Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 30 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 30 Part 1
صائمہ چینج کرکے آئ تو اسفند کو خرم سلا چکا تھا۔
صائمہ نے احتیاط سے اسفند کو اٹھا کے سائیڈ کے بیڈ پہ ڈالا اور خود خرم کے سائیڈ میں اکے لیٹ گئ جب خرم نے کہا۔
تم۔نے دیکھا نہ صائمہ کیا پرسنیلٹی تھی اکبر خان کی تمہیں پتہ ہے کتنے ہی بزنس مین ایسے ہیں جو انکے ساتھ بزنس کرنے کے خواہش مند ہیں۔۔
ہممم ۔۔
خرم مسلسل اکبر خان کی باتیں کیے جارہا تھا مگر صائمہ وہ تو بس اکبر خان کی نظروں سے خوف زدہ تھی ایک عجیب سا جنون لگا صائمہ کو اسکی آنکھوں میں۔۔
!!!!!!!
ٹیرس پہ کھڑا اکبر خان جس سے نیند آج کوسوں دور تھی اور وجہ تھی صائمہ خرم۔۔
مسلسل سگریٹ نوشی کرتے ہوئے اب وہ تھک چکا تھا ۔
کمرے میں آیا تو اسکی نظر بیڈ پہ سوتی اپنی بیوی پہ پڑی جو اسکے چچا کی بیٹی بھی تھی والدین کی وفات کے بعد وہ ہمیشہ کیلیے خان کے گھر اگئی۔والد کے بے حد اصرار پہ اکبر کو کشمالہ سے شادی کرنی پڑی ۔۔
شادی کے چھ سال بعد بھی وہ اکبر خان کے دل میں اپنی جگہ نہی بنا پائ ۔
شادی کے تین سال بعد زارون پیدا ہوا تب تھوڑا بہت خان کشمالہ پہ توجہ دینے لگا مگر آج صائمہ کو دیکھ کو وہ سںب کچھ بھول گیا۔۔۔۔
!!!!!!
خرم اپنے آفس میں کام میں مشغول تھا جب اس کے مینیجر نے آکے کہا۔
سر خان گروپ سے کال ہے وہ آپ سے میٹنگ کرنا چاہتے ہیں۔۔
خرم جو کام میں مصروف تھا۔۔خان گروپ کا نام سن کے ایک دم چونکا اور کہا۔
کیا کہا تم۔نے خان گروپ سے کال تھی۔؟؟
جی سر آپ بتادے کیا جواب دو انہیں میٹنگ کا کہہ دو ۔؟؟
یہ بھی کوئ پوچھنے کی بات ہے کل ہی میٹنگ فائنل کردو۔۔
خرم کی خوشی کا تو کوئ ٹھکانہ نہیں تھا ابھی اس نے اس بات کا زکر صائمہ سے نہی کیا۔
اگلے دن خرم خان گروپ پہنچا تو اسکی شاندار بلڈنگ دیکھ کے ہل گیا۔اکبر خان نے اسکی۔کافی او بھگت کی اور بیوقوف خرم اسکی اس او بھگت کرنے کے پیچھے کا مقصد سمجھ نہی سکا۔۔اکبر خان نے ایک بہت بڑا کانٹریکٹ خرم کیساتھ فائنل کیا۔۔
خرم نے آج صائمہ اور اسفند کیلیے بھر پور شاپنگ کی سامان سے لبریز جب وہ گھر پہنچا تو اسفند جہاں اپنے کھلونے دیکھ کے خوشی سے اپنے باپ کے گلے لگ گیا وہی صائمہ نے بھی خوش ہوکے خرم سے کہا۔
کیا بات ہے اتنی ساری شاپنگ کوئ بہت بڑی لاٹری نکل گئ آپ کی۔۔
ارے ہاں میری جان یہ کہہ کے خرم نے صائمہ کو گودھ میں اٹھایا اور کہا۔
خان گروپ سے مجھے ایک بہت بڑا کانٹریکٹ ملا ہے۔۔بس دعا کرو ایسے ہی۔کانٹریکٹ مجھے ملتے رہے تو ہم۔اس چھوٹے سے فلیٹ کو چھوڑ کے بڑے سے گھر میں شفٹ ہو جائیں گے۔۔
خان کا نام سن کے صائمہ کے مسکراتے لب پل بھر کیلیے تھمے مگر اس نے کوئ ایسا ریکشن نہی دیا جو خرم کی خوشی کو پھیکا کرے۔۔۔
!!!!!
دن گزرنے لگے اکبر اور خرم بزنس کے سلسلے میں ملنے لگے کبھی لنچ کبھی ڈنر دونوں میں کافی اچھی دوستی ہوگئ۔۔
ادھر صائمہ انتظار کی سولی پہ لٹکنے لگی۔رات کو کھانے پہ انتظار کرتے کرتے سو جاتی تو کبھی خرم کو کال کرکے تھک جاتی ایک بے حد خاموش زندگی صائمہ کی گزرنے لگی جسمیں اب خرم نہ ہونے کے برابر تھا اسفند کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کا خیال اب صائمہ خود رکھتی۔۔
!!!!!
