا سب ہونے کے بعداپنی منزل تک پہنچے گا ۔۔
قسمت کب کونسا کھیل کھیل جائے کسی کو نہی پتہ خالہ ۔۔
تم اپنی جگہ صحیح ہو تمہارے سارے وہم سارے خدشے بھی اپنی جگہ ٹھیک ہیں ۔۔
مگر تم جانتی ہو جو فیصلہ برسوں پہلے ہوا تھا وہ آسانی سے ٹوٹنے والا نہی تم پریشان مت ہو فاخرہ سب ٹھیک ہو جائے گاا۔۔
#
رجا یونی والوں کیساتھ مری پہنچ چکی تھی ۔یہاں کا موسم دیکھ کے وہ بہت خوش تھی۔۔
ابھی وہ لوگ اپنے اپنے کمروں میں ریسٹ کرہے
تھے کیونکہ وہ لوگ رات تک پہنچے تھے۔۔
رجا اور اسکی دوستیں ایک ہی روم میں تھی۔۔۔
رجا نے سونے سے پہلے دددیی سے دل کھول کے باتیں کی اور پھر سونے کیلیے لیٹ گئ۔۔
اگلے تین دن وہ لوگ ہوٹل میں رہے کیونکہ اسنو فال اور بارش کی وجہ سے سارے راستے بند تھے ۔۔
ادھر زارون جو دوسرے ہوٹل میں رکا تھا اور پورے طریقے سے رجا کی ایک ایک حرکت پہ نظر رکھا ہوا تھا وہ صرف موقع کی تلاش میں تھا کے کسی طرح رجا کو یہاں سے غائب کرکے زبردستی نکاح کرلے اسکے بعد تو اسکے پاس کوئ آپشن ہی نہی بچے گا زارون کو ٹھکرانے کا۔۔
اج وہ سب لوگ مال روڈ کیلیے نکل رہے تھے۔۔
ابھی وہ لوگ مال روڈ پہنچ کے بازار سے کچھ چیزیں دیکھ رہے تھے جب اسکے نمبر پہ فاخرہ کہ کال آئ اور رجا وہ کال سننےزرا سےسائیڈ پہ ہوئ مگر بے دھیانی میں اسکا پاوں کیچر میں پھنس گیا۔۔
جیسے تیسے کرکے اس نے کال کٹ کی اور اپنا پاؤں جیسی ہی باہر نکالا وہ پورا کیچر سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے جیسی اپنا پاؤں زور سے جھٹکا اسکے لونگ شوز کی کیچر اڑ کے سامنے کال پہ بات کرتے ہوتے لڑکے کی سفید جیکٹ کو داغدار کرگئ مگر رجا میڈم نے اس بات سے انجان کے وہ۔کسی کی خونخوار نظروں میں ہے اپنے لونگ شوز کو جھٹکنے کا کام جاری رکھا۔۔
یہاں تک کے اسکی دونوں دوستیں بھی اسکے پاس آگئ ۔۔
اتنے میں وہ دونوں اس کیلیے پانی لینے گئ۔۔
سفید جیکٹ والے نے اسکا بازو پکڑا اور غصہ سے کہا۔۔
میں نے کہا تھا نہ تم سے اپنی آنکھوں کا استعمال کرنا چلتے ہوئے مگر تم نے میری بات کو مزاق میں لیا شاید۔۔
اسفند جو غصہ میں اپنے کیچر سے بھرے وجودکو دیکھے غصہ میں لال پیلا ہورہا تھا ۔۔
بلیک لونگ شرٹ ریڈ ٹائس اور ریڈ کوٹ پہنے سرپہ ریڈ اسکارف لیہ رجا کو غصہ میں دیکھنے لگا چاہ کر بھی وہ اپنی آواز زیادہ اونچی نہی کرسکا مگر رجا وہ تو اسفند کی آنکھوں میں کھو گئ۔۔
ابھی رجا اس کو کچھ کہتی اچانک اسکے لونگ شوز کی ہیل زراساڈگمگائ اور رجا لڑکھڑا کے اسفند کے سینے سے ٹکرائی اور اسفند جو پہلے ہی ایک ڈھلان کے پاس کھڑا تھا رجا کے گرنے پہ اسکا بیلنس بگڑا اور وہ رجا کو لے گے ڈھلان سے پھسلتا ہوا نیچے گرا۔۔
#
دو تین ہفتہ تک آفس میں کام کرتے ہوئے جہاں اسفند خرم صاحب کا دل صاف کرچکا تھا وہی اسکا دماغ پوری طرح دو دن بعد ہونے والی اپنی ریسنگ پہ تھا۔۔
مظہر کہاں ہے تو آجا یار آج مال روڈ جانا ہے گلفس لینے پھر کل ریس ہے ۔اسفند نے مظہر کو کال کرنے کے بعد اپنی تیاری پکڑی اور مال روڈ کہ طرف گیا۔۔
ابھی مظہر اور وہ شاپنگ ہی کررہے تھے کے اسفند کے نمبر پہ اسکے آفس کے مینیجر کی کال آنے لگی بازار میں شور ہونے کی وجہ سے اسفند مظہر کو بول کے مارکیٹ سے باہر نکلا اور سائیڈ میں کھڑے ہوکے جہاں مینیجر سے بات کررہا تھا وہی اسکی نظریں وہاں سے نیچے اترتی ہوئی ڈھلان پہ تھی جہاں بہت زیادہ کیچر اور پھسلن تھی۔۔
ابھی وہ بات ہی کررہا تھا جب اسکی گدی پہ اور اسکی جیکٹ پہ پیچھے سے کچھ اڑ کے آیا اسفند نے پلٹ کے دیکھا تو رجا جو اپنے لانگ شوز سے الجھتا پایا تو منٹ کیلے اسفند رجا کے اس معصوم سراپے میں کھوگیا مگر اچانک اس نے اپنی جیکٹ اور اپنے اوپر کیچر کو دیکھا اور پھر رجا کو اور غصہ میں کہا۔
Not agin this girl ..
اور غصہ میں جاکے رجا پہ غصہ کرنے لگا اچانک رجا کا توازن بگڑا اور وہ زور سے اسفند کے سینے سے لگی اسفند کا بھی توازن بگڑا اور وہ رجا کو لے کے ڈھلان سے پھسلتا چلاگیا ۔۔۔۔
جاری ہے۔