ایک ایسی ہی شام خرم اور صائمہ اکبر خان کے گھر ڈنر پہ انوائیٹ تھے ۔اس بار اسفند بھی ساتھ گیا اور زارون سے کافی گھل مل گیا۔ادھر صائمہ کی بھی کشمالہ سے کافی اچھی بات چیت ہوگئ۔۔
مگر ایک اکبر تھا جسکی نظریں مسلسل صائمہ کے وجود پہ تھی۔۔
خان کے اشارہ کرتے ہی ایک نوکر نے جان بوجھ کے صائمہ کے کپڑوں پہ کافی گرا ئ۔۔
صائمہ نے کشمالہ سےواش روم کا پوچھا کشمالہ نے اسے اپنے بیڈ روم میں موجود واش روم کا بتایا۔
خان نے جب خرم کو کال پہ بزی دیکھا تو صائمہ کے پیچھے گیا اپنے کمرے میں جاکے خان نے دیکھا کے صائمہ بنا ڈوپٹہ کے واش روم سے نکلی ۔۔
صائمہ نے جب خان کو کمرے میں دیکھا تو فورااپنا ڈوپٹہ اٹھایا اور ڈر کے کمرے سے جانے لگی جب خان نے اسکا راستہ روکا اور کہا۔۔
بہت خوبصورت ہو صائمہ تم دل کی دنیا ہلا دی ہے تم نے میری بہت جلد تم میری بنوگی۔۔
خان یہ بولتے ہوئے صائمہ کے قریب آیا صائمہ نے ڈر کے خان کو دھکا دیا اور باہر جاکے خرم سے اپنی طبیعت خراب کے کہہ کے گھر جانے کو کہا۔۔۔
!!!!
تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے ۔مانا تم حسیین ہو مگر اتنی نہی کے خان جیسا بندہ تمہیں پسند کرے صائمہ۔۔تم بھول رہی ہو وہ ایک شدہ شدہ مرد ہے ایک بچہ کا باپ ہے۔۔
صائمہ نے جب خرم کو خان کی غلط نیت کا بتایا تو وہ ہتھے سے اکھڑ گیا اور صائمہ کو اچھی خاصی کھڑی کھڑی سنا دی۔۔
جب خرم نے بھی صائمہ کی بات کا یقین نہی کرا تو وہ خان سے اور ڈرنے لگی۔
خان کو جب بھی موقع ملتا وہ یہ تو صائمہ کاراستہ روک۔لیتا یہ بہانے سے اسکے گھر آتا۔ اور اس دن تو حد ہوگئ جب خان نے صائمہ کو گھر میں اکیلا پاکے اسکا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کری۔۔
صائمہ میں نجانے اتنی ہمت کہاں سے آئ کے اس نے خان کی اس حرکت پہ اس کے منہ پہ تھپڑ دے مارا۔۔
اکبر خان نے صائمہ کی اس حرکت پہ خرم سے کانٹریکٹ واپس لے لیا۔جب خرم نے وجہ پوچھی تو اکبر نے صاف کہا اسکی بیوی کے ہمارا ملنا پسند نہی اکبر نے خرم کو یہ بھی کہا کے غلطی سے ہاتھ ٹچ ہوا اور تمہارے بیوی نے میرے منہ پہ رکھ کے تمانچہ دے مارا۔۔
خرم اس پروجیکٹ پہ کافی کام کرچکا تھا یہاں تک کے اب اسے لندن کا بھی ایک کانٹریکٹ خان کی وجہ سے ملا تھا جیسے وہ کھونا نہی چاہتا تھا۔۔
خرم نے صائمہ سے آکے کافی لڑائ جگھڑا کیا صائمہ روتی رہی اپنی صفائ دیتی رہی مگر خرم نے اسکا یقین نہی کیا۔بلکہ صائمہ سے کہا کے وہ اکبر سے اپنے کیہ کی معافی مانگے۔۔
صائمہ نے وہی کیا جیسا خرم نے کہا مگر اسکے بعد صائمہ نے اکبر کا ہر رویہ خاموشی سے برداشت کیا ۔اکبر خرم کے اس ریکشن کے بعد اور شیر ہوگیا۔
ادھر خرم نے صائمہ سے بات کرنا بلکل چھوڑ دی تو صائمہ نے بھی اپنی زبان پہ تالا لگالیا۔
مگر جب خرم اچانک لندن جانے لگا پندرہ دنوں کیلیے تو صائمہ بہت روئ خرم کی بہت منتیں کی کے وہ نہ جائے مگر خرم پہ تو جیسے بزنس بڑھانے کا جنون سوار تھا۔
صائمہ نے کراچی جانے کا بھی سوچا مگر اسفند کے اچانک بیمار ہونے کی وجہ سے وہ نہی گئ اور ادھر خرم صائمہ کو روتا بلکتا چھوڑ کے لندن اگیا۔۔
جاری ہے۔۔۔
